Explained with ayahs 83–86
باز پرس کے لمحات
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان…
Read the full tafseer →سورة النمل 104
یعنی بیشمار نشانیوں میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کرر ہے تھے، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہوئی نہ تھیں، کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھائے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے، یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس میں مقصدیت حکمت اور منصوبہ بندی علانیہ نظر آرہی ہے جو اندھے توائے فطرت کی صفت نہیں ہوسکتی، اور یہ بہت سے خداؤں کی کافر فرمائی بھی بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
خلاصہ تفسیر
جس دن (قبروں سے زندہ کرنے کے بعد) ہم ہر امت میں سے (یعنی امم سابقہ میں سے بھی اور اس امت میں سے بھی) ایک ایک گروہ ان لوگوں کا (حساب کے لئے) جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے (پھر ان کو موقف کی طرف حساب کے لئے روانہ کیا جائے گا اور چونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اس لئے) ان کو (چلنے میں پچھلوں سے آملنے کے واسطے) روکا جائے گا (تاکہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر موقف حساب کی طرف چلیں۔ مراد اس سے کثرت کا بیان ہے کیونکہ بڑے مجمع میں عادة ایسا ہوتا ہے خواہ روک ٹوک ہو یا نہ ہو) یہاں تک کہ جب (چلتے چلتے موقف میں) حاضر ہوجاویں گے تو (حساب شروع ہوگا اور) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماوے گا کہ…
Read the full tafseer →اس آیت میں، عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، ماقبل الفاظ محذوف ہیں۔ پہلے ٹکڑے میں مظلماً ، ذف ہے اور دوسرے ٹکڑے میں تعملوا یا اس کے ہم معنی کوئی فعل و اسایجاز کی بلاغت کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
فعل یومنون یہاں ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔
عذاب کی نشانی مانگنے والوں کو ملامت
یہ نشانی عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو ملامت ہے کہ آخر یہ محروم القسمت لوگ عذاب ہی دیکھنے کے لئیکیوں اڑے ہوئے ہیں، اس کائنات کی نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے ! کیا ان کو ہماری ہر روز ظاہر ہونے والی یہ عظیم قدرت و حکمت نظر نہیں آتی کہ ہم نے رات کو تاریک و پرسکون بنایا تاکہ وہ اس میں سکون و راحت حاصل کریں اور دن کو روشن…
Read the full tafseer →86-1تاکہ وہ اس میں کسب معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
37: آگے آیت نمبر 89 میں اس کی وضاحت آرہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیک اعمال لے کر آئیں گے، اور بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ شہداء ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…
Read the full tafseer →2 یعنی کیسے کھلے کھلے نشان اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دکھلائے، پر ذرا بھی غور نہ کیا۔ ایک رات دن کے روزانہ ادل بدل ہی میں غور کرلیتے تو اللہ کی توحید پیغمبروں کی ضرورت اور بعث بعد الموت، سب کچھ سمجھ سکتے تھے۔ آخر وہ کون ہستی ہے جو ایسے مضبوط و محکم انتظام کے ساتھ برابر دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کو نمودار کرتا ہے اور جس نے ہماری ظاہری بصارت کے لیے شب کی تاریکی کے بعد دن کا اجالا کیا، کیا وہ ہماری باطنی بصیرت کے لیے اوہام واہواء کی تاریکیوں میں معرفت و ہدایت کی روشنی نہ بھیجتا۔ پھر رات کیا ہے ؟ نیند کا وقت ہے جسے ہم موت کا ایک نمونہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد دن آیا پھر آنکھیں کھول کر ادھر…
Read the full tafseer →آیت 86 اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا ط ”
اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کے تحت رات کو سکون کے لیے جبکہ دن کو معاشی جدوجہد کے لیے سازگار بنایا ہے۔
