Ayahs 26:52–68(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ )
واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں ان کی تعریف ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نجات عطاء فرماتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو سحری کے وقت لے کر نکلے شام کی طرف جانے والا راستہ اپنے بائیں ہاتھ رکھا اور سمندر کی طرف منہ کیا بنی اسرائیل کا کوئی شخص آپ کو راستہ چھوڑنے کا کہتا تو آپ فرماتے : اسی طرح مجھے حکم دیا گیا۔ جب فرعون نے صبح کی اور اسے علم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلے گئے ہیں تو وہ ان کے پیچھے چلا۔ اس نے مصر کے شہروں کی طرف پیغام بھیجا کہ لشکر اس سے آ ملیں۔ یہ روایت بیان کی گئی کہ وہ پیچھے سے آ کر ملا جب کہ اس کے ساتھ ایک لاکھ سیاہ گھوڑوں پر لشکر تھا اس کے علاوہ ہر قسم کی فوج تھی۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی۔ اللہ تعالیٰ صحیح جانتا ہے۔
اس آیت سے جو بات لازم آتی ہے اور جو بات قطعی طور پر کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی عظیم جمعیت کے ساتھ نکلے اور فرعون نے ان سے کئی گنا لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : فرعون کے ساتھ ایک ہزار جابر حکمران تھے سب کے سر پر تاج تھا اور ہر ایک گھڑ سوار لشکر کا امیر تھا (1) لشر ذمۃ سے مراد لوگوں میں سے ایک طائفہ اور شے کا قطعہ ہے۔ ثوب شر اذم کپڑے کے ٹکڑے۔ ثعلبی نے راجز کے شعر کا ذکر کیا :
جاء الثناء وثیابی اخلاق شراذم یضحک منھا التواق
موسم سرما آگیا اور میرے کپڑے بوسیدہ ٹکڑے ٹکڑے ہیں ان سے نواق ہنستا ہے۔ (1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 232)
لوگوں میں نواق انہیں کہتے ہیں جو امور کا جائزہ لیتا ہے اور انہیں درست کرتا ہے، یہ صحاح میں کہا ہے۔ لشرذمۃ میں لام تاکید یہ ہے کہ اکثر یہ ان کی خبر پر داخل ہوتا ہے مگر کو فی ان زید السوف یقوم کو جائز نہیں سمجھتے اس کے جائز ہونے پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فلسوف تعلمون یہ لام تاکید ہے جو سوف پر داخل ہوا ہے، یہ نحاس نے قول کیا ہے۔
وانھم لنا لغا ئظون وہ ہمارے دشمن ہیں کیونکہ وہ ہمارے دین کے مخالف ہیں اور ہمارے وہ امول لے کر بھاگ جانے والے ہیں جو انہوں نے ہم سے ادھار لیے تھے۔ جس طرح یہ بات پہلے گزر چکی ہے اس رات ان کے نوجوان مر گئے ہے اسی سے تغیظ اور اغتیاظ ہے بغیر اجازت کے نکل کر انہوں نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ (1)
وانا لجیع حذرون ہم سب مجتمع اور مستعد ہیں ہم نے اپنا اسلحہ لے لیا ہے۔ اسے حاذرون بھی پڑھا گیا ہے اس کا معنی بھی حذرون ہے یعنی خوف زدہ ہیں۔ جوہری نے کہا : وانا لجمیع حاذرون وحذرون وحذرون۔ یعنی ذال کے ضمہ کے ساتھ : اسے اخفش نے بیان کیا ہے۔ حاذرون کا معنی ہے ہم تیاری کرنے والے ہیں۔ حذرون کا معنی ہے ڈرانے والے ہیں۔ نحاس نے کہا : حذرون مدینہ طیبہ کے قراء اور ابو عمر کی قرأت ہے اہل کوفہ کی قرأت حاذرون ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے معروف ہے حادرون دال بےنقطہ، یہ ادبی عباد کی قرأت ہے۔ مہدی نے یہ ابن ابی عمار سے بیان کی ہے ماوردی اور ثعلبی نے سمیط بن عجلان سے نقل کی ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عبیدہ اس طرف گئے ہیں کہ حذرون اور حاذرون کا معنی ایک ہی ہے : یہ سیبویہ کا قول ہے اور اس کو جائز قراردیا ھو حذر زیدا جس طرح کہا جاتا ہے : حاذرزیدا شہ شعر پڑھا :
حذر امورا لا تغیرو آمن ما لیس منجیہ من الاقدار
وہ ایسے امور سے ڈرنے والا ہے جو نقصان نہیں دیتے اور ایسی اقدار سے بےخوف ہے جو نجات دینے والی نہیں ہے۔
ابو عمر جرمی نے گمان کیا کہ یہ جملہ کہنا جائز ہے۔ ھو حذر زیدا یہاں سے من حذف ہے اکثر نحوی حذر اور حاذر میں فرق کرتے ہیں : ان میں کسائی، فراء اور محمد بن زید ہے : وہ اس طرف گئے ہیں کہ حذر کا معنی فی خلقتہ الحذر ہے وہ یدا اور متنبہ ہے جب اس طرح ہے تو وہ متعدی نہیں ہوتا۔ حاذر کا معنی مستعد ہے مقتدمین سے یہی تفسیر آئی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وانا لجمیع حذرون کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : ہم سب کے پاس اسلحہ ہے اور گھوڑے ہیں۔ یہ بھی وہی معنی ہے جو معقو ون کا معنی ہے ان کے پاس اسلحہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ہمارے پاس اسلحہ ہے جب کہ بنی اسرائیل کے پاس اسلحہ نہیں جو انہیں قتال پر برانگیختہ کرے جہاں تک حادرون کا تعلق ہے یہ ان کے قول عین حدرۃ سے مشتق ہے یعنی چشمہ بھرا ہوا ہے یعنی ہم ان پر غصہ سے بھرے ہوئے ہیں۔ اسی معنی میں یہ قول ہے : (1 ؎۔ تفسیر بغوی) ۔
وعین لھا حدرۃ بدرۃ شقت ما قیھما من اخر
اہل لغت نے حکایت بیان کی ہے کہ یہ جملہ کہا جاتا ہے : رجل حادر جب وہ بھرے گوشت والا ہو یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی ہوا سلحہ سے بھرا ہوا۔ مہدوی نے کہا : حادر سے مراد قوی اور شدید ہے۔
