An-Naml 27:80

An-Naml · from ayah 80

27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۟اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَلَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, you will not make the dead hear, nor will you make the deaf hear the call when they have turned their backs retreating.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:80

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یاد رکھو کہ تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک آپ نہ (تو حیاتِ ایمانی سے محروم) مُردوں کو (حق کی بات) سنا سکتے ہیں اور نہ ہی (ایسے) بہروں کو (ہدایت کی) پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ (غلبۂ کفر کے باعث ہدایت سے) پیٹھ پھیر کر (قبولِ حق سے) رُوگرداں ہو رہے ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تو نہ مردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر پلٹ جائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہ تو آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ایسے بہروں کو اپنی پکار سناسکتے ہیں جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پگار سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ نہ تو مردوں کو کسی قیمت پر سنا سکتے ہیں اور نہ ہی ان بہروں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں جو پھرجائیں حق سے پیٹھ دے کر

— مولانا اسحاق مدنی

آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سناسکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں۔ اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

البتہ آپ ﷺ ُ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ ﷺ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل پڑیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely you cannot make the dead hear you, nor can you make the deaf hear your call if they turn back in flight,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, you cannot make the dead to hear, nor can you make the deaf to hear your call when they turn their backs in retreat,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, you cannot make the dead to hear, nor can you make the deaf to hear your call when they turn their backs in retreat,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, you cannot make the dead to hear nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thou canst not make the dead to hear, nor canst thou make the deaf to hear the call when they have turned to flee;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, you will not make the dead hear, nor will you make the deaf hear the call when they have turned their backs retreating.

— Saheeh International

You cannot make the dead listen and the deaf are unable to hear calls. Thus, they turn back on their heels.

— Muhammad Sarwar

Surely you do not make the dead to hear, and you do not make the deaf to hear the call when they go back retreating.

— Muhammad Habib Shakir

Verily thou canst not make the dead hear, nor canst thou make the deaf hear the call when they flee turning their backs.

— Abdul Majid Daryabadi

Truly thou canst not cause the dead to listen, nor canst thou cause the deaf to hear the call, (especially) when they turn back in retreat.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–81

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 97 یعنی ایسے لوگوں کو جن کے ضمیر مرچکے ہیں اور جن میں ضد اور ہٹ دھرمی اور رسم پرستی نے حق و باطل کا فرق سمجھنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں چھوڑی ہے۔ سورة النمل 98 یعنی جو تمہاری بات کے لیے صرف اپنے کان بند کرلینے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس جگہ سے کترا کر نکل جاتے ہیں، جہاں انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں تمہاری بات ان کے کان میں نہ پڑجائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں (خصوصاً) جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) رستہ دکھانے والے ہیں، آپ تو صرف ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین رکھتے ہیں (اور) پھر وہ مانتے (بھی) ہیں۔ معارف و مسائل ہمارے رسول کریم ﷺ تمام انسانوں کے ساتھ جو شفقت و ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے اس کا تقاضا تھا کہ سب کو اللہ کا پیغام سنا کر جہنم سے بچا لیں جو لوگ اس پیغام کو قبول نہ کرتے تو آپ کو سخت صدمہ پہنچتا تھا اور آپ ایسے غمگین ہوتے تھے جیسے کسی کی اولاد اس کے کہنے کے خلاف آگ میں جا رہی ہو۔ اس لئے قرآن نے جا بجا رسول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–81

(آیت 81-79) آنحضرت کے لئے تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی چالوں اور مخالفتوں سے بالکل بےپروا ہو کر اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ رکھو، واضح حق پر تمہی ہو۔ اس حق کا بول بالا ہو کر رہے گا اور تمہارے یہ مخالفین، خواہ قریش ہوں یا یہود، اپنے باطل کے ذریعہ سے تمہارا مقابلہ کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری چالیں بیکار کر دے گا۔ اللہ کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ انک لاتسمع الموتی الآیۃ یعنی اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سنتے تو تم ان کے حال پر غم نہ کرو، تمہارا کام مردوں کو سنانا نہیں ہے اور نہ بہروں کو سنانا ہے بالخصوص جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔ اذا ولوا مدبرین کی قید سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80-1یہ ان کافروں کی پروا نہ کرنے اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے کی دوسری وجہ ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں جو کسی کی بات سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا بہرے ہیں جو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ راہ یاب ہونے والے ہیں۔ گویا کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی جن میں حس ہوتی ہے نہ عقل اور بہروں سے، جو وعظ و نصیحت سنتے ہیں نہ دعوت الی اللہ قبول کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–82

