26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 26:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی1

1 یعنی اس کتاب کا اعجاز کھلا ہوا ہے۔ احکام واضح ہیں اور حق کو باطل سے الگ کرنے والی ہے۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید تو گھونٹ مارے اپنی جان اس بات پر کہ وہ یقین نہیں کرتے2

2 یعنی اب بدبختوں کے غم میں اپنے کو اس قدر گھلانے کی ضرورت نہیں کیا ان کے پیچھے آپ اپنی جان کو ہلاک کرکے رہیں گے۔ دلسوزی اور شفقت کی بھی آخر ایک حد ہے۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں اتاریں ان پر آسمان سے ایک نشانی پھر رہ جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے نیچی3

3 یعنی یہ دنیا ابتلاء کا گھر ہے جہاں بندوں کے انقیاد و تسلیم اور سرکشی کو آزمایا جاتا ہے۔ اسی لیے حکمت الٰہی مقتضی نہیں کہ ان کا اختیار بالکل سلب کرلیا جائے۔ ورنہ خدا چاہتا تو کوئی ایسا آسمانی نشان دکھلاتا کہ اس کے آگے زبردستی سب کی گردنیں جھک جاتیں۔ بڑے بڑے سرداروں کو بھی انکار و انحراف کی قدرت باقی نہ رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا تو نہیں کیا، ہاں وہ نشان بھیجے جنہیں دیکھ کر آدمی حق کو سمجھنا چاہے تو باآسانی سمجھ سکے۔ اور کبھی کبھی مغلوب ہو کر گردن جھکانے سے مفر بھی نہ ملے۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور نہیں پہنچتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمان سے نئی جس سے منہ نہیں موڑتے4

4 یعنی آپ جن کے غم میں پڑے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ رحمان اپنی رحمت و شفقت سے جب ان کی بھلائی کے لیے کوئی پندو نصیحت بھیجتا ہے یہ ادھر متوجہ نہیں ہوتے بلکہ منہ پھیر کر بھاگتے ہیں گویا کوئی بہت بری چیز سامنے آگئی۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو یہ تو جھٹلا چکے اب پہنچے گی ان پر حقیقت اس بات کی جس پر ٹھٹھے کرتے تھے5

5 یعنی صرف معمولی اعراض ہی نہیں۔ تکذیب و استہزاء بھی ہے سو عنقریب دنیا اور آخرت میں اپنی کرتوت کی سزا بھگتیں گے۔ تب اس چیز کی حقیقت کھلے گی جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayahs 26:7–8

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے وہ زمین کو کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی خاصی چیزیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

اس میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے6

6 یعنی یہ مکذبین اگر ایک پیش پا افتادہ زمین ہی کے احوال میں غور کرتے تو مبداء و معاد کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کافی ہوسکتی تھی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ اسی کر کری اور حقیر مٹی سے کیسے عجیب و غریب رنگ برنگ پھول پھل اور قسم قسم کے غلے اور میوے ایک مضبوط نظام تکوین کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ کسی لامحدود قوت و حکمت رکھنے والے مانع نے اس پر رونق چمن کی گلکاریاں کی ہیں جس کے قبضہ میں وجود کی باگ ہے اور وہ ہی جب چاہے اسے ویران کرسکتا اور ویرانی کے بعد دوبارہ آباد کرسکتا ہے۔ پھر ان آیات تکوینیہ کو سمجھ لینے کے بعد آیات تنزیلیہ کی تصدیق میں کیا اشکال رہ جاتا ہے۔ ہاں ماننا ہی منظور نہ ہو تو الگ بات ہے۔
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والاف 7

7 یعنی زبردست تو ایسا ہے کہ نہ ماننے پر فوراً عذاب بھیج سکتا تھا، مگر رحم کھا کر تاخیر کرتا ہے کہ ممکن ہے اب بھی مان لیں۔ آگے عبرت کے لیے مکذبین کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں جن سے ظاہر ہوگا کہ خدا نے ان کو کہاں تک ڈھیل دی، جب کسی طرح نہ مانے تو پھر کیسے تباہ و برباد کیا۔ ان میں پہلا قصہ قوم فرعون کا ہے جو پیشتر سورة " اعراف " اور سورة " طہٰ " وغیرہ میں بالتفصیل گزر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ جا اس قوم گناہ گار کے پاس

