26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 26:130–136

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں میں مدد دی جن کو تم جانتے ہو ڈرو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اس نے تمہیں چار پایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

واذا بطشتم بطشتم جنارین، بطش کا معنی سطوت اور سختی سے پکڑنا ہے اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد بطش بہ یطش ویطش بطشا، باطشہ مباطشۃ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : بطش سے مراد تلوار سے قتل کرنا اور ڈنڈے سے مارتا ہے۔ اس کا معنی ہے تم نے یہ عمل ظلم کے طور پر کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد ڈنڈے سے مارنا ہے۔ مالک بن انس نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں جو ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ناحق تلوار سے قتل کرنا ہے۔ یہ یحییٰ بن سلام نے حکایت بیان کی ہے۔ کلبی اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد غصہ کی وجہ سے قتل کرنا ہے۔ سب حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی طرف راجع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عمد اور خطا کے طور پر مواخذہ کرنا جب کہ معانی وغیرہ نہ ہو۔ ابن عربی نے کہا : مالک نے جو کہا اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان کرتا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : ” َلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَالا قَالَ یٰـمُوْسٰٓی اَ تُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بِالْاَمْسِق اِنْ تُرِیْدُ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ “ ( القصص 19) اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر نہ تلوار سونتی اور نہ ہی اسے نیزہ مارا آپ نے اسے گھونسا مارا۔ اس کی موت اس کے گھونسے میں ہی واقع ہوگئی۔ بطش ید سے بھی ہوتی ہے کم سے کم حالت گھونسا مارنا اور دھکا دینا ہے اس کے بعد سوط اور عصا سے مارنا ہے اور اس سے بڑھ کر لوہے سے مارنا ہے، سب مذموم ہے مگر جب حق کے ساتھ ہو۔ آیت اس لیے نازل ہوئی تاکہ اس امر کی خبر دے جو سابقہ امتوں میں گزرا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہیں نصیحت ہے کہ ہم اس فعل سے پہلو تہی کریں جس کی اللہ تعالیٰ نے مذمت کی اور ان پر اسے ناپسند کیا۔ میں کہتا ہوں : یہ مذموم اور اوصاف اس امت کے کثیر افراد میں پائے جاتے ہیں خصوصاً مصری علاقوں میں جب سے ترک ان کے حاکم بنے ہیں وہ ناحق سوط اور عصا سے لوگوں کو مارتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے خبر دی تھی کہ یہ امر واقع ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کے لوگ جہنمی ہیں میں نے ان دونوں کو نہیں دیکھا ایک ایسی قوم جن کے پاس سوط (ڈنڈے) ہوں گے جس طرح گائیوں کی دنبیں ہوتی ہیں جن کے ساتھ وہ لوگوں کو ماریں گے اور ایسی عورتیں جو لباس پہنے ہوں گی، ان کے جسم عیاں ہوں گے، جو خود گمراہ ہوں گی اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گی ان کے سرد بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے جب کہ جنت کی خوشبو اتنے اتنے فاصلہ سے محفوظ کی جاسکتی ہے “۔ (1) ابو دائود نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” جب تم بیع عینہ (2) کرو تم بیلوں کی دمیں پکڑو اور کھیتی پر راضی ہو جائو اور جہاد کو ترک کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت کو مسلط کر دے گا وہ اس ذلت کو دور نہیں کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ جائو گے “۔ جبارین قتل کرنے والے، جبار اسے کہتے ہیں جو ناحق قتل کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اِنْ تُرِیْدُ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ “ ( القصص : 19) یہ ہر وی نے قول کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جبار سے مراد ایسا شخص ہے جو سر کش اور تسلط جمانے والا ہو۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّار ٍقف “ (ق : 45) سے مراد مسلط ہے۔ شاعر نے کہا : سلبنا من الجبار بالسیف ملکہ عشینا و اطراف الرماح شوارع ہم نے پچھیل پہر جبار سے اس کا ملک تلوار سے چھین لیا جب کہ نیزے کی انیاں تنی ہوئی تھیں۔ فاتقوا اللہ واطیعون ان کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ” واتقوا الذی امد کم بما تعلمون “ یعنی بھلائیوں سے تمہاری مدد کی، پھر اس ارشاد :” امد کم با نعام و بنین۔ وجنت وعیون “ کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی، یعنی ان چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کیا اور تم پر ان کے ساتھف فضل و احسان فرمایا وہ ہی ایسی ذات ہے جس کی عبادت کرنا اس کا شکر بجا لانا اور اس کی نا شکری نہ کرنا واجب ہے۔ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم اگر تم اس کا انکار کرو اور تم اس پر اصرار کرو تو میں تمہارے بارے میں یوم عظیم کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ قالو سواء علینا او عظت ام لم تکن من الوعظین یہ سب ہمارے لیے برابر ہے نہ ہم تجھ سے یہ بات سنتے ہیں اور نہ ہی اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو تم کہتے ہو۔ عباس نے ابو عمرو سے اور بشر، کسائی سے روایت نقل کرتے ہیں اور حظت۔ 1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی فناء الدنیا بیان العشر یوم القیم ج 2، صفحہ 383۔ 2 ؎۔ دشمن معلوم پر کسی کو کوئی چیز ادھار بیچے پھر اس قیمت سے کم قیمت پر تو اس سے وہ چیز خریدے۔ میں ظاء تاء میں مدغم ہے۔ یہ قول بعید ہے کیونکہ ظاء حروف مطلقہ میں سے ہے یہ صرف اس میں مدغم ہوتا ہے جو اس کے بہت ہی قریب ہو وہ اس کی مثال ہو یا اس کا ہم مخرج ہو۔
Ayah 26:137

