25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 25:1–3

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔ 1۔ 3) تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ ۔ تَبٰـرَکَ کے معنی میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا : عربی لغت میں تَبٰـرَکَ اور تقدس ایک ہی ہیں دونوں لفظ عظمت کے لیے بولے جاتے ہیں۔ زجاج نے کہا : تبارک یہ برکت سے تفاعل کا وزن ہے۔ کہا : برکت کا معنی ہے ہر خیر والے کی جانب سے کثرت۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے۔ تبارک کا معنی ہے بلند ہونا۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : تعالیٰ عطاء ہ، اس کی عطاء زیادہ اور کثیر ہوئی۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : معنی ہے اس کا انعام دائمی ہے اور ثابت ہے۔ نحاس نے کہا : لغت اور اشتقاق میں یہ ان سب سے اولیٰ ہے، یہ برک الشثیٔ سے مشتق ہے، جب وہ ثابت ہو، سی سے برک الجمل والطیر علی الماء ہے یعنی وہ ثابت رہا۔ جہاں تک پہلے قول کا تعلق ہے وہ غلط ہے کیونکہ تقدیس میں طہارت کا تصور ہوتا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تو کہا جاتا ہے تبارک اللہ، یہ نہیں کہا جاتا : اللہ متبارک، اور نہ ہی یہ کہا جاتا ہے : اللہ مبارک کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات امور توفیقی ہیں (1 ؎ قرآن اور حدیث میں جیسے ذکر آیا ہے قیامت اور اجتہاد کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا) وہی اسماء صفات ذکر کی جاسکتی ہیں جن کے بارے میں کوئی نص ہو۔ طرماح نے کہا : تبارکت لا معط لشئی منعتہ ولیس لما اعطیت یا رب مانع ” تو بڑی ہی برکتوں والا ہے جس شے کو تو روک لے وہ کوئی عطا کرنے والا نہیں اور جو تو عطا کرے اے میرے رب ! اسے کوئی روکنے والا نہیں “۔ ایک اور نے کہا : تبارکت ما تقدر یقع ولک الشکرتو بڑی ہی برکتوں والا ہے تو جو اندازہ لگاتا ہے واقع ہوجاتا ہے اور تیرے لیے شکر ہے۔ میں کہتا ہوں : بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے اسماء میں مبارک ذکر کیا ہے اور ہم نے بھی اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے، اگر اس پر اجماع واقع ہو کہ یہ اسم استعمال نہ کیا جائے تو اجماع کی وجہ سے اسے تسلیم کیا جائے گا اگر اس میں اختلاف واقع ہو تو بہت سے اسماء ایسے ہیں جن کو اسم شمار کرنے میں اختلاف ہے جس طرح دھروغیرہ۔ ہم نے وہاں اس پر متنبہ کردیا ہے۔ الحمد للہ۔ الفرقان سے مراد قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ہر نازل شدہ کتاب کا نام ہے جس طرح فرمایا : وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی وَہٰـرُوْنَ الْفُرْقَانَ (الانبیائ : 48) اس کا نام فرقان رکھنے کی دو وجہیں ہیں : (1) اس نے حق اور باطل، مومن اور کافر میں تفریق کردی ہے (2) جو حلال و حرام کے احکام مشروع کیے گئے ہیں ان کی اس میں وضاحت ہے، نقاش نے اس کی وضاحت کی ہے۔ علی عبدہ اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے لیکون للعلمین نذیرا، یکون کا اسم مضمر ہے جو ھو ضمیر ہے وہ عبدہ کی طرف لوٹ رہی ہے یہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ اس سے زیادہ قریب ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ضمیر الفرقان کی طرف لوٹے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے علی عبادہ قرأت کی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے : انذر جب وہ ڈرائے۔ سورة بقرہ کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ النذیر جو ہلاکت سے خبر در کرنے والاہو۔ جوہری نے کہا : نذیر کا معنی منذر ہے اور نذیر کا معنی انداز بھی ہے۔ العالمین سے مراد یہاں انسان اور جن ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کو ان دونوں کی طرف بھیجا گیا تھا اور آپ ﷺ ان دونوں کے لیے نذیر تھے۔ اور آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کے علاوہ کسی رسالت عام نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) طوفان کے بعد تمام انسانوں کے لئے رسول تھے کیونکہ آپ کے ذریعے مخلوق کا آغاز ہوا۔ الذی لہ ملک السموات والارض اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کو بیان فرمایا ولم یتخذو لدا اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کی ان چیزوں سے، جو مشرکوں نے کہا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی اولاد ہیں، یعنی اللہ سبحانہٗ کی بیٹیاں ہیں اور ان چیزوں سے بھی پاکی بیان کی، جو یہودیوں نے کہا : حضرت عزیز اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بالا ہے اور اس سے پاکی بیان کی، جو نصاریٰ نے کہا : حضرت مسیح اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے ماورا ہے۔ ولم یکن لہ شریک فی الملک جس طرح بت پرستوں نے کہا : وخلق کل شی بات اس طرح نہیں جس طرح مجوسیوں اور بت پرستوں نے کہا : شیطان اور ظالم بعض اشیاء کو پیدا کرتے ہیں۔ اور نہ ہی بات اس طرح ہے جس طرح کوئی یہ کہتا ہے : مخلوق کو ایجاد کی قدرت حاصل ہے، آیت اس سب کا رد کرتی ہے۔ فقدرہٗ تقدیرا مخلوقات میں سے جس چیز کو بھی پیدا کیا اپنی حکمت کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا، جس کا بھی ارادہ کیا سہو اور غفلت سے پیدا نہیں کیا۔ مقاد پر اللہ تعالیٰ کی مخلوقات پر قیامت اور قیامت کے بعد تک جاری ہیں وہی خالق اور مقدر ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ واتخذوا من دونہ الھۃً مشرکوں نے جو کچھ کہا اس کا ذکر تعجب کے انداز میں کیا کہ انہوں نے کئی معبود بنا لیے، ساتھ ہی ساتھ اپنی واحدانیت اور قدرت پر دلیل کو ظاہر کیا۔ لا یخلقون شیئاً یہ معبود ان باطلہ کوئی چیز پیدا نہیں کرتے۔ وھم یخلقون جب کہ انہیں بتایا جاتا ہے۔ جب مشرکوں نے اعتقاد کیا کہ یہ بت نفع اور نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کو اس طرح تعبیر کیا جس طرح ذوی العقول کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ ولا یملکون لا تقسھم ضرا ولا نفعا نہ وہ تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ نفع لا سکتے ہیں، مضاف کو خذف کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں یا نفع پہنچائیں اور نہ ہی انہیں، جو ان کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہ جمادات ہیں۔ ولا یملکون موتا ولا حیوۃً ولا تشورا نہ وہ کسی کو موت دیتے ہیں اور نہ ہی کسی کو زندہ کرتے ہیں۔ نشور سے مراد موت کے بعد زندگی دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کیا تو وہ زندہ ہوگئے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اعشی نے کہا : حتی یقول الناس مما راوا یا عجبا للمیت الناشر یہاں تک کہ لوگوں نے جو دیکھا اس کی وجہ سے کہہ اٹھیں : اس میت پر تعجب جو دوبارہ زندہ ہونے والا ہے۔
Ayahs 25:4–6