8 تم جا کر انھیں خدا کے غصہ سے ڈراؤ۔
Ayahs 26:11–13

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں8

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

بولا اے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھٹلائیں

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور رک جاتا ہے میرا جی اور نہیں چلتی ہے میری زبان سو پیغام دے ہارون کو1

1 یعنی پوری بات سننے سے پہلے یہ جھٹلانا شروع کردیں گے اور مجلس میں کوئی تائید کرنے والا نہ ہوگا۔ ممکن ہے اس وقت ملول اور حزین ہو کر طبیعت رک جائے، دل نہ کھلے، اور زبان میں کچھ لکنت پہلے ہی سے ہے۔ تنگدل ہو کر بولنے میں زیادہ رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے اس لیے میری تقویت و تائید کے لیے اگر ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، میرا شریک حال کردیا جائے تو بڑی مہربانی ہو۔
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کو مجھ پر ہے ایک گناہ کا دعویٰ2 سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں3

2 یعنی ایک قبطی کے خون کا دعویٰ جس کی تفصیل سورة قصص میں آئے گی۔ 3 یعنی دعوت و تبلیغ سے پہلے ہی میرا کام تمام نہ کردیں کہ یہ وہ ہی شخص ہے جو ہمارے آدمی کا خون کر کے بھاگا تھا۔ ایسی صورت میں فرض تبلیغ کس طرح ادا ہوگا۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا کبھی نہیں تم دونوں جاؤ لے کر ہماری نشانیاں ہم ساتھ تمہارے سنتے ہیں4

4 یعنی کیا مجال ہے کہ ہاتھ لگا سکیں۔ جاؤ اپنی استدعا کے موافق ہارون کو بھی ساتھ لو اور ہمارے دیے ہوئے معجزات و نشانات لے کر وہاں پہنچو۔ ان نشانات کے ساتھ ہوتے ہوئے تم کو کیا ڈر، اور نشان کیا ہم خود ہر موقع پر تمہارے ساتھ ہیں اور فریقین کی گفتگو سن رہے ہیں۔
Ayahs 26:16–17

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو جاؤ فرعون کے پاس اور کہو ہم پیغام لے کر آئے ہیں پروردگار عالم کا

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

یہ کہ بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو5

5 " بنی اسرائیل " کا وطن حضرت ابراہیم کے زمانہ سے ملک شام تھا۔ حضرت یوسف کے سبب سے مصر میں آرہے، وہاں ایک مدت گزری۔ اب ان کو حق تعالیٰ نے ملک شام دینا چاہا۔ فرعون ان کو نہ چھوڑتا تھا کیونکہ ان سے غلاموں کی طرح بیگار میں کام لیتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی آزادی کا مطالبہ فرمایا۔
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

بولا کیا نہیں پالا ہم نے تجھ کو اپنے اندر لڑکا سا6 اور رہا تو ہم میں اپنی عمر میں کئی برس تک7

6 یعنی تو وہی نہیں جس کو ہم نے اپنے گھر میں بڑے نازو نعم سے پالا پوسا اور پرورش کر کے اتنا بڑا کیا۔ اب تیرا یہ دماغ ہوگیا کہ ہم ہی سے مطالبات کرتا اور اپنی بزرگی منواتا۔ 7 اتنے برسوں تک کبھی یہ دعوے نہ کئے، اب یہاں سے نکلتے ہی رسول بن گئے۔
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور کر گیا تو اپنی وہ کرتوت جو کر گیا8 اور تو ہی ناشکر9

8 یعنی جو کرتوت کر کے بھاگا تھا (قبطی کا خون) اسے ہم بھولے نہیں۔ 9 یعنی ہمارے سب احسانات بھلا کر لگا پیغمبری کے دعوے کرنے اس وقت تو بھی (العیاذ باللہ) ان ہی میں کا ایک تھا جن کو آج کافر بتلاتا ہے۔
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

کہا کیا تو تھا میں نے وہ کام اور میں تھا چوکنے والاف 10

10 یعنی قبطی کا خون میں نے دانستہ نہیں کیا تھا، غلطی سے ایسا ہوگیا مجھے کیا خبر تھی کہ ایک مکا مارنے میں جو تادیب کے لیے تھا اس کا دم نکل جائے گا (فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ ) 28 ۔ القصص :15)
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر بھاگا میں تم سے جب تمہارا ڈر دیکھا پھر بخشا مجھ کو میرے رب نے حکم اور ٹھہرایا مجھ کو پیغام پہنچانے والاف 11