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

ان ھذا الا خلق الاولین، خلقا سے مراد دین ہے : حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا۔ فراء نے کہا : پہلے لوگوں کی عادت ہے۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور کسائی نے خلق الاولین پڑھا ہے بقای نے خلق پڑھا ہے۔ ہر وی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان ھذا الا خلق الاولین کا معنی ہے ان کا اختلاف اور ان کا کذب۔ جس نے خلق الاولین پڑھا ہے تو اس کا معنی ہے ان کی عادت یہ ہے۔ عرب کہتے ہیں : حدثنا فلاں با حادیث الخلق فلاں نے ہمیں خرافات اور من گھڑت باتیں بتائیں۔ ابن اعرابی نے کہا : خلق کا معنی دین، طبع اور مروت ہے۔ نحاس نے کہا : فراء کے نزدیک خلق الاولین سے مراد پہلوئوں کی عادت ہے۔ محمد بن ولید نے محمد بن زید سے حکایت بیان کی ہے کہ خلق الاولین کا معنی ہے ان کا مذہب اور ان پر جو امر جاری ہوا۔ ابو جعفر نے کہا : دونوں قول قریب قریب ہیں۔ اس معنی میں نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے : اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا (1) مومنوں میں سے سب سے کامل وہ ہے جو ان میں سے مذہب، عادت اور اللہ تعالیٰ کی طاعت میں جوان کا معمول ہوتا ہے اس میں اچھا ہو۔ یہ جائز نہیں جو حسن خلق کا مالک ہو وہ فاجر ہو اور نہ یہ جائز ہے کہ برے اخلاق والا کامل ایمان والا ہو اگرچہ وہ فاجر نہ ہو۔ ابو جعفر نے کہا : ہمارے سامنے محمد بن یزید سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ خلق الاولین کا معنی ان کا جھٹلانا اور اندازہ لگانا ہے مگر وہ پہلی قرأت کی طرف مائل تھے، کیونکہ اس میں ان کے آباء کی مدح تھی۔ قرآن حکیم میں جوان کی صفت آئی ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے آباء کی مدح کرتے تھے۔ ان کا قول : ” انا واجدنا اباء نا علی امۃ “ ( زحرف : 23) ابو قلابہ سے مروی ہے انہوں نے خلق خاء کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہ، لق کی تخفیف ہے : اسے ابن جبیر نے اصحاب نافع سے اور وہ حضرت نافع سے روایت نقل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خلق الاولین کا معنی ہے پہلوں کا دین۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فلیغرن خلق اللہ “ (النسائ : 119) خلق اللہ سے مراد اللہ کا دین۔ خلق الاولین پہلے لوگوں کی عادت : زندگی پھر موت اور اس کے بعد کوئی اٹھانا نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ چیز یعنی عمارتیں بنانا اور قوت جس کا تو نے انکار کیا ہے نہیں ہے مگر ہمارے پہلوں کی عادت، ہم ان کی اقتدار کرتے ہیں۔
Ayahs 26:138–140

