An-Naml 27:72

An-Naml · from ayah 72

27:72

قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۟قُلۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ رَدِفَ لَـكُمۡ بَعۡضُ الَّذِىۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Perhaps it is close behind you - some of that for which you are impatient.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:72

کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دیجئے! کہ شاید بعض وه چیزیں جن کی تم جلدی مچا رہے ہو تم سے بہت ہی قریب ہوگئی ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : کچھ بعید نہیں ہے کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو، اس کا کچھ حصہ تمہارے بالکل پاس آلگا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آ لگی ہو بعض وہ چیز جس کی تم جلدی مچارہے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: کچھ بعید نہیں کہ اس (عذاب) کا کچھ حصہ تمہارے نزدیک ہی آپہنچا ہو جسے تم بہت جلد طلب کر رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آپہنچا ہو اس کا کچھ حصہ جو تم جلدی مانگ رہے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : کیا عجب ہے کہ جس (عذاب) کے جلد آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ بہت ممکن ہے کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو ہوسکتا ہے کہ قریب ہی آلگا کچھ حصہ اس ہولناک انجام و عذاب کا جس کے لئے تم لوگ جلدی مچاتے ہو اور جس کے تم مستحق ہو

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ جس (عذاب) کی تم جلدی مچا رہے ہو عجب نہیں کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پاس ہی آلگا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہوسکتا ہے جس چیز کی تم لوگ جلدی مچا رہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی کر رہے ہو۔ شاید اس میں سے کچھ تمہارے پاس نزدیک آپہنچا ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: "The chastisement whose hastening you have been asking for, maybe a part of it has drawn quite near to you."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :It is not unlikely that some part of that (punishment) which you are asking to come soon is already following you closely.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :It is not unlikely that some part of that (punishment) which you are asking to come soon is already following you closely.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: It may be that a part of that which ye would hasten on is close behind you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Perhaps it is close behind you - some of that for which you are impatient.

— Saheeh International

Say, "Perhaps some of the things which you wish to experience immediately are very close to you."

— Muhammad Sarwar

Say: Maybe there may have drawn near to you somewhat of that which you seek to hasten on.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: belike close behind you may be some of that which ye would hasten on.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "It may be that some of the events which ye wish to hasten on may be (close) in your pursuit!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–75

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 89 یہ شاہانہ کلام کا اندازہ ہے۔ قادر مطلق کے کلام میں جب " شاید " اور " کیا عجب " اور " کیا بعید ہے " جیسے الفاظ آتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بےنیازی کا اظہار ہوتا ہے، اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا ہوجانا گویا ایک ہی بات ہے۔ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور وہ نہ ہوسکے، اس لیے اس کا یہ فرمانا کہ " کیا عجب ایسا ہو " یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا اگر تم سیدھے نہ ہوئے، ایک معمولی تھا نہ دار بھی اگر بستی کے کسی شخص سے کہہ دے کہ تمہاری شامت پکار رہی ہے تو اسے رات کو نیند نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–73

آیات 73-71 ردف بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور ل کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں حتمی ہیں اس کے معنی ہیں ایک شے کے دوسری شے کے پچیھے لگ ہوئے ہونے کے۔ مکذبین کا مطالعہ عذاب اور اس کا علم … اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک عذاب دنیا سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً ظاہر ہوتا ہے دور سے عذاب آخرت سے اس انداز کا جواب ان کی قوموں نے ہمیشہ یہی دیا کہ ممی ھذا نوعد یہ عذاب کب آئے گاڈ یعنی اگر تم سچے ہو تو یا تو قیامت لائو جس کی روز دھمکی سنا رہے ہو، اگر قیامت نہیں تو وہ عذاب ہی لا کر دکھائو جو تمہاری تکذیب کی صورت میں تمہارے گمان کے مطابق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

