An-Naml 27:82

An-Naml · from ayah 82

27:82

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ ۙ— اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ ۟۠وَ اِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوۡقِنُوۡنَ

اور جب اُن کے بارے میں (عذاب) کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم اُن کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کر دے گا۔ اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the word befalls them, We will bring forth for them a creature from the earth speaking to them, [saying] that the people were, of Our verses, not certain [in faith].

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:82

اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب اُن کے بارے میں (عذاب) کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم اُن کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کر دے گا۔ اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب ان کے اوپر عذاب کا وعده ﺛابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب بات ان پر آپڑے گی ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر (عذاب کا) فرمان پورا ہونے کا وقت آجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا کیونکہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان پر بات واقع ہوجائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے کلام کرے گا کہ یقینا فلاں فلاں لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب (عذاب کی) بات پوری ہونے کا وقت آجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ (فلاں فلاں) لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان پر بات پوری ہوجائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے کوئی جانور نکال کھڑا کریں گے جو ان کو بتائے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب پوری ہوجائے گی ان پر ہماری بات تو ہم نکال کھڑا کریں گے ان کے لئے ایک عجیب و غریب قسم کا جانور زمین سے جو ان سے باتیں کرے گا اور ان کو بتائے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب وعدہ ان لوگوں پر پورا ہونے کو ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایسا جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان پر ہماری بات واقع ہوجائے گی تو ہم نکالیں گے ان کے لیے زمین سے ایک جانور جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کے بارے میں عذاب کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا، بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when the time for the fulfilment of Our Word against them will come, We shall bring forth for them a beast from the earth who will speak to them because people did not believe in Our Signs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the word will come to fall upon them, We will bring forth for them a beast from the earth who will speak to them that the human beings (i.e the infidels) did not believe in Our signs.

— Muhammad Taqi Usmani

When the word will come to fall upon them, We will bring forth for them a beast from the earth who will speak to them that the human beings (i.e the infidels) did not believe in Our signs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the Word is fulfilled against them, We shall bring out from the earth a beast for them, to speak to them because mankind believed not with certainty in Our Ayat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the word is fulfilled concerning them, We shall bring forth a beast of the earth to speak unto them because mankind had not faith in Our revelations.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when the word befalls them, We will bring forth for them a creature from the earth speaking to them, [saying] that the people were, of Our verses, not certain [in faith].

— Saheeh International

When the word about them comes true We shall make a creature appear to them on earth who will tell them that people had no faith in Our revelations.

— Muhammad Sarwar

And when the word shall come to pass against them, We shall bring forth for them a creature from the earth that shall wound them, because people did not believe in Our communications.

— Muhammad Habib Shakir

And when the word shall come to be fulfilled concerning them, We shall bring forth a beast of the earth speaking unto them, that the people have not of Our signs been convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

And when the Word is fulfilled against them (the unjust), we shall produce from the earth a beast to (face) them: He will speak to them, for that mankind did not believe with assurance in Our Signs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

دابتہ الارض جس جانور کا یہاں ذکر ہے یہ لوگوں کے بالکل بگڑ جانے اور دین حق کو چھوڑ بیٹھنے کے وقت آخر زمانے میں ظاہر ہوگا۔ جب کہ لوگوں نے دین حق کو بدل دیا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں یہ مکہ شریف سے نکلے گا بعض کہتے ہی اور کسی جگہ سے جس کی تفصیل ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالی۔ وہ بولے گا باتیں کرے گا اور کہے گا کہ لوگ اللہ کی آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے ابن جریر اسی کو مختار کہتے ہیں۔ لیکن اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس کا قول ہے کہ وہ انہیں زخمی کرے گا ایک روایت میں ہے کہ وہ یہ اور وہ دونوں کرے گا۔ یہ قول بہت اچھا ہے اور دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، واللہ اعلم۔ وہ احادیث جو دابتہ الارض کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 82–83