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

وما نحن بمعذبین جو ہم کیا کرتے تھے اس پر ہمیں عذاب نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے خلق اجسام الاولین یعنی ہماری پیدائش نہیں ہے مگر پہلوں کی پیدائش کی طرح جو ہم سے قبل پیدا کیے گئے وہ مر گئے اور جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس میں سے کوئی چیز ان پر نازل نہ ہوئی۔ فکذبوہ فاھلکنھم ہم نے انہیں ریح صرصر سے ہلاک کردیا وہ سرکش تھی جس طرح سورة حاقہ میں آئے گا۔ ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ “ بعض نے کہا : ان پر تین لاکھ اور چند سو ایمان لائے اور باقی ماندہ ہلاک ہوگئے۔ 1 ؎؎۔ جامع ترمذی، بابنی الرضاع، باب ما جاء لحق المراۃ علی زوجھا، جلد 1، صفحہ 138، ایضاً ، حدیث نمبر 1082، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ اس کی بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:141–143

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

اور قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

(کذبت ثمود المرسلین۔۔۔۔۔۔ ) اتثر کون فی ماھھنا امنین یعنی دنیا میں موت اور عذاب سے امن میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ بڑے معمر لوگ تھے عمارات ان کی عمروں کے ساتھ باقی نہیں رہتی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے واستعمر کم فیھا (ہود : 61) حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں شرمندہ کیا اور فرمایا : کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم دنیا میں موت کے بغیر باقی رہو گے۔ فی جنت وعیون۔ وزروع ونخل طلعھا ھضیم زمخشری نے کہا : اگر تو کہے جنت کے بعد نخل کیوں فرمایا جب کہ جنات کھجور کے درختوں کو پہلے شامل ہوتا ہے جس طرح نعم کا لفظ اونٹوں کو شامل ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت کا لفظ ذکر کرتے ہیں اور وہ کھجور کے درخت مراد لیتے ہیں جس طرح وہ نعم کا ذکر کرتے ہیں اور اس سے صرف اونٹ ہی مراد لیتے ہیں۔ زہیر نے کہا : کان عینی فی غربی مقتلۃ من النواضع تسقی جنۃ سحقا گویا میری دونوں آنکھیں سیراب کرنے والی اونٹنی کے بڑے ڈول میں آنسو گرا رہی ہیں جو کھجور کے لمبے لمبے درختوں کو سیراب کر رہی ہے۔ یہاں بھی جنت سے مراد کھجور کا باغ ہے۔ نخلۃ سحوق سے مراد لمبی کھجوریں ہیں۔ میں کہتا ہوں : اس میں دو وجود ہیں (1) پہلے کھجور کے درخت تمام درختوں کے ضمن میں داخل ہوئے بعد میں کھجور کے درختوں کو انفرادی طور پر یہ شامل ہوا اس کی فضلیت کو ظاہر کرنے کے لیے (2) جنات سے دوسرے درخت مراد لیے جائیں کیونکہ یہ لفظ ان سب کی صلاحیت رکھتا ہے پھر اس پر نخل کا لفظ معطوف کیا۔ طلعۃ سے مراد ہے جو کھجور سے پھوٹتا ہے جس طرح تلوارکا پھل ہوتا ہے اس کے اندر گچھے کی شاخیں ہوتی ہیں۔ قنو تنے سے نکلنے والی چیز کو کہتے ہیں جس طرح اس کی موٹی اور باریک شاخیں ہوتی ہیں۔ حضیم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب تک وہ غلاف میں ہوتا ہے وہ لطیف و نرم ہوتا ہے ھضیم سے مراد لطیف اور باریک ہے۔ اسی معنی میں امراء القیس کا مصرعہ ہے : علی ھضیم الکشح ریا المخلخل پتلے پہلو پر اس حال میں جو خوبصورت ہے اور پازیب کی جگہ۔ جوہری نے کہا : خوشے کو اس وقت تک ھضیم کہا جاتا ہے جب تک وہ اپنے غلاف سے باہر نے آئے، کیونکہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہوتا ہے۔ اور عورتوں میں سے ھضیم اسے کہتے ہیں جو نرم پہلوئوں والی ہو پتلی کمر والی۔ اسی کی مثل ہر وی نے بیان کیا ہے اس نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جو اپنے غلاف میں ایک دوسرے سے پیوست ہوا بھی وہ ظاہر نہ ہو۔ اس سے رجل ھضیم الجنین ہے جس کے پہلو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں، یہ اہل لغت کا قول ہے۔ ماوردی اور دوسرے علماء نے اس بارے میں بارہ قول کیے ہیں (1) تر اور نرم کھجور، یہ عکرمہ کا قول ہے (2) تر کھجوروں میں سے جس کا ایک سرا رنگ بدل چکاہو : یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو اسحاق نے یزید سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد ابن ابی زیاد کونی اور یزید بن ابی مریم شامی ہے ونخل طلعھا ھضیم کہا ان میں سے جو پک چکی ہوں اور ان میں سے کچھ کے سرے رنگ بدل چکے ہوں (3) اس میں گٹھلی نہ ہو، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (4) جو ٹوٹ جاتی ہو جب اسے مس کیا جائے تو ریزہ ریزہ ہوجائے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جو منہ میں جاتے ہی ریزہ ریزہ ہوجائے (5) اس سے مراد ہے جو ایک دوسرے پر چڑھنے کی وجہ سے پتلی رہ گئی ہو : یہ ضحاک اور مقاتل کا قول ہے (6) جن میں سے بعض بعض سے چمٹی ہوئی ہوں، یہ ابو صخر کا قول ہے (7) جب وہ الگ الگ اور سبز ہو اس وقت طلع ہوتی ہے : یہ بھی ضحاک کا قول ہے (8) جو صحیح پک چکی ہو : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (9) جو غلاف کے پھٹنے سے پہلے جمع ہو : اسے ابن شجرہ نے روایت کیا ہے : شاعر نے کہا : کان حمولۃ تجلی علیہ ھضیم ما یحس لہ شقوق (10) اس سے مراد نرم ہے : یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے (11) اس سے مراد نرم و لطیف ہے جو سب سے پہلے نکلتا ہے وہی طلع نضید ہے : یہ ہر وی نے کہا ہے (12) یہ برنی ہے : یہ ابن اعرابی نے کہا۔ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے یہ مبارک اور خوشگوار ہے کیونکہ یہ ایسا کھانا ہے جو ہضم ہوجاتا ہے طلع یہ طلوع سے اسم مشتق ہے جس کا معنی ظہور ہے اس معنی میں سورج، چاند اور نباتات کا طلوع ہے یعنی ظہورہے۔ و تنحتون من الجبال بیوتا فرھین، نحت کا معنی چھیلنا ہے نحتہ یتحتہ نحتا جب اسے چھیلا نحاتۃ برادیۃ، منحت جن کے ساتھ چھیلا جاتا ہے سورة صفات میں ہے : اتعبدون ما تنحتون۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے کیونکہ ان کی عمریں طویل ہوتیں اور مٹی سے جو گھر وہ بناتے تھے وہ گر جاتے تھے۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور نافع نے فرھین الف کے بغیر پڑھا ہے۔ باقی قراء نے فارھین الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبیدہ اور دوسرے علماء کے نزدیک دونوں کا معنی ایک ہے۔ جس طرح عظا ما نخرۃ اور ناخرۃ کا معنی ایک ہی ہے، قطرب نے اس کو بیان کیا ہے۔ فرہ یفرہ فھوفارہ وفرہ یفرہ فھو فرہ و فارہ جب وہ چشت ہو۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ دونوں کے درمیان ایک جماعت نے فرق بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا : فارھین سے مراد ہے وہ ان کو تراشے میں ماہر تھے : یہ ابو عبیدہ کا قول ہے، حضرت ابن عباس ؓ، ابو صالح اور دوسرے علماء سے یہ مروی ہے۔ عبد اللہ بن شداد نے کہا : فارھین کا معنی ہے متجیر۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے۔ فرھین کا معنی ہے اترانے والے : یہ قول مجاہد نے بھی کیا ہے۔ ان سے شرھین بھی مروی ہے یعنی حد درجہ ( 1) ضحاک نے کہا : عقل مند۔ قتادہ نے کہا : اپنے اعمال پر خوش ہونے والے : یہی قول کلبی نے کیا ان سے ناعمین بھی مروی ہے یعنی نرم و نازک ان سے آمنین بھی مروی ہے، یہی حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے متخیرین، ذخیرہ کرنے والے : یہ کلبی اور سدی کا قول ہے۔ اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : الی فرہ یماجد کل امر قصدت لہ لا ختبر الطاعا مال ذخیرہ کرنے والے کی طرف جواہر امر میں بزرگی میں مقابلہ کرتا ہے میں نے اس کا قصد کیا تاکہ طباع کو آزمائوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی متعجب ہے : یہ خصیف نے قول کیا ہے۔ ابن زید نے کہا : قول۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 240 فرھین کا معنی خوش ہے : یہ اخفش کا قول ہے۔ عرب ولد اور حا ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ تو کہتام ہے : مدھتہ، مدحتہ، الغرہ کا معنی خوش ہونے والا پھر فرح کا معنی مرح ( متکبر) مذموم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ج “ (الاسرار : 37) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ان اللہ لا یحب الفرحین۔ “ (القصص)
Ayahs 26:144–152

