Ayahs 26:160–175( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔
اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے جس طرح ارشاد فرمایا :” فاتوھن من حیث امر کم اللہ “ ( البقرہ : 222) بل انتم قوم عدون “ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے ہو۔ قالو لئن لم تنتہ یلوط اے لوط ! اگر تم اپنی اس بات سے نہ رکے۔ لتکونن من المخرجین یعنی ہمارے ملک اور ہماری بستی سے نکالے جانے والوں میں سے ہوگے۔ قال انی لعملکم من القالین یعنی لواطت کے عمل سے بغض رکھنے والا ہوں۔ ق لی معنی بغض ہے تلیتہ القلیہ قلی و قلاء۔ شاعر نے کہا۔
فلست بمقلی الخلال ولا قالی۔ نہ میں دوستوں کو ناراض کرنے والا ہوں اور نہ ہی بغض رکھنے والا ہوں۔
ایک اور شاعر نے کہا :
علیک السلام لا مللت قریۃ وما لک عندی ان نایت قلا
تجھ پر سلامتی ہو قریب ہو تو تجھ سے کوئی اکتاہٹ نہیں اگر تو دور ہو تو میرے نزدیک کوئی ناراضگی نہیں۔
رب رجنی واھلی مما یعملون اے میرے رب ! مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل کے عذاب سے نجات عطاء فرما۔ جب آپ ان کے عذاب سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ انہیں ان کا عذاب نہ پہنچے۔
فنجینہ واھلہ اجمعین ان کے اہل میں ان کی صرف دو بیٹیاں تھیں جس طرح سورة ہود میں گزرا ہے الا عجورا فی الغبرین سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے غبرث فی عذاب اللہ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں باقی رہی۔ ابو عبیدہ اس طرف گئے ہیں کہ معنی ہے وہ بڑھا پے میں باقی رہنے والوں میں سے ہوئی۔ یعنی وہ باقی رہی یہاں تک کہ بوڑھی ہوگئی۔ نحاس نے کہا : جانے والے کو غابر اور باقی رہنے والے کو بھی غابر کہتے ہیں۔ جس طرح شاعر نے کہا :
لا تکسع الشول باغبارھا انک لا تدری من الناتج
تیزی سے خدمت کرنے والے کو بچی کھچی چیز کے ساتھ نہ دھتکار تو نہیں جانتا کہ نتیجہ دینے والا کون ہے۔
فما ونی محمد مذ ان غفر لہ الالہ ما مضی وما غبر
حضرت محمد ﷺ کمزور نہ ہوئے جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے گزشتہ آنے والے اعمال کو معاف کردیا۔
ما غبر سے مراد مابقی ہے۔ اغبار سے مراد باقی ماندہ دودھ ہے۔
ثم دمرنا الاخرین ہم نے انہیں دھنسا کر اور پتھروں کی مار کے ساتھ ہلاک کردیا۔ مقاتل نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو زمین میں دھنسا دیا اور جو بستی سے باہر تھا اس پر پتھروں کی بارش کی۔
وامطرنا علیھم مطرا یعنی پتھروں کی بارش کی۔
فساء مطر المنذرین ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت جبریل امین نے ان کی بستی کو زمین میں دھنسا دیا اور اس کے اوپر والے حصہ کو نیچے کردیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد پتھروں کی بارش کی۔
ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرھم مومنین اس میں کوئی مومن نہیں تھا مگر حضرت لوط (علیہ السلام) کا گھر اور ان کی دو بیٹیاں۔
Ayahs 26:176–191(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان کے ملک کا نام تھا یہ ایسی چیز ہے جو ثابت نہیں۔ اور جس نے یہ قول کیا ہے : وہ بھی معروف نہیں کہ اس کا علم ثابت ہوتا۔ اگر اس کا قائل معروف ہوتا تو بھی اس میں اعتراض کا گنجائش ہوتی کیونکہ تمام علماء جو علماء تفسیر میں سے ہیں یا کلام عرب کے ماہرین ہیں وہ اس کے خلاف ہیں۔