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنا لی ہیں اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس نے اس کو اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

(وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔۔۔ وقا الذین کفروا مراد مشرکین قریش ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان میں سے یہ بات کرنے والا نضر بن حارث تھا اور اس طرح قرآن میں جہاں اساطیر کا ذکر ہے اس کا کہنے والا بھی یہی تھا (1) محمد بن اسحاق نے کہا : وہ نبی کریم ﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا۔ ان ھذا اسم اشارہ سے مراد قرآن حکیم ہے الا افک افترہ یعنی جھوٹ ہے جو خود انہوں نے گھڑا ہے۔ واعانہ علیہ وقم اخرون مراد یہودی ہیں، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قوم اخرون سے مراد ابوفکیہ جو بنی حضری کا غلام تھا، عداس اور جبر ہے، یہ تینوں اہل کتاب تھے۔ سورة نحل میں ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ فقد جاء وظلماً انہوں نے ظلم کیا، ظلم سے پہلے باء حرف مخدوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے فقد اتوا ظلما انہوں نے ظلم کیا۔ وروا۔ وقالو اساطیر اولین زجاج نے کہا : اساطیر کا واحد اسطورہ ہے جس طرح احدوثہ کی جمع احادیث آتی ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اساطیر، یہ اسطار کی جمع ہے جس طرح اقوال کی جمع اقاویل آتی ہے۔ اکتتبھا اسے حضرت محمد ﷺ نے لکھا ہے فھی تمل علیہ یہ اس پر پڑھا جاتا ہے۔ یکرۃ واصیلا صبح و شام، یہاں تک کہ یہ یاد ہوجاتا ہے۔ تملی ٰ اصل میں تملل ہے، اس جنس کے دو حرف ہونے کی وجہ سے دوسرے لام کو یاء سے بدل دیا جس طرح تقضی البازی اصل میں تقضض تھا اسی طرح دوسرے افعال میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ قل انزلہ الذی یعلم السرفی السمات والارض اے محمد ﷺ ! کہہ دیجئے : اس قرآن کو اس ذات نے نازل کیا ہے جو سر کو جانتا ہے وہ عالم الغیب ہے اسے کسی معلم کی کوئی ضرورت نہیں۔ السر کا ذکر کیا جہر کا ذکر نہیں، کیونکہ جو ذات سر کو جانتی ہے وہ جہر کو بدرجہ اولیٰ جانتی ہے۔ اگر قرآن اہل کتاب وغیرہ سے اخذ کیا گیا ہوتا تو ان پر زائد نہ ہوتا جب کہ یہ ایسے فنون لایا ہے جو ان سے خارج ہیں یہ ان سے مآخوذ نہیں۔ اگر یہ ان سے مآخوذ ہوتا تو مشرک بھی اس پر قادر ہوتے جس طرح حضرت محمد ﷺ قادر ہوئے، انہوں نے اس کے ساتھ معارضہ کیوں نہ کیا تو ہر طرح سے ان کا اعتراض باطل ہوگیا۔ انہ کان غفورا رحیما وہ اپنے اولیاء کے گناہ بخشنے والا اور ان پر رحم فرمانے والا ہے۔
Ayahs 25:7–8

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس پر کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ کہ اسکے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا ؟

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

(وقالو مال ھذا۔۔۔۔۔۔ 7۔ 8) وقالو مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسقواق اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وقالو ان کے طعنوں میں سے ایک اور چیز کا ذکر کیا۔ قالوا میں ضمیر قریش کے لیے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشہور ملاقات ہوئی۔ سورة اسراء میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن اسحاق نے سیرت میں اور دوسرے علمائنے ذکر کیا ہے : اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے سردار عتبہ بن ربیعہ وغیرہ رسول اللہ ﷺ کو ملے اور عرض کیا : اے محمد ﷺ ! اگر تو سرداری کو پسند کرتا ہے تو ہم تجھے اپنے اوپر حاکم بنا دیتے ہیں، اگر تو مال سے محبت کرتا ہے تو ہم اپنے اموال میں سے آپ کے لیے جمع کیے دیتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انکار کیا تو وہ حجت بازی کی طرف لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے تو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں ٹھہرتا ہے (1) جب کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ ہے، انہوں نے کھانا کھانے پر عار دلائی کیونکہ انہوں نے یہ اندازہ کیا تھا کہ رسول ﷺ تو فرشتہ ہوتا ہے، بازار میں چلنے پر عار دلائی جب انہوں نے کسریٰ ، قیصر اور جابر بادشاہوں کو دیکھا کہ وہ تو بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ بازاروں میں ان سے ملتے جلتے انہیں بعض چیزوں کا حکم دیتے اور انہیں بعض چیزوں سے منع کرتے۔ انہوں نے کہا : یہ خواہش رکھتا ہے کہ ہمارا بادشاہ بن جائے تو پھر بادشاہوں کے طریقے کی کیوں مخالفت کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ساتھ جواب دیا، اور اپنے نبی پر اسے نازل کیا :” وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام ویسئون فی الاسواق “ آپ غم نہ کریں اور غمگین نہ ہوں، یہ ایسا عیب ہے جس کی عار آپ سے دور کردی گئی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ تجارت اور طلب معاش کے لیے بازاروں میں جانا مباع ہے، نبی کریم ﷺ اپنی ضرورت کے لیے اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کی دعوت یاد کرانے کے لیے داخل ہوتے، اور اپنی ذات کو قبائل پر پیش کرتے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ انہیں حق کی طرف پھیر دے۔ بخاری شریف میں حضور ﷺ کی یہ صفت بیان کی گئی ہے :’ نہ ترش اور نہ سخت دل اور نہ ہی بازار میں شور و شغب کرن والے “۔ سورة اعراف میں یہ گزر چکی ہے۔ بازار کا ذکر کئی روایات میں مذکور ہے جس کا ذکر اہل صحیح نے کیا ہے۔ صحابہ کرام کی تجارت تو معروف ہے خصوصاً مہاجرین کی تجارت تو مشہور ہے جس طرح حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : ہمارے مہاجر بھائیوں کو بازاروں میں خریدو فروخت مشغول رکھتی، اسے امام بخاری نے نقل کیا ہے، اس سورت میں اس مسئلہ پر مزید گفتگو ہوگی۔ ( 1 ؎ المحرر الوجیز) لو لا انزل الیہ ملک لولا، ھلا کے معنی میں ہے، فیکون معہ نذیرا یہ جواب استفہام ہے اویلقی الیہ کنز یہ محل رفع میں ہے معنی ہے ھلا یقی یعنی کیوں نہیں ان کی طرف بھیجا گیا خزانہ ؟ اوتکون لہ جنۃ یا کل منھا یا ان کے لیے کوئی باغ کیوں نہیں جس سے وہ کھاتے یا کل یاء کے ساتھ ہے مدنیوں، ابو عمر اور عاصم نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے بقای کوفہ کے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں قرایتیں اچھی ہیں جو صحیح معنی دیتی ہیں اگرچہ باء کے ساتھ قرات زیادہ واضح ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا اکیلے ذکر پہلے گزر چکا ہے تو آپ کی طرف ضمیر لوٹانا زیادہ واضح ہے۔ وقال الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسخورا اس کی تفسیر سورة الاسراء میں گزر چکی ہے۔ یہ بات کرنے والا بن زبعری تھا جس کا ذکر ماوردی نے کیا ہے۔
Ayahs 25:9–10

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں نیز تمہارے لئے محل بنا دے

