Explained with ayahs 71–75
قیامت کے منکر
مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح…
Read the full tafseer →سورة النمل 92
یہاں کتاب سے مراد قرآن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا وہ ریکارڈ ہے جس میں ذرہ ذرہ ثبت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–75
بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 75-74
انحضرت کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے انذار
یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کے لئے انذار بھی۔ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے بالکل بےخطر رہو۔ تمہارا رب ان کے سینوں کے مخفی منصوبوں سے بھی واقف ہے اور ان کے برملا اعلانات سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے ہر فتنہ کے تدارک کے لئے خود سامان فرمائے گا۔ یہ گویا لاتکن فی ضیق مما یمکرون کے مضمون کی تاکید ہوئی۔
وما من عآئبۃ الایۃ میں مخالفین کو دھمکی ہے کہ وہ یاد رکھیں کہ آسمان و زمین کا ہر بھید خدا کے ہاں ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ وہ ہر چیز کانوٹس لے گا اور اس سے کوئی راز بھی چھپایا نہ جاسکے۔
Read the full tafseer →75-1اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ان ہی غائب چیزوں میں اس عذاب کا علم بھی ہے جس کے لئے یہ کفار جلدی مچاتے ہیں لیکن اس کا وقت بھی اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے جسے صرف وہی جانتا ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے جو اس نے کسی قوم کی تباہی کے لئے لکھ رکھا ہے، تو پھر اسے تباہ کردیتا ہے۔ یہ مقررہ وقت آنے سے پہلے جلدی کیوں کرتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
34: اس سے مراد لوح محفوط ہے
Read the full tafseer →وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین (27: 75) فکر و خیال اب زمین و آسمان کے وسیع میدان میں چلا جاتا ہے۔ زمین و آسمان کے اندر چھپے ہوئے بھید تو بیشمار ہیں۔ بیشمار راز ، بیشمار قوتیں ، بیشمار عجوبے ، سب کے سب اللہ کے علم و ناموس کے پابند۔ کوئی چیز بھی علم الٰہی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اور نہ وہ بنیست علم الٰہی غائب ہے۔ یہ حاضر و غائب تو انسانی علم کی تقسیم ہے۔ اس سورت کی تذکیر تو علم پر ہے۔ پوری سورت میں علم کی طرف اشارات ہیں اور اس سبق کے اختتام پر یہ آخری اشارہ ہے۔
اللہ کے علم مطلق کے حوالے سے یہاں علم الٰہی نے کس طرح قرآن کریم میں فیصلہ کن اور دو ٹوک باتیں سامنے لاکر بنی اسرائیل کے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
1 یعنی تمہارے ظاہری و پوشیدہ اعمال، دلوں کے بھید نیتیں، ارادے اور زمین و آسمان کے چھپے سے چھپے راز سب اللہ تعالیٰ کے علم میں حاضر اور اس کے دفتر میں درج ہیں۔ ہر بات اسی کے موافق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوگی۔ جلدی مچانے یا دیر لگانے سے کچھ حاصل نہیں۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے جلد یا بدیر اپنے وقت پر آئے گی اور ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت و عزم کے موافق پھل مل کر رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 75 وَمَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ”
گویا اللہ تعالیٰ کے علم قدیم ہی کو یہاں کتاب مبین کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →79 یعنی ان لوگوں کے ظاہری اعمال سے بھی اللہ واقف ہے اور باطنی خیالات سے بھی، ان کی حالیہ کرتوتوں سے بھی اور جو کچھ یہ آوندہ کے لئے سازشیں تیار کر رہے ہیں ان سب باتوں سے صرف واقف نہیں بلکہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی اس کے ریکارڈ میں درج ہے۔ نیز یہ بھی کہ ان لوگوں کو کتنی مہلت دی جائے گی اور کب ان پر عذاب آئے گا۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے وہ اپنے وقت پر آکے رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
82۔ یعنی حق تعالیٰ کو براہ راست علم تو ہے ہی۔ باقی باضابطہ اور ظاہری طور پر بھی ہر چیز خداوندی رجسٹر میں درج ہے۔ (آیت) ” کتب مبین “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ہر چیز چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی موجود ہے۔ وھو ام الکتاب الذی اثبت ربہ کل ما ھو کائن من لدن ابتداء خلق خلقہ الی یوم القیامۃ (ابن جریر) اے فی اللوح المحفوظ (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیت نمبر 67 تا 82
ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…
Read the full tafseer →وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین . اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں جو لوح محفوظ میں موجود نہ ہو۔
غَاءِبَۃً یعنی وہ چیز جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ غَاءِبَۃ یا خافِیَۃ کی طرح صفت غالبہ ہے (یعنی صفت کا صیغہ ہے لیکن موصوف کے بغیر اس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے) اس وقت میں ت مبالغہ کی ہے جیسے راویَۃ ( اس صورت میں غاءِبَۃً مذکر کا صیغہ ہوگا) یا اسم صفت ہے جیسے غافیۃ اور عاقبت۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ صفت ہے موصوف محذوف ہے یعنی پوشیدہ راز ‘ چھپی ہوئی بات ‘ مخفی امر۔ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ کھلی ہوئی کتاب یا اپنے اندراجات کو پڑھنے والے پر کھول دینے والی کتاب ‘ اس سے مراد لوح محفوظ…
Read the full tafseer →(75) اور یہ جو کفر وشرک قتل و غارت گری کرتے ہیں اور آسمان والوں اور زمین والوں میں ایسی کوئی پوشیدہ چیز نہیں جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی نہ ہو۔