36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 76–81

ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81) نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 80–81

5 یعنی جس طرح ایک مردہ کو خطاب کرنا یا کسی بہرے کو پکارنا خصوصاً جبکہ وہ پیٹھ پھیرے چلا جا رہا ہو اور پکارنے والے کی طرف قطعاً ملتفت نہ ہو ان کے حق میں سودمند نہیں یہ ہی حال ان مکذبین کا ہے جن کے قلوب مرچکے ہیں اور دل کے کان بہرے ہوگئے ہیں اور سننے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے کہ ان کے حق میں کوئی نصیحت نافع اور کارگر نہیں۔ ایک نپٹ اندھے کو جب تک آنکھ نہ بنوائے تم کس طرح راستہ یا کوئی چیز دکھلا سکتے ہو۔ یہ لوگ بھی دل کے اندھے ہیں اور چاہتے بھی نہیں کہ اندھے پن سے نکلیں۔ پھر تمہارے دکھلانے سے وہ دیکھیں تو کیسے دیکھیں۔ 6 یعنی نصیحت سنانا ان کے حق میں نافع ہے جو سن کر اثر قبول کریں۔ اور اثر قبول کرنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 80–81

آیت 80 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ” یعنی آپ ﷺ کے ان مخاطبین میں سے اکثر لوگوں کے دل مردہ ہیں ‘ ان کی روحیں ان کے دلوں کے اندر دفن ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ صرف حیوانی طور پر زندہ ہیں جبکہ روحانی طور پر ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔ چناچہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ زندہ مت سمجھیں ‘ یہ تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ اس کیفیت میں وہ آپ ﷺ کی ان باتوں کو کیسے سن سکتے ہیں ! میر درد نے اپنے اس شعر میں انسان کی اسی روحانی زندگی کا ذکر کیا ہے : ؂ مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے ! وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ” یعنی ایک بہرا شخص…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

