An-Naml 27:70

An-Naml · from ayah 70

27:70

وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ ۟وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُنۡ فِىۡ ضَيۡقٍ مِّمَّا يَمۡكُرُوۡنَ

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ اُن چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And grieve not over them or be in distress from what they conspire.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:70

اے نبیؐ، اِن کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اِن کی چالوں پر دل تنگ ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ اُن چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ ان کے بارے میں غم نہ کریں اور ان کے داؤں گھات سے تنگ دل نہ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم ان لوگوں پر غم نہ کرو، اور یہ جس مکاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے گھٹن محسوس نہ کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم ان پر غم نہ کھاؤ اور ان کے مکر سے دل تنگ نہ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ ان (کی باتوں) پر غم زدہ نہ ہوا کریں اور نہ اس مکر و فریب کے باعث جو وہ کر رہے ہیں تنگ دلی میں (مبتلاء) ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان پر غم نہ کر اور نہ اس سے کسی تنگی میں ہو جو وہ چال چلتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی !) آپ ان کے حال پر غمزدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی چالوں سے دل میں تنگی محسوس کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے حال پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں سے جو وہ چل رہے ہیں فکر مند ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ غم کھاؤ آپ ان لوگوں پر اور نہ کسی تنگی اور گھٹن میں پڑو ان کی ان چال بازیوں کی بناء پر جو یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ ان پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ چالیں چل رہے ہیں اس سے تنگ نہ ہوجئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ ان پر رنجیدہ نہ ہوں اور جو چالیں یہ چل رہے ہیں ان پر دل تنگ نہ کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کے حال پر غم نہ کرنا اور نہ ان کی چالوں سے تنگ دل ہونا جو یہ کر رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), do not grieve over them, nor be distressed at their designs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And do not grieve for them, nor should your heart be straitened because of what they plan.

— Muhammad Taqi Usmani

And do not grieve for them, nor should your heart be straitened because of what they plan.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And grieve you not over them, nor be straitened (in distress) because of what they plot.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And grieve thou not for them, nor be in distress because of what they plot (against thee).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And grieve not over them or be in distress from what they conspire.

— Saheeh International

(Muhammad), do not be grieved (about their disbelief) nor distressed about their evil plans against you.

— Muhammad Sarwar

And grieve not for them and be not distressed because of what they plan.

— Muhammad Habib Shakir

And grieve thou not over them nor be straitened because of that which they plot.

— Abdul Majid Daryabadi

But grieve not over them, nor distress thyself because of their plots.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–70

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 87 یعنی تم نے سمجھانے کا حق ادا کردیا۔ اب اگر یہ نہیں مانتے اور اپنی حماقت پر اصرار کر کے عذاب الہی کے مستحق بننا ہی چاہتے ہیں تو تم خواہ مخواہ ان کے حال پر کڑھ کڑھ کر اپنی جان کیوں ہلکان کرو۔ پھر یہ حقیقت و صداقت سے لڑنے اور تمہاری اصلاحی کوششوں کو نیچا دکھانے کے لیے جو گھٹیا درجے کی چالیں چل رہے ہیں ان پر کبیدہ خاطر ہونے کی تمہیں کیا ضرورت ہے۔ تمہاری پشت پر خدا کی طاقت ہے، یہ تمہاری بات نہ مانیں گے تو اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے، تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولاتحزن علیھم ولاتکن فی ضیق مما یمکرون (70) آنحضرت کو تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ تم ان کی اس روش پر غم نہ کرو تم ان کو روٹی دے رہے ہو اور یہ پتھر مانگتے ہیں تو یہ ان کی اپنی محرومی و بدبختی ہے۔ تم اپنا فرض انجام دے کر ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ ان پر کھڑنے اور ان کی ہٹ دھرمی پر غم کھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اسی طرح ان کی ان شرارتوں سے بھی ذرا دل تنگ اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو وہ تمہارے ساتھیوں اور تمہاری دعوت کے خلاف کر رہے ہیں۔ انکی ساری چالیں اور شرارتیں خدا کی مٹھی میں ہیں۔ وہ ان کی ہر چال بےکار کر دے گا اور تمہیں ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–71

1 یہ ان کافروں کے قول کا جواب ہے کہ پچھلی قوموں کو دیکھو کہ کیا ان پر اللہ کا عذاب نہیں آیا ؟ جو پیغمبروں کی صداقت کی دلیل ہے۔ اسی طرح قیامت اور اس زندگی کے بارے میں بھی ہمارے رسول جو کہتے ہیں، یقینا سچ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–72

