An-Naml 27:71

An-Naml · from ayah 71

27:71

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:71

وہ کہتے ہیں کہ "یہ دھمکی کب پُوری ہو گی اگر تم سچے ہو؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہے اگر سچے ہو تو بتلا دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ (تم سے) یوں کہتے ہیں کہ : یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ (عذابِ آخرت کا) وعدہ کب پورا ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہتے ہیں کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ، اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کافر یہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (عذاب) کب پورا ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ پوچھتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی اگر تم سچے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ پوچھتے ہیں کہ۔ یہ وعدہ (آخر) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر آپ سچے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They also say: "Tell us when this threat will come to pass, if you are truthful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :When shall this promise come to pass if you are true?

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :When shall this promise come to pass if you are true?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "When this promise, if you are truthful"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: When (will) this promise (be fulfilled), if ye are truthful?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

They ask, "When the Day of Judgment will come, if it is true at all?"

— Muhammad Sarwar

And they say: When will this threat come to pass, if you are truthful?

— Muhammad Habib Shakir

And they say: when will this Promise be fufilled if ye say sooth?

— Abdul Majid Daryabadi

They also say: "When will this promise (come to pass)? (Say) if ye are truthful."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–75

قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 88 اس سے مراد وہی دھمکی ہے جو اوپر کی آیت میں پوشیدہ ہے، ان کا مطلب یہ تھا کہ اس فقرے میں ہمارے خبر لینے جو درپردہ دھمکی دی جارہی ہے یہ آخر کب عمل میں لائی جائے گی ؟ ہم تو تمہاری بات رد بھی کرچکے ہیں اور تمہیں نیچا دکھانے کے لیے اپنی تدبیروں میں بھی ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے، اب کیوں ہماری خبر نہیں لی جاتی ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–73

آیات 73-71 ردف بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور ل کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں حتمی ہیں اس کے معنی ہیں ایک شے کے دوسری شے کے پچیھے لگ ہوئے ہونے کے۔ مکذبین کا مطالعہ عذاب اور اس کا علم … اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک عذاب دنیا سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً ظاہر ہوتا ہے دور سے عذاب آخرت سے اس انداز کا جواب ان کی قوموں نے ہمیشہ یہی دیا کہ ممی ھذا نوعد یہ عذاب کب آئے گاڈ یعنی اگر تم سچے ہو تو یا تو قیامت لائو جس کی روز دھمکی سنا رہے ہو، اگر قیامت نہیں تو وہ عذاب ہی لا کر دکھائو جو تمہاری تکذیب کی صورت میں تمہارے گمان کے مطابق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–71

1 یہ ان کافروں کے قول کا جواب ہے کہ پچھلی قوموں کو دیکھو کہ کیا ان پر اللہ کا عذاب نہیں آیا ؟ جو پیغمبروں کی صداقت کی دلیل ہے۔ اسی طرح قیامت اور اس زندگی کے بارے میں بھی ہمارے رسول جو کہتے ہیں، یقینا سچ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–72

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویقولون متی ۔۔۔۔۔ صدقین (27: 71) ۔ یہ وہ تب کہتے تھے جب کبھی ان کو امم سابقہ کی طرح کے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، جن کی بستیوں پر سے وہ رات دن گزرتے تھے مثلاً حضرت لوط کی قوم کی بستی سدوم ، اور حجر میں ثمود کے آثار اور احقاف کے علاقے میں قوم عاد کے آثار اور قوم سبا کے کھنڈرات جو سیل العرم کے بعد تباہ ہوئے۔ تو یہ لوگ کہتے تھے کہ جن باتوں سے ہمیں ڈراتے ہو ، متعین طور پر بتاؤ وہ عذاب کب آئے گا۔ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ کیسا عذاب ہوگا اور کب ہوگا۔ یہاں پھر اس کا جواب بھی ویسے ہی حقارت آمیز انداز میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ دے دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اور جس عذاب کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کب نازل ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ” یعنی آپ ہمیں مسلسل دھمکیاں دیے جا رہے ہیں کہ اگر ہم آپ کی اطاعت نہیں کریں گے تو ہم پر عذاب آجائے گا۔ چناچہ اگر آپ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–71