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا جو چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

(یعنی) باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف و نازک ہوتے ہیں

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو خدا سے ڈرو اور میرے کہے پر چلو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

فاتقوا اللہ واطیعون۔ ولا تطیعوا امر المسرفین “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد نوافر اد ہیں جو زمین میں فساد برپا کرتے رہے اور اصلاح احوال نہ کرتے۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : تیری قوم تیری اونٹنی کی کونچیں کاٹے گی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو افراد سے یہ بات کی۔ انہوں نے کہا : ہم ایسا کام کرنے والے نہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اس ماہ میں تمہارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹے گا اور تمہاری ہلاکت اس کے ہاتھ پر ہوگی۔ انہوں نے کہا : اس ماہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوگا ہم اسے قتل کردیں گے۔ اس ماہ میں ان کے ہاں نو بچے پیدا ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو ذبح کردیا پھر دسویں کے ہاں بچہ پیدا ہوا اس نے اپنا بیٹا ذبح کرنے سے انکار کردیا اس کے ہاں پہلے بچہ پیدا نہ ہوا تھا دسویں کا بیٹا سرخ رنگ والا اور نیلی آنکھوں والا تھا۔ وہ تیزی سے بڑا ہوا جب وہ بچہ ان نو افراد کے پاس سے گزرتا وہ اس کو دیکھتے تو کہتے، اگر ہمارے بیٹے زندہ ہوتے تو وہ اس کی مثل ہوتے۔ وہ نو افراد حضرت صالح (علیہ السلام) پر ناراض ہوگئے۔ کیونکہ حضرت صالح (علیہ السلام) ہی انکے بیٹوں کے قتل کا سبب بنے تھے انہوں نے عصبیت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اٹھائیں کہ ہم رات کے وقت ان کو اور ان کے اہل کے افراد کو قتل کردیں گے۔ انہوں نے کہا : ہم سفر پر نکلتے ہیں لوگ ہمارے سفر پر جانے کو دیکھیں گے تو ہم ایک غار میں چھپ جائیں گے یہاں تک کہ جب رات ہوگی اور حضرت صالح (علیہ السلام) مسجد کی طرف نکلیں گے تو ہم انہیں قتل کردیں گے پھر ہم کہیں گے : ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے بیشک ہم سچے ہیں۔ وہ ہماری تصدیق کریں گے اور وہ جانتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے ساتھ بستی میں نہیں سوتے تھے وہ اپنی مسجد میں آرام کیا کرتے تھے۔ جب صبح ہوتی تو ان کے پاس آتے اور انہیں نصیحت کرتے جب وہ غار میں داخل ہوئے پھر ارادہ کیا کہ وہ باہر نکلیں تو غار ان پر گر پڑی اور ان سب کو قتل کردیا وہ لوگ جو اس امر پر مطلع تھے انہوں نے یہ دیکھا وہ بستی میں شور مچانے لگے اے اللہ کے بندو ! کیا حضرت صالح ان کے بچوں کو قتل پر راضی نہ ہوئے تھے کہ انہیں بھی قتل کردیا۔ بستی کے لوگوں نے اونٹنی کو قتل کرنے پر اتفاق کرلیا۔ ابن اسحاق نے کہا : اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں جو سب و شتم کیا اور انہیں عذاب سے ڈرایا تو نو افراد اکٹھے ہوئے۔ جس کی وضاحت سورة نمل میں انشاء اللہ آئے گی۔
Ayahs 26:153–159

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم اور کچھ نہیں ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