Read the full tafseer →91 یعنی دن اور رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے اور آتے جاتے رہنے میں ایک نہیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بیشمار نشانیاں ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ نشانیاں ایسی ہیں جنہیں ہر شخص ہر وقت مشاہدہ کرسکتا ہے کیا تم نے کبھی سوچا کہ یہ دن رات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی راتیں لمبی ہوجاتی ہیں اور کبھی دن اور کبھی اس کے برعکس۔ پھر موسموں کے تغیر و تبدل پر بھی غور کیا تھا کہ سورج اور تمہاری زمین کا باہمی کیا تعلق ہے ؟ یہ عظیم الشان تعلق قائم کرنا پھر ہر وقت اس نظام پر کنٹرول رکھنا کیا یہ سب کچھ اتفاقی امور تھے یا کوئی مقتدر ہستی یہ نظام چلا رہی تھی۔ اور اس نظام سے تمہارے کس…
Read the full tafseer →94۔ (امکان بعث و قیامت پر) شب کا آرام مشابہ ہے موت کے اور دن کی بیداری مشابہ ہے اخروی زندگی کے۔ امکان بعث یوں بھی ایک صریح وواضح حقیقت ہے۔ یہ روز مرہ کی نظیر اس امکان کو کہیں زیادہ قوی کردیتی ہے۔ “ موت کی حقیقت ہے زوال تعلق روح عن الجسد اور حیات ثانیہ کی حقیقت ہے عود اس تعلق کا۔ اور نوم بھی من وجہ زوال ہے اس تعلق کا کیونکر ضعف بھی اس شے کے مراتب وجود میں سے کسی مرتبہ کا زوال ہوتا ہے۔ اور یقظہ عود ہے اس تعلق زائل کا۔ پس دونوں میں تشابہ تام ہوا، اور ایک نظیر کے ساتھ قدرت کا تعلق مشاہد ہے اور یہ تعلق معلل کسی علت سے ہے نہیں بلکہ ذات واجب اس کو مقتضی ہے اور محل قدرت کا امتناع کسی دلیل سے ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…
Read the full tafseer →الم یروا انا جعلنا الیل یلسکنوا فیہ والنھار مبصرا ان فی ذلک لایت لقوم یومنون
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ لوگ اس میں آرام کریں اور دن بنایا جس میں دیکھیں ؟ بیشک و شبہ اس میں بڑی دلیلیں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔
یعنی جب وہ دلائل جو موجب ایمان تھیں انہوں نے دیکھ لیں تو پھر معذرت کیا پیش کرسکیں گے۔ اَلَمْ یَرَوْا میں استفہام انکاری اور انکار نفی اثبات میں ہوتا ہے (عدم کا عدم مرادف وجود ہے۔ مترجم) اس لئے اَلَمْ یَرَوْا کا مطلب ہوا کہ انہوں نے دیکھ لیا۔ جَعَلْنَا ہم نے پیدا کیا (اس جگہ جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہے) لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ یعنی سوئیں اور حرکت چھوڑ کر قرار…
Read the full tafseer →(86) کیا کفار مکہ اس میں غور نہیں کرتے کہ ہم نے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کریں اور روز گار وغیرہ کے دیکھنے کے لیے دن بنایا تاکہ اس میں روزی تلاش کریں یہ جو ہم نے انکے آرام کے لیے چیزیں بنائیں بیشک اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو کہ اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ۔۔ : حشر کا ذکر فرمایا تو اس کی دلیل کے طور پر رات کی نیند اور ظلمت کا ذکر فرمایا، جو ایک طرح کی موت ہے اور دن کی بیداری اور اجالے کا ذکر فرمایا، جو زندگی ہے۔ (دیکھیے زمر : 42) یعنی کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ موت و حیات کا یہ سلسلہ ہر روز ان کے مشاہدے میں آتا ہے، بلکہ خود ان کی ذات پر گزرتا ہے، جس میں ان کے لیے سکون اور تلاش رزق کی نعمتیں بھی موجود ہیں۔ صرف یہ دو نشانیاں ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو قیامت پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم علماء نے وقع قول اور دابۃ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقع القول علیھم کا معنی ہے ان پر غضب ثابت ہوجائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ان پر فیصلہ لازم ہوچکا ہے کہ وہ ایامان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جب وہ نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں تو ان پر ناراضگی ثابت ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ نے کا : وقع قول سے مراد علماء کی موت ہے، علم کا ناپید ہونا اور قرآن حکیم کا اٹھ جانا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : قرآن کے اٹھائے جانے سے پہلے قرآن کی تلاوت کثرت سے کرو۔ لوگوں نے عرض کی :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1۔ عبد بن حمید وابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم نحشر من کل امۃ فوجا یعنی جماعت آیت باٰیتنا فہم یوزعون، یعنی لوٹایاجائے گا ان کے اول کو ان کے اخر کی طرف۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوزعون سے مراد ہے کہ وہ ہانکے جائیں گے
