Ayahs 26:90–99(وازلفت الجنۃ للمتقین۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی صفۃ الجنۃ، جلد 2 ص 380
وازلغت الجتۃ للمتقین یعنی جنت قریب کردی گئی تاکہ وہ اس میں داخل ہوں۔ زجاج نے کہا : ان کا اس میں داخل ہونا قریب ہوگیا۔ وبزرب الجحیم اور جہنم ظاہر کردی گئی للغوین ان کافروں کے لیے ہے جو ہدایت سے گمراہ ہوئے، یعنی جہنم جہنمیوں کے لیے ان کے دخل ہونے سے پہلے ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ وہ خوف اور حزن محسوس کریں گے جس طرح جتنی محسوس کریں گے کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
وقیل لھم ایتما کنتم تعبدون۔ من دون اللہ، من دون اللہ سے مراد بہت اور شریک ہیں۔ ھل ینصرونکم کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے تمہاری مدد کریں گے۔ او ینتصرون یا اپنے لیے انتقام لے سکتے ہیں، یہ سب تو بیخ کے طریقہ پر ہے۔ فلبکموا فیھا انہیں جہنم میں ان کے سروں کے بل گرا دیا جائے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان میں سے بعض کو بعض پر پھینتک دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں جمع کیا جائے گا۔ یہ کبکبہ سے مآخوذ ہے جس سے مراد جماعت ہے، یہ ہر وی کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ کواکب الشئی سے مشتق ہے جس کا معنی اس کا بڑا حصہ ہے۔ گھوڑوں کی جماعت کو کو کب اور کیکبہ کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہیں جمع کیا گیا اور جہنم میں پھینک دیا گیا۔ مجاہد نے کہا : انہیں گڑھے میں پھینکا گیا۔ مقاتل نے کہا : انہیں پھینکا گیا معنی ایک ہی ہے تو کہتا ہے : دھورت الثیء جب تو اسے جمع کرے پھر اسے گڑھے میں پھینک دے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھوید ھور القم وہ لقمے کو گھماتا ہے یہ صورت اس وقت ہوتی ہے جب وہ لقمے کو بڑا کرے۔ دعا میں یہ جملہ بولا جاتا ہے : کتب اللہ عدو المسلمین، اکبہ نہیں کہا جاتا کبکیہ یعنی اسے منہ کے بل گرایا اور اسے لٹ دیا۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فلیکموا فیھا اصل کبیوا تھا درمیانی باء کو ثقل کی وجہ سے کاف میں بدل دیا کیونکہ تین باء جمع ہوگئے تھے۔ سدی نے کہا : کیکبوا میں ضمیر مشرکین عرب کے لیے ہے : والغاون مراد معبود ہیں۔ وجمود ابلیس جو اس کی ذریت میں سے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس نے اسے بتوں کی عبادت کی دعوت دی تو اس نے اس کی پیروی کی۔ قتادہ، کلبی اور مقاتل نے کہا : الغاون سے مراد شیاطین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جب آگ میں پھینکے جائیں گے، وہ لوہے اور تانبے کے ہوں گے تاکہ ان کے ساتھ غیروں کو عذاب دیا جائے۔ قالو اوھم فیھا یختصمون وہ اس جھگڑ رہے ہوں گے مراد انسان، شیاطین، گمراہ اور معبود باطلہ۔ تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائیں گے ہم خسارہ، ہلاکت اور حق سے واضح حیرت میں تھے جب ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود بنا لیے تو ہم نے ان کی عبادت کی جس طرح ان کی عبادت کی جاتی تھی۔ یہی اس اشارد کا معنی ہے۔ اذ تسویکم برب العٰلمین یعنی ہم تمہیں عبادت میں رب العالمین کے ساتھ برابر کرنے والے ہیں اب تم نہ ہماری مدد کی طاقت رکھتے ہو اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ وما اصلنا الا المجرمون مجرموں سے مراد شیاطین ہیں جنہوں نے ہمارے لیے بتوں کو مزین کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مرادہمارے اسلاف ہیں جن کی ہم نے تقلید کی۔ ابو العالیہ اور عکرمہ نے کہا : مجرمون سے مراد ابلیس اور حضرت آدم (علیہ السلام) کا وہ بیٹا جس نے قتل کیا تھا دونوں وہ پہلے افراد ہیں جنہوں نے کفر، قتل اور مختلف قسم کے معاصی کی سنت قائم کی۔