(صالح نے) کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا : فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی ہے کہ ہم کس حال میں ہیں بیشک ہم چڑیاں ہیں جو ان جانداروں سے ہیں جن کو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ امراء القیس نے کہا : نسحر بالطعام وبالشراب ہم کو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ فات بایۃ ان کنت من الصدقین کوئی نشان لے آئیں اگر آپ سچے ہیں۔ قال ھذہ ناقۃ لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہوں نے کہا اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے جو اس پہاڑ سے سرخ اونٹنی نکالے جو دس کی گابھن ہو وہ بچہ جنے جب کہ ہم دیکھ رہے ہوں، وہ اس پانی پر واردہو وہ پانی پئے اور اگلے روز اتنا ہی دودھ ہمیں دے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کرلیا۔ آپ نے فرمایا : ھذہ ناقۃ لھا شرب یہ اونٹنی ہے پانی میں اس کا حصہ ہے ایک روز تمہاری پانی کی باری ہے اور ایک روز اس کی باری ہے جس روز اونٹنی کے پانی پینے کی باری ہوتی تو وہ سارا پانی پہلے پہر پی جاتی اور دن کے پچھلے پہرا نہیں اتنا ہی دودھ دیتی جب ان کی باری ہوتی تو وہ پانی ان کے لیے اپنے لیے، ان کے چوپائوں کے لیے اور ان کی زمین کے لیے ہوتا۔ جس روز اونٹنی کی باری ہوتی تو اس میں سے کوئی پانی نہ پی سکتے اور جس دن ان کی باری ہوتی اونٹنی اس میں پانی نہ پیتی۔ فراء نے کہا : شرب سے مراد پانی کا حصہ ہے۔ نحاس نے کہا : جہاں تک مصدر کا تعلق ہے تو اس کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ شرب شربا و شرباو شربا۔ مصدر اکثر مضموم ہوتا ہے کیونکہ مک سورة اور مفتوحہ کسی اور چیز کے ساتھ شریک ہوتے ہیں تو شرب پانی کا حصہ کو کہتے ہیں۔ شرب یہ شارب کی جمع ہے۔ جس طرح شاعر نے کہا : فقلت للشرب فی درنا وثملوا میں نے درنا ( جگہ) میں پینے والوں سے کہا جب کہ وہ مست ہوچکے تھے۔ محل استدلال الشرب ہے۔ مگر ابو عمرو بن علاء اور کسائی شرب فتحہ کے ساتھ مصدر میں پسند کرتے ہیں۔ اور بعض علماء کی روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انھا ایام اکل و شرب یہ کھانے پینے کے ایام ہیں (1) ۔ ولا تمسوھا بسوء یہاں تضعیف کا اظہار جائز نہیں کیونکہ یہ دونوں ایک جنس سے متحرک حروف ہیں۔ فیاخذ کم یہ نہی کا جواب ہے اس میں سہ فاء کا حذف جائز نہیں جس میں جزم جائز نہیں جس طرح امر میں ہوتی ہے مگر کسائی سے مروی ہے کہ وہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔ 1 ؎۔ سنن دارقطنی، باب فی الصوم، باب قبلۃ الصائم، جلد 2 ص 187، دارالمحاسن۔ فعقر وھافا صبحوا ندمین جب انہیں عذاب کا یقین ہوگیا تو اس کی کونچیں کاٹنے پر شرمندہ ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں تین دن کی مہلت دی تو ان پر ہر روز علامت ظاہر ہوتی انہوں نے شرمندگی کا اظہار کیا اور عذاب کے معاینہ کے وقت شرمندگی نے انہیں کوئی نفع نہ دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا، شرمندگی نے انہیں کوئی نفع نہ دیا کیونکہ انہوں نے توبہ نہ کی بلکہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو تلاش کیا تاکہ انہیں قتل کریں جب انہوں نے عذاب کو دیکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی ندامت اس بچے کے چھوڑنے پر تھی کیونکہ انہوں نے اس بچے کو دوسروں کے ساتھ قتل نہ کیا تھا۔ یہ قول حقیقت سے بعید ہے۔ ان فی ذلک لایۃ آخر تک کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : ان لوگوں میں دو ہزار اور آٹھ سو افراد مردوں اور عورتوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ چار ہزار تھے۔ کعب نے کہا : حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم بارہ ہزار قبیلے تھے اور یہ قبیلہ عورتوں اور بچوں کے علاوہ بارہ ہزار افراد پر مشتمل تھا قوم عاد ان سے چھ گناہ بڑی تھی۔