Ayahs 26:1–9(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ )
طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس نے کہا : سیبویہ کے نزدیک نون ساکنہ اور تنوین کی چار قسمیں ہیں حروف حلقیہ کے وقت ان کو واضح کیا جاتا ہے۔ راء، لام، میم، وائو اور یاء کے وقت ادغام کیا جاتا ہے، یاء کے وقت میم سے قلب کیا جاتا ہے یہ دونوں خیاشیم سے ہیں یعنی دونوں کو واضح نہیں کیا جاتا۔ یہ چار اقسام جن کی وضاحت سیبویہ نے کی ہے یہ قرأت جائز نہیں کیونکہ یہاں حروف حلقیہ نہیں کہ اس کے ساتھ نون کو واضح کیا جائے لیکن اس میں ایک چھوٹی سی توجیہ ہے وہ یہ ہے کہ حروف معجم کا حکم یہ ہے کہ ان پر وقف کیا جائے۔ جب ان پر وقف کیا جائے گا تو نون واضح ہوجائے گی۔ ثعلبی نے کہا : ادغام ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا اختیار ہے وہ تمام قرآن پر قیاس کرتے ہیں۔ ان قراء نے تبیین اور تمکین کے لیے اس میں اظہار کیا ہے اور ان علماء نے حروف ضم کی مجاورت کی وجہ سے ادغام کیا ہے۔ نحاس نے کہا : ابو اسحاق نے اپنی کتاب فیما یجری و فیما لا یجری، میں حکایت بیان کی یہ کہنا جائز ہے : طسین میم نون کو فتحہ اور میم کو ضمہ دیا جائے جس طرح یہ کہا جاتا ہے۔ ھذا معدی کرب۔ ابو حاتم نے کہا : خالد نے طسین میم قرأت کی۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : طسم یہ قسم ہے یہ اللہ تعالیٰ کے آسماء میں سے ایک اسم ہے، مقسم علیہ ان نشاء تنزیل علیھم من السما آیۃ ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ سورت کا نام ہے سورت کا آغاز اچھا ہے۔ ربیع نے کہا : قوم کی مدت کا حساب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عذاب ہے جو ایک قوم پر واقع ہوگا۔ طسم اور طس ایک ہے۔ کہا :
وفائو کما کا لریح اشجاہ طاسمہ بان تسعدا والذمع اشفاہ ساجمعہ
تم دونوں کی وفا کہ تم رونے کے ساتھ مدد کرو گھر کے ماحول کی طرح ہے اس کے آثار کا مٹانا عاشق کے لیے زیادہ غم دینے والا ہے بہنے والے آنسو اسے زیادہ شفاء دینے والے ہیں۔
قرظی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رفعت اور ملک کی قسم اٹھائی۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے کہا : طاء سے مراد طور سینا، سین سے مراد اسکندیہ اور میم سے مراد مکہ ہے۔ جعفر بن محمد بن علی نے کہا : طاء سے مراد طوبی کا درخت ہے، سین سے مراد سدرۃ المنتہیٰ ہے اور میم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : طاء، طاہر سے اور سین قدوس سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سین سمیع سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سلام سے ہے اور میم مجید سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رحیم سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ملک سے ہے۔ سورة بقرہ کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ طواسیم اور طواسین قران میں سورتیں ہیں جن کی جمع غیر قاسی ہے۔ ابو عبیدہ نے شعر پڑھا۔
وبا الظواسیم التی قد ثلثت وباالحوامیم التی قد سبعت
طواسیم تین سورتیں ہیں اور جوا امیم جو سات ہیں۔
جوہری نے کہا : صحیح یہ ہے، وات کے ساتھ جمع بنائی جائے اور واحد کی طرف مضاف کیا جائے، پس کہا جاتا ہے : ذوات غسم، ذوات حم۔
تلک آیت الکتب المبین مبتداء کے مضمر ہونے کے ساتھ اس کو رفع دیا جائے وہ ھذہ ہے، یہ کتاب مبین کی وہ آیات ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا گیا کیونکہ تورات اور انجیل میں ان سے قرآن کے نزول کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تلک، ھذہ کے معنی میں ہے۔