75 یعنی جو کافر آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ہیں اور اسلام کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے میں مصروف ہیں ان کی ایسی سرگرمیوں سے آپ پریشان اور غمزدہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چال کو کامیاب نہ ہونے دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین . اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم (اس بات میں کہ عذاب آئے گا) سچے ہو تو بتاؤ یہ (عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(71) اور یہ لوگ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ جس نزول عذاب کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں وہ وعدہ کب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : کافروں کا یہ کہنا اس لیے نہیں تھا کہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ قیامت اور اس میں ہونے والا عذاب کب واقع ہوگا، بلکہ وہ یہ بات قیامت کا مذاق اڑانے کے لیے کہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کریں گے، جب وہ ہمارے تقاضے کے مطابق واقع نہیں ہوگی تو ہمیں اس کا مذاق اڑانے کا اور اسے جھوٹ قرار دینے کا موقع مل جائے گا۔ لفظ ”الوعد“ کے ساتھ بھی وہ قیامت کا تمسخر اڑا رہے تھے، کیونکہ وعدہ اچھی چیز کا ہوتا ہے، بری چیز کی وعید ہوتی ہے۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے قیامت کو ”ھذا الوعد“ کہہ رہے ہیں، پھر ”اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ“ کہہ کر جلد از جلد عذاب لانے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–71

لقد وعدنا ھذا نحن و ابآئونا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین سورة مومنوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ انبیاء تحذیر میں مبالغہ کے لئے بعث کے معاملہ کو قریب کرتے پیش کر کے تھے ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [ کب ] هٰذَا الْوَعْدُ [ یہ وعدہ (پورا) ہوگا ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ہو ] نوٹ۔ 1: رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے ۔ ایک عذاب دنیا سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازما ظاہر ہوتا ہے ۔ دوسرے عذاب آخرت سے ۔ اس کا جواب ان کی قوموں نے ہمیشہ یہی دیا کہ یہ عذاب کب آئے گا ۔ اگر سچے ہو تو یا تو قیامت لائو، اگر قیامت نہیں تو وہ عذاب ہی لا کر دکھائو جو تمہاری تکذیب کی صورت میں ہم پر آنے والا ہے ۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ عجب نہیں کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچاتے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–72

منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–72

62:۔ یہ دوسرا شکوی ہے۔ مشرکین بطور استہزاء و تخفیف کہتے وہ عذاب کہاں ہے جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو ہم تمہیں نہیں مانتے صاف انکار کرتے ہیں پھر وہ عذاب کیوں نہیں آتا۔ قل عسی ان یکون الخ، یہ جواب شکوی ہے۔ فرمایا اتنی عجلت مت کرو، صبر کرو، جس عذاب سے تمہیں ڈرایا گیا ہے وہ قریب آپہنچا ہے۔ ردف لکم ای تبع والمراد بہ ھنا لحق و وصل وھو مما یتعدی بنفسہ وباللم کنصح (روح ج 20 ص 16) ۔ اور عذاب سے یوم بدر کا عذاب مراد ہے۔ (روح وغیرہ) ۔ عسی اور اسی طرح لعل اور سوف شاہوں کے کلام میں امید و شک کے لیے نہیں بلکہ حتمی وعد و وعید کے لیے ہوتے ہیں۔ ان عسی ولعل فی وعد الملوک ووعیدھم یدلان علی صدق الامر وانما یعنون بذلک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 71 متی مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ، ( م ت ی ) متی ۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا ) صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَیَـقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْن۔ َ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنَ رَدِفَ لَـکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (النمل : 71، 72) (وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی، اگر آپ سچے ہیں۔ کہہ دیجیے، ممکن ہے کہ جس چیز کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو۔ ) یَـکُوْنَ اور رَدِفَدونوں فعل ہیں اور ان کا فاعل ” بعض “ ہے۔ تنازع فعلین کی وجہ سے ایک کا فاعل اسم ظاہر ہوگا اور دوسرے کا اسم ضمیر، جس کا مرجع وہ اسم ظاہر ہوگا۔ رَدِفَ بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور لام کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں ملتی ہیں۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–71

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بےعلمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔ منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ “ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

71: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ (اور وہ یہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہوگا) ۔ الوعد سے وعدہ عذاب مراد ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ عذاب جھٹلانے والے کو پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 70–71

70۔ ولاتحزن علیھم، ان کی تکذیب اور ان کے اعراض پر آپ غم زدہ نہ ہوں۔ ولاتکن فی ضیق ممایمکرون، یہ آیت استہزاء کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی آپ کو مکمل کامیابی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–73

70 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا اسی طرح تیرہ برس کے قریب تک مکہ میں قرآن شریف نازل ہوتا رہا اور طرح طرح کی نصیحت کی آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا مگر باوجو اس قدر مدت اور اس قدر فرمائش کے آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے وقت تک ان میں سے ایک سو کے اندر ہی اندر آدمی اسلام لائے باقی اہل مکہ آپ کو ایذار سانی پر ہر طرح سے آمادہ رہے اور ایذار سانی کی شکلیں نکالنے میں طرح طرح کے اور داؤں سوچتے اور نکالتے رہے موسم حج پر باہر کے لوگ جو کچھ آپ کی نصیحت دھیان سے سنتے تو ان کو بہ کا دیتے کبھی کہتے کہ جو ہم چاہیں تو اس طرح کا قرآن بناسکتے ہیں جب آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 70–72

