An-Naml 27:68

An-Naml · from ayah 68

27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ ۙ— اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۟لَـقَدۡ وُعِدۡنَا هٰذَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اُٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have been promised this, we and our forefathers, before. This is not but legends of the former peoples."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:68

یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اُٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم اور ہمارے باپ دادوں کو بہت پہلے سے یہ وعدے دیے جاتے رہے۔ کچھ نہیں یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے اس قسم کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے، (لیکن) ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ قصہ کہانیاں ہیں جو پرانے زمانے کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس کا وعدہ دیا گیا ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

درحقیقت اس کا وعدہ ہم سے (بھی) کیا گیا اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے (بھی)، یہ اگلے لوگوں کے من گھڑت افسانوں کے سوا کچھ نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلا شبہ یقینا اس سے پہلے ہم سے یہ وعدہ کیا گیا اور ہمارے باپ داد اسے بھی، یہ نہیں ہیں مگر پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ بات تو ہمیں اور اس سے پیشتر ہمارے آباء و اجداد کو بھی کہی جاتی رہی ہے۔ یہ تو بس پہلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کی دھمکی ہمیں بھی دی گئی اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی یہ محض اگلوں کے فسانے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کا وعدہ تو ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی ہوتا چلا آیا ہے یہ تو محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی

— مولانا اسحاق مدنی

اس کا تو وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ داداؤں سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے یہ تو بس اگلوں کی بےسند باتیں ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی وعدہ ہم سے بھی کیا گیا ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اَجداد سے بھی کیا گیا تھا یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے باپ دادا سے ہوتا چلا آیا ہے۔ (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We were told about this and so were our forefathers before us. But these are no more than fairy tales that have been recounted from ancient times."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, it was promised to us and to our fathers even before this. This is nothing but the tales of the ancients.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, it was promised to us and to our fathers even before this. This is nothing but the tales of the ancients.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Indeed we were promised this -- we and our forefathers before, verily, these are nothing but tales of ancients."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We were promised this, forsooth, we and our fathers. (All) this is naught but fables of the men of old.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have been promised this, we and our forefathers, before. This is not but legends of the former peoples."

— Saheeh International

It was promised to us and to our fathers before us. It is only ancient legends."

— Muhammad Sarwar

We have certainly been promised this, we and our fathers before; these are naught but stories of the ancients

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly we have been promised this aforetime, we and our fathers. Naught is this but fables of the ancients.

— Abdul Majid Daryabadi

"It is true we were promised this,- we and our fathers before (us): these are nothing but tales of the ancients."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–70

حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–68

سورة النمل 85 الوہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور وفکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبرہان سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں، بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں، یا اس کی طرف سے شک میں ہیں، یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکر عقبی سے بےنیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پیدا کردیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–68

68-67 دوسری یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ قیامت کی آمد آمد کا چرچا تو ہم بہت دنوں سے سن رہے ہیں۔ آج ہم کو اس سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ہمارے اگلوں کو بھی ڈرایا گیا لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آئی۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ سب اگلوں کے فسانے ہیں جو ہر زمانے میں دہرائے گئے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–72

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لقد وعدنا ۔۔۔۔۔۔ اساطیر الاولین (27: 67) یہ لوگ جانتے تھے کہ ان سے پہلے بھی ، رسولوں نے ان کے آبا کو اسی طرح قیامت سے ڈرایا ہے اور حساب و کتاب اور حشر و نشر کی بات کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لیے عقیدہ آخرت بالکل ایک نیا عقیدہ نہ تھا۔ یہ نہ تھا کہ وہ بعث بعد الموت کے معنی ہی نہ سمجھتے ہوں بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صدیوں سے یہ وعدے کیے جا رہے ہیں ان کا تحقق نہیں ہوا۔ چناچہ اس بنا پر وہ اس عقیدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور حضرت محمد ﷺ ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ قیام قیامت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ وہ نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 67–68

4 یعنی پہلے ہمارے بڑوں سے یہ ہی وعدے کیے گئے تھے۔ جو پہلے کہہ گئے ان ہی کی نقل آج یہ پیغمبر بھی اتار رہے ہیں۔ لیکن کتنے قرن گزر چکے ہم نے تو آج تک نہ دیکھا نہ سنا کہ کوئی مردہ مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہو اور اس کو سزا ملی ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 66–69

آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ” یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ” اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–68

73 یعنی کوئی انسان خواہ کتنے ہی عقل کے گھوڑے دوڑائے یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ نہ ہی روز آخرت کی حقیقت معلوم کرسکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی الٰہی پر ایمان لے آئے۔ اس صورت میں اسے آخرت اور اس کے احوال کے متعلق تو یقین حاصل ہوجاتا ہے۔ مگر قیامت کے وقت کا علم پھر بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر کی دعوت نے انھیں اس شک میں مبتلا ضرور کردیا ہے اور وہ روز آخرت سے انکار کے باوجود یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ممکن ہے کہ پیغمبر سچ ہی کہہ رہا ہو۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے اسی بات کو ترجیح دی کہ اس معاملہ غورو فکر کرنا چھوڑ دیا جائے اور ان دلائل و شواہد سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 67–68

