An-Naml 27:74

An-Naml · from ayah 74

27:74

وَاِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۟وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَـعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, your Lord knows what their breasts conceal and what they declare.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:74

بلا شبہ تیرا رب خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک آپ کا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپا رہے ہیں اور جنہیں ﻇاہر کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار وہ ساری باتیں بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں، اور وہ باتیں بھی جو وہ علانیہ کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپی ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ کا رب ان (باتوں) کو ضرور جانتا ہے جو ان کے سینے (اندر) چھپائے ہوئے ہیں اور (ان باتوں کو بھی) جو یہ آشکار کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک تیرا رب یقینا جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بلاشبہ تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے وئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ تمہارا رب پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے ان سب باتوں کو جن کو یہ لوگ چھپائے رکھتے ہیں اپنے سینوں میں اور جن کو یہ ظاہر کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینہ چھپائے ہوئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں ‘ آپ کا رب ان سب کو جانتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily your Lord knows all that their hearts conceal as well as all that they reveal.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Of course, your Lord knows for sure what their hearts conceal and what they reveal.

— Muhammad Taqi Usmani

Of course, your Lord knows for sure what their hearts conceal and what they reveal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, your Lord knows what their breasts conceal and what they reveal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thy Lord knoweth surely all that their bosoms hide, and all that they proclaim.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, your Lord knows what their breasts conceal and what they declare.

— Saheeh International

Your Lord certainly knows whatever their hearts conceal or reveal.

— Muhammad Sarwar

And most surely your Lord knows what their breasts conceal and what they manifest.

— Muhammad Habib Shakir

And verily thine Lord knoweth whatsoever their breasts conceal and whatsoever they make known.

— Abdul Majid Daryabadi

And verily thy Lord knoweth all that their hearts do hide. As well as all that they reveal.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–75

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 91 یعنی وہ ان کی علانیہ حرکات ہی سے واقف نہیں ہے بلکہ جو شدید بغض اور کینہ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور جا چالیں یہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں، ان سے بھی وہ خوب واقف ہے، اس لیے جب ان کی شامت آنے کا وقت آن پہنچے گا تو کوئی چیز چھوڑی نہیں جائے گی جس پر ان کی خبر نہ لی جائے۔ یہ انداز بیان اسی طرح کا ہے جیسے ایک حاکم اپنے علاقے کے کسی بدمعاش سے کہے، مجھے تیرے سب کرتوتوں کی خبر ہے، اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے باخبر ہونے کی اسے اطلاع دے رہا ہے، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تو اپنی حرکتوں سے باز آجا، ورنہ یاد رکھ کہ جب پکڑا جائے گا تو تیرے ایک ایک جرم کی پوری سزا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 74–75

آیت 75-74 انحضرت کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے انذار یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور آپ ﷺ کے مخالفین کے لئے انذار بھی۔ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے بالکل بےخطر رہو۔ تمہارا رب ان کے سینوں کے مخفی منصوبوں سے بھی واقف ہے اور ان کے برملا اعلانات سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے ہر فتنہ کے تدارک کے لئے خود سامان فرمائے گا۔ یہ گویا لاتکن فی ضیق مما یمکرون کے مضمون کی تاکید ہوئی۔ وما من عآئبۃ الایۃ میں مخالفین کو دھمکی ہے کہ وہ یاد رکھیں کہ آسمان و زمین کا ہر بھید خدا کے ہاں ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ وہ ہر چیز کانوٹس لے گا اور اس سے کوئی راز بھی چھپایا نہ جاسکے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 73–74

73-1یعنی عذاب میں تاخیر، یہ بھی اللہ کے فضل و کرم کا ایک حصہ ہے، لیکن لوگ پھر بھی اس سے انکار کر کے ناشکری کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون (27: 74) ” “ اللہ ان پر عذاب نہیں لاتا اور اسے موخر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اپنئ سینوں میں یہ لوگ کیا چھپائے ہوئے ہیں اور کیا وہ طاہر کر رہے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی شے اللہ سے غائب اور پوشیدہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 74–75