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووقع القول یعنی قول ثابت ہوگیا قول سے مراد غصہ ہے، آیت والنہار مبصرا سے مراد ہے روشن۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا [ کیا انھوں نے حور ہی نہیں کیا کہ ] اَنَّا جَعَلْنَا [ ہم نے بنائی ] الَّيْلَ [ رات ] لِيَسْكُنُوْا [ تاکہ وہ سکون حاصل کریں ] فِيْهِ [ اس میں ] وَالنَّهَارَ [ اور دن کو (بنایا)] مُبْصِرًا ۭ [ بینا کرنے والا ہوتے ہوئے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّـقَوْمٍ [ ایسی قوم کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ]
Read the full tafseer →(اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا اللَّیْلَ ) (الآیۃ) اس آیت میں بتایا ہے کہ لوگوں کو رات اور دن کے آنے جانے میں غور کرنا چاہیے دیکھو ہم نے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو ایسا بنایا کہ جس میں دیکھنے بھالنے کا موقع ہے یہ رات کا سونا جو موت کے مشابہ ہے اس پر نظر ڈالیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ دن کو ظاہر فرما دیتے ہیں اور یہ سونے کے بعد اٹھ جانا اور چلنا پھرنا دیکھنا بھالنا اس پر واضح دلالت کرتا ہے کہ جس ذات پاک نے بار بار نیند سے جگا دیا موت کے بعد بھی زندہ کرسکتا ہے اسی سے سمجھ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے اس کو سورة زمر میں فرمایا۔ (اللّٰہُ یَتَوَفَّی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ذکر بعض اشراط ساعت یعنی علامات قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قاہرہ سے اپنے کمال قدرت اور کمال علم کو بیان کر کے امکان حشر اور امکان قیامت کو ثابت کیا پھر اس پر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بطور تفریح ذکر کیا۔ اب ان آیات میں مقدمات قیامت یعنی قیامت کی بعض علامتوں کو ذکر کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دابہ (جانور) زمین سے نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اور دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قیامت کی نشانی ہوگی اور قیامت کی علامتوں کا بتلانا سوائے نبی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ قیامت کی علامتوں کا علم صرف نبی ہی…
Read the full tafseer →72:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے جو دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی کارساز صرف الللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن بنایا تاکہ وہ اس میں اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں یہ رات دن کی آمد و رفت اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے لہذا کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے۔ اس آیت میں صنعت احتیاک ہے یعنی پہلے جملے میں جعلنا کا مفعول ثانی مقدر ہے۔ یعنی مظلما اور دوسرے جملے میں مفعول ثانی کا متعلق محذوف ہے یعنی لینشروا فیہ والمشہوران فی الایۃ صنعۃ الاحتباک والتقدیر جعلنا اللیل مظلما لیسکنوا فیہ والنھار مبصرا لینشروا فیہ (روح ج 20 ص 69) ۔
73:۔ اس دلیل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات ، مسئلہ توحید اور جزائے عمل کا ذکر کیا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ عنادی اور ضدی لوگوں کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں ۔ یہ تو ان چیزوں پر اس وقت ایمان لائیں گے ۔ جب قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظہور ہوگا ۔ اس وقت منکرین مجبوراً ایمان لائیں گے مگر ایسا ایمان کچھ مفید نہیں ہوگا اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کا شکوہ کیا ہے کہ وہ آیات الٰہی میں غور و فکر کر کے ایمان کو قبول نہیں کرتے۔ دلائل توحید اور قیامت کی کیفیت کا بھی اجمالا ًذکر کردیا گیا ہے۔
میدان حشر میں…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 86
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
