Explained with ayahs 76–81
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا
قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة النمل 95
یعنی قریش کے کفار اور اہل ایمان کے درمیان۔
سورة النمل 96
یعنی نہ اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، اور نہ اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی احتمال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
خلاصہ تفسیر
بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ ایمانداروں کے لئے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے (ہدایت باعتبار طاعات و اعمال کے اور رحمت با اعتبار ثمرات و نتائج کے) بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا (اس وقت معلوم ہوجاوے گا کہ دین حق کیا تھا اور باطل کیا، تو ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے) اور وہ زبردست علم والا ہے (بدون اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا) تو آپ اللہ پر توکل رکھئے (اللہ کی مدد ضرور ہوگی کیونکہ) آپ صریح حق پر ہیں۔
معارف و مسائل
پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
آیت 78-72
یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ اصلاً تو یہ سورة قریش کے جواب میں ہے اس لئے کہ دعوت کے ابتدائی دور میں قرآن کے دوسرے مخالفین … یہود وغیرہ صرف دور کے تماشائی تھے لیکن دعوت کے قدم جتنے ہی آگے بڑھتے گئے آہستہ آہستہ یہود نے بھی پس پردہ قریش کی حمایت شروع کردی۔ چناچہ قرآن نے بھی ان سے تعرض شروع کردیا۔ ابتداء تو ان کا ذکر اشارات ہی کی شکل میں ہوا لیکن پھر بالتدریج جس طرح وہ کھلتے گئے اسی طرح قرآن کا انذار بیان بھی کھلتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی پوری طرح بینقاب ہو کر سامنے آگئے۔ زیر بحث آیات میں ان کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے۔ بعد کی سورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ بالتدریج یہ احمال تفصیل کا رنگ اختیار…
Read the full tafseer →78-1یعنی قیامت میں ان کے اختلافات کا فیصلہ کر کے حق کو باطل سے ممتاز کر دے گا اور اس کے مطابق جزا و سزا کا اہتمام فرمائے گا یا انہوں نے اپنی کتابوں میں جو تعریفیں کی ہیں، دنیا میں ہی ان کا پردہ چاک کر کے ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن تو آیا ہے سمجھانے اور آگاہ کرنے کو، باقی تمام معاملات کا حکیمانہ اور حاکمانہ فیصلہ خدائے قادر و توانا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”
تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔
Read the full tafseer →82 یعنی جو کفار اس وقت آپ سے بروقت الجھتے رہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تنگ اور پریشان کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ ان کے درمیان اور مومنوں کے درمیان جلد ہی اپنا فیصلہ نافذ کرنے والا ہے۔ اور اس کے فیصلے کے نفاذ کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کیونکہ وہ سب سے زبردست ہے۔ نیز اس کے فیصلے میں غلطی کا بھی امکان نہیں۔
Read the full tafseer →85۔ (اسے اپنے فیصلہ کے صادر کرنے اور نافذ کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے) یہاں فیصلہ سے مراد قیامت کے دن کا عملی فیصلہ ہے۔ ورنہ شرعی وعقلی فیصلہ تو آج بھی اسی دنیا میں موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیت نمبر 67 تا 82
ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…
Read the full tafseer →ان ربک یقضی بینھم بحکمہ وھو العزیز الحکیم . لاریب آپ کا رب بنی اسرائیل کے
درمیان اپنے حکم سے (عملی) فیصلہ کر دے گا اور وہی غالب ہے (اس کے فیصلہ کو کوئی رد نہیں کرسکتا) جاننے والا ہے (جس بات کا فیصلہ کرتا ہے اس کی حقیقت و حکمت سے بخوبی واقف ہے) ۔
یقینی قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔ بَیْنَھُمْ مذہبی امور میں اختلاف کرنے والوں کے درمیان۔
ایک شبہ
یَقُضِیْکا معنی ہے یَحْکُمُ قضا اور حکم ایک ہی چیز ہے۔ پھر یَقْضِیْ بِحُکْمِہٖ ایسا ہی ہوگیا جیسے یَحْکُمْ بِحُکْمِہٖکہا جائے اور یہ صحیح نہیں۔
ایک ازالہ
حکم سے مراد محکوم یعنی وہ فیصلہ جو قرآن میں بیان کردیا گیا۔ یعنی قیامت کے دن اللہ اس فیصلہ کے مطابق جو…
Read the full tafseer →(78) اور آپ کا پروردگار یہود و نصاری کے درمیان قیامت کے دن اپنے حکم سے فیصلہ فرما دے گا اور زبردست ہے ان کو اور ان کی سزا کو بھی جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ : یعنی جس طرح تیرے رب نے دنیا میں ان کے اختلافات اور تحریفات کا بھانڈا پھوڑا ہے، اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی اپنے حکم کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ دیکھیے سورة زمر (46)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا القراٰن یقص علی بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاری ہیں اور فرمایا آیت اکثر الذی ہم فیہ یختلفون یعنی یہ قرآن مجید ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