1 یعنی تمہارے ظاہری و پوشیدہ اعمال، دلوں کے بھید نیتیں، ارادے اور زمین و آسمان کے چھپے سے چھپے راز سب اللہ تعالیٰ کے علم میں حاضر اور اس کے دفتر میں درج ہیں۔ ہر بات اسی کے موافق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوگی۔ جلدی مچانے یا دیر لگانے سے کچھ حاصل نہیں۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے جلد یا بدیر اپنے وقت پر آئے گی اور ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت و عزم کے موافق پھل مل کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 74 وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ” اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے کیا کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں کیا جذبات ہیں۔ ان کے دل تو گواہی دے چکے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہیں اور قرآن بھی برحق ہے ‘ لیکن وہ محض حسد ‘ ّ تکبر اور تعصب کے باعث انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے ان کی کیفیت فرعون اور قوم فرعون کی کیفیت سے مشابہ تھی جس کا حال اسی سورت کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”اور انہوں نے ان آیاتِ الٰہی کا انکار کیا ظلم اور تکبر کے ساتھ جبکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 ان کا زبانی مطالبہ تو یہ ہے کہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ لیکن اس مطالبہ کے جو محرکات ہیں اور جو کچھ یہ اپنے آپ کو اپنے دلوں میں سجھے بیٹھے ہیں۔ ان کا یہ تمہارے سامنے اظہار نہیں کرتے۔ ان کے دلوں کے پوشیدہ کینوں اور ناپاک ارادوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 74–75

82۔ یعنی حق تعالیٰ کو براہ راست علم تو ہے ہی۔ باقی باضابطہ اور ظاہری طور پر بھی ہر چیز خداوندی رجسٹر میں درج ہے۔ (آیت) ” کتب مبین “۔ سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ہر چیز چھوٹی بڑی، اگلی پچھلی لکھی ہوئی موجود ہے۔ وھو ام الکتاب الذی اثبت ربہ کل ما ھو کائن من لدن ابتداء خلق خلقہ الی یوم القیامۃ (ابن جریر) اے فی اللوح المحفوظ (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون . آپ کا رب بلاشک و شبہ ان باتوں کا جانتا ہے جن کو وہ لوگ اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہیں اور جن باتوں کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی وہ آپ کی جس عداوت کو دلوں میں چھپائے رکھتے ہیں یا اس کا اظہار کرتے ہیں اللہ اس سے واقف ہے اس کی سزا ضرور دے گا تاخیر عذاب کی وجہ یہ نہیں کہ اللہ سے کوئی حالت چھپی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ۔۔ : یعنی عذاب میں تاخیر کی یہ وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال کا علم نہیں، یقیناً تیرا رب وہ بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور وہ بھی جو وہ ظاہر کر رہے ہیں۔ لفظ ”رب“ میں تاخیر اور مہلت کا سبب بیان ہوا ہے اور اس بات میں کہ وہ ان کی سینوں میں چھپی ہوئی اور ان کی ظاہر ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، شدید وعید بھی ہے، جیسے کسی کو ڈانٹنا ہو تو کہا جاتا ہے کہ میں تمہاری حرکتیں دیکھ رہا ہوں۔ پوشیدہ باتوں کو جاننا تو صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے ہی، لوگوں کے ظاہر اعمال کو جاننا بھی صرف رب تعالیٰ ہی کی شان ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا ایک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

و ان ربک لیعلم ماتکن صدورھم و ما یعلنون ان کے سینے جس کو چھپائے ہوئے ہیں تیرا رب اسے جانتا ہے اور جن امور کو وہ ظاہر کرتے ہیں اسے بھی جانتا ہے۔ ان محیصن اور حمید نے ماتکن پڑھا ہے یہ کننت الشیء سے مشتق ہے جب تو اسے چھپائے۔ قصص میں ہے تقدیر کلام ہے تکن صدورھم علیہ گویا سینوں میں جو چیز پوشیدہ ہے وہ باقی ماندہ جس کی طرح ہے جس نے تکن پڑھا جب کہ یہی قرأت معروف ہے یہ جملہ بولا اجتا ہے : اکنت الشیئی جب تو اسے اپنے دل میں چھپائے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَيَعْلَمُ [ یقینا جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُكِنُّ [ چھپاتے ہیں ] صُدُوْرُهُمْ [ ان کے سینے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يُعْلِنُوْنَ [ یہ لوگ اعلان کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب ان باتوں کو ضرور جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں ان کی دل کی باتیں نیتیں اور ارادے ہمیں سب معلوم ہیں حکمت کے مطابق ان کا انجام سامنے آجائے گا اور ساتھ ہی منکرین کے لیے تھدید اور تحذیر بھی ہے کہ تمہاری کوئی نیت کوئی ارادہ کوئی عمل پروردگار جل مجدہ سے پوشیدہ نہیں ہے اس کی طرف سے جو عذاب میں تاخیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ اس کو تمہارا حال معلوم نہیں، اسے سب کچھ پتہ ہے حکمت کے مطابق جب وہ چاہے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–75