11 یعنی بیشک میں خوف کھا کر یہاں سے بھاگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ مجھے نبوت و حکمت عطا فرمائے۔ اس نے اپنے فضل سے مجھے سرفراز کیا اور رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا۔ یہ بجائے خود میری صداقت کی دلیل ہے کہ جو شخص تم سے خوف کھا کر بھاگا ہو، پھر اس طرح بےخوف و خطر تنہا تمہارے سامنے آکر ڈٹ جائے۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا وہ احسان ہے جو تو مجھ پر رکھتا ہے کہ غلام بنایا تو نے بنی اسرائیل کو12

12 یعنی بچپن میں میری پرورش کا احسان جتلانا تجھے زیب نہیں دیتا کیا ایک اسرائیلی بچہ کی تربیت سے اس کا جواب ہوسکتا ہے کہ تو نے اس کی ساری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ بالخصوص جبکہ اس بچہ کی تربیت بھی خود تیرے زہرہ گداز مظالم کے سلسلہ ہی میں وقوع پذیر ہوئی ہو۔ نہ تو " بنی اسرائیل " کے بچوں کو ذبح کرتا، نہ خوف کی وجہ سے میری والدہ تابوت میں رکھ کر مجھے دریا میں چھوڑتی، نہ تیرے محل سرا تک رسائی ہوتی، ان حالات کا تصور کر کے تجھ کو ایسا احسان جتلاتے ہوئے شرمانا چاہیے اور صاف بات یہ ہے کہ جس پروردگار نے تجھ جیسے دشمن کے گھر میں میری پرورش کرائی اسی نے آج تیری خیر خواہی کے لیے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

بولا فرعون کیا معنی پروردگار عالم کا13

13 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے (فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :16) کے امتثال میں اپنے کو " رب العالمین " کا پیغمبر کہا، اس پر فرعون حجود، تعنت اور ہٹ دھرمی کی راہ سے بولا کہ (العیاذ باللہ) رب العالمین کیا چیز ہوتی ہے، میری موجودگی میں کسی اور رب کا نام لینا کیا معنی رکھتا ہے کیونکہ اس شقی ازلی کا دعویٰ تو اپنی قوم کے روبرو یہ تھا ماعَلِمْتُ لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرِی (میں اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں سمجھتا) اور (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی) 79 ۔ النازعات :24) (تمہارا بڑا پروردگار میں ہوں) چناچہ اس کی قوم کے لوگ بعض تو انتہائی جہل و بلادت سے اور بعض خوف یا طمع سے اسی کی پرستش کرتے تھے۔ گو دل میں اس ملعون کو بھی خدا کی ہستی کا یقین تھا۔ جیسا کہ (قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ) 17 ۔ الاسراء :102) سے ظاہر ہوتا ہے،
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا پروردگار آسمان اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اگر تم یقین کرو14

14 یعنی آسمان و زمین کی سب چیزیں جس کے زیر تربیت ہیں وہ ہی رب العالمین ہے۔ اگر تمہارے قلوب میں کسی چیز پر بھی یقین لانے کی استعداد موجود ہو تو فطرت انسانی سب سے پہلے اس چیز کا یقین دلانے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

بولا اپنے گرد والوں سے کیا تم نہیں سنتے ہو15

15 فرعون جان بوجھ کر بات کو رلانا چاہتا تھا۔ اپنے حوالی موالی کو ابھارنے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو خفیف کرنے کے لیے کہنے لگا، سنتے ہو، موسیٰ کیسی دور ازکار باتیں کر رہے ہیں۔ کیا تم میں کوئی تصدیق کرے گا کہ میرے سوا آسمان و زمین میں کوئی اور رب ہے ؟
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

کہا پروردگار تمہارا اور پروردگار تمہارے اگلے باپ دادوں کا16

16 یعنی او احمق ! میں جس رب العالمین کا ذکر کر رہاں ہوں، وہ ہے جس نے خود تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا۔ اور جب تمہارا بیج بھی نہ تھا اس وقت زمین و آسمان کی تربیت و تدبیر کر رہا تھا۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

