An-Naml 27:77

An-Naml · from ayah 77

27:77

وَاِنَّهٗ لَهُدًی وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۟وَاِنَّهٗ لَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏

اور بےشک یہ مومنوں کے لئے ہدایات اور رحمت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, it is guidance and mercy for the believers.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:77

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بےشک یہ مومنوں کے لئے ہدایات اور رحمت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ قرآن ایمان والوں کے لیے یقیناً ہدایت اور رحمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقینا یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ ہدایت اور رحمت ہے مسلمانوں کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک یہ ہدایت ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک وہ یقینا ایمان والوں کے لیے سراسر ہدایت اور رحمت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ یہ قرآن قطعی طور پر عین ہدایت اور سراسر رحمت ہے دولت ایمان رکھنے والوں کیلئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک وہ ایمان والوں کے حق میں ہدایت و رحمت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً یہ (قرآن) ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے حق میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بیشک یہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and it is a guidance and mercy for the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is guidance and mercy for the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

It is guidance and mercy for the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And truly, it is a guide and a mercy for the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! it is a guidance and a mercy for believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, it is guidance and mercy for the believers.

— Saheeh International

It is a guide and mercy for the believers.

— Muhammad Sarwar

And most surely it is a guidance and a mercy for the believers.

— Muhammad Habib Shakir

And verily it is a guidance and a mercy unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

And it certainly is a Guide and a Mercy to those who believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–81

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 94 یعنی ان لوگوں کے لے جو اس قرآن کی دعوت قبول کرلیں اور وہ بات مان لیں جسے یہ پیش کر رہا ہے۔ ایسے لوگ ان گمراہیوں سے بچ جائیں گے جن میں ان کی قوم مبتلا ہے۔ ان کو اس قرآن کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور ان پر خدا کی وہ مہربانیاں ہوں گی جن کا تصور بھی کفار قریش آج نہیں کرسکتے۔ اس رحمت کی بارش کو بھی چند ہی سال بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ وہی لوگ جو ریگ زار عرب کے ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور کفر کی حالت میں زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب چھاپہ مار بن سکتے، اس قرآن پر ایمان لانے کے بعد یکایک وہ دنیا کے پیشوا، قوموں کے امام، تہذیب انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک بڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–79

خلاصہ تفسیر بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ ایمانداروں کے لئے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے (ہدایت باعتبار طاعات و اعمال کے اور رحمت با اعتبار ثمرات و نتائج کے) بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا (اس وقت معلوم ہوجاوے گا کہ دین حق کیا تھا اور باطل کیا، تو ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے) اور وہ زبردست علم والا ہے (بدون اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا) تو آپ اللہ پر توکل رکھئے (اللہ کی مدد ضرور ہوگی کیونکہ) آپ صریح حق پر ہیں۔ معارف و مسائل پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 76–78

آیت 78-72 یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ اصلاً تو یہ سورة قریش کے جواب میں ہے اس لئے کہ دعوت کے ابتدائی دور میں قرآن کے دوسرے مخالفین … یہود وغیرہ صرف دور کے تماشائی تھے لیکن دعوت کے قدم جتنے ہی آگے بڑھتے گئے آہستہ آہستہ یہود نے بھی پس پردہ قریش کی حمایت شروع کردی۔ چناچہ قرآن نے بھی ان سے تعرض شروع کردیا۔ ابتداء تو ان کا ذکر اشارات ہی کی شکل میں ہوا لیکن پھر بالتدریج جس طرح وہ کھلتے گئے اسی طرح قرآن کا انذار بیان بھی کھلتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی پوری طرح بینقاب ہو کر سامنے آگئے۔ زیر بحث آیات میں ان کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے۔ بعد کی سورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ بالتدریج یہ احمال تفصیل کا رنگ اختیار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77-1مومنوں کا اختصاص اس لئے کہ وہی قرآن سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ انھیں میں وہ بنی اسرائیل بھی ہیں جو ایمان لے آئے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–82

36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 76–81

ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81) نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 76–77

2 یعنی ابھی عملی فیصلہ کا وقت نہیں آیا، البتہ قرآن قولی و عملی فیصلہ کے لیے آیا ہے۔ اس وقت سماوی علوم اور مذہبی چیزوں کے سب سے بڑے عالم " بنی اسرائیل " سمجھے جاتے تھے مگر عقائد، احکام اور قصص و روایات کے متعلق ان کے شدید اختلافات کا فیصلہ کن تصفیہ بھی قرآن نے سنایا۔ فی الحقیقت قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے دنیا کو خداوند قدوس کا آخری پیغام پہنچایا۔ اور ایمان لانے والوں کی رہبری کی تاکہ لوگ اس دن کے لیے تیاری کر رکھیں۔ جبکہ ہر معاملہ کا عملی فیصلہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 76–78

آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ” تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 یعنی یہ قرآن بنی اسرائیل کے اختلافات میں سیدھے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے اور جو اس پر ایمان لے آئیں تو ان کو ان گمراہیوں سے بچا لیتا ہے۔ جن میں یہ لوگ اس وقت مبتلا ہیں۔ نیز جب انھیں قرآن کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور وہ اس پر عمل پیرا ہوں گے تو اللہ کی ان پر اس قدر رحمتیں نازل ہوں گی جن کا یہ قریش آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔ چناچہ اسی قرآن کی بدولت چند ہی سالوں میں ان ایمانداروں کی ایسی کایا پلٹی کہ وہی بدو جو لوٹ مار اور قتل و غارت میں مشہور تھے۔ وہ دنیا کے پیشوا، تہذیب انسانی کے استاد اور زمین کے ایک بڑے حصے کے فرمانروا بن گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

84۔ یعنی ہدایت خاص و رحمت بالاختصاص۔ ورنہ عموما ہدایت و رحمت تو ساری دنیا کے لیے ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا کہ ھدایت باعتبار طاعات کے اور رحمت بلحاظ ثمرات کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ لھدی ورحمۃ للمومنین . بلاشک و شبہ قرآن مؤمنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ کیونکہ قرآن سے فائدہ اٹھانے والے صرف مؤمن ہیں اس لئے قرآن انہی کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ کافروں کے لئے رحمت نہیں ہے خواہ کفار کتابی نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّهٗ لَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : اگرچہ یہ قرآن تمام جہانوں کو خبردار کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 1) مگر اس سے ہدایت اور رحمت انھی کو حاصل ہوتی ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 2 تا 5) اور ایمان والے لوگ ہی ان گمراہیوں سے بچتے ہیں جن میں بنی اسرائیل اور مشرکین عرب مبتلا ہوئے۔ اس قرآن کی بدولت انھیں زندگی کا سیدھا راستہ ملے گا اور اس کی بدولت ان پر اللہ کی وہ رحمتیں ہوں گی جن کا تصور بھی بنی اسرائیل یا کفار قریش نہیں کرسکتے، چناچہ چند ہی سالوں میں وہ لوگ جو سراسر گمراہی میں مبتلا تھے، ہدایت میں دنیا کے امام بن گئے اور ان پر اللہ کی اتنی رحمتیں ہوئیں کہ وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 76–81

ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–79

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا القراٰن یقص علی بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاری ہیں اور فرمایا آیت اکثر الذی ہم فیہ یختلفون یعنی یہ قرآن مجید ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ 2۔ الترمذی وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کی امت کو آزمائش میں ڈالا جائے گا آپ کے بعد اس بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے آپ نے فرمایا آیت وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، تنزیل من حکیم حمید۔ اللہ کی کتاب جس میں باطل دا (رح) نہیں ہوسکتا نہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ ] لَهُدًى [ یقینا ہدایت ہے ] وَّرَحْمَةٌ [ اور رحمت ہے ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 76–79

قرآن مجید ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے ہیں یہ چار آیات ہیں پہلی دو آیتوں میں قرآن کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں قرآن ان کے بارے میں صحیح صحیح پوری حقیقت کو بیان کرتا ہے، ان لوگوں نے اپنی کتاب میں تو تحریف کر ہی دی تھی اور ان میں جو کچھ سنی سنائی باتیں چلی آرہی تھیں ان میں اختلاف رکھتے تھے، قرآن مجید نے واضح طور پر حق باتیں واضح فرما دیں۔ ان لوگوں کی جاہلانہ باتوں میں ایک یہ بات بھی تھی کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم یہودی تھے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–81

اثبات رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔ (ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 77–78

66:۔ یہ قرآن ماننے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور سراپا رحمت ہے۔ ان ربک لیقضی الخ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔ وہ بڑا زبردست ہے اس کا فیصلہ رد نہیں کیا جاسکتا اور وہ سب کچھ جانتا ہے اس لیے اس کا فیصلہ سراپا حق ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کے ذریعہ بنی اسرائیل کے باہمی مختلف فیہ مسائل میں اس نے حق و انصاف اور حکمت بالغہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 76–82

ربط آیات گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن کریم کی حق گوئی پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ لَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝ 77 هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–82

ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔ تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 76–78

اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَکْثَرَالَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْن۔ وَاِنَّـہٗ لَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ بِحُکْمِہٖ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ ۔ (النمل : 76 تا 78) (بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر ان بہت سی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ اور یہ (قرآن) ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ) ترہیب کے بعد ترغیب قریش اور دیگر مخالفین کو گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفت سے روکنے اور پیغمبر کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 76–79

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی غالب اکثریت اَن پڑھ تھی جس بناء پر وہ مدینہ کے یہودیوں سے پوچھتے کہ ہمیں علمی لحاظ سے محمد ﷺ پر کیا کیا اعتراض اٹھانے چاہییں۔ یہودی مکہ والوں کو مختلف قسم کے سوال کرنے کی تعلیم دیتے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ مکہ والوں کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا یہ قرآن مجید ان مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جن کی حقیقت جاننے کے باوجود بنی اسرائیل ان کو نہیں مانتے۔ بنی اسرائیل کے خطاب میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ لفظ صرف یہودیوں یا عیسائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہودیوں نے تورات کے بر خلاف یہ عقیدہ بنایا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

