An-Naml 27:85

An-Naml · from ayah 85

27:85

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ۟وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ‏

اور اُن کے ظلم کے سبب اُن کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہوکر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the decree will befall them for the wrong they did, and they will not [be able to] speak.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:85

اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اُن کے ظلم کے سبب اُن کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہوکر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بسبب اس کے کہ انہوں نے ﻇلم کیا تھا ان پر بات جم جائے گی اور وه کچھ بول نہ سکیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہوں نے جو ظلم کیا تھا، اس کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی، چنانچہ وہ کچھ بول نہیں سکیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بات پڑچکی ان پر ان کے ظلم کے سبب تو وہ اب کچھ نہیں بولتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان پر (ہمارا) وعدہ پورا ہوچکا اس وجہ سے کہ وہ ظلم کر تے رہے سو وہ (جواب میں) کچھ بول نہ سکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان پر بات واقع ہوجائے گی، اس کے بدلے جو انھوں نے ظلم کیا، پس وہ نہیں بولیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر (عذاب کی) بات پوری ہوجائے گی تو وہ بول بھی نہ سکیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان پر بات پوری ہوجائے گی بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے پس وہ کچھ نہ بول سکیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وعدہ عذاب کے بارے میں ہماری بات ان پر اس طرح ثابت ہو کر رہے گی ان کی ظلم کے بنا پر کہ وہ کچھ بول بھی نہ سکیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (اب) ان پر وعدہ پورا ہوگا بسبب اس کے کہ انہوں نے (بڑی) زیادتیاں کی تھیں سو وہ لوگ بات بھی نہ کرسکیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور واقع ہوجائے گی ان پر بات اس لیے کہ وہ ظلم کے مرتکب ہوئے تھے چناچہ وہ بول نہیں سکیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے ظلم کے سبب ان کے حق میں عذاب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ تو وہ بول بھی نہ سکیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the Word will come to pass against them because of their wrong-doing: they will then be able to utter nothing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the Word will come to fall on them because of their transgression, so they will not (be able to) speak.

— Muhammad Taqi Usmani

And the Word will come to fall on them because of their transgression, so they will not (be able to) speak.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Word will be fulfilled against them, because they have done wrong, and they will be unable to speak.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the Word will be fulfilled concerning them because they have done wrong, and they will not speak.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the decree will befall them for the wrong they did, and they will not [be able to] speak.

— Saheeh International

They will become subject to punishment because of their injustice. Thus, they will not speak.

— Muhammad Sarwar

And the word shall come to pass against them because they were unjust, so they shall not speak.

— Muhammad Habib Shakir

And the Word shall be fulfilled concerning them, because they did wrong, and they shall not be able to speak.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Word will be fulfilled against them, because of their wrong-doing, and they will be unable to speak (in plea).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–86

باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 84–85

سورة النمل 102 یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ ہرگز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یوں ہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا ؟ سورة النمل 103 یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہوگیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–87

خلاصہ تفسیر جس دن (قبروں سے زندہ کرنے کے بعد) ہم ہر امت میں سے (یعنی امم سابقہ میں سے بھی اور اس امت میں سے بھی) ایک ایک گروہ ان لوگوں کا (حساب کے لئے) جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے (پھر ان کو موقف کی طرف حساب کے لئے روانہ کیا جائے گا اور چونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اس لئے) ان کو (چلنے میں پچھلوں سے آملنے کے واسطے) روکا جائے گا (تاکہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر موقف حساب کی طرف چلیں۔ مراد اس سے کثرت کا بیان ہے کیونکہ بڑے مجمع میں عادة ایسا ہوتا ہے خواہ روک ٹوک ہو یا نہ ہو) یہاں تک کہ جب (چلتے چلتے موقف میں) حاضر ہوجاویں گے تو (حساب شروع ہوگا اور) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماوے گا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ووقع القول علیھم بما ظلموا فھولا ینطقون (85) مکذبین کی بےبسی یعنی اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں وہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں گے۔ ان کی زبانیں بالکل گنگ ہوجائیں گی اور ان کے اعمال کی پاداش میں ان پر خدا کا فیصلہ عذاب نافذ ہوجائے گا۔ یہاں بھی وہی وقع القول آیا ہے جس پر پیچھے بحث گزر چکی ہے لیکن یہاں روز حشر کا ماجرا بیان ہو رہا ہے اس وجہ سے اس سے اللہ تعالیٰ کا وہ فصلہ مراد ہے جو ان تمام مجرمین کو جہنم میں جھونک دینے کے لئے ہوگا۔ (آیت 65) (آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے اعمال سے متعلق ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے۔ اس آیت میں نکلمنا بھی قابل توجہ جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

