An-Naml 27:73

An-Naml · from ayah 73

27:73

وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ ۟وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُوۡنَ

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, your Lord is full of bounty for the people, but most of them do not show gratitude."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:73

حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً آپ کا پروردگار تمام لوگوں پر بڑے ہی فضل واﻻ ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک تیرا رب فضل والا ہے آدمیوں پر لیکن اکثر آدمی حق نہیں مانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر فضل (فرمانے) والا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک تیرا رب یقینا لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان کے اکثر شکر نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کا پروردگار تو لوگوں پر بڑا فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک تمہارا رب لوگوں پر بڑے فضل والا ہے لیکن ان میں کے اکثر شکر گزار نہیں ہوتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے لوگوں پر لیکن لوگوں کی اکثریت ہے کہ وہ پھر بھی اس کا شکر نہیں ادا کرتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کا پروردگار لوگوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے۔ لیکن اکثر انسان ہی شکر ادا کرتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بڑے فضل والا ہے لوگوں کے حق میں لیکن ان کی اکثریت شکر نہیں کرتی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کا رب تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ مگر ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed Your Lord is exceedingly bountiful to mankind. Yet most of them do not give thanks.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And surely, your Lord is graceful for the mankind, but most of the people are not grateful.

— Muhammad Taqi Usmani

And surely, your Lord is graceful for the mankind, but most of the people are not grateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, your Lord is full of grace for mankind, yet most of them do not give thanks.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thy Lord is full of bounty for mankind, but most of them do not give thanks.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, your Lord is full of bounty for the people, but most of them do not show gratitude."

— Saheeh International

Your Lord has many favors for mankind but most of them are ungrateful.

— Muhammad Sarwar

And surely your Lord is the Lord of grace to men, but most of them are not grateful.

— Muhammad Habib Shakir

And verily thine Lord is full of grace for mankind, but most of them give not thanks.

— Abdul Majid Daryabadi

But verily thy Lord is full of grace to mankind: Yet most of them are ungrateful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–75

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 90 یعنی یہ تو اللہ رب العالمین کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو قصور سرزد ہوتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس پر شکر گزار ہو کر اس مہلت کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ مواخذہ میں دیر ہونے کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ یہاں کوئی گرفت کرنے والا نہیں ہے اس لیے جو جی میں آئے کرتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات مان کر نہ دو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–73

آیات 73-71 ردف بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور ل کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں حتمی ہیں اس کے معنی ہیں ایک شے کے دوسری شے کے پچیھے لگ ہوئے ہونے کے۔ مکذبین کا مطالعہ عذاب اور اس کا علم … اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک عذاب دنیا سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً ظاہر ہوتا ہے دور سے عذاب آخرت سے اس انداز کا جواب ان کی قوموں نے ہمیشہ یہی دیا کہ ممی ھذا نوعد یہ عذاب کب آئے گاڈ یعنی اگر تم سچے ہو تو یا تو قیامت لائو جس کی روز دھمکی سنا رہے ہو، اگر قیامت نہیں تو وہ عذاب ہی لا کر دکھائو جو تمہاری تکذیب کی صورت میں تمہارے گمان کے مطابق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 73–74

73-1یعنی عذاب میں تاخیر، یہ بھی اللہ کے فضل و کرم کا ایک حصہ ہے، لیکن لوگ پھر بھی اس سے انکار کر کے ناشکری کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان ربک ۔۔۔۔۔۔ لا یشکرون (27: 73) ۔ اور اللہ کا فضل تو ظاہر و باہر ہے کہ اللہ لوگوں کو مہلت دئیے جا رہا ہے اور ان سے عذاب کو موخر کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ قصوروار اور گناہ گار ہیں اور گناہوں پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان کی اصلاح کی امید ابھی باقی ہے اور عذاب کو موخر کرنا تو اللہ کا فضل ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا چاہئے لیکن اکثر لوگ شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا مزاح کرتے ہیں۔ اور اپنی گمراہی میں بغیر سوچے سمجھے بڑھے چلے جا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی حق تعالیٰ اپنے فضل سے اگر عذاب میں تاخیر کرتا ہے تو چاہیے تھا اس مہلت کو غنیمت سمجھتے اور اس کی مہربانی کے شکر گزار ہو کر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرتے لیکن وہ اس کے خلاف ناشکری کرتے اور اپنے منہ سے عذاب مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ ” یعنی ابھی تک اگر تم لوگوں پر عذاب نہیں آیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا مظہر ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ بہت فضل اور کرم کا معاملہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 یعنی اگر عذاب آنے میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ابھی انھیں سمجھنے سوچنے کے لئے کچھ اور مہلت دی جائے۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس مہلت دینے پر اس کا شکر ادا کرتے یہ الٹا عذاب کے واقع ہونے کا ہی مذاق اڑانے اور اسے جھٹلانے پر لگے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

