26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 26:198–203

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اسے ان (لوگوں) کو پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں اس کو نہیں مانیں گے

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت کہیں گے کیا ہمیں مہلت ملے گی ؟

ولو نزلنہ علی بعض الا عجین ایسے آدمی پر جو عربی زبان والا نہیں۔ فقراہ علیھم، لغت عرب کے بغیر ان پر پڑھتا تو وہ ایمان نہ لاتے اور کہتے ہم اسے سمجھے ہی نہیں۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلَوْ جَعَلْنٰـہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا “ (فصلت : 44) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ہم اسے غیر عربی آدمی پر بھیجتے تو تکبر کی وجہ سے وہ ایمان نہ لاتا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ رجل اعجمی واعجم۔ جب وہ فصیح نہ ہو اگرچہ وہ عربی ہو۔ رجل عجمی اگرچہ فصیح ہو اسے اپنے اصل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر فراء نے اجازت دی ہے کہ یہ کہا جائے : رجل عجمی یہ اعجمی کے معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصری نے علی بعض الاعجمیین قرأت کی ہے۔ یعنی مشدد پڑھا ہے دویاء ہیں اسے اسم منسوب بنایا ہے جس نے الاعجیین قرأت کی ہے یعنی مشدد پڑھا ہے دویاء ہیں اسے اسم منسوب بنایا ہے جس نے الاعجمین قرأت کی تو ایک قول یہ کیا گیا : یہ اعجم کی جمع ہے۔ اس میں بعد ہے، کیونکہ وہ اسم جو صفات میں سے ہو جس کی مونث فعلاء کے وزن پر ہو اس کی جمع وائو اور نون سے نہیں بنائی جاتی اور نہ ہی الف اور تاء سے جمع بنائی جاتی ہے نہ احمرون کہا جاتا اور نہ 1 ؎۔ تفسیر طبری 2 ؎۔ تفسیر بغوی حمرادات کہا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی اصل اعجمین ہے جس طرح جحدری کی قرأت ہے پھر یاء نسبت کو حذف کردیا اور اس کی جمع یاء اور نون سے بنائی جو اس پر دلیل ہے یہ ابوالفتح عثمان بن جنی نے کہا : یہ سیبویہ کا مذہب ہے۔ کذلک سلن کہ ٗ ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن کا کفر۔ فی قلوب المجرمین۔ لا یومنون بہ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے ان کے دل میں تکذیب کو داخل کردیا یہی وہ چیز تھی جس نے انہیں ایمان سے روک دیا : یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ عکرمہ نے کہا : ہ ضمیر سے مراد سختی ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ سورة حجر میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ فراء نے لایومنون میں جزم کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس پر شرط اور جزاء کا معنی موجود ہے۔ یہ گمان کیا گیا ہے کہ عربوں کا معمول ہے جب لا کوئی لا کی جگہ رکھا جائے جس طرح یہاں ہے تو بعض اوقات یہ ما بعد کو جزم دیتا ہے اور بعض اوقات ما بعد کو یہ رفع دیتا ہے تو کہتا ہے : ربصت الفرس لا ینفلت فعل مضارع پر رفع اور جزم دونوں جائز ہیں کیونکہ اس کا معنی ہے اگر میں اس کو نہ باندھتا تو وہ کھسک جاتا اور رفع کیلا ینفلت کے معنی میں ہے۔ بنی عقیل کے آدمی کا شعر پڑھا : وحتی راینا احسن الفعل بیننا مساکنۃ لایقرف الشر قارف لایقرف مرفوع ہے کیونکہ کی محذوف ہے۔ اور جزم دوسرے کے قول میں ہے : لطالما حلاتماھا لا ترد فخلیا ھما والسجال تبترد محل استدلال تبترد ہے۔ نحاس نے کہا : یومنون میں یہ سب کچھ بصریوں کے نزدیک خطاء ہے جازم کے بغیر جزم جائز نہیں۔ کوئی ایسی چیز نہیں جو عمل کرے اور جب اسے حذف کیا گیا تو وہ ایسا عمل کرے جو اس کے اس عمل سے اقول ہو جب کہ وہ موجود ہے۔ یہ واضح استدلال ہے۔ حتیٰ یرو العذاب الالیم۔ فیایتھم بغتہ، قیا تیھم کا فاعل العذاب ہے۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا فتاتیھم معنی ہے قیامت ان پر اچانک آجائے گی۔ اسے مضمر کیا گیا ہے، کیونکہ العذاب اس پر دلالت کرتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ الساعۃ کا ذکر قرآن میں کثرت سے واقع ہوا ہے۔ ایک آدمی نے حضرت حسن بصری سے کہا جب کہ آپ نے فتاتیھم پڑھا : اے ابا سعید ! عذاب ان پر اچانک آجائے گا ؟ تو آپ نے اسے جھڑکا، فرمایا : وہ قیامت ہے جو ان پر اچانک آئے گی۔ وھم لا یشعرون وہ اس کے آنے کا احساس بھی نہ کریں گے۔ فیقولوا ھل نحن منظرون کیا ہمیں مہلت دی جائے گی وہ وہاں رجوع کا مطالبہ کریں گے تو انہیں کوئی جواب نہ دیا جائے گا۔ قشیری نے کہا فیاتیھم اس کا عطف حتی یروا پر نہیں بلکہ یہ لا یومنون کے قول کا جواب نہیں۔ جب یہ نفی کا جواب ہے تو اس کا نصب دی اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فیقولوا۔
Ayahs 26:204–209