فاخر جہنم من جنت وعیون مراد مصر کا علاقہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نیل کے دونوں کناروں پر اسوامی سے رشید تک باغات تھے اور باغات کے درمیان کھیتاں تھیں نیل سات خلیجیں (ندیاں) تھیں، خلیج اسکندریہ، خلیج سخا، خلیج دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منف، خلیج قیوم، خلیج المنہی (1) یہ سب متصل تھیں ان میں سے کوئی دوسرے سے منقطع نہ تھیں کھتیاں سب خلیجوں کے درمیان تھیں۔ مصر کی تمام زمین سولہ ہاتھ ( بلند پانی) سے سیراب ہوجاتی تھیں جو انہوں نے بڑے، چھوٹے پلوں اور ندیوں کے ذریعے تدبیر کی تھی اور انہوں نے جو اندازہ لگایا تھا اسی وجہ سے جب نیل کو سولہ ہاتھ پر بند کیا جاتا تو اسے نیل سلطان کا نام دیا جاتا اور اسے ابن ابی رداد کے اندازے پر چھوڑا جاتا یہ حالت آج تک جاری ہے۔ اسے نیل سلطان کا نام اس لیے دیاکیون کہ اس وقت لوگوں پر خراج واجب ہوتا جب نیل کی سطح سترہ ہاتھ ہوجاتی تو مصر کی تمام زمین ایک انگلی بھر سطح سے سیراب ہوجاتی جب نیل کا پانی سترہ ہاتھ پر بند کیا جاتا اور اٹھارویں ہاتھ سے ایک انگلی بلند ہوتا تو خراج میں دس لاکھ دینار کا اضافہ ہوجاتا اور جب وہ اس حد سے نکلتا اور انیس ہاتھ سے بڑھ جاتا تو اس کا اخراج دس لاکھ دینار کم ہوجاتا اس کی وجہ یہ ہوتی کہ وہ خراج مصالح، ندیوں، پلوں اور ان کی تعمیر میں خرچ ہوجاتا۔ جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے تو اکثر زمین سیراب نہیں کی جاتی یہاں تک کہ مصر کے پیمانہ کے مطابق پانی انیسویں ہاتھ کی انگلی برابر پانی بلند ہو۔ جہاں تک صعید اعلیٰ کے علاقے ہیں تو ان کی سیراب اس وقت تک نہیں ہوتی یہاں تک کہ پانی بائیس ہاتھ نہ ہوجائے۔
میں کہتا ہوں : مصر کی زمین اس وقت سیراب ہوتی ہے جب پانی بیس ہاتھ اور کچھ انگلیاں اوپر ہوجائے، کیونکہ زمین اونچی ہوگئی ہے اور پلوں وغیرہ کی تعمیر کا اہتمام نہیں۔ یہ دنیا کے عجائبات میں سے ہے یہ تعجب اور بڑھ جاتا ہے جب تمام علاقہ میں پانی بہتا ہے یہاں تک کہ مصر کے تمام علاقہ میں سیلاب ہوتا ہے تو شہر پہاڑ کی طرح ہوتے ہیں جن تک کشتیوں کے ذریعے ہی پہنچا جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے : مصرکا نیل تمام دریائوں کا سردار ہے اللہ تعالیٰ نے مشرق و مغرب میں ہر دریا اس کے لیے مسخر کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے نہروں کو مسخر کردیا ہے جب اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ مصر کے نیل کو جاری کرے تو دریا کہ حکم دیتا ہے کہ اس کی مدد کرے تو دریا اپنے پانیوں کے ساتھ اس کی مدد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے چشموں کو کھول دیتا ہے جب وہ اس انتہاء کو پہنچ جاتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر پانی کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے۔
قیس بن حجاج نے کہا : جب مصر فتح ہوگیا تو اس کے مکین حضرت عمرو بن عاص کی خدمت میں حاضر ہوئے جب قبطیوں
(1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 232)
کے مہینوں میں سے جو نہ داخل ہوا، انہوں نے حضرت عمرو بن عاص سے عرض کی : اے امیر ! ہمارے اس نیل کی ایک سنت ہے وہ اس کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص نے اس سے پوچھا : وہ سنت کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جب اس ماہ کی بارہویں رات گزر جاتی ہے تو ہم ایک دو شیزہ کا قصد کرتے ہیں ہم اس کے والدین کو راضی کرتے ہیں، ہم اسے بہترین زیورات اور بہترین کپڑے پہناتے ہیں پھر ہم اسے اس نیل میں پھینک دیتے ہیں۔ حضرت عمرو نے فرمایا : اسلام میں یہ جائز نہیں اسلام پرانے دور کی رسومات کو مٹانے والا ہے۔ وہ لوگ وہاں رہے نہ نیل زیادہ چلتا نہ کم، ان لوگوں نے جلا وطنی کا ارادہ کرلیا۔ جب حضر عمروبن عاص نے یہ دیکھا تو حضرت عمر بن خطاب ؓ کی طرف خط لکھا اور تمام واقعہ سے آگاہ کیا۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے انہیں خط لکھا جو کچھ تو نے کہا ہے وہ درست ہے اسلام ما قبل کی رسومات کو ختم کرنے والا ہے اور اب یہ نہیں ہوگا اور خط کے اندر ایک رقعہ بھیجا اور حضرت عمر ؓ کو لکھا میں نے خط کے اندر ایک رقعہ بھیجا ہے جب میرا خط تم تک پہنچے تو اسے نیل میں پھینک دینا۔ جب حضرت عمر ؓ کا خط حضر عمرو بن عاص کو پہنچا تو انہوں نے وہ رقعہ لیا اور اسے کھولا تو اس میں یہ تحریر تھی : اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی جانب سے نیل کے نام امابعد ! اگر تو اپنی جانب سے چلتا ہے تو نہ چل اگر اللہ تعالیٰ تجھے چلاتا ہے تو اللہ واحد قہار سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تمہیں چلائے، کہا : حضرت عمرو بن عاص نے صلیب سے ایک دن پہلے وہ رقعہ نیل میں پھینک دیا جب کہ اہل مصر نے جلا وطنی اور وہاں سے نکل جانے کی تیاری کرلی تھی کیونکہ ان کے مصالح نیل سے ہی وابستہ تھے۔ جب حضرت عمرو بن عاص نے وہ رقعہ نیل میں پھینکا صلیب کے دن ان لوگوں نے صحیح کی جب کہ اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں اسے سولہ ہاتھ بڑھا دیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سال سے اہل مصر سے اس طریقہ کو ختم کردیا۔ کعب الاحبار نے کہا : چار دیریا جنتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے جنہیں دنیا میں جاری فرمایا ہے سبحان، جیحان، نیل اور فرات، سیحان جنت میں پانی کا دریا ہے، جیحان جنت میں دودھ کا دریا ہے، نیل جنت میں شہد کا دریا ہے اور فرات جنت میں شراب کا دریا ہے۔ ابن لہیعہ نے کہا : دجلہ جنت میں دودھ کا دریا ہے۔