Ayahs 26:100–104فما لنا من شافعین ہمارے کوئی شفیع نہیں فرشتوں میں سے انبیاء میں سے اور مومنوں میں سے۔ ولا صدیق حیم اور نہ کوئی مشفق دوست ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ کہا کرتے تھے : بھلائیوں کو لازم پکڑو کیونکہ وہ دنیا و آخرت کا سامان ہیں کیا تو جہنمیوں کا قول نہیں سنتا۔ فما لنا من شافعین۔ ولا صدیق حمیم۔ زمحشری نے کہا : شافع کی جمع ذکر کی کیونکہ شفاعت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور صدیق کو واحد ذکر کیا کیونکہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ انسان جب ظالم کے ظلم کا شکارہو تو اس کے شہر کی بڑی جماعت اس کی سفارش کے لیے جاتی ہے مقصد اس پر رحم و شفقت کا اظہارہوتا ہے اگرچہ اکثر کو پہلے اس کی پہچان تک نہ ہو جہاں تک صدیق کا تعلق ہے وہ ہوتا ہے جو تیری محبت میں سچا ہوتا ہے اسے وہ چیز غمگین کرتی ہے جو تجھے غمگین کرتی ہے۔
ایک حکیم سے مروی ہے اس سے صدیق کا معنی پوچھا گیا ہے۔ اس نے کہا : یہ ایسا اسم ہے جس کا کوئی معنی نہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ صدیق سے مراد جمع اور قریبی اور خاص حمایت ہو، اسی سے حامۃ الرجل ہے یعنی اس کے قریبی۔ اس کی اصل حمیم ہے اس سے مراد گرم پانی ہے اسی سے حمام اور حتی ہے حامۃ الرجل سے مراد وہ لوگ ہیں انہیں وہ جلائے جو اسے جلائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ یحزنھم ما یحزنہ، یعنی انہیں وہ چیز غمگین کرتی ہے جو اسے غمگین کرتی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : حم الشئی واحم جب وہ قریب ہوجائے۔ اسی سے حمی ہے کیونکہ یہ موت کے قریب کردیتا ہے۔ علی بن عیسیٰ نے کہا : قریبی کو حمیم کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے غصہ کی وجہ سے حمیت کا مظاہرہ کرتا ہے، اسے حمیت سے ماخوذ مانا ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز صدیق کی محبت اور حمیم کی رقت ختم کر دے گا۔ لا صدیق حمیم مرفوع پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ اس کا عطف من شافعین کے محل پر ہے کیونکہ من شافعین کا محل رفع ہے۔ صدیق کی جمع اصدقاء، صدقاء اور صداق ہے صدق نہیں کہا جاتا تاکہ نعت اور غیر میں فرق کیا جائے۔ کو فیوں نے کہا : اس کی جمع صدقان بھی آتی ہے۔ نحاس نے کہا : یہ بعید ہے کیونکہ یہ ایسی جمع ہے جو نعت نہیں۔ جس طرح ررغیف کی جمع رغفان آتی ہے۔ انہوں نے صدیق کی جمع اصادق بیان کی ہے۔ افاعل یہ فعل کی جمع ہے جب وہ نعت نہ ہو۔ جس طرح اشجع کی جمع اشاجع آتی ہے۔ صدیق کا لفظ واحد، جمع اور عورت کے لیے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا :
نعبن الھواء ثم ارتمین قلوبنا باعین اعداء ومن صدیق
محل استدلال ھن صدیق ہے۔ من جمع مونث کی ضمیر ہے۔
یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان صدیقی، فلاں میرا خاص دوست ہے۔ مدح کے لیے تصغیر بنائی ہے۔ جس طرح حباب بن منذر کا قول ہے : انا جذیلھا المحک و عذیقھا المرجب محل استدلال جچذیل اور عذیق ہے۔ جوہری نے اس کو ذکر کیا ہے۔ نحاس نے کہا : حمیم کی جمع احماء اور احمۃ ہے تضعیف کے لیے افلاء کے وزن کو مکروہ جانا ہے۔
