An-Naml 27:79

An-Naml · from ayah 79

27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ ؕ— اِنَّكَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ۟فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَـقِّ الۡمُبِيۡنِ

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So rely upon Allah; indeed, you are upon the clear truth.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:79

پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ یقیناً اللہ ہی پر بھروسہ رکھیے، یقیناً آپ سچے اور کھلے دین پر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) تم اللہ پر بھروسہ رکھو۔ یقینا تم کھلے کھلے حق پر ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم اللہ پر بھروسہ کرو، بیشک تم روشن حق پر ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ اللہ پر بھروسہ کریں بیشک آپ صریح حق پر (قائم اور فائز) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اللہ پر بھروسا کر، یقینا تو واضح حق پر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ یقینا آپ صریح حق پر ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اللہ پر بھروسہ رکھو بیشک واضح حق پر تمہی ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بس آپ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں کہ بلاشبہ آپ قطعی طور پر صریح حق پر ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ اللہ پر توکل رکھیے بیشک آپ صریح حق پر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ توکلّ کیجیے اللہ پر۔ یقیناً آپ ﷺ ہی واضح حق پر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں آپ کھلے حق پر ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So put your trust in Allah for you are on the manifest truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So trust in Allah. Surely you are on the clear truth.

— Muhammad Taqi Usmani

So trust in Allah. Surely you are on the clear truth.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, put your trust in Allah; surely, you are on manifest truth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor (O Muhammad) put thy trust in Allah, for thou (standest) on the plain Truth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So rely upon Allah; indeed, you are upon the clear truth.

— Saheeh International

Trust in God for you follow the manifest truth.

— Muhammad Sarwar

Therefore rely on Allah; surely you are on the clear truth.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore put thy trust in Allah; verily thou art on manifest truth.

— Abdul Majid Daryabadi

So put thy trust in Allah: for thou art on (the path of) manifest Truth.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:79

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–81

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–79

سورة النمل 95 یعنی قریش کے کفار اور اہل ایمان کے درمیان۔ سورة النمل 96 یعنی نہ اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، اور نہ اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی احتمال ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–79

خلاصہ تفسیر بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ ایمانداروں کے لئے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے (ہدایت باعتبار طاعات و اعمال کے اور رحمت با اعتبار ثمرات و نتائج کے) بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا (اس وقت معلوم ہوجاوے گا کہ دین حق کیا تھا اور باطل کیا، تو ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے) اور وہ زبردست علم والا ہے (بدون اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا) تو آپ اللہ پر توکل رکھئے (اللہ کی مدد ضرور ہوگی کیونکہ) آپ صریح حق پر ہیں۔ معارف و مسائل پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–81

(آیت 81-79) آنحضرت کے لئے تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی چالوں اور مخالفتوں سے بالکل بےپروا ہو کر اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ رکھو، واضح حق پر تمہی ہو۔ اس حق کا بول بالا ہو کر رہے گا اور تمہارے یہ مخالفین، خواہ قریش ہوں یا یہود، اپنے باطل کے ذریعہ سے تمہارا مقابلہ کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی ساری چالیں بیکار کر دے گا۔ اللہ کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ انک لاتسمع الموتی الآیۃ یعنی اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سنتے تو تم ان کے حال پر غم نہ کرو، تمہارا کام مردوں کو سنانا نہیں ہے اور نہ بہروں کو سنانا ہے بالخصوص جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔ اذا ولوا مدبرین کی قید سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

79-1یعنی اپنا معاملہ اسی کے سپرد کردیں اور اسی پر اعتماد کریں، وہی آپ کا مددگار ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–82

36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 76–81

ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81) نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی آپ ﷺ کسی کے اختلاف و تکذیب سے متاثر نہ ہوں۔ خدا پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں۔ جس صحیح و صاف راستہ پر ہو اور خدائے واحد پر بھروسہ رکھے پھر کیا غم ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 79 فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ” آپ ﷺ کی دعوت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔ آپ ﷺ کا موقف حق و صداقت پر مبنی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83 یعنی قریش کی تکذیب، استہز اور ایذ رسانیاں اور سازشیں فی الواقع پریشان کرنے والی باتیں ہیں۔ آپ ان سے زیادہ تاثر نہ لیں۔ بلکہ ہر وقت اللہ پر بھروسہ کریں۔ آپ یقیناً صحیح راستہ پر جارہے ہیں اور اللہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے۔ لہذا وہ ضرور اور بروقت آپ کی مدد کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86۔ (اس لیے آپ معاندین منکرین کے مکر وکید کی مطلق پروانہ کیجئے اس عالم الغیب پر ان کی ایک ایک چال روشن ہے۔ امداد ونصرت اس قوت والے کی طرف سے ان کی نہیں۔ آپ کی ہوگی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فتوکل علی اللہ . سو آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں یعنی آپ دشمنوں کی کوئی پرواہ نہ کریں اللہ پر بھروسہ رکھیں کیونکہ۔ انک علی الحق المبین . آپ واضح حق پر ہیں یعنی ایسے حق پر جس کی حقیقت کھلی ہوئی ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جو واقعہ صاحب حق ہو اس کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اللہ اس کا مددگار ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ : کیونکہ وہ سب پر غالب ہے، اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ سب کچھ جانتا ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں، اس لیے اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے اس پر بھروسا رکھیں، دشمنوں کی تکذیب، استہزا، ایذا رسانیاں اور سازشیں اگرچہ پریشان کرنے والی ہیں، مگر آپ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کردیں، کیونکہ آپ واضح حق پر ہیں جس کے سچا ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور جو حق پر ہو اسے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ غلبہ آخر کار حق ہی کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 76–81

ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–79

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا القراٰن یقص علی بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاری ہیں اور فرمایا آیت اکثر الذی ہم فیہ یختلفون یعنی یہ قرآن مجید ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ 2۔ الترمذی وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کی امت کو آزمائش میں ڈالا جائے گا آپ کے بعد اس بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے آپ نے فرمایا آیت وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، تنزیل من حکیم حمید۔ اللہ کی کتاب جس میں باطل دا (رح) نہیں ہوسکتا نہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَتَوَكَّلْ [ پس آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ] اِنَّكَ [ بیشک آپ ﷺ ] عَلَي الْحَقِّ الْمُبِيْنِ [ واضح حق پر ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 76–79

قرآن مجید ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے ہیں یہ چار آیات ہیں پہلی دو آیتوں میں قرآن کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں قرآن ان کے بارے میں صحیح صحیح پوری حقیقت کو بیان کرتا ہے، ان لوگوں نے اپنی کتاب میں تو تحریف کر ہی دی تھی اور ان میں جو کچھ سنی سنائی باتیں چلی آرہی تھیں ان میں اختلاف رکھتے تھے، قرآن مجید نے واضح طور پر حق باتیں واضح فرما دیں۔ ان لوگوں کی جاہلانہ باتوں میں ایک یہ بات بھی تھی کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم یہودی تھے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–81

اثبات رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔ (ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

67:۔ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم کے لیے تسلی ہے یعنی اگر مشرکین نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں کیونکہ آپ حق پر ہیں۔ انک علی الحق المبین۔ یہ ماقبل کی علت اولی ہے۔ انک لا تسمع الموتی یہ تسلی کی دوسری علت ہے۔ یعنی اگر یہ مشرکین نہیں مانتے تو آپ غم کیوں کرتے ہیں آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں ان مشرکین کے دلوں اور کانوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے ان پر آپ کی تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہوگا اور وہ کبھی حق کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کی مثال تو مردوں کی سی ہے جو نہ سن سکتے ہیں۔ یہی حال ان کا ہے مہر جباریت کی وجہ سے ان کے تمام حواس معطل ہوچکے ہیں یا ان کی مثال ایسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 76–82

ربط آیات گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن کریم کی حق گوئی پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝ 0ۭ اِنَّكَ عَلَي الْحَقِّ الْمُبِيْنِ۝ 79 وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–82

ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔ تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّـکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ۔ (النمل : 79) (اے نبی ! آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، بیشک آپ صریح حق پر ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ پر توکل آپ ﷺ کی طاقت ہے گزشتہ مضمون کو مستحکم کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ مخالفین کی مخالفتوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں، وہ جو چالیں چلنا چاہتے ہیں انھیں چلنے دیں۔ آپ ﷺ اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ رکھیں۔ زندگی میں سب سے موثر قوت حق ہے، اور وہ آپ ﷺ کے پاس ہے۔ اس حق کی روشنی کو کوئی نہیں بجھا سکتا، حق ہی کا بول بالا ہوگا اور مخالفین خائب و خاسر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 76–79

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی غالب اکثریت اَن پڑھ تھی جس بناء پر وہ مدینہ کے یہودیوں سے پوچھتے کہ ہمیں علمی لحاظ سے محمد ﷺ پر کیا کیا اعتراض اٹھانے چاہییں۔ یہودی مکہ والوں کو مختلف قسم کے سوال کرنے کی تعلیم دیتے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ مکہ والوں کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا یہ قرآن مجید ان مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جن کی حقیقت جاننے کے باوجود بنی اسرائیل ان کو نہیں مانتے۔ بنی اسرائیل کے خطاب میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ لفظ صرف یہودیوں یا عیسائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہودیوں نے تورات کے بر خلاف یہ عقیدہ بنایا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

