An-Naml 27:69

An-Naml · from ayah 69

27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ ۟قُلۡ سِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how was the end of the criminals."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:69

کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر ذرا دیکھو تو سہی کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہو کہ : ذرا زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو، کیسا ہوا نجام مجرموں کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: تم زمین میں سیر و سیاحت کرو پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے کہو کہ تم لوگ چلو پھرو اللہ کی عبرتوں بھری اس زمین میں پھر دیکھو کہ کیسا ہوا انجام مجرموں کا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہے کہ تم زمین پر چلو (پھرو) پھر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا ہے !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے کہ ذرا گھومو پھرو زمین میں اور دیکھ لو کہ کیسا انجام ہوا مجرم قوموں کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: "Go about through the earth and see what has been the end of the evil-doers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Travel in the land and see how was the fate of the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Travel in the land and see how was the fate of the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say to them: "Travel in the land and see how has been the end of the criminals."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): Travel in the land and see the nature of the sequel for the guilty!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how was the end of the criminals."

— Saheeh International

Say, "Travel through the land and see how terrible was the end of the criminal ones".

— Muhammad Sarwar

Say: Travel in the earth, then see how was the end of the guilty.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: travel in the land and behold what like hath been the end of the culprits.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Go ye through the earth and see what has been the end of those guilty (of sin)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–70

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 86 اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبردست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں، وہ غیر ذمہ دار بن کر رہیں، انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے، وہ فسق و فجور میں غرق ہوگئیں، اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کرکے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے، اس کو مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے، نہ مانا جائے تو رویہ غلط ہوجاتا ہے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل سیزوا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین (69) آنکھوں کے لئے سرمہ بصیرت یہ ان کے اس اندھے پن کا علاج بتایا ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں آیا ہے۔ مطلب یہ کہ آنکھیں کھولنے سے کھلتی ہیں اس لئے اپنے ملک میں آنکھیں کھول کر چلو پھر و اور پچھلی قوموں کے آثار پر عبرت کی نگاہ ڈالو تو تمہیں نظر آئے کہ اللہ کے رسولوں نے ان کو جس عذاب سے ڈرایا وہ کس طرح ان کے سامنے آیا۔ یہ آثار اللہ نے اس زمین میں اسی لئے محفوظ رکھے ہیں کہ یہ تمہارے لئے نشان عبرت اور سرمہ بصیرت کا کام دیں۔ اس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ محض اگلوں کا فسانہ نہیں بلکہ یکسر حقیقت ہے اور اسی سے تم پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–71

1 یہ ان کافروں کے قول کا جواب ہے کہ پچھلی قوموں کو دیکھو کہ کیا ان پر اللہ کا عذاب نہیں آیا ؟ جو پیغمبروں کی صداقت کی دلیل ہے۔ اسی طرح قیامت اور اس زندگی کے بارے میں بھی ہمارے رسول جو کہتے ہیں، یقینا سچ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–72

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ المجرمین (27: 69) ” “۔ یہاں ، اس ہدایت ، سیر فی الارض کے ذریعہ ان کی سوچ کے حدود کو وسیع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ انسانیت کی کوئی سوسائٹی بھی سجرہ انسانیت سے مقطوع نہیں ہوتی۔ انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو سنن رکھے ہیں وہ سب کے لیے اٹل ہیں۔ اس سے قبل انسانی سوسائٹیوں کے مجرمین کو جو حالات درپیش ہوئے ، بعد میں انے والے بھی لازما ان جیسے حالات ہی سے دوچار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ کے سنن اٹل ہوتے ہیں ، وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتے۔ اور زمین میں چلنے پھرنے سے نفس انسانی کی اطلاعات کا دائرہ بہت ہی وسیع ہوجاتا ہے۔ انسان کا دماغ روشن ہوجاتا ہے اور سیرفی الارض کے دوران انسان پر ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کتنے مجرموں کو دنیا ہی میں عبرتناک سزائیں مل چکی ہیں اور پیغمبروں کا فرمانا پورا ہو کر رہا۔ اسی پر قیاس کرلو کہ بعث بعد الموت اور عذاب اخروی کی جو خبر انبیاء دیتے چلے آئے ہیں یقینا پوری ہو کر رہے گی یہ کارخانہ یوں ہی بےسرا نہیں کہ اس پر کوئی حاکم نہ ہو، وہ اپنی رعایا کو یوں ہی مہمل نہ چھوڑے گا جب سب مجرموں کو یہاں پوری سزا نہیں ملتی تو یقینا کوئی دوسری زندگی ہوگی جہاں ہر ایک اپنی کیف کردار کو پہنچے اگر تمہاری یہ ہی تکذیب رہی تو مکذبین کا جو انجام دنیا میں ہوا تمہارا بھی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 66–69

آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ” یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ” اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 ان دو آیات میں کافروں کا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ تو ہمارے آباء و اجداد کو بھی دیا گیا تھا پہلے لوگ بھی ایسی باتیں کرتے رہے اور آج بھی ایسی ہی باتیں ہو رہی ہیں حالانکہ جو مرگیا ان میں کوئی شخص بھی آج تک زندہ ہو کر نہیں آیا۔ یہ تو بس ایک افسانوی سی بات ہے جس میں حیقیقت کچھ نہیں۔ اور کافروں کے اس قول کا جواب یہ دیا جارہا ہے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے اس قول اور اس کے جواب میں کوئی ربط نہیں۔ حالانکہ اس قول اور اس کے جواب میں گہرا ربط ہے اور ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77۔ (اسی دنیا میں) مطلب یہ کہ جو قومیں خدا کی باغی یعنی توحید وآخرت کی منکر ہوئی ہیں۔ وہ باوجود اپنی ساری ظاہری شوکت و عظمت کے بالآخر اسی دنیا میں کیسی تباہ وبرباد ہو کر وہی ہیں۔ ان کے قلعوں، انکی عمارتوں، ان کے محلوں کے گرے پڑے، ٹوٹے پھوٹے کھنڈر، ان کے آثار قدیمہ عبرت کے لیے کافی ہیں۔ (آیت) ’ سیروا فی الارض “۔ سیر فی الارض اگر تذکرہ و عبرت پذیری کی راہ سے یا اور کسی دینی غرض سے ہو تو خود ایک عبادت بن جاتی ہے۔ لیکن بغیر اس قسم کی کسی غرض ومقصود کے اگر محض تفریح اور تماشہ کے مد میں یا جغرافی معلومات کی فراہمی کے لیے ہے تو عبادت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبہ المجرمین . (اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا (برا) ہوا۔ یہ دھمکی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ کے کافرو کو دیکھو کہ تکذیب انبیاء کا نتیجہ کتنا برا نکلا ‘ اس سے تم کو بھی ڈرنا چاہئے کہ تکذیب کا جو خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا تم کو بھی تکذیب رسول کی ویسی ہی سزا ملے گی۔ کافروں کو مجرمین کہنے سے مؤمنوں کے غیر مجرم ہونے کی طرف لطیف ایماء ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 69–70

(69۔ 70) اے محمد ﷺ آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا اور اگر یہ ایمان نہیں لاتے یا یہ کہ یہ لوگ ہلاک ہوجائیں تو ان پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ شرارتیں اور بکواس کر رہے ہیں آپ اس سے تنگ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یہ کفار کے اعتراض کا جواب ہے کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو مجرموں کا انجام کیا ہوا، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبروں نے ان نافرمانوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو کر رہا اور پیغمبروں کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہوئی۔ اب جو ان پیغمبروں نے کہا ہے کہ ایک دن قیامت ضرور آئے گی اور اس میں لوگوں کو ان کے نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی تو ان کی یہ بات بھی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ : قیامت کے منکروں کو مجرم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو جرم اور ظلم و زیادتی سے روکنے والی چیز صرف اور صرف آخرت کا یقین ہے۔ یہ نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–71

لقد وعدنا ھذا نحن و ابآئونا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین سورة مومنوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ انبیاء تحذیر میں مبالغہ کے لئے بعث کے معاملہ کو قریب کرتے پیش کر کے تھے ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] سِيْرُوْا [ تم لوگ گھومو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَانْظُرُوْا [ پھر دیکھو ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کا انجام

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–72

منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی تم زمین میں چلو پھرو اور ان مجرمین کا انجام دیکھو جو شرک کرتے اور حشر و نشر کا انکار کرتے تھے انہی جرموں کی پاداش میں ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کردیا۔ ان کے آثار باقیہ کو دیکھ کر عبرت پکڑو اور شرک اور انکار بعث سے باز آجاؤ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِيْنَ۝ 69 سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عرب کے منکرین قیامت بھی اسے ڈراوے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ پروردگار نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْاکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (النمل : 69) (اے پیغمبر ! ان سے کہئے، ذرا زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ ) عذاب کا ثبوت تاریخ کی روشنی میں قریش نے وقوع قیامت کو بعیدازعقل قرار دیا اور قیامت کی خبر کو ڈراوا ٹھہرایا۔ چناچہ ان کی دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس کے بعیدازعقل ہونے کا تعلق ہے اس کا جواب تو تمہاری نظروں اور عقلوں کے سامنے ہے۔ تم عادوثمود اور قوم لوط کی بستیوں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–71

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بےعلمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔ منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ “ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

69: قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (آپ کہہ دیں کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا ؟ ) عاقبۃ آخری معاملہ۔ لطیف نکتہ : اس آیت میں مجرمین کا لفظ لا کر جرم کو ذکر کر کے مسلمانوں کو لطیف اشارہ کردیا کہ جرائم کو چھوڑ دو ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : فدمدم علیہم ربہم بذنبہم فسوّہا۔ ] الشمس۔ 14[۔ ممّا خطیئَاتہم اغرقوا وادخلوا نارا ] نوح۔ 25[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 68–69

