Explained with ayahs 76–81
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا
قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے…
Read the full tafseer →سورة النمل 93
اس فقرے کا تعلق مضمون سابق سے بھی ہے اور مضمون مابعد سے بھی، مضمون سابق سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اسی عالم الغیب خدا کے علم کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ ایک امی کی زبان سے اس قرآن میں ان واقعات کی حقیقت کھولی جارہی ہے جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں گزرے ہیں، حالانکہ خود علمائے بنی اسرائیل کے درمیان ان کی اپنی تاریخ کے ان واقعات میں اختلاف ہے (اس کے نظائر اسی سورة نمل کے ابتدائی رکوعوں میں گزر چکے ہیں، جیسا کہ ہم نے اپنے حواشی میں واضح کیا ہے) اور مضمون مابعد سے اس کا تعلق یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان اختلافات کا فیصلہ فرمایا ہے اسی طرح وہ اس اختلاف کا بھی فیصلہ کردے گا جو محمد ﷺ اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
خلاصہ تفسیر
بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ ایمانداروں کے لئے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے (ہدایت باعتبار طاعات و اعمال کے اور رحمت با اعتبار ثمرات و نتائج کے) بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا (اس وقت معلوم ہوجاوے گا کہ دین حق کیا تھا اور باطل کیا، تو ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے) اور وہ زبردست علم والا ہے (بدون اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا) تو آپ اللہ پر توکل رکھئے (اللہ کی مدد ضرور ہوگی کیونکہ) آپ صریح حق پر ہیں۔
معارف و مسائل
پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
آیت 78-72
یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ اصلاً تو یہ سورة قریش کے جواب میں ہے اس لئے کہ دعوت کے ابتدائی دور میں قرآن کے دوسرے مخالفین … یہود وغیرہ صرف دور کے تماشائی تھے لیکن دعوت کے قدم جتنے ہی آگے بڑھتے گئے آہستہ آہستہ یہود نے بھی پس پردہ قریش کی حمایت شروع کردی۔ چناچہ قرآن نے بھی ان سے تعرض شروع کردیا۔ ابتداء تو ان کا ذکر اشارات ہی کی شکل میں ہوا لیکن پھر بالتدریج جس طرح وہ کھلتے گئے اسی طرح قرآن کا انذار بیان بھی کھلتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی پوری طرح بینقاب ہو کر سامنے آگئے۔ زیر بحث آیات میں ان کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے۔ بعد کی سورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ بالتدریج یہ احمال تفصیل کا رنگ اختیار…
Read the full tafseer →76-1اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کے عقائد بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کرتے تھے اور عیسائی ان کی شان میں غلو۔ حتٰی کہ انہیں، اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ قرآن کریم نے ان کے حوالے سے ایسی باتیں بیان فرمائیں، جن سے حق واضح ہوجاتا ہے اور اگر وہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کو مان لیں تو ان کے عقائدی اختلاف اور تفریق و انتشار کم ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →35: یہ بھی قرآن کریم کی حقانیت کی دلیل ہے کہ جن معاملات میں بنی اسرائیل کے بڑے بڑے علماء میں بھی اختلاف رہا، قرآن کریم نے ان کی حقیقت واضح فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
2 یعنی ابھی عملی فیصلہ کا وقت نہیں آیا، البتہ قرآن قولی و عملی فیصلہ کے لیے آیا ہے۔ اس وقت سماوی علوم اور مذہبی چیزوں کے سب سے بڑے عالم " بنی اسرائیل " سمجھے جاتے تھے مگر عقائد، احکام اور قصص و روایات کے متعلق ان کے شدید اختلافات کا فیصلہ کن تصفیہ بھی قرآن نے سنایا۔ فی الحقیقت قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے دنیا کو خداوند قدوس کا آخری پیغام پہنچایا۔ اور ایمان لانے والوں کی رہبری کی تاکہ لوگ اس دن کے لیے تیاری کر رکھیں۔ جبکہ ہر معاملہ کا عملی فیصلہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”
تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔
Read the full tafseer →80 یہ اختلاف صرف عقائد میں ہی نہیں تھے بلکہ احکام اور ق میں بھی تھے۔ عقائد کے اختلاف یہ تھے کہ مثلاً یہود ہی کا ایک فرقہ آخرت کا منکر بن گیا تھا۔ پھر ان میں کچھ فرقوں کا آخرت کے متعلق تصور ہی غلط تھا جس کا قرآن نے کئی مواقع پر ذکر فرمایا ہے۔ عیسائیوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف تھے کچھ انھیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے کچھ انھیں اللہ ہی سمجھتے تھے۔ کچھ بیٹے کو باپ کی طرح قدیم سمجھتے تھے اور کچھ اسے مخلوق اور حاوث قرار دیتے تھے۔ کچھ یہ کہتے تھے کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے بیٹے کو سونپدیئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ تین میں کا تیسرا ہیں۔ اور احکام میں اختلاف ان کی تحریفات لفظی…