بولا تمہارا پیغام لانے والا جو تمہاری طرف بھیجا گیا ضرور باؤلا ہے17

17 یعنی (العیاذ باللہ) کس دیوانہ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، جو ہماری اور ہمارے باپ دادوں کی خبر لیتا ہے۔ اور ہماری شوکت و حشمت کو دیکھ کر ذرا نہیں جھجکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا دماغ عقل سے بالکل خالی ہے۔
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

کہا پروردگار مشرق کا اور مغرب کا اور کچھ ان کے بیچ ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو1

1 حضرت موسیٰ نے پھر ایک بات کہی جس طرح کی حضرت ابراہیم نے نمرود کے سامنے آخر میں کہی تھی۔ یعنی رب العالمین وہ ہے جو مشرق و مغرب کا مالک اور تمام سیارات کے طلوع و غروب کی تدبیر ایک محکم و مضبوط نظام کے موافق کرنے والا ہے۔ اور تم میں ذرا بھی عقل ہو تو بتلا سکتے ہو کہ اس عظیم الشان نظام کا قائم رکھنے والا بجز خدا کے کون ہوسکتا ہے۔ کیا کسی کو قدرت ہے کہ اس کے قائم کیے ہوئے نظام کو ایک سیکنڈ کے لیے توڑ دے یا بدل ڈالے۔ یہ آخری بات سن کر فرعون بالکل مبہوت ہوگیا اور بحث وجدال سے گزر کر دھمکیوں پر اتر آیا۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " حضرت موسیٰ ایک بات کہے جاتے تھے اللہ کی قدرتیں بتانے کو اور فرعون بیچ میں اپنے سرداروں کو ابھارتا تھا کہ ان کو یقین نہ آجائے۔ "
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

بولا اگر تو نے ٹھہرایا کوئی اور حاکم میرے سوا تو مقرر ڈالوں گا تجھ کو قید میں2

2 اس مرتبہ فرعون نے اپنا مطلب صاف کہہ دیا کہ یہاں " مصر " میں کوئی اور خدا نہیں۔ اگر میرے سوا کسی اور معبود کی حکومت مانی تو یاد رکھو قید خانہ تیار ہے۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

کہا اور اگر لے کر آیا ہوں تیرے پاس ایک چیز کھول دینے والے3

3 یعنی فیصلہ میں ابھی جلدی نہ کر۔ یہ تو تیری باتوں کا جواب تھا اب ذرا وہ کھلے ہوئے نشان بھی دیکھ جن سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور میری صداقت دونوں کا اظہار ہو۔ اگر ایسے نشان دکھلاؤں تو کیا پھر بھی تیرا فیصلہ یہ ہی رہے گا۔
Ayahs 26:31–35

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

بولا تو وہ چیز لا اگر تو سچ کہتا ہے

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پھر ڈال دیا اپنا عصا، سو اسی وقت وہ اژدہا ہوگیا صریح

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اندر سے نکالا اپنا ہاتھ، سو اسی وقت وہ سفید تھا دیکھنے والوں کے سامنے،

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

بولا اپنے گرد کے سرداروں سے یہ تو کوئی جادوگر ہے پڑھا ہوا

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو تمہارے دیس سے اپنے جادو کے زور سے، سو اب کیا حکم دیتے ہو4

4 یا تو خدائی کے دعوے تھے، یا اتنی جلد ایسا حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے غلاموں اور پرستاروں کے احکام پر چلنے کے لیے آمادہ ہوگیا۔
Ayahs 26:36–38

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

بولے ڈھیل دے اس کو اور اس کے بھائی کو اور بھیج دے شہروں میں نقیب

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

لے آئیں تیرے پاس جو بڑا جادوگر ہو پڑھا ہوا

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

پھر اکٹھے جادوگر وعدہ پر ایک مقرر دن کے5

5 یعنی عید کے دن چاشت کے وقت۔
Ayahs 26:39–40

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور کہہ دیا لوگوں کو کیا تم بھی اکٹھے ہو گے

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید ہم راہ قبول کرلیں جادوگروں کی اگر ہو ان کو غلبہ6

6 یعنی سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ امید قوی ہے کہ ہمارے جادوگر غالب آئیں گے۔ اس وقت ہم موسیٰ کی شکست اور مغلوبیت دکھلانے کے لیے اپنے ساحرین ہی کی راہ پر چلیں گے۔ تو یا یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس میں ہماری کوئی خود غرضی نہیں۔ جب مقابلہ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا تو انصافاً کسی کو ہمارے طریقہ سے منحرف ہونے کی گنجائش نہیں رہ سکتی۔