Explained with ayahs 76–81
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا
قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے…
Read the full tafseer →سورة النمل 99
یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی انہیں سیدھے راستے پر کھینچ لانا اور گھسیٹ کرلے چلنا تو تمہارا کام نہیں ہے، تم تو صرف زبان اور اپنی مثال ہی سے بتاسکتے ہو کہ یہ سیدھا راستہ ہے اور وہ راستہ غلط ہے جس پر یہ لوگ چل رہے ہیں، مگر جس نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہوں اور جو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو اس کی رہنمائی کیسے کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ ، یعنی آپ تو صرف ایسے ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان لائیں اور اطاعت قبول کریں۔ اس پورے مضمون میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جگہ سننے سنانے سے مراد محض کانوں میں آواز پہنچنا نہیں بلکہ مراد اس سے وہ سماع اور سننا ہے جو نفع بخش ہو۔ جو سماع نافع نہ ہو اس کو قرآن نے مقصد کے اعتبار سے عدم سماع سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ آخر آیت میں یہ ارشاد کہ آپ تو صرف ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ایمان لائیں۔ اگر اس میں سنانے سے مراد محض ان کے کان تک آواز پہنچانا ہوتا تو قرآن کا یہ ارشاد خلاف مشاہدہ اور خلاف واقع ہوجاتا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
(آیت 81-79)
آنحضرت کے لئے تسلی
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی چالوں اور مخالفتوں سے بالکل بےپروا ہو کر اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ رکھو، واضح حق پر تمہی ہو۔ اس حق کا بول بالا ہو کر رہے گا اور تمہارے یہ مخالفین، خواہ قریش ہوں یا یہود، اپنے باطل کے ذریعہ سے تمہارا مقابلہ کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری چالیں بیکار کر دے گا۔ اللہ کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔
انک لاتسمع الموتی الآیۃ یعنی اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سنتے تو تم ان کے حال پر غم نہ کرو، تمہارا کام مردوں کو سنانا نہیں ہے اور نہ بہروں کو سنانا ہے بالخصوص جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔ اذا ولوا مدبرین کی قید سے…
Read the full tafseer →81-1یعنی جن کو اللہ تعالیٰ حق سے اندھا کر دے، آپ ان کی اس طرح رہنمائی نہیں فرما سکتے جو انھیں مطلوب یعنی ایمان تک پہنچا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
5 یعنی جس طرح ایک مردہ کو خطاب کرنا یا کسی بہرے کو پکارنا خصوصاً جبکہ وہ پیٹھ پھیرے چلا جا رہا ہو اور پکارنے والے کی طرف قطعاً ملتفت نہ ہو ان کے حق میں سودمند نہیں یہ ہی حال ان مکذبین کا ہے جن کے قلوب مرچکے ہیں اور دل کے کان بہرے ہوگئے ہیں اور سننے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے کہ ان کے حق میں کوئی نصیحت نافع اور کارگر نہیں۔ ایک نپٹ اندھے کو جب تک آنکھ نہ بنوائے تم کس طرح راستہ یا کوئی چیز دکھلا سکتے ہو۔ یہ لوگ بھی دل کے اندھے ہیں اور چاہتے بھی نہیں کہ اندھے پن سے نکلیں۔ پھر تمہارے دکھلانے سے وہ دیکھیں تو کیسے دیکھیں۔
6 یعنی نصیحت سنانا ان کے حق میں نافع ہے جو سن کر اثر قبول کریں۔ اور اثر قبول کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
آیت 80 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ”
یعنی آپ ﷺ کے ان مخاطبین میں سے اکثر لوگوں کے دل مردہ ہیں ‘ ان کی روحیں ان کے دلوں کے اندر دفن ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ صرف حیوانی طور پر زندہ ہیں جبکہ روحانی طور پر ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔ چناچہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ زندہ مت سمجھیں ‘ یہ تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ اس کیفیت میں وہ آپ ﷺ کی ان باتوں کو کیسے سن سکتے ہیں ! میر درد نے اپنے اس شعر میں انسان کی اسی روحانی زندگی کا ذکر کیا ہے :
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے !
وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”
یعنی ایک بہرا شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
85 یعنی ان کافروں کے ہدایت پانے کی چار ہی صورتیں ممکن ہیں۔ جن میں سے دو سننے سے تعلق رکھتی ہیں اور دو دیکھنے سے۔ سننے کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ صرف زندہ سن سکتا ہے۔ مردہ نہیں سن سکتا۔ اب چونکہ ان کے دل مرچکے ہیں۔ لہذا اس طریقہ سے ان کی ہدایت ناممکن ہوتی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماعت رکھنے والا تو بات سن سکتا ہے۔ لیکن بہرا نہیں سن سکتا۔ یہ لوگ چونکہ دل کے بہرے ہیں۔ لہذا یہ صورت بھی ناممکن ہوئی۔ تیسری صورت یہ تھی کہ ہو تو بہرا مگر کم از کم وہ توبہ تو کرتا ہو۔ اور بات سننے کی کچھ خواہش تو رکھتا ہو۔ اس صورت میں بھی کچھ اشاروں اور انداز خطاب سے اس کے کچھ نہ کچھ پلے پڑ سکتا تھا۔ مگر یہ لوگ تو…
Read the full tafseer →89۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کی تبلیغ سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہی ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیت نمبر 67 تا 82
ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…
Read the full tafseer →وما انت بھدی العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون . اور نہ
آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) سیدھا راستہ دکھانے ولے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات کا یقین رکھتے ہیں پھر وہ مانتے (بھی) ہیں۔
یعنی اللہ نے جس کے دل کو اندھا کردیا ہے ایمان کی راہ اس کو سوجھائی نہیں دیتی آپ اس کو ایمان کا راستہ نہیں دکھا سکتے۔ آپ کا قرآن سنانا سوائے ان لوگوں کے کسی کو فائدہ نہیں دے سکتا جو ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے ہیں یعنی ایمان لانا ہم نے ان کے لئے مقدر کردیا ہے پس وہ ہی مسلم ہوتے ہیں یعنی اپنا رخ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(81) اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر ہدایت کا راستہ دکھلانے والے ہیں آپ تو صرف ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری کتاب اور رسول کا یقین رکھتے ہیں اور پھر وہ عبادت اور توحید خداوندی میں مخلص بھی ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ۔۔ : یعنی آپ دل کے اندھوں کو راہ راست پر نہیں لاسکتے، آپ تو اسی کو سنائیں گے اور اسی کو راہ راست پر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو سن کر ان کا اثر قبول کرتے ہیں اور اثر قبول کرنا یہی ہے کہ آپ کی دعوت پر ایمان لے آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” انک لا تسمع الموتی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے کافر کے لیے بیان فرمائی جیسے میت نہیں سنتی اسی طرح کافر بھی نہیں سنا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے آیت ولا تسمع الص الدعاء اذا ولوا مدبرین یعنی بہرا اگر پیٹھ پھیر کر چلا جائے پھر اس کو بلایا جائے تو وہ نہیں سنتا اسی طرح کافر نہیں سنتا اور وہ جانتا ہے اس سے نفع حاصل نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتَ [ اور آپ ﷺ نہیں ہیں ] بِهٰدِي الْعُمْىِ [ اندھوں کو ہدایت دینے والے ] عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ۭ [ ان کی گمراہی سے ] اِنْ تُسْمِعُ [ آپ ﷺ نہیں سناتے ] اِلَّا [ مگر ] مَنْ [ اس کو جو ] يُّؤْمِنُ [ ایمان لاتا ہے ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ہی ] مُّسْلِمُوْنَ [ فرمابرداری کرنے والے ہیں
Read the full tafseer →(اِنْ تُسْمِعُ الاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) یعنی آپ صرف ایسے ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان لائیں اور اطاعت قبول کریں اس پورے مضمون میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جگہ سننے سنانے سے مراد محض کانوں میں آواز پہنچنا نہیں بلکہ مراد اس سے وہ سماع اور سننا ہے جو نفع بخش ہو جو سماع نافع نہ ہو اس کو قرآن نے مقصد کے اعتبار سے عدم سماع سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ آخر آیت میں یہ ارشاد ہے کہ آپ تو صرف ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ایمان لائیں اگر اس میں سنانے سے مراد محض ان کے کان تک آواز پہنچانا ہوتا تو قرآن کا یہ ارشاد خلاف مشاہدہ اور خلاف واقع ہوجاتا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
اثبات رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔
(ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