علامت قیامت کے بعد حشر کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ و یوم نحشرمن کل اُمۃ فوجًا کہ قیامت کے روز ہم ان لوگوں میں سے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ ہر ایک جماعت کو جمع کرکے پوچھیں گے کہ تم نے بےسمجھے بوجھے میری آیتوں کو کیوں جھٹلایا ؟ ان کو وہاں کچھ جواب نہ آئے گا۔ اولم یرو الخ یہ منکرین کے لیے الزام دیا جاتا ہے کہ دنیا میں ہم نے اپنی قدرت و کمال کے بہت سے نشان دکھائے تھے۔ منجملہ ان کے رات اور دن تھے جو کسی سے بھی مخفی نہ تھے، ان میں ہماری قدرت اور یکتائی کے بہت سے نمونہ تھے۔ اول یہ کہ زمانہ یعنی رات دن بھی کسی کے قبضہ قدرت میں تھے جن میں جس طرح چاہتا ہے صرف کرتا ہے۔ زمانہ کا اور چیزوں پر اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لاَ یَنْطِقُوْنَ ۔ (النمل : 85)
(اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔ )
مکذبین کی بےبسی
اس سے پہلے بھی وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ کا جملہ گزر چکا ہے۔ وہاں اس کا مطلب یہ تھا کہ جب کفار اپنے ایمان کو کسی بڑی نشانی دکھانے کے ساتھ مشروط کردیں گے اور بار بار اس نشانی کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ان پر مسلط ہوجائے گا جو منہ مانگی نشانی دکھانے پر عام طور پر مسلط کیا جاتا رہا ہے۔ وہی لفظ اس آیت میں دوبارہ لایا گیا ہے۔ لیکن یہاں ماجرا روزحشر کا ہے۔ اس لیے اس سے مراد دنیا کا فیصلہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کے غور و فکر کے لیے رات اور دن میں دلائل۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی پہچان اور قیامت پر ایمان لانے کے لیے اپنی قدرتون پر غور کرنے کا بار بار حکم دیا ہے ان میں اکثر نشانیاں ایسی ہیں جن سے ہر شخص کو صبح و شام واسطہ پڑتا ہے اِ ن نشانیوں میں سے قرآن مجید نے رات اور دن کو کئی مرتبہ نشانی اور دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہاں رات کے بارے میں فرمایا ہے کہ رات اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ لوگ اس میں سکون پائیں اور دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ اپنا کام کاج اور ضرورتیں پوری کرسکیں۔ کیا لوگوں نے رات اور دن کے بارے میں نہیں سوچا کہ ان…
Read the full tafseer →86: اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ لوگ اس میں آرام کریں) ۔ والنَّہَارَ مُبْصِرًا (اور دن بنایا جس میں دیکھیں) ۔ : مبصرًا یہ حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کو دن کے لئے بنایا اور دن آنکھوں والوں کے لئے ہے۔ معنی کے اعتبار سے تقابل کی رعایت کی گئی کیونکہ مبصرا کا معنی یہ ہے تاکہ وہ معاش میں آنے جانے کے راستے دیکھ لیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (بیشک اس میں البتہ ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں) ۔ جو تصدیق کر کے ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
اس میں دلیل ہے کہ اٹھایا جانا درست ہے۔ کیونکہ آیت کا مطلب…
Read the full tafseer →86۔ الم یرواناجعلنا ، ہمیں پیدا کیا۔ اللیل لیسکنوا فیہ والنھار مبصرا، دن کے وقت وہ دیکھتا ہے ، ان فی ذالک لایات لقوم یومنون، جو اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
83 تا 88۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کر بلاویں گے پھر ان کی مثل بنے گی ہر گناہ والے قسم دار ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ چور علیحدہ شرابی علیحدہ پھر اللہ تعالیٰ جھڑ کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کم کرتے رہے اس جھڑ کی کے سوال کے بعد مشرک لوگ عذاب کے قابل قرار پاویں گے۔ اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگائی جائے گی ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ اعضا…
Read the full tafseer →(آیت 84 ۔
