Explained with ayahs 83–86
باز پرس کے لمحات
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
سورة النمل 102
یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ ہرگز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یوں ہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا ؟
سورة النمل 103
یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہوگیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئٰ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
خلاصہ تفسیر
جس دن (قبروں سے زندہ کرنے کے بعد) ہم ہر امت میں سے (یعنی امم سابقہ میں سے بھی اور اس امت میں سے بھی) ایک ایک گروہ ان لوگوں کا (حساب کے لئے) جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے (پھر ان کو موقف کی طرف حساب کے لئے روانہ کیا جائے گا اور چونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اس لئے) ان کو (چلنے میں پچھلوں سے آملنے کے واسطے) روکا جائے گا (تاکہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر موقف حساب کی طرف چلیں۔ مراد اس سے کثرت کا بیان ہے کیونکہ بڑے مجمع میں عادة ایسا ہوتا ہے خواہ روک ٹوک ہو یا نہ ہو) یہاں تک کہ جب (چلتے چلتے موقف میں) حاضر ہوجاویں گے تو (حساب شروع ہوگا اور) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماوے گا کہ…
Read the full tafseer →مکذبین سے ایک سوال
جب یہ سارے مجرمین اکٹھے ہولیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے سوال فرمائے گا کہ بتائو کیا تم نے میری آیات کی تکذیب کی درآنحالیکہ تمہارے علم نے ان کا پورا پورا احاطہ نہیں کیا تھا یا تم کیا بناتے رہے تھے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس روز حشر و نشر اور جزاء و سزا کو اس بنیاد پر جھٹلایا ہوتا کہ تمہارے پاس تمام اسرار کائنات کا علم ہے تب تو تمہارا ایک مئوقف ہوسکتا تھا لیکن اس طرح کا محیط کل علم نہ رکھنے کے باوجود اگر تم نے میری تنبیہات کی تکذیب کی تو اب بتائو تمہارے پاس کیا عذر ہے ؟
اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی بات کو تسلی کرنے کے لئے یہ چیز کافی ہے کہ اس کے دلائل و آثار عقل و فطرت اور…
Read the full tafseer →84-1یعنی تم نے میری توحید اور دعوت کے دلائل سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کہ اور اس کے بغیر ہی میری آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔
84-2جس کی وجہ سے تمہیں میری باتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
37: آگے آیت نمبر 89 میں اس کی وضاحت آرہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیک اعمال لے کر آئیں گے، اور بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ شہداء ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…
Read the full tafseer →9 یعنی پوری طرح سمجھنے اور تمام اطراف و جوانب پر نظر ڈالنے کی کوشش بھی نہ کی، پہلے ہی جھٹلانا شروع کردیا۔ یا بولو ! ' یہ نہیں تو اور کیا کرتے تھے۔ " یعنی اس کے سوا تمہارا کام ہی کیا تھا۔ اور ممکن ہے یہ مطلب ہو کہ بےسوچے سمجھے تکذیب ہی کی تھی ؟ یا بولو ! اس کے سوا اور بھی کچھ گناہ سمیٹے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 44 حتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْ قَالَ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”
یعنی کیا تم لوگ واقعتا میری آیات کو سمجھ نہیں سکے تھے یا پھر سمجھنے کے بعد تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا انکار کرتے رہے تھے ؟
Read the full tafseer →88 اس آیت میں میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے۔ مجرموں کی ان کے جرائم کے لحاظ سے الگ الگ جماعتیں بنادی جائیں گی۔ جیسے مثلاً مشرکوں کی الگ جماعت ہوگی۔ کافروں کی الگ، منافقوں کی الگ، اور بعض مفسرین نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ مکذبین کو محشر کی طرف لے چلیں گے اور وہ اتنی کثرت سے ہوں گے کہ پیچھے چلنے والوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جائے گا۔ جیسا کہ انبوہ کثیر میں انتظام قائم رکھنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ وزع کا بنیادی معنی صرف روک دینا یا روکے رکھنا ہے۔ لہذا اس کے معنی میں دونوں طرح مطالب کی گنجائش موجود ہے۔
