Explained with ayahs 83–86
باز پرس کے لمحات
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
سورة النمل 100
یعنی قیامت قریب آجائے گی جس کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے۔
سورة النمل 101
ابن عمر کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب زمین کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابن مردویہ نے ایک حدیث ابو سعید خدری سے نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یہی بات انہوں نے خود حضور سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنس حیوان ہوگی جس کے بہت سے افراد روئے زمین پر پھیل جائیں گے۔ دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
خلاصہ تفسیر
جس دن (قبروں سے زندہ کرنے کے بعد) ہم ہر امت میں سے (یعنی امم سابقہ میں سے بھی اور اس امت میں سے بھی) ایک ایک گروہ ان لوگوں کا (حساب کے لئے) جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے (پھر ان کو موقف کی طرف حساب کے لئے روانہ کیا جائے گا اور چونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اس لئے) ان کو (چلنے میں پچھلوں سے آملنے کے واسطے) روکا جائے گا (تاکہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر موقف حساب کی طرف چلیں۔ مراد اس سے کثرت کا بیان ہے کیونکہ بڑے مجمع میں عادة ایسا ہوتا ہے خواہ روک ٹوک ہو یا نہ ہو) یہاں تک کہ جب (چلتے چلتے موقف میں) حاضر ہوجاویں گے تو (حساب شروع ہوگا اور) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماوے گا کہ…
Read the full tafseer →عندمین کی حالت حشر کا دن
یہ روز حشر کی یاد دہانی فرماتی کہ اس دن کو یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے اپنی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی ایک پوری فوج جمع کرے گا اور ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ لفظ فرزقون، آیت 17 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ یہ درجہ بندی ان کے جرائم کی نوعیت اور ان کی مقدار کے اتعبار سے ہوگی اور پھر جو پارٹی جس درجے کی سزا کی مستحق ہوگی اسی لحاظ سے دوزخ کے الگ الگ داڑوں میں بھیج دی جائے گی۔ لھا سبعۃ ابواب، لکل باب منھم جزو منتسوم (العجر 44) (اور دوزخ کے ساتھ دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک معین حصہ ہوگا)
لفظ فرج سے ان کمذبین کی کثرت…
Read the full tafseer →83-1یا قسم قسم کردیئے جائیں گے۔ یعنی زانیوں کا ٹولہ، شرابیوں کا ٹولہ وغیرہ۔ یا یہ معنی ہیں کہ ان کو روکا جائے گا۔ یعنی ان کو ادھر ادھر اور آگے پیچھے ہونے سے روکا جائے گا اور سب کو ترتیب وار لا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
37: آگے آیت نمبر 89 میں اس کی وضاحت آرہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیک اعمال لے کر آئیں گے، اور بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ شہداء ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…
Read the full tafseer →8 ہر گناہ والوں کے جتھے اور جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے " فَہُمْ یُوزَعُونَ " کے معنی روکنے کے لیے ہیں۔ یعنی ہر امت کے مکذبین کو محشر کی طرف لے چلیں گے اور وہ اتنی کثرت سے ہوں گے کہ پیچھے چلنے والوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے گا۔ جیسے انبوہ کثیر میں انتظام قائم رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 83 وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ”
گویا ان مجرموں کے جرائم مختلف درجوں میں ہوں گے۔ ان میں سے کوئی انکار میں بہت زیادہ سخت تھا ‘ کسی کی طبیعت میں کچھ نرمی کا پہلو تھا ‘ کوئی تکذیب کے ساتھ ساتھ استہزاء کرنے کا مجرم بھی تھا۔ چناچہ ان کے جرائم کی نوعیت اور کیفیت کے مطابق ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہ طریقہ انسانی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہوگا کیونکہ سب انسان برابر نہیں۔ نہ تو اہل ایمان سب کے سب برابر ہیں اور نہ کفار و مشرکین سب ایک جیسے ہیں۔
نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد
خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد !
Read the full tafseer →87 اس آیت میں دآبہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کا مادہ د ب ب ہے اور دب بمعنی عام رفتار ( مشی) ہلکی یا سست رفتار سے چلنا ہے۔ اور دابہ ہر اس جاندار کو کہتے ہیں جو ہلکی چال چلتا ہو۔ خواہ وہ پیٹ کے بل چلے جیسے سانپ اور چھپکلی وغیرہ یا خواہ دو پاؤں پر چلے جیسے انسان اور بندروں کی بعض اقسام یا چار پاؤں پر چلے جیسے وحشی جانور اور چوپائے وغیرہ۔ نیز مذکر و مونث کے لئے اس کا یکساں استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن میں یہ لفظ دیمک کے لئے بھی آیا ہے۔ جس نے حضرت سلیمان کی وفات کے بعد ان کی لاٹھی کو چاٹ کھایا تھا اور وہ ٹوٹ گئی تھی۔ (38: 14)
اس آیت میں جس دابہ کا ذکر ہے۔ معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ وہ انسان کی شکل کا یا…
Read the full tafseer →91۔ (آیت) ” یوزعون “ کا مفہوم یہ ہے کہ اگلوں کو چلنے میں پچھلوں کے آملنے کے واسطے روکا جائے گا۔ یہ کنایہ کثرت انبوہ سے ہے۔ ؛ کہ کثرت انبوہ کے وقت ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ (آیت) ” من کل امۃ “۔ میں من تبعیض کا ہے۔ (آیت) ” ممن یکذب “۔ میں من تبیین کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…
Read the full tafseer →ویوم نحشر من کل امۃ فوجا ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون . اور یاد کرو اس دن کو جب ہم
ہر امت میں ان لوگوں کا ایک گرہ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے جمع کریں گے پھر وہ (سب تکذیب کرنے والے ایک جگہ جمع کر کے) روکے جائیں گے۔
فَوْج جماعت گروہ اُمَّت اس جگہ بمعنی قرن (یعنی ہر پیغمبر کی امت جو اس پیغمبر کے دور نبوت کی ہو) وہ وقت ہوگا جب اللہ حضرت آدم کو حکم دے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ بھیجو۔ سورة الحج کے شروع میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔
یُوْزَعُوْنَ روکے جائیں گے یعنی اولین و آخرین سب کو ایک جگہ روکا جائے گا تاکہ سب جمع ہوجائیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ روکے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تعداد بہت ہوگی…
Read the full tafseer →(83) اور قیامت کے دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری کتاب اور ہمارے رسول کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان کو چلنے سے پچھلوں کے آ ملنے کے لیے روکا جائے گا۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ۔۔ : ”فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ“ ”وَزَعَ یَزَعُ“ (ف) سے مضارع مجہول ہو تو معنی ہے ”روکے جائیں گے“ اور ”أَوْزَعَ یُوْزِعُ“ (افعال) سے ہو تو معنی ہے ”الگ الگ تقسیم کیے جائیں گے۔“ یعنی ہر امت میں سے اللہ کی آیات جھٹلانے والے لوگوں کے گروہ کو جمع کیا جائے گا، پھر جو لوگ آگے ہوں گے انھیں روک لیا جائے، تاکہ پیچھے والے ان سے آکر مل جائیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کی الگ الگ قسموں کی جماعت بندی کی جائے گی، مثلاً چوروں، ڈاکوؤں، قاتلوں اور زانیوں وغیرہ میں سے ہر ایک کا الگ جتھا بنایا جائے گا۔ اس معنی کی تائید سورة صافات کی آیت (22) اور سورة تکویر کی آیت (7) سے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم علماء نے وقع قول اور دابۃ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقع القول علیھم کا معنی ہے ان پر غضب ثابت ہوجائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ان پر فیصلہ لازم ہوچکا ہے کہ وہ ایامان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جب وہ نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں تو ان پر ناراضگی ثابت ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ نے کا : وقع قول سے مراد علماء کی موت ہے، علم کا ناپید ہونا اور قرآن حکیم کا اٹھ جانا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : قرآن کے اٹھائے جانے سے پہلے قرآن کی تلاوت کثرت سے کرو۔ لوگوں نے عرض کی :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
1۔ عبد بن حمید وابن جریروابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم نحشر من کل امۃ فوجا یعنی جماعت آیت باٰیتنا فہم یوزعون، یعنی لوٹایاجائے گا ان کے اول کو ان کے اخر کی طرف۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوزعون سے مراد ہے کہ وہ ہانکے جائیں گے