77: وَاِنَّہٗ لَہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (اور بیشک یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے) ۔ ان لوگوں کے لئے باعث رحمت ہے جو بنی اسرائیل میں سے بالکل انصاف کرنے والے اور ایمان لانے والے ہیں یعنی بنی اسرائیل میں سے۔ نمبر 2۔ ان میں سے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 76–77

76۔ ان ھذا القرآن علی بنی اسرائیل، یعنی ان کے لیے بیان کیجئے۔ اکثرالذی ھم فیہ یختلفون، ، دین کے کامون میں، کلبی کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا باہم بعض مذہبی باتوں میں اختلاف تھا، اسی لیے فرقے فرقے بن گئے تھے ہر فرقہ دوسرے پر طعن کرتا تھا، قرآن نے آکر ان کے اختلافی مسائل کو بیان کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–81

74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 76–77

(آیت 76 یہ آیت کریمہ اس بارے میں خبر دیتی ہے کہ قرآں کتب سابقہ کی تصدیق و توضیح اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ کتب سابقہ کے بارے میں بنی اسرائیل میں اشتباہ و اختلاف واقع ہوا ہے اس لئے قرآن کریم نے ایسی توضیحات بیان کی ہیں جن سے اشکار دور ہوجاتا ہے اور مختلف فیہ مسائل میں راہ صواب واضح ہوجاتی ہے اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے، مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اس لئے واضح فرمادیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لئے مختص ہے۔ پس فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–77

85 قرآن حکیم سے استفادے کیلئے اولین شرط ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن قطعی طور پر عین ہدایت اور سراسر ہدایت و رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ سو یوں تو اس کا فیض سب کے لئے عام ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھا سکے گا جو اس پر ایمان رکھتا ہوگا۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ قرآن حکیم سے صحیح معنوں میں استفادے کیلئے اولین شرط اس پر ایمان رکھنا ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ایمان والوں کیلئے عظیم الشان ہدایت اور سراسر رحمت ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ اور ہدایت و رحمت یہ دونوں صفتیں ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کو پہلے تو یہ کتاب اپنی ہدایت اور راہنمائی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 77–78

1 ۔ یا دنیا ہی میں ان کی تحریفات کا بھانڈا پھوڑ کر ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ کر دیگا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–81

قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 76–77

[25] یعنی بنی اسرائیل پر بہت سے وہ حقائق روشن کر دئیے جن کے بارے میں وہ غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–78

ف 4: یعنی قرآن حکیم کا نزول اس لئے ہوا ہے ۔ کہ اہل کتاب نے جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ۔ ان کو دور کرے ۔ اور ان میں حقیقی اور سچا فیصلہ صادر فرمائے ۔ اور ان لوگوں کے جو مومن ہیں ۔ ان کا وجود باعث ہدایت ورحمت ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(77) اور یقینا وہ قرآن کریم ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے یعنی بنی اسرائیل میں اکثر مسئلے جو باہم مختلف فیہا ہیں ان میں سے اکثر باتوں کو یہ قرآن کریم صاف کردیتا ہے اور اس بات کی حقیقت کو واضح کردیتا ہے اور یہ قرآن کریم یوں تو تمام مخلوقات کے لئے ہدایت و رحمت ہے لیکن خاص طورپر مسلمان کے لئے ہے چونکہ وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں اور اعتقاداً اور عملاً اس پر عمل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قصے کی ان کے وہاں کئی طرح پر روایت تھی اس میں اسی طرح فرمایا جو صحیح تھا اکثر عقیدے اکثر مسئلے اس میں اسی طرف اشارہ کردیا ان پر معلوم ہوا کہ صحیح وہی تھا مطلب یہ ہے کہ اہل علم کے اختلاف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–80

ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ قرآن کریم ایمان لانے والوں کے لئے سراسر ہدایت اور رحمت ہے : 77۔ وہ یہود ہوں یا عیسائی اور اسی طرح قریش مکہ ہوں یا مکہ کے صابی جو لوگ بھی قرآن کریم کی دعوت کو قبول کریں گے اور اس ہدایت کو مان لیں گے جو ہدایت قرآن کریم کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور ان پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی وہ مہربانی ہوں گی جن کا وہ تصور بھی نہیں رکھتے ، غور کرو کہ اس اعلان کو کتنا عرصہ گزرا تھا کہ دنیا کے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہی لوگ جو ریک زار عرب کے ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد یکایک دنیا کے پیشوا ‘ قوموں کے امام ‘ تہذیب انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–79

Commentary By describing Allah's omnipotence through different examples in the earlier verses, the reality of the Hereafter and the rational possibility of resurrection of the dead has been established. There is no logical ambiguity in that. Its definite occurrence is confirmed by the sayings of the prophets and the divine books that were revealed to them. Authenticity and establishment of any information is based on the veracity of the courier or the narrator. In this verse it is stated that the informant of this news is the Holy Qur'an whose authenticity and truthfulness is beyond any doubt…

Read the full tafseer →