89 یعنی میری آیات کے انکار کے سلسلہ میں تمہارے پاس کوئی معقول وجہ یا دلیل موجود نہیں تھی۔…
Read the full tafseer →92۔ مثلا یہی کہ انبیاء واہل ایمان کو ناحق ستایا، جو نفس تکذیب سے بھی بڑھا ہوا جرم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے جمع ہونے پر ان پر فرد جرم لگ جائے گی اور الزام یہ قائم ہوگا کہ تم نے سنتے ہی بلا تدبر و تفکر تکذیب شروع کردی اور تکذیب ہی پر اکتفانہ کی بلکہ اور بھی بہت کچھ کر گزرے۔ (آیت) ” اما “ میں ام منقطعہ ہے۔ یعنی بل، کے معنی میں۔ وام ھنا منقطعۃ ینبغی ان تعدی ببل (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…
Read the full tafseer →حتی اذا جاء و . یہاں تک کہ جب وہ (سب محشر کی طرف) آجائیں گے۔
قال اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما اما ذا کنتم تعلمون . اللہ فرمائے گا : کیا تم نے میری
آیات کو ایسی حالت میں جھٹلایا تھا کہ ان کا پورا علم بھی تم نے حاصل نہیں کیا تھا یا (اگر نہیں جھٹلایا تھا اور ان کی تصدیق کی تھی تو بتاؤ) عمل کیا کرتے تھے ؟
یعنی کیا تو نے یونہی سطح طور پر رائے قائم کرلی تھی اور آیات کی حقیقت پر غور نہیں کیا تھا کہ تم کو ان کی حقیقت معلوم ہوجاتی اور تم ان کا علمی احاطہ کرلیتے ؟ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے میری آیات کی تکذیب کردی اور یہ پورے طور پر نہیں جانا کہ آیات مستحق تصدیق ہیں یا سزاوار تکذیب ؟ استفہام زجری ہے۔…
Read the full tafseer →(84) یہاں تک کہ جب سب آکر جمع ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میری کتاب اور میرے رسول کو جھٹلایا تھا اور یہ تک تم نے غور نہیں کیا کہ یہ میری طرف سے ہیں اور بلا سوچے سمجھے تکذیب کردی اور اس کے علاوہ کفر وشرک کے اور بھی کام کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْ۔۔ : یعنی ان کے حاضر ہونے پر ان سے عقائد و اعمال دونوں کے متعلق سوال ہوگا اور یہ سوال انھیں شرمندہ اور لاجواب کرنے کے لیے ہوگا کہ کیا دنیا میں تمہارا یہی مشغلہ رہا کہ تم ہماری آیات کو پوری طرح جاننے اور سمجھنے کے بغیر ہی جھٹلاتے رہے۔ تمہارے جھٹلانے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ تم نے پوری طرح جاننے اور سمجھنے کے بعد انھیں غلط سمجھ کر جھٹلایا ہو، یا پھر بتاؤ تم کیا کرتے رہے تھے، جیسا کہ سورة ملک میں کفار کا قول نقل کیا ہے، فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم علماء نے وقع قول اور دابۃ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقع القول علیھم کا معنی ہے ان پر غضب ثابت ہوجائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ان پر فیصلہ لازم ہوچکا ہے کہ وہ ایامان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جب وہ نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں تو ان پر ناراضگی ثابت ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ نے کا : وقع قول سے مراد علماء کی موت ہے، علم کا ناپید ہونا اور قرآن حکیم کا اٹھ جانا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : قرآن کے اٹھائے جانے سے پہلے قرآن کی تلاوت کثرت سے کرو۔ لوگوں نے عرض کی :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1۔ عبد بن حمید وابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم نحشر من کل امۃ فوجا یعنی جماعت آیت باٰیتنا فہم یوزعون، یعنی لوٹایاجائے گا ان کے اول کو ان کے اخر کی طرف۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوزعون سے مراد ہے کہ وہ ہانکے جائیں گے