81۔ (اور وہ عذاب کو بہت ٹالتا رہتا، اور مہلت بہت دیتا رہتا ہے) ۔ اور کثرت سے منکروں پر، کافروں پر تو اس دنیا میں اس کی نعمتوں کی بارش آخر وقت تک جاری رہتی ہے۔ ہوا بارش، روشنی، کھانا، پانی، کسی پر ایک دن کے لیے بھی بند نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان ربک لذو فضل علی الناس ولکن اکثرھم لا یشکرون . اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر بڑا مہربان ہے لیکن اکثر لوگ (اس مہربانیوں کا) شکر ادا نہیں کرتے۔ یعنی وہ ایسا مہربان ہے کہ اگر چاہے تو بخش دے گا اور کافر کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا (تاکہ اس کو توبہ کا موقعہ مل جائے۔ مترجم) اسی لئے اس نے مکہ والوں کو عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کی۔ مقاتل نے آیت کی اسی طرح تفسیر کی۔ اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے یعنی اللہ کی نعمتوں کا حق نہیں پہچانتے ‘ نعمت کی قدردانی نہیں کرتے اسی لئے جلد عذاب آنے کے خواستگار ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) اور آپ کا رب لوگوں پر بڑا فضل رکھتا ہے اس کی وجہ سے قدرے عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے کہ تاخیر عذاب کو غنیمت سمجھیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ۔۔ : ”لَذُوْ فَضْلٍ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑے فضل والا“ کیا گیا ہے، یعنی ان لوگوں کے جلدی عذاب لانے کے مطالبے کے باوجود اللہ تعالیٰ عذاب میں تاخیر کر رہا ہے اور انھیں مہلت دے رہا ہے، تو یہ اس کا ان پر بہت بڑا فضل ہے، جس پر انھیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ ایک قلیل تعداد اہل ایمان کی ایسی ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 72–73

قل عسی ان یکون ردف لکم تمہارے قریب آگیا ہے بعض الذی تستعجلون مراد عذاب ہے۔ عذاب قریب آگیا، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یہ ردفہ سے مشتق ہے جب وہ اس کی پیروی کرے اور اس کے پیچھے آئے۔ لام داخل ہوا ہے کیونکہ معنی ہے اقترب لھم و دنالکم یا یہ مصدر کے متعلق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے معکم تمہارے ساتھ۔ ابن شجرہ نے کہا : معنی ہے تبعکم اس سے ردف المرأۃ ہے عورت کا پٹھا کیونکہ یہ اس کا تابع ہوتا ہے۔ اس معنی میں ابو ذئویب کا قول ہے : عاد السواد بیاضاً فی مقارقہ لا مرحبا ببیاض الشیب اذ ردفا سیاہی اس کی مانگ میں سفیدی کی شکل میں لوٹ آئی بڑھاپے کی سفیدی کو کوئی خوش آمدید نہ ہو جب وہ اسے بعد میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَذُوْ فَضْلٍ [ یقینا فضل والا ہے ] عَلَي النَّاسِ [ لوگوں پر ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَشْكُرُوْنَ [ شکر نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ ) (بلاشبہ آپ کا رب لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے) اسی فضل میں سے یہ بھی ہے کہ کفر میں اور شرک میں مبتلا ہونے والوں کو بھی نعمتیں دیتا ہے اور ان پر فضل فرماتا ہے، اور یہ فضل بھی ہے کہ انہیں ڈھیل دیتا ہے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں فرماتا۔ (وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَشْکُرُوْنَ ) (لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے ہیں ان کا حق یہ ہے کہ نعمتیں دینے والے کو پہچانیں اسے وحدہ لا شریک مانیں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے منع کیے ہوئے مواقع میں خرچ نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