85-1یعنی ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا کہ جسے وہ پیش کرسکیں۔ یا قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے بولنے کی قدرت سے ہی محروم ہونگے اور بعض کے نزدیک یہ اس وقت کی کیفیت کا بیان ہے جب ان کے من ہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 83–87

37: آگے آیت نمبر 89 میں اس کی وضاحت آرہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیک اعمال لے کر آئیں گے، اور بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ شہداء ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–90

اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ان کی شرارتوں کا یقینی ثبوت ہوچکا اور خدا کی حجت تمام ہوچکی۔ اب آگے وہ کیا بول سکتے ہیں۔ باقی بعض آیات میں جو ان کا عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ شاید اس سے پہلے ہوچکے گا۔ بہرحال نفی و اثبات کو اختلاف مواطن پر حمل کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 85 وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ” جب حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی تو وہ بول نہیں سکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کے دل تو دعوت حق کی حقانیت پر گواہی دے چکے تھے ‘ لیکن اپنی ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔ قبل ازیں اسی سورت کی آیت 14 میں ایسے منکرین کے انکار کی کیفیت پریوں تبصرہ کیا گیا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط کہ ان کے دلوں نے آیات الہیہ کا یقین کرلیا تھا مگر وہ محض ضد ‘ ظلم اور سرکشی کی بنا پر نہیں مانے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 یعنی ان پر الٹ پڑے گی، ان کا قصور ثابت ہوجائے گا کہ وہ واقعی اللہ کی آیات کے ساتھ بےانصافی کا معاملہ کرتے رہے۔ لہذا انھیں اس سوال کا کوئی جواب میسر نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

93۔ یعنی ثبوت جرم اتنا قوی، قطعی اور یقینی ہوگا کہ جواب دہی کرنا چاہیں گے بھی تو کچھ نہ بن پڑے گی، اللہ وہ وقت نہ اس نامہ سیاہ خادم قرآن پر ڈالے نہ کسی اقرار شہادتین کرنے والے پر ! (آیت) ” بما ظلموا “۔ سے مراد کفر وشرک کی حرکتیں ہیں یا جامع لفظ میں یوں کہیے کہ تکذیب آیات الہی۔ ھو الکتذیب بایات اللہ (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لا ینطقون . اور قول (یعنی عذاب موعود کا قول) ان پر ان کے ظلم کرنے (یعنی تکذیب آیات کرنے) کی وجہ سے واجب ہوجائے گا اس لئے وہ (کوئی کلمۂ معذرت) نہیں بولیں گے۔ کیونکہ ان کے پاس تکذیب کرنے کا کوئی عذر ہی نہ ہوگا یا اس وجہ سے کہ ان کو بولنے کی اجازت نہیں ملے گی کہ کچھ عذر پیش کرسکیں۔ بعض نے کہا : نہ بولنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ان کے مونہوں پر مہریں لگی ہوں گی۔ بعض نے کہا : وہ عذاب میں اسے گرفتار ہوں گے کہ ان کو بولنے کا ہوش ہی نہ ہوگا۔ اول توجیہ زیادہ صحیح ہے۔ اسی پر اگلی آیت دلالت کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(85) اور ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا اس بنا پر کہ انہوں نے کفر وشرک کر کے بڑی بڑی زیادتیاں کی تھیں اور وہ جواب بھی نہ دے سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا۔۔ : یعنی ان پر اللہ کی حجت قائم ہوگئی، اس لیے وہ بول ہی نہیں سکیں گے کہ کوئی عذر پیش کرسکیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ اس وقت ہوگا جب ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 82–86

واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم علماء نے وقع قول اور دابۃ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقع القول علیھم کا معنی ہے ان پر غضب ثابت ہوجائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ان پر فیصلہ لازم ہوچکا ہے کہ وہ ایامان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جب وہ نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں تو ان پر ناراضگی ثابت ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ نے کا : وقع قول سے مراد علماء کی موت ہے، علم کا ناپید ہونا اور قرآن حکیم کا اٹھ جانا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : قرآن کے اٹھائے جانے سے پہلے قرآن کی تلاوت کثرت سے کرو۔ لوگوں نے عرض کی :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 83–86