عبد اللہ بن وہب نے جریر بن حازم سے وہ قتادہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) دو قوموں کی طرف مبعوث کیے گئے اپنی قوم اہل مدین کی طرف اور اصحاب ایکہ کی طرف، ایکہ سے مراد گھنے درختوں کا دلدلی جنگل ہے۔ سعید بن قتا دہ سے روایت نقل کی ہے : اصحاب ایکہ اہل غیضہ ہے اور اہل شجر ہیں ان کا عام درخت دوم تھا اور یہی مقل کا درخت ہے۔ ابن جبیر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے : اصحاب ایکہ نکلے یعنی جب انہیں گرمی نے آ لیا تو وہ غیضہ اور درختوں کی جگہ چلے گئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف بادل کو بھیجا تو انہوں نے اس کے نیچے سایہ حاصل کیا۔ جب اس کے نیچے آگئے تو انہیں جلا دیا گیا۔ اگر کوئی اور نہ ہو مگر جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا : ایکہ سے مراد درخت ہے۔ ہم اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں پاتے سب کا اتفاق ہے کہ ایکہ سے مراد گھنا درخت ہے جہاں تک بعض لوگوں کے استدلال کا تعلق ہے جس نے اس آدمی کی قرأت سے استدلال کیا جس نے دونوں فتحہ کے ساتھ قرأت کی ہے کہ سواد میں لی کہ ہے تو اس کے لیے کوئی دلیل نہیں اس میں یہ قول کہ اس کی اصل ایکہ ہے پھر ہمزہ میں تخفیف کی گئی اور اس کی حرکت لام کو دی گئی تو ہمزہ حذف ہوگیا اور وہ الف وصلی سے مستغنی ہوگیا کیونکہ لام کو بعض اوقات حرکت دی جاتی ہے تو وہ کسرہ ہی ہوتی ہے جس طرح تو ہمزہ کی موجدگی میں بالا حمر اور تخفیف کی صورت میں بلحمر کہتا ہے اگر تو چاہے تو تو اس کو اس خط میں لکھ دے جس طرح میں نے پہلی دفعہ اسے لکھا ہے اگر تو چاہے تو حذف کے ساتھ کتابت کرے۔ پھر کسرہ کے بغیر کوئی صورت جائز نہیں۔
سیبویہ نے کہا : جان لو جو اسم منصرف نہ ہو جب اس پر الف لام داخل ہو یا اسے مضاف کیا جائے تو وہ منصرف ہوجاتا ہے ہم کسی کو بھی نہیں جانتے جس نے اس مسئلہ میں سیبویہ کی مخالفت کی ہو۔ خلیل نے کہا : الایکہ سے مراد ایسا جنگل ہے جو بیری اور پیلو وغیرہ کے درخت اگاتا ہے۔
اذ قال لھم شعیب، اخوھم شعیب نہیں فرمایا کیونکہ وہ نسبی طور پر اصحابہ ایکہ سے نہ تھے جب مدین کا ذکر کیا تو فرمایا : اخاھم شعیبا ( الاعراف : 85) فرمایا کیونکہ یہ نسبی طور پر انہیں میں سے تھے۔ ان کے نسب کے بارے میں قول سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قول اہل مدین کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور اہل بادیہ جو اصحاب ایکہ ہیں انکی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ہم نے اس کا ذکر کیا ہے : الا تتقون کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ ” انی لکم رسول امین۔ فاتقواللہ واطیعون “ ان رسولوں کا جواب ایک ہی تھا اور ہی صیغہ پر تھا کیونکہ وہ امر بالتقوی، طاعت اور عبادت میں اخلاق پر متفق تھے اور رسالت کی تبلیغ پر اجر لینے سے رکنے والے تھے۔
اوفوا الکیل ولا تکونوا من المحسرین “ کیل اور وزن میں کمی کرنے والے نہ ہو۔ ” وزنوا بالقسطاس المستقیم “ یعنی حق دار کا حق ادا کرو۔ سورة الاسراء اور دوسری سورتوں میں بحث گزر چکی ہے۔
” وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَلَا تعثوا فی الارض مفسدین “ سورة ہود اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ” واتقو الذی خلقکم والحلۃ الاولین “ مجاہد نے کہا : جبلۃ سے مرادخلیقہ ہے جبل فلان علی کذا یعنی اسے فلاں پر پیدا کیا گیا۔ فالخلق جبلۃ وجبلۃ وجبلۃ وجبلۃ جبلۃ۔ نحاس نے اسے قرآن کا معنی میں ذکر کیا ہے۔ والجبلۃ کا عطف کاف اور میم پر ہے۔ ہر وی نے کہا : الجبلۃ، الجبلۃ، والجبل، والجبل، والجبل سب لغتیں ہیں یہ لوگوں میں سے کثیر تعداد والی جمعتیں ہیں۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جبلاً کثیرا (یٰسین : 62 )
نحاس نے کتاب ’ ’ اعراب القرآن “ میں کہا : کہا جاتا ہے جبلۃ دونوں کی جمع جبال آتی ہے۔ باء سے ضمہ اور کسرہ حذف ہوجاتا ہے اسی طرح لام سے شد کو حذف کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے حبلۃ و جبل۔ اسی طرح جبلۃ وجبال ہے۔ سب سے ھاء حذف کی جاتی ہے۔ حضرت حسن بصری نے ان سے اختلاف کے ساتھ پڑھا ہے والجبلۃ الاولین جیم اور باء پر ضمہ ہے شیبہ اور اعرج سے بھی مروی ہے باقیوں نے کسرہ کے ساتھ روایت کی ہے۔ شاعر نے کہا :
والموت اعظم حادث فیما یمر علی الجبلۃ (1)
موت بڑا حادثہ ہوتا ہے جو مخلوق پر گزر جاتا ہے۔