72-1اس سے مراد جنگ بدر کا وہ عذاب ہے جو قتل اور اسیری کی شکل میں کافروں کو پہنچایا یا عذاب قبر ہے رَدِفَ ، قرب کے معنی میں ہے، جیسے سواری کی عقبی نشست پر بیٹھنے والے کو ردیف کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–72

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل عسی ان یکون ۔۔۔۔۔ تستعجلون (27: 72) ۔ اس طرح اللہ اور حضور اکرم ﷺ ان کے دل میں عذاب اور ہلاکت کے تصور سے خوف پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہارے اسی طرح قریب ہو اور تمہارے ساتھ لگا ہوا ہو جس طرح اونٹ پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھا ہوا دوسرا شخص اس کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ اور تمہیں اس کا شعور نہ ہو۔ اور اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے جلدی کر رہے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور اچانک تمہیں پکڑ لے گا۔ ردیف کی طرف سے اس طرح اچانک پکڑے جانے سے انسان کا پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہیں پکڑ لے۔ اس حال میں کہ تم مزاح کر رہے ہو۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی گھبراؤ نہیں، وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ وعدہ کا کچھ حصہ قریب ہی آلگا ہو (چنانچہ زیادہ دن نہ گزرے کہ " بدر " میں سزا کی ایک قسط پہنچ گئی) رہی قیامت کبریٰ ، سو اس کے بھی بعض آثار و علامات ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ” ”رَدِفَ“ کے معنی گھوڑے پر دوسری سواری کے طور پر سوار ہونے کے ہیں۔ اس طرح پچھلا سوار اپنے آگے والے کی پیٹھ کے ساتھ جڑ کر بیٹھنے کی وجہ سے ”ردیف“ کہلاتا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم جس عذاب کے بارے میں بےصبری سے بار بار پوچھ رہے ہو وہ اب تمہاری پیٹھ کے ساتھ آ لگا ہے ‘ بس اب تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ ان الفاظ میں غالباً غزوۂ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں مشرکین مکہ کو عذاب الٰہی کی پہلی قسط ملنے والی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 کافروں کا جلد عذاب لانے کا مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ فی الواقعہ یہ چاہتے تھے کہ ان پر عذاب نازل ہو۔ بلکہ اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے ان وعدوں کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ تو آپ انھیں کہہ دیجئے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایسے عذاب کا کچھ حصہ عنقریب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے۔ عذاب کے اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگ بدر سے ہی ہوگیا تھا۔ پھر آپ کی زندگی میں ہی اس کچھ حصے کی کئی اقساط سے ان کافروں کو سابتہ پیش آتا رہا۔ اور اس عذاب کا زیادہ حصہ بلکہ اصل عذاب تو انھیں آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ اس آیت میں عسی کا لفظ ان معنوں میں نہیں کہ شاید تم پر عذاب آجائے نہ آئے بلکہ یہ شاہانہ انداز کلام ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80۔ چناچہ قحط، قتل، ہزیمت وغیرہ کے تجربے تو اسی دنیا میں ہو کر رہے۔ (آیت) ” ردف لکم “۔ پر نحوی حیثیت سے خاصی بحث ہوئی ہے۔ عام استعمال زبان میں بلاصلہ لام کے ہے۔ ردفہ امرء اردفہ کما یقال تبعہ واتبعہ بعض اہل نحو نے کہا ہے لام اس وقت داخل کیا جاتا ہے جب اضافت کسی فعل کی جانب مقصود ہوتی ہے جیسے تعبرون ویرھبون میں للرء یا تعبرون ولربھم یرھبون (ابن جریر) اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے معنی میں زور پیدا ہوگیا ہے اور معنی ” قریب آلگا “ کے ہوگئے ہیں۔ ادخل اللام فی ذلک المعنی لان معناہ دنالھم “۔ ابن جریر نے یہ سب نقل کرکے ترجیح اسی آخری قول کو دی ہے۔ وھذا القول الثانی ھو اولھما عندی بالصواب (ابن جریر) سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون . آپ ( اس کے جواب میں) کہہ دیجئے کہ جس عذاب کے جلد پہنچنے کے تم خواستگار ہو رہے ہو تو ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے ہی آ لگا ہو۔ یعنی بلامہلت فوراً تم کو پہنچ جائے۔ اس عذاب سے مراد جنگ بدر کا عذاب ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ عَسٰی اور لَعَلَّ اور سَوْفَ بادشاہوں کے وعدہ آگین کلام میں درحقیقت قطعیت اور یقین ہی کا معنی رکھتا ہے۔ اپنے وقار کے اظہار کے لئے وہ شکیہ الفاظ کہتے ہیں ‘ ایسے الفاظ کہنے سے ان کا اشارہ اس طرف ہوتا ہے کہ ہمارا ایماء بھی صراحت کی طرح قطعی واجب العمل ہے۔ اللہ کے کلام میں بھی وعدہ و وعید کے موقع پر ان شکیہ الفاظ کا استعمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(72) آپ ان سے فرما دیجیے کہ عجب نہیں جس عذاب کے بارے میں تم جلدی مچا رہے ہو وہ تمہارے قریب ہی آگیا ہو۔ یعنی بدر کا دن۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ۔۔ : ”ردیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو سواری پر کسی شخص کے پیچھے بیٹھا ہو۔ یعنی جلدی نہ مچاؤ، جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، وہ ہر حال میں آکر رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب آپہنچا ہو۔ اس کچھ حصے کا آغاز تو جنگ بدر ہی سے ہوگیا تھا، پھر آپ ﷺ کی زندگی ہی میں اس کچھ حصے کی کئی قسطوں سے کفار کو سابقہ پیش آتا رہا، پھر قبر کا عذاب بھی قریب ہے اور قیامت بھی کچھ دور نہیں، فرمایا : (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ) [ النحل : 1 ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 72–73