میں کہتا ہوں : صحیح میں جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” سبحان، جیحان، نیل اور فرات تمام جنت کی نہریں ہیں “۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔ حدیث اسراء میں حضرت انس بن مالک، مالک بن صعصعہ جو انہیں کے قوم کے افراد میں تھے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے بیان کیا کہ آپ نے چادر دریا دیکھے ان کی اصل سے دو ظاہر دریا نکلتے ہیں اور دو باطنی دریا نکلتے ہیں۔ میں نے عرض کی : اے جبریل ! یہ دریا کون سے ہیں ؟ فرمایا : جہاں تک دو باطنی دریائوں کا تعلق ہے تو دو دریا جنت میں ہیں جہاں تک دو ظاہری دریائوں کا تعلق ہے وہ نیل اور فرات ہیں “۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔
امام بخاری نے شریک کی سند سے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے :” پس وہ آسمان دنیا میں دو دریا ہیں جو جاری ہوتے ہیں پوچھا : اے جبریل ! یہ کون سے دریا ہیں ؟ عرض کی : یہ نیل اور فرات ہے، پھر آپ آسمان میں تشریف لے گئے تو آپ ایک دریا پر تھے جس پر موتیوں اور زبر جد کا محل تھا آپ نے اپنا ہاتھ مارا تو وہ مرکب کستوری تھی۔ پوچھا : اے جبریل ! یہ کیا ہے ؟ عرض کی : یہ وہی کوثر ہے جو تیرے رب نے تیرے لیے چھپا رکھی ہے “۔ حدیث کو ذکر کیا۔ جمہور علماء کی یہ رائے ہے کہ عیون سے مراد پانی کے چشمے ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس سے مراد نہار ہیں، اس سے اعتراض کی گنجائش ہے کیونکہ چشمے ان پر مشتمل ہوتے ہیں۔
و مقام کریم حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : مقام کریم سے مراد منبر ہے۔ ہزار منبر ہزار جابر حکمرانوں کے لیے تھی جن پر بیٹھ کر وہ فرعون اور اس کی بادشاہت کی عظمت بیان کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ مرادرئوسا اور امراء کی مجالس ہیں : اسے ابن عیسیٰ نے بیان کیا ہے، یہ پہلے قول کے قریب ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : مراد اچھے مسکن ہیں۔ ابن لہیعہ نے کہا : میں نے سنا ہے کہ مقام کریم سے مراد فیوم ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی مجالس میں سے ایک مجلس پر لکھا تھا لا الہ الا اللہ ابراہیم خلیل اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ان کا نام کریمہ رکھا۔
ایک قول کیا گیا ہے : مراد گھوڑوں کے تھان ( اصطبل) ہیں کیونکہ زعماء انہیں سامان جنگ اور زینت کے طور پر باندھتے ہیں اس وجہ سے ان کا مقام سب سے معزز جگہ بن گئی : ماوردی نے اس کا ذکر کیا۔ اظہر یہ ہے کہ مراد اچھے مسکن ہیں جن کے سبب سے کرامت کا اظہا کیا جاتا تھا۔ لغت میں مقام سے مراد موضع ہے : یہ مصدر ہے۔ نحاس نے کہا : لغت میں مقام سے مراد موضع ہے یہ تیرے قول قام یقوم سے مآخوذ ہے اسی طرح مقامات کا واحد ماقم ہے جس طرح شاعر نے کہا :
وفیھم مقامات حسان و جو ھم اندیۃ ینتابھا القول والفعل
ان میں مقامات ہیں ان کے چہرے حسین ہیں اور مجلسیں ہیں جن میں قول اور فعل باری باری ہوتا ہے۔
مقام بھی مصدر ہے یہ مقام یقوم کا مصدر ہے مقام ضمہ کے ساتھ اقام سے اسم ظرف ہے اس سے مصدر بھی اسی وزن پر آتا ہے۔
کذلک و اور ثنھا بنی اسرائیل مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن جنات، عیون، کنوز اور مقام کریم کا ذکر کیا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ورثہ کے طور پر دیا ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا : بنی اسرائیل فرعون اور اس کی قوم کے ہلاک ہونے کے بعد مصر کی طرف لوٹے۔ (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں وراثت سے مراد وہ ہے جو بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آل فرعون سے زیورات ادھار لیے تھے۔
میں کہتا ہوں : دونوں امور انہیں حاصل ہوئے۔ الحمد للہ۔
1 ؎۔ الحرء الوجیز جلد 4 ص 232 2 ؎۔ ایضاء مفہوم
فاتبعوھم مشرقین فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا۔ سدی نے کہا : جب سورج روشن ہوا۔ قتادہ نے کہا : جب زمین روشن ہوگئی۔ زجاج نے کہا : یہ جملہ بو لا جاتا ہے شرقت الشمس جب وہ طلوع ہوا الشرقت جب وہ روشن ہوجائے۔ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے میں کوئی دیری کی اس میں دو قول ہیں (1) اس رات جو ان کے نوجوان فوت ہوگئے ان کو دفن کرنے میں مشغول ہوگئے تھے کیونکہ اس رات ان میں وبا پھیلی ہوئی تھی۔ مشرقین یہ قوم فرعون سے حاصل ہے (2) بادل اور تاریکی ان پر سایہ فگن ہوگئی تھی انہوں نے کہا : ابھی رات ہے تاریکی : ان سے نہ چھٹی یہاں تک کہ انہوں نے صبح کی۔ ابو عبیدہ نے کہا : فاتبعوھم مشرقین کا معنی ہے مشرق کی جانب ان کا پیچھا کیا۔ حضرت حسن بصری اور عمرو بن میمون نے کہا : فاتبعوھم مشرقین تشدید اور الف فاصل کے ساتھ، یعنی مشرق کی جانب، یہ عربوں کے اس قول سے مآخوذ ہے شرق و غرب۔ جب وہ مشرق اور مغرب کی طرف چلے۔ کلام کا یہ معنی ہوگا ہم نے مقدر کیا کہ بنی اسرائیل ان کے وارث بنیں تو قوم فرعون نے بنی اسرائیل کا مشرق کی جانب پیچھا کیا تو وہ سب ہلاک ہوگئے۔ اور بنی اسرائیل ان کے ملکوں کو وارث بن گئے۔