قالوا انما انت من المسخرین جو کھانا کھاتے ہیں اور مشروب پیتے ہیں۔ وان نظلنک لمن الکذبین ہم یہی گمان کرتے ہیں کہ تم جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس میں آپ جھوٹے ہیں۔
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 42
فاسقط علینا کسفا من السماء یعنی آسمان کی جانب اور اس کو ٹکڑا ہم پر گرا دیں اور ہم اسے دیکھیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” وان یروا کسفا من المساء ساقطا یقولو سحاب مرکوم۔ “ ( الطور) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم پر عذاب نازل کیا جائے۔ یہ جھٹلانے میں مبالغہ ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : کسف یہ کسفہ کی جمع ہے جس طرح سدریہ سدرہ کی جمع ہے۔ سلمی اور حفص نے کہا : کسفایہ کسفہ کی جمع ہے اس سے مراد ٹکڑا اور جانب ہے اس کی تقدیر کسرۃ اور کسر ہے۔ جوہری نے کہا : کسفہ سے مراد شے کا ٹکڑا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : اعطفی کسفۃ من ثوبک اس کی جمع کیسف اور کسف ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : الکسف والکسفۃ واحد۔ یعنی یہ دونوں ایک ہیں۔ اخفش نے کہا : جس نے کسفا پڑھا اس نے اسے واحد بنایا اور جس نے اسے کسفا پڑھا ہے اس نے اسے جمع بنایا ہے۔ سورة اسراء میں یہ بحث گزری ہے۔ ہر وی نے کہا : جس نے کسفا واحد پڑھا ہے اس کی جمع اکساف اور کسوف آتی ہے گویا فرمایا : اونسقط علینا طبقا واحدا یہ کسف الشیئی کسفا سے مشتق ہے جب تو اس کو ڈھانپ دے۔
ان کنت من الصدقین۔ قال ربی اعلم بما تعملون۔ اس میں دھمکی ہے، یعنی مجھ پر تبلیغ حق پہچانا ہے۔ یعنی وہ عذاب جس کا تم مجھ سے سوال کرتے ہو وہ مجھ سے سوال کرتے ہو وہ میرے قبضہ میں نہیں اللہ تعالیٰ ہی تمہیں اس کا بدلہ عطاء فرمائے گا۔
فکذبوہ فاحذھم عذاب یوم الظلۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہیں سخت گرمی نے آ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بادل انکی طرف بھیجا وہ بھاگ کر اس بادل کی طرف گئے تاکہ اس سے سایہ حاصل کریں جب وہ سارے اس کے نیچے جمع ہوگئے تو ان پر چیخ ماری گئی تو سب ہلاک ہوگئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے اس بادل کو ان کے سروں پر کھڑا کردیا اور اسے گرمی سے بھڑکا دیا یہاں تک کہ وہ راکھ سے مر گئے۔ دنیا میں یہ دن عذاب کے اعتبار سے سب سے بڑا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان پر باد مسموم بھیجی وہ ایکہ کی طرف نکلے تاکہ وہ اس سے سایہ حاصل کریں تو اللہ تعالیٰ نے اسے دن پر آگ کی صورت میں بھڑکا دیا تو وہ سب جل گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی اور دوسرے علماء سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا دروازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید گرمی کو بھیجا جس نے ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لیا وہ ان کے گھروں میں داخل ہوگئے انہیں نہ کوئی نہ کوئی سایہ نفع دیتا اور نہ ہی پانی۔ گرمی نے ان کو پکا دیا وہ بھاگ کر جنگل کی طرف گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بادل کو بھیجا اس نے ان پر سایہ کردیا انہوں نے اس کی ٹھنڈک، راحت اور عمدہ خوشبو پائی۔ انہوں نے ایک دوسرے کو بلایا جب وہ سب بادل کے نیچے جمع ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ کو بھڑکا دیا زمین میں زلزلہ برپا ہوگیا تو وہ یوں جل گئے جس طرح کڑاہی میں مکڑی جل جاتی ہے تو وہ سارے کے سارے راکھ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی یہی مطلب ہے :” فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰـثِمِیْنَ ۔ کان لم یغنوا فیھا “ (ہود)
فَاَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِطاِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان سے سات سال تک ہوا کو روک لیا ان پر گرمی کو مسلط کردیا یہاں تک کہ اس نے ان کی سانسوں کو اپنی گرفت میں لے لیا سایہ اور پہاڑ نے ان کو کوئی نفع نہ دیا وہ درندوں کے کھو ہوں میں داخل ہوئے تاکہ اس سے ٹھنڈک حاصل کریں تو وہ اس کے ظاہر سے اندر زیادہ شدید گرمی پاتے وہ جنگل کی طرف بھاگے ان پر بادل نے سایہ کرلیا۔ یہی ظلہ تھا انہوں نے اس ٹھنڈک اور باد نسیم کو پایا اس بادل نے ان پر آگ کو برسایا تو وہ جل گئے۔ یزید جریری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان پر سات دن اور سات راتیں گرمی کو مسلط کیا پھر ان کے لیے درد سے ایک پہاڑ بلند کیا گیا ایک آدمی اس کے پاس آیا وہ کیا دیکھتا ہے کہ اس کے نیچے نہریں، چشمے، درخت اور ٹھنڈا پانی ہے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے پہاڑ ان پر آپڑا جب کہ وہ ظالم تھے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کودو امتوں کی طرف مبعوث کیا اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب ایکہ کو ظلم سے ہلاک کردیا جہاں تک اصحاب مدین کا تعلق ہے تو حضرت جبریل امین نے ان پر چیخ ماری تو وہ سب ہلاک ہوگئے۔
” ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرھم مومنین “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں امتوں میں سے نو سو افراد حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔
Ayahs 26:192–196(وانہ لتنزیل رب العلمین۔۔۔۔۔ )
وانہ لتنزیل رب العٰلمین سورت کے آغاز میں جس کا ذکر ہے اس کی طرف رجوع کیا کہ مشرکین نے قرآن سے اعراض کیا۔ نزل بہ الروح الامین۔ علی قبلک، نزل کو نافع، ابن کثیر اور ابو عمر نے مخفف پڑھا باقی فراء نے نزل کو مشدد پڑھا ہے بہ الروح الامین منصوب ہے۔ وہ ابو حاتم اور ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانہ لتنزیل یہ نزل کا مصدر ہے۔ جس نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہے یہ مقدر نہیں کیونکہ معنی ہے قرآن رب العالمین کی نازل شدہ ہے جسے جبریل امین نے تیری طرف نازل کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ “ (البقرہ : 97) یعنی وہ تجھ پر اسے تلاوت کرتا ہے اور تیرا دل اسے یاد کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکہ تیرا دل ثابت رہے۔
لتکون من المنذرین۔ یلسان عربی مبین تاکہ یہ نہ کہیں جو تو کہتا ہے : ہم اسے نہیں سمجھتے۔ وانہ لفی زبر الاولین ان کے نزول کا ذکر انبیاء کی کتب میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت محمد ﷺ کا ذکر پہلوں کی کتابوں میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ “ (الاعراف : 157) زبر کا معنی کتابیں ہیں واحد زبور ہے جس طرح رسول کی جمع رسل ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 26:197(اولم یکن لھم۔۔۔۔۔ )
اولم یکن لھم ایۃ ان یعلمہ عملوا بنی اسرائیل مجاہد نے کہا : مراد عبد اللہ بن سلام، سلمان اور ان دونوں کے علاوہ جو مسلمان ہوئے (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اہل مکہ نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیجا جو مدینہ طیبہ میں تھے وہ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان سے سوال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا : یہ اس نبی کا زمانہ ہے ہم تورات میں اس کی نعت اور صفت پاتے ہیں (2) لفظ علماء ان سب کی طرف راجع ہے جو ان کی کتابوں کا علم رکھتے وہ یہی گفتگو کرتے جو وہ اسلام لایا نہ لایا اہل کی کتاب کی گواہی مشرکوں کے خلاف دلیل بن گئی کیونکہ وہ دینی امور میں اہل کتاب کی طرف رجوع کرتے کیونکہ ان کا گمان تھا کہ وہ اس کا علم رکھتے ہیں۔ ابن عامر نے اولم تکن لھم آیۃ قرأت کی باقی قراء نے اولم یکن لھم آیۃ نصب کے ساتھ قرأت کی ہے یہ خبر ہے اور یکن کا اسم ان یعلمہ ہے تقدیر کلام یہ ہے اولم یکن لھم علم علماء بنی اسرائیل الذین اسلموا آیۃ واضحۃ پہلی قرأت کی صورت میں کان کا اسم آیۃ ہے خبر ان یعلمہ علماء بنی اسرائیل ہے۔ عاصم حجدری نے قرأت کی ان تعلمہ علماء بنی اسرائیل۔