2۔ الترمذی وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کی امت کو آزمائش میں ڈالا جائے گا آپ کے بعد اس بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے آپ نے فرمایا آیت وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، تنزیل من حکیم حمید۔ اللہ کی کتاب جس میں باطل دا (رح) نہیں ہوسکتا نہ اس…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ [ بیشک آپ ﷺ کا رب ] يَقْضِيْ [ فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ [ ان کے درمیان ] بِحُكْمِهٖ ۚ [ اپنے حکم سے ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [ اور وہ ہی بالادست ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
قرآن مجید ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے ہیں
یہ چار آیات ہیں پہلی دو آیتوں میں قرآن کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں قرآن ان کے بارے میں صحیح صحیح پوری حقیقت کو بیان کرتا ہے، ان لوگوں نے اپنی کتاب میں تو تحریف کر ہی دی تھی اور ان میں جو کچھ سنی سنائی باتیں چلی آرہی تھیں ان میں اختلاف رکھتے تھے، قرآن مجید نے واضح طور پر حق باتیں واضح فرما دیں۔
ان لوگوں کی جاہلانہ باتوں میں ایک یہ بات بھی تھی کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم یہودی تھے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
اثبات رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔
(ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
66:۔ یہ قرآن ماننے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور سراپا رحمت ہے۔ ان ربک لیقضی الخ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔ وہ بڑا زبردست ہے اس کا فیصلہ رد نہیں کیا جاسکتا اور وہ سب کچھ جانتا ہے اس لیے اس کا فیصلہ سراپا حق ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کے ذریعہ بنی اسرائیل کے باہمی مختلف فیہ مسائل میں اس نے حق و انصاف اور حکمت بالغہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔
قرآن کریم کی حق گوئی
پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَہُمْ بِحُكْمِہٖ 0ۚ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ 7 8ۙۚ
قضی
الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی:
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک،
( ق ض ی ) القضاء
کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔
تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَکْثَرَالَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْن۔ وَاِنَّـہٗ لَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ بِحُکْمِہٖ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ ۔ (النمل : 76 تا 78)
(بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر ان بہت سی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ اور یہ (قرآن) ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ )
ترہیب کے بعد ترغیب
قریش اور دیگر مخالفین کو گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفت سے روکنے اور پیغمبر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی غالب اکثریت اَن پڑھ تھی جس بناء پر وہ مدینہ کے یہودیوں سے پوچھتے کہ ہمیں علمی لحاظ سے محمد ﷺ پر کیا کیا اعتراض اٹھانے چاہییں۔ یہودی مکہ والوں کو مختلف قسم کے سوال کرنے کی تعلیم دیتے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ مکہ والوں کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا یہ قرآن مجید ان مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جن کی حقیقت جاننے کے باوجود بنی اسرائیل ان کو نہیں مانتے۔ بنی اسرائیل کے خطاب میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ لفظ صرف یہودیوں یا عیسائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہودیوں نے تورات کے بر خلاف یہ عقیدہ بنایا کہ…
Read the full tafseer →78: اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ (بیشک آپ کا رب ان کے مابین فیصلہ فرمائے گا) ۔ مؤمنوں اور کافروں کے درمیان۔ بِحُکْمِہٖ (اپنے حکم یعنی عدل سے) کیونکہ وہ فیصلہ ہی عدل سے فرماتے ہیں۔ پس یہاں محکوم بہٖ (فیصلہ) کو حکم فرمایا۔ نمبر 2۔ اپنی حکمت سے فیصلہ فرماتے ہیں اور اس پر بحِکَمِہٖ کی قراءت دلالت کرتی ہے۔ حکم جمع حکمت کی ہے۔ وَہُوَ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) ۔ اس کی تقدیر کو واپس نہیں کیا جاسکتا۔ الْعَلِیْمُ (وہ ان کو جانتا ہے) کہ کن کے حق میں فیصلہ دینا ہے اور کن کے خلاف دینا ہے۔ نمبر 2۔ وہ العزیز ہے یعنی باطل پرستوں سے انتقام لینے میں العلیم حق پرستوں اور باطل پرستوں کے درمیان فیصلہ کرنے…
Read the full tafseer →78۔ ان ربک یقضی، فیصلہ کرتا ہے۔ بینھم ان لوگو کے درمیان اختلاف کو قیامت کے دن واضح کردے گا۔
” بحکمہ، حق کے ساتھ۔ وھوالعزیز، روکنے والا نہیں اس پر جو وہ حکم وارد کرتا ہے۔ العلیم، وہ ان کے احوال کو جانتا ہے۔ اس سے کوئی بھی پوشیدہ نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…
Read the full tafseer →(آیت 78