فلما تراء الجمعن دونوں جمعیتیں بالمقابل ہوئیں یہ فریق اپنے ساتھی کو دیکھ رہا تھا۔ یہ رویۃ سے تفاعل کا وزن ہے قال اصحب موسیٰ انا المدر کون دشمن ہمارے قریب آگیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کی ہم میں طاقت نہیں۔ جماعت کی قرأت لمدرکون ہے یہ ادرک سے مشتق ہے، اسی سے حعی اذا ادراکہ الغرق (یونس : 90) ہے۔ عبدی بن عمر، اعرج اور زہری نے کہا : المدر کون دال مشدد ہے یہ ادرک سے مشتق ہے۔ فراء نے کہا : حفر اور احتفر ایک ہی معنی میں ہیں اسی طرح نمدر کون اور المدر کون ایک معنی میں ہیں۔ نحاس نے کہا : نحوی جو خدا ق ہیں کہتے ہیں وہ اسی طرح نہیں ہے۔ مدرکون کہتے ہیں جن کو پیچھے سے آ کر ملا جائے۔ مدزکون جن کو ملنے کی کوشش کی جائے، جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے کسبت یہ اصبت اور ظفرت کے معنی میں ہے اکتسبت یہ اجتھدت اور طلعت کے معنی میں ہے، یہ سیبویہ کے قول کا معنی ہے۔
قال کلا ان معی ربی سیھدین جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جمعیت کو جا ملا اور ان کے قریب ہوگیا بنی اسرائیل نے مضبوط دشمن اور اپنے سامنے سمندر دیکھا تو ان کے گمانات خراب ہوگئے۔ انہوں نے توبیخ اور جفا کے اندر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کی : انا المدر کون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے قول کو رد کردیا، انہیں جھڑکا اور اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور کامیابی کا جو وعدہ کیا تھا وہ انہیں یاد دلایا۔ کلا یعنی وہ تمہیں نہیں پکڑ سکتے۔ ان معی ربی دشمن کے خلاف مدد کرنے میں میرا رب میرے ساتھ ہے۔ سیھدین وہ نجات کے راستہ کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ جب بنی اسرائیل پر آزمائش عظیم ہوگئی اور انہوں نے ایسے لشکر دیکھے جن کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ سمندر پر اپنا عصا مارے اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ آیت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ متصل ہوا اور جو فعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کریں اس کے ساتھ متعلق ہو ورنہ عصا کا مارنا سمندر کو پڑھانے والا نہیں اور نہ ہی بالذات اس میں مددگار ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختراع اس کے ساتھ ملی۔ سمندر کا یہ قصد سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ جب سمندر پھٹا تو بنی اسرائیل کے قبائل کے برابر اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بڑے بڑے پہاڑوں کی شکل میں رک گیا۔ طور سے مراد پہاڑ ہے۔ اسی معنی میں امراء نفیس کا قول ہے۔
فبینا المرء فی الاحیاء ملود رماہ الناس عن کثب فمالا
آدمی قبائل میں پہاڑ تھا۔ اسود بن یعفر نے کہا :
حلوا بانقرۃ یسیل علیھم ماء الفرات یجی من اطواد
وہ انقرہ میں اترے ان پر فرات کا پانی بہتا جو پہاڑوں سے آتا۔
الطواد یہ طور کی جمع ہے جس کا معنی پہاڑ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب کے لیے سمندر میں خشک راستہ بن گیا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب نکل گئے اور فرعون کے ساتھی سارے کے سارے اس میں داخل ہوگئے جس طرح سورة یٰسین میں گزرا ہے تو پانی رواں ہوگیا اور فرعون غرق ہوگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک ساتھی نے کہا : فرعون جونہی غرق ہوا تو اس کو سمندر کے کنارے پھینک دیا گیا یہاں تک کہ انہوں نے اسے دیکھا۔
ابن قاسم نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے تاجروں میں سے دو آدمی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ساحل سمندر کی طرف نکلے جب وہ سمندر تک پہنچے دونوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے تجھے کیسے حکم دیا ؟ فرمایا : مجھے حکم دیا گیا کہ میں سمندر پر اپنا عصا ماروں تو وہ پھٹ جائے گا۔ دونوں نے عرض کی۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے جو حکم دیا اس طرح کیجئے اللہ تعالیٰ تجھ سے وعدہ خلافی نہیں فرمائے گا۔ پھر ان دونوں نے تصدیق کی خاطر اپنے آپ کو سمندر میں پھینک دیا سمندر اسی طرح رہا یہاں تک کہ فرعون اور اس کے ساتھ اس میں داخل ہوگئے، پھر وہ سمندر اسی طرح ہوگیا جس طرح وہ تھا سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا۔ شاعر نے کہا :
وکل یوم مضی او لیلۃ سلفت فیھا النفوس الی الاجال تزدلف
ہر دن یا رات جو گزر گئے ہیں ان میں نفوس اپنی آجال تک جمع ہوتے رہیں گے۔
ابو عبیدہ نے کہا از لفنا ہم کو جمع کیا۔ اسی وجہ سے مزدلفہ کی رات کو لیلۃ جمع کہتے ہیں۔ ابو عبداللہ بن حرث، ابی بن کعب اور حضرت ابن عباس ؓ نے قرأت کی وازلقنا یعنی یہ قاف کے ساتھ ہے معنی ہے ہم نے انہیں ہلاک کردیا (1) ۔ اسی سے یہ جملے بولے جاتے ہیں ازلقت الناقۃ، ازلقت الغرس فھی مزلق۔ جب وہ اپنے بچے کو پھینک دے۔ وانجینا موسیٰ ومن معہ اجمعین۔ ثم اغرقنا الاخرین، آخرین سے مراد اور اس کی قوم ہے۔ ان فی ذلک لایۃ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر علامت ہے۔
وما کان اکثرھم مومنین کیونکہ قوم فرعون میں سے آل فرعون کے مومن کے علاوہ کوئی ایمان نہیں لایا تھا اس کا نام حز قیل تھا اس کی بیٹی حضرت آسیہ تھی جو فرعون کی بیوی تھی اور اس کی بیٹی مریم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور کی وہ بوڑھی۔
1 ؎۔ المحرر الوجیز جلد 4 ص 233