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں ؟

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ہیں ان کے کس کام آئیں گے ؟

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

تاکہ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

(افبعذابنا یستعجلون۔۔۔۔۔ ) افبعذابنا یستعجلون مقاتل نے کہا : مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اے محمد ! کب تک آپ ہمیں عذاب کی دعوت دیتے رہیں گے اور اس کو لائیں گے نہیں ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : افبعذابنا یستعجلون۔ افریت ان متعنھم سنین یعنی دنیا میں ہم لطف اندوزہوتے رہیں۔ ضحاک اور دوسرے علماء کے نزدیک مراد اہل مکہ ہیں۔ ثم جاء ھم ما کانو یوعدون عذاب اور ہلاکت جس کی انہیں دھمکی دی جاتی تھی۔ ما اغنی عنھم ماکانوا یمثعون پہلا ما استفہامیہ ہے اس کا معنی تقریر ہے اغنی کی وجہ سے یہ محل نصب میں ہے۔ دوسرا ما محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ دوسرا ما نافیہ ہو اس کا کوئی محل اعراب نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلا ما نافیہ ہے اور دوسرا ماء اغنی کی وجہ سے محل رفع میں ہو ضمیر عائد محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ما اغنی عنھم الزمان الذی کانوا یمتعون زہری سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز جب صبح کرتے تو اپنی داڑھی کو پکڑ لیتے پھر اسے پڑھتے ” افرء یت ان متعنھم سنین۔ ثم جاء ھم ما کانو یوعدون۔ ما اغنی عنھم ما کانو یمتعون۔ پھر روتے اور کہتے : نھارک یا مغرور سھو و غفلۃ ولیلک نوم والردی لک لازم فلا انت فی الایقاظ یقطان حازم ولا انت فی الثوام ناج فسالم تسربما یفنی و تفرح بالمنی کما سر باللذات فی النوم حالم وتسعی الی ما سوف تکرہ غبہ کذلک فی الدنیا تعیش البھائم اے دھوکہ میں مبتلا شخص تیرا دن بھول اور غفلت میں ہے اور تیری رات نیند میں ہے ہلاکت تجھے لازم ہے۔ تو بیداری میں بیدار اور محتاط نہیں نہ ہی تو سونے والوں میں نجات پانے والا اور سلامت رہنے والا ہے۔ جو چیز فانی ہے اس سے تو خوش ہوتا ہے اور تو آرزئوں پر خوش ہوتا ہے جس طرح لذات سے نیند میں خواب دیکھنے والا خوش ہوتا ہے۔ تو اس کی طرف دوڑتا ہے جس کو توکل ناپسند کرے گا جس طرح دنیا میں چوپائے خوش ہوتے ہیں۔ وما اھلکنا من قریۃ من زائدہ ہے معنی ہے وما اھلکنا قریۃ، الا لھا منذرون مگر اس کیلئے کے لیے رسل تھے۔ ذکریٰ کسائی نے کہا : حال ہونے کی حیثیت میں محل نصب میں ہے (1) نحاس نے کہا : یہ حاصل نہیں ہوتا۔ اس میں فراء اور 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4 صفحہ : 244 ابو اسحاق کا قول ہے کہ یہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے محل نصب ہے۔ فراء نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے کہ یذکرون ذکری۔ یہ قول صحیح ہے کیونکہ الا لھا منذرون کا معنی ہے مگر اس کے لیے نصیحت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ذکری میں اعراب واضح نہیں ہوتا کیونکہ اس میں الف مقصورہ ہوتا ہے۔ اسے تنوین کے ساتھ ذکری پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو اور اس کا مبتداء مضمر ہو۔ ابو اسحاق نے کہا : ہمارا ڈرنا نصیحت ہے۔ فراء نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے ذلک ذکری وتلک ذکری۔ ابن انبازی نے کہا : بعض مفسرین نے کہا سورة شعراء میں کسی جگہ وقف تام نہیں ہوتا مگر الا لھا منذرون پر وقف تام ہے۔ ہمارے نزدیک یہ وقف حسن ہے پھر کلام کو شروع کرے۔ ذکریٰ کلام یہ بنے گی ھی ذکریٰ یعنی انہیں نصیحت کی جاتی ہے۔ ذکریٰ پر وقف عمدہ ہے۔ وما کنا ظلمین یعنی انہیں عذاب دینے میں ہم ظالم نہیں کیونکہ ہم نے ان پر حجت مکمل کردی ہے اور تمام عذر ختم کردیئے ہیں۔
Ayahs 26:210–213

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اسکی طاقت رکھتے ہیں

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ (آسمانی باتوں کے) سننے (کے مقامات سے) الگ کر دئیے گئے ہیں

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

(وما تنزلت بہ الشطین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وما تنزلت بہ الشطین ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے بلکہ اسے روح الامین نے نازل کیا ہے۔ وما یبغی لھم وما یبطیعون۔ انھم عن السمع المعزولون جس طرح سورة حجر میں بیان کیا گیا ہے انہیں شہابچے مار کر سننے سے روک دیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری اور محمد بن سمیقع اسے وما تنزلت بہ الشیاطون پڑھا کرتے۔ مہدوی نے کہا : یہ لغت عرب میں جائز نہیں اور خط کے مخالف ہے۔ نحاس نے کہا : یہ تمام نحویوں کے نزدیک غلط ہے۔ میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے میں نے محمد بن زیاد کو کہتے ہوئے سنا : یہ علماء کے نزدیک غلط ہے یہ شبہ کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوا جب حضرت حسن بصری نے اس کے آخری میں یاء اور نون دیکھا جب کہ یہ محل رفع میں ہے تو ان پر جمع سالم کے اعتبار سے اشتباہ ہو تو ان سے غلطی ہوئی۔ حدیث میں ہے ” عالم کی لغزت سے بچو (1) “ جب کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ پڑھائو ” وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰـطِیْنِہِمْ لا “ (البقرہ : 14) اگر یہ محل رفع میں وائو کے ساتھ ہو تو اضافت کی وجہ سے نون کا حذف واجب ہوتا۔ ثعلبی نے کہا : فراء نے کہا حضرت حسن بصری نے غلطی کی۔ یہ نصر بن شمیل سے ذکرب کیا گیا تو کہا : اگر روبہ، عجاج اور ان جیسے لوگوں کے قول سے استدلال کرنا جائز ہے تو حضرت حسن بصری اور ان کے اصحاب کے قول سے بھی استدلال کرنا جائز ہے۔ ساتھ ساتھ ہم جانتے ہیں انہوں نے اسے نہیں پڑھا مگر انہوں نے اس بارے میں کوئی روایت سنی ہوگی۔ مورج نے کہا : اگر لفظ شیطان شاط، یسیاط سے مشتق ہو تو ان دونوں کی قرأت کی کوئی توجیہ ہو سکتی ہے۔ یونس بن حبیب نے کہا : میں نے ایک اعرابی کو کہتے ہوئے 1 ؎۔ السنن الکبریٰ للبیہقی : کتاب الشھادت، باب ما تجوزبہ شھادۃ اھل الھواء، جلد 10، صفحہ 211، دارالفکر۔ سنا : دخلنا بساتین من وارئھا بساتون۔ میں نے کہا : یہ قول حضرت حسن بصری کی قرأت کے کتنے زیادہ مشابہ ہے۔ فلا تدع مع اللہ الھا اخر فتکون من المعذبین ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اسے کہو جو اس کا انکار کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے اگرچہ آپ ایسا نہیں کرتے تھے کیونکہ آپ معصوم اور چنے ہوئے تھے لیکن اس کے ساتھ آپ کو خطاب کیا گیا اور مقصود اس کا غیر ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے۔ ” وانذر عشیرتک الا قربین۔ “ ( الشعرائ) وہ اپنے نسب اور قرابت پر بھروسہ نہ کریں کہ وہ ان امور کو چھوڑ دیں جو ان پر واجب ہیں۔
Ayahs 26:214–220