سورة النمل 100 یعنی قیامت قریب آجائے گی جس کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے۔ سورة النمل 101 ابن عمر کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب زمین کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابن مردویہ نے ایک حدیث ابو سعید خدری سے نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یہی بات انہوں نے خود حضور سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنس حیوان ہوگی جس کے بہت سے افراد روئے زمین پر پھیل جائیں گے۔ دابۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور جب وعدہ (قیامت کا) ان (لوگوں) پر پورا ہونے کو ہوگا (یعنی قیامت کا زمانہ قریب آپہنچے گا) تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک (عجیب) جانور نکالیں گے کہ وہ ان سے باتیں کرے گا (کافر) لوگ ہماری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) آیتوں پر (خصوصاً ان آیتوں پر جو قیامت کے متعلق ہیں) یقین نہیں لاتے تھے (مگر اب قیامت آپہنچی اس کی علامتوں میں ایک علامت میرا ظہور بھی ہے۔) معارف و مسائل دابتہ الارض کیا ہے اور کہاں اور کب نکلے گا مسند احمد میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ 1 آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع ہونا۔ 2 دخان۔ 3 دابہ۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 82 انسانی مذہب کا جواب ”وقع القول علیھم سے یہ مراد ہے کہ جب ان کے باب میں اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے گا اور سنت الٰہی کے مطابق جس چیز کے وہ مستحق ہیں اس کے ظہور کا وقت آجائے گا۔ علیھم میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں جن سے اس سورة میں خطاب ہے اور جو مطالبہ کر رہے تھے کہ قرآن ان کو جس عذاب یا قیامت کی خبر دے رہا ہے جب تک وہ ان کو یا ان کی کوئی نشانی دیکھ نہ لیں گے اس وقت تک وہ ماننے والی نہیں ہیں۔ ان کے اس مطالبے کا ذکر آیات 73-71 میں گزر چکا ہے۔ (آیت الروم :35) ام انزلنا علیھم سلط وس یتکلم بما کانوا بہ یشرکون کیا ہم جانتے ہیں ان پر کوئی دلیل جو شہادت دے رہی ہو ان چیزوں کے حق میں جن کو یہ خدا کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

82-1یعنی جب نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا نہیں رہ جائے گا۔ 82-2یہ وہی ہے جو قرب قیامت کی علامات میں سے ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ' قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو، ان میں ایک جانور نکلنا ہے۔ (صحیح بخاری) دوسری روایت میں ہے ' سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہوگی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہوجائے گی (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–82

36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–90

اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " قیامت سے پہلے صفا پہاڑ مکہ کا پھٹے گا اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا کہ اب قیامت نزدیک ہے اور سچے ایمان والوں کو اور چھپے منکروں کو نشان دے کر جدا کر دے گا۔ " (موضح) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل آخر زمانہ میں طلوع الشمس من المغرب کے دن ہوگا۔ قیامت تو نام ہی اس کا ہے کہ عالم کا سب موجودہ نظام درہم برہم کردیا جائے لہذا اس قسم کے خوارق پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے جو قیامت کی علامات قریبہ اور اس کے پیش خیمہ کے طور پر ظاہر کی جائیں گی۔ شاید " دابۃ الارض " کے ذریعہ سے یہ دکھلانا ہو کہ جس چیز کو تم پیغمبروں کے کہنے سے نہ مانے تھے، آج وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ ” ”دابّۃ الارض“ کا ظہور قیامت کی آخری علامات میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد کوہ صفا پھٹے گا اور اس میں سے یہ جانور برآمد ہوگا۔ واللہ اعلم !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 81–82

85 یعنی ان کافروں کے ہدایت پانے کی چار ہی صورتیں ممکن ہیں۔ جن میں سے دو سننے سے تعلق رکھتی ہیں اور دو دیکھنے سے۔ سننے کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ صرف زندہ سن سکتا ہے۔ مردہ نہیں سن سکتا۔ اب چونکہ ان کے دل مرچکے ہیں۔ لہذا اس طریقہ سے ان کی ہدایت ناممکن ہوتی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماعت رکھنے والا تو بات سن سکتا ہے۔ لیکن بہرا نہیں سن سکتا۔ یہ لوگ چونکہ دل کے بہرے ہیں۔ لہذا یہ صورت بھی ناممکن ہوئی۔ تیسری صورت یہ تھی کہ ہو تو بہرا مگر کم از کم وہ توبہ تو کرتا ہو۔ اور بات سننے کی کچھ خواہش تو رکھتا ہو۔ اس صورت میں بھی کچھ اشاروں اور انداز خطاب سے اس کے کچھ نہ کچھ پلے پڑ سکتا تھا۔ مگر یہ لوگ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