عورت تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر پر آگاہ کیا تھا اس کا واقعہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو چاند ان پر تاریک ہوگیا۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا : یہ کیا ہوا ؟ ان کے علماء نے بتایا : جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا تو آپ نے ہم سے پختہ وعدہ لیا کہ ہم مصر سے نہ نکلیں یہاں تک کہ ہم آپ کی ہڈیاں یہاں سے اپنے ساتھ منتقل کریں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم میں سے کون ان کی قبر کو جانتا ہے ؟ بتایا بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا فرمایا : مجھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے بارے میں بتائو۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ایسا نہ کروں گی یہاں تک کہ تو میری بات مانے۔ فرمایا : تیرا حکم و بات کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : میرا فیصلہ یہ ہے کہ میں جنت میں تیرے ساتھ رہوں۔ یہ امر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ناگوار ہوا۔ آپ سے عرض کی گئی : اس کے فیصلہ کو مان لو۔ اس بوڑھی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر پر ان کی رہنمائی کردی لوگوں نے اس کی قبر کو کھودا، اس کی ہڈیاں نکالیں جب ان ہڈیوں کو اٹھا لیا تو راستہ یوں ہوگیا جس طرح روشن دن ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کی کہ اس کو وعدہ دے دیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کرلیا وہ عورت بنی اسرائیل کو بحیرہ پر لے آئے۔ اس عورت نے لوگوں کو کہا : یہ پانی خشک کرو، انہوں نے پانی خشک کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیاں نکال لیں، تو ان کے لیے راستہ دن کی طرح روشن ہوگیا۔ یہ بحث سورة یوسف میں گزر چکی ہے۔ ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک اعرابی کے پاس فروکش ہوئے اس نے آپ کی تکریم کی رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ” کوئی خدمت ؟ “ اس نے عرض کی : ایک اونٹنی جس پر میں سواری کروں اور ایک بکری جسے میں دو ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو بنی اسرائیل کی بوڑھی کی مثل ہونے سے کیوں عاجز آگیا ؟ “۔
رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کی : بنی اسرائیل کی بوڑھیا کا کیا معاملہ ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس بوڑھی عورت کا ذکر کیا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پختہ وعدہ لیا کہ جنت میں وہ انکے ساتھ ہوگی۔ (1)
Ayahs 26:69–77(واتل علیھم نبا۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ المستدرک للحاکم، جلد 2 ص 439، دارالکتب العلمیۃ
واتل علیھم نبا ابراہیم مشرکوں کو ان کی انتہائی جہالت پر آگاہ کیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعتقاد و دین سے اعراض کرنے والے تھے جب کہ وہ ان کے جد اعلیٰ تھے۔ نبا کا معنی خبر ہے یعنی اے محمد ! ان پر اس کی خبر، اس کی گفتگو اور قوم جن کی عبادت کرتی تھی اس پر عیب لگانے کو بیان کر دیجئے۔ یہ اس لیے فرمایا تاکہ ان پر حجت لازم کردی جائے۔ جمہور قراء دوسرے ہمزے میں تخفیف کرتے ہیں، یہ بہترین توجیہ ہے، کیونکہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک کلمہ میں دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرتے ہیں جس طرح آدم۔ اگر تو چاہے تو دونوں کو ثابت رکھ اور تو کہے نبا ابراہیم اگر تو چاہے تو دونوں میں تخفیف کرلے تو کہہ لے نبا ابراہیم، اگر چاہے تو پہلے میں تخفیف کرلے۔ وہاں پانچویں توجیہ بھی ہے مگر یہ عربی میں بعید ہے کہ ہمزہ کو ہمزہ میں مدغم کردیا جائے جس طرح جو آدمی سر بیچتا ہے اسے راس کہتے ہیں۔ یہ تعبیر بعید ہے کیونکہ تو وہ ہمزوں کو جمع کررہا ہے گویا وہ یہ ایک کلمہ میں ہیں، فعال کے وزن میں یہ اچھا ہے کیونکہ وہ مدغم میں آتا ہے۔
اذا قال لا بیہ وقومہ ما تعبدون یعنی تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ قالو انعبد اضناما ان کے بت سونے، چاندی، پیتل، لوہے اور لکڑی کے ہوتے تھے۔
فنظل لھا عکفین ہم ان کی عبادت پر قائم رہیں گے مراد وقت معین نہیں بلکہ جس کام میں وہ مصروف تھے اس کی خبر دی جا رہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دن کو عبادت کرتے تھے رات کو عبادت نہیں کرتے تھے۔ وہ رات کے وقت ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ظل یفعل کذا۔ جب وہ دن کو کام کرے۔ بات یفعل کذا۔ جب رات کو کوئی عمل کرے۔ قال ھل یسمعونکم اخفش نے کہا : اس میں حذف ہے معنی ہے کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟ یا کیا وہ تمہاری دعا سنتے ہیں ؟ یعنی تقدیر کلام یہ ہے ھل یسمعون دعاء کم۔ شاعر نے کہا :
القائدالخیل منکوبا دوابرھا قد احکمت حکمات القد والابقا
کہا ابق سے مراد کتان (السی کا پودا) ہے حذف ہے اصل ہے احکمت حکمات الابق۔ صحاح میں ہے ابق جب حرکت کے ساتھ ہو تو اس سے مراد قنب ( ایک درخت جس کی چھال سے رسی بنائی جاتی ہے) قتادہ سے مروی ہے انہوں نے قرأت کی ھل یسمعونکم یاء پر ضمہ ہے یعنی کیا وہ تمہیں اپنی آوازیں سناتے ہیں ؟
اذا تدعون۔ او ینفعونکم او یضرون کیا یہ بت تمہیں نفع پہنچاتے ہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں یا اگر تم نافرمانی کرو تو تمہارے لیے خیر اور شر کے مالک ہیں ؟ یہ استفہام حجت ثابت کرنے کے لئے ہے جب وہ تمہیں نفع اور نقصان نہیں دے سکتے تو پھر تمہارا کی عبادت کا کیا مقصد ہے ؟
قالو بل وجدنا ابا نا کذلک یفعلون وہ حجت اور دلیل کے بغیر تقلید کی طرف پھرگئے، اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