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سناو

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے بتواضع پیش آؤ

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسہ رکھو

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اٹھتے ہو دیکھتا ہے

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ بیشک سننے والا اور جاننے والا ہے

( وانذر عشیرتک الا قربین۔۔۔۔۔ ) وانذر عشیرتک الا قربین اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ ڈرانے میں قریبی رشتہ داروں کو خاص کیا ہے تاکہ قبیلہ اور اجنبی لوگوں کی طمع ختم ہوجائے جب ان کے شرک پر رہتے ہوئے آپ انہیں چھوڑ جائیں۔ قربی عشیرہ سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مراد بنو عبد مناف ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث واقع ہے ” اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص ساتھیوں کو ڈرائیں “ (1) اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ قرآن تھا جو تلاوت کیا جاتا تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مصحف میں نقل ثابت نہیں اور نہ ہی یہ تواتر سے ثابت ہے اس کے ثبوت پر اشکال لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ کسی کو نہ ڈرائیں مگر جو آپ کے عشیرہ میں سے ایمان لائے، کیونکہ مومن ہی وہ لوگ ہیں جو اسلام اور نبی کریم ﷺ کی محبت میں اخلاص کی صفت سے متصف ہیں نہ کہ مشرک اس سے متصف ہیں کیونکہ مشرک ان میں سے کسی چیز پہ نہیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے تمام عشیرہ کو دعوت دی وہ مومن تھا یا کافر تھا۔ آپ نے سب کو ڈرایا اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو ڈرایا اور جو ان کے بعد آئیں گے ان کو ڈرایا۔ نہ یہ نقلا ثابت ہے اور نہ ہی معنی ثابت ہے۔ 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان ان من مات علی الکفر فھو فی النار ولا تنالہ شفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ البقربین، جلد 1، صفحہ 114، قدیمی کتب خانہ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث روایت کی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی وانذر عشیرتک الا قربین رسول اللہ ﷺ نے قریش کی دعوت دی وہ سب عام و خاص جمع ہوگئے۔ فرمایا :” اے بنی کعب بن لوی ! اپنے آپ کو آگ سے بچائو (1) ۔ اے بنی ہاشم ! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچائو۔ اے بنی عبد المطلب ! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچائو۔ اے فاطمہ ! اپنے نفس کو آگ سے بچائو۔ میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں سوائے اس کے کہ تمہارے ساتھ رشتہ داری ہے دنیا میں تمہاری ساتھ صلہ رحمی کروں گا اور آخرت میں تمہیں کوئی نفع نہ دوں گا “۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ اس حدیث اور آیت میں دلیل ہے کہ اسباب میں بعد ہوتے ہوئے انساب کا قرب بندے کو نفع نہ دے گا۔ اس امر کے جواز پر دلیل ہے کہ مومن کافر کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتا ہے اس کی رہنمائی کرسکتا ہے اور اخلاص کا مظاہرہ کرسکتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ان لکم رحما سابلھا ببلا لھا تمہارے ساتھ رشتہ داری ہے میں دنیا میں تمہارے ساتھ صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلر کم فی الدین “ ( المتحنہ : 8) جس کی وضاحت آگے آئے گی۔ واحفض جناحک لمن اتبعک من المومنین سورة حجر اور سورة اسراء میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ خفض جناحہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ نرمی کرے۔ فان عصوک تیرے امر کی مخالفت کریں۔ فقل انی بری مما تعملون تم جو میری نافرمانی کرتے ہو۔ میں اس سے بری ہوں کیونکہ ان کی رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کسی امر کا حکم نہیں دیتے مگر اسی امر کا جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔ جس سے رسول اللہ ﷺ برأت کا اظہار کردیں اللہ تعالیٰ اسی سے برأت کا اظہار کردیتا ہے۔ وتوکل علی العزیز الرحیم اپنے امر کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں، کیونکہ وہی غالب ہے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ وہ رحیم ہے وہ اپنے دوستوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا۔ عام قرأت و توکل وائو کے ساتھ ہے اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ نافع اور ابن عامر نے فتوکل فاء کے ساتھ پڑھا ہے (2) اسی طرح مدینہ اور شام کے مصاحف میں ہے۔ الذی یرلک حین تقوم اکثر مفسرین کے قول کے مطابق : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو : حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا یہی قول ہے۔ مجاہد نے کہا : جہاں کہیں ہوں، تو جب کھڑے ہوں (3) وتقلبک فی السجدین مجاہد اور قتادہ نے کہا : الساجدین سے مراد نمازیوں میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آباء کی پشتوں میں۔ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہاں تک کہ آپ کو نبی کی حیثیت سے نکالا۔ عکرمہ نے کہا : آپ کو قیام کرتے ہوئے رکوع کرتے 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان ان من مات علی الکفر فھول النار ولا تنالہ شفاعۃ ولا تنفعہ قرابۃ المقربین ولد 1، صفحہ 114، قدیمی کتب خانہ۔ 2 ؎۔ المحرر الوجیز جلد 4، صفحہ 245 3 ؎۔ ایضاً جلد 4، صفحہ 246 ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ قول بھی کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے آپ نماز میں اپنے دل سے اپنے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو دیکھتے ہیں جس طرح آپ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ مجاہد سے مروی ہے ماوردی اور ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے نبی کریم ﷺ اپنے پیچھے والے لوگوں کو اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح اپنے سامنے والوں کو دیکھا کرتے تھے۔ یہ صحیح میں ثابت ہے۔ آیت کی یہ تاویل بعید ہے : انہ ھو السمیع العلیم اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:221–223

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اچھا) میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی ہوئی بات (اس کے کان میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

(ھل انبئکم علی من تنزل۔۔۔۔۔ ) ھل انبئکم علی من تنزیل الشیطن۔ تنزیل علی کل افاک اثیم۔ تنزیل فرمایا کیونکہ اکثریہ ہوا میں ہوتا ہے اور ہوا میں گزرتا ہے۔ یلقون السمع و اکثرھم کذبون سورة حجر میں بحث گزر چکی ہے۔ یلقون السمع یہ شیاطین کی صفت ہے واکثرھم یہ کاہنوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ شیاطین کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 26:224–227