قل عسی ان یکون ردف لکم تمہارے قریب آگیا ہے بعض الذی تستعجلون مراد عذاب ہے۔ عذاب قریب آگیا، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یہ ردفہ سے مشتق ہے جب وہ اس کی پیروی کرے اور اس کے پیچھے آئے۔ لام داخل ہوا ہے کیونکہ معنی ہے اقترب لھم و دنالکم یا یہ مصدر کے متعلق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے معکم تمہارے ساتھ۔ ابن شجرہ نے کہا : معنی ہے تبعکم اس سے ردف المرأۃ ہے عورت کا پٹھا کیونکہ یہ اس کا تابع ہوتا ہے۔ اس معنی میں ابو ذئویب کا قول ہے : عاد السواد بیاضاً فی مقارقہ لا مرحبا ببیاض الشیب اذ ردفا سیاہی اس کی مانگ میں سفیدی کی شکل میں لوٹ آئی بڑھاپے کی سفیدی کو کوئی خوش آمدید نہ ہو جب وہ اسے بعد میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] عَسٰٓى [ ہوسکتا ہے ] اَنْ يَّكُوْنَ [ کہ ہو ] رَدِفَ لَكُمْ [ تمہارے پیچھے ہی ] بَعْضُ الَّذِيْ [ اس کا بعض جس کی ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–72

منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–72

62:۔ یہ دوسرا شکوی ہے۔ مشرکین بطور استہزاء و تخفیف کہتے وہ عذاب کہاں ہے جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو ہم تمہیں نہیں مانتے صاف انکار کرتے ہیں پھر وہ عذاب کیوں نہیں آتا۔ قل عسی ان یکون الخ، یہ جواب شکوی ہے۔ فرمایا اتنی عجلت مت کرو، صبر کرو، جس عذاب سے تمہیں ڈرایا گیا ہے وہ قریب آپہنچا ہے۔ ردف لکم ای تبع والمراد بہ ھنا لحق و وصل وھو مما یتعدی بنفسہ وباللم کنصح (روح ج 20 ص 16) ۔ اور عذاب سے یوم بدر کا عذاب مراد ہے۔ (روح وغیرہ) ۔ عسی اور اسی طرح لعل اور سوف شاہوں کے کلام میں امید و شک کے لیے نہیں بلکہ حتمی وعد و وعید کے لیے ہوتے ہیں۔ ان عسی ولعل فی وعد الملوک ووعیدھم یدلان علی صدق الامر وانما یعنون بذلک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۝ 72 عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین في ذلك . فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، عَسى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ [ التحریم/ 5] ، وَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ [ البقرة/ 216] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَیَـقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْن۔ َ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنَ رَدِفَ لَـکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (النمل : 71، 72) (وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی، اگر آپ سچے ہیں۔ کہہ دیجیے، ممکن ہے کہ جس چیز کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو۔ ) یَـکُوْنَ اور رَدِفَدونوں فعل ہیں اور ان کا فاعل ” بعض “ ہے۔ تنازع فعلین کی وجہ سے ایک کا فاعل اسم ظاہر ہوگا اور دوسرے کا اسم ضمیر، جس کا مرجع وہ اسم ظاہر ہوگا۔ رَدِفَ بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور لام کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں ملتی ہیں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–75

فہم القرآن ربط کلام : منکرین آخرت کو ایک اور انداز میں جواب۔ مکہ کے مشرک اس حد تک ہدایت سے بےتوفیق ہوئے کہ ان میں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کسی مردہ کی بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بڑے غرور اور تمرد میں آکر کہتا ہے کہ اے محمد بتاؤ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ ہمارے سامنے دلیل دیتا ہے اور اپنی تخلیق بھول گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ پیدا کرنا جانتا ہے۔ “ (یٰس ٓ : 78۔ 79 کا) اس واضح حقیقت اور ٹھوس دلیل کے باوجود پھر بھی وہ لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہو تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 72: قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ (آپ کہہ دیں کہ جس عذاب کے جلد پہنچنے کے تم خواستگار ہو) ۔ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو) ۔ کفار نے عذاب موعود کو جلد طلب کیا تو انہیں یہ جواب دیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے ہو اور وہ بدر کے دن کا عذاب مراد ہے۔ یہاں لام تاکید کے لئے اسی طرح لائی گئی ہے جیسا کہ باء اس آیت میں تاکید کے لئے لائی گئی ہے۔ ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ۔ ] البقرہ۔ 195[ نمبر 2۔ فعل متعدی کے معنی کو متضمن ہے۔ جیسے کہتے ہیں دنالکم وازف لکم۔ پہلا فعل مجرد ہونے کے باوجود دوسرے متعلق فعل کے معنی کو متضمن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

72۔ قل عسی ان یکون ردف، ، وہ نزدیک اور قریب ترین ہے۔ لکم ، بعض نے اس کا معنی ، تبعکم، سے کیا ہے اور اس پر لام داخل کیا، جیسا کہ سورة اعراف کی ایت میں، لربھم یرھبون، میں لام داخل ہے فراء کا قول ہے کہ لام صلہ زائد ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، نقدت لہ، بعض الذی تستعجلون، عذاب سے جلدی کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے بدرکادن ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–73

70 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا اسی طرح تیرہ برس کے قریب تک مکہ میں قرآن شریف نازل ہوتا رہا اور طرح طرح کی نصیحت کی آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا مگر باوجو اس قدر مدت اور اس قدر فرمائش کے آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے وقت تک ان میں سے ایک سو کے اندر ہی اندر آدمی اسلام لائے باقی اہل مکہ آپ کو ایذار سانی پر ہر طرح سے آمادہ رہے اور ایذار سانی کی شکلیں نکالنے میں طرح طرح کے اور داؤں سوچتے اور نکالتے رہے موسم حج پر باہر کے لوگ جو کچھ آپ کی نصیحت دھیان سے سنتے تو ان کو بہ کا دیتے کبھی کہتے کہ جو ہم چاہیں تو اس طرح کا قرآن بناسکتے ہیں جب آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 70–72