64:۔ آخر میں دونوں دعو وں پر لف و نشر مرتب کے طور پر مزید ایک ایک عقلی دلیل ذکر کی گئی۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ یعنی غیب داں صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ ہر ایک کے سینے میں چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے اور ہر ایک کے ظاہری اعمال سے باخبر ہے اس لیے ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔ وما من غائبۃ الخ، کتاب مبین سے علم الٰہی یا لوح محفوظ مراد ہے۔ وھو اللوح المھفوظ، وقیل المراد بالکتاب المبین علمہ تعالیٰ الازلی الذی ھو مبدا لاظھار الاشیاء بالارادۃ والقدرۃ (روح ج 20 ص 17) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا يُعْلِنُوْنَ۝ 74 كن الْكِنُّ : ما يحفظ فيه الشیء . يقال : كَنَنْتُ الشیء كَنّاً : جعلته في كِنٍّ «1» ، وخُصَّ كَنَنْتُ بما يستر ببیت أو ثوب، وغیر ذلک من الأجسام، قال تعالی: كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ [ الصافات/ 49] ، كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [ الطور/ 24] . وأَكْنَنْتُ : بما يُستَر في النّفس . قال تعالی: أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ [ البقرة/ 235] وجمع الکنّ أَكْنَانٌ. قال تعالی: وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْجِبالِ أَكْناناً [ النحل/ 81] . والکِنَانُ : الغطاء الذي يكنّ فيه الشیء، والجمع أَكِنَّةٌ. نحو : غطاء وأغطية، قال :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 74–75

وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُـکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ وَمَا مِنْ غَـآئِبَۃٍ فِی السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (النمل : 74، 75) (اور بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح رجسٹر میں لکھی ہوئی نہ ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو انذار مخالفین کی بڑھتی ہوئی مخاصمت چونکہ روز بروز منہ زور ہوتی جارہی تھی اس لیے آنحضرت ﷺ کا ان کی مخالفت کے حوالے سے پریشان ہونا فطری بات تھی۔ اور اس مخالفت کا جس طرح آپ ﷺ کے وفاشعار ساتھیوں کو نشانہ بنایا جارہا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–75

فہم القرآن ربط کلام : منکرین آخرت کو ایک اور انداز میں جواب۔ مکہ کے مشرک اس حد تک ہدایت سے بےتوفیق ہوئے کہ ان میں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کسی مردہ کی بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بڑے غرور اور تمرد میں آکر کہتا ہے کہ اے محمد بتاؤ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ ہمارے سامنے دلیل دیتا ہے اور اپنی تخلیق بھول گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ پیدا کرنا جانتا ہے۔ “ (یٰس ٓ : 78۔ 79 کا) اس واضح حقیقت اور ٹھوس دلیل کے باوجود پھر بھی وہ لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہو تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 74: وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ (اور بیشک آپ کا رب اس چیز کو جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں) ۔ وَمَا یُعْلِنُوْنَ (اور جو ظاہر کرتے ہیں) ۔ تکن۔ کا معنی چھپانا ہے۔ یعلنون سے مراد زبان سے جس کا وہ اظہار کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ان سے عذاب کی تاخیر کچھ اس بناء پر نہیں ہے۔ کہ ہم پر ان کا کوئی حال مخفی ہے۔ لیکن اس کا ایک وقت مقرر ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کفار عداوت ِرسول چھپاتے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں یعنی عداوت رسول اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو استحقاق کے مطابق سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 73–74

73۔ وان ربک لذوفضل علی الناس، ، مقاتل کا بیان ہے ، اہل مکہ جب وہ عذاب کی جلدی کرتے تھے۔ ولکن اکثرھم لایشکرون، ، وہ اس پر شکر ادا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–81