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

(والشعر یتبعہم الغاون۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ الشعراء۔ یہ شاعر کی جمع ہے جس طرح جاہل کی جمع جہلاء ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کفار ہیں ان کی جنوں اور انسانوں میں گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الغاون سے مراد حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ شعراء بھی گمراہ ہیں کیونکہ اگر وہ گمراہ نہ ہوتے تو ان کے پیروکار گمراہ نہ ہوتے ہم سورة نور میں بیان کرچکے ہیں کہ کن اشعار کو پڑھنا جائز ہے، کن کو پڑھنا مکروہ ہے اور کن کو پڑھنا حرام ہے۔ امام مسلم نے عمرو بن شرید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا پوچھا :“۔ کیا تیرے پاس امیہ بن صلت کا شعر “ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ فرمایا :” کچھ کہو “۔ میں نے ایک شعر پڑھا۔ فرمایا :” کچھ اور پڑھو “۔ میں نے ایک اور شعر پڑھا۔ فرمایا :” کچھ اور کہو “ یہاں تک کہ میں نے سو اشعار پڑھے (1) ۔ یہی اس سند سے صحیح ہے۔ امام مسلم کے ایک راوی نے یوں روایت کی ہے عمر و بن شرید اپنے باپ سے، اس میں وہم ہے کیونکہ شرید کو ہی رسول اللہ ﷺ نے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ابو شرید کا نام سوید تھا۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اشعار کو یاد کیا جائے اور ان کو ملحوظ رکھا جائے جب وہ حکمتوں اور مستحسن معانی کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوں۔ وہ معانی شرعی طور پر مستحسن ہوں یا طبعی طور پر مستحسن ہوں۔ نبی کریم ﷺ امیہ بن ابی صلت کے اشعار اکثر سنا کرتے تھے کیونکہ وہ حکیم تھا۔ کیا نبی کریم ﷺ کا ارشاد نہیں دیکھا :” قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا “۔ رہے وہ اشعار جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی حمد اور اس کی ثناء کو اپنے ضمن میں لیے ہوتے ہیں تو وہ مندوب ہوتے ہیں۔ جس طرح کسی کہنے والا کا قول ہے : الحمد للہ العلی المنان ظار الثرید فی رئوس العیدان یارسول اللہ ﷺ کا ذکر اور مدح ہو جس طرح حضرت عباس ؓ کے اشعار ہیں۔ من قبلھا طبت فی الظلال وفی مستودع حیث یخصف الورق ثم ھبطت البلاد لا بشر اندت ولا مضفۃ ولا علق پھر تو شہروں کی طرف اترانہ تو بشر ہے، نہ مضغہ ہے اور نہ ہی علق ہے۔ بل نطفۃ ترکب السفین وقد الجم نسرا واھلہ الغرق تنقل من صالب الی رحم اذا مضی عالم بدا طبق تو پشت سے رحم کی طرف منتقل ہوتا ہے جب ایک عالم ( زمانہ) گزر جاتا ہے تو دوسرا زمانہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا : لا یفض اللہ فاک اللہ تعالیٰ تیرے دانت سلامت رکھے۔ یا شاعر نبی کریم ﷺ کا دفاع کرے جس طرح حضرت حسان کا قول : ھجوک محمداً فاجیت عنہ وعند اللہ فی ذلک الجزا تو نے حضرت محمد ﷺ کی ہجو کی تو میں نے آپ کی طرف سے جواب دیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بارے میں جزا ہے۔ یہ وہ اشعار ہیں جن کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں ذکر کیا یہ سیرت میں مکمل ہیں۔ یا نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا جائے۔ جس طرح زیاد بن اسلم نے روایت کی۔ ایک رات حضرت عمر ؓ نگہبانی کے لیے نکلے تو آپ نے ایک گھر میں چراغ دیکھا کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت اون دھنک رہی تھی اور کہہ رہی تھی : علی محمد صلاۃ الابرار صلی علیہ الطبیون الاخیار 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الشعر، جلد 2، صفحہ 239 قد کنت قواما بکا بالا سحار یالیت شعری والمنایا اطوار ھل یجمعنی وحبیبی الدار حضرت محمد ﷺ پر ابرار کا درود ہو آپ کے پاکیزہ اور نیک لوگوں کا درود ہو آپ قیام کرنے والے تھے سحری کے وقت رونے والے تھے کاش میں جانتاجب کہ موتیں پے در پے واقع ہونے والی ہیں۔ کیا دار مجھے اور میرے حبیب کو جمع کرے گا۔ مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ حضرت عمر ؓ بیٹھ کر رونے لگے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا ذکر اور ان کی مدح کرنا۔ محمد بن سابق نے کتنا اچھا کیا جب کہا : انی رضیت علیا للھدی علما کما رضیت عتیقا صاحب الغار وقد رضیت ابا حفص و شیعتہ وما رضیت بقتل الشیخ فی الدار کل الصحابۃ عندی قدوۃ علم فھل علی بھذا القول من عار ان کنت تعلم انی لا احبھم الا من اجلک فاعتقی من النار میں حضرت علی ؓ پر راضی ہوں وہ ہدایت کے نشان ہیں جس طرح میں عتیق پر راضی ہوں جو صاحب غار ہیں ابو حفص اور ان کے حمایتوں پر راضی ہوں میں حضرت عثمان ؓ کے گھر میں قتل پر راضی نہیں۔ میرے نزدیک تمام صحابہ مقتدیٰ ہیں۔ کیا ایسے قول کی وجہ سے مجھ پر کوئی شرمندگی ہو سکتی ہے ؟ اے میرے رب ! اگر تو جانتا ہے کہ میں ان سے صرف تیری وجہ سے محبت کرتا ہوں تو مجھے آگ کے عذاب سے نجات عطاء فرما۔ ایک اور نے اشعار کہے اور خوب کہے : حب النبی رسول اللہ مفترض وحب اصحابہ نور ببرھان من کان یعلم ان اللہ خالقہ لایرمین ابابکر ببھتان ولا ابا حفص الفاروق صاحبہ ولا الخلیفۃ عثمان بن عفان ولا ابا حفص الفاروق صاحبہ ولا الخلیفۃ عثمان بن عفان امام علی فشھور فضائلہ والبیت لا یستوی الا بارکان نبی جو رسول اللہ ﷺ ہیں ان کی محبت فرض ہے اور آپ کے صحابہ کی محبت نور ہے جس کے ساتھ برہان ہے جو یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی خالق ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر بہتان نہیں لگائے گا۔ وہ ابو حفص فاروق جو حضور ﷺ کے صحابی ہیں پر اور نہ خلیفہ عثمان بن عفان پر بہتان لگائے گا۔ جہاں تک حضرت علی ؓ کا تعلق ہے تو ان کے فضائل مشہور ہیں اور گھر ارکان کے ساتھ ہی مکمل ہوتا ہے۔ ابن عربی نے کہا : جہاں تک تشبیہات میں استعارات کا تعلق ہے تو ان اشعار میں اس کی اجازت ہے اگرچہ تو اس میں مستغرق ہوجائے اور معتاد طریقہ سے تجاوز کر جائے۔ اسی وجہ سے وہ فرشتہ جو خوابوں پر مقرر ہے وہ مثالیں بیان کرتا ہے۔ حضرت کعب بن زہیر نے نبی کریم ﷺ کی تعریف کی : بانت سعاد فقلبی متبول متیم اثرما لم یفد مکبول وما سعاد غداۃ البین اد رحلوا الا اغن غضیض الطرف مکحول تجلوعوارض ذی ظلم اذا ابتست کا نہ منھل بالراح معلول سعاد جدا ہوگئی تو میرا دل اس کے پیچھے اس کی محبت کی وجہ سے بیمار، ذلیل اور قید ہے جس کا فدیہ نہیں دیا گیا جب انہوں نے کوچ کیا تو جدائی کی صحیح سعاد نہیں تھی مگر گنگنانے والی، آنکھیں جھکی ہوئی جن میں سرمہ لگاہو جب وہ مسکراتی تو تر چمکدار دانتوں کو ظاہر کرتی گویا وہ ایسا گھاٹ ہے جس سے کوچ کرتے وقت دوسری دفعہ پانی لیا گیا ہو۔ اس قصیدہ میں ہر طرح کے استعارات اور تشبہات آتی ہیں نبی کریم ﷺ اسے سنتے اور اس نے ریق ( لعاب) کو راح ( شراب) سے جو تشبیہ دی اس کو ناپسند نہیں کیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ اشعار کہے : فقدنا الوحی اذ ولیت عنا وودعنا من اللہ الکلام سوی ما قد ترکت لنا رھنیا توارثہ القراطیس الکرام فقد اور ثتنا میراث صدق علیک بہ التحیۃ والسلام جب آپ نے ہم سے رخ انوار پھیرا تو وحی ہم سے مفقود ہوگئی اللہ تعالیٰ کی جانب سے کلام نے ہمیں الوداع کیا سوائے اس چیز کے جو آپ نے ہمارے لیے قابل ضمانت چھوڑی جسے معزز صحیفے محفوظ کیے ہوئے ہیں تحقیق آپ نے ہمیں سچائی کی میراث عطاء کی اس وجہ سے آپ پر صلوٰۃ وسلام ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ اسے سنتے اور حضرت ابوبکر صدیق اسے پڑھتے کیا اس سے بہتر تقلید کی کوئی صورت ہو سکتی ہے ؟ ابو عمر نے کہا : اہل علم اور اہل دانش میں سے کوئی بھی اچھے شعر کو ناپسند نہیں کرتا کبار صحابہ، اہل علم، مقتدیٰ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں مگر اس نے شعر کہا : اس کو سنا اس میں جو حکمت یا مباح امر تھا اس میں کوئی فحش بات نہ تھی اور نہ ہی کسی مسلم کیل یے اذیت کا تصور تھا اس پر رضا مندی کا اظہار کیا۔ جب وہ اس طرح ہو یعنی وہ فحش ہو یا اذیت ہو وہ شعر اور اس جیسی نثر دونوں برابر ہیں۔ اس کا سننا اور اس کا قول کرنا حلال نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت نقل کی ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا : اصدق کلمۃ او اشعر کلمۃ قال تھا العرب قول لبید الاکل شیء ما خلا اللہ باطل (1) سب سے جا کلہ ہو عربوں نے کہا وہ لبید کا قول ہے : خبر دار اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے باطل ہے۔ امام مسلم نے اسے نقل کیا اور یہ اضافہ کیا ” قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا “۔ ابن سیرین سے مروی ہے کہ انہوں نے شعر پڑھا تو پاس بیٹھنے والے لوگوں میں سے ایک نے کہا : اے ابوبکر تیری مثل آدمی شعر کہتا ہے۔ فرمایا : تو ہلاک ہو یا الکع۔ شعر بھی ایک کلام ہے قوافی کے علاوہ دوسرے کلاموں کے مخالف نہیں۔ ان میں سے اچھا اچھا ہے قبیح قبیح ہے۔ وہ شعر کا باہم ذکر کیا کرتے تھے۔ کہا میں نے حضرت ابن عمر کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا : یحب الخمر من مال الدامی ویکرہ ان یفارقہ الغلوس 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الشعر، جلد 2، صفحہ 239 وہ مجلس کے مال سے شراب پسند کرتا ہے اور یہ ناپسند کرتا ہے کہ عکوس اس سے جدا ہوا۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود جو مدینہ طیبہ کے دس فقہاء میں ایک، پھر سات شعراء میں سے ایک تھے وہ بہت عمدہ شاعر اور اس میں مقدم تھے۔ زبیر بن بکار جو قاضی تھے ان کی اشعار کے بارے میں کتاب ہے۔ اس کی ایک خوبصورت بیوی تھی جس کا نام عشمہ تھا کسی وجہ سے قاضی اس پر ناراض ہوئے اور اسے طلاق دے دی قاضی کے اپنی بیوی کے بارے میں بیشمار اشعار ہیں ان میں سے یہ بھی ہیں : تغلغل حب عثمۃ فی فوادی فبادیہ مع الخافی یسیر تغلغل حیث لم یبلغ شراب ولا حزن ولم یبلغ سرور اکاد اذا ذکرت العھد منھا اطیر لو ان انسانا یطیر عشمہ کی محبت میرے دل میں موجزن ہے اس کا ظاہر اس کے باطن کے ساتھ چل رہا ہے۔ وہ وہاں تک نفوذ کرگئی ہے۔ جاں شراب نہیں پہنچتی نہ جہاں تک حزن ہے اور نہ ہی سرور پہنچا ہے جب میں اس کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتا ہوں تو قریب ہے کہ میں اڑنے لگوں اگر انسان اڑتا۔ ابن شہاب نے کہا : میں نے کہا تو اس فضل و شرف میں ہوتے ہوئے شعر کہتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جس کے سینے میں تکلیف ہو جب وہ تھوکتا ہے تو اسے آرام آجاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ جہاں تک مذموم شعر کا تعلق ہے تو اس کا سماع حلال نہیں اور اس کا کہنے والا ملامت کیا گیا ہوتا ہے۔ وہ باطل بات کہتا ہے یہاں تک کہ لوگوں میں سے جو سب سے بزدل ہوتا ہے اسے عشرہ پر فضلیت دیتا ہے۔ اور دنیا جہاں کے بخیل کو حاتم پر فضلیت دیتا ہے، وہ بری پر بہتان لگاتا ہے۔ متقی پر فسق کی تہمت لگاتا ہے۔ ایک کام کسی نے کیا نہیں ہوتا تو وہ افراط سے کام لیتا ہے مقصد نفس کو تسلی دینے کی رغبت رکھنا اور قبول کو تحسین کرنا۔ جس طرح فرزدق سے مروی ہے کہ سلیمان بن عبد الملک نے اس کا قول سنا : فبتن بجانبی مصرعات وبت افض اغلاق الختام اس شعر میں عورتوں سے خواہش نفس پوری کرنے کا ذکر ہے۔ سلیمان بن عبد الملک نے کہا : تجھ پر حد واجب ہوچکی۔ فرزدق نے عرض کی : اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے مجھ سے حد کو ساقط کردیا ہے۔ فرمایا :” وانھم یقولون مالا یفعلون۔ “ روایت بیان کی گئی ہے کہ نعمان بن عدی بن نضلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا عامل تھا۔ اس نے یہ اشعار کہے : من مبلغ الحسناء ان حلیلھا بمیسان یسقی فی زجاج وحنتم اذا شئت غنثنی دھاقین قریۃ ورقاصۃ تحدو علی کل منسم فان کنت ندمان فبالا کبر اسقنی ولا تسقنی بالا صغر المتثلم لعل امیر المومنین یسوہ تنادمنا باجوسق المتھدم ان اشعار میں شراب پینے کا ذکر ہے اور ساتھ ہی عورتوں کا تذکرہ ہے۔ یہ خبر حضرت عمر ؓ تک پہنچی تو آپ نے اسے حاضری کا حکم دیا۔ کہا : اللہ کی قسم ! یہ چیز مجھے پریشان کرتی ہے۔ اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! جو کچھ آپ نے کہا : اس میں سے میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ تو فضول کلام تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ۔ طاَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُْوْنَ ۔ وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ ۔ “ حضرت عمر ؓ نے اسے فرمایا : جہاں تک تیرے عذر کا تعلق ہے اس نے تجھ سے حد کو ساقط کردیا ہے مگر تو میرا کبھی عامل نہیں بنے گا تو نے کہہ دیا جو کہہ دیا۔ زبیر بن کبیر نے ذکر کیا اور کہا : مصعب بن عثمان نے مجھے خبر دی کہ حضرت عمر بن عبد العزیز جب خلیفہ بنے سوائے عمر بن ابی ربیعہ اور احوص کے کسی کو پریشانی نہ تھی آپ نے مدینہ طیبہ کے عامل کو خط لکھا : تو عمر اور احوص کے شر اور خبث کو پہنچانتا ہے، جب تیرے پاس میرا یہ خط آئے ان دونوں کو گرفتار کرو اور دونوں کو میرے پاس بھیج دو جب عامل کے پاس خط پہنچا تو اس نے دونوں کو آپ کے پاس بھجوا دیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز، عمر بن ابی ربیعہ کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا : فلم ار کالتجمیر منظر ناظر ولا کلیالی الحج افلتن ذاھوی وکم مال عینیہ من شئی غیرہ اذا راح نحو الجمرۃ البیض کالدمی خبردار اگر تو حج کا ارادہ کرتا تو تو کسی اور چیز کی طرف نہ دیکھتا جب ان دنوں میں لوگ تجھ سے چھٹکارا نہیں پاتے تو کب چھٹکارا پاتے ہوں گے پھر اس کو جلا وطن ہوجانے کا حکم دیا۔ اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! کیا اس سے بہتر صورت بھی ہے ؟ فرمایا : وہ کیا ہے ؟ عرض کی : میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں دوبارہ اس قسم کے اشعار نہیں کہوں گا۔ اور کبھی بھی اشعار میں عورتوں کا ذکر نہیں کروں گا۔ میں نئے سرے سے توبہ کرتا ہوں۔ پوچھا : تو ایسا کرے گا ؟ عرض کی : ہاں۔ اس کی توبہ پر اللہ تعالیٰ کے نام کا واسطہ دیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ پھر احوص کو بلایا فرمایا : اللہ بینی و بین قبمھا یفر منی بھا واتبع بلکہ اللہ اس کے قیم اور تیرے درمیان ہے۔ پھر اس کی جلا وطنی کا حکم دیا۔ اس کے متعلق انصار میں سے چندافراد نے گفتگو کی فرمایا : اللہ کی قسم ! جب تک حکومت میرے پاس ہے میں اس کو واپس نہیں آنے دوں گا، کیونکہ یہ اعلانیہ فاسق ہے۔ یہ مذموم شعرکا حکم ہے اور اس شعر کو کہنے والے کا حکم ہے۔ اس کا سننا اور مسجد وغیرہ میں پڑھنا حلال نہیں، جس طرح قبیح کلام کو نثر کی صورت میں پڑھنا جائز نہیں۔ اسماعیل بن عیاش نے عبد اللہ بن عون سے وہ محمد بن سیرین سے وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں حسن الشعر کسحن الکلام و قبیعہ کقبیک الکلام۔ اچھا شعر اچھی کلام کی طرح ہے اور قبیح شعر قبیح کلام کی طرح ہے۔ اسے اسماعیل نے عبد اللہ شامی سے روایت کیا ہے اہل شام سے اس کی حدیث صحیح ہے جو یحییٰ بن معین اور دوسرے علماء نے کہا ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاصم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اشعربمنزلۃ الکلام حسنہ کحسن الکلام و قبیہ کفیح الکلام (1) شعر کلام کے قائم مقام ہے اچھا شعر اچھی کلام کی طرح اور قبیح شعر قبیح کلام کی طرح ہے۔ مسئلہ نمبر 3 :۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ وہ پیٹ کو کھا جائے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے “۔ صحیح میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہا : اس اثناء میں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے کہ ایک شاعر شعر کہتے ہوئے سامنے آگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا :” شیطان کو قابو کرلو “۔ کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے “۔ ( 2) ہمارے علماء نے کہا : نبی کریم ﷺ نے یہ معاملہ شاعر کے ساتھ اس وقت کیا جب اس کے احوال کو جانا۔ شاید یہ شاعر وہ تھا جس کے بارے میں معروف تھا کہ اس نے شعر کو کمائی کا ذریعہ بنا دیا ہے جب اسے کوئی مال دیا جاتاتو وہ مدح میں افراط سے کام لیتا اور جب اسے مال نہ دیا جاتا تو وہ ہجو اور مذمت میں زیادتی کرتاوہ لوگوں کو ان کے اموال اور عزتوں میں اذیتیں دیا کرتا تھا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں جس کی یہ حالت ہو تو جتنا مال وہ شعر کے ذریعے کماتا وہ حرام ہے اس قسم کے جو اشعار کہے وہ اس پر حرام ہیں ان کو سننا حلال نہیں بلکہ ان کا انکار واجب ہے جس کو اس کی زبان سے خوف ہو اور اس کے لیے انکار بھی ممکن نہ ہو تو جہاں تک طاقت رکھے وہ اس کے ساتھ نرمی کرے اور جس قدر ممکن ہوا اپنا بچائو کرے ابتداء ً اسے کچھ نہ دے کیونکہ یہ معصیت پر مدد بنتی ہے۔ اگر وہ کوئی صورت پائے تو عزت بچانے کی نیت کرتے ہوئے اسے مال دے، بندے نے عزت بچانے کے لئے جو مال دیا وہ اس کے حق میں صدقہ کے طور پر لکھ دیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : حضور ﷺ کے فرمان میں قبیح سے مراد وہ مادہ ہے جس میں خون کی آمیزش ہوتی ہے۔ اسی بارے میں یہ کہا جاتا ہے قاح الجرح یقیح و تفیح و قتیح۔ ” یریہ “ اصمعی نے کہا : یہ دری سے مشتق ہے یہ رمی کی مثل ہے اس سے مراد ہے ان یدری جو فہ اس سے یہ لفظ ذکر کیا جاتا ہے رجل موری۔ یہ لفظ مشدد ہے مہجوز نہیں۔ صحاح میں ہے وری القیح جو فہ یریہ وریا۔ جب وہ اسے کھا جائے۔ یزیدی نے یہ شعر پڑھا : قالت لہ وریا اذا تنحنحا اس کی تاویل میں جو کچھ کہا گیا ہے یہ حدیث ان سب میں اچھی ہے : بیشک وہ شخص جس پر شعر کا غلبہ ہو اور اس کا سینہ اس سے بھر جائے اسکے علاوہ اس میں کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی ذکر میں سے کوئی چیز ہو۔ اس ( شعر) کے ساتھ وہ باطل میں ہی ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے اور اسے راستے پر چلتا ہے جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ جس طرح بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہو، لچر گفتگو کرتا ہو، غیبت کرتا ہو اور قبیح قول کرتا ہو جس پر شغر کا غلبہ ہو تو اس کو یہ مذموم اور کمینے اوصاف لازم ہوتے ہیں کیونکہ ادبی عادت یہی ہے، یہی وہ معنی ہے جس کی طرف امام بخاری نے اپنی صحیح میں ارشارہ کیا ہے جب اس حدیث کا باب یہ ذکر کیا باب مایکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر اس کی تاویل میں یہ قول کیا گیا ہے اس سے وہ اشعار مراد ہیں جن میں نبی کریم ﷺ اور دوسرے لوگوں کی ہجو کی گئی ہو۔ یہ کوئی چیز نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کی تھوڑی ہجو کی گئی ہو وہ کفر اور مذموم ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ کے علاوہ کی ہجو وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو وہ بھی مذموم ہے اسی وجہ سے کثیر کی تخصیص کوئی معنی نہیں رکھتی۔ 1 ؎۔ الادب المفرد للخباری 2 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالتنرد شیر، جلد 2، صفحہ 240 مسئلہ نمبر 4 :۔ امام شافعی نے کہا : شعر کلام کی نوح ہے اچھا شعر اچھی کلام کی طرح اور قبیح شعر قبیح کلام کی طرح ہے یعنی شعر بالذات مکروہ نہیں وہ متعلقات کی وجہ سے مکروہ ہے جب کہ عربوں کے ہاں اس کا بڑا مقام تھا۔ ان میں سے پہلے لوگوں نے کہا : وجرح اللسان کجرح الید زبان کا زخم ہاتھ کے زخم کی طرح ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس شعر کے بارے میں فرمایا جس میں حضرت حسان نے مشرکوں کو جواب دیا تھا : انہ لا سرع فیھم من رشق النبل۔ یہ شعران میں تیرے مارنے سے زیادہ تیزی سے اثر کرے گا۔ امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے حضرت ابن عباس سے روایت کیا اور اسے صحیح قرار دیا کہ نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جب عمرۃ القضاء کا مرحلہ تھا جب کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ آپ کے سامنے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے : خلوا بنی اکلفار عن سبیلہ الیوم نضربکم علی تنزیلہ ضربا یزیل الھام عن مقیلہ ویذھل الخلیل عن خلیلہ اے کفار کی اولاد ! آپ کا راستہ خالی کر دو آج ہم قرآن کے حکم کے مطابق تم پر ایسا وار کریں گے جو کھوپڑی کو تن سے جدا کر دے گا اور دوست کو دوست سے غافل کر دے گا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اے ابن رواحہ ! اللہ تعالیٰ کے حرم میں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ! رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے عمر ! اس کو چھوڑ دو یہ ان میں تیر کے وار سے زیادہ تیزی سے اثر کرنے والا ہے “۔ (1) مسئلہ نمبر 5 :۔ والشعر اء یتعہم الغاون جتنا میں جانتا ہوں قراء نے الشعراء کے رفع میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ فعل مضمر کے ساتھ نصب دینا بھی جائز ہے جس کی تفسیر یتعہم فعل بیان کرتا ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے اس کے ساتھ قرأت کی ہے۔ ابو عبید نے کہا : ان پر غالب نصب کا پسندیدہ ہونا ہے اس نے پڑھائو ” والسارق والسارقعۃ “ ( المائدہ : 38) حمالۃ الحطب۔ (الہب) سورة انزلنھا ( النور : 1) نافع، شیبہ، حسن بصری اور سلمی نے پڑھا یتبعھم یعنی اسے مخفف پڑھا۔ باقی قراء نے یتبعھم پڑھا ہے۔ ضحاک نے کہا : دو آدمیوں نے باہم ہجو کی ایک انصاری تھا اور ایک مہاجر تھا دونوں نے یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کیا ہر ایک کے ساتھ اس کی قوم کے بیوقوف بھی تھے تو یہ آیت نازل ہوئی : یہی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا (2) ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے : مراد وہ لوگ ہیں جو آگے اشعار روایت کرتے ہیں۔ علی بن طلحہ نے ان سے روایت نقل کی ہے : مراد وہ کفار ہیں جن کی جنوں اور انسانوں میں سے گمراہ اتباع کرتے ہیں۔ ہم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ غضیف نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی جو آدمی اسلام میں ہجو کا آغاز کر اس کی زبان کاٹ دو ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو ابلیس غم سے چیخا اس کی ذریت اس کے پاس جمع ہوئی اس دن کے بعد تم اس چیز سے مایوس ہو جائو کہ تم حضرت محمد ﷺ کی امت میں شرک کا رواج دے سکو گے بلکہ اس مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں شعر کو عام کر دو “۔ 