68:۔ یہ تیسری تشبیہ ہے اس میں مشرکین کو اندھوں سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح ایک اندھا بینائی نہ ہونے کی وجہ سے راستہ نہیں دیکھ سکتا اسی طرح مشرکین بھی راہ ہدایت پر نہیں آتے۔ ان تسمع الا من یومن الخ آپ کی تبلیغ سے صرف وہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو قرآن کو اللہ کا کلام سمھیں اور اخلاص کے ساتھ راہ حق کی تلاش کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔
قرآن کریم کی حق گوئی
پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ 0ۭ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَہُمْ مُّسْلِمُوْنَ 81
عمی
العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18]
( ع م ی ) العمی ٰ
یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔
تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
اِنَّـکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَـآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ وَمَـآ اَنْتَ بِھٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰـلَتِھِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (النمل : 80، 81)
(اے پیغمبر ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہیں۔ اور نہ آپ اندھوں کو ہدایت دینے والے ہیں ان کی گمراہی سے بچا کر، آپ تو اپنی بات انھیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائیں پھر وہ فرمانبردار بن جائیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی طرف سے رہنمائی ہے لیکن اس سے روحانی طور پر زندہ لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
قرآن مجید نے حق اور باطل کے درمیان واضح طور پر ایک امتیاز قائم کردیا ہے۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رسول معظم ﷺ حق بات پر گامزن اور واضح طور پر حق کی دعوت دینے والے تھے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ آپ ﷺ کی تکذیب اور قرآن مجید کا انکار کرتے تھے، اور کرتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کے مخالفین روحانی طور پر مردہ ہوگئے تھے اور ہیں۔ اس لیے نہ صرف وہ حق بات سننے کے بارے میں گونگے، بہرے ہوچکے ہیں بلکہ جب ان کے سامنے حق بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو…
Read the full tafseer →81: وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ (اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں) ۔ جب کفار مکہ جو سنتے اس کو یاد نہ رکھتے اور نہ سنتے اور نہ اس سے نفع اٹھاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مردوں سے مشابہت دی حالانکہ وہ ظاہر میں زیادہ صحیح الحواس تھے اور ان بہروں سے تشبیہ دی جن کو پکارا جائے تو نہ سنتے ہوں اور ان اندھوں سے جو راستہ گم کردیں۔ کوئی شخص اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ ان سے یہ چیزیں ہٹا کر ان کو راستہ دیکھنے والا اور راستہ پر چلنے والا بنا دے مگر اللہ جل شانہ ٗ (اور اسی کی طرف سے ہدایت ان کو ملنی نہیں کیونکہ انہوں نے گمراہی کو جان بوجھ کر اختیار کیا…
Read the full tafseer →81۔ وماانت بھادی العمی، ، اعمش اور حمزہ نے تھدی، تاء کے ساتھ فعل پر فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ العمی، یاء کے نصب کے ساتھ اور سو رہ روم مین بھی اسی طرح ہے۔ اور دوسرے قراء نے بھادی یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسم ہونے کی وجہ سے ۔ العمی، یاء کے کسرہ کے ساتھ ، عن ضلالتھم ، نہیں ہے۔ ان لوگوں کو راہ دکھانے والا، جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے اندھا کردے اور دل کو ایمان سے اندھا کردے۔ ان تسمع، نہیں سناسکتے۔ الامن یومن بایاتنا، مگر وہ جو قرآن کی تصدیق کرے یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ فھم مسلمون، اپنارخ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
(آیت 79
یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجئے ! (انک علی الحق المبین) ” بیشک آپ واضح حق پر ہیں “۔ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لئے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس مکیں کوئی اشتباہ ہے۔ جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان…
Read the full tafseer →88{ دابۃ الارض } سے مقصود و مراد ؟ : اس جانور کے بارے میں تفسیری روایات میں بہت کچھ مروی و منقول ہے۔ مگر ان کا زیادہ تر تعلق اسرائیلیات سے ہے۔ قرآن حکیم اور صحیح احادیث میں اس سے متعلق جو کچھ ثابت ہے اس کا خلاصہ اس قدر ہے کہ قرب قیامت کے وقت خرق عادت کے طور پر یہ جانور مکہ مکرمہ یا کسی اور مقام پر زمین سے ظاہر ہوگا اور لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق قرب قیامت کے وقت جن دس بڑی نشانیوں کا ظہور ہوگا ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ یعنی خروج دابہ، جو اس وقت ظاہر ہوگا جب کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا۔ اور ان دونوں میں سے جو بھی نشانی پہلے ظاہر ہوگی دوسری اس کے ساتھ ساتھ ہوگی۔ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیات 67 تا 82