1۔ عبد بن حمید وابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم نحشر من کل امۃ فوجا یعنی جماعت آیت باٰیتنا فہم یوزعون، یعنی لوٹایاجائے گا ان کے اول کو ان کے اخر کی طرف۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوزعون سے مراد ہے کہ وہ ہانکے جائیں گے 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووقع القول یعنی قول ثابت ہوگیا قول سے مراد غصہ ہے، آیت والنہار مبصرا سے مراد ہے روشن۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَوَقَعَ [ اور واقع (ثابت) ہوئی ] الْقَوْلُ [ وہ بات ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] ظَلَمُوْا [ انھوں نے ظلم کیا ] فَهُمْ [ پھر وہ ] لَا يَنْطِقُوْنَ [ (کچھ) نہیں بولیں گے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَھُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ) اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا یعنی وہ سزا کے مستحق ہوں گے اور ثبوت جرم کے بعد وہ بول نہ سکیں گے (بعض آیات میں جو منکرین کا عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ ابتدائی سوال و جواب کے وقت ہوگا پھر جب اعمال ناموں سے اور اپنے اعضاء کی گواہی سے حجت قائم ہوجائے گی تو بالکل بولتی بند ہوجائے گی اور کفر و شرک کے اقراری ہوجائیں گے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 82–86

ذکر بعض اشراط ساعت یعنی علامات قیامت قال اللہ تعالیٰ واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قاہرہ سے اپنے کمال قدرت اور کمال علم کو بیان کر کے امکان حشر اور امکان قیامت کو ثابت کیا پھر اس پر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بطور تفریح ذکر کیا۔ اب ان آیات میں مقدمات قیامت یعنی قیامت کی بعض علامتوں کو ذکر کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دابہ (جانور) زمین سے نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اور دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قیامت کی نشانی ہوگی اور قیامت کی علامتوں کا بتلانا سوائے نبی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ قیامت کی علامتوں کا علم صرف نبی ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

71:۔ وعدہ عذاب پورا ہو کر رہے گا اور وہ کفر و شرک اور انکار وتکذیب کی پاداش میں عذاب میں مبتلا کردئیے جائیں گے اور کوئی جواب نہ دے سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر و معذرت پیش کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–88

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات ، مسئلہ توحید اور جزائے عمل کا ذکر کیا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ عنادی اور ضدی لوگوں کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں ۔ یہ تو ان چیزوں پر اس وقت ایمان لائیں گے ۔ جب قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظہور ہوگا ۔ اس وقت منکرین مجبوراً ایمان لائیں گے مگر ایسا ایمان کچھ مفید نہیں ہوگا اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کا شکوہ کیا ہے کہ وہ آیات الٰہی میں غور و فکر کر کے ایمان کو قبول نہیں کرتے۔ دلائل توحید اور قیامت کی کیفیت کا بھی اجمالا ًذکر کردیا گیا ہے۔ میدان حشر میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لَا يَنْطِقُوْنَ۝ 85 وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن پاک میں اس مادہ سے جس قدر مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عذاب اور شدائد کے واقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–86

علامت قیامت کے بعد حشر کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ و یوم نحشرمن کل اُمۃ فوجًا کہ قیامت کے روز ہم ان لوگوں میں سے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ ہر ایک جماعت کو جمع کرکے پوچھیں گے کہ تم نے بےسمجھے بوجھے میری آیتوں کو کیوں جھٹلایا ؟ ان کو وہاں کچھ جواب نہ آئے گا۔ اولم یرو الخ یہ منکرین کے لیے الزام دیا جاتا ہے کہ دنیا میں ہم نے اپنی قدرت و کمال کے بہت سے نشان دکھائے تھے۔ منجملہ ان کے رات اور دن تھے جو کسی سے بھی مخفی نہ تھے، ان میں ہماری قدرت اور یکتائی کے بہت سے نمونہ تھے۔ اول یہ کہ زمانہ یعنی رات دن بھی کسی کے قبضہ قدرت میں تھے جن میں جس طرح چاہتا ہے صرف کرتا ہے۔ زمانہ کا اور چیزوں پر اثر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 85–86

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لاَ یَنْطِقُوْنَ ۔ (النمل : 85) (اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔ ) مکذبین کی بےبسی اس سے پہلے بھی وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ کا جملہ گزر چکا ہے۔ وہاں اس کا مطلب یہ تھا کہ جب کفار اپنے ایمان کو کسی بڑی نشانی دکھانے کے ساتھ مشروط کردیں گے اور بار بار اس نشانی کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ان پر مسلط ہوجائے گا جو منہ مانگی نشانی دکھانے پر عام طور پر مسلط کیا جاتا رہا ہے۔ وہی لفظ اس آیت میں دوبارہ لایا گیا ہے۔ لیکن یہاں ماجرا روزحشر کا ہے۔ اس لیے اس سے مراد دنیا کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 83–85

فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے ایک مدّت بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرے گا۔ قیامت برپا ہونے کے ایک مدت بعد رب ذوالجلال کے حکم سے اسرافیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ صور میں پھونک مارے گا۔ اس کی پھونک سے لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف بھاگنا شروع ہوجائیں گے۔ محشر میں ہر نبی کی امت سے مجرموں کو الگ کردیا جائے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ صرف مجرموں کو نیک لوگوں سے جدا ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرموں کے درمیان بھی ان کے گناہوں کے حساب سے ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ انہیں اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ انھیں سوال کرے گا ” کیا تم لوگ ہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

85: وَوَقَع الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لاَ یَنْطِقُوْنَ (اور ان پر بات انکے ظلم کرنے کی وجہ سے واقع ہوجائے گی۔ اسلئے وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے) ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کا جو ظلم انہوں نے ڈھایا تھا اسکی وجہ سے موعودہ عذاب انکو ڈھانپ لے گا اور وہ ان کو معذرت و بات چیت سے مشغول کردے گا جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ ہذا یوم لا ینطقون۔ ] المرسلات۔ 35[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

85۔ ووقع القول، ، ان پر ہمارا عذاب واجب ہوگیا۔ علیھم بماظلموا، ، جس کو تم نے شریک کیا۔ فھم لاینطقون ، قتادہ کا قول ہے کہ وہ کیسے کلام کرتے ہیں اور ان پر کوئی حجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ھذایوم لاینطقون ولایوذن لھم فیعتذرون، بعض نے کہا کہ وہ بولتے نہیں کیونکہ ان کی زبانوں پر مہر لگئی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–88

83 تا 88۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کر بلاویں گے پھر ان کی مثل بنے گی ہر گناہ والے قسم دار ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ چور علیحدہ شرابی علیحدہ پھر اللہ تعالیٰ جھڑ کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کم کرتے رہے اس جھڑ کی کے سوال کے بعد مشرک لوگ عذاب کے قابل قرار پاویں گے۔ اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگائی جائے گی ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ اعضا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–85

(آیت 83 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ (ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون) ” جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ستھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔ “ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجر و توبیخ اور ملامت کی جائے گی۔ (حتی اذا جاء و) اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجر و تبیخ کرتے اور ڈانٹے ہوئے پوچھے گا (اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما) ” کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمہارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ “ تم پر اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 85–86

92 دن اور رات کے ادلنے بدلنے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دن رات کے ادلنے بدلنے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ایمان والوں کیلئے "۔ سو دن رات کے اس نہایت پر حکمت اور مضبوط نظام میں صحیح غور و فکر سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خالق ومالک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کتنی عظیم الشان قدرت، کس قدر محیر العقول حکمت اور کمال علم کا مالک ہے۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق پر کس قدر مہربان، کتنا بڑا فیاض و وہاب اور کس قدر کرم فرما ہے کہ ایسی عظیم الشان نعمتوں سے انسان کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود نوازا اور برابر نوازے اور بہرہ مند فرمائے جا رہا ہے۔ نیز دن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 82–93

قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔ سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–93

آیات 83 تا 93 اسرار و معارف ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

10 ۔ یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائیگی اس لئے وہ کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے۔ اکر مفسرین (رح) نے لکھا ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب ان کے منہ پر مہر لگا دی جائیگی۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:85) ووقع القول علیہم یہاں وقع ماضی بمعنی مستقبل ہے اور (اب) ان پر (اللہ کا) وعدہ پورا ہوجائے گا۔ یعنی اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوگا (نیز ملاحظہ ہو 27:82) بما۔ ب سببیہ ہے ما مصدریہ ۔ بوجہ ان کے ظلم کے (تکذیب آیات الٰہی) ۔ لا ینطقون۔ مضارع نفی جمع مذکر غائب وہ نہیں بولیں گے ۔ وہ بول بھی نہ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–86

لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86 : نحشرو (ہم جمع کریں گے) ‘ یوزعون (جماعت بندی کی جائے گی) ‘ لم تحیطوا ( تم نے نہیں گھیرا تھا) ‘ لاینطقون ( وہ بات نہ کریں گے) ‘ لیسکنوا ( تاکہ وہ سکون حاصل کریں) مبصر (دیکھنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 : گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ جب سارے انسانوں کو فنا کردیا جائے گا تو پھر صور بھونکاجائے گا ور اللہ کے حکم سے سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ پھر تمام امتوں میں سے ایسے لوگوں کے گروہ جمع کئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ اگلے پچھلے تمام لوگ جمع ہوجائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ بتائو جب تمہارے پاس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–86

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کربلائیں گے پھر اس کی مثل بنے گی ہر قسم کے گناہ والے ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ علیحدہ، چور علیھدہ، شرابی علیحدہ۔ پھر اللہ تعالیٰ جھڑکی کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کام کرتے رہے اس جھڑکی کے سوال کے بعد مشرک فورا عذاب کے قابل قرار پائیں گے اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جائے گی اب آگے اللہ تعالیٰ نے حشر کے منکروں کو اسو طرح اپنی قدرت پر متنبہ کیا کہ یہ لوگ کیا غوروفکر نہیں کرتے کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 83–85

ف 1: یعنی قیامت میں ہر جماعت میں سے منکرین کے گروہ کو جمع کیا جائے گا ۔ کہ تم لوگ دنیا میں ان حقائق کا انکار کرتے تھے ۔ اور میری نشانیوں کی تکذیب کرتے تھے ۔ حالانکہ انہیں اتنا پورا پورا علم نہ تھا ۔ آج بتاؤوہ تمہاری تکذیب کیا ہوئی ۔ اور تمہاری شوخیاں کہاں گئیں ۔ ارشاد ہے ۔ کہ اس وقت یہ لوگ خاموش ہوجائیں گے ۔ ان کی زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اور یہ کوئی جواب نہ دے سکیں گے ۔ حل لغات :۔ فوجا ۔ ایک جماعت

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

85۔ اور ان کے ظلم و عدو ان کی وجہ سے ان پر وعدۂ عذاب پورا ہو کر رہے گا ۔ اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے۔ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی اور وہ جرم ثابت ہوجانے کے بعد کچھ بول نہ سکیں گے یعنی ابتداء میں کچھ عذر و معذرت کرتے رہیں لیکن بعد میں کوئی بات نہیں کہہ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 84–85

ف 2۔ مطلب یہ کہ سنتے ہی بلا تدبر و تفکر ان کی تکذیب کردی، اور تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا، بکہ یاد کرو کہ اس کے علاوہ اور بھی کیا کیا کرتے رہے مثلا انبیاء کو اور اہل ایمان کو آزار دیا، اسی طرح اور عقائد و اعمال کفریہ و فسقیہ میں مبتلا رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب حقیقت ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگی گو اس وقت کیا بولیں گے : 85۔ یہ بات جب ان سے پوچھی جائے گی تو وہ کچھ جواب نہیں دے سکیں گے کیونکہ جس ظلم وعدوان کا ارتکاب وہ عمر بھر کرتے رہے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بھی وہ اس سے باز نہ آئے اس کی وجہ سے ان کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور اس وقت وہ اپنی صفائی پیش کرنے سے بھی قاصر رہیں گے اور کوئی کسی طرح کا عذر بھی پیش نہ کرسکیں گے ، چپ کھڑے رہیں گے گویا ان کے لبوں پر کسی نے مہر لگا دی ہے یا اور کچھ نہیں تو ان کی قوت گویائی کسی نے سلب کرلی ہے ، ایسا کیوں ہوگا ؟ اس لئے کہ جس چیز کو وہ دنیا میں بڑے زور وشور سے جھٹلاتے رہے تھے اور بار بار اس کے آنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 83–86

Commentary (and they will be kept under control - 27:83), The word used here is derived from Waz', which means to stop. The sense here is that the people in front will be stopped, so that those left behind could catch up. Some have taken the word Waz' in the sense of 'pushing'. Hence, it would mean that they would be pushed while being brought to their stand. وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا (while you did not comprehend them with knowledge - 27:84). There is an allusion in this verse that falsifying the message of Allah Ta` ala is by itself a great sin, especially when one falsifies it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–85

102 That is, "You did not deny My Revelations on the basis of some scientific investigation, which might have proved them to be false, but you denied them without any sound reason. " 103 That is, "If it is not so, can you then prove that you treated them as false only after a thorough scientific investigation through which you came to know that the reality was not that which was being presented in these verses?"

Read the full tafseer →