انظر کیف ضربوا۔۔۔۔۔۔ ) انظر کیف ضربوا لک الا مثال انہوں نے آپ ﷺ کے لیے یہ امثال بیان کیں تاکہ وہ آپ کو جھٹلانے تک پہنچ سکیں۔ فضلوا وہ حق کے راستہ اور جس کا انہوں نے ارادہ کیا اس تک پہنچنے سے گمراہ ہوگئے۔۔ فلا یستطیعون سبیلا انہوں نے جو کچھ آپ کے متعلق کہا اس کی صحت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پاتے۔ تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت یہ کلام شرط و جزا ہے۔ جعل لک میں ادغام نہیں کیا کیونکہ دونوں کلمے منفصل ہیں دو ہم مثل حروف کے اجتماع سے ادغام جائز ہوتا ہے۔ ویجعل لک محل جزم میں ہے اس کا عطف جعل کے محل پر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو جب کہ ما قبل سے اس کو قطع کردیا گیا ہو، اہل شام نے اسی طرح قرات کی ہے، عام سے بھی اسی طرح مروی ہے ویجعل لک مرفوع ہے یعنی وسیجعل لک فی الاخرۃ قصورا وہ تیرے لیے آخرت میں محلات بنا دے۔ مجاہد نے کہا : قریش پتھر کے بنے گھر کو قصر کہتے خواہ وہ کیسا ہوتا۔ لغت میں قصر کا معنی روکنا ہے، محل کو قصر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں جو ہوتا ہے اس تک پہنچنے سے روک دیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عرب مٹی کے گھروں کو قصر کہتے ہیں اور اون اور جانوروں کے بالوں سے بنے گھر کو بیت کہتے، قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ سفیان نے حبیب بن ابی ثابت انہوں نے خیثمہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا : اگر آپ ﷺ چاہیں تو ہم آپ کو دنیا کے خزانے اور ان کی چابیاں دے دیں جو آپ ﷺ سے پہلے کسی کو نہیں دیئے گئے اور نہ آپ کے بعد کسی کو دیئے جائیں گے اور یہ آخرت میں آپ کے اجر میں کوئی کمی کرنے والے نہ ہوں گے اور اگر آپ چاہیں تو ہم اسے آخرت میں آپ کے لیے جمع کردیں۔ نبی کریم ﷺ نے عرض کی : ” یہ آخرت میں میرے لیے جمع کردیئے جائیں “ تو اللہ تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا : تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک جنت تجری من تحتھا الانھر ویجعل لک قصورا۔ (1) یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ یہ آیت جننتوں کے خازن نبی کریم ﷺ تک لائے۔ حدیث میں ہے : رضوان جب نازل ہوئے تو نبی کریم ﷺ کو سلام پیش کیا پھر کہا : اے محمد ! ﷺ رب العزت تجھے سلام فرماتا ہے یہ ڈبیہ ہے۔ وہ نور کی ایک ڈبیہ تھی جو چمک رہی تھی۔ آپ کا رب آپ کو فرماتا ہے : یہ دنیا کے خزانوں کی چابیاں ہیں جب کہ آخرت میں مچھر کے پر کے برابر بھی آپ ﷺ کے اجر میں کمی نہیں کی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے مشورہ کے ارادہ سے حضر جبریل امین کی طرف دیکھا، حضرت جبرئیل امین نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا مقصد تواضع اختیار کرنے کا مشورہ دینا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے رضوان ! مجھے اس کی ضرورت نہیں فقر مجھے زیادہ محبوب ہے اور مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں صابر و شکر گزار بندہ بنوں “۔ رضوان نے عرض کی : آپ نے صحیح فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کا ہے۔
Ayahs 25:11–14

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت کو ہی جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اسکے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

(بل کذبو بالساعۃ۔۔۔۔۔ ) بل کذبوا بالساعۃ اس ساعت سے مراد یوم قیامت ہے۔ واعتدنالمن کذب بالساعۃ سعیرا۔ سعیر سے مراد جہنم ہے جو ان پر جوش مار رہی ہوگی۔ اذا اتھم من مکان بعید وہ پانچ سو سال کی مسافت سے انہیں دیکھے گی۔ سمعوا لھا تعیظا وزفیرا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب جہنم انہیں دیکھے گی تو وہ اس کی آواز سنیں گے جو آواز اس کے ان پر حد درجہ غصے ہونے کی ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جب جہنم کے خازن انہیں دیکھیں گے تو وہ لوگ ان خازنوں کے غصے ہونے کی آواز سنیں گے جو ان کو عذاب دینے کے حریص ہوں گے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ جہنم کی دو آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانہ بنا لے “۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس کی دو آنکھیں بھی ہیں ؟ فرمایا : ” کیا تم اللہ تعالیٰ کو ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنتے : اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیطا وزفیرا (2) جہنم کی آگ میں سے ایک گردن ظاہر ہوگی جس کی دو آنکھیں ہوں گی اور ایک زبان ہوگی جو بولے گی، وہ کہے گی : جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو معبود بنایا اس کا معاملہ میرے سپرد کردیا گیا ہے، تو وہ ان لوگوں کو اس پرندے سے زیادہ دیکھے گی جو تل کے دانہ کو دیکھتا ہے اور اسے اٹھا لیتا ہے “۔ ایک روایت میں ہے : ” آگ سے ایک گردن نکلے گی وہ کفار کو یوں اچک لے گی جس طرح پرندہ تل کے دانے کو اٹھا لیتا ہے “۔ (تفسیر طبری) ۔ رزین نے اسے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے اور ابن عربی نے اسے اپنی قبس میں صحیح قرار دیا ہے اور کہا : وہ گردن مخلوق سے انہیں یوں الگ کرلے گی جس طرح پرندہ مٹی سے تل کے دانے کو الگ کرلیتا ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے روز آگ (جہنم) سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھتی ہوں گی، دو کان ہوں گے جو سنتے ہوں گے، ایک زبان ہوگی جو گفتگو کرے گی وہ کہے گی : تین قسم کے افراد میرے سپرد کیے گئے ہیں : (1) ہر عناد رکھنے والا جابر (2) ہر وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کے معبود ہونے کا دعویٰ کیا (3) تصویریں بنانے والے “۔ اس باب میں حضرت ابو سعید کی ایک روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ کلبی نے کہا : انہوں نے ایسا غصہ سنا جیسا کہ انسان کا غصہ ہوتا ہے اور ایسی آواز سنی جیسی آواز گدھے کی ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے انہوں نے اس کی چنگھاڑ کو سنا اور اس کے غصہ کو جانا، قطرب نے کہا : تغیظ کو سنا نہیں جاتا بلکہ اسے دیکھا جاتا ہے، اس کا معنی ہے، انہوں نے اس کے غصہ کو دیکھا اور اس کی چنگھاڑ کو سنا، جس طرح شاعر کا قول ہے : ورایت زوجک فی الوغی متقلدا سیفا ورمخا میں نے جنگ میں تیرے خاوند کو دیکھا جو تلوار کو قلاوہ بنائے اور نیزہ اٹھائے ہوئے تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لھا، فیھا کے معنی میں ہے یعنی اس میں عذاب دیئے گئے لوگوں کے غصہ اور چیخ و پکار کو سنیں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لھم فیھا زفیر وشھیق۔ ( ہود) فی اور لام قریب قرب ہیں۔ تو کہتا ہے : افضل ھذا فی اللہ وللہ میں اللہ تعالٰ کے لیے یہ عمل کرتا ہوں، دونوں جملوں کا معنی ایک ہے۔ واذا القوا منھا مکانا ضیقا مقرنین قتادہ نے کہا : ہمارے لیے یہ ذکر کیا گیا کہ حضرت عبد اللہ کہا کرتے تھے : جہنم کافر پر یوں تنگ کی جائے گی جس طرح لوہا نیزے کے سرے پر تنگ کیا جاتا ہے، ابن مبارک نے اسے دقائق میں ذکر کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اسی طرح کہا ہے، ثعلبی اور قشیری نے ان سے یہ بیان کیا ہے، ماوردی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت نقل کی ہے۔ مقرنین کا معنی ہے جکڑے ہوئے، یہ ابو صالح کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کے ساتھ طوق میں جکڑ دیئے جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں شیاطین کے ساتھ ملا دیا جائے گا یعنی ان میں سے ہر ایک کو اس کے شیطان کے ساتھ ملا دیا جائے گا : یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ سورة ابراہیم میں یہ گزر چکا ہے، عمرو بن کلثوم نے کہا : فآبوابالنھاب وبالمایا وابنا بالملوک مقرنین وہ غنیمتوں اور قیدیوں کے ساتھ لونے جب کہ ہم لوٹے ایسے بادشاہوں کے ساتھ جن کو جکڑا گیا تھا۔ دعواھمالک تبورا ثبورکا معنی ہلاک ہے : یہ ضحاک نے کہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ثبورا کا معنی ویل ہے۔ (1) نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :’ ’ سب سے پہلے جو کلمہ کہے گا وہ ابلیس ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے آگ کا حلہ پہنایا جائے گا، اس حلہ کو اس کو آبروئوں پر رکھا جائے گا، اس کے پیچھے سے اسے ہانکا جائے گا اس کی اولاد اس کے پیچھے ہوگی وہ کہہ رہا ہوگا : ہائے ہلاکت “۔ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے اسے نصب دی گئی ہے، تقدیر کلام یہ ہے : ثبرنا ثبورا : یہ زجاج کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ مفعول بہ ہے۔ لا تدعوا لیوم تبورا اواحداوادعواتبور کثیرا کیونکہ تمہاری ہلاکت اس سے زیادہ ہے کہ تم ایک دفعہ ہلاکت پکارو۔ ثمورا کہا، کیونکہ یہ مصدر ہے جو قلیل اور کثیر کے واقع ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کی جمع نہیں بنائی جاتی، یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : ضربتہ ضرباً کثیرا و قعد قعود طویلا یہ آیات ابن خطل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے ؟ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

(قل اذلک خیرا۔۔۔۔ 15۔ 16) قل اذلک خیرا مر جنۃ الحلدالتی وعد المتقون اگر یہ کہا جائے : کس طرح یہ کہا : اذلک خیر جب کہ آگ میں تو کوئی خیر نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سیبویہ نے عربوں سے یہ حکایت : یان کی ہے الشقاء احب الیک امر السعادۃ بد بختی تجھے زیادہ محبوب ہے یا سعادت، جب کہ یہ تو معلوم ہے کہ سعادت ہی اسے زیادہ محبوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ افعل منک کا باب میں سے نہیں بلکہ یہ تو تیرے اس قول کی طرح ہے : عندہ خیر، نحاس نے کہا : یہ اچھا قول ہے جس طرح فرمایا : فشتر کمالخیر کما الفداء تم میں سے براب تم میں سے اچھے پر فدا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس لیے فرمایا : کیونکہ جنت اور دوزخ منازل کے باب میں داخل ہیں یہ اس لیے فرمایا کیونکہ دونوں منزلوں میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذلک کی طرف پھیرا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے اللہ تعالیٰ کے فرمان : اویلقی الیہ کنز او تکون لہ جنتۃ یا کل منھا کی طرف لوٹایا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے کفار ! یہ تمہارے علم اور تمہارے اعتقاد کے اعتبار سے فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ جہنمیوں کا سا عمل کرتے ہیں تو وہ اس طرح ہوگئے گویا وہ کہتے ہیں : بیشک آگ میں بھلائی ہے۔ لھم فیھا ما یشاء ون خلدین، کان علی ربک وعد مسئولاً اس کے لیے وہ نعمتیں ہیں جو وہ چاہیں گے۔ کلبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے جو ان کے اعمال کی جزا ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے : یہی حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرشتے ان کے لیے جنت کا سوال کریں گے، اس کی دلیل (1 ؎) تفسیر طبری۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِنِ الَّتِیْ وَعَدْ تَّہُمْ “ (غافر : 8) یہ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وعد مسئولاً “ کا معنی ہے واجب، اگرچہ اس کا سوال نہ کیا جائے جس طرح قرص ہوا کرتا ہے : عربوں سے یہ حکایت بیان کی گئی ہے : لا عطینک الفا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وعد مسئولاً کا معنی ہے یہ تیرے لیے ثابت ہے تو اس کا سوال کر۔ زید بن اسلم نے کہا : انہوں نے دنیا میں جنت کا سوال کیا اور دعا کے ذریعے اس میں رغبت کی تو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کو عطا فرمایا جو انہوں نے سوال کیا تھا اور جو انہوں نے مطالبہ کیا تھا وہ دے دیا، یہ تعبیر پہلے قول کی طرف راحج ہے۔
Ayahs 25:17–19

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور ان کو جن ہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات سے جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب) نہ پھیر سکتے ہو (کسی سے) مدد لے سکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم کو اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

( ویوم یحشرھم۔۔۔۔۔ 17۔ 19) ویوم یحشرھم ابن محیصن، حمید، ابن کثیر، حفص، یعقوب اور ابو عمرو نے دوری کی روایت میں یحشرھم یاء کے ساتھ قرات کی ہے، ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ کلام کے شروع میں ہے کان علی ربک اور اس کے آخر میں ہے انتم اضلتم عبادی ھولا باقی قراء نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ وما یعبدون من دون اللہ اس سے مراد فرشتے، انسان، جن حضرت مسیح اور حضرت عزیز (علیہ السلام) ہیں جن کی لوگ عبادت کرتے تھے، یہ مجاہد اور ابن جریج کا قول ہے۔ ضحاک اور عکرمہ نے کہا : مراد بت ہیں۔ فیقول عام قرات یاء کے ساتھ ہے، یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ابن عامر اور ابو حیوہ نے تعظیم کے لیے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ء انتم اضلتم عبادی ھولاء امر ھم ضلوالسبیل یہ استفہام ہے اور کفار کو توبیخ کی جارہی ہے۔ قالو اسبحنک اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ جو معبود تھے انہوں نے کہا : سبحنک تو ہر عیب سے پاک ہے۔ ما کان یبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء اگر یہ سوال کیا جائے : اگر وہ بت جن کی عبادت کی جاتی ہے انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا تو وہ بات کس طرح کریں گے جب کہ وہ تو جمادات میں سے ہیں ؟ اسے جواب دیا جائے گا : اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح قوت گویائی دے گا جس طرح ہاتھوں اور پائوں کی قوت گویائی دے گا۔ حضرت حسن بصری اور ابو جعفر نے اسے ان تتخذ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے نحویوں نے اس قرات میں گفتگو کی ہے۔ ابو عمرو بن علاء اور عیسیٰ بن عمر نے کہا : تتخذ پڑھنا جائز نہیں۔ ابو عمرو نے کہا : اگر یہ تتخذ ہوتا تو دوسرا من خذف کردیا جاتا تو تو یہ پڑھتا تتخذ من دونک اولیا ئ : ابو عبیدہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ تتخذ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے من دو دفعہ ذکر کیا ہے اگر کلام اس طرح ہوتا جس طرح اس نے قرأت کی ہے تو یوں ارشاد ہوتا، ان تتخذ من دونک من اولیاء۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دوسرا من زائد ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عمر وجیسا جلیل القدر آدمی جو کہتا ہے اس کو مستحسن سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ دلیل لایا ہے، اس نے جو کہا اس کی وضاحت یہ ہے کہ کیا : میں نے کسی آدمی کو دوست نہیں بنایا۔ یہ کسی معین فرد کے لیے تو جائز ہے۔ پھر کہا جائے گا : میں نے کسی کو بھی دوست نہیں بنایا تو یہ عام نفی ہوگی۔ تیسرا قول : ولیا : یہ ما قبل کے تابع ہے تو اس میں من داخل کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ ولکن متعتھم واباء ھم رسولوں کے وصال کے بعد تو نے انہیں دنیا میں صحت، غنا اور طویل عمر کے ساتھ لطف اندوز کیا۔ حتی نسو الذکر یہاں تک کہ انہوں نے تیرے ذکر کو ترک کیا اور تکبر و جہالت کی وجہ سے تیرے ساتھ شرک کیا تو انہوں نے ہماری عبات کی جب کہ ہم نے انہیں اس بات کا حکم نہیں دیا تھا۔ ذکر کے بارے میں دو قول ہیں (1) فرقان جو رسولوں پر نازل کیا گیا، انہوں نے اس پر عمل کو ترک کردیا، یہ ابن زید کا قول ہے (2) جوان پر احسان کیا گیا اس پر شکر اور ان پر انعام۔ وکانو قوما بورا بیشک وہ ہلاک ہونے والے ہیں : وہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یہ بوار سے مآخوذ ہے جس کا معنی ہلاکت ہے، حضرت ابو درداء ؓ نے کہا : آپ اہل حمص پر جھانکے فرمایا : اے اہل حمص ! اس بھائی کی طرف آئو جو تمہارا مخلص ہے۔ جب وہ اس کے ارد گرد جمع ہوگئے تمہیں کیا ہوگیا ہے تم حیاء کیوں نہیں کرتے تم ایسے گھر بناتے ہو جن میں رہتے نہیں، ایسا مال جمع کرتے ہو جس کو کھاتے نہیں اور ایسی امیدیں رکھتے ہو جس کو پاتے نہیں تم سے قبل جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے مضبوط گھر بنائے، غلام جمع کیے، دور کی امیدی رکھیں ان کی جمعیتیں ہلاک ہوگئیں، ان کی آرزویں کھوٹی ہوگئیں اور ان کے گھر قبریں بن گئے۔ بورا کا معنی ہلاک ہونا ہے۔ ایک روایت میں ہے : ان کے گھر برباد ہوگئے یعنی خالی ہوگئے، ان میں کوئی چیز باقی نہ بچی۔ حضرت حسن بصری نے کا : بورا کا معنی ہے ان میں سے کوئی خیر نہیں۔ یہ بورا الارض سے مشتق ہے اس کا معنی ہے کھیتی ہے اس کو معطل کردینا تو اس زمین پر کوئی خیر نہ رہی۔ شہر بن حوشب نے کہا : بورا کا معنی فاسد ہونا اور کساد بازاری کا شکار ہوتا ہے، یہ عربوں کے اس قول سے مآخوذ ہے : بارت السلعۃ جب سامان میں خریدو فروخت نہ رہے۔ اس معنی میں ایک حدیث طیبہ ہے : نعوذ باللہ من بوار الایم ہم بےخاوند عورت کے نہ پوچھے جانے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ اسم مصدر ہے جس طرح زود، اس میں واحد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مونث برابر ہیں، ابن زبعری نے کہا : یا رسول الملیک ان لسان راتق ما فتقت اذ انا بور اذ اباری الشیطان فی سنن الغی ومن مال میلہ مثبور اے بادشاہ کے رسول ! جو میں نے کہا ہے میری زبان ان چاکوں کو رفو کر رہی ہے جو میں نے کیے، میں ہلاک ہونے والا ہوں، کیوں کہ میں سرکشی کے معاملات میں شیطان کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا، جو انسان اس کے میلان جیسا میلان رکھتا ہے وہ ہلاک ہونے والا ہے۔ بعض نے کہا : واحد بائر ہے اور جمع بود ہے جس طرح کہا جاتا ہے عائذ کی جمع عوذ، ھائد کی جمع ھود۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بورا کا معنی ہے حق سے اندھا۔ فقد کذبو کم بما تقولون اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا جب معبود برأت کا اظہار کریں گے : جو تم کہتے تھے اس میں انہوں نے تمہاری تکذیب کردی ہے یعنی تم جو یہ کہتے تھے : یہ معبود ہیں۔ فما تستطیعون یعنی یہ معبود نہ تم سے عذاب کو پھیر سکتے ہیں اور نہ ہی تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب معبودوں نے انہیں جھٹلایا تو یہ کچھ طاقت نہیں رکھیں گے۔ صرفاً یعنی عذاب کو دور کرنے اور لا نصر اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ ابن زید نے کہا : معنی ہے اے مومنو ! ان کفار نے اس کا انکار کردیا ہے جو حضرت محمد ﷺ لائے ہیں۔ اس تعبیر کی بناء پر بما تقولون کا معنی ہوگا جو تم حق کہتے ہو۔ ابو عبید نے کہا : معنی ہے جو تم کہتے ہو اس کو انہوں نے جھٹلا دیا وہ تمہیں اس حق سے پھیرنے کی طاقت نہیں رکھتے جس کی طرف اللہ عالیٰ نے تمہیں ہدایت دی ہے اور انہوں نے جو تمہیں جھٹلایا ہے اس کی وجہ سے جو عذاب ان پر نازل ہوگا اس بارے میں اپنی کوئی مدد نہ کرسکیں گے۔ عام قرأت بما تقولون تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے ہم نے اس کے معنی کی وضاحت کردی ہے۔ قراء نے کہا : یہ قرأت کی جاتی ہے فقد کذبو کم بما یقولون یعنی مجرد کا صیغہ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ فما تسلطیعون تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے اور یہ خطاب شرک اپنانے والوں کو ہوگا جس نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے تو معنی ہوگا : فما یستطیع الشرکاء شرکاء طاقت نہیں رکھیں گے۔ ومن یظلم منکم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم میں سے جو شرک کرے پھر اس شرک پر مر جائے نذقہ عذابا ً کبیراً ہم آخرت میں اسے سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولتعلن علوا کبیرا۔ (الاسرائ) آیت میں کبیر کا معنی شدید ہے۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

(وما ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔ 20 ) مسئلہ نمبر 1 :۔ وما ارسلنک قبلک من المرسلین یہ مشرکوں کے جواب میں نازل ہوئی جب انہوں نے کہا : مال ھذا الرسول یا کل الطعام ومشئی فی الاسواق حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو فاقہ کی عار دلائی اور کہا : مال ھذا الرسول یا کل الطعام تو نبی کریم ﷺ غمگین ہوئے تو یہ آیت آپ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ حضرت جبریل امین نے عرض کی : السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ جو تیرا رب ہے وہ تجھے سلام فرماتا ہے اور تجھے فرماتا ہے : وما ارسلنا قبلک من المرسلین الاانھم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق یعنی وہ بھی دنیا میں معاش تلاش کیا کرتے تھے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ انا انھم لیا کلون الطعام۔ جب خبر پر لام آگیا تو ان میں کسرہ ہی ہوگا اگر خبر پر لام نہ ہوتا تب بھی ان کے ہمزہ میں کسرہ کے سوا کوئی چیز جائز نہ ہوتی کیونکہ یہ جملہ مستائقہ ہے، یہ تمام نحویوں کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : مگر علی بن سلیمان نے محمد بن زید سے یہ قول نقل کیا ہے ان کے ہمزہ میں فتحہ بھی جائز ہے اگرچہ خبر پر لام ہو۔ میں اسے اس سے وہم گمان کرتا ہوں۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : کلام میں حذف ہے اس کا معنی ہے وما ارسلنا قبلک رسلا انا انھم لیاکلون الصعام پھر رسلا کو حذف کردیا کیونکہ من المرسلین میں رسلا پر دلالت موجود ہے۔ زجاج کے نزدیک موصوف محذوف ہے اس کے نزدیک موصول کا حذف اور صلہ کو باقی رکھنا جائز نہیں، جس طرح فراء نے کہا۔ فراء نے کہا : محذوف من ہے معنی ہوگا الامن انھم لیاکلون الطعام اور اسے اس فرمان کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ وما منا الا لہ مقام معلوم (الصافات) اور اس فرمان کے ساتھ تشبیہ دی ہے “ وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ج “ (مریم : 71) تقدیر کلام یہ ہوگی ما منکم الا من ھو واردعا، یہ کسائی کا بھی قول ہے۔ عرب کہتے ہیں : ما بعث الیک من الناس الا من انہ یعطیک میں نے تیری طرف لوگوں میں سے کسی کو نہیں بھیجا مگر اسے جو تجھے عطاء کرتا ہے۔ تیرا یہ قول : انہ لیعطیک، من کا صلہ ہے۔ زجاج نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ من موصولہ کا حذف جائز نہیں ہوتا۔ اہل معانی نے کہا : معنی ہے وما ارسلنک قبلک من المرسلین الا قبل انھم لیاکلون ہم نے آپ سے قبل رسولوں کو نہیں بھیجا مگر یہ کہا گیا کہ وہ کھانا کھاتے ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک (فصلت : 43) ابن انباری نے کہا : الا کے ان بعد کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے اور وائو مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی الا وانھم۔ ایک فرقہ اسی طرح گیا ہے کہ لیا کلون الصعام حدث سے کنایہ ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ اپنے معنی میں بلیغ ہے، اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : ” مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌط کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَ ط “ (المائدہ : 75) ویسئون فی الاسواق جمہور نے یمشون یاء کے فتحہ، میم کے سکون اور شین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عوف اور حضرت ابن مسعود ؓ نے یاء کے ضمہ، میم کے فتحہ اور شین کی شد مفتوحہ کے ساتھ پڑھا ہے معنی ہوگا انہیں بازار میں چلنے کی دعوت دی جاتی ہے اور برانگیختہ کیا جاتا ہے۔ ابو عبد الرحمن سلمی نے اسے یاء کے ضمہ، میم کے فتحہ اور شین مشدوہ مضمومہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ یمشون کے معنی میں ہے۔ شاعر نے کہا : امشی باعطان المباءہ وابتغی قلائص منھا صعبۃ ورکوب اس شعر میں مشی، مشی کے معنی میں ہے۔ کعب بن زہیر نے کہا : منہ تظل، سباع الجو ضامرۃ ولا تمشی بوادیہ الا راجیل اس شعر میں بھی تمشی، تشی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ نمبر 3 :۔ یہ آیت اسباب کو حاصل کرنے، تجارت، صنعت وغیرہ کے ذریعے طلب معاش میں اصل ہے، یہ معنی کئی مقام پر گزر چکا ہے، لیکن ہم یہاں ان میں سے وہ چیزیں ذکر کریں گے جو کفایت کر جائیں گی۔ ہم کہتے ہیں : میرے سامنے اس زمانے کے ایک شیخ نے جری کلام کرتے ہوئے یہ کہا : انبیاء (علیہم السلام) کو اس لیے مبعوث کیا گیا تاکہ ضعفاء کے لیے اسباب کی سنتیں قائم کریں۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا : یہ قول جاہلوں، غبیوں اور بیوقوف چرواہوں سے صادر ہو سکتا ہے یا اس آدمی سے صادر ہو سکتا ہے جو کتاب اور اعلیٰ سنت پر طعن کرنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اصفیاء، رسل اور انبیاء کے اسباب اور حرفوں کے بارے میں خبر دی ہے، اس کا ارشاد ہے اور اس کا قول حق ہے : ” وَعَلَّمْنٰـہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ “ (الانبیائ : 80) ارشاد فرمایا :” وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام ویستون فی الاسواق “ علماء نے کہا : وہ تجارت کرتے ہیں اور پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جعل رزق تحت ظل رمحی میرا رزق نیزے کے سائے میں رکھ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰـلًا طَیِّبًا “ (الانفال : 69) صحابہ کرام ؓ تجارت کرتے، حرفہ اختیار کرتے اور اپنے اموال میں محنت مزدوری کرتے، اور کفار میں سے جوان کی مخالفت کرتے ان کے ساتھ جنگ کرتے۔ کیا تم انہیں کمزور خیال کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! وہ اقویاء تھے ان کے پیچھے صالح خلف ہیں جو ان کی اقتدا کرنے والے ہیں، ان کا اس میں طریقہ ہدایت دینے اور ہدایت لینے کا ہے۔ اس نے کہا : انہوں نے اس چیز کو اپنایا کیونکہ وہ اقتداء کے ائمہ تھے تو انہوں نے ضعفاء کے حق میں خود انہیں اپنایا جہاں تک اپنی ذات کے حق میں ہے تو یہ نہیں، اس کی وضاحت اصحاب صفہ میں موجود ہے۔ میں کہتا ہوں : اگر یہ اس طرح ہوتا تو ان پر اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر واجب ہوتا کہ اس کی وضاحت کریں جس طرح قرآن میں ثابت ہے :” وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ “ (النحل : 44) ارشاد فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی “ (البقرہ : 159) یہ بنیات وبدی میں سے ہے، جہاں تک اصحاب صفہ کا تعلق ہے وہ تنگ حالی کے وقت اسلام کے مہمان تھے۔ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کبھی صدقہ کا مال آتا تو آپ اس صدقہ میں انہیں خاص کرتے، جب کوئی ہدیہ آتا تو انکے ساتھ بیٹھ کر اس ہدیہ کو تناول فرماتے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایندھن لاتے اور رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے لیے پانی لاتے۔ امام بخاری اور دوسرے علماء نے ان کے یہی اوصاف ذکر کیے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے ان پر شہروں کو کھول دیا اور علاقے فتح کردیئے تو انہیں امیر بنا دیا گیا اور اسباب کا حکم دیا گیا۔ پھر یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کمزور تھے کیونکہ فرشتوں کے ذریعے ان کی تائید کی گئی اور انہیں ثابت قدم کیا گیا، اگر وہ قوی ہوتے تو انہیں فرشتوں کی تائید کی ضرورت نہ ہوتی جب کہ ان کی تائید کامیابی کے اسباب میں سے ایک سبب تھا۔ ہم ایسے قول اور ایسی گفتگو جو اس تاویل کی طرف لے جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں بلکہ اسباب اور وسائط سے فائدہ اٹھاتا اللہ کا حکم اور طریقہ ہے اور اس کے رسول کا حکم اور طریقہ ہے یہی حق مبین ہے اور صراط مستقیم ہے جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا فرمان حق :” وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ “ (الانفال : 60) ضعفاء پر محدود رہے گا اور تمام خطابات اسی طرح ہوں گے۔ قرآن حکیم میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب فرمایا :” اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ ط “ (الشعرا : 63) اللہ تعالیٰ عصا مارے بغیر بھی سمندر کو پھاڑ سکتا تھا، اسی طرح حضرت مریم (علیہ السلام) کو خطاب ہے :” وَ ھُزِّٓیْ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ “ ( مریم : 25) جب کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ حکم دینے کے بغیر بھی کھجوریں گرانے پر قادر تھا، اس میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کو کھجور کا تنا ہلانے اور اس مشقت کی کوئی ضرورت نہ تھی، اس سب کے باوجودہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ کوئی ایسا آدمی ہو جس پر مہربانی کی جاتی ہو، اس کی مدد کی جاتی ہو، اس کی دعا قبول کی جاتی ہو یا خاص طور پر اسے کرامت سے نوازا جاتا ہو یا کسی اور وجہ سے ایسا ہو اس وجہ سے قواعد کلیہ اور امور جمیلہ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ ایسی بات کہنے سے دور ہوجا، دور ہوجا، ایسی بات نہ کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” و فی السماء رزقکم وما توعدون “ (الذریات) ہم کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول کریم نے سچ فرمایا۔ علماء تاویل کے اجماع کے مطابق یہاں رزق سے مراد بارش ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” وَیُنَزِّلُ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ رِزْقًا ط “ (غافر : 13) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا فَاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ ۔ “ (ق : 9) یہ مشاہدہ نہیں کیا گیا کہ مخلوق پر آسمان سے روٹیوں کے طبق اور گوشت کے پیالے نازل ہوں بلکہ اس کے باوجود میں اسباب اصل ہیں اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اطلبوا الرزق فی خبایا الارض مراد ہے تم زمین میں ہلا چلانے، اسے کھودنے ( گوڈی کرنے) اور درخت لگانے کے ذریعے رزق تلاش کرو، بعض اوقات کسی شی کا نام انجام اور عاقبت کے اعتبار سے رکھا جاتا ہے بارش کو رزق لان یا خذاحد کم حیلہ فیحتطب علی ظھرہ خیرلہ من ان یسال احد اعطاہ او منعہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور اپنی پشت پر لکڑیوں کا گھٹا اٹھائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے چاہے وہ اسے دے یا اس کا سوال رد کر دے، یہ حکم اس کے بارے میں بھی ہے جو بغیر مشقت کے کام ہوجاتا ہے خواہ وہ گھاس ہو یا لکڑیاں ہوں۔ اگر کسی کے لیے پہاڑوں میں رہنا مقدر کردیا جائے جب کہ وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہو تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوگا کہ وہ ان چیزوں کے لیے نکلے جو ٹیلے اور پہاڑوں کی چوٹیاں اگاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ان سے ایسی چیزیں حاصل کرے جن کے ساتھ وہ زندگی بسر کرسکے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا یہی معنی ہے : لو انکم کنتم توکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقتم کما ترزق الطیر تغد و خماصا و تروح بطانا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں بھی اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے تم خالی پیٹ صبح نکلو گے اور بھرے پیٹ شام کو واپس لوٹو گے۔ اس کا صبح جانا اور شام کو لوٹنا یہی سبب ہے، اس آدمی پر بہت زیادہ تعجب ہے جو اسباب سے لاتعلقی اور یقین تو کل دعویٰ کرتا ہے وہ راستہ کی پگڈنڈیوں میں جا بیٹھتا ہے صراط مستقیم اور واضح راستہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت ثابت ہے کہ اہل یمن حج کیا کرتے تھے اور زاد راہ نہ لیتے اور وہ کہتے : ہم توکل کرتے ہیں، جب وہ آتے لوگوں سے سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا :” وتزودوا “ (البقرہ : 197) نبی کریم ﷺ اور آپ صحابہ کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ وہ زاد راہ کے بغیر سفر پر نکلے ہوں جب کہ وہ یقین طور پر توکل کرنے والے تھے۔ توکل کا معنی یہ ہے دل کا رب العالمین پر یہ اعتماد ہو کہ وہ اس کے بکھرے امر کو جمع کردے گا اور اس کی ضروریات پوری فرما دے گا پھر وہ امر کی بناء پر اسباب کو کام میں لائے، یہی حق ہے۔ ایک آدمی نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا، عرض کی : میں توکل کے قدم پر حج کا ارادہ رکھتا ہوں۔ فرمایا : تنہا نکلو۔ اس نے کہا : نہیں مگر لوگوں کے ساتھ۔ امام احمد بن حنبل نے کہا : پھر تو تو ان کی تھیلوں پر توکل کرنے والاہو گا۔ ہم نے اسے کتاب قمع الحرص بالذھد والقناعۃ وردذل السواں بالکسب والصناعۃ میں ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 :۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : احب البلاد الی اللہ مساجد ھاوابغض البلاد الی اللہ آسواقھا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے محبوب جگہیں مساجد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔ بزار نے حضرت سلیمان فارسی سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اگر تو طاقت رکھے تو تو پہلا شخص نہ ہو جو بازار میں داخل ہوتا ہے اور تو آخری شخص نہ ہو جو اس سے نکلتا ہے کیونکہ یہ شیطان کا معرکہ ہے وہاں ہی اس کے جھنڈے گاڑے جاتے ہیں “۔ ابوبکر برقانی نے مسند طریقہ سے ابو محمد عبد الغنی بد سعید حافظ سے ( عاصم کی روایت سے) وہ ابو عثمان نہدی سے وہ حضرت سلیمان فارسی ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تو بازار میں داخل ہونے والا پہلا شخص نہ ہو اور اس سے نکلنے والا آخری شخص نہ ہو، یہاں شیطان نے انڈے دیئے اور بچے نکالے “۔ ان احادیث میں ایسے دلائل ہیں جو بازاروں میں داخل ہونے کی کراہت پر دال ہیں، خصوصاً اس زمانہ میں جس میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہوتا ہے، ہمارے علماء نے اسی طرح کہا ہے۔ جب بازاروں میں باطل بہت زیادہ ہوگئے ہیں اور منکرات عام ہوگئے ہیں ارباب فضل اور دین کے امور میں جن کی اقتدا کی جاتی ہے ان کے لیے بازار میں داخل ہونا مکروہ ہے تاکہ انہیں ایسی جگہوں سے دور رکھا جائے جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے۔ جس آدمی کو اللہ تعالیٰ بازار میں جانے کے ساتھ آزمائے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل میں یہ خیال لائے کہ وہ شیطان کے محل اور اس کے لشکروں کی جگہ میں داخل ہوچکا ہے اور یہ خیال لائے کہ اگر وہ ٹھہرا رہا تو ہلاک ہوجائے گا جس کی حالت یہ ہو تو وہ صرف ضرورت تک وہیں رہے اور اس کے برے انجام سے بچے۔ مسئلہ نمبر 5 :۔ نبی کریم ﷺ کا بازار کو معرکہ سے تشبیہ دینا بہت اچھی تشبیہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ معرکہ قتال کی جگہ ہے، اسے یہ تام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے جوانمرد معرکہ آراء ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو پچھاڑتے ہیں۔ بازار، اس میں شیطان کے فعل، شیطان ان بازار والوں سے جو حصہ پاتا ہے اس طریقہ پر کہ بازار والوں کے مکر، دھوکہ، بیوع فاسدہ میں تساہل، جھوٹ، جھوٹی قسموں پر ابھارنے، آوازوں کے خلط ملط ہونے اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں ان سب کو جنگ کے معرکہ اور اس میں جن کو پچھاڑا جاتا ہے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ مسئلہ نمبر 6 :۔ ابن عربی نے کہا : کھانا کھانا یہ مخلوق کی ضرورت ہے اس میں کوئی عار نہیں اور نہ اس میں کوئی عیب ہے، جہاں تک بازاروں کا تعلق ہے تو میں نے اہل علم کے مشائخ سے سنا ہے وہ فرماتے ہیں : وہ کتابوں اور اسلحہ کے بازار کے علاوہ میں داخل نہ ہو۔ میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ ضرورت کے وقت ہر بازار میں داخل ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی چیز نہ کھائے کیونکہ یہ عمل مروت کو ختم کرتا ہے اور وحشت کو گرا دیتا ہے۔ احادیث موضوعہ (1) میں ہے : بازار میں کھانا کمینگی ہے۔ میں کہتا ہوں : اہل علم مشائخ نے جو کہا ہے وہ کتنا اچھا ہے کیونکہ اس میں عورتوں کو دیکھنے اور ان کے ساتھ مخالطت سے بچائو ہوتا ہے کیونکہ ان بازاروں میں انہیں حاجت نہیں ہوتی جہاں کتابوں اور اسلحہ کے با زاروں کے علاوہ بازار ہیں وہ عورتوں سے بھرے ہوتے ہیں اور حیاء کی کمی ان پر غالب آچکی ہے، یہاں تک کہ عورتوں کو اپنی زینتوں میں عیاں دیکھا جاتا ہے ہمارے زمانہ میں یہ برائی عام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ہم اس کی پناہ مانگتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 7 :۔ ابو دائود طیالسی نے اپنی مسند میں حماد بن زید سے روایت نقل کی ہے وہ عمرو بن دینار قہر مان آل زبیر سے وہ سالم سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جو آدمی ان بازاروں میں سے کسی بازار میں داخل ہو اس نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وھو حی لا یموت بیدہ الخیر وھو علی کلی شئی قدیر پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور جنت میں اس کے لیے محل بنا دیتا ہے۔ امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے اور آخر میں کچھ اضافہ کیا ہے : اس سے دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور دس لکھ درجے بلند کردیتا ہے اور جنت میں اس کے لیے گھر بنا دیتا ہے۔ کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ اس صورت میں ہوگا جب اس نے اس جگہ اس کے سوا کا قصد نہ کیا ہو کہ وہ طاعت کے ساتھ اس جگہ کو آباد کرے کیونکہ اسے معصیت کے ساتھ آباد کیا جاتا ہے، اسے ذکر کے ساتھ آراستہ کرے کیونکہ غفلت کے ساتھ اسے معطل کردیا گیا ہے تاکہ وہ جاہلوں کو علم سکھائے اور بھولنے والوں کو یاد دلائے۔ مسئلہ نمبر 8۔ وجعلنا بعضکم بعض فتنۃ اتصبرون بیشک دنیا دار انبلاء اور دارالامتحان ہے اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ بعض بندوں کو بعض بندوں کے لیے آزمائش بنا دے یہ تمام لوگوں میں ہے وہ مومن ہو یا کافر ہو، صحیح، مریض کے لیے آزمائش ہے، غنی، فقیر کے لیے فتنہ ہے، صابر فقیر، غنی کے لیے فتنہ ہے۔ ( 2) اس کا معنی یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے ساتھی کے (1 ؎۔ اس حدیث کو طبرانی نے حضرت امامہ سے منسوب۔۔۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے اور سیوطی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ) (2 ؎۔ التحریر الوبیز) ۔ ساتھ آزمایا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ اس سے حسد نہ کرے اور اس سے نہ لے مگر وہ جو اسے عطا کرے اور ہر ایک حق پر صابر رہے جس طرح ضحاک نے اتصبرون کا معنی کرتے ہوئے کہا : دیا تم حق پر صبر نہیں کرتے “۔ مصیبت زدہ لوگ کہتے ہیں : ہم کو عافیت اور سلامتی کیوں نہیں دی جاتی ؟۔ اندھا کہتا ہے : مجھے بینا کیوں نہیں بنایا گیا ؟ اسی طرح ہر آفت زدہ آدمی کہتا ہے : رسول جسے نبوت کی کرامت کے ساتھ نوازا گیا ہے یہ اس کے زمانہ کے کفار کے اشراف کے لیے فتنہ ہوتا ہے، اسی طرح علماء اور عادل حکام ہیں۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں غور فکر نہیں کرتا ” لَوْ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ۔ “ (الزخرف : 31) فتنہ یہ ہے کہ مصیبت زدہ، عافیت والے سے حسد کرے اور عافیت والا مصیبت زدہ کو حقیر جانے، صبر یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنے نفس کو روکے، یہ تکبیر سے اور وہ دل کی تنگی سے۔ اتصبرون اس کا جواب مخدوف ہے یعنی امر لا تصبرون یہ جواب کا مقتضی ہے جس طرح مزنی نے کہا : اسے فاقہ نے گھر سے نکالا اس نے مراکب اور مناکب میں ایک خصی کو دیکھا اس کے دل میں خیال آیا تو اس نے آدمی کو آیت پڑھتے ہوئے سنا : اتصبرون اس نے کہا : کیوں نہیں اے ہمارے رب ! ہم صبر کریں گے اور اجر کی امید رکھیں گے۔ ابن قاسم جو امام مالک کے شاگرد تھے انہوں نے اس آیت کو پڑھا جب انہوں نے اشہب بن عبد العزیز کو اس کی مملکت میں ان پر گزرتے ہوئے دیکھا پھر اپنے نفس کو اس قول کے ساتھ جواب دیا : سنصبر، کم صبر کریں گے۔ حضرت ابو درداء ؓ سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :’ ’ عالم کے لیے جاہل کی ہلاکت ہے، جاہل کے لیے عالم کی ہلاکت ہے، مالک کے لیے مملوک کی ہلاکت ہے، سلطان کے لیے رعیت کی ہلاکت ہے اور رعیت کے لیے سلطان کی ہلاکت ہے ہر ایک دوسرے کے لیے فتنہ ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اتبصرون “ ثعلبی نے اسے مسند ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت ابو جہل بن ہشام، ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، عقبہ بن ابی معیط، عتبہ بن ربیعہ اور نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے حضرت ابو ذر، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت عامر فن فہیرہ، حضرت سالم جو حضرت ابو حذیفہ کے غلام تھے، حضرت مجمع جو حضرت عمر بن خطاب کے غلام تھے اور حضرت جبر جو حضرت حضری کے غلام تھے اور ان جیسے اصحاب کو دیکھا تو استہزار کے انداز میں کہا : کیا ہم اسلام قبول کریں اور ان لوگوں کی مثل ہوجائیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا : ” اتبصرون “ کیا تم یہ سخت حالت اور فقر کو دیکھتے ہوئے اس پر صبر کرتے ہو ؟ اتبصرون یہ حضرت محمد ﷺ کی امت کے ان افراد کے ساتھ خاص ہے جو حق پر قائم تھے، گویا کفار کو مہلت اور ان پر رزق کی فراوانی یہ مومنوں کے لیے آزمائش تھی، جب مسلمانوں نے صبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا :” اِنِّیْ جَزَیْتُہُمُ الْیَوْمَ بِمَاصَبَرُوْٓا “ (المومنون : 111) مسئلہ نمبر 9 :۔ ” وکان ربک بصیرا “ ہر انسان کو دیکھنے والا ہے وہ صبر کرے یا جزح و فزع کرے جو ایمان لائے یا ایمان نہ لائے اور جو اپنے قرض کو ادا کرے یا ادا نہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اتبصرون کا معنی ہے تم صبر کرو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فھل انتم منتھون۔ “ (المائدہ) یعنی تم رک جائو، یہ نبی کریم ﷺ کو صبر کا حکم ہے۔