لعنک باخع نفسک اپنے نفس کو قتل کرنے والا اور اسے ہلاک کرنے والا ہے۔ سورة کہف میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ الا یکونوا مومنین کیونکہ انہوں نے ایمان کو ترک کردیا۔ فراء نے کہا : ان محل نصب میں ہے کیونکہ یہ جزاء ہے۔ نحاس نے کہا : یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے ہمزہ کے نیچے کسرہ ہے کیونکہ یہ جزا ہے متعارف یہی ہے اس میں قول وہی ہے جو ابو اسحاق نے اپنی کتاب جو قرآن کی تفسیر کے متعلق ہے میں کیا ہے : ان محل نصب میں ہے مفعول لا جلہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ہے ممکن ہے آپ اپنے نفس کو ہلاک کر ڈالیں کیونکہ انہوں نے ایمان کو ترک کیا ہے۔
ان شاننزل علیھم من السماء ایتۃ ایۃ سے مراد ظاہر معجزہ اور غالب قدرت ہے۔ تو ان کی معلومات بدیہی ہوجاتیں، لیکن پہلے فیصلہ ہوچکا تھا کہ معارف نظر یہ ہوں گے۔ ابو حمزہ ثمالی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اس آیت کی آواز ہے جو رمضان شریف کی نصف کو آسمان سے سنی جاتی ہے، کنواری عورتیں گھروں سے نکل آتی ہیں اور زمین اسکے لیے چیختی ہے۔ یہ قول حقیقت سے بعید ہے، کیونکہ مراد قریش ہیں ان کے علاوہ کچھ اور نہیں۔
فظلت اعنا قھم لھا خضعین ان کی گردنیں ان کے آگے جھکی ہوتی ہیں۔ مجاہد نے کہا : اعناقھم سے مراد ان کے بڑے لوگ ہیں۔ نحاس نے کہا : اور لغت میں معروف ہے، یوں کہا جاتا ہے : جاءنی عنق من الناس میرے پاس لوگوں میں سے رئوسا آئے۔ ابو زید اور خفش نے کہا : اعناقھم سے مراد ان کی جماعتیں ہیں : یہ جملہ بولا جاتا ہے جاعن نق من الناس میرے پاس لوگوں کی جماعت آئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اصحاب اعناق کا ارادہ کیا مضاف کو حذف کیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کھا۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایک آیت نازل کرتا جس کے سامنے وہ عاجزی کا اظہار کرتے تو ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن معصیت کی طرف نہ پھیرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت ہمارے اور بنی امیہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان پر ہماری حکومت ہوگی اور حضرت معاویہ کے بعد ان کی گردنیں ہماری سامنے جھکی ہوں گی : اسے ثعلبی اور غزنوی نے ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ خاضعین اور خاضعۃ یہاں برابر ہیں، یہ عیسیٰ بن عمر نے کہا : اور مبرد نے اسے پسند کیا معنی ہے جب ان کی گردنیں ہوگئیں تو وہ بھی ذلیل ہوگئے، گردنوں کے بارے میں خبر ہے۔ کلام عرب میں یہ جائز ہے کہ پہلے کی خبر کو ترک کردیا جائے اور دوسرے کی خبر دی جائے۔ راجز نے کہا :
طول اللیالی اسرعت فی نقض طوین طولی و طوین عزضی
لسرعت یہ اللیالی کی خبر ہے اور طول کی خبر کو ترک کردیا گیا ہے۔ جریر نے کہا :
اری مر السنین اخذن منی کما اخذ السرار من الھلال
میں دیکھتا ہوں سالوں کے گزرنے نے مجھ حصہ لیا جس طرح سرار ہلال سے حصہ لیتا ہے۔ محل استدلال اخذن ہے۔
یہ جائز ہے کیونکہ مر اور طول کا لفظ کلام سے حذف ہوتا ہے تو اس کا معنی فاسد نہ ہوتا، اسی طرح فعل کو غیر کی طرف لوٹانا ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں :” فظلت اعناقھم “ کیونکہ اگر اعناق کا لفظ ساقط کردیا جاتا تو کلام فاسد نہ ہوتی اور باقی ماندہ کلام اس معنی کو ادا کردیتی یہاں تک کہ ارشاد ہوتا : فظلوالھا خاضعین۔ فراء اور ابو عبیدہ نے اسی پر اعتماد کیا۔ کسائی اس طرف گئے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ خاضعیھا ھم بصریوں اور فراء کے نزدیک یہ خطا ہے اس قسم کا حذف کلام میں واقع نہیں ہوتا، یہ نحاس نے کہا۔