فلو ان لنا کرۃ، ان محل رفع میں ہے اگر ہمارا دنیا کی طرف لوٹنا ہوتا تو ہم ایمان لاتے یہاں تک کہ ہمارے بھی شفیع ہوتے۔ انہوں نے اس وقت تمنا کی جب تمنا کوئی نفع نہیں دے گی۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کی جب فرشتوں اور مومنوں نے شفاعت کی۔ حضرت جابر بن عبد اللہ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے کہا : ’ ’ انسان جنت میں کہے گا جہنم میں فلاں اور اس کا دوست کا کیا معاملہ ہے وہ لگا تار اس کی سفارش کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اس کی سفارش قبول کرلے گا۔ جب وہ نجات پا جائے گا تو مشرک کہیں گے۔ فمالنا من شافعین۔ ولا صدیق حمیم۔
حضرت حسن بصری نے کہا : کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کے ذکر پر جمع نہیں ہوتی جن میں کوئی جنتی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سب میں اس کی شفاعت قبول کرلیتا ہے اہل ایمان ایک دوسرے کی شفاعت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ کعب نے کہا : وہ آدمی دنیا میں دوست تھے ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے پاس گزرے گا جب کہ اسے جہنم کی طرف کھینچا جا رہا ہوگا، اس کا بھائی اسے کہے گا : اللہ کی قسم ! میری صرف ایک نیکی رہ گئی ہے جس کے ساتھ میں نجات پا سکتا ہوں تو وہ نیکی لے لے، اے میرے بھائی ! میرا خیال ہے تو اس کے ساتھ ( جہنم سے) نجات پائے جائے گا، پھر میں اور تو اصحاب اعراف میں رہیں گے۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں کے بارے میں حکم دے گا تو وہ دونوں جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرھم مومنین۔ وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ اس بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔
Ayahs 26:105–110(کذبت قوم نوح المرسلین۔۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت فرمایا جب کہ قوم مذکر ہے کیونکہ مراد ہے کذبت جماعۃ قوم نوح۔ المرسلین فرمایا کیونکہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا اس نے تمام رسل کو جھٹلایا کیونکہ ہر رسول تمام رسولوں کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور ان کے بعد رسولوں کے آنے کی جو خبردی اس کو جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنس کا ذکر کیا مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں سورة فرقان میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
اذقال لھم احواھم نوح ان کے جداعلیٰ کے بیٹے، وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مجانست کی اخوت تھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْط فَیُضِلُّ اللہ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُط وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ “ (ابراہیم) سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عربوں کے قول سے ہے یا اخابنی تمیم وہ ان میں سے ایک فرد مراد لیتے۔ اسی معنی میں حماسہ کا شعر ہے :
لا یسالون اخاھم حین یندبھم فی النائبات علی ما قال برھانا
ان کا بھائی مصیبتوں میں جب انہیں مدد کے لیے بلاتا ہے تو اس سے کسی دلیل کا سوال نہیں کرتے۔
الا تتقون وہ بتوں کی عبادت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے۔ انی لکم رسول امین پس اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہیں جو پیغام حق سنا رہا ہوں اس میں سچا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے درمیان امین ہوں، کیونکہ اس سے قبل وہ آپ کی امانت اور صدق کو جانتے تھے، جس طرح قریش میں حضور ﷺ کی ذات تھی۔
فاتقوا اللہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اس کے عقاب سے پردہ بنا دو ۔ واطعیون میں تمہیں ایمان کا جو حکم دیتا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔ وما اسلکم علیہ من اجر میرا تم میں کوئی طمع نہیں۔ ان اجری الا علی رب العٰلمین میری جزا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔ فاتقوا اللہ واطیعون تاکید کے لیے کلام کو مکر رذکر کیا۔