90۔ قرب قیامت کی علامتیں بہت سی حدیث صحیح میں وارد ہوئی ہیں۔ بہت سی عجیب و غریب چیزوں کا اس وقت ظہور ہوگا، اور عجیب چیزوں کا یہ خاصہ ہے کہ اپنے ظہور سے قبل سمجھ میں نہیں آتیں۔ ریل، تار، ٹیلیفون، ریڈیو، وائرلیس وغیرہ تمام مادی ایجادیں ایسی ہیں جو پہلے سمجھ ہی میں نہیں آتی تھیں، جب ظہور میں آگئیں، جب ہی سمجھ میں آئیں، جس قسم کے جانور کا یہاں ذکر ہے روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ظہور بالکل آخر میں ہوگا اور خود الفاظ قرآنی بھی یہی معنی چاہ رہے ہیں۔ یہ آخر ترین علامت اگر عجب ترین بھی ہو، تو اس میں عجب کیا ہے۔ حدیث میں اس عجیب ترین حیوان کا نام جساسہ آیا ہے۔ کافر اس وقت بالاضطرار اس خارق عظیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا وقع القول علیھم دابۃ من الارض اخرجنا لھم دابۃ من الارض . تو ہم زمین سے ایک چوپایہ ان کے لئے برآمد کریں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : وہ دابَّۃ ایسا دابَّۃ نہ ہوگا جس کی دم ہو بلکہ داڑھی والا دابَّۃ ہوگا۔ آپ کا اس کلام سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ آدمی ہوگا (چوپایہ نہ ہوگا) لیکن اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ وہ چوپایہ ہی ہوگا۔ عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ وہ دابہ اون اور رنگا رنگ کے پروں والا ہوگا ‘ اس کی چار ٹانگیں ہوں گی۔ پھر وہ حاجیوں کے پیچھے سے برآمد ہوگا۔ ابن جریح کی روایت ہے کہ ابو الزبیر نے دابَّۃُ الْاَرْض کے حالات اس طرح بیان کئے : اس کا سر بیل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(82) اور جس وقت ان پر نزول عذاب کا وقت آجائے گا تو ہم صفا ومروہ کے درمیان سے ایک جانور نکالیں گے جو حضرت موسیٰ ؑ کا عصا یا یہ کہ اس کے ساتھ حضرت موسیٰ ؑ کا عصا ہوگا اور وہ ان سے باتیں کرے گا اس لیے کہ لوگ ہماری آیات یعنی قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر یا یہ کہ خروج دابہ پر یقین نہیں کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ۔۔ : یعنی جس وعید کو یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں اور اسے لانے کی جلدی مچا رہے ہیں، جب اس کا وقت آجائے گا تو ہم زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو انوکھی قسم کا ہوگا (تنوین تنکیر سے انوکھے کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے)۔ وہ جانور قیامت کی علامات میں سے ہوگا، اس کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ آخرت کی حقیقتوں سے حجاب اٹھنے کے بعد آزمائش کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ وہ جانور ستر ہاتھ لمبا ہوگا، اس کی چار ٹانگیں اور دو پر ہوں گے، اس کے پاس موسیٰ ؑ کا عصا اور سلیمان ؑ کی انگوٹھی ہوگی وغیرہ۔ مگر کسی صحیح حدیث میں اس جانور کی کیفیت بیان نہیں ہوئی، اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 82–86

واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم علماء نے وقع قول اور دابۃ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقع القول علیھم کا معنی ہے ان پر غضب ثابت ہوجائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ان پر فیصلہ لازم ہوچکا ہے کہ وہ ایامان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جب وہ نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں تو ان پر ناراضگی ثابت ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ نے کا : وقع قول سے مراد علماء کی موت ہے، علم کا ناپید ہونا اور قرآن حکیم کا اٹھ جانا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : قرآن کے اٹھائے جانے سے پہلے قرآن کی تلاوت کثرت سے کرو۔ لوگوں نے عرض کی :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المبارک نے الزہد میں وعبد الرزاق والفریابی وابن ابی شیبہ ونعیم بن حماد فی الفتن وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا وقع القول علیہم اخرجنالہم دابۃ من الارض تکلمہم یعنی جب وہ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے نہیں نکلیں گے۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض تکلمہم کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس وقت ہوگا جب وہ نیکی کا حکم نہیں کریں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے۔ 3 ابن مردویہ نے ابوسعید خدری رجی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب ] وَقَعَ [ واقع ہوگی ] الْقَوْلُ [ وہ بات ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] اَخْرَجْنَا [ تو ہم نکالیں گے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] دَاۗبَّةً [ ایک چلنے والا (جانور)] مِّنَ الْاَرْضِ [ زمین سے ] تُكَلِّمُهُمْ ۙ [ وہ بات کرے گا ان سے ] اَنَّ [ (اس لئے) کہ ] النَّاسَ [ لوگ ] كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ [ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھے ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 82 ۔ میں القول کا مطلب وہ وعدہ جو قیامت کے بارے میں کیا گیا ہے اور اس کے لوگوں پر آپڑنے یعنی واقع ہونے کا مطلب ہے کہ قیامت بالکل قریب آجائے گی ۔ اس وقت ایک جانور زمین سے نکلے گا ۔ ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب زمین میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظاہر ہونا (دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ ) (زمین سے برآمد ہونے والا چوپایہ) اس کا خروج علامات قیامت میں سے ہے احادیث شریفہ میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر آیا ہے۔ حضرت حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت نہ ہوگی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں (1) دھواں (2) دجال (3) دابۃ الارض (4) پچھم سے سورج کا نکلنا (5) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے نازل ہونا (6) یاجوج ماجوج کا نکلنا (7، 8، 9) زمین میں تین جگہ لوگوں کا دھنس جانا ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں تیسرا عرب میں (10) اور ان میں سب کے اخیر میں یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 82–86

ذکر بعض اشراط ساعت یعنی علامات قیامت قال اللہ تعالیٰ واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قاہرہ سے اپنے کمال قدرت اور کمال علم کو بیان کر کے امکان حشر اور امکان قیامت کو ثابت کیا پھر اس پر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بطور تفریح ذکر کیا۔ اب ان آیات میں مقدمات قیامت یعنی قیامت کی بعض علامتوں کو ذکر کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دابہ (جانور) زمین سے نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اور دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قیامت کی نشانی ہوگی اور قیامت کی علامتوں کا بتلانا سوائے نبی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ قیامت کی علامتوں کا علم صرف نبی ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

69:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ قول سے قیام ساعت کا وعدہ اور وقوع قول سے قیامت کا قرب مراد ہے (مدارک وروح) یعنی آخر زمانے میں قرب قیامت کی علامت کے طور پر ہم زمین سے ایک عجیب و غریب جانور پیدا کریں گے جو لوگوں سے صاف صاف باتیں کرے گا۔ ان الناس الخ اس سے پہلے حرف جر مقدر ہے ای تکلمھم بانھم کانوا لا یتیقنون بایات اللہ تعالیٰ الناطقۃ بمجئ الساعۃ (روح ج 20 ص 24) ۔ یعنی وہ جانور لوگوں سے کہے گا کہ لوگ ان نشانیوں کو نہیں مانتے جو اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے قائم فرمائی ہیں۔ اور حضرت شیخ (رح) تعالیٰ نے فرمایا۔ یہاں دابۃ سے کوئی خاص دابہ مراد نہیں بلکہ عام ہے۔ القول سے وعدہ عذاب مراد ہے یعنی جب کسی قوم پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 76–82

ربط آیات گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن کریم کی حق گوئی پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْہِمْ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَاۗبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُہُمْ۝ 0ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ۝ 82ۧ وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–82

ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔ تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّـۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُـکَلِّمُھُمْ لا اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰـتِنَا لاَ یُوْقِنُوْنَ ۔ (النمل : 82) (اور جب ہماری بات ان پر پوری ہونے کا وقت آن پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ ) اتمامِ حجت کے بعد کا مرحلہ جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان پر آپہنچے گا، کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب قبولیتِ حق سے بہت حد تک محروم ہوجائیں گے اور اہل حق کی تبلیغی کاوشیں بےاثر ہونے لگیں گی تو تب اللہ تعالیٰ اتمامِ حجت کے لیے ایسی نشانیاں ظاہر کرے گا جس کے بعد وقوع قیامت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اندھے، بہرے اور حق سے بھاگنے والے لوگ قیامت سے پہلے حق بات کا اعتراف نہیں کریں گے۔ اندھے، بہرے اور حق بات سے دور بھاگنے والے قیامت سے پہلے حق بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ قرآن و حدیث میں قیامت کی تین قسم کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو نبی کریم ﷺ کے دور میں مکمل ہوچکی ہیں۔ دوسری وہ ہیں جو قرب قیامت سے پہلے نمودار ہوں گی۔ تیسری نشانیاں وہ ہیں جو قیامت کی شروعات میں شمارہوتی ہیں وہ اس طرح نمودار ہوں گی جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو تسبیح کے دانے ایک دوسرے پر گرتے چلے جاتے ہیں۔ آخر میں تین نشانیاں وہ ظاہر ہوں گی جب توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا۔ ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

82: وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ (جب ان پر قول واقع ہوجائے گا) ۔ یہاں قول کے مقصد اور نتیجہ کو قول سے تعبیر فرمایا۔ اور وہ عذاب اور قیام ساعت کا وعدہ ہے۔ وقوعہ۔ کا معنی حصول ہے اور مراد قرب اور اس کی نشانیوں کا ظہور ہے اور وہ وقت جبکہ توبہ فائدہ مند نہ ہوگی۔ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ (ہم ان کے لئے زمین سے ایک چوپایہ نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا) ۔ یہ وہی ہے جس کو حدیث میں جساسہ سے تعبیر کیا گیا۔ اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ ہوگی ٗ اس کو پکڑنے والا پکڑ نہ سکے گا اور بھاگنے والا اس سے فرار اختیار نہ کرسکے گا۔ اس کی چار ٹانگیں ہونگی۔ داڑھی ٗ دو پیر ٗ اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

82۔ واذا وقع القول علیھم، جب ان پر عذاب آجائے گا، قتادہ نے کہا کہ اس کا معنی کیا ہے کہ جب ان پر ہمارا عذاب آجائے گا، اخرجنالھم دابۃ من لارض تکلمھم، اس کے کلام میں اختلاف ہے۔ سدی کا قول ہے کہ وہ کہے گا کہ سوائے اسلام کے سب مذاہب باطل ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس کا کلام یہ ہوگا کہ ایک کے متعلق کہے گا یہ مومن ہے اور دوسرے کے متعلق کہے گا یہ کافر ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا کلام وہ ہے جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔ ان الناس کانوا بایاتنا لایوقنون، ، مقاتل کا بیان ہے کہ وہ عربی زبان میں کلام کرے گا، اور اللہ کی طرف سے کہے گا، ان الناس کانوا بایاتنا لایوقنون۔ وہ لوگوں کو خبر دے گا، کہ اہل مکہ قرآن اور قیامت پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

82۔ اس جانور کا قیامت کے قریب نکلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کا ہونا اس قدر تفسیر اس آیت کی بہت صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث 2 ؎ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تک دس نشانیاں لوگوں کو نظر نہ آویں گی اس وقت تک قیامت نہ آوے گی ان دس نشانیوں میں جانور کی بھی ذکر ہے اور اسی حدیث کی روایت ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے دوسری حدیث صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ہے اس میں بھی اس جانور کا ذکر ہے تیسری حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ؓ و کی صحیح مسلم کی روایت میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت آفتاب مغرب سے نکلے گا اسی وقت میں یہ جانور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت 82 یعنی جب لوگوں پر وہ بات پوری ہونے کا وقت آپہنچے گا جسے اللہ تعالیٰ نے حتمی قرار دیا ہے اور اس کا وقت مقرر کردیا ہے (اخرجنا لھم دابۃ من الرض) ” تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے “ یا زمین کے جانوروں میں سے ایک جانور، جو آسمان کے جانوروں میں سے نہیں ہوگا۔ (تکلمھم) یہ جانور بندوں کے ساتھ کلام کرے گا کہ بیشک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے، یعنی اس وجہ سے کہ لوگوں کا علم اور آیات الہٰی پر ان کا یقین کمزور ہوجائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس جانور کو ظاہر فرمائے گا جو کہ اللہ تعالیٰ کی حیرت انگیز نشانیوں میں سے ہے تاکہ اس چیز کو وہ لوگون پر کھول کھول کر بیان کردے جس میں وہ شک کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