84 اس آیت میں موتیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت نہ تو ان لوگوں کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے جن کے دل مرچکے ہیں اور نہ ان کو جن کے دلوں کے کان بہرہ ہوچکے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں وہ بہرے الٹے پاؤں بھاگے جارہے ہوں۔ بہرے کا بھی چہرہ اگر بات کرنے والی کی طرف ہو تو وہ متکلم کے اشاروں سے یا بات کرنے کے انداز سے ہی اس کا کچھ نہ کچھ مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا رخ ہی بات کرنے والے سے الٹی طرف ہو، مزید براں وہ بھاگے جارہا ہو۔ تو اس سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ وہ متکلم کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ سکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87۔ (کوئی ایسی آواز و کلام جواب ان کے حق میں نافع ہو) مطلب یہ ہے کہ یہ معاندین تو مردوں کی طرح ہیں، ان سے توقع ہی فہم وہدایت کی بیکار ہے۔ انما شبھوا بالموتی لعدم انتفاعھم باستماع مایتلی علیھم کما شبھوا بالصم (بیضاوی) بعض علماء نے آیت سے یہ مستنبط کیا ہے کہ مردے مطلقا کلام نہیں سن سکتے۔ حالانکہ یہاں مقصود صرف تشبیہ ہے، اور اس کی بناء پر عرف وظاہر پر ہے۔ کوئی مسئلہ فقہی بیان نہیں ہورہا ہے اور پھر کافروں سے سمع وبصر کی نفی تو اور بھی متعدد مقامات پر قرآن میں آئی ہے۔ جس طرح وہاں مراد معرفت وادراک لی گئی ہے یہاں بھی نفی سمع نفی قبول ہی پر محمول ہوگی۔ اس کے علاوہ موتی کا اطلاق تو جسد مردہ پر ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انک لا تسمع الموتی . آپ یقیناً مردوں کو (یعنی کافروں کو) نہیں سنا سکتے۔ کافروں کو قرآن سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس لئے ان کو مردوں سے تشبیہ دی۔ مردوں کو قرآن سنانے سے کوئی فائدہ نہیں جیسا کہ آیت میں کافروں کو بہرا کہا گیا ہے۔ ولا تسمع الصم الداء اذا ولوا مدبرین . اور نہ آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں (خصوصاً ) جب کہ وہ پشت پھر کر چل دیں۔ ایک سوال اِذا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ کہنے کا کیا فائدہ ‘ بہرے تو بہرحال نہیں سنتے خواہ منہ سامنے کئے ہوں یا پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں۔ جواب صرف تاکید اور کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ایسا کہا۔ یہ جواب بعض اہل تفسیر نے دیا ہے۔ بعض نے کہا : اگر بہرا سامنے منہ کئے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) اور آپ حق و ہدایت کی آواز ایسے لوگوں کو جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں یا یہ کہ وہ مردوں کی طرح ہیں اور اسی طرح بہروں کو نہیں سنا سکتے خصوصا جب کہ وہ راہ حق و ہدایت سے منہ پھیر کر چل دیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ۔۔ : یہ بھی آپ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ ان لوگوں کے قرآن پر ایمان نہ لانے سے دل گرفتہ نہ ہوں، ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انھوں نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے ایمان لانا ہی نہیں۔ یہ کافر لوگ مردوں کی طرح ہیں، جنھیں دعوت دینا اور نصیحت کی کوئی بات سنانا قطعی سود مند نہیں اور یہ ان بہروں کی طرح ہیں جو پیٹھ دے کر بھاگ رہے ہوں۔ اگر وہ سامنے دیکھ رہے ہوتے تو شاید توجہ کے ساتھ کچھ سمجھ جاتے، مگر پیٹھ دے کر بھاگنے کی صورت میں تو ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی بات سن سکیں۔ روحانی موت اور روحانی بہرے پن کو جسمانی موت اور جسمانی بہرے پن کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 76–81

ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 80–81

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” انک لا تسمع الموتی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے کافر کے لیے بیان فرمائی جیسے میت نہیں سنتی اسی طرح کافر بھی نہیں سنا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے آیت ولا تسمع الص الدعاء اذا ولوا مدبرین یعنی بہرا اگر پیٹھ پھیر کر چلا جائے پھر اس کو بلایا جائے تو وہ نہیں سنتا اسی طرح کافر نہیں سنتا اور وہ جانتا ہے اس سے نفع حاصل نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّكَ [ بیشک آپ ] لَا تُسْمِعُ [ نہیں سناتے ] الْمَوْتٰى [ مردوں کو ] وَلَاتُسْمِعُ [ اور آپ ﷺ نہیں سناتے ] الصُّمَّ [ بہروں کو ] الدُّعَاۗءَ [ (اپنی) پکار ] اِذَا [ جب ] وَلَّوْا [ وہ چل دیتے ہیں ] مُدْبِرِيْنَ [ پیٹھ دینے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور اندھوں کو راہ حق نہیں دکھا سکتے رسول اللہ ﷺ توحید کی دعوت دینے میں بہت محنت کرتے تھے مکہ معظمہ کے مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اکثر لوگ دوربھاگتے تھے آپ چاہتے تھے کہ سب مسلمان ہوجائیں وہ لوگ رو گردانی کرتے تھے تو آپ کو رنج ہوتا تھا، اللہ پاک کی طرف سے آپ کو تسلی دی جاتی تھی تسلی کا مضمون آیت کریمہ (وَ لاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَ لاَ تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ) میں بھی بیان ہوچکا ہے یہاں دوسرے انداز میں آپ کو تسلی دی گئی ہے وہ یہ کہ جن لوگوں نے اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے اپنی قبول حق کی صلاحیت ختم کردی ہے آپ انہیں ہدایت نہیں دے سکتے ہدایت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–81