(آیت 70 یعنی اے محمد ! ﷺ آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکرو فریب کا برا انجام آخر کار انہی کی طرف لوٹے گا۔ (ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر المکرین) (الانفال : 8103) ” وہ چال چلتے ہیں، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے، اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ “ آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوص ہوئے ہیں، عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (متیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 71–72

81 منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہوسکتا ہے کہ تمہارے اس عذاب کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو جس سے تم لوگ جلدی مچاتے ہو "۔ سو اس ارشاد میں منکرین کے مطالبہ عذاب کا جواب بھی ہے اور ان کو اس پر تنبیہ بھی ہے۔ جیسا کہ مختلف عذابوں کی شکل میں پہلے بھی ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہو رہا ہے۔ اور پھر ہر آدمی کی قیامت تو اس کی اپنی موت ہے۔ اور وہ پتہ نہیں کب آپکڑے۔ جیسا کہ مختلف حوادث وغیرہ کی شکل میں آئے دن یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس کے نمونے اور مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ سو تم پر اس عذاب کا کچھ حصہ کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–72

۔ یعنی قریب ہی پہنچ گیا ہو۔ اس ” کچھ عذاب “ سے مراد قبر کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے مشرکین مکہ بدر کے دن دوچار ہوئے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 72–73

(27:72) عسی۔ عنقریب ہے۔ ستاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ اس کے استعمال کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تفصیل کیلئے ملاحظہ وہ لغات القرآن حصہ چہارم از مولنا عبد ارزید نعمانی بدوۃ المصنفین دہلی۔ ردف۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ پیچھے لگا۔ وہ پیچھے ہوا۔ ردف مصدر باب سمع رادف پچھلا۔ کسی کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والا۔ اور ردف اپنے پیچھے کسی کو سواری پر بٹھانے والا۔ الترادف یکے بعد دیگرے آنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے۔ انی ممدکم بالف من المئکۃ مردفین (8:9) کہ ہم لگاتار آنیوالے ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کریں گے۔ لکم میں لام تاکید کے لئے ہے یا زائدہ ہے جیسا کہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ (2:195)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات :۔ عسیٰ ۔ یعنی یقینا قرآن میں حرف مقاربتہ کا استعمال ہمیشہ قطعیت کے معنوں میں ہوتا ہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(72) آپ کہہ دیجئے کہ جس عذاب کی تم جلدی کر رہے ہو کیا عجب ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو یعنی جس عذاب کو جلدی مانگ رہے ہو اس کا کچھ حصہ شاید تمہاری پیٹھ کے پیچھے آلگا ہو اور عنقریب پہنچ جائیگا آگے تاخیر کی وجہ بیا ن کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تقاضا نہ کرو شاید کہ وہ قریب ہی ہو جس کی تم کو طلب ہے : 72۔ ہر کام اپنے وقت پر ہوتا آیا ہے اور وقت پر ہی ہوگا لیکن جس طرح تم شور مچا رہے ہو ذرا غور تو کرو کہ تمہاری یہ چاہت کسی بھلائی اور خیر کے لئے ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کتنے بیوقوف اور بےعقل ہو تم کو عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہو اور پھر یہ بھی کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تم کو کیا معلوم کہ وہ تمہارا پیچھا ہی کر رہا ہے اور تمہاری بات وہ سن رہا ہو اور اس طرح تم کو اچانک وہ پکڑ لے کہ ابھی مذاق و استہزاء کو سن کر کس طرح برداشت کیا جا رہا ہے یہ حوصلہ ہے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا کہ فرمایا تو صرف یہ کہ لوگو ! تمہارا برا وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

89 This is a royal way of saying a thing. When words like "perhaps", "no wonder", etc. occur in the Divine discourse, they do not contain any sense of doubt, but express Allah's Independence and Self-Sufficiency. Allah's power is so great that His willing a thing and its happening is one and the same thing. It is inconceivable that He should will a thing and it should not happen. Therefore, when He says, "No wonder it may well be so", it means, "It will certainly be so if you do not mend your ways."

Read the full tafseer →