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووقع القول یعنی قول ثابت ہوگیا قول سے مراد غصہ ہے، آیت والنہار مبصرا سے مراد ہے روشن۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ [ اور جس دن ] نَحْشُرُ [ ہم اکٹھا کریں گے ] مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ [ ہر ایک امت میں سے ] فَوْجًا [ ایک گروہ ] مِّمَّنْ [ ان میں سے جو ] يُّكَذِّبُ [ جھٹلاتے تھے ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] فَهُمْ [ پھر ان کی ] يُوْزَعُوْنَ [ صفت بندی کی جائے گی ]
و ج
(ن) فوجا خوشبو کا پھیلنا ۔
فوج ج افواج۔ افراد کی جماعت۔ گروہ ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 83 يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا (جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو تم لوگ آؤ گے گروہوں میں ) 78/18 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
قیامت کے دن کی پیشی، مکذمین کی جماعت بندی، اور ان سے سوال، اقرار جرم کے بعد ان کے لیے عذاب کا فیصلہ
قیامت کے دن اولین و آخرین سب ہی جمع کیے جائیں گے اور ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں میں سے علیحدہ کردیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے تھے اور ان کی جماعت بندی باقی رکھنے کے لیے یوں کیا جائے گا کہ آگے پیچھے نہ رہیں سب ساتھ ہو کر حساب کی جگہ تک چلیں پھر جب موقف حساب میں پہنچ جائیں گے (جہاں حساب ہوگا) تو ان جھٹلانے والوں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب ہوگا کیا تم لوگوں نے میری آیات کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں اپنے احاطہ علم میں بھی نہیں لائے یعنی آیات کو سن کر اول تمہیں انہیں جاننا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ذکر بعض اشراط ساعت یعنی علامات قیامت
قال اللہ تعالیٰ واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قاہرہ سے اپنے کمال قدرت اور کمال علم کو بیان کر کے امکان حشر اور امکان قیامت کو ثابت کیا پھر اس پر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بطور تفریح ذکر کیا۔ اب ان آیات میں مقدمات قیامت یعنی قیامت کی بعض علامتوں کو ذکر کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دابہ (جانور) زمین سے نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اور دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قیامت کی نشانی ہوگی اور قیامت کی علامتوں کا بتلانا سوائے نبی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ قیامت کی علامتوں کا علم صرف نبی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
70:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب ہم انکار کرنے والوں کو فوج در فوج میدان حشر میں جمع کریں گے تو انہیں ایک جگہ روک دیا جائے گا تاکہ پچھلے بھی ان کے ساتھ مل جائیں اور سب کو اکٹھا کر کے حساب کے لیے لیجا یا جائے۔ حتی اذا جاء وا قال اکذبتم الخ جب تمام کفار موقف میں جمع ہوجائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتوں کو تم نے سرسری طور پر سن کر ہی انکا انکار کردیا اور ان میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے اور ان کی حقیقت کو پانے کی کوشش نہ کی اکذبت بایاتی بادی الرای من غیر فکر ولا نظر یودی الی احاطۃ العلم بکنھھا وانھا حقیقۃ بالتصدیق (مدارک ج 3 ص 170) ۔ ام ما ذا کنتم تعملون جب ہماری آیتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات ، مسئلہ توحید اور جزائے عمل کا ذکر کیا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ عنادی اور ضدی لوگوں کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں ۔ یہ تو ان چیزوں پر اس وقت ایمان لائیں گے ۔ جب قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظہور ہوگا ۔ اس وقت منکرین مجبوراً ایمان لائیں گے مگر ایسا ایمان کچھ مفید نہیں ہوگا اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کا شکوہ کیا ہے کہ وہ آیات الٰہی میں غور و فکر کر کے ایمان کو قبول نہیں کرتے۔ دلائل توحید اور قیامت کی کیفیت کا بھی اجمالا ًذکر کردیا گیا ہے۔
میدان حشر میں…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَہُمْ يُوْزَعُوْنَ 83
حشر
، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة .
( ح ش ر ) الحشر ( ن )
اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
علامت قیامت کے بعد حشر کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ و یوم نحشرمن کل اُمۃ فوجًا کہ قیامت کے روز ہم ان لوگوں میں سے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ ہر ایک جماعت کو جمع کرکے پوچھیں گے کہ تم نے بےسمجھے بوجھے میری آیتوں کو کیوں جھٹلایا ؟ ان کو وہاں کچھ جواب نہ آئے گا۔ اولم یرو الخ یہ منکرین کے لیے الزام دیا جاتا ہے کہ دنیا میں ہم نے اپنی قدرت و کمال کے بہت سے نشان دکھائے تھے۔ منجملہ ان کے رات اور دن تھے جو کسی سے بھی مخفی نہ تھے، ان میں ہماری قدرت اور یکتائی کے بہت سے نمونہ تھے۔ اول یہ کہ زمانہ یعنی رات دن بھی کسی کے قبضہ قدرت میں تھے جن میں جس طرح چاہتا ہے صرف کرتا ہے۔ زمانہ کا اور چیزوں پر اثر…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ نَحْشُرُمِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّـکَذِّبُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ (النمل : 83)
(اور ذرا تصور کیجیے اس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیات کی تکذیب کیا کرتے تھے، پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ )
قیامت کی یاددہانی اور محشر میں مکذبین کی حالت
علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت کے ذکر سے جب قیامت کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو روزحشر کی یاددہانی فرمائی گئی کہ اس دن کو یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے اپنی آیات کا انکار کرنے والوں کی ایک پوری فوج جمع کرے گا اور پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اس سے بتانا شاید یہ مقصود ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے ایک مدّت بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرے گا۔
قیامت برپا ہونے کے ایک مدت بعد رب ذوالجلال کے حکم سے اسرافیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ صور میں پھونک مارے گا۔ اس کی پھونک سے لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف بھاگنا شروع ہوجائیں گے۔ محشر میں ہر نبی کی امت سے مجرموں کو الگ کردیا جائے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ صرف مجرموں کو نیک لوگوں سے جدا ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرموں کے درمیان بھی ان کے گناہوں کے حساب سے ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ انہیں اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ انھیں سوال کرے گا ” کیا تم لوگ ہو…
Read the full tafseer →83: وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا (اور اس دن کو یاد کرو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کا ایک گروہ جمع کریں گے) ۔
نحو : من تبعیض کے لئے ہے۔ ای اذکر یوم نجمع من کل امۃ من الامم زمرۃ۔ اس دن کو یاد کرو جب ہم ہر امت میں سے ایک گروہ جمع کریں گے۔ مِّمَّنْ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا (جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے رہے) ۔
نحو : مَن تبیین کے لئے ہے۔ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو ہمارے انبیاء (علیہم السلام) پر اتاری گئیں۔ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ (پھر ان کو روکا جائے گا) ۔ اول کو روکیں گے تاکہ پچھلے ان کے ساتھ جمع ہوسکیں۔ پھر ان کو موضع حساب کی طرف لے جائیں گے۔ اس تعبیر سے مقصود کثرت تعداد کو بیان کرنا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
83۔ ویوم نحشر من کل امۃ فوجا، ، ہر جماعت کے گروہ میں۔ ہر جماعت کے گروہ میں، ممن یکذب بایاتنا، یہاں پر من ، تبعیضیہ نہیں ہے کیونکہ تمام جھٹلانے والوں کو اس دن جمع کیا جائے گا، فھم یوزعون، پہلے والوں اور آخروالوں سب کو روکاجائے گا، تاکہ سب جمع ہوجائیں پھر ان کو آگ کی طرف لیجائے جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