قال افرء یتم ما کنتم تعبدون۔ انتم وابا و کم الا قدمون۔ فانھم عدونی۔ قال میں ضمیر سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ما سے مراد یہ بت ہیں۔ الا قدمون سے مراد پہلے ہیں۔ عدد واحد کا صیغہ ہے جماعت کا معنی دیتا ہے اسی طرح عورت کے لیے کہا جاتا ہے : ھی عدو اللہ وعدوۃ اللہ۔ فراء نے دونوں کا ذکر کیا ہے۔ علی بن سلیمان نے کہا : جس نے عدوۃ اللہ کہا اور ھاء کو ثابت رکھا تو اس نے کہا یہ معادیۃ کے معنی میں ہے۔ جس نے مونث اور جمع کے لیے عدو کا لفظ ذکر کیا اس نے اسے نسبت کے معنی میں لیا اور جماد کا صفت عداوت سے لگائی معنی ہوگا اگر میں نے ان کی عبادت کی تو یہ قیامت کے روز میرے دشمن ہوں گے، جس طرح فرمایا : کلا سیکفرون بعیادتھم و یکونون علیھم ضدا۔ ( مریم) فراء نے کہا : یہ مقلوب میں سے ہے اس کا معنی ہوگا میں ان کا دشمن ہوں کیونکہ تو جس سے دشمنی کرے وہ تجھ سے دشمنی کرے گا۔ پھر فرمایا : الا رب العٰلمین کلبی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے کہ الا من عند رب العالمین، الا عابد رب العالمین مضاف حذف کردیا گیا۔ ابو اسحاق زجا ج نے کہا : نحویوں نے کہا یہ اول سے مستثنیٰ نہیں۔ ابو اسحاق نے اجازت دی کہ یہ اول کلام سے مستثنیٰ ہو اس معنی پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ بتوں کی عبادت کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر جس کی وہ عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے مبرا ہے۔ فراء نے اس کی تاویل صرف اصنام سے کی ہے اس کے نزدیک معنی ہے اگر میں ان کی عبادت کروں تو قیامت کے روز وہ میرے دشمن ہوں گے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ جرجانی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے افرایتم ما کنتم تعبدون انتم وآباء کم الا قد موت الا رب العالمین فانھم عدولی۔ اور یہ سوی اور دون کے معنی میں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی ج “ (الدخان : 56) یہاں بھی الا، دون کے معنی میں ہے۔
Ayah 26:78(الذی خلقنی فھو یھدین۔۔۔۔۔۔۔۔ )
الذی خلقتنی فھو یھدین یعنی دین کی طرف میری رہنمائی کرتا ہے۔ والذین ھو یطعمنی ویسقین یعنی وہ مجھے رزق دیتا ہے۔ ھو ضمیر کا دخول اس امر پر تنبیہ ہے کہ اس کے سوا نہ کوئی کھلاتا ہے اور نہ پلاتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : زید ھو الذی فعل کذا یعنی زید کے علاوہ کسی نے ایسا عمل نہیں کیا۔ واذا مرضت فھویشفین حضرت ابراہیم نے مرضت ادب کی رعایت کرتے ہوئے کہا ورنہ مرض اور شفاء اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اس کی مثل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم کا قول ہے۔ وما انسنیہ الا الشیطین ( الکہف : 63 )
Ayahs 26:79–81والذین یمیتنی ثم یحیین احیاء سے مراد بعث ہے وہ موت کو اسباب کی طرف منسوب کرتے اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا اللہ تعالیٰ کی ذات ہی موت اور زندگی عطاء کرتی ہے۔ سب ( یھدین اور یشفین) یاء متکلم کے بغیر ہیں کیونکہ آیات کے سروں کا حذف اچھا ہے تاکہ سب متفق ہوجائیں۔ ابن ابی اسحاق نے اپنی جلالت اور لغت عربی میں اپنے مقام کے اعتبار سے سب میں یاء متکلم پڑھی ہے کیونکہ یاء اسم ہے نون علت کی وجہ سے داخل ہوئی۔ اگر یہ سوال کیا جائے یہ تو تمام مخلوق کی صفت ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے کیسے ہدایت پر دلیل بنایا ہے اور کسی غیر نے اس سے ہدایت نہ پائی ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے ذکر کیا تاکہ اطاعت کے وجوب پر استدلال کریں کیونکہ جو انعام کرے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے تاکہ اس نے جس چیز کو خود پر لازم کیا ہے وہ بھی اس پر لازم ہوجائے۔ یہ صحیح الزامی دلیل ہے۔
میں کہتا ہوں : بعض اہل اشاردات نے پوشیدہ معانی مراد لیتے ہیں، جو ہم نے معانی ذکر کیے ہیں ان سے عدول کیا ہے ہدایت عقل جس کا انکار کرتی ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مراد ہے۔ کہا : والذی ھو یطعمی ویسقین وہ مجھے ایمان کی لذت چکھاتا ہے اور قبول کی حلاوت پلاتا ہے ان کے نزدیک واذا مرضت فھویشفین میں وجوہ ہیں (1) جب میں اس کی مخالفت کے ساتھ مریض ہوتا ہوں تو وہ اپنی رحمت کے ساتھ مجھے شفا دیتا ہے (2) جب میں مخلوق کی سختی کے ساتھ مریض ہوتا ہوں تو مشاہدہ حق کے ساتھ مجھے شفاء عطاء کرتا ہے۔ امام جعفر بن محمد صادق نے کہا : جب میں گناہوں کے ساتھ مریض ہوتا ہوں تو وہ توبہ کے ساتھ مجھے شفاء عطا کرتا ہے۔ (1) انہوں نے والذی یمیتنی ثم یحیین کی تین وجوہ بیان کی ہیں۔ (1) جو معاصی کے ساتھ موت عطاء کرتا ہے طاعات کے ساتھ مجھے زندہ کرتا ہے (2) خوف کے ساتھ مجھے موت عطاء کرتا ہے رجا کے ساتھ مجھے زندہ کرتا ہے (3) طمع کے ساتھ مجھے موت عطا کرتا ہے اور قناعت کے ساتھ مجھے زندہ کرتا ہے (4) وہ عدل کے ساتھ موت عطاء کرتا ہے اور فضل کے ساتھ مجھے زندہ کرتا ہے (5) فراق کے ساتھ مجھے موت عطاء کرتا ہے اور اس ملاقات کے ساتھ مجھے زندہ کرتا ہے (6) جہالت کے ساتھ مجھے موت عطاء کرتا ہے اور عقل عطاء فرما کر زندہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں جو آیت کی مراد نہیں۔ یہ مخفی تاویلات اور باطنی امور اس آدمی کے لیے ہیں جو حاذق ہو اور حق کو پہنچانتا ہو، جو حق سے اندھا ہوا اور حق کو نہ پہنچانتا ہو تو اس کے لیے امور باطنہ کی طرف کیسے اشارہ کیا جاسکتا ہے اور ظاہر امور کو کیسے چھوڑا جاسکتا ہے ؟ یہ محال ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 26:82والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین، اطمع کا معنی ہے میں امید کرتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کے حق میں یقین کے معنی میں ہے اور آپ کے علاوہ تمام مومنوں کے حق میں رجاء کے معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصرمی اور ابن ابی اسحاق نے خطایای قرأت کی ہے کہا : یہ ایک خطان ہیں۔ نحاس نے کہا : خطیئۃ کلام عرب میں خطایا میں معروف ہے۔ علماء نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : فاعترفوا بذنبھم ( الملک : 11) میں واحد پر اتفاق کیا ہے اس کا معنی ذنوب ہے۔ اسی طرح و