اثبات رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔ (ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–81

68:۔ یہ تیسری تشبیہ ہے اس میں مشرکین کو اندھوں سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح ایک اندھا بینائی نہ ہونے کی وجہ سے راستہ نہیں دیکھ سکتا اسی طرح مشرکین بھی راہ ہدایت پر نہیں آتے۔ ان تسمع الا من یومن الخ آپ کی تبلیغ سے صرف وہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو قرآن کو اللہ کا کلام سمھیں اور اخلاص کے ساتھ راہ حق کی تلاش کریں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 76–82

ربط آیات گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن کریم کی حق گوئی پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِـــعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ۝ 80 سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–82

ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔ تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 80–81

اِنَّـکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَـآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ وَمَـآ اَنْتَ بِھٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰـلَتِھِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (النمل : 80، 81) (اے پیغمبر ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہیں۔ اور نہ آپ اندھوں کو ہدایت دینے والے ہیں ان کی گمراہی سے بچا کر، آپ تو اپنی بات انھیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائیں پھر وہ فرمانبردار بن جائیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–81

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی طرف سے رہنمائی ہے لیکن اس سے روحانی طور پر زندہ لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن مجید نے حق اور باطل کے درمیان واضح طور پر ایک امتیاز قائم کردیا ہے۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رسول معظم ﷺ حق بات پر گامزن اور واضح طور پر حق کی دعوت دینے والے تھے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ آپ ﷺ کی تکذیب اور قرآن مجید کا انکار کرتے تھے، اور کرتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کے مخالفین روحانی طور پر مردہ ہوگئے تھے اور ہیں۔ اس لیے نہ صرف وہ حق بات سننے کے بارے میں گونگے، بہرے ہوچکے ہیں بلکہ جب ان کے سامنے حق بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 80: اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ (آپ یقینا مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80۔ انک لاتسمع الموتی، اس سے مراد کفار ہیں۔ ولاتسمع الصم الدعا، ، ابن کثیر نے لایسمع یاء کے ساتھ اور اس کے فتحہ کے ساتھ الصم پڑھا ہے۔ رفع کے ساتھ اسی طرح سورة روم میں بھی پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ اور میم کے کسرہ کے ساتھ اور الصم کو منصوب پڑھا ہے اذاولوامدبرین، جب وہ اعراض کرتے ہیں۔ سوال : اذاولوامدبرین، ، کا کہنے کاکیافائدہ جب وہ بہرے ہیں توپیٹھ پھیر کر بھاگیں یا نہ بھاگیں ان کے لیے توکیافائدہ،۔ جواب : اس کلام مین مزید تاکید اور مبالغہ پیدا کرنے کے لیے ا اور بعض نے جواب دیا کہ جب بہرہ مجلس میں موجود ہو اگرچہ وہ آواز کے ذریعے بات نہیں سن سکتا،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–81

74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–81

(آیت 79 یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجئے ! (انک علی الحق المبین) ” بیشک آپ واضح حق پر ہیں “۔ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لئے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس مکیں کوئی اشتباہ ہے۔ جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 79–80