1 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب لی الادب، باب ماء جا فی انشاء الشعر، جلد 2، صفحہ 107۔ 2 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 232 مسئلہ نمبر 6 :۔ الم ترانھم فی کل وادیھیون وہ ہر لغو بات میں داخل ہوجاتے ہیں اور حق کے طرقہ کی پیروی نہیں کرتے کیونکہ جو آدمی حق کی اتباع کرے اور اسے علم ہو کہ جو وہ کہے گا وہ اس پر لکھا جائے گا تو وہ حق پر قائم ہوجاتا ہے وہ آوارہ جدھر منہ آئے ادھر نہیں چلا جاتا جو کچھ کہے اس کی پرواہ نہ کرے۔ یہ آیت عبد اللہ بن زبعری، مسافح بن عبد مناف اور امیہ بنی ابی صلت کے حق میں نازل ہوئی۔ وانھم یقولون مالا یفعلون ان میں سے اکثر جھوٹ بولتے ہیں، یعنی وہ اپنی گفتگو کے ذریعے کم اور خیر پر رہنمائی کرتے ہیں اور وہ کرتے نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ابی عزہ جمحی کے حق میں نازل ہوئی۔ جب اس نے کہا : الا ابلغا عنی النبی محمدا بانک حق والملئک حمید ولکن اذا ذکرت بدرا واھلہ تاوہ منی اعظم و جلود خبردار تم دونوں حضرت محمد ﷺ جو نبی ہیں کو پہنچا دو کہ آپ حق پر ہیں اور مالک حمد کے لائق ہے لیکن جب مجھے بدر اور اس میں قتل ہونے والے لوگ یاد آتے ہیں تو میری ہڈیاں اور جلد اوہ اوہ کرتے ہیں۔ پھر مومنوں کے شعر کو اس حکم سے خارج کیا۔ مومن شعراء یہ ہیں حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبد اللہ رواحہ، کعب بن مالک اور کعب بن ہیر۔ اسی طرح وہ تمام شعراء جو ان کی طرح سچی بات کرتے۔ فرمایا : الا الذین امنوا وعملوالصلحت وذکرو اللہ کثیرا یعنی اپنی گفتگو میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتے۔ وانتصروا من بعد ماظلموایہ انتقام بھی حق کے ساتھ ہوتا اور اللہ تعالیٰ نے جو اس کی حدود بیان کیں اگر اس نے اس سے تجاوز کیا تو اس نے باطل طریقہ سے انتقام لیا۔ ابو الحسن مبرد نے کہا : جب سورة ” الشعرائ “ نازل ہوئی تو حضرت حسان، حضرت کعب بن مالک اور حضرت ابن رواحہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ وہ برتر ذات جانتی ہے کہ ہم شعراء ہیں ؟ فرمایا :” اس کے بعد والا حصہ پڑھو ” الا الذین امنوا وعملوالصلحت “ تم وہ ہو جو اس کا مصداق ہیں ” وانتصروا من بعد ما ظلمو “ تم مشرکوں کو رد کرنے والے تھے “۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بدلو لو اور حق بات ہی کہو اور آباء اور امہات کا ذکر نہ کرو “۔ حضرت حسان نے ابو سفیان کے بارے میں کہا : ھجوت محمدا فاجیت عنہ وعنداللہ فی ذاک جزاء وان ابی والدتی و عرضی لعرض محمد منکم وقاء اتشتہ ولست لہ بکف فشتر کما لخیر کما الفداء لسانی صارم لا عیب فیہ و بحری لا تکدرہ الدلا تو نے حضرت محمد ﷺ کی ہجو کی اور میں نے آپ کی طرف سے جواب دیا جب کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں جزاء ہے۔ میرا والد، میری والدہ اور میری عزت حضرت محمد ﷺ کی عزت کے سامنے ڈھال ہے کیا تو آپ کو برا بھلا کہتا ہے جب کہ تو آپ کا ہم پلہ نہیں، تم میں سے برا تم میں سے اچھے پر قربان، میری زبان تلوا رہے اس میں کوئی عیب نہیں اور میرے سمندر کو ڈول گدلا نہیں کرتے۔ حضرت کعب نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے میں حکم نازل کیا جس کو آپ جانتے ہیں آپ کی کیا رائے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مومن اپنی جان، تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! گویا تم اپنی زبان سے تیر برسا رہے ہو “۔ حضرت کعب نے کہا : جاءت سخینۃ (1) کی تغالب ربھا ولیغلبن مغالب الغلاب قریش آئے تاکہ اپنے رب سے غلبہ میں مقابلہ کریں غلبہ پانے والوں میں سے غالب ہی غالب قرار دیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے کعب ! اللہ تعالیٰ نے تیرے اس قول پر تیری تعریف کی ہے “۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اس آیت والشعرء یتبعہم الغاون کو الا الذین امنوا وعملوالصلحت کے ساتھ منسوخ قرار دیا۔ مہدوی نے کہا : صحیح میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ الا الذین استثناء ہے۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون جو آدمی ظلم کے ساتھ انتقام لے اس کے لیے اس میں دھمکی ہے۔ شریح نے کہا عنقریب ظالم جان لیں گے وہ اللہ تعالیٰ سے کیسے خلاصی پائیں گے۔ ظالم عقاب کا انتظار کرتا ہے اور مظلوم نصرت کا انتظار کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پڑھا ای منقلت ینقلتون، یعنی یہ لفظ فاء اور تاء دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے دونوں کا معنی ایک ہے۔ ثعلبی نے اسے ذکر کیا ای منقلب ینقلبون کا معنی ہے کس پناہ کی وہ پناہ لیں گے۔ کون سی لوٹنے کی جگہ کی طرف وہ لوٹیں گے کیونکہ ان کا ٹھکانہ آگ ہے اور وہ سب سے قبیح ٹھکانہ ہے، ان کا لوٹنا عقاب کی طرف ہے اور وہ سب سے بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ منقلب اور مرجع میں فرق یہ ہے کہ منقلب اسے کہتے ہیں کہ جس میں وہ ہو اس کی ضد کی طرف منتقل ہونا۔ مرجع ایک حال جس میں وہ ہے اس سے اس حال کی طرف لوٹ جانا جس پر وہ پہلے تھا ہر مرجع منقلب تو ہے مگر ہر منقلب مرجع نہیں کیونکہ ای اور دوسرے کلمات استفہام میں ما قبل عمل نہیں کرتا جو نحویوں نے ذکر کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اصل بات یہ ہے کہ استفہام ایک معنی ہے اور اس کا مقابل ایک اور معنی ہے اگر اس میں ما قبل عمل کرے تو بعض معانی میں داخل ہوجائیں۔ 1 ؎۔ یہ کھانا ہے جو آٹے اور گھی سے بنایا جاتا ہے یہ کھانا گرم ہوتا ہے قریش اس کے شیدائی تھے اس لیے قریش کو وہی نام دیا جو اس کھانے کا تھا۔ مترجم۔