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 235
اقیمو الصلوٰۃ ( البقرہ : 43) اس کا منی الصلوات اسی طرح خطیتی ہے یہ خطایا کے معنی میں ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مجاہد نے کہا : خطیئۃ سے آپ کا یہ قول ہے بل فعلہ کبیر ھم ھذا ( الانبیائ : 63) اور ان کا قول : انبی سقیم۔ ( الصافات) اور ان کا قول : سارہ ان کی بہن ہے۔ حضرت حسن بصری نے اس کا اضافہ کیا ہے کہ ان کا قول جو ستاروں کے بارے میں ہے ھذا ربی یہ میرا رب ہے، اس کا مفصل وضاحت گزر چکی ہے۔ زجاج نے کہا : انبیاء بشر ہیں یہ جائز ہے کہ ان سے خطاء واقع ہو ہاں کبیرہ گناہ جائز نہیں کیونکہ وہ کبیرہ گناہ سے معصوم ہیں۔ یوم الدین، یوم جزاء : جہاں بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے اظہار عبودیت ہے اگرچہ آپ کو علم تھا کہ آپ بخشنے ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ابن جدعان دور جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتا کیا یہ امر اس کے لیے نافع ہوگا ؟ فرمایا :” اے نفع نہ دے گا کیونکہ اس نے اس وقت نہیں کہا تھا رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین “ اے میرے رب قیامت کے روز میرے گناہ بخش دینا “ (1)
Ayahs 26:83–89(رب ھب لی۔۔۔۔ )
رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔
واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ لسان صدق سے مراد ثناء، ہمیشہ کے لیے اچھا مقام و مرتبہ ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کیا۔ ہر امت آپ سے تمسک کرتی ہے اور
1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب ایمان، باب الدلیل علین من مات علی الکفر لا ینفعہ عسل، جلد 1، صفحہ 115، قدیمی کتب خانہ۔
آپ کی عظمت بیان کرتی ہے وہ اسی دین حنیف پر تھے جسے حضرت محمد ﷺ لائے۔ مکی نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ سوال کرنا ہے کہ آپ کی اولاد میں آخر زمانہ میں وہ افراد ہوں جو حق کو قائم کریں تو حضرت محمد ﷺ کی صورت میں آپ کی دعا قبول کی گئی (1) ابن عطیہ نے کہا : یہ اچھا معنی ہے مگر آیت کا لفظ یہ معنی نہیں کرتا مگر اس صورت میں کہ لفظ پر اپنی مرضی سے حکم لگایا جائے۔ قشیری نے کہا : مراد قیامت تک اچھی دعا ہے کیونکہ ثواب کی زیادتی ہر ایک کے حق میں مطلوب ہے۔
میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے ایسا کردیا کیونکہ کوئی فرد بھی جو نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود پیش کرتا ہے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی دورد پڑھتا ہے، خصوصاً نمازوں میں درود پڑھتا ہے اور منبروں پر بیٹھ کر بھی درود پڑھا جاتا ہے جو تمام حالات سے افضل اور تمام درجات سے افضل ہے۔ صلاۃ سے مراد رحمت کی دعا ہے لسان سے مراد قول ہے اس کا اصل معنی زمان ہے۔ قتبی نے کہا : لسان کا لفظ قول کی جگہ استعارہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بعض اوقادت عرب اس لفظ کو کلمہ کی جگہ کنایہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اغشی نے کہا :
انی اتتنی لسان لا اسر بھا من علو لا عجب ولا سخر
جوہری نے کہا : علو کا لفظ وائو کے ضمہ، فتحہ اور کسرہ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے یعنی مجھے اوپر سے خبر پہنچی جس سے میں خوش نہیں ہوتا نہ تعجب ہے اور نہ ہی مذاق ہے۔ اتتنی میں تانیث کلمہ کی وجہ سے ہے۔ اس تک اس کے بھائی منتشر کے قتل کی خبر پہنچی تھی۔ اشہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : واجعل لی لسان صدق فی الاخرین اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک انسان اس کو پسند کرے کہ صالح کی حیثیت سے اس کی تعریف کی جائے اور صالحین کے عمل میں اسی کو دیکھا جائے، جب وہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ ج (طہٰ : 39) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔ “ (مریم : 96) یعنی اپنے بندوں کے دلوں میں محبت اور اچھی تعریف ڈال دے پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ساتھ اس پر متنبہ فرمایا : ” واجعل لی لسان صدق فی الاخرین “ کہ جو چیز ذکر جمیل کا وارث بنائے اس کو حاصل کرنا مستحب ہے۔ لیث بن سلیمان نے کہا : اس سے مراد دوسری زندگی ہے۔ یہ کہا گیا :
قدمات قوم وھم فی الناس احیاء
لوگ مر گئے جب کہ وہ لوگوں میں زندہ ہیں۔
ابن عربی نے کہا : زید کے شیوخ میں سے محققین نے کہا : اس سے ایسے عمل صالح پر ترغیب ہے جو اچھی تعریف کا باعث ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل منقطع نہیں ہوتے “ (2)