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ غَاۗىِٕبَةٍ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (59) ”غَاۗىِٕبَةٍ“ میں تاء مبالغہ کے لیے ہے، جیسے ”کَافِیَۃٌ“ اور ”عَلاَّمَۃٌ“ میں ہے، یعنی انتہائی مخفی چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے، وہ اپنے وقت پر آکر رہے گا۔ اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ نہیں آئے گا، سرا سر حماقت ہے۔
Read the full tafseer →ومامن غآئبۃ فی السمآء والارض الا فیکتب مبین حضرت حسن بصری نے کہ، یہاں غائبہ سے مراد قیامت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمان اور زمین کے عذاب میں سے جو ان سے غائب ہے وہ مراد ہے، نقاش نے یہ بیان کیا ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : غائبہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے پوشیدہ اور غائب رکھا ہے یہ عام ہے۔ غائبہ کے آخر میں ھاء داخل ہے یہ جمع کی طرف اشارہ ہے تو یہ لوگ جسے پوشیدہ رکھتے ہیں یا اس کا اظہار کرتے ہیں وہ کیسے اس پر مخفی ہوگا ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہر شے جسے ام الکتاب میں ثبت کیا ہے وہ اسے اجل مئوجل کے لئے نکالتا ہے۔ جس عذاب کی وہ جلدی مچاتے ہیں وہ بھی اجل مضروب ہے وہ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–75
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔
2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔
4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…
Read the full tafseer →وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ غَاۗىِٕبَةٍ [ کوئی بھی غائب ہونے والی ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] وَالْاَرْضِ [ اور زمین میں ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ (وہ) ایک واضح کتاب میں ہے ]
Read the full tafseer →(وَ مَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنَ ) (اور آسمان اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو) کتاب مبین سے مفسرین نے لوح محفوظ مراد لی ہے، مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کتاب مبین میں محفوظ ہے، ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کا علم کسی کتاب میں مندرج پر موقوف نہیں ہے لیکن پھر بھی لوح محفوظ میں درج فرما دیا ہے لوگوں کے اعمال حسنات سیئات بھی محفوظ ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے گا سزا دے گا، سزا میں دیر لگنے سے یہ نہ سمجھیں کہ سزا نہ ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
64:۔ آخر میں دونوں دعو وں پر لف و نشر مرتب کے طور پر مزید ایک ایک عقلی دلیل ذکر کی گئی۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ یعنی غیب داں صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ ہر ایک کے سینے میں چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے اور ہر ایک کے ظاہری اعمال سے باخبر ہے اس لیے ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ وما من غائبۃ الخ، کتاب مبین سے علم الٰہی یا لوح محفوظ مراد ہے۔ وھو اللوح المھفوظ، وقیل المراد بالکتاب المبین علمہ تعالیٰ الازلی الذی ھو مبدا لاظھار الاشیاء بالارادۃ والقدرۃ (روح ج 20 ص 17) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ غَاۗىِٕبَۃٍ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 75
غيب
الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20]
( غ ی ب ) الغیب ( ض )
غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے
كتب) حكم)
قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔
تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُـکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ وَمَا مِنْ غَـآئِبَۃٍ فِی السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (النمل : 74، 75)
(اور بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح رجسٹر میں لکھی ہوئی نہ ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو انذار
مخالفین کی بڑھتی ہوئی مخاصمت چونکہ روز بروز منہ زور ہوتی جارہی تھی اس لیے آنحضرت ﷺ کا ان کی مخالفت کے حوالے سے پریشان ہونا فطری بات تھی۔ اور اس مخالفت کا جس طرح آپ ﷺ کے وفاشعار ساتھیوں کو نشانہ بنایا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین آخرت کو ایک اور انداز میں جواب۔
مکہ کے مشرک اس حد تک ہدایت سے بےتوفیق ہوئے کہ ان میں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کسی مردہ کی بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بڑے غرور اور تمرد میں آکر کہتا ہے کہ اے محمد بتاؤ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ ہمارے سامنے دلیل دیتا ہے اور اپنی تخلیق بھول گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ پیدا کرنا جانتا ہے۔ “ (یٰس ٓ : 78۔ 79 کا)
اس واضح حقیقت اور ٹھوس دلیل کے باوجود پھر بھی وہ لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہو تو…
Read the full tafseer →قراءت : تکن پڑھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کننت الشیٔ وأکننتہٗ جبکہ تم اس کو چھپائو اور مخفی رکھو۔
75: وَمَا مِنْ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ (اور آسمان و زمین میں کوئی مخفی چیز ایسی نہیں کہ جو لوح) ۔ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (محفوظ میں موجود نہ ہو) ۔ غائبۃ۔ اس چیز کو کہا جو غائب ہوتی اور چھپتی ہے اور خافیۃ بھی اسی کو کہتے ہیں۔ ان دونوں کے آخر میں عاقبت اور عافیت کی طرح تاء آئے گی۔ اس کے نظائر الرمیۃ والذبیحۃ والنطیحۃ ہیں۔ یہ اسماء ہیں صفات نہیں ہیں۔