83 تا 88۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کر بلاویں گے پھر ان کی مثل بنے گی ہر گناہ والے قسم دار ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ چور علیحدہ شرابی علیحدہ پھر اللہ تعالیٰ جھڑ کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کم کرتے رہے اس جھڑ کی کے سوال کے بعد مشرک لوگ عذاب کے قابل قرار پاویں گے۔ اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگائی جائے گی ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ اعضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ (ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون) ” جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ستھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔ “ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجر و توبیخ اور ملامت کی جائے گی۔ (حتی اذا جاء و) اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجر و تبیخ کرتے اور ڈانٹے ہوئے پوچھے گا (اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما) ” کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمہارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔ “ تم پر اس وقت…
Read the full tafseer →90 روز حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یاد رکھو تم اے لوگو اپنے اس ہولناک دن کو کہ جس دن ہم گھیر لائیں گے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو۔ پھر ان کو روکا جائے گا "۔ یعنی اگلوں کو روکا جائے گا تاکہ پچھلے بھی ان تک پہنچ کر ان میں شامل ہوجائیں۔ اور سب یکجا ہو کر اس تقریح و تقبیح کو سن سکیں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ان کو وہاں سنائی جائے گی اور جس کا ذکر وبیان اس کے بعد فرمایا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد عالی سے روز حشر کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ تاکہ غفلت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–93
قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔
سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83 تا 93
اسرار و معارف
ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی ان کی جماعت بندی کی جائیگی۔ ” ہر گناہ والے ایک جتھا ہونگے۔ “ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ آگے ہونگے انہیں رک لیا جائیگا تاکہ پیچھے والے ان سے آ کر مل جائیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(27:83) یوم۔ فعل مضمر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای اذکر یوم یاد کرو وہ دن۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے
نحشر۔ مضارع جمع متکلم حشر مصدر (باب نصر) ہم جمع کریں گے ۔ ہم اکٹھا کریں گے۔
من تبعیضیہ ہے ای یوم نجمع من کل امۃ من امم الانبیاء (علیہم السلام) اومن اہل کل قرن من القرون جماعۃ کثیرۃ مکذبۃ بایتنا۔ جس دن ہم انبیاء (علیہم السلام) کی ہر امت میں سے باجملہ اقوام سے ہر قوم میں سے ایک ایک کثیر جماعت مکذبین آیات ربانی کو جمع کریں گے۔
فوجا۔ گروہ ۔ جماعت کثیرہ۔ منصوب بوجہ مفول ہونے کے۔
یوزعون مضارع مجہول جمع مذکر غائب وزع مصدر (باب فتح) ان کو جمع کیا جائے گا۔ وزعتہ عن کذا۔ کسی آدمی کو کسی کام سے روک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86 :
نحشرو (ہم جمع کریں گے) ‘ یوزعون (جماعت بندی کی جائے گی) ‘ لم تحیطوا ( تم نے نہیں گھیرا تھا) ‘ لاینطقون ( وہ بات نہ کریں گے) ‘ لیسکنوا ( تاکہ وہ سکون حاصل کریں) مبصر (دیکھنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 :
گذشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ جب سارے انسانوں کو فنا کردیا جائے گا تو پھر صور بھونکاجائے گا ور اللہ کے حکم سے سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ پھر تمام امتوں میں سے ایسے لوگوں کے گروہ جمع کئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا کرتے تھے۔ اگلے پچھلے تمام لوگ جمع ہوجائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ بتائو جب تمہارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کربلائیں گے پھر اس کی مثل بنے گی ہر قسم کے گناہ والے ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ علیحدہ، چور علیھدہ، شرابی علیحدہ۔ پھر اللہ تعالیٰ جھڑکی کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کام کرتے رہے اس جھڑکی کے سوال کے بعد مشرک فورا عذاب کے قابل قرار پائیں گے اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جائے گی اب آگے اللہ تعالیٰ نے حشر کے منکروں کو اسو طرح اپنی قدرت پر متنبہ کیا کہ یہ لوگ کیا غوروفکر نہیں کرتے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