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4 صفحہ : 235
2 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الومیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ، جلد 2 صفحہ 41، قدیمی کتب خانہ
ایک روایت میں ہے اسی طرح درخت لگانا اور کھیتی کاشت کرنا ہے اسی طرح وہ شخص جو سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے تو اس کا عمل قیامت تک لکھا جاتا رہتا ہے، ہم نے اس کی وضاحت سورة رعد کے آخر میں بیان کی ہے۔ الحمد للہ۔
واجعلنی من ورثہ جنۃ النعیم جنت اور جو جنت کا وارث بنے اس کی دعا ہے، یہ ارشاد ان بعض لوگوں کا رد کرتا ہے جو یہ کہتا ہے : میں جنت کا سوال کرتا ہوں اور نہ جہنم سے بچنے کا سوال کرتا ہوں۔
واغفرلا لی انہ کان من الضالین ان کے باپ نے ظاہر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ایمان لے آئے تو آپ نے اس کے حق میں مغفرت کی التجاء کی جب یہ واضح ہوگیا کہ اس نے جو کہا اس کو پورا نہ کیا تو اس سے برأت کرلی۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے الضالین سے مراد مشرک ہے اور کان زاہدہ ولا تخرنی یوم یبعثون یعنی لوگوں کے سامنے مجھے رسوا نہ کرنا یا مجھے قیامت کے روز عذاب نہ دینا۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باپ کو قیامت کے روز دیکھیں گے جب کہ ان پر غبارہو گا “ غبرہ ہی قترہ ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے ملیں گے وہ عرض کریں گے : اے میرے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا کہ تو مجھے قیامت کے روز غمگین نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے (1) ۔ امام بخاری ان دونوں روایات کو روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
یوم لا ینفع مال ولا بنون یوم، پہلے یوم سے بدل ہے یعنی جب روز مال اور بیٹے کسی کو کوئی نفع نہ دیں گے۔ یہاں بنون سے مراد مددگار ہیں کیونکہ جب بیٹا نفع نہیں دیتا تو اور کب نفع دے گا ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بیٹوں کا ذکر کیا کیونکہ حضرت ابراہیم کے والد کا ذکر گزر چکا ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسے کچھ نفع نہ دیں گے۔
الا من اتی اللہ یغلب سلیم یہ الکافرین سے مستثنیٰ ہے یعنی اس کا مال اور اس کے بیٹے اسے نفع نہ دیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ غیر جنس سے استثناء ہے۔ معنی ہوگا لیکن جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آیا تو اسے نفع دے گا۔ قلب کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ جس کا دل سلیم ہو تو اس کے اعضاء بھی سلیم ہوجاتے ہیں اور جب وہ فاسد ہوجائے تو باقی اعضاء بھی فاسد ہوجاتے ہیں : سورة بقرہ کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ قلب سلیم کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ شک اور شرک سے پاک ہے جہاں تک گناہوں کا تعلق ہے کوئی بھی ان سے محفوظ نہیں : یہ قتادہ، ابن زید اور اکثر مفسرین کی رائے ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا : قلب سلیم سے مراد صحیح یہ مومن کا دل ہے کیونکہ کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فی قلوبھم مرض (البقرہ : 10) ابو عثمان نیساپوری نے کہا : اس سے مراد وہ دل ہے جو بدعت سے خالی ہو اور سنت پر مطمئن ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ مال اور بیٹوں کی آفت سے محفوظ ہو۔ جنید نے کہا : لغت میں سلیم اسے کہتے ہیں جسے کسی چیز نے ڈسا ہو (2) اس کا معنی ہے وہ ایسا دل ہے جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈسے۔
1 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، باب قول اللہ عزوجل واتخذا اللہ ابراہیم خلیلا، جلد 1، صفحہ 473، وزارت تعلیم۔
2 ؎۔ الحرر الوجیز جلد 4، صفحہ 235
ہوئے انسان کی طرح ہے۔ ضحاک نے کہا : سلیم سے مرادخالص ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ قول اپنے عموم کی وجہ سے مختلف اقوال کو جامع ہے یہ اچھا قول ہے یعنی یہ دل اوصاف ذمیمہ سے پاک اور اوصاف جمیلہ سے متصف ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ عروہ سے مروی ہے فرمایا : اے میرے بیٹو ! لغت کرنے والے نہ بنو کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی بھی لغت نہ کی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذ جاء ربعہ یقلب سلیم۔ ( صافات)
محمد بن سیرین نے کہا : قلب سلیم یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قائم ہونے والی ہے اور قبروں میں جو بھی ہیں سب کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں اقوام داخل ہوں گی ان کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے “ (1) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ ارادہ کیا : وہ ہر گناہ سے خالی ہوں گے یا ہر عیب سے محفوظ ہوں گے، دنیا کے امور کی انہیں کچھ خبر نہ ہوگی، جس طرح حضرت انس بن مالک ؓ نے روایت نقل کی ہے :” اکثر جنتی بلہ ہوں گے “۔ یہ حدیث صحیح ہے، جو معاصی سے پاک ہوں گے۔ ازہری نے کہا : یہاں بلہ سے مراد وہ ہے جس کو بھلائی پر پیدا کیا گیا وہ شر سے غافل ہو وہ شر کو پہچانتا ہی نہیں۔ قتبی نے کہا : البلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر سینوں کی سلامتی غالب ہو اور انہیں لوگوں کا حسن ظن حاصل ہو۔