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووقع القول یعنی قول ثابت ہوگیا قول سے مراد غصہ ہے، آیت والنہار مبصرا سے مراد ہے روشن۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →حَتّىٰٓ [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] جَاۗءُوْ [ وہ آئیں گے ] قَالَ [ تو (اللہ) کہے گا ] اَكَذَّبْتُمْ [ کیا تم لوگوں نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِيْ [ میری نشانیوں کو ] وَ [ حالانکہ ] لَمْ تُحِيْطُوْا [ تم نے احاطہ ہی نہیں کیا ] بِهَا [ ان کا ] عِلْمًا [ بلحاظ علم کے ] اَمَّاذَا [ یا (اگر یہ نہیں تو) وہ کیا ہے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کیا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
قیامت کے دن کی پیشی، مکذمین کی جماعت بندی، اور ان سے سوال، اقرار جرم کے بعد ان کے لیے عذاب کا فیصلہ
قیامت کے دن اولین و آخرین سب ہی جمع کیے جائیں گے اور ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں میں سے علیحدہ کردیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے تھے اور ان کی جماعت بندی باقی رکھنے کے لیے یوں کیا جائے گا کہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر حساب کی جگہ تک چلیں پھر جب موقف حساب میں پہنچ جائیں گے (جہاں حساب ہوگا) تو ان جھٹلانے والوں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ہوگا کیا تم لوگوں نے میری آیات کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں اپنے احاطہ علم میں بھی نہیں لائے یعنی آیات کو سن کر اول تمہیں انہیں جاننا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ذکر بعض اشراط ساعت یعنی علامات قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قاہرہ سے اپنے کمال قدرت اور کمال علم کو بیان کر کے امکان حشر اور امکان قیامت کو ثابت کیا پھر اس پر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بطور تفریح ذکر کیا۔ اب ان آیات میں مقدمات قیامت یعنی قیامت کی بعض علامتوں کو ذکر کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دابہ (جانور) زمین سے نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اور دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قیامت کی نشانی ہوگی اور قیامت کی علامتوں کا بتلانا سوائے نبی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ قیامت کی علامتوں کا علم صرف نبی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
70:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب ہم انکار کرنے والوں کو فوج در فوج میدان حشر میں جمع کریں گے تو انہیں ایک جگہ روک دیا جائے گا تاکہ پچھلے بھی ان کے ساتھ مل جائیں اور سب کو اکٹھا کر کے حساب کے لیے لیجا یا جائے۔ حتی اذا جاء وا قال اکذبتم الخ جب تمام کفار موقف میں جمع ہوجائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتوں کو تم نے سرسری طور پر سن کر ہی انکا انکار کردیا اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے اور ان کی حقیقت کو پانے کی کوشش نہ کی اکذبت بایاتی بادی الرای من غیر فکر ولا نظر یودی الی احاطۃ العلم بکنھھا وانھا حقیقۃ بالتصدیق (مدارک ج 3 ص 170) ۔ ام ما ذا کنتم تعملون جب ہماری آیتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات ، مسئلہ توحید اور جزائے عمل کا ذکر کیا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ عنادی اور ضدی لوگوں کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں ۔ یہ تو ان چیزوں پر اس وقت ایمان لائیں گے ۔ جب قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظہور ہوگا ۔ اس وقت منکرین مجبوراً ایمان لائیں گے مگر ایسا ایمان کچھ مفید نہیں ہوگا اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کا شکوہ کیا ہے کہ وہ آیات الٰہی میں غور و فکر کر کے ایمان کو قبول نہیں کرتے۔ دلائل توحید اور قیامت کی کیفیت کا بھی اجمالا ًذکر کردیا گیا ہے۔
میدان حشر میں…
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 84
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