یعنی کیا انہوں نے اس عظیم نشانی اور بہت بڑی نعمت کا مشاہدہ نہیں کیا ؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے شب و روز کو مسخر کردیا۔ یہ رات اپنے اندھیرے کی وجہ سے نعمت ہے لوگ اس میں سکون پاتے اور تھکن سے آرام کرتے ہیں اور کام کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور دن اپنی روشنی کی وجہ سے نعمت ہے تاکہ لوگ اس روشنی میں پھیل جائیں اور اپنی معاش اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہوجائیں۔ (ان فی ذلک لایت لقوم یومنون) ” اس میں لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں “ اللہ تعالیٰ کی کامل وحدانیت اور اس کی بےپایاں نعمت پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
92 دن اور رات کے ادلنے بدلنے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دن رات کے ادلنے بدلنے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ایمان والوں کیلئے "۔ سو دن رات کے اس نہایت پر حکمت اور مضبوط نظام میں صحیح غور و فکر سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خالق ومالک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کتنی عظیم الشان قدرت، کس قدر محیر العقول حکمت اور کمال علم کا مالک ہے۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق پر کس قدر مہربان، کتنا بڑا فیاض و وہاب اور کس قدر کرم فرما ہے کہ ایسی عظیم الشان نعمتوں سے انسان کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود نوازا اور برابر نوازے اور بہرہ مند فرمائے جا رہا ہے۔ نیز دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–93
قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔
سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83 تا 93
اسرار و معارف
ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…
Read the full tafseer →11 ۔ یعنی کہ صرف رات دن کی دو نشانیاں ایسی ہیں جن سے اللہ کی توحید نبوت اور موت کے بعد دوبارہ زندگی پر استدلال ہوسکتا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:86) الم یروا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم یروا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر غائب ۔ کیا ہو نہیں دیکھتے ۔ یعنی کیا وہ نہیں جانتے۔
لیسکنوا۔ لام تعلیل کا ہے یسکنوا مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) سکون مصدر (باب نصر) تاکہ آرام حاصل کریں۔
مبصرا واحد مذکر اسم فاعل بحالت نصب۔ ابصار (افعال) مصدر۔ دیکھنے والا۔ دکھانے والا۔ جو خود واضح اور روشن ہو وہ بھی مبصر ہے اور جو دوسروں کو واضح اور روشن کر دے وہ بھی مبصر ہے۔ دن خود بھی روشن ہے اور دوسری چیزوں کو روشن بنانے والا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86 :
نحشرو (ہم جمع کریں گے) ‘ یوزعون (جماعت بندی کی جائے گی) ‘ لم تحیطوا ( تم نے نہیں گھیرا تھا) ‘ لاینطقون ( وہ بات نہ کریں گے) ‘ لیسکنوا ( تاکہ وہ سکون حاصل کریں) مبصر (دیکھنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 :
گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ جب سارے انسانوں کو فنا کردیا جائے گا تو پھر صور بھونکاجائے گا ور اللہ کے حکم سے سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ پھر تمام امتوں میں سے ایسے لوگوں کے گروہ جمع کئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ اگلے پچھلے تمام لوگ جمع ہوجائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ بتائو جب تمہارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کربلائیں گے پھر اس کی مثل بنے گی ہر قسم کے گناہ والے ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ علیحدہ، چور علیھدہ، شرابی علیحدہ۔ پھر اللہ تعالیٰ جھڑکی کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کام کرتے رہے اس جھڑکی کے سوال کے بعد مشرک فورا عذاب کے قابل قرار پائیں گے اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جائے گی اب آگے اللہ تعالیٰ نے حشر کے منکروں کو اسو طرح اپنی قدرت پر متنبہ کیا کہ یہ لوگ کیا غوروفکر نہیں کرتے کہ…