63:۔ یہ لوگوں پر اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ کفر و شرک اور انکار و تکذیب پر جلدی ان کو نہیں پکڑتا تاکہ ان کو سوچنے سمجھنے کا موقع مل جائے۔ لیکن پھر بھی اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اس کی نافرمانیوں میں منہمک رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ۝ 73 ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (النمل : 73) (اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر بڑے فضل والا ہے، مگر ان میں کے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ ) مخالفین کی بدنصیبی اللہ تعالیٰ کی وسعت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ اس کا فضل و کرم صرف اپنے فرمانبردار اور شکرگزار بندوں پر ہی نہیں بلکہ کافروں، منکروں اور نافرمانوں پر بھی اس کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ جو لوگ اپنی نافرمانی، تمرد اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی سرکشی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگتے ہیں۔ اور عذاب میں تاخیر کو اپنے برسرحق ہونے پر اور پیغمبر کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–75

فہم القرآن ربط کلام : منکرین آخرت کو ایک اور انداز میں جواب۔ مکہ کے مشرک اس حد تک ہدایت سے بےتوفیق ہوئے کہ ان میں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کسی مردہ کی بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بڑے غرور اور تمرد میں آکر کہتا ہے کہ اے محمد بتاؤ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ ہمارے سامنے دلیل دیتا ہے اور اپنی تخلیق بھول گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ پیدا کرنا جانتا ہے۔ “ (یٰس ٓ : 78۔ 79 کا) اس واضح حقیقت اور ٹھوس دلیل کے باوجود پھر بھی وہ لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہو تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

73: وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ (اور بیشک آپ کا رب افضال والا ہے) ۔ عَلَی النَّاسِ (لوگوں پر) کہ جلد عذاب نہیں بھیجتا۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَشْکُرُوْنَ (لیکن ان کی اکثریت شکر گزار نہیں ہے) ۔ یعنی ان کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی نعمت کا حق نہیں پہچانتی اور نہ ہی شکر ادا کرنے والی ہے۔ بلکہ جہالت سے عذاب میں جلد بازی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 73–74

73۔ وان ربک لذوفضل علی الناس، ، مقاتل کا بیان ہے ، اہل مکہ جب وہ عذاب کی جلدی کرتے تھے۔ ولکن اکثرھم لایشکرون، ، وہ اس پر شکر ادا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–73

70 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا اسی طرح تیرہ برس کے قریب تک مکہ میں قرآن شریف نازل ہوتا رہا اور طرح طرح کی نصیحت کی آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا مگر باوجو اس قدر مدت اور اس قدر فرمائش کے آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے وقت تک ان میں سے ایک سو کے اندر ہی اندر آدمی اسلام لائے باقی اہل مکہ آپ کو ایذار سانی پر ہر طرح سے آمادہ رہے اور ایذار سانی کی شکلیں نکالنے میں طرح طرح کے اور داؤں سوچتے اور نکالتے رہے موسم حج پر باہر کے لوگ جو کچھ آپ کی نصیحت دھیان سے سنتے تو ان کو بہ کا دیتے کبھی کہتے کہ جو ہم چاہیں تو اس طرح کا قرآن بناسکتے ہیں جب آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–75

(آیت 73 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جودوسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہر کو نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کردیتے ہیں۔ (وان ربک لیعلم ماتکن صدورھم) ” اور بلا شبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں، تمہارا رب ان کو جانتا ہے۔ “ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے۔ (وما یعلنون) ” اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ “ اس لئے انہین اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔ (وما من غائبۃ فی السماء والارض) یعنی آسمان و زمین کی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82 عذ 1 ب کے لیے جلدی مچانے والوں کے حال پر اظہار افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے لوگوں پر "۔ اور یہ اسی کا فضل و کرم ہے کہ ایسی ایسی باتوں پر بھی نہ صرف یہ کہ اس نے ایسے لوگوں کو چھوٹ اور ڈھیل دے رکھی ہے بلکہ وہ انہیں اس دنیا کی طرح طرح کی نعمتوں سے بھی نوازے جا رہا ہے۔ مگر ان منکروں کی بےقدری اور ناشکری کا یہ عالم ہے کہ یہ اس کا شکر بجا لانے کی بجائے الٹا اس سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سو وہ تو اپنے اسی بےپایاں فضل و کرم سے لوگوں کو ڈھیل دے رہا ہے تاکہ یہ لوگ عذاب سے بچ کر اس کی رحمت کے مستحق بنیں مگر یہ ہیں کہ اس کی اس ڈھیل اور مہلت سے فائدہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ یعنی جو مہلت انہیں ملتی ہے اس میں اپنی اصلاح کی فکر نہیں کرتے بلکہ اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ کوئی گرفت ہونے والی نہیں ہے اس لئے جو جی میں آئے کرتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات نہ مانو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 72–73