Ayahs 26:111–122قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور جمع کے لیے آتا ہے۔ شاعر نے کہا :
لہ تبع قد یعلم الناس انہ علی من یدانی صیف وربیع
محل استدلال لہ تبع ہے یعنی اس کے پیروکار ہیں۔
اتباعک پر رفع مبتداء ہونے کی وجہ سے جائز ہے الا رذلون خبر ہے تقدیرکلام یہ ہوگی انومن لک وانما اتباع الارذلون یہ بھی جائز ہے، انومن، لک کی ضمیر پر معطوف ہو تقدیر کلام یہ ہوگی انومن لک نحن واتباعک انا رذلون فنعد منھم، لک کے ساتھ فصل بہت اچھا ہے، سورة ٔ سود میں اراذل کے بارے میں گفتگو ہوچکی ہے ہم یہاں مزید وضاحت کرتے ہیں اور یہ مسئلہ ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو لوگ ان پر ایمان لائے وہ ان کے بیٹے، گھر کی عورتیں اور ان کے پوتے تھے اس میں اختلاف ہے کہ کیا ان کے ساتھ کوئی اور تھا یا نہیں تھا کوئی بھی صورت ہو وہ سب صالح تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی : ذنخق ومن معی من المومنین جو آپ کے ساتھ تھے، وہی آپ کے پیروکار تھے کافروں کے قول سے نہ انہیں شین لا حق ہوا اور نہ ہی مذمت لاحق ہوئی بلکہ ارذل ہی ان کی تکذیب کرنے والے تھے۔ سہیلی نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں جو قول روایت کیا گیا ہے اس سے بہت سے عوام نے دھوکہ کھایا ہے وہ قول یہ ہے : وہ بافندے اور حجام تھے، اگر وہ بافندے تھے جس طرح انہوں نے گمان کیا تو ان کا نبی پر ایمان اور اس کی اتباع انہیں شرف عطاء کرنے والا تھا جس طرح حضرت بلال ؓ اور حضرت سلیمان فارسی اسلام کی طرف سبقت لے جانے سے مشرف ہوئے۔ یہ دونوں نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابہ میں سے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد بافندے اور حجام نہ تھے اور کافروں کا بافندوں اور حجاموں کے بارے میں اگر وہ ایمان لائے کہ یہ ارزل ہیں اس طرح کی مذمت کو لا حق نہیں کرتا جس طرح آج یہ لفظ مذمت کو لاحق کرتا ہے کیونکہ یہ تو کافروں کے قول کی حکایت ہے مگر اس صورت میں کہ کافروں کی حجت اور ان کے قول کو اصول قرار دیا جائے یہ عظیم جہالت ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے آگاہ کیا ہے کہ صنعتیں دین میں کوئی نقصان دینے والی نہیں۔
قال وما علیی بما کانو یعلمون کان زائد ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی وماعلیی بما یعملون یعنی مجھے ان کے اعمال کے علم کا مکلف نہیں بنایا گیا مجھے تو اس امر کا مکلف بنایا گیا ہے کہ میں انہیں ایمان کی دعوت دوں اعتبار ایمان کا ہے حرفوں اور صنعتوں کا نہیں۔ گویا انہوں نے کہا : ان کمزور لوگوں نے عزت اور مال کی طمع میں آپ کی اتباع کی۔ فرمایا : میں ان کے امر کے باطن پر واقف نہیں میرے سپرد تو ان کو ظاہر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے گا اور تمہیں گمراہ کرے گا ان کی رہنمائی کرے گا اور تمہیں راہ راست سے بھٹکا دے گا انہیں توفیق دے گا اور تمہیں بےیارومدد گار چھوڑے گا۔