89 منکرین کیلئے جانور کے ذریعے اتمام حجت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وقت آنے پر ہم ان کے لیے زمین سے ایک ایسا جانور نکال لائیں گے جو ان سے باتیں کرے گا اور ان کو بتائے گا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے یہ خرق عادت دکھا کر ان پر حجت تمام کردی جائے گی کہ جس حق کی گواہی ایک جانور بھی دے رہا ہے اس کے قبول کرنے کی ہمت اور توفیق تم کو نہ ہوسکی اے منکرو۔ اور اس میں ان کی اس طرح سخت تحقیر و تذلیل بھی ہوگی کہ جن حقائق کو تم لوگوں نے پیغمبروں کے کہنے پر نہیں مانا تھا اب ان کو تم ایک جانور کے کہنے پر مانو اور تسلیم کرو۔ سو اس طرح وہ لوگ ان حقائق کو ایک جانور کے کہنے پر تسلیم کرلیں گے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 82–93

قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔ سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ ” تکلمھم “ کے معنی بات کرنا اور زخمی کرنا، دونوں ہوسکتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ جانور مومن سے بات کریگا اور کافر کو زخمی کریگا حافظ ابن کثیر (رح) نے اس … کو پسند کیا ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی، ابن کثیر) 7 ۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ وقت ہوگا جب لوگ امر بالمعروف او نہی عن المنکر چھوڑ دینگے۔ یہ جانور کیسا ہوگا۔ کہاں نکلے گا۔ کب نکلے گا اور نکل کر کیا کریگا ؟ اس بارے میں متعدد احادیث و آثار مروی ہیں جن میں صحیح، حسن اور ضعیف ہر قسم کی احادیث مذکور ہیں۔ مگر یہ بات تو قطعی طور پر صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ” خروج وأبۃ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جیسا کہ صحیح…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:82) وقع۔ ماضی واحد ۔ مذکر غائب۔ وقع یقع وقوع (باب فتح سے) وقع القول علیہم واجب ہونا۔ وقع الحق ثابت ہونا۔ وقع الشیء من الید کسی چیز کا ہاتھ سے گرنا۔ اذا وقع القول علیہم جب ان پر (ہماری) بات (کا پورا ہونا) واجب آ ٹھہرے گا۔ یعنی ضروری ہوجاوے گا۔ القول۔ اس کے کئی مصداق ہوسکتے ہیں۔ مثلاً قیام الساعۃ۔ قیامت کا وقوع پذیر ہونا۔ قیامت کی نشانیوں کا ظہور پذیر ہونا۔ عذاب و سزا کے وعدے جو ان سے کئے گئے تھے۔ جملہ وعدہ وعید جن کے لئے یہ لوگ جلدی مچا رہے تھے۔ یعنی جب ان سب کے متعلق اللہ کے فرمان کے پورا ہونے کا وقت آلگے گا۔ دابۃ۔ مادہ د ب ب ۔ الدب والدبیب (ضرب) کے معنی آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) قیامت کے قریب جو دس نشانیاں ظاہر ہوں گی ان میں سے ایک اس جانوردابۃ الارض کا ظہور ہوگا جو کوہ صفا واقع قرب مکہ سے نکلے گا اس وقت سورج مغرب سے طلوع ہوا ہوگا اور یہ لوگوں سے کہے گا کہ افسوس تم نے خدا کی باتوں کا یقین نہ کیا یہاں تک کہ اب توبہ کا دروازہ بندہوگیا اس کے پاس حضرت موسیٰ کا عصا اور سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی ایمان والوں کی پیشانی پر عصا سے ایک قسم کا چھاپا لگادے گا اس روز سے ایک دسترخوان پر بیٹھنے والوں میں صاف فرق دکھائی دے گا کہ یہ ایمان دار ہے اور یہ کافر ہے اس کی رفتار بہت تیز ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 82–83

[28] آثار قیامت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مکہ کا صفا پہاڑ پھٹے گا اور اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو ایک خاص نشان سے مسلمانوں اور کافروں کو جدا کر دے گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنس حیوان ہوگی۔ '' دابتہ من الارض '' کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