79: فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (پس تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو) ۔ اس میں آپ ﷺ کو توکل علی اللہ کا حکم دیا گیا۔ اور اعدائے دین کی پرواہ نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ (بیشک آپ صریح حق پر ہیں) ۔ یہ التوکل کی علت بیان فرمائی۔ اس لئے کہ آپ صریح حق پر ہیں۔ وہ صریح حق وہ دین ہے۔ جس سے شک کبھی متعلق ہو نہیں سکتا۔ نکتہ : اس میں وضاحت کردی۔ کہ حق پرست کو اللہ تعالیٰ پر کامل و ثوق واعتماد اور اس کی مدد پر یقین ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–81

74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–81

(آیت 79 یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجئے ! (انک علی الحق المبین) ” بیشک آپ واضح حق پر ہیں “۔ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لئے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس مکیں کوئی اشتباہ ہے۔ جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 79–80

87 مردوں کو سنانا کسی کے بس میں نہیں : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ مردوں کو نہیں سنا سکتے "۔ یہاں پر کفار کو مردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح آپ ﷺ مردوں کو نہیں سنا سکتے اسی طرح ان کفار کو بھی سنانا اور حق قبول کرا دینا آپ کے بس میں نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ اسی صورت میں صحیح ہوسکتی ہے جبکہ مردے نہ سنتے ہوں۔ ورنہ اس تشبیہ کا کوئی معنیٰ ہی نہیں رہ جاتا۔ لہذا اہل بدعت کی یہ خوشی فہمی یا مغالطہ آفرینی پا در ہوا ہوجاتی ہے کہ اس سے سماع موتیٰ کی نفی نہیں ہوتی۔ مگر واضح رہے کہ یہاں پر { تسمع } فرمایا گیا ہے۔ یعنی " آپ نہیں سنا سکتے "۔ تو اس سے یہ بات نکلتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ اور جو حق پر ہوتا ہے اسے کسی طرح کا کھٹکا نہیں ہوتا۔ آخر کار اس کا غالب آنا یقینی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:79) فتوکل۔ میںترتیب کا ہے یعنی وہ باحکمت فیصلے کرتا ہے وہ غالب اور زبردست صاحب قدر وقوت ہے بڑا دانا اور خوب جاننے والا ہے۔ پس ان خوبیوں سے یہ امر مترتب ہوتا ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ توکل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو بھروسہ کر۔ تو اعتماد کر۔ تو توکل کر ۔ توکل (تفعل) سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–81

قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: غرض یہ ہے کہ اگر یہ لوگ دنیا میں اختلافات کو دور نہ کریں اور اسلامی کی نعمتوں سے محروم رہیں ۔ تو آپ چنداں پرواہ نہ کیجئے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان میں عملی طور پر فیصلہ کردیگا ۔ اور اس وقت ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ دنیا میں یہ راہ راست پر نہ تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

79) لہٰذا اے پیغمبر ! آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے بیشک آپ صریح حق پر ہیں یعنی آپ اس طریقہ پر ہیں جو حق ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–80

ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں آپ ﷺ تو بلاشبہ حق پر ہیں : 79۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بار بار تسلی دی جا رہی ہے اس لئے کہ یہ زمانہ نہایت ہی پر آشوب تھا اور ہر طرف سے آپ ﷺ پر یلغار جاری تھی ، لیکن اس کے باوجود لوگوں کے ایمان نہ لانے کے باعث آپ ﷺ ان کے غم میں ہلکان ہوئے جا رہے تھے ۔ آپ ﷺ کو بار بار کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کے حال پر غم نہ کریں اور نہ ہی انکی چالوں سے پریشان ہوں یہ سلسلہ مسلسل آیت 69 سے چلا ہے اور سورت کے آخر تک برابر چلتا رہے گا ۔ آپ ﷺ اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھیں اور یقین جانیں کہ واضح حق پر آپ ﷺ ہی ہیں اور یقینا حق کا بول بولا ہو کر رہے گا اور تمہارے مخالفین تمہارا مقابلہ ہرگز ہرگز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–79

Commentary By describing Allah's omnipotence through different examples in the earlier verses, the reality of the Hereafter and the rational possibility of resurrection of the dead has been established. There is no logical ambiguity in that. Its definite occurrence is confirmed by the sayings of the prophets and the divine books that were revealed to them. Authenticity and establishment of any information is based on the veracity of the courier or the narrator. In this verse it is stated that the informant of this news is the Holy Qur'an whose authenticity and truthfulness is beyond any doubt…

Read the full tafseer →