76۔ (جو نہ آج تک واقع ہو کر رہی ہیں، نہ آیندہ ہو کر رہیں گی) (آیت) ” اساطیر الاولین ‘ پر حاشیہ سورة الانعام پ 7 میں گزر چکا۔ (آیت) ” ء انا کنا ...... ائنا لمخرجون “۔ ہمزۂ استفہام کی تکرار انکار میں تاکید و مبالغہ کے لیے ہے۔ و تکرار المھزۃ للمبالغۃ فی الانکار (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–82

آیت نمبر 67 تا 82 ترجمہ : اور کافروں نے انکار بعث کے بارے میں بھی کہا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، تو کیا ہم قبروں سے پھر نکالے جائیں گے ؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے بہت پہلے سے یہ وعدے کئے جاتے رہے ہیں، کچھ نہیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، اسَاطیر اسطورۃ بالضم کی جمع ہے یعنی وہ جھوٹی باتیں جن کو لکھ لیا گیا ہو، آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ مجرموں کا ان کے انکار کی وجہ سے کیا انجام ہوا ؟ اور وہ عذاب کے ذریعہ ان کا ہلاک ہوجانا ہے آپ ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ شرارتیں کر رہے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوں یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے یعنی آپ کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد وعدنا ھذا نحن واباؤنا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین . اس (دوبارہ جی اٹھانے) کا وعدہ تو ہم سے (آپ کی زبانی) اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے (ان کے زمانہ کے پیغمبروں کی زبانی) ہوتا رہا ہے ‘ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کی جھوٹی داستانیں ہیں اور غلط سلط باتیں ہیں جو وہ لکھ گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(68) جس کا محمد ﷺ آپ ہم سے وعدہ کر رہے ہیں اس چیز کا تو ہمارے آباؤ و اجداد سے آپ کے وعدہ سے پہلے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو اگلے لوگوں سے روایت ہوتی چلی آئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ : اس بات کا یعنی قبروں سے نکالے جانے کا وعدہ ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی کیا گیا۔ یہاں ”ھٰذَا“ کا لفظ ”نَحْنُ“ سے پہلے ہے، جب کہ سورة مومنون میں ”نَحْنُ“ کا لفظ پہلے ہے، فرمایا : (لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا ھٰذَا) [ المؤمنون : 83 ] اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ہر مقام کے لحاظ سے جو لفظ زیادہ اہم ہوتا ہے وہ پہلے لایا جاتا ہے۔ دونوں مقامات کا مقابلہ کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : یعنی پہلے ہمارے بڑوں سے بھی یہی وعدے کیے گئے تھے، وہی باتیں یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–71

لقد وعدنا ھذا نحن و ابآئونا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین سورة مومنوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ انبیاء تحذیر میں مبالغہ کے لئے بعث کے معاملہ کو قریب کرتے پیش کر کے تھے ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–75

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔ 2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔ 4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ وُعِدْنَا [ بیشک وعدہ کیا جا چکا ہے ہم سے ] هٰذَا [ اس کا ] نَحْنُ [ ہم سے بھی ] وَاٰبَاۗؤُنَا [ اور ہمارے باپ دادا سے بھی ] مِنْ قَبْلُ ۙ [ اس سے پہلے ] اِنْ هٰذَآ[ نہیں ہے یہ ] اِلَّآ [ مگر ] اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ [ پہلے لوگوں کے افسانے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–72

منکرین بعث کے وسوسے، ان کے لیے عذاب کی وعید اور تنبیہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے بعد منکرین کے انکار بعث کا تذکرہ فرمایا، کافر کہتے ہیں کہ آپ جو یہ قیامت آنے والی بات کہتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی قبروں میں دفن ہونے کے بعد مٹی ہوجائیں گے ہمارے باپ دادا کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ زندہ ہو کر زندہ قبروں سے اٹھائے جاؤ گے آج تک تو وعدہ پورا ہوا نہیں ہمارے خیال میں تو یہ پرانے لوگوں کی باتیں نقل در نقل چلی آرہی ہیں ان کی اصلیت کچھ نہیں نہ قیامت آنی ہے نہ زندہ ہونا ہے نہ قبروں سے نکلنا ہے، ان لوگوں کی تکذیب کے جواب میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–75

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–68

59:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین کہتے یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ لقد وعدنا ھذا الخ، آج محمد ﷺ ہم سے یہ بات کہتا ہے اس سے پہلے ہمارے باپ دادا کو بھی کہنے والوں نے اس بات سے ڈرایا ہمیں تو یہ بات بالکل ایک افسانہ اور بےحقیقت معلوم ہوتی ہے جو پہلے لوگوں کی من گھڑت ہے۔ آج تک ہم نے اس کا کوئی اثر اور نتیجہ تو نہیں دیکھا۔ ذکروا انھم وعدوا ذلک ھم واباءھم فلم یقع شیء من ھذا الموعود ثم جزموا و حصروا ان ذلک من اکاذیب من تقدم (بحر ج 7 ص 94) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–75