علامت قیامت کے بعد حشر کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ و یوم نحشرمن کل اُمۃ فوجًا کہ قیامت کے روز ہم ان لوگوں میں سے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ ہر ایک جماعت کو جمع کرکے پوچھیں گے کہ تم نے بےسمجھے بوجھے میری آیتوں کو کیوں جھٹلایا ؟ ان کو وہاں کچھ جواب نہ آئے گا۔ اولم یرو الخ یہ منکرین کے لیے الزام دیا جاتا ہے کہ دنیا میں ہم نے اپنی قدرت و کمال کے بہت سے نشان دکھائے تھے۔ منجملہ ان کے رات اور دن تھے جو کسی سے بھی مخفی نہ تھے، ان میں ہماری قدرت اور یکتائی کے بہت سے نمونہ تھے۔ اول یہ کہ زمانہ یعنی رات دن بھی کسی کے قبضہ قدرت میں تھے جن میں جس طرح چاہتا ہے صرف کرتا ہے۔ زمانہ کا اور چیزوں پر اثر…
Read the full tafseer →حَتّٰیٓ اِذَا جَآئُ ْوقَالَ اَکَذَّبْـتُمْ بِاٰیٰـتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِھَا عِلْمًا اَمَّاذَا کُنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔
(النمل : 84)
(یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (پروردگار) پوچھے گا کہ تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا، یا وہ کیا تھا جو تم کرتے رہے ہو۔ )
مکذبین سے ایک سوال
جب سب مجرمین میدانِ حشر میں اکٹھے ہوجائیں گے جن میں عقیدہ و عمل کی ہر طرح کی خرابیوں کے حامل لوگ موجود ہوں گے تو پروردگار ان سے پوچھے گا کہ میں نے تمہیں عقل جیسی دولت عطا فرمائی اور پھر سلامتِ فکر کے لیے بار بار اپنے پیغمبر بھیجے اور فکری غذا کے لیے ان پر اپنی کتابیں نازل کیں اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے ایک مدّت بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرے گا۔
قیامت برپا ہونے کے ایک مدت بعد رب ذوالجلال کے حکم سے اسرافیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ صور میں پھونک مارے گا۔ اس کی پھونک سے لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف بھاگنا شروع ہوجائیں گے۔ محشر میں ہر نبی کی امت سے مجرموں کو الگ کردیا جائے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ صرف مجرموں کو نیک لوگوں سے جدا ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرموں کے درمیان بھی ان کے گناہوں کے حساب سے ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ انہیں اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ انھیں سوال کرے گا ” کیا تم لوگ ہو…
Read the full tafseer →84: حَتّٰی اِذَا جَآئُ وْ (یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے) ۔ موقف حساب وسوال میں جمع ہوجائیں گے۔ قَالَ (تو اللہ تعالیٰ ان کو بطور تہدید فرمائیں گے) ۔ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا (کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا بلا سوچے سمجھے سرسری رائے سے تکذیب کردی اور اس کی حقیقت کے معلوم ہونے کے بغیر) کہ یہ واقعہ میں سچی حقیقت ہے یا جھوٹی بات۔ اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (یا پھر تم کیا عمل کرتے رہے۔ جبکہ تم نے ان میں غور ہی نہیں کیا۔ تمہیں بےکار تو نہیں بنایا گیا) ۔
Read the full tafseer →84۔ حتی اذاجاء و، ، قیامت کے دن آئیں گے۔ قال ، اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا، ، اکذبتم بایاتی ولم تحیطوا بھا علما، انہوں نے اس کو نہیں پہچانا کہ جیسا کہ پہچاننے کا حق تھا۔ اماذاکنتم تعملون، ، جب انہوں نے اس میں غور و فکر نہیں کیا، آیت کا معنی یہ ہے کہ تم نے میری آیات کو جھٹلادیا، ان کو جاننے کے باوجود اور نہ ہی تم نے اس میں غور و فکر کیا ہے بلکہ تم نے اس کو جھٹلایا جاہل ہوتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
83 تا 88۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کر بلاویں گے پھر ان کی مثل بنے گی ہر گناہ والے قسم دار ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ چور علیحدہ شرابی علیحدہ پھر اللہ تعالیٰ جھڑ کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کم کرتے رہے اس جھڑ کی کے سوال کے بعد مشرک لوگ عذاب کے قابل قرار پاویں گے۔ اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگائی جائے گی ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ اعضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ (ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون) ” جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ستھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔ “ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجر و توبیخ اور ملامت کی جائے گی۔ (حتی اذا جاء و) اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجر و تبیخ کرتے اور ڈانٹے ہوئے پوچھے گا (اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما) ” کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمہارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ “ تم پر اس وقت…