Read the full tafseer →83۔ یعنی بنی اسرائیل پر بہت سے وہ حقائق روشن کردیئے جن کے باب میں وہ غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔ اور جن صداقتوں کو وہ بھلا چکے تھے انہیں پھر سے روشن کردیا۔ یہود اپنے صحائف میں دانستہ ونادانستہ بہت کچھ تحریف و تصرف کرچکے تھے، قرآن نے جچے تلے فیصلے ان امور میں صادر فرمادیئے۔ (آیت) ” اکثر “۔ یہاں کثیر کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیت نمبر 67 تا 82
ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…
Read the full tafseer →ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون . بیشک یہ قرآن بنی
اسرائیل پر اکثر ان باتوں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
یَقُصُّ یعنی بیان کردیتا ہے۔ اَلَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ بیشتر وہ دینی مسائل جن میں بنی اسرائیل کا باہم اختلاف ہے۔
کلبی کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا باہم بعض مذہبی باتوں میں اختلاف تھا اسی لئے فرقے فرقے بن گئے تھے ‘ ہر فرقہ دوسرے پر طعن کرتا تھا۔ قرآن نے آکر ان کے اختلافی مسائل کو بیان کردیا (اور جو بات صحیح تھی وہ ظاہر کردی) ۔
Read the full tafseer →(76) اور یہ قرآن کریم جو آپ ان کو پڑھ کر سناتے ہیں یہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاری پر اکثر ان باتوں کی حقیقت ظاہر کرتا ہے جن دینی باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ۔۔ : مفسر رازی نے پچھلی آیات کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوت پر بحث شروع فرمائی اور آپ ﷺ کی نبوت کے اثبات میں چونکہ قرآن ہی سب سے بڑی دلیل ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا، یعنی یہ قرآن آپ ﷺ کے معجزات میں سے ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہیں۔ بنی اسرائیل کے لیے جو تورات و انجیل کے عالم ہیں، اس کی یہ بات دلیل ہے کہ یہ ان کی اکثر وہ اشیاء بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے تھے اور یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ان میں حق اور درست بات کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ہذا القراٰن یقص علی بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاری ہیں اور فرمایا آیت اکثر الذی ہم فیہ یختلفون یعنی یہ قرآن مجید ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
2۔ الترمذی وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ کی امت کو آزمائش میں ڈالا جائے گا آپ کے بعد اس بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے آپ نے فرمایا آیت وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، تنزیل من حکیم حمید۔ اللہ کی کتاب جس میں باطل دا (رح) نہیں ہوسکتا نہ اس…
Read the full tafseer →اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ [ بیشک یہ قرآن ] يَقُصُّ [ بیان کرتا ہے ] عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل پر ] اَكْثَرَ الَّذِيْ [ اس کے اکثر کو ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهِ [ جس میں ] يَخْتَلِفُوْنَ [ اختلاف کرتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
قرآن مجید ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے ہیں
یہ چار آیات ہیں پہلی دو آیتوں میں قرآن کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں قرآن ان کے بارے میں صحیح صحیح پوری حقیقت کو بیان کرتا ہے، ان لوگوں نے اپنی کتاب میں تو تحریف کر ہی دی تھی اور ان میں جو کچھ سنی سنائی باتیں چلی آرہی تھیں ان میں اختلاف رکھتے تھے، قرآن مجید نے واضح طور پر حق باتیں واضح فرما دیں۔
ان لوگوں کی جاہلانہ باتوں میں ایک یہ بات بھی تھی کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم یہودی تھے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
اثبات رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔
(ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود…