نمبر 2۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ دونوں صفت ہوں۔ اور ان کی تاء مبالغہ کے لئے ہے۔ جیسے کہ الراویۃ میں ہے گویا اس طرح فرمایا۔ وما من شیٔ شدید…
Read the full tafseer →75۔ ومامن غائبۃ، یعنی وہ چیز جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ فی السماء والارض ، الافی کتاب مبین، وہ لوح محفوظ میں موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
(آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جودوسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہر کو نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کردیتے ہیں۔ (وان ربک لیعلم ماتکن صدورھم) ” اور بلا شبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں، تمہارا رب ان کو جانتا ہے۔ “ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے۔ (وما یعلنون) ” اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ “ اس لئے انہین اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔ (وما من غائبۃ فی السماء والارض) یعنی آسمان و زمین کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
85 قرآن حکیم سے استفادے کیلئے اولین شرط ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن قطعی طور پر عین ہدایت اور سراسر ہدایت و رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ سو یوں تو اس کا فیض سب کے لئے عام ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھا سکے گا جو اس پر ایمان رکھتا ہوگا۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ قرآن حکیم سے صحیح معنوں میں استفادے کیلئے اولین شرط اس پر ایمان رکھنا ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ایمان والوں کیلئے عظیم الشان ہدایت اور سراسر رحمت ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ اور ہدایت و رحمت یہ دونوں صفتیں ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کو پہلے تو یہ کتاب اپنی ہدایت اور راہنمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
آیات 67 تا 82
اسرار و معارف
ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…
Read the full tafseer →8 ۔ لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے وہ اپنے وقت پر آ کر رہے گا اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ وہ نہیں آئے گا) سراسر حماقت ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(27:75) غائیۃ۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ۃ مبالغہ کی ہے مؤنث کی نہیں۔ بہت ہی چھپنے والی اور زیادہ سے زیادہ پوشیدہ رہنے والی چیز۔
کتب مبین۔ موصوف و صفت۔ واضح کتاب۔ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جس میں ہر چیز چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–82
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 :
تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 :
کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–75
قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…
Read the full tafseer →[24] کتاب مبین یعنی واضح کتاب۔ مراد اس سے لوح محفوظ ہے جس میں ہر چیز، چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ف 3: کتاب مبین لوح محفوظ ہے اور لوح محفوظ باری تعالیٰ کے علم سے تعبیر ہے ۔
Read the full tafseer →(75) اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی پوشیدہ چیز نہیں جو کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود نہ ہو یعنی آسمان و زمین کی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
ف 4۔ جب مخفی چیزیں جن کو کوئی نہیں جانتا اس میں موجود ہیں تو ظاہر چیزیں تو بدرجہ اولی موجود ہیں۔ غرض ان کے اعمال کی خدا کو بھی خبر، دفتر میں بھی محفوظ، اور وہ اعمال خود مقتضی سزا کو بھی، اور وقوع سزا پر اخبار صادقہ بھی متفق، پھر اس سمجھنے کی کیا گنجائش ہے کہ سزا نہ ہوگی، البتہ دیر ہونا ممکن ہے۔ چناچہ بوض سزائیں ان منکرین کو دنیا میں ہوئیں، جیسے قحط و قتل، اور بعض برزخ میں ہوں گی کہ یہ سب قریب ہیں، اور کچھ آخرت میں ہوں گی۔
Read the full tafseer →اللہ کے علم سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں وہ آسمانوں میں ہو یا زمین پر :
75۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تسلی دینے کے بعد زیر نظر آیت میں منکرین ومعاندین کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ وہ اچھی طرح کان کھول کر سن لیں اللہ تعالیٰ پر آسمانوں و زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو پوشیدہ ہو کہ وہ چھپی سے چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے اور ہرچیز اللہ تعالیٰ کی کتاب میں گویا تحریر ہے اس لئے وہ کوئی راز اس سے نہیں چھپا سکتے اور جب وقت آئے گا تو وہ ان کی حکمت ان کے ہاتھ میں تھما دے گا کہ یہ تمہارے کیے کی تحریر ہے اور ادھر بٹن پر ہاتھ رکھو یہ تمہارے کیے کی ساری تصویر ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ یہ کارستانیاں تمہاری ہیں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–75
بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾
Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66.
There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–81
92 Here by "Book" is not meant the Qur'an, but the Divine Record in which everything has been registered.
Read the full tafseer →