وما یاتیھم من ذکر من الرحمن محدث الا کانو عنہ معرضین سورة الانبیاء میں بحث گزر چکی ہے۔ فقد کذبوا یعنی انہوں نے اعراض کیا اور جو کسی چیز سے اعراض کرتا ہے اور اسے قبول نہیں کرتا تو وہ اس کی تکذیب میں ہوتا ہے۔
فسیایتھم انبوا ما کانوا بہ یستھزون یہ ان کے لیے وعید ہے جو انہوں نے جھٹلایا اور جو انہوں نے استہزاء کی اس کی سزا نہیں ضرور پہنچے گی۔
اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیھا من کل زوج کریم اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور قدرت پر متنبہ کیا اگر وہ اپنے دلوں سے غور و فکر کرتے اور اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو انہیں علم ہوجاتا تاکہ وہ ہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ زوج سے مراد قسم ہے، یہ فراء نے کہا : کریم سے مراد حسن شریف ہے : لغت میں کرم سے مراد شرف و فضل ہے۔ نخلۃ کریمۃ سے مراد ہے ایسا کھجور کا درخت جو اعلیٰ نسل کی ہو اور زیادہ پھل والی ہو۔ رجل کریم سے مراد شریف، فاضل اور در گزر کرنے والا۔ نبتت الارض اور انبتت الارض دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہ نکالنے والا اور اگلانے والا ہے۔ امام شعبی سے مروی ہے فرمایا : لوگ زمین کی نباتات ہیں ان میں سے جو جنت میں چلا گیا وہ کریم ہے اور جو جہنم کی طرف چلا گیا تو وہ الئیم ہے۔ ان فی ذلک لایۃ زمین میں انبات کا جو ذکر فرمایا اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کوئی چیز اسے عاجز نہیں کرسکتی۔
وما کان اکثر ھم مومنین ان میں سے اکثر تصدیق کرنے والے نہیں کیونکہ ان کے بارے میں مجھے پہلے سے علم ہے سیویہ کا قول ہے کان زائدہ ہے اس کی تقدیر کلام یہ ہے : وما اکثرھم مومنین۔
وان ربک لھو العزیز الرحیم عزیز سے مراد ہے وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے اور اپنے اولیاء پر رحم فرمانے والا ہے۔
Ayahs 26:10–15(واذ نادی ربک۔۔۔۔۔۔ )
واذ نادی رب موسیٰ ، اذمحل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے : واتل علیھم اذ نادی ربک موسیٰ اس پر یہ کلام واتل علیھم نبا ابراہیم۔ دلالت کرتی ہے جو اس کے بعد ہے۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اذکر فعل محذوف ہے جس طرح اس ارشاد میں ہی تصریح ہے واذاکر اخادعا ( احقاف : 21) واذکر عبدنا ابراہیم (ص : 45) واذکر فی الکتب مریم (مریم : 19) ایک قول یہ کیا گیا ہے : واذ نادی ربک موسیٰ ، کذا وکذ۔ نداء سے مراد یا فلان کے ساتھ بلانا، یعنی تیرے رب نے فرمایا : یا موسیٰ ان ائت القوم الظلمین پھر خبر دی کہ ظالم کون ہے ؟ فرمایا : قوم فرعون الا یتقون قوم فرعون، یا القوم الظلمین سے بدل ہے۔ الا یتقون کا معنی ہے کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس شے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ ظالم قوم کے پاس جائیں اور یتقون کا قول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ تقویٰ نہیں رکھتے اور اس پر دال ہے کہ انہیں تقویٰ کا حکم دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے قل لھم الا تتقون، انہیں کہو : کیا تم تقویٰ نہیں رکھتے ؟ آیت کریمہ میں یاء کے ساتھ فعل آیا ہے کیونکہ خطاب کے وقت وہ غائب تھے اگر تاء کے ساتھ آئے تب بھی جائز ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قل للذین کفروا ستغلبون فعل مضارع کو یاء دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ عبید بن عمیر اور ابو حازم نے الا تتقون دو تائوں کے ساتھ پڑھا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی : قل لھم الا تتقون۔