Read the full tafseer →91 تکذیبِ حق کے مجرموں سے ایک سوال :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ میدان حشر میں حق تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا جبکہ تم نے علمی اعتبار سے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ یا تم خود ہی بتاؤ کہ تم لوگ کیا کرتے رہے تھے ؟ یعنی یہ نہیں کہ تم ان کی تہ اور حقیقت تک پہنچ گئے تھے اور اپنی تحقیق کی بنا پر ان کی تکذیب کے لئے تمہیں کوئی جواز مل گیا تھا۔ نہیں بلکہ سوچے سمجھے بغیر اور غور و فکر کئے بدوں تم نے محض اپنی خواہشات کی پیروی میں اور دوسری اغراض اور دنیوی اسباب کے پیش نظر ایسے کیا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حشر کے روز جب مجرموں کو اکٹھا کرلیا جائے گا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–93
قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔
سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83 تا 93
اسرار و معارف
ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…
Read the full tafseer →9 ۔ یعنی ان سے عقائد و اعمال دونوں کے متعلق سوال ہوگا اور یہ سوال بطور تبکیت ہوگا کہ تمہارا دنیا میں یہی مشغلہ رہا کہ جہاں کوئی آیت یا حدیث تمہاری سمجھ میں نہ آئی اس پر پوری طرح غور کئے بغیر اسے رد کردیا۔ ہمارے زمانہ میں اہل بدعت اور مستشرقین کے عقل پرست شاگردان رشید کا بھی یہی شیوہ چلا آرہا ہے کہ صحیح احادیث کو یہی سمجھیا مسلک کے خلاف پا کر رد کردیتے ہیں اور قرآن کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو دراصل معنوی تحریف ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →(27:84) جاء وا : ای جاؤا الی موقف السوال والجواب والمناقشۃ والحساب سوال و جواب حساب و کتاب کی جگہ۔ میدان حشر۔ قال : ای قال اللہ لہم۔
ولم تحیطوابھا علما۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ لم تحیطوا ب۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم احاطہ میں نہیں لائے تھے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایاتی کی طرف راجع ہے۔
علما تمیز ہے لم تحیطوا سے۔ سارا جملہ حالیہ ہے جملہ سابقہ سے۔
منکرین آیات کے انکار کی قباحت کی تاکید کے لئے یعنی تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا تھا درآں حالیکہ تم انہیں اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے تھے۔ یعنی بغیر کسی غور و فکر اور بغیر کسی تحقیق کے تم نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔
اما۔ یہ دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86 :
نحشرو (ہم جمع کریں گے) ‘ یوزعون (جماعت بندی کی جائے گی) ‘ لم تحیطوا ( تم نے نہیں گھیرا تھا) ‘ لاینطقون ( وہ بات نہ کریں گے) ‘ لیسکنوا ( تاکہ وہ سکون حاصل کریں) مبصر (دیکھنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 :
گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ جب سارے انسانوں کو فنا کردیا جائے گا تو پھر صور بھونکاجائے گا ور اللہ کے حکم سے سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ پھر تمام امتوں میں سے ایسے لوگوں کے گروہ جمع کئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ اگلے پچھلے تمام لوگ جمع ہوجائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ بتائو جب تمہارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کربلائیں گے پھر اس کی مثل بنے گی ہر قسم کے گناہ والے ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ علیحدہ، چور علیھدہ، شرابی علیحدہ۔ پھر اللہ تعالیٰ جھڑکی کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کام کرتے رہے اس جھڑکی کے سوال کے بعد مشرک فورا عذاب کے قابل قرار پائیں گے اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جائے گی اب آگے اللہ تعالیٰ نے حشر کے منکروں کو اسو طرح اپنی قدرت پر متنبہ کیا کہ یہ لوگ کیا غوروفکر نہیں کرتے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