(27:72) عسی۔ عنقریب ہے۔ ستاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ اس کے استعمال کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تفصیل کیلئے ملاحظہ وہ لغات القرآن حصہ چہارم از مولنا عبد ارزید نعمانی بدوۃ المصنفین دہلی۔ ردف۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ پیچھے لگا۔ وہ پیچھے ہوا۔ ردف مصدر باب سمع رادف پچھلا۔ کسی کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والا۔ اور ردف اپنے پیچھے کسی کو سواری پر بٹھانے والا۔ الترادف یکے بعد دیگرے آنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے۔ انی ممدکم بالف من المئکۃ مردفین (8:9) کہ ہم لگاتار آنیوالے ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کریں گے۔ لکم میں لام تاکید کے لئے ہے یا زائدہ ہے جیسا کہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ (2:195)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

منکرین کے لئے وعدہ عذاب کی تکمیل 1: منکرین نے جب یہ سنا کہ مرنے کے بعد بھی زندگی ہے اور سب لوگوں کو عالم موت سے نکال کر عالم حشر میں اٹھا کر کھڑا کیا جائیگا ۔ تو وہ ہنسے اور کہنے لگے ۔ یہ کیونکر ممکن ہے : کیا ہم اور ہمارے باپ دادا دوبارہ زندگی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے ! یہ تو محض افسانہ معلوم ہوتا ہے اور اس قسم کے افسانے ہم پہلے بھی سن چکے ہیں ۔ اور اس کے بعد کمال شوخ چشمی سے کہنے لگے کہ وہ وعدہ عذاب کب آئے گا ! جس کے متعلق تم کہتے ہو کہ مکذبین کے لئے مقدر ہے اور جس کے لئے اقوام و باطل کی تاریخ ہم سے بیان کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے ۔ فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین ارشاد ہوتا ہے ۔ کہ وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(73) اور بلاشبہ آپ کا پروردگار لوگوں پر بڑا فضل رکھتا ہے لیکن لوگوں میں کیا کثر اللہ تعالیٰ کے فضل کی قدر نہیں کرتے یعنی بجائے اس کے کہ تاخیر عذاب پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں اور ایمان لا کر شکرکا مظاہرہ کریں بکلہ تاخیر عذاب کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور عذاب کا انکار کرتے ہیں اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کا فضل ہی تو ہے کہ تم کو مہلت دی جا رہی ہے لیکن کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں : 73۔ ذرا غور کرو کہ فطرت کے تمام قوانین اپنی نوعیت میں کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اگر لفظوں میں انہیں تعبیر کرنا چاہو تو صرف فطرت کے فضل و رحمت ہی سے تعبیر کرسکتے ہو تمہیں اور کوئی تعبیر نہیں ملے گی ، مثلا اس کے قوانین کا عمل فوری اور اچانک نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت کم ، ہو جو کچھ کرتی ہے آہستہ آہستہ بتدریج کرتی ہے اور اس تدریجی طرز عمل نے دنیا کے لئے مہلت اور ڈھیل کا فائدہ پیدا کردیا ہے اور اس کا کام قانون تقاضوں پر فرصتیں دینا ہے اور اس کا ہر فعل عفو و درگزر کا دروازہ آخر تک کھلا رکھتا ہے بلاشبہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

90 That is, "It is Allah's mercy that He does not seize the culprit immediately after his commission of a crime but gives him respite to reform himself. But most people are not grateful for this, and do not utilize the period of respite for their reformation. On the contrary, when they see that they have not been taken to task immediately, they form the idea that there is none to call theta to account. Therefore, they are free to do whatever they like and they should not listen to any word of admonition".

Read the full tafseer →