قال رب انی اخاف ان یکذبون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : میں ڈرتا ہوں وہ مجھے رسالت و نبوت کے معاملہ میں جھٹلائیں گے۔ و یضیق صد ری ان کے جھٹلانے کی وجہ سے میرا سینگہ تنگ پڑجائے گا۔ عام قرأت و یضیبق اور ولا ینطلق رفع کے ساتھ ہے یعقوب عیسیٰ بن عمر اور ابو حیوۃ نے ویضیق اور ولا ینطلق میں نصب کے ساتھ قرأت کی ہے اسے ان یکذبون کی طرف لوٹایا ہے۔ یضیق صدری ولا ینطلق لسانی میں رفع کے ساتھ قرأت دو وجہوں سے ہوگی (1) اس وجہ سے کہ یہ ابتداء کلام ہے (2) یہ انی یضین صدری ولا ینطلق لسانی کے معنی میں ہے اس کا عطف انی اخاف پر ہے۔ فراء نے کہا : اسے نصب کے ساتھ پڑھا گیا ہے : یہی چیز اعرج، طلحہ، عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے دونوں کی کوئی نہ کوئی وجہ ہے۔ نحاس نے کہا : مناسب رفع ہی ہے کیونکہ نصب کی صورت میں عطف یکذبون پر ہے۔ یہ تعبیر بعید از حقیقت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے :” واحلل عقدۃ من السانی۔ یفقھوا قولی۔ “ ( طہٰ ) یہ اس پر دال ہے کہ یہ اس طرح ہے معنی ہوگا جس طرح میں پسند کرتا ہوں استدلال میں میری زبان رواں نہ ہوگی۔ آپ کی زبان میں لکنت تھی جس طرح سورة طہٰ میں گزر چکا ہے۔
فارسل الی ھرون حضرت جبریل امین کو وحی دے کر اس کی طرف بھیج اسے بھی میرے ساتھ پیغمبر بنا دے تاکہ وہ میری مدد حمایت کرے یہاں لیعیننی نہیں فرمایا کیونکہ معنی معلوم تھا۔ سورة طہٰ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ واجعل لی وریرا ( طہٰ : 29) سورة قصص میں ہے فارسلہ معی ردا یصدقنی (34) گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سوال کی اجازت دی گئی تھی ان کا مقصود یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی رسالت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کا مددگار بنایا جائے۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ جو امر میں مستقل نہ ہو، اسے اپنے بارے میں تقصیر کا خوف ہو تو وہ اپنے مددگار سے مطالبہ کرے اس میں اس پر کوئی ملامت نہ ہوگی۔
ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون یہاں ذنب سے مرا قطبی کا قتل ہے اس کا نام ماثور تھا جس طرح سورة قصص میں اس کی وضاحت آئے گی، اس کا ذکر سورة طہٰ میں گزر چکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خوف ہوا کہ اس الزام کی وجہ سے قبطی آپ کو قتل کردیں گے، یہ آیت اس امر پر دال ہے کہ خوف بعض اوقات انبیاء فضلا اور اولیاء کو لاحق ہوجاتا ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات فاعل حقیق ہے اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے کسی کو مسلط کردیتا ہے۔
قال کلا فرمایا : ہر گز نہیں وہ تمہیں کبھی بھی قتل نہ کرسکیں گے۔ اس ظن سے جھکڑنا مقصود ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد و بھروسہ کا حکم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرو اور ان سے خوف کو دور کر دو کیونکہ وہ آپ کو قتل کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے اور نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں فاذھبا تو اور تیرا بھائی جائیں میں نے اسے تیرے ساتھ پیغمبر بنا دیا ہے۔ بایتنا ہماری براہین اور معجزات کے ساتھ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ ہماری آیات کے ساتھ۔ انا معکم مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مستبعون جو وہ کہتے ہیں اور جو وہ جواب دیتے ہیں اس کو سنتے والے ہیں اس سے ان کے دل کی تقویت مراد لی ہے کہ وہ ان کی مدد فرمائے گا اور ان کی حفاظت فرمائے گا، استماع سے مراد توجہ سے بات کو سننا ہے اللہ تعالیٰ کی اس کے ساتھ صفت نہیں لگائی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت سمیع وبصیر سے لگائی ہے، سورة طہٰ میں فرمایا : اسمع واری۔ ( طہٰ ) معکم دونوں کو جمع کے قائم مقام رکھا ہے کیونکہ وہ بھی جماعت ہے کہ جمع کا صیغہ ان دونوں اور جن کی طرف انہیں بھیجا گیا ان سب کے لیے ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ تمام بنی اسرائیل کے لیے (1) ۔ (1 ؎۔ البحر الوجیز) ۔
Ayahs 26:16–22(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ )
فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا :
الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر
مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا :
لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول
چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔
ایک شاعر نے کہا :
الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی
خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں تمہارے فیصلہ سے غنی ہوں۔
عباس بن مرداس نے کہا :
لا من مبدغ عنی خفافا رسولا بیت اھلک منتھاما
نمبردار ! کون خفاف کو میری طرف سے پیغام پہنچائے گا تیرے اہل کا گھر ہی اس کی انتہاء ہے۔
یہاں بھی رسول رسالت کے معنی میں ہے اسی وجہ سے ضمیر مونث ذکر کی۔ ابو عبید نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ رسول کال فظ دو اور جمع کے لیے ہو۔ عرب کہتے ہیں : ھذا رسولی ووکیلی، ھذان رسولی ووکیں، ھولا رسولی ووکیں، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :” فانھم عدولی “ ( الشعرا : 77) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے ہم میں سے ہر ایک رب العالمین کا رسول ہے۔
ان ارسل معنابنی اسرائیل یعنی انہیں آزاد کر دو اور ان کا راستہ نہ روکو تاکہ وہ ہمارے ساتھ فلسطین کی طرف جائیں اور انہیں اپنا غلام نہ بنائو۔ فرعون نے چار سو سال سے انہیں اپنا غلام بنایا ہوا تھا، اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار تھی۔ دونوں فرعون کے پاس گئے ایک سال تک اس نے دونوں کو دربار میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔ دربان فرعون کے پاس گیا اس نے کہا : یہاں ایک انسان ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کا رسول ہے۔ فرعون نے کہا : اسے اجازت دو ممکن ہے ہم اس کی وجہ سے ہنس لیں۔ دونوں فرعون کے پاس گئے اور پیغام پہنچایا (1)
وہب اور دوسرے علماء نے روایت کی ہے جب دونوں فرعون کے پاس گئے دونوں نے اسے پایا کہ اس نے ببر شیر، شیر اور چیتے وغیرہ نکالے ہوئے تھے وہ ان میں گھوم پھر رہا تھا، ان درندوں کے رکھوالوں کو خوف ہوا کہ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو پکڑ لیں گے وہ درندوں کی طرف جلدی سے بڑھے اور درندے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف جلدی سے بڑھے وہ ان دونوں کے قدموں کو چاٹنے لگے، اپنی دنبوں کو ہلانے لگے اور اپنے رخساروں کو ان کی رانوں کے ساتھ مس کرنے لگے فرعون اس سے متعجب ہوا، اس نے پوچھا : تم دونوں کون ہو ؟ دونوں نے جواب دیا : ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہچان لیا کیونکہ آپ اس کے گھر میں پروان چڑھے تھے۔