[29] یعنی بلاتحقیق اور غورو فکر کے تم نے جھٹلا دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ف 1: یعنی قیامت میں ہر جماعت میں سے منکرین کے گروہ کو جمع کیا جائے گا ۔ کہ تم لوگ دنیا میں ان حقائق کا انکار کرتے تھے ۔ اور میری نشانیوں کی تکذیب کرتے تھے ۔ حالانکہ انہیں اتنا پورا پورا علم نہ تھا ۔ آج بتاؤوہ تمہاری تکذیب کیا ہوئی ۔ اور تمہاری شوخیاں کہاں گئیں ۔
ارشاد ہے ۔ کہ اس وقت یہ لوگ خاموش ہوجائیں گے ۔ ان کی زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اور یہ کوئی جواب نہ دے سکیں گے ۔
حل لغات :۔ فوجا ۔ ایک جماعت
Read the full tafseer →84۔ یہاں تک کہ جب وہ سب حاضر ہوجائیں گے اور حساب کے موقف میں آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی حالانکہ تم نے میری بات کی حقیقت کا پوری طرح احاطہ بھی نہ کیا تھا ورنہ بتائو اور کیا کرتے رہے۔ یعنی نہ تو میری آیات کو سمجھا نہ ان کی حقیقت کا باعتبار علم احاطہ کیا بلکہ سنتے ہی تکذیب کرنے لگے ۔ بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے بلکہ یاد تو کرو اور بھی کیا کام کرتے رہے۔ یہ ترجمہ اور منقطعہ کی تقدیر پر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 2۔ مطلب یہ کہ سنتے ہی بلا تدبر و تفکر ان کی تکذیب کردی، اور تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا، بکہ یاد کرو کہ اس کے علاوہ اور بھی کیا کیا کرتے رہے مثلا انبیاء کو اور اہل ایمان کو آزار دیا، اسی طرح اور عقائد و اعمال کفریہ و فسقیہ میں مبتلا رہے۔
Read the full tafseer →سب گروہوں کے سرغنوں کو اکٹھا کرکے ان سے سوال کیا جائے گا :
84۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے کہیں کہ قیامت کا روز وہ روز ہوگا جس روز ہم ہر امت سے ایک گروہ اکٹھا کریں گے اور یہ گروہ ان ہی لوگوں پر مشتمل ہوگا جنہوں نے اپنے دور کے نبی کی تکذیب کی ہوگی اور ان سب کو ان کی اپنی اپنی جگہ کھڑا کردیا جائے گا اور کسی میں جرات نہیں ہوگی کہ وہ اپنی جگہ سے ادھر ادھر سرکے یا دیکھ ہی سکے پھر ان سے دریافت کیا جائے گا کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے حالانکہ تم نے ان کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی تھی گویا تم اتنے مغرور تھے کہ ہماری آیتوں میں غوروفکر کرنا بھی کسر شان سمجھتے تھے اور غور وفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
Commentary
(and they will be kept under control - 27:83), The word used here is derived from Waz', which means to stop. The sense here is that the people in front will be stopped, so that those left behind could catch up. Some have taken the word Waz' in the sense of 'pushing'. Hence, it would mean that they would be pushed while being brought to their stand.
وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا (while you did not comprehend them with knowledge - 27:84). There is an allusion in this verse that falsifying the message of Allah Ta` ala is by itself a great sin, especially when one falsifies it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
102 That is, "You did not deny My Revelations on the basis of some scientific investigation, which might have proved them to be false, but you denied them without any sound reason. "
103 That is, "If it is not so, can you then prove that you treated them as false only after a thorough scientific investigation through which you came to know that the reality was not that which was being presented in these verses?"
Read the full tafseer →