26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 26:23–51

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تمام جہان کا مالک کیا ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں ہو

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

(موسی نے کہا) کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ مشرق اور مغرب میں اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

(موسی نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ )

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی دی تو وہ اس وقت صریح اژدہا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ جو نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لیے سفید (براق نظر آنے لگا)

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

(فرعون نے) اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہارے کیا رائے ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اسکے اور اسکے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجئے اور شہروں میں نقیب بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ سب ماہر جادوگروں (کو جمع کر کے) آپ کے پاس لے آئیں

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہوجانا چاہیے

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلیے جاؤ گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو ڈالو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالی اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

تب جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کچھ نقصان (کہ بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ تعالیٰ پر دلالت کرتی ہیں جن میں کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ فرعون نے جنس کے بارے پوچھا جب کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں کیونکہ اجناس حادث ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کی جہالت سے آگاہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے سوال سے صرف نظر کیا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر اسے آگاہ کیا جو سامع پر اس چیز کو واضح کر رہی تھی کہ فرعون کو اس میں کوئی مشارکت حاصل نہیں۔ فرعون نے کہا : الا تسمعون اس نے یہ قول اغرا اور مقالہ کی سفاہت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیونکہ قوم کا عقیدہ تھا کہ فرعون ان کا رب ہے اور ان کا معبود ہے اس سے قبل فراعنہ بھی اسی طرح تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مزید وضاحت فرمائی ربکم ورب ابا ئکم الاولین آپ ایک ایسی دلیل لائے جس کو وہ سمجھ سکتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے آباء تھے اور وہ فناہو گئے تو کوئی نہ کوئی مغیر ہے وہ اب ہیں جب کہ پہلے نہ تھے تو ضروری ہے کہ ان کا پیدا کرنے والا کوئی ہو فرعون نے استخفاف کے طریقہ پر کہا : ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون یعنی جو میں سوال کرتا ہوں وہ اس کا جواب نہیں دیتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس قول کے ساتھ جواب دیا رب المشرق و المغرب یعنی اس کا ملک تیرے ملک کی طرح نہیں کیونکہ تو ایک ملک کا بادشاہ ہوتا ہے تو دوسرے ملک میں تیرا حکم نہیں چلتا اور وہ مر جاتا ہے جس کے مرنے کے تو پسند نہیں کرتا، جس ذات نے مجھے بھیجا ہے وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ وما بینھما ان کنتم تعلقون ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جان گئے تھے کہ اس کے سوال میں مقصود اس کی معرفت تھی جس کے بارے میں وہ سوال کر رہا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس چیز کے ساتھ جواب دیا جو آپ کی معرفت کا طریقہ تھا۔ جب فرعون دلیل قائم کرنے سے عاجز آگیا تو وہ بناوٹی غلبہ کی طرف لوٹ آیا تو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قید کرنے کی دھمکی دی۔ اور اس نے یہ نہ کہا : اس پر کیا دلیل ہے کہ اس الٰہ نے تجھے بھیجا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ اعتراف ہوتا کہ وہاں اس کے علاوہ بھی الٰہ ہے۔ قید خانہ میں ڈالنے کی دھمکی میں ضعیف ہے جو بات روایت کی جاتی ہے کہ اس کی قید قتل سے بھی سخت تھی جب وہ کسی کو قید خانہ میں ڈالتا اسے قید خانہ سے نہ نکالتا یہاں تک کہ وہ مر جاتا وہ خوفزدہ تھا پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسا امر تھا جس کے باعث فرعون کی دھمکی آپ کو خوفزدہ نہ کرسکی۔ قال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر مہربانی کرتے ہوئے اور اس کے ایمان کا طمع کرتے ہوئے کہا : اولو جئتک بشی مبین جس کے ساتھ میری صداقت تجھ پر واضح ہوجائے۔ جب فرعون نے یہ سنا تو اسے طع ہوئی وہ اس کے درمیان معاوضہ کا کوئی محل پائے۔ قال فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : فات بہ ان کنت من الصدقین سیبویہ کے نزدیک شرط جواب کی محتاج نہیں کیونکہ شرط سے پہلے جو کلام گزر چکی ہے وہ کافی ہے۔ فالقی موسیٰ عصاہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے عصا پھینکا تو وہ وہ کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا۔ اس کی وضاحت اور شرع سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔ جب فرعون نے جادوگروں کو ہاتھ پائوں کاٹنے کی دھمکی دی تو انہوں نے کہا : لا ضیر ہمیں دنیا کا عذاب پہنچے گا اس میں ہمارے لیے کوئی ضرر نہیں یعنی تیرا عذاب تو لمحہ بھر کے لیے ہوگا ہم اس پر صبر کرلیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ سے مومن کی حیثیت میں ملاقات کریں گے۔ یہ چیز ان کی بصیرت اور ایمان قوت پر دال ہے۔ امام مالک نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس سال تک فرعون کو اسلام کی طرف دعوت دیتے رہے اور جادوگر ایک دن میں ایمان لے آئے۔ یہ کہا جاتا ہے : لا ضیر، لا ضور، لا ضز، لا ضرر، لا ضارور ۃ سب ایک معنی میں ہیں، یہ ہر وی کا قول ہے۔ ابو عبیدہ نے یہ شعر پڑھا : فانک لا یضورک بعد حول اظبی کان امک ام حمار سال کے بعد تجھے تکلیف نہ دے گا کیا تیری ماں ہرن تھی یا گدھی۔ محل استدلال لا یضورک ہے۔ جوہری نے کہا : ضارۃ یضورہ، یضیرہ ضیرا وضورا یعنی اسے تکلیف پہنچائی۔ کسائی نے کہا : میں نے ایک کو کہتے ہوئے سنا لا ینفعنی ذلک ولا یضورنی یہ چیز نہ مجھے نفع دیتی ہے اور نہ نقصان دیتی ہے۔ تضور سے مراد مار اور بھوک کے وقت چیخنا اور دہرا ہوتا ہے، ضورۃ سے مراد ایسا مرد ہے جو حقیر ہو اور جس کا مرتبہ کم ہو۔ انا انی ربنا منقلبون ارادہ کیا ہے کہ ہم اپنے رب کریم کی طرف پلٹنے والے ہیں انا نطمع ان یغفر لنا ربنا خطینا ان کنا اول المومنین ان محل نصب میں ہے کیونکہ اصل میں یہ لان تھا۔ فراء نے ہمزہ کے نیچے کسرہ کو جائز قرار دیا ہے کہ یہ مجازات کے طریقہ پرہ و۔ اول المومنین کا معنی ہے فرعون کی جانب سے آیت کے ظاہر ہونے کے وقت۔ فراء نے کہا : ہمارے زمانے کے مومنوں میں سے پہلا۔ زجاج نے اس کا انکار کیا۔ کہا : یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ چھ لاکھ ستر ہزار لوگ ایمان لائے یہی وہ قلیل جماعت تھی جس کے بارے میں فرعون نے کہا : ان ھولا لشرذمہ قلیلون۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