قال الم نربک فینا ولید والبثت فینا من عمرک سنین فرعون نے احسان جتلانے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حقارت کو ظاہر کرنے کے لیے یہ کہا : ہم نے تجھے بچننے میں پالا اور جن بچوں کو ہم نے قتل کیا تھا ان میں ہم نے تجھے قتل نہیں کیا اور کئی سال تک تو ہمارے پاس رہا، جس کا تو اب دعویٰ کر رہا ہے یہ کب سے واقع ہوا ؟ پھر اس قول کے ساتھ قبطی کے قتل کا ذکر کیا۔ وفعلت فعلتک التی فعلت، فعلۃ جب فاء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد ایک دفعہ کا عمل ہے شبعی نے فاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فتحہ اولیٰ ہے، کیونکہ یہ عمل ایک دفعہ ہو اور فاء کے نیچے کسرہ ہو تو اس سے مراد ہیئت اور حالت ہوتی ہے یعنی تو نے وہ فعل کیا جس کو تو پہنچانتا ہے تو پھر تو کیسے دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے رسول بنا کر بھیجا ہے جب کہ ہم تیرے احوال سے آگاہ ہیں۔ شاعر نے کہا :
کان مثی تھا من بیت جار تھا مز السحابۃ لاریث ولا عجل
گویا اس کی اپنی پڑوسن کے گھر سے چال بادل کے گزرنے کی طرح ہے نہ اس میں سستی ہوتی ہے اور نہ ہی تیزی۔
یہ جملہ بولا جاتا ہے : کان ذلک ایام الزدۃ والزدۃ۔۔ (1 ؎۔ تفسیر بغوی ( معالم التنزیل) ۔۔۔۔
وانت من الکفرین ضحاک نے کہا : قبطی کے قتل کرنے میں تو ناشکروں میں سے تھا کیونکہ وہ ایسا نفس تھا جس کا قتل حلال نہیں تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو میں نے تجھ پر تربیت اور احسان کیا اس کی ناشکری کرنے والا تھا، یہ ابن زید کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : تو میرے الٰہ ہونے کا انکار کرنے والا تھا۔ سدی نے کہا : تو اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والا تھا کیونکہ تو ہمارے دین میں ہمارے ساتھ تھا جس دن پر تو اب عیب لگا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب قطبی کو قتل کیا اور پھر وہاں سے آپ نکلے اور پھر واپس آئے درمیان میں گیارہ سال کا عرصہ حائل تھا۔
قال فعلتھا اذا وا انا من الضالین میں نے وہ فعل کیا مراد قبطی کا قتل ہے اس وقت میں ناواقف تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ذات سے کفر کی نفی کی اور یہ بتایا کہ یہ فعل جہالت کی بناء پر تھا۔ مجاہد نے بھی یہی کہا کہ من الضالین کا معنی نا واقفوں میں سے تھا۔ ابن زید نے کہا : میں اس سے ناواف تھا کہ گھونسا قتل تک جا پہنچتا ہے۔ حضرت عبد اللہ کے مصحف میں من الجاھلین کے الفاظ ہیں۔ جو آدمی کسی چیز سے جاہل ہو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : ضل عنہ۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : انا من الضالین کا معنی ہے میں بھولنے والوں میں سے تھا، یہ ابو عبیدہ نے کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں نبوت سے ناواقف تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے کوئی چیز نہیں پہنچی تھی اس لیے میں نے جو کہا اس پر مجھے توبیخ نہیں کی جاسکتی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں تربیت نبوت اور لوگوں پر حلم کے منافی نہیں ہوتی اور خطاء قتل کرنا یا ایسے وقت میں قتل کرنا جب کوئی شرعی حکم نہ ہو یہ نبوت کے منافی نہیں۔
فقررت منکم لما خفتکم میں تمہارے درمیان سے مدین کی طرف نکل گیا جس طرح سورة القصص میں ہے فخرج منھا خا بفا یترقب (القصص : 21) یہ قتل کے موقع پر ہوا تھا۔ فوھب لی رب حکما حکم سے مراد نبوت ہے : یہ سدی وغیرہ سے مروی ہے۔ زجاج نے کہا : مراد تورات کی تعلیم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد علم اور فہم ہے۔ وجعلنی من المرسلین۔
وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل اس کلام کے معنی میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ سدی، طبری اور فراء نے کہا : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نعمت کا اقرار کیا گویا آپ کہتے ہیں : ہاں ! تیری تربیت مجھ پر احسان ہے جب تو نے میرے سوا ہر کسی کو غلام بنا لیا اور مجھے چھوڑ دیا لیکن یہ میری رسالت کو ختم نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام انکار کے طریقہ پر ہے یعنی کیا تو مجھ پر احسان جتلایا ہے کہ تو نے چھوٹی عمر میں میری تربیت کی جب کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور انہیں قتل کیا ہے ؟ یعنی یہ کوئی انعام نہیں، کیونکہ واجب یہ تھا کہ تو انہیں قتل نہ کرتا اور انہیں غلام نہ بتایا کیونکہ وہ میری قوم تھی تو تو مجھ پر خصوصی احسان کا کیسے ذکر کرتا ہے ؟ کہا : یہ معنی قتادہ اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں کلمہ استفہام مقدر ہے، تقدیر کلام یہ ہے : او تلک نعمۃ۔ یہ اخفش اور فراء کا قول ہے۔ نحاس اور دوسرے علماء نے انکار کیا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز نہیں کیونکہ الف استفہام معنی پیدا دیتا ہے اس کا حذف محال ہے مگر جب کلام میں ام ہو جس طرح شاعر نے کہا :
تروح من الحی ام تبتکر، یہاں تروح سے پہلے ہمزہ استفہام مقدر ہے۔
توقبیلہ سے پچھلے پہر جاتا ہے یا صبح جلدی جاتا ہے۔
اس بارے میں نحویوں کے درمیان کسی اختلاف سے آگاہ نہیں صرف فراء نے جو کلام کی ہے، اس نے کہا : افعال شک میں کلمہ استفہام کا حذف کرنا جائز ہے اور یہ حکایت بیان کی تری زیدا منضلقا، اس سے مراد اتری ہے۔ علی بن سلیمان اس بارے میں کہا کرتے تھے : فراء نے اسے الفاظ عام سے لیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : فراء نے کہا جس نے یہ کہا : یہ انکار ہے اس نے کہا اس کا معنی ہے کیا وہ نعمت ہے ؟ یہ استفہام کے طریقہ پر ہے جس طرح یہ فرمان ہے : ھذا ربی ( الانعام : 77) اور فھم الخلدون۔ ( الانبیائ)
شاعر نے کہا :
رفونی وقالو یا خویلد لا ترع فقلت وانکرت الوجوہ ھم ھم
انہوں نے میرے خوف کو دور کیا انہوں نے کہا : اے خویلد ! تجھے نہ ڈرایا جائے، میں نے کہا : اور میں وجود سے ناواقف تھا کیا یہ وہ ہیں۔
غزنوی نے الف کو ترک کرنے پر بطور دلیل یہ اشعار پڑھے :
لم انس یوم الرحیل وقف تھا وجفنھا من دمومھا شرق
وقولھا والرکاب واقفۃ ترکتنی ھکذا و تنلطق
میں کون کے روز اس کے ٹھہرائو کو نہیں بھول سکتا جب کہ اس کی پلکیں اس کے آنسوئوں سے بھری ہوئی تھیں اور اس کے قول کو نہیں بھول سکتا جب کہ اونٹ کھڑے تھے تو نے مجھے اس طرح چھوڑ دیا اور تو خود جا رہا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس میں استفہام کے الف کا حذف، ام کے بغیر ایسا امر ہے جو نحاس کے قول کے خلاف ہے۔ ضحاک نے کہا : یہ کلام تبکیت کے طریقہ پر ہے، تبکیت استفہام اور استفہام کے بغیر ہوتا ہے۔ معنی ہے اگر تو بنی اسرائیل کو قتل نہ کرتا تو میرے والدین میری تربیت کرتے، تو مجھ پر تیرا احسان کہاں سے ہوا تو مجھ پر اسی چیز سے احسان جتلا رہا ہے جو احسان جتلانے کو واجب نہیں کرتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تو مجھ سے کیسے تربیت کا احسان جتلاتا ہے جب کہ تو نے میری قوم کو ذلیل کردیا ہے ؟ جس نے اس کی قوم کو ذلیل کیا وہ ذلیل ہے۔ ان عمدث یہ محل رفع میں ہے یہ نعمۃ سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل نصب میں ہو معنی ہو لان عبدت بنی اسرائیل تو نے انہیں غلام بنا لیا۔ کہا جاتا ہے : عبدتہ، اعبدتہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ فراء نے یہ قول کیا ہے اور یہ شعرپڑھا :
علام یعبدنی قوی وقد کثرت فیھم ابا عر ما شاء وا وعبدان
میری قوم کس وجہ سے مجھے غلام بناتی ہے جب کہ ان میں اونٹوں کے بچے اور غلام کثیر تعداد میں ہیں جتنے وہ چاہیں۔