68۔ لقد وعدنا ھذا، ، دوبارہ جی اٹھنے پر، نحن واباء نا، من قبل، حضرت محمد سے پہلے وہ کوئی چیز نہیں، ان ھذا نہیں، ہے یہ الااساطیر ا الاولین، پچھلوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–69

60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت 69 اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء ومرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (قل سیروا فی الرض فانظرو کیف کان عاقبۃ المجرمین) ” کہہ دیجئے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیا ہوا ؟ “ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

79 مجرموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ چل پھر کر دیکھو کہ کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔ سو جس طرح ان کے انجام کے بارے میں انبیائے کرام کی خبریں سچی ثابت ہوئیں اسی طرح قیامت کے بارے میں بھی یقیناً سچ ثابت ہوں گی۔ سو یہ ان لوگوں کے اندھے پن کا علاج بیان فرمایا گیا ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یعنی تم لوگ عبرتوں بھری اس زمین میں چل پھر کر دیکھو اور پچھلی قوموں کے آثار و انجام پر نگاہ عبرت ڈالو کہ اللہ کے رسولوں نے ان کو جس عذاب سے ڈرایا تھا وہ کس طرح ان پر آکر رہا۔ سو اس سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس عذاب سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے وہ اگلوں کے افسانے نہیں بلکہ قطعی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ یعنی یہ دیکھو کہ جس عذاب کا پیغمبروں ( علیہ السلام) نے ان نافرمانوں سے وعدہ کیا تھا وہ نازل ہو کر رہا اور پیغمبروں ( علیہ السلام) کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہوئی۔ اب جو ان پیغمبروں ( علیہ السلام) نے کہا ہے کہ ایک دن قیامت ضرور آئے گی اور اس میں لوگوں کو اپنے نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی تو ان کی یہ بات بھی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:69) سیروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم سیر کرو۔ تم چلو۔ تم پھرو۔ سیر مصدر (باب ضرب) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–71

علم غیب کی تعریف 1: قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی علوم غیب سے آگاہ نہیں اسی نے کائنات کو پیدا کیا اور وہی کائنات کے اسرار سے آشنا ہے ۔ بہت کم لوگ غیب اصلیت سے واقف ہیں ۔ اکثر غیب کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے جاننے کو غیب کہتے ہیں ، جس کا پیشتر سے علم نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ ان معنوں کے ا اعتبار سے ہر شخص عالم الغیب ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے ۔ جس کا پیشتر سے اس کو علم نہیں ہوتا ۔ اور اس طرح اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہ ایجادات و اعتراضات کیا ہیں ۔ کیا یہ پیشتر سے انسانوں کو معلوم تھیں ؟ اور اگر معلوم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(69) چونکہ جس طرح یہ منکر وقوع قیامت کی ہر معقول دلیل کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے بھی پیغمبروں کی تکذیب کرتے رہے پھر جو انجام ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہونے والا ہے اس لئے ان سے کہہ دیجئے کہ تم ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ گناہ گاروں کا انجام کیا ہوا اور کیسا ہوا یعنی جو ان مجرموں کے ساتھ سلوک ہوا وہی تمہارے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–69

ف 1۔ یعنی جیسے اندھے کو طریق نظر نہیں آتا، اس لئے مقصود تک پہنچنا مستبعد ہے، اسی طرح تصدیق بالآخرت کا جو طریق ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ غایت عناد سے اس میں تدبر و تامل نہیں کرتے، اس لئے وہ دلائل ان کو نظر نہیں آتے، جس سے مطلوب تک پہنچ جانے کی امید ہوتی، پس یہ شک سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کر کے رفع شک کرلیتا ہے اور یہ نظر بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اٹھو زمین میں چلو پھرو اور مجرموں کے انجام کی تصویر اپنی آنکھوں سے ذرا دیکھ لو : 69۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا اور تم نے کبھی غور وخوض کرکے ان دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں کئے گئے بلکہ ان کی طرف سے اندھے بن کر ہی رہنے کو تم نے ترجیح دی فرمایا ذرا اٹھو اور اللہ کی زمین میں چلو پھرو اور اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ جن لوگوں نے آخرت کا انکار کیا تھا ان کا کیا بنا قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم مدین ‘ قوم لوط سب کے آثار آج تک موجود ہیں ان کے تذکار تم نے قرآن کریم میں پڑھے ہیں ان کا انجام ذرا اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ وہ اس طرح کے فسق وفجور کی پاداش میں کس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

86 This brief sentence contains two strong arguments for the Hereafter as well as admonition: Firstly, those communities who rejected the Hereafter could not help becoming criminals: they lived irresponsibly; they committed cruelties and all kinds of sin; and ultimately their moral depravity led them to utter ruin. This continuous experience of human history which is testified by the doomed communities all over the world, clearly shows that belief and unbelief in the Hereafter has a deep relationship with the soundness or the unsoundness of human behaviour. Belief in it generates sound…

Read the full tafseer →