87 مردوں کو سنانا کسی کے بس میں نہیں : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ مردوں کو نہیں سنا سکتے "۔ یہاں پر کفار کو مردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح آپ ﷺ مردوں کو نہیں سنا سکتے اسی طرح ان کفار کو بھی سنانا اور حق قبول کرا دینا آپ کے بس میں نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ اسی صورت میں صحیح ہوسکتی ہے جبکہ مردے نہ سنتے ہوں۔ ورنہ اس تشبیہ کا کوئی معنیٰ ہی نہیں رہ جاتا۔ لہذا اہل بدعت کی یہ خوشی فہمی یا مغالطہ آفرینی پا در ہوا ہوجاتی ہے کہ اس سے سماع موتیٰ کی نفی نہیں ہوتی۔ مگر واضح رہے کہ یہاں پر { تسمع } فرمایا گیا ہے۔ یعنی " آپ نہیں سنا سکتے "۔ تو اس سے یہ بات نکلتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ یعنی یہ کافر مردوں اور بہروں کی طرح ہیں جنہیں دعوت دینا اور کوئی نصیحت کی بات سنانا قطعی سود مند ہیں ہوسکتا، خصوصاً جبکہ وہ پیٹھ دے کر بھاگ رہے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کو کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی۔ یہ نفی عام ہے اور اس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل (کتاب و سنت) سے ثابت ہوں جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ بدر کے دن آپ ﷺ نے کفار کی لاشوں سے خطاب کیا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا :” اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ایسی لاشوں سے خطاب فرماتے ہیں جن میں روح نہیں ہے۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم ان سے بڑھ کر نہیں سن سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ “ اور جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ جب لوگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:80) لا تسمع۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر حاضر اسماع (افعال) مصدر تو نہیں سناتا ہے۔ تو نہیں سنا سکتا۔ الموتی : المیت کی جمع ۔ مردے۔ الصم : صم اصم کی جمع ہے بہرے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے اور لا تسمع کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول الدعاء ہے۔ یعنی تو اپنی پکار بہروں کو نہیں سنا سکتے۔ ولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل) مصدر (جب) وہ منہ موڑ کر چل دیں۔ یا پیٹھ پھیر کر چل دیں۔ مدبرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ پیٹھ موڑنے والے۔ اسبار (افعال) مصدر بحالت نصب بوجہ ولوا کے حال ہونے کے ہے۔ دبر بمعنی مقعد۔ پشت۔ قبل وقبل کی ضد ہے۔ آگے کا حصہ ہر چیز کا یہ دونوں لفظ دبر وقبل بطور کنایہ جائے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–81

قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(80) آگے نبی کریم ﷺ کی اور تسلی کے لئے فرمایا ور اے پیغمبر نہ تو آپ مردوں کو سناسکتے ہیں اور نہ آپ بہروں کو اپنی آواز سناسکتے ہیں جبکہ وہ بہرے پیٹھ پھیر کر پھرجائیں یعنی یہ دین حق کے منکر ایسے ہیں جیسے مردے اور بہرے اور بہرے ایسے ہیں جو پیٹھ پھیر کر جارہے ہیں یعنی سامنے ہوں تو شاید کچھ اشارے سے سمجھیں لیکن جب پیٹھ دیکر جارہے ہوں تو کیا سنیں اور جنہوں نے کفر کی موت اختیار کر رکھی ہے اور کفر کی مردنی ان پر چھائی ہوئی ہو ان کو بھی سنانا ممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–80

ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ آپ ﷺ ان مردوں دلوں اور عقل وفکر کے بہروں کو نہیں سنا سکتے : 80۔ موت کی بہت سی اقسام ہیں اور قرآن کریم نے ساری موتوں کا ذکر کیا ہے اور جو موت مضمون کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہو اسی موت کے ساتھ ترجمہ کیا جاسکتا ہے ہاں اگر ضرورت ہو تو دلیل ضرور مہیا کرنی چاہئے خصوصا اس وقت جب کسی دوسرے سے اختلاف واقع ہوجائے اور جس موت کو مراد لیا جائے اس کی وضاحت کردینا ضروری ہے تاکہ دیکھنے اور پڑھنے والے کو کوئی شبہ اور مغالطہ نہ لگے ، ان موقعوں میں سے چند ایک کے نام اس جگہ ذکر کئے جاتے ہیں تاکہ وہ ذہن نشین رہیں مثلا موت نباتاتی ‘ موت حیوانی ‘ موت انسانی ‘ موت ارضی ‘ موت حسی ‘ موت علمی ‘ موت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It was the demand of love and affection the Holy Prophet ﷺ had for all human beings that he should save them all from the fire of jahannam by making them accept the message of Allah. It used to hurt him a lot if someone did not accept it. He used to feel as if someone's children were proceeding toward the fire by not heeding to the advice of his parents. Therefore, Qur'an has adopted different expressions to console him at many places. One such advice was contained in the sentence وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُن فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُ‌ونَ (And do not grieve for them, and…

Read the full tafseer →