ان حسابھم الا علی ربی لوتشعرون ان کے اعمال اور ایمان کا حساب میرے رب کے ذمہ ہے۔ لوکا جواب محذوف ہے الا علی ربی لو تشعرون۔ لو کا جواب مخذوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی لو شعرتم ان حسابھم علی ربھم لما عبتمو ھم بعضائھم عام قرأت تشعرون تاء کے ساتھ مخاطب کا صیغہ ہے، کفار کو خطاب ہے یہی ظاہر ہے۔ ابن ابی عبلہ اور محمد بن سمیقع نے لویشعرون قرأت کی ہے گویا کفار کے بارے میں خبر ہے اور خطاب کو ان سے ترک کیا گیا ہے جس طرح یہ ارشاد ہے : ھُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط (یونس : 22) یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ ایک آدمی نے سفیان سے پوچھا : جس نے بدکاری کی ہے اور اپنے بچے کو قتل کردیا جب کہ وہ مسلمان ہے کہ کیا اس کی آگ کا فیصلہ کیا جائے گا ؟ فرمایا : ان حسابھم الا علی ربی لو تشعرون۔
وما انا بطارد المومنین ان کے احوال اور اشغال کی خفت کی وجہ سے میں انہیں دھتکارنے والا نہیں گویا انہوں نے بھی ضعفاء کو دھتکارنے کا مطالبہ کیا جس طرح قریش نے ان سے مطالبہ کیا تھا۔
ان انا الا نذیر مبین یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے فقراء کو چھوڑ کر صرف اغنیاء کے لیے معبوث نہیں کیا۔ میں تو رسول ہوں میں تمہیں پیغام حق سناتا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے جس نے میری اطاعت کی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سعادت مند ہے اگرچہ وہ فقیر ہو۔
قالو لئن لم تنتہ یتوح اے نوح ! اگر تم ہمارے معبودوں کو سب و شتم کرنے اور ہمارے دین میں عیب لگانے سے نہ رکا۔ لتکونن من المرجومین تم کو پتھروں سے جم کردیا جائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا : تو مقتولوں میں سے ہوجائے گا۔ ثمالی نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی مرحومین کا لفظ آیا ہے اس سے مراد قتل ہے مگر سورة مریم میں لئن لم تنتہ الا رجمنک (مریم : 46) میں تجھے سب و شتم کروں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تو سب وشتم کیے جانے والوں میں ہوگا : یہ سدی کا قول ہے۔ اس معنی میں ابو دائود کا قول ہے۔
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنِ ۔ فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ یہ اس وقت بات کی جب آپ ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے۔ فتح کا معنی حکم ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ۔ اس سے مراد کشتی ہے اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ مشحون سے مراد بھری ہوئی۔ شحن سے مراد کشتی کا لوگوں اور جانوروں سے بھر جانا۔ یہاں فلک مونث نہیں کیونکہ یہاں فلک واحد ہے جمع نہیں۔ ثم اعرقنا بعد البقین بعد اس کے کہ ہم نے نوح اور جو ایمان لائے ان کو نجات دی۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ یہ بچث گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:123–129( کذبت عاد المرسلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
کذبت عاد المرسلین ثانیث قبیلہ اور جماعت کے معنی کی وجہ سے ہے۔ وہ مرسلین کو جھٹلاتے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔
اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ ہُوْدٌ اَ لَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ معنی واضح ہے بحث گزر چکی ہے۔
اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ ربع سے مراد وہ چیز ہے جو زمین سے بلند ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : یہ ریعۃ کی جمع ہے کا ریع ارضک تیری زمین کی بلندی کتنی ہے۔ قتادہ نے کہا : ربع سے مراد راستہ ہے : یہ ضحاک، کلبی، مقاتل اور سدی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہ قول ہے اس معنی میں مسیب بن علس کا قول ہے۔
فی الال یخفضھا ویرفعھا ریع یلوح کا نہ سحل (1)
رستہ کو سفید کپڑے سے تشبیہ دی۔ نحاس نے کہا : لغت میں معروف ہے زمین سے جب کوئی چیز بلند ہو تو اسے ربع کہتے ہیں۔ اسی معنی میں شاعر کا شعر ہے :