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولا تحزن ۔۔۔۔۔۔ یمکرون (27: 70) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس قدر حساس تھے اور آپ کو اپنی قوم کے برے انجام کے بارے میں کس قدر فکر مندی تھی۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جن اقوام نے تکذیب کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، اس وقت ان لوگوں نے نبی ﷺ کے خلاف مکاری کے جال بن رکھے تھے۔ اور وہ مسلمانوں ، دعوت اسلامی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہتے تھے اور حضور ﷺ اس کے بارے میں بہت ہی فکر مند تھے۔ بعثت بعد الموت کے بارے میں ان کے جو خیالات تھے ان کے مزید نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں ان کو جس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، وہ اس کے ساتھ مزاح کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی ان کو سمجھا کر اور بدی کے انجام پر متنبہ کر کے الگ ہوجائیے اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو آپ بہت زیادہ غم و تاسف نہ کریں اور نہ ان کے مکرو فریب اور حق کے خلاف تدبیریں کرنے سے تنگدل اور خفا ہوں آپ اپنا فرض ادا کرچکے، اللہ تعالیٰ ایسے ضدی مجرموں سے خود نبٹ لے گا اور جس طرح پہلے مجرموں کو سزائیں دی گئی ہیں ان کو بھی دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ” مکہ کے ماحول میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت اور دباؤ کا سامنا تھا ‘ اس لیے مکی سورتوں میں یہ مضمون بار بار دہرایا گیا ہے۔ سورة النحل کی آیت 127 میں یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں آیا ہے ‘ جبکہ سورة الشعراء میں اس حوالے سے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے“۔ بہر حال مشرکین مکہ کے مخالفانہ رویے ّ کے باعث حضور ﷺ کو بار بار تسلی دی جاتی تھی کہ آپ ﷺ نے ان تک ہمارا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–71

75 یعنی جو کافر آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ہیں اور اسلام کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے میں مصروف ہیں ان کی ایسی سرگرمیوں سے آپ پریشان اور غمزدہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چال کو کامیاب نہ ہونے دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

78۔ (بلکہ اسے مستحضر رکھئے کہ دوسرے انبیاء کے ساتھ بھی برابر یہی معاملہ ہوتا رہا ہے) مشرکین معاندین کی مسلسل وشدید مخالفتوں کی دو ہی اثرات رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر پڑسکتے ہیں۔ ایک آپ کا فرط شفقت سے ان کے حق میں غم کھانا اس کی تردید (آیت) ” ولا تحزن علیھم “ میں آگئی۔ دوسرے آپ کے دل کا اس خیال سے کڑھنا کہ کہیں ترقی اسلام کی رفتار میں اس سے رکاوٹ نہ پیدا ہوجائے سو اس کی پوری تردید (آیت) ’ ’ لا تکن فی ضیق مما یمکرون “۔ سے کردی گئی۔ اکبر الہ آبادی (اللہ ان کی تربت کو ٹھنڈا رکھے) نے اپنے ایک شعر میں آیۂ کریمہ کے اس ٹکڑے کی خوب تضمین کی ہے ، ع : آگ ان کی خود ہی دے گی ان کو بھون : لاتکن فی ضیق مما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تحزن علیھم . اور آپ ان کی طرف سے تکذیب و انکار پر کوئی رنج نہ کریں (غمگین نہ ہوں) ۔ ولا تکن فی ضیق مما یمکرون . اور جو سازشیں یہ کر رہے ہیں ان سے تنگدل نہ ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے : مکہ میں جو لوگ رسول اللہ کا مذاق اڑاے تھے ان کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا یعنی آپ کو مکمل کامیابی ہوگی (ان کی خفیہ سازشوں کی آپ فکر نہ کریں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 69–70

(69۔ 70) اے محمد ﷺ آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا اور اگر یہ ایمان نہیں لاتے یا یہ کہ یہ لوگ ہلاک ہوجائیں تو ان پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ شرارتیں اور بکواس کر رہے ہیں آپ اس سے تنگ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ : اس میں آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے، تو آپ ان پر غمگین نہ ہوں۔ آپ کا کام سمجھانا اور بدی کے انجام سے آگاہ کرنا ہے، کسی کو مومن بنادینا نہ آپ کا کام ہے، نہ آپ کی ذمہ داری۔ وَلَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ : یعنی یہ لوگ آپ کے خلاف جو سازشیں کرتے اور چالیں چلتے ہیں، ان سے آپ تنگ دل نہ ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان ہے : (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) [ المائدۃ : 67 ] وہی آپ کو ان لوگوں سے بچائے گا اور وہ اپنے مکر و فریب میں خود ہی گرفتار ہوں گے، آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–71