Read the full tafseer →[30] کیسی کیسی کھلی نشانیاں اللہ نے دنیا میں دکھلائیں لیکن انہوں نے ذرا بھی غور نہ کیا۔ ایک رات دن کے روزانہ ادل بدل ہی میں غور کرلیتے تو اللہ کی توحید، پیغمبروں کی ضرورت اور بعث بعد الموت سب کچھ سمجھ سکتے تھے۔ آخر وہ کون ہستی ہے جو ایسے مضبوط اور محکم نظام کے ساتھ برابر دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کو نمودار کرتی ہے اور جس نے ہماری ظاہری بصارت کے لئے شب کی تاریکی کے بعد دن کا اجالا کیا ؟ کیا وہ ہماری باطنی بصیرت کے لئے وہم و گمان کی تاریکیوں میں معرفت و ہدایت کی روشنی نہ بھیجتی ؟ پھر رات کیا ہے ؟ نیند کا وقت ہے جسے ہم موت کا نمونہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد دن آیا پھر آنکھیں کھول کر ادھر…
Read the full tafseer →ف 2: اس آیت میں تذکیر بالآء اللہ کے اصول پر انسانی توجہات کو عجائبات دنیا کی طرف مبذول فرمایا ہے ؟
ارشاد ہے کہ یہ رات اور دن کے نظام افادیت پر غور کریں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رات کو سکون اور آرام کے لئے بنایا ہے ۔ اور کیونکر دن کو روشن بنایا ہے ۔ تاکہ تم اس میں کام کرو ۔ اور اپنے فرائض منصبی کو انجام دے سکو ۔
Read the full tafseer →86۔ کیا ان منکرین دین حق نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے رات بنائی تا کہ لوگ اس میں آرام کریں اور ہم نے دن کو روشن اور دکھانے والا بنایا یقینا اس دن رات کی بناوٹ اور ساخت میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو ایمان رکھتے ہیں یعنی روز رات کو سوتے ہیں نیند جو ہم شکل موت ہے اس سے ہم کنار ہوتے ہیں پھر صبح اٹھتے ہیں اور موت کے بعد زندہ ہوتے ہیں پھر بھی قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے پر شبہ کرتے رہے لیکن چونکہ یہ تدبیر نہیں کرتے اس لئے ان کو کوئی دلیل نہیں دکھائی دیتی ۔ اہل ایمان چونکہ تدبر و تفکر کرتے ہیں تو اس رات دن کی ساخت میں ان کے لئے بڑے دلائل ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ف 3۔ کیونکہ وہ تدبر کرتے ہیں اور دوسرے تدبر نہیں کرتے اور انتاج کے لئے نظر و فکر ضروری ہے، اس لئے دوسرے اس سے منتفع نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →جن نشانیوں میں وہ رہا کرتے تھے اب ان کی توجہ ان کی طرف مبذول کرائی جائے گی :
86۔ اب ان سے پوچھا جائے گا کہ صاحب یہ بتاؤ کہ وہ راتیں جو تم دنیا میں گزارا کرتے تھے اور ان میں آرام کیا کرتے تھے اور وہ دین جو تمہارے کام کاج کے لئے اور دیکھ کر چلنے پھرنے کے لئے بنائے گئے تھے اور ہر روز تم ایک بار رات سے اور ایک بار دن سے دو چار ہوتے تھے اگر تم کو یقین لانا ہی ہوتا تو وہ کوئی کم نشانیاں تھیں لیکن تم وہ لوگ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں میں رہتے ہوئے مزید نشانیاں طلب کرتے رہے اور ان پر کبھی تم نے غور نہ کیا وہ رب العالمین جو اس طرح باقاعدگی کے ساتھ ہم پر ہر دن کے بعد رات اور ہر رات کے بعد دن لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
Commentary
(and they will be kept under control - 27:83), The word used here is derived from Waz', which means to stop. The sense here is that the people in front will be stopped, so that those left behind could catch up. Some have taken the word Waz' in the sense of 'pushing'. Hence, it would mean that they would be pushed while being brought to their stand.
وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا (while you did not comprehend them with knowledge - 27:84). There is an allusion in this verse that falsifying the message of Allah Ta` ala is by itself a great sin, especially when one falsifies it…
Read the full tafseer →104 That is, "Two out of the countless signs were such which they were observing at all times, whose benefits they were enjoying every moment, and which were not hidden even from a blind or deaf or dumb person. While they benefited by the rest at night and the opportunities afforded by the day, why did they not think that it is a system devised by an All-Wise Being, Who has established the relationship between the sun and the earth precisely to meet their requirements and needs ? This cannot be a mere accident, for it clearly manifests purposefulness, wisdom and planning, which cannot be the…
Read the full tafseer →