طراق الخوافی مشرق فوق ریعۃ ندی لیلہ نی ریشہ یترقرق
عمارہ نے کہا : ریع سے مراد پہاڑ سے واحد ریعۃ ہے جمع ریاع آتی ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد دو پہاڑوں کے درمیان کھلا راستہ ہے۔ انہیں سے معنی ثنیۃ صغیرہ مروی ہے۔ ان سے اس کا معنی منظرہ مروی ہے۔ عکرمہ اور مقاتل نے کہا : جب وہ سفر کرتے تو وہ ستاروں سے رہنمائی لیتے وہ راستوں پر لمبے لمبے نشان بناتے تاکہ ان سے ہدایت حاصل کریں اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان آیۃ دلالت کرتا ہے۔ اس سے مراد علالت ہے۔ مجاہد سے مروی ہے ربع سے مراد حمام کی عمارت ہے اس کی دلیل تعبتون ہے یعنی تم کہتے ہو۔ یعنی تم ہر بلند جگہ نشانی کے طور پر بناتے ہو جس کے ساتھ تم کھیلتے ہو۔ مراد حمام اور برج بنانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو آدمی راستہ سے گزرتا اس کے ساتھ کھیلتے ہو، یعنی تم بلند جگہ بناتے ہوتا کہ تم راستہ پر جھانکو اور ان سے مذاق کرو، کلبی نے کہا : اس سے مراد عاشروں ( ٹیکس لینے والے) کا گزرنے والوں کے اموال سے کھیلنا ہے : ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن اعرابی نے کہا : ربع سے مراد گرجا ہے اور ربع سے مراد حمام کا برج ہے جو صحراء میں ہوتا ہے۔ ربع سے مراد بلند ٹیلہ ہے۔ ربع میں دو لغتیں ہیں۔ راء کے نیچے کسرہ اور اس پر فتحہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مضبوط قلعے، یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے۔ اسی معنی میں شاعر کا قول ہے :
ترکنا دیارھم منھم قفارا وھدمنا المصانع والبروجا
ہم نے ان کے گھروں کو چٹیل چھوڑا اور ہم نے مصانع اور برج گرا دیئے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد مضبوط محلات ہیں : یہ مجاہد کا بھی قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : حمام کے برج : یہ سدی کا قول ہے۔
میں کہتا ہوں : مجاہد سے یہ قول حقیقت سے بعید ہے کیونکہ ان سے پہلے یہ قول گزر چکا ہے اس سے مراد حمام کی عمارت
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 238
ہے تو کلام میں تکرار ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد زمین کے نیچے پانی کے مآجل ( وہ گڑھے جن میں پانی جمع ہو) ہے اسی طرح زجاج نے کہا : اس سے مراد مصانع الماء ہے اس کا واحد مصنعۃ اور مصناع ہے۔ اسی معنی میں لبید کا قول ہے :
بینا وماتبلی النجوم الطوالع وتبقی الجبال بعدنا والمصانع
ہم بوسیدہ ہوگئے اور طلوع ہونے والے ستارے بوسیدہ نہیں ہوتے اور ہمارے بعد پہاڑ اور مصانع باقی رہتے ہیں۔
جوہری نے کہا : مصنعہ حوض کی طرح ہوتا ہے اس میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اسی طرح مصنعہ ہے مصانع کا معنی قلعے بھی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہر عمارل کو مصنع کہتے ہیں : مہدوی نے اسے بیان کیا ہے۔ عبد الرزاق نے کہا : ہمارے نزدیک یمن کی لغت میں مصانع سے مراد عادی محلات ہے۔
لعلکم تخلدون تاکہ تم ہمیشہ رہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لعل استفہام، توبیخ کے معنی میں ہے یعنی کیا تم ہمیشہ رہو گے۔ جس طرح تیرا قول ہے : لعلک تشنی کیا تو مجھے گالیاں دیتا ہے۔ ابن زید سے اس کا معنی مروی ہے۔ فراء نے کہا : تاکہ تم ہمیشہ رہو تم موت میں غور و فکر نہیں کرتے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : گویا تم اس میں ہمیشہ اور باقی رہنے والی ہو۔ بعض قرأیتوں میں ہے کا نکم تخلدون : نحاس نے اس کو ذکر کیا ہے۔ قتادہ نے حکایت بیان کی ہے : بعض قرایتوں میں کا نکم خالدون ہے۔