Read the full tafseer →65:۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس سے حضرت نبی اکرم ﷺ کی صداقت کا بیان مقصود ہے۔ یعنی یہ قرآن بہت سے ایسے مسائل کا صحیح صحیح فیصلہ کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل آپس میں مختلف تھے اور کوئی حتمی فیصلہ نہ کر پاتے تھے۔ مثلاً حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں ان کا اختلاف وہ ان کے بارے میں افراط وتفریط میں گرفتار تھے قرآن نے اس معاملے میں افراط وتفریط کے درمیان صحیح راہ بتائی۔ یہودی ان کو برا جانتے تھے اور طعن کرتے تھے۔ عیسائی ان کو خدا اور خدا کا بیٹا اور دونوں کو کارساز سمجھتے تھے قرآن نے دونوں نظریوں کو باطل ٹھہرا کر صحیح فیصلہ دیا کہ وہ دونوں ہمارے نیک اور برگزیدہ بندے ہیں وہ نہ خدا ہیں، نہ خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔
قرآن کریم کی حق گوئی
پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی…
Read the full tafseer →اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَكْثَرَ الَّذِيْ ہُمْ فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ 76
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : : اکثر یقص کا مفعول ھادی العمی علی الاضافۃ وبالتنوین والنصب علی اعمال اسم الفاعل عن ضلالتھم ھادی سے متعلق اور ممکن ہے العمی سے متعلق والمعنی ان العمی صدر عن ضلالتہم تکلمہم من الکلام اومن الکلم اذا قری تکلمھم ان الناس بالفتح ای تکلم ان الناس و بالکسر علی الاستیناف۔
تفسیر … دلائلِ حقانیت قران مجید : مبدء و معاد میں کلام کرکے پھر نبوت میں کلام شروع ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بڑی کامل اور روشن دلیل قرآن مجید ہے، اس لیے سب سے پیشتر قرآن مجید کے ان کمالات کا ذکر کرتا ہے جو اس کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے صاف شواہد ہیں از انجملہ ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَکْثَرَالَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْن۔ وَاِنَّـہٗ لَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ بِحُکْمِہٖ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ ۔ (النمل : 76 تا 78)
(بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر ان بہت سی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ اور یہ (قرآن) ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ )
ترہیب کے بعد ترغیب
قریش اور دیگر مخالفین کو گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفت سے روکنے اور پیغمبر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی غالب اکثریت اَن پڑھ تھی جس بناء پر وہ مدینہ کے یہودیوں سے پوچھتے کہ ہمیں علمی لحاظ سے محمد ﷺ پر کیا کیا اعتراض اٹھانے چاہییں۔ یہودی مکہ والوں کو مختلف قسم کے سوال کرنے کی تعلیم دیتے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ مکہ والوں کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا یہ قرآن مجید ان مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جن کی حقیقت جاننے کے باوجود بنی اسرائیل ان کو نہیں مانتے۔ بنی اسرائیل کے خطاب میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ لفظ صرف یہودیوں یا عیسائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہودیوں نے تورات کے بر خلاف یہ عقیدہ بنایا کہ…
Read the full tafseer →76: اِنَّ ہٰذَا الْقُرْٰانَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر وہ واقعات اکثر بیان کرتا ہے) ۔ کھول کر بیان کرتا ہے۔ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں) ۔ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق اختلاف کیا۔ اور اس میں کئی گروہ بن گئے۔ ان کے مابین بہت سی اشیاء میں اختلاف ہوا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگے۔ قرآن مجید نے اتر کر اس چیز کی وضاحت کردی جس کو انہوں نے اختلاف کا نشانہ بنایا تھا۔ اگر وہ انصاف سے کام لیں۔ اور اس کو اختیار کرلیں۔ اور اسلام لے آئیں۔ بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
76۔ ان ھذا القرآن علی بنی اسرائیل، یعنی ان کے لیے بیان کیجئے۔ اکثرالذی ھم فیہ یختلفون، ، دین کے کامون میں، کلبی کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا باہم بعض مذہبی باتوں میں اختلاف تھا، اسی لیے فرقے فرقے بن گئے تھے ہر فرقہ دوسرے پر طعن کرتا تھا، قرآن نے آکر ان کے اختلافی مسائل کو بیان کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(آیت 76
یہ آیت کریمہ اس بارے میں خبر دیتی ہے کہ قرآں کتب سابقہ کی تصدیق و توضیح اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ کتب سابقہ کے بارے میں بنی اسرائیل میں اشتباہ و اختلاف واقع ہوا ہے اس لئے قرآن کریم نے ایسی توضیحات بیان کی ہیں جن سے اشکار دور ہوجاتا ہے اور مختلف فیہ مسائل میں راہ صواب واضح ہوجاتی ہے اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے، مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اس لئے واضح فرمادیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لئے مختص ہے۔ پس فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