لقد وعدنا ھذا نحن و ابآئونا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین سورة مومنوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ انبیاء تحذیر میں مبالغہ کے لئے بعث کے معاملہ کو قریب کرتے پیش کر کے تھے ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا تَحْزَنْ [ اور آپ ﷺ افسوس مت کریں ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں پر ] وَلَا تَكُنْ [ اور آپ مت ہوں ] فِيْ ضَيْقٍ [ کسی گھٹن میں ] مِّمَّا [ اس سے جو ] يَمْكُرُوْنَ [ یہ لوگ مکر کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–72

منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

61:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے دوسری بار تسلی کا ذکر ہے۔ یعنی آپ پر ہم نے عظیم الشان قرآن نازل کیا ہے آپ اس کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق مسئلہ توحید کی تبلیغ کریں۔ اگر مشرکین نہ مانیں اور کفر و انکار پر اصرار کریں تو آپ اس سے غمگیں نہ ہوں اور نہ دشمنوں کی سازشوں سے آزردہ خاطر ہوں آپ حق پر ہیں اس لیے اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْہِمْ وَلَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۝ 70 حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلاَ تَـکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ۔ (النمل : 70) (اور اے پیغمبر ! ان کے حال پر غم نہ کیجیے، اور نہ تنگی میں پڑیئے ان کی چالوں سے جو وہ چل رہے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کو دو حوالوں سے تسلی دی جارہی ہے۔ پہلا حوالہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کافر اور مشرک لوگ آپ ﷺ کی دعوت کے انکار بلکہ عناد میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ آپ ﷺ کی شب و روز کی کوششوں سے بجائے اس کے کہ ان میں کوئی صالح تبدیلی آتی، ان کی ضد اور مخالفت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ آپ ﷺ کی تمام تر ہمدردیاں اور غمگساریاں ان سنگدلوں میں نرمی کا باعث ثابت نہیں ہو رہیں۔ یہ صورتحال آپ ﷺ کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–71

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بےعلمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔ منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ “ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ (آپ ان پر غم مت کریں) ۔ اس بناء پر کہ وہ آپ کی اتباع نہیں کر رہے اور نہ ہی بچنے اور سلامت رہنے کے لئے مسلمان ہو رہے ہیں۔ وَلَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ (اور نہ تنگدل ہوں) ۔ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ (ان کے مکر اور اپنے خلاف سازشوں سے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ عرب کہتے ہیں۔ ضَاق الشی ضیقا۔ یہ دیگر قراء کی قراءت ہے جبکہ ابن کثیر کی قراءت کسرہ کے ساتھ ہے (ضِیْقٍ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 70–71

70۔ ولاتحزن علیھم، ان کی تکذیب اور ان کے اعراض پر آپ غم زدہ نہ ہوں۔ ولاتکن فی ضیق ممایمکرون، یہ آیت استہزاء کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی آپ کو مکمل کامیابی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–73

70 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا اسی طرح تیرہ برس کے قریب تک مکہ میں قرآن شریف نازل ہوتا رہا اور طرح طرح کی نصیحت کی آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا مگر باوجو اس قدر مدت اور اس قدر فرمائش کے آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے وقت تک ان میں سے ایک سو کے اندر ہی اندر آدمی اسلام لائے باقی اہل مکہ آپ کو ایذار سانی پر ہر طرح سے آمادہ رہے اور ایذار سانی کی شکلیں نکالنے میں طرح طرح کے اور داؤں سوچتے اور نکالتے رہے موسم حج پر باہر کے لوگ جو کچھ آپ کی نصیحت دھیان سے سنتے تو ان کو بہ کا دیتے کبھی کہتے کہ جو ہم چاہیں تو اس طرح کا قرآن بناسکتے ہیں جب آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 70–72