[28] آثار قیامت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مکہ کا صفا پہاڑ پھٹے گا اور اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو ایک خاص نشان سے مسلمانوں اور کافروں کو جدا کر دے گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنس حیوان ہوگی۔ '' دابتہ من الارض '' کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ف 1: یعنی قیامت میں ہر جماعت میں سے منکرین کے گروہ کو جمع کیا جائے گا ۔ کہ تم لوگ دنیا میں ان حقائق کا انکار کرتے تھے ۔ اور میری نشانیوں کی تکذیب کرتے تھے ۔ حالانکہ انہیں اتنا پورا پورا علم نہ تھا ۔ آج بتاؤوہ تمہاری تکذیب کیا ہوئی ۔ اور تمہاری شوخیاں کہاں گئیں ۔
ارشاد ہے ۔ کہ اس وقت یہ لوگ خاموش ہوجائیں گے ۔ ان کی زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اور یہ کوئی جواب نہ دے سکیں گے ۔
حل لغات :۔ فوجا ۔ ایک جماعت
Read the full tafseer →83۔ اور وہ دن ان کو یاد دلایئے جس دن ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلا یا اور تکذیب کیا کرتے تھے پھر وہ روکے جائیں گے ۔ یعنی امم سابقہ میں سے اور اس امت میں سے پھر ان کو حساب کے موقف میں لے جایا جائیگا چونکہ کثرت ہوگی اس لئے آگے والوں کو روکا جائے گا تا کہ پیچھے والے بھی آجائیں اور سب کو اکٹھا کر کے لیجایا جائیگا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر گناہ والے ایک جتھا ہوں گے ۔ 12 یعنی مفسرین نے کہا ہے سرداروں اور مبتوعین کو آگے رکھا جائیگا اور باقی اتباع کرنے والے پیچھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 1۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ تو مشابہ مردوں اور بہروں اور اندھوں کے ہیں پھر ان سے توقع ہدایت اور فہم کی بےکار ہے، جب توقع نہ ہوگی حزن بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ہم ہر امت سے ایک گروہ اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلانے والوں پر مشتمل ہوگا :
83۔ پیچھے ذکر محمد رسول اللہ ﷺ کا چلا آرہا تھا اور آپ ﷺ کو ہدایات اور تسلی دی جا رہی تھی کہ مضمون کو قیامت کے روز کی طرف منتقل کردیا گیا اور قیامت سے جس طرح کا تعلق نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کا ہے بالکل اسی طرح دوسرے انبیائیکرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) اور انکی امتوں کا بھی ہے چونکہ آپ ﷺ کی امت کا ذکر جاری تھا اس لئے وضاحت فرما دی کہ یہ بات نبی اعظم وآخر ﷺ کی امت ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے سارے نبیوں اور رسولوں کی امتوں کا مسئلہ ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ اس دن یاد رکھو جب ہم ہر امت میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
Commentary
(and they will be kept under control - 27:83), The word used here is derived from Waz', which means to stop. The sense here is that the people in front will be stopped, so that those left behind could catch up. Some have taken the word Waz' in the sense of 'pushing'. Hence, it would mean that they would be pushed while being brought to their stand.
وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا (while you did not comprehend them with knowledge - 27:84). There is an allusion in this verse that falsifying the message of Allah Ta` ala is by itself a great sin, especially when one falsifies it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
100 That is, "...when Resurrection which they are being promised will approach."
101 According to Ibn `Umar, this will happen when there remains no one in the world to command the people to do good and forbid them to do evil. Ibn Marduyah has reported a Hadith on the authority of Abu Said Khudri; according to which the latter heard the same thing from the Holy Prophet himself. This shows that when man gives up the duty of exhorting others to do good and forbidding them to do evil, AIIah will bring forth a beast to serve as the final warning just before Resurrection. This, however, is not…
Read the full tafseer →