(آیت 70 یعنی اے محمد ! ﷺ آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکرو فریب کا برا انجام آخر کار انہی کی طرف لوٹے گا۔ (ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر المکرین) (الانفال : 8103) ” وہ چال چلتے ہیں، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے، اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ “ آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوص ہوئے ہیں، عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (متیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 71–72

81 منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہوسکتا ہے کہ تمہارے اس عذاب کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو جس سے تم لوگ جلدی مچاتے ہو "۔ سو اس ارشاد میں منکرین کے مطالبہ عذاب کا جواب بھی ہے اور ان کو اس پر تنبیہ بھی ہے۔ جیسا کہ مختلف عذابوں کی شکل میں پہلے بھی ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہو رہا ہے۔ اور پھر ہر آدمی کی قیامت تو اس کی اپنی موت ہے۔ اور وہ پتہ نہیں کب آپکڑے۔ جیسا کہ مختلف حوادث وغیرہ کی شکل میں آئے دن یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس کے نمونے اور مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ سو تم پر اس عذاب کا کچھ حصہ کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–72

۔ یعنی قریب ہی پہنچ گیا ہو۔ اس ” کچھ عذاب “ سے مراد قبر کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے مشرکین مکہ بدر کے دن دوچار ہوئے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 70–71

(27:70) لا تحزن۔ فعل نہیں واحد مذکر حاضر تو غم نہ کھا۔ حزن مصدر (باب سمع ونصر) باب سمع سے بمعنی غمگین ہونا اور باب نصر سے غمگین کرنا۔ لا تکن فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ ہو۔ ضیق۔ تنگ ہونا۔ ضاق یضیق (ضرب) کا مصدر ہے۔ ضیق سعۃ کی ضس ہے۔ ضیقۃ کا لفظ فقر۔ بخل۔ غم اور اس قسم کے دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ وضائق بہ صدرک (11:12) اور اس خیال سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے اور ویضیق صدری (26:13) اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور ولا تک فی ضیق مما یمکرون ۔ (16:127) اور یہ جو (بد اندیش) فریب کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہو۔ (یعنی غم نہ کھا) ۔ یہی جملہ یہاں استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–71

علم غیب کی تعریف 1: قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی علوم غیب سے آگاہ نہیں اسی نے کائنات کو پیدا کیا اور وہی کائنات کے اسرار سے آشنا ہے ۔ بہت کم لوگ غیب اصلیت سے واقف ہیں ۔ اکثر غیب کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے جاننے کو غیب کہتے ہیں ، جس کا پیشتر سے علم نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ ان معنوں کے ا اعتبار سے ہر شخص عالم الغیب ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے ۔ جس کا پیشتر سے اس کو علم نہیں ہوتا ۔ اور اس طرح اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہ ایجادات و اعتراضات کیا ہیں ۔ کیا یہ پیشتر سے انسانوں کو معلوم تھیں ؟ اور اگر معلوم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(71) اور یہ منکر مسلمانوں سے کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا یعنی وعدہ عذاب و قبر کب پورا ہوگا اور قیامت کا وقوع کب ہوگا اور جس عذاب موعود کی دھمکیاں دیتے ہو اس کا وقت متعین کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منکرین نے کہا تو یہی کہ جس چیز کا تم وعدہ دیتے رہے ہو وہ کب پورا ہوگا ؟ 71۔ ادھر یہ حالت ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا اور ادھر تقاضا ہو رہا ہے کہ اے رسول ! جس چیز کا تو ہم کو بار بار وعدہ دے رہا ہے اس کو تو لے کیوں نہیں آتا ؟ ہاں ! ہاں ! جلد لا اس کو اگر تو سچوں سے ہے ، ذرا غور کیجئے کہ جہالت کیا چیز ہے اور علم کا تقاضا کیا ہے ؟ اگر جہالت اپنے جہل سے باز نہیں آسکتی تو علم اپنے تقاضے سے کیسے رک سکتا ہے ۔ جاہل قوم سراسر اپنا نقصان کر رہی ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ ہیں کہ انکے نقصان پر ہلکان ہوتے جا رہے ہیں اور قوم اپنی جہالت کے باعث رسول اللہ ﷺ سے استہزاء اور مذاقا اس عذاب کا تقاضا کر رہی ہے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

88 The same threat which is implied in the preceding verse. What they meant was: "When will the scourge with which you threaten us overtake us? Why are we not being punished when we have not only rejected you but have also done whatever we could to frustrate your mission'?"

Read the full tafseer →