(آیت 70 یعنی اے محمد ! ﷺ آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکرو فریب کا برا انجام آخر کار انہی کی طرف لوٹے گا۔ (ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر المکرین) (الانفال : 8103) ” وہ چال چلتے ہیں، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے، اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ “ آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوص ہوئے ہیں، عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (متیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80 پیغمبر کو تسلیہ و تسکین کی تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " نہ ان پر غم کھاؤ اور نہ ان کی چالبازیوں سے تنگی میں پڑو "۔ یعنی نہ تو آپ فرط شفقت کی وجہ سے ان کے بارے میں غم میں پڑیں کہ آپ نے نصیحت و خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کی وجہ سے آپ دل تنگ ہوں کہ یہ لوگ اپنے کئے کرائے کے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ بہرکیف اس میں حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ آپ ﷺ ان کیلئے بھلا کر رہے ہیں اور یہ برا مانگ رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کیلئے خیر چاہتے ہیں اور یہ شر مانگتے ہیں۔ آپ ﷺ ان کو روٹی دے رہے ہیں اور یہ پتھر مانگتے ہیں۔ سو یہ ان کی اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ ( علیہ السلام) کا محافظ اور نگہبان ہے۔ یہ لوگ اپنے مکر و فریب میں خود گرفتار ہونگے اور آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے : چاہ کن را چاہ درپیش۔ (وحیدی) اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے۔ (کبیر) 5

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 70–71

(27:70) لا تحزن۔ فعل نہیں واحد مذکر حاضر تو غم نہ کھا۔ حزن مصدر (باب سمع ونصر) باب سمع سے بمعنی غمگین ہونا اور باب نصر سے غمگین کرنا۔ لا تکن فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ ہو۔ ضیق۔ تنگ ہونا۔ ضاق یضیق (ضرب) کا مصدر ہے۔ ضیق سعۃ کی ضس ہے۔ ضیقۃ کا لفظ فقر۔ بخل۔ غم اور اس قسم کے دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ وضائق بہ صدرک (11:12) اور اس خیال سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے اور ویضیق صدری (26:13) اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور ولا تک فی ضیق مما یمکرون ۔ (16:127) اور یہ جو (بد اندیش) فریب کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہو۔ (یعنی غم نہ کھا) ۔ یہی جملہ یہاں استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–71

علم غیب کی تعریف 1: قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی علوم غیب سے آگاہ نہیں اسی نے کائنات کو پیدا کیا اور وہی کائنات کے اسرار سے آشنا ہے ۔ بہت کم لوگ غیب اصلیت سے واقف ہیں ۔ اکثر غیب کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے جاننے کو غیب کہتے ہیں ، جس کا پیشتر سے علم نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ ان معنوں کے ا اعتبار سے ہر شخص عالم الغیب ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے ۔ جس کا پیشتر سے اس کو علم نہیں ہوتا ۔ اور اس طرح اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہ ایجادات و اعتراضات کیا ہیں ۔ کیا یہ پیشتر سے انسانوں کو معلوم تھیں ؟ اور اگر معلوم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(70) اور آپ ان کافروں پر غم نہ کھائیں اور جو خفیہ سازشیں یہ کرتے رہتے ہیں اور جو شرارتیں یہ کیا کرتے ہیں آپ ان سے تنگ دل نہ ہوا کریں یعنی غم کھانے اور تنگ ہونے کی بات نہیں کیونکہ انبیائے سابقین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ ان لوگوں کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اتنے دل تنگ ہو : 70۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کے ذمہ کیا تھا ؟ صرف پیغام پہنچانا وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اور ان کو سمجھانے کا حق ادا کردیا ۔ آپ ﷺ ان پر زیادہ غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں اس سے تنگ نہ ہوں بلکہ اس بات کا خیال رکھیں کہ دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی برابر یہی معاملہ ہوتا رہا ہے ، مشرکین ومعاندین کی مسلسل وشدید مخالفتوں کے باعث دو ہی اثرات رسول اللہ ﷺ کے دل پر پڑ سکتے تھے ایک آپ ﷺ کا فرط شفقت سے ان کے حق میں غم کھانا تو اس پر آپ ﷺ کو (لا تحزن علیھم) کہہ کر روک دیا گیا دوسرا آپ ﷺ کے دل کا اس خیال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

87 That is, "You have done full justice to your mission of preaching. Now if they do not listen to you, and wish to persist in their folly and deserve the Divine torment, you should not consume yourself by being distressed and grieved at their condition. Then, why should you feel vexed at their mean machinations that they are devising in order to fight the truth and to frustrate your movement of return `? You have Allah's power at your back. If they do not listed to you, they will only be harming themselves, not you."

Read the full tafseer →