دابتہ الارض 3 جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا ۔ کہ یہ عالم کون عالم فساد سے بدل جائے گا ۔ چاند اور ستارے بےنواز ہوجائے گے ۔ آفتاب اپنی حرارت کھودے گا اور یہ بزم آراستہ منتشر ہوجائے گی جو لوگ اتنی بڑی خوق پر ایمان رکھتے ہیں کہ آسمان کی بلندیاں اور زمین کی وسعت یہ سب چیزیں فنا ہوجائیں گی ۔ اور صرف ایک خدا کی ذات باقی رہ جائے گی ۔ جن لوگوں کو اس بات کے مان لینے میں کوئی تامل نہیں ۔ کہ یہاں کا ذرہ ذرہ خوارق و عجائب کا مجموعہ ہے ۔ ان کے لئے وابتہ الارض کا وجود قطعاً حیرت واستعجاب کا موجب نہیں ہوسکتا ۔ اور وہ بالکل اس خوش العقل چیز کا انکار نہیں کرسکتے ۔ جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(82) ار جب ان لوگوں پر بات پوری ہونے والی ہوگی اور جب وعدہ قیامت ان لوگوں پر پورا ہونے کو ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا اس لئے کہ یہ منکر ہماری آیات کا یقین نہیں کیا کرتے تھے یعنی اس جانور کا نکلنا علامات قیامت میں سے بڑی علامت ہوگا اور چونکہ یہ مغرب سے طلوع آفتاب کے وقت ہوگا اس لئے اس وقت ایمان لانا معتبر نہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قیامت سے پہلے صفا پہاڑ مکہ کا پھٹے گا اس میں سے ایک جانور نکلے گا لوگوں سے باتیں کرے گا کہ اب قیامت نزدیک ہے اور سچے ایمان والوں اور چھپے منکروں کو جدا کردے گا نشان دے کر کہتے ہیں اس جانور کا نام جساسہ ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 81–83

ف 1۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ تو مشابہ مردوں اور بہروں اور اندھوں کے ہیں پھر ان سے توقع ہدایت اور فہم کی بےکار ہے، جب توقع نہ ہوگی حزن بھی نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب ان کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم دابۃ الارض کو ظاہر کریں گے : 82۔ (دآبۃ) کا لفظ قرآن کریم میں 14 بار اور (الدواب) کا چار بار آیا ہے اس سے مراد ہر چلنے پھرنے والا ‘ پاؤں دھرنے والا ‘ رینگنے والا کے ہیں جس میں حشرات الارض میں سے ہر ایک جن گنتی لاکھوں میں نہیں کی جاسکتی بشمول انسان ‘ حیوان سب کے بولا جاتا ہے اگرچہ عرف میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور بلاشبہ اسمیں ہر ایک حیوان داخل ہے۔ زیر نظر آیت میں اسی (دآبۃ الارض) کا ذکر ہے جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور ظاہر ہے کہ لوگوں سے باتیں کرنے والا تو کوئی انسان ہی ہو سکتا ہے اور انسان پر بھی جب (دآبۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The nature of the beast coming out of the earth, and its time and place It is reported in Musnad of Ahmad on the authority of Sayyidna Hudhaifah ؓ that the Holy Prophet ﷺ said that the Doomsday would not come until you witness ten signs of it. They are: (1) Appearance of the sun from the west. (2) Dukhan (Smoke). (3) Dabba-tul-ard, i.e the beast coming out of the earth (4) Coming out of Ya’ juj and Ma’ juj. (5) Descent of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . (6) Dajjal. 7, 8, 9) Three lunar eclipses together - one in the west, second in the east and the third in the peninsula of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–83

100 That is, "...when Resurrection which they are being promised will approach." 101 According to Ibn `Umar, this will happen when there remains no one in the world to command the people to do good and forbid them to do evil. Ibn Marduyah has reported a Hadith on the authority of Abu Said Khudri; according to which the latter heard the same thing from the Holy Prophet himself. This shows that when man gives up the duty of exhorting others to do good and forbidding them to do evil, AIIah will bring forth a beast to serve as the final warning just before Resurrection. This, however, is not…

Read the full tafseer →