ربط آیات گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ وُعِدْنَا ہٰذَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ۝ 0ۙ اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۝ 68 وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 67–68

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰبـًا وَّ اٰبـَـآؤُنَـآ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْن۔ َ لَقَدْ وُعِدْنَا ھٰذَا نَحْنُ وَاٰبـَـآؤُنَا مِنْ قَبْلُ لا اِنْ ھٰذَٓا اِلَّآ اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ (النمل : 67، 68) (اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ نکالے جائیں گے ؟ اس کی دھمکی ہمیں بھی دی گئی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا کو بھی، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔ ) آخرت سے متعلق کفار کا رویہ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ کفار کے غیرسنجیدہ رویئے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت سے گریزوفرار اور اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–71

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بےعلمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔ منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ “ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: لَقَدْ وُعِدْنَا ہٰذَا (بلاشبہ ہم سے اس کا وعدہ کیا گیا) ۔ یعنی بعث بعدالموت کا۔ نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ (اور ہمارے آباء و اجداد سے اس سے پہلے) یعنی محمد ﷺ سے قبل۔ نکتہ : اس آیت میں نحن و آباؤنا پر ہذا کو مقدم کیا گیا۔ جبکہ سورة المؤمنون میں نحن و اباؤنا کو ہذا پر مقدم کیا گیا۔ جواب یہ ہے کہ یہاں مقصود بعث بعدالموت کا تذکرہ ہے اس لئے ہذا اشارہ قریب کو مقدم لائے اور اس جگہ مبعوث کا تذکرہ مقصود ہے اس لئے نحن و اباؤنا کو مقدم کیا۔ اِنْ ہٰذَا اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ تو گزرے لوگوں کی جھوٹی داستانیں ہیں) ۔ اور جھوٹے قصے اور بناوٹی باتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 68–69

68۔ لقد وعدنا ھذا، ، دوبارہ جی اٹھنے پر، نحن واباء نا، من قبل، حضرت محمد سے پہلے وہ کوئی چیز نہیں، ان ھذا نہیں، ہے یہ الااساطیر ا الاولین، پچھلوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–69

60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–68

(آیت 65 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) (الانعام : 6 / 95) ” اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) (لقمان : 31 / 43) ” قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 67–68

78 اور کہتے ہیں کہ یہ تو محض کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی : یہی تعجب اور یہی منطق آج بھی بہت سے لوگوں کا طرہ امتیاز ہے۔ مگر یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ پاک کے یہاں ایک قانون مہلت و امہال ہے۔ اور ہر چیز کا اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اللہ چاہے تو سب کچھ فوراً کرسکتا ہے۔ مگر اس کا قانون اور دستور یہ ہے کہ ہر چیز کا تحقق و وقوع اس کے وقت مقرر کے ساتھ مربوط ہے۔ جس طرح شادی کے بعد بچے کا پیدا ہونا۔ پھر اس کا جوانی اور بڑھاپے کو پہچنا۔ دن رات کا اپنے اپنے وقت پر آنا جانا، سورج کا چڑھنا ڈوبنا، ہر درخت اور پودے کا بڑھنا اور پھل پھول دینا وغیرہ وغیرہ ہر چیز اپنے وقت مقرر کے ساتھ مربوط ہے اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–82

آیات 67 تا 82 اسرار و معارف ان کے شک اور انکار کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ مر کر تو ہم مٹی میں مل جائیں گے یا ہمارے اجداد جو خاک ہوچکے تو کیا پھر سب لوگ زمین سے نکال کھڑے کیے جائیں گے ؟ بھئی ایسی باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اور اب ہم سے بھی کہی جارہی ہیں یہ محض کہانیاں ہیں حقیقت سے ان کا واسطہ ہی نہیں کہ دیجیے کہ انکار تو کر رہے ہو مگر اپنے سے پہلے انکار کرنے والوں کا انجام تو ذرا دیکھ لو زمین پر پھر کر دیکھو کیسی کیسی تباہی سے دوچار ہوئے چان کہ تخلیق کے دلائل ابھی گزر چکے تھے لہذا یہاں انہیں دہرایا نہیں گیا بس عقل کی حد بیان کردی گئی کہ اس سے آگے ایمان کا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 67–68

2 ۔ یعنی بےبنیاد اور بےحقیقت افسانے ہیں جو لوگوں نے دنیا کا نظام چلانے اور سرکشوں کو قابو میں رکھنے کے لئے گھڑ لئے تھے۔ اور پھر یہ پیغمبر ( علیہ السلام) ان ہی کی نقل کئے جا رہے ہیں۔ ہم نے آج تک کبھی دیکھا نہ سنا کہ کوئی شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہو اور اس کو نیکی پر جزا یا بدی پر سزا ملی ہو۔ (وحیدی) ہمارے زمانہ میں بھی جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہے حالانکہ اس کا تعلق دیکھنے یا سننے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تمام تر انحصار تو کسی ایسے سچے آدمی (پیغمبر ( علیہ السلام) کی خبر پر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:68) وعدنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ وعد مصدر ہم سے وعدہ کیا گیا ۔ من قبل۔