74 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–75

(آیت 73 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جودوسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہر کو نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کردیتے ہیں۔ (وان ربک لیعلم ماتکن صدورھم) ” اور بلا شبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں، تمہارا رب ان کو جانتا ہے۔ “ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے۔ (وما یعلنون) ” اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ “ اس لئے انہین اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔ (وما من غائبۃ فی السماء والارض) یعنی آسمان و زمین کی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

83 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا بیان اور پیغمبر کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے ان سب باتوں کو جن کو یہ لوگ چھپائے رکھتے ہیں اپنے سینوں میں اور جن کو یہ ظاہر کرتے ہیں "۔ تو جس رب کی یہ شان ہے اس سے کوئی کس طرح چھپ سکتا ہے ؟ اور اس کی گرفت و پکڑ سے کس طرح بچ کر نکل سکتا ہے ؟ سو اس ارشاد عالی میں ایک طرف تو حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ یہ لوگ اپنے سینوں میں جو مخفی منصوبے رکھتے ہیں اور جن شرانگیزیوں کا برملا اعلان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا اور ایک برابر اور پوری طرح جانتا ہے۔ اس لیے وہ ان کے ہر فتنے کے تدارک کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ اس لئے جب ان کی شامت آئے گی تو کوئی بات چھوڑی نہ جائے گی جس پر ان کا سخت محاسبہ نہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:74) تکن۔ مضارع واحد مؤنث غائب اکنان (افعال) مصدر۔ اس باب سے بمعنی کسی بات کو چھپانے کے آتا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے او اکننتم فی انفسکم (2:235) یا (نکاح کی خواہش کو) تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو ! ثلاثی مجرد سے کن یکن (نصر) کن وکنون (گھر میں) چھپانا۔ کن جمع اکنان واکنۃ پردہ۔ گھر۔ چھپنے کی جگہ۔ گھونسلہ، کنۃ لپیٹنے کی چیز۔ کمبل۔ تکن وہ چھپاتی ہے وہ مخفی رکھتی ہے۔ ما تکن صدرہم جو ان کے سینوں نے چھپا رکھا ہے۔ یعلنون۔ مضارع جمع مذکر غائب اعلان (افعال) مصدر (جو) وہ ظاہر کرتے ہیں : جمع کا صیغہ الناس کی رعایت سے لایا گیا ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: اس آیت میں کفار کے مخفی ارادے سے اور بھید جو تھے ان کے متعلق ارشاد ہے کہ وہ ہم سب کو معلوم ہیں ۔ تم یہ نہ سمجھو ۔ کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارے مکار سے آگاہ نہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(74) اور بیشک آپ کے پروردگار کو وہ سب باتیں معلوم ہیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں اور جسکو وہ علانیہ کرتے ہیں یعنی تاخیر عذاب جو کسی مصلحت کے ماتحت ہوتی ہے اور جلدی نہیں کی جاتی تو اس کو یہ نہ سمجھو کو اللہ تعالیٰ کو تمہارے پوشیدہ اور علانیہ افعال کی خبر نہیں ہے اور ان افعال کی کبھی سزا نہیں ملے گی بلکہ اس کو سب معلوم ہے اور تمہارے ہی افعال پر کیا منحصر ہے بلکہ وہاں تو ہر چیز لوح محفوظ میں مکتوب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے سینوں میں جو کچھ چھپا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی خوف واقف ہے : 74۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جو کچھ یہ لوگ اپنی زبانوں سے اظہار کر رہے ہیں وہ تو کر ہی رہے ہیں لیکن جو ان کے سینوں کے اندر پوشیدہ ہے ہم اس کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ یہ ہماری ہی مخلوق ہیں اور ہم اپنی مخلوق کے متعلق اتنی بات تو جانتے ہیں کہ اس کے اندر کیا کیا خیال پیدا ہوسکتے ہیں اس لئے ہم اپنے علم کی بنا پر آپ کو بتاتے ہیں کہ جو کچھ ان کی زبانیں کہہ رہی ہیں وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو ان کے سینوں میں چھپا ہے لہذا ہمارا اعلان ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کا کچھ نقصان نہیں کرسکیں گے جب بھی ہوگا ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا اور وہ ان کے ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

91 That is, "He is not only aware of their open misdeeds but is also fully aware of the malice and spite which they are concealing in their hearts and the evil plots which they are making secretly. Therefore, when the time comes to call them to account, they will be taken to task for everything done and thought."

Read the full tafseer →