85 قرآن حکیم سے استفادے کیلئے اولین شرط ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن قطعی طور پر عین ہدایت اور سراسر ہدایت و رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ سو یوں تو اس کا فیض سب کے لئے عام ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھا سکے گا جو اس پر ایمان رکھتا ہوگا۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ قرآن حکیم سے صحیح معنوں میں استفادے کیلئے اولین شرط اس پر ایمان رکھنا ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ایمان والوں کیلئے عظیم الشان ہدایت اور سراسر رحمت ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ اور ہدایت و رحمت یہ دونوں صفتیں ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کو پہلے تو یہ کتاب اپنی ہدایت اور راہنمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیات 67 تا 82
اسرار و معارف
ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…
Read the full tafseer →9 ۔ یہود اور نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو یہودی جھوٹا اور ولدالزنا کہتے تھے اور نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ وہ انہیں خدا کا بیٹا سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی۔ جو قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے۔ اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان کی سب فرقہ بندی ختم ہوجاتی۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں : مبداء و معاد کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوۃ کے متعلق بحث شروع کی اور آنحضرت…
Read the full tafseer →(27:76) ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون ۔ ۔
بنی اسرائیل یقص فعل کا مفعول اول اکثر مفعول ثانی ہے اور ضمیر ھو فاعل راجع بسوئے قرآن ہے۔ تحقیق یہ قرآن بنی اسرائیل پر بہت سی ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 :
تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 :
کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
[25] یعنی بنی اسرائیل پر بہت سے وہ حقائق روشن کر دئیے جن کے بارے میں وہ غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ف 3: کتاب مبین لوح محفوظ ہے اور لوح محفوظ باری تعالیٰ کے علم سے تعبیر ہے ۔
Read the full tafseer →(76) بلاشبہ ! یہ قرآن کریم بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں کی حقیقت کو ظاہر کردیتا ہے اور بیان کردیتا ہے جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔
Read the full tafseer →قرآن کریم نے اہل یہود کی ہر حرکت کو نوٹ کیے جانے کی انکو اطلاع دی ہے :
76۔ براہ راست جو سوال کہنے والے تھے وہ تو بلاشبہ قریش ہی تھے اور قریش ہی کو جواب بھی سنایا جا رہا ہے مگر یہود نے ازراہ شرارت قریش ہی کو آگے لگایا ہے لیکن انکی پشت پر جو ہاتھ ہے وہ یہود ہی کا ہے اس لئے قرآن کریم نے انکی طرف بھی اشارہ کردیا کہ ان کو بھی معلوم ہوجائے کہ تمہاری یہ خفیہ سازشیں بھی ہماری نظر میں اور تم پیچھے رہ کر جس طرح قریش کے کان بھر رہے ہیں وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہم ان سے اچھی طرح واقف ہیں جو انہوں نے کہا ہے وہ بھی ہماری نظر میں ہے اور جو انہوں نے کرنا ہے وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے آج جن باتوں پر وہ قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
Commentary
By describing Allah's omnipotence through different examples in the earlier verses, the reality of the Hereafter and the rational possibility of resurrection of the dead has been established. There is no logical ambiguity in that. Its definite occurrence is confirmed by the sayings of the prophets and the divine books that were revealed to them. Authenticity and establishment of any information is based on the veracity of the courier or the narrator. In this verse it is stated that the informant of this news is the Holy Qur'an whose authenticity and truthfulness is beyond any doubt…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
92 Here by "Book" is not meant the Qur'an, but the Divine Record in which everything has been registered.
Read the full tafseer →