اسرار و معارف
ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…
Read the full tafseer →4 ۔ یعنی آپ ان کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی تو انہیں سیدھے راستے کی طرف لا نہیں سکتے۔ 5 ۔ یعنی سنانا انہی لوگوں کے حق میں سود مند ہے جو ہماری آیتوں کو سن کر ان کا اثر قبول کرتے ہوں، اور اثر قبول کرنا یہی ہے کہ آپ ﷺ کی پیروی اختیار کریں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:81) وما انت بھادی العمی میں یا زائدہ ہے جو خبر منفی میں زائد کی جاتی ہے۔ جیسے وما اللہ بغافل عما تعلمون (2:74) وغیرہ۔ اور تو اندھوں کو راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔ ای وما تھدی العمی تو اندھے کو ہدایت نہیں دے سکتا۔
ان تسمع میں ان نافیہ ہے تسمع مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر اسماع (باب افعال) سے ہے تو سناتا ہے (پندو موعظت) تبلیغ و نصیحت یا آیات قرآنی کا پڑ ھ پڑھ کر سنانا)
فھم مسلمون پھر وہ (انہیں یعنی آیات کو) مانتے ہیں ۔ یعنی سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ آیات پر عمل کرتے ہیں دل و جان سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 :
تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 :
کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو…
Read the full tafseer →[27] مردوں، بہروں اور اندھوں سے مراد کفار ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے ضمیر مرچکے ہیں اور ان میں حق و باطل کا فرق سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں۔
Read the full tafseer →ف 2: قرآن حکیم کے خیر و برکت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ اور یہ حقیقت بھی غیر مشکوک اور قطعی ہے کہ حضور کا وجود کائنات کے لئے ہمہ تن رحمت وہدایت ہے ۔ مگر باوجود اسکے یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ان فیوض سے استفادہ نہ کریں ۔ کیونکہ وہ مردہ قلب ہیں زندگی کی اصلی استعداد ان سے چھن چکی ہے اور قوت سماعت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اس لئے بہرے ہیں ۔
Read the full tafseer →(81) اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ پر لگا سکتے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین کرتے ہیں سو وہی مخلص و فرماں بردار ہیں یعنی ہماری آیتوں کا یقین کرتے اور پھر مانتے بھی ہیں ان لوگوں کو سنانا نافع ہے اور جن کی روحانی موت ہوچکی ہے اور جن کے کان حق کی آواز سے بےبہرہ ہیں اور جن کی آنکھیں راہ حق دیکھنے سے اندھی ہیں ان کو کوئی نفع نہیں ہوتا اب آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 1۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ تو مشابہ مردوں اور بہروں اور اندھوں کے ہیں پھر ان سے توقع ہدایت اور فہم کی بےکار ہے، جب توقع نہ ہوگی حزن بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →گمراہی کے اندھوں کو آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے ‘ دل کے مومن ہی کو آپ ﷺ سنا سکتے ہیں :
81۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اگر سنوا سکتے ہیں تو صرف اور صرف انہیں لوگوں کو جو خود ہماری آیتوں پر ایمان لانا چاہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ رکھا ہے اور پھر سنت الہی اس طرح وا اقع ہوئی ہے کہ جو لوگ اس داعیہ کی خود کوشش کرتے ہیں اور تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں وہ یقینا ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اور جو لوگ خود کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی طلب میں نکلتے ہیں گویا ان کا وہ داعیہ مر جاتا ہے اور جس کا داعیہ مر گیا وہ کیا خاک سنیں گا اور جو کچھ قرآن کریم نے بیان کی وہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ
You can make no one listen (to you) except those who believe in Our verses, then submit themselves (to Allah). 27:81.
It is very clear that in the subject under discussion it is not purported to make the voice reach the listener, but what is intended here is that what is conveyed should be beneficial to the addressee. The Qur'an has defined the audition as non-audition if it is not beneficial from the objective point of view. This point is elaborated at the end of the verse where it is stated that you can cause to hear only…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
92 Here by "Book" is not meant the Qur'an, but the Divine Record in which everything has been registered.
Read the full tafseer →