یعنی اللہ تبارت و تعالیٰ ان اختلاف کرنے اور جھگڑنے والوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں معاملات کے بارے میں دلیل کے مخفی رہ جانے اور بعض دیگر مقاصد کی بنا پر اختلاف کرنے والوں کے درمیان اشتباہ واقع ہوجاتا ہے، مگر جب ان معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا تو حق واقع کے مطابق واضھ اور روشن ہو کر سامنے آجائے گا (وھو العزیز) وہ تمام خلائق پر غالب ہے پس اس کے سامنے سراطاعت خم کردو (العلیم) وہ تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے (العلیم) وہ اختلاف کرنے والوں کے اقوال سے آگاہ ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ اقوال کس لئے صادر ہوئے ہیں، ان کے مقاصد اور ان کی غرض وغایت کیا ہے،…
Read the full tafseer →86 رب کے آخری اور عملی فیصلے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ تمہارا رب ہی فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے " یعنی عملی اور آخری فیصلہ۔ اور فیصلہ کے بارے میں غلطی یا تو ناقص العلمی کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر قوت وقدرت کے نقص کے سبب سے اس کی تنفیذ نہیں کرائی جاسکتی۔ سو عزیز وعلیم کی ان دو صفتوں کے ذکر وبیان سے ان دونوں باتوں کی نفی فرما دی گئی کہ نہ تو اس کے فیصلے میں کسی خطا و قصور کا کوئی احتمال ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے یہاں سے کسی کے لئے بچنے اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوسکتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو معاملہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیات 67 تا 82
اسرار و معارف
ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
1 ۔ یا دنیا ہی میں ان کی تحریفات کا بھانڈا پھوڑ کر ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ کر دیگا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:78) یقضی۔ مضارع واحد مذکر غائب قضاء مصدر (باب ضرب) وہ فیصلہ کر دے گا۔ وہ فیصلہ کرے گا ، یا کرتا ہے۔ یہاں فیصلہ سے مراد قیامت کے دن کا فیصلہ ہے۔
بینھم : ای بین بنی اسرائیل الذین اختلفوا۔ او بین المؤمنین وبین الناس۔ بنی اسرائیل کے درمیان جو باہم اختلاف رکھتے تھے۔ یا مؤمنین اور دوسرے لوگوں کے درمیان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 :
تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 :
کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
[26] یعنی مشرکین مکہ اور اہل ایمان کے درمیان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ف 4: یعنی قرآن حکیم کا نزول اس لئے ہوا ہے ۔ کہ اہل کتاب نے جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ۔ ان کو دور کرے ۔ اور ان میں حقیقی اور سچا فیصلہ صادر فرمائے ۔ اور ان لوگوں کے جو مومن ہیں ۔ ان کا وجود باعث ہدایت ورحمت ہے ۔
Read the full tafseer →(78) بالیقین آپ کا پروردگار ان بنی اسرائیل کے درمیان اپنے حکم یعنی اپنے عدل سے فیصلہ فرما دے گا اور وہی زبردست ہے سب کو جاننے والا ہے یعنی قیامت کے دن اپنے حکم اور عدل سے فیصلہ کردے گا اور یہ بتادے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے اور کونسا فریق ٹھیک بات کا قائل تھا اور کون غلط بات کہتا تھا وہ زبردست بھی ہے فیصلے کے نفاذ کی طاقت رکھتا ہے اور اس کا علم بھی سب کو محیط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ ان کا فیصلہ تیرے رب کے ذمہ ہے اور وہ یقینا فیصلہ کر دے گا :
78۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ جس طرح کی باتیں بناتے ہیں انکو بنانے دو ‘ ان کو بار بار اس دنیا میں نہیں بھیجا جانا ہے اور جو جو کچھ وہ کرنا اور کہنا چاہتے ہیں دل کھول کر کہہ اور کرلیں تیرے رب کو فیصلہ کرتے کوئی دیر نہیں لگتی ، بات صرف یہ ہے کہ انکے آخری فیصلہ کے لئے ہم اعلان کرچکے ہیں کہ وہ قیامت کو ہوگا اور ہمارا فیصلہ کبھی بدلا نہیں کرتا کہ انکی ضد کے لئے ابھی ابھی ان کے سامنے لا کھڑا کریں اور یہ بھی کہ ان کو جو چیز اس قدر بعید اور دور نظر آرہی ہے ہم تو اس کو بالکل قریب دیکھ رہے ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
Commentary
By describing Allah's omnipotence through different examples in the earlier verses, the reality of the Hereafter and the rational possibility of resurrection of the dead has been established. There is no logical ambiguity in that. Its definite occurrence is confirmed by the sayings of the prophets and the divine books that were revealed to them. Authenticity and establishment of any information is based on the veracity of the courier or the narrator. In this verse it is stated that the informant of this news is the Holy Qur'an whose authenticity and truthfulness is beyond any doubt…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
92 Here by "Book" is not meant the Qur'an, but the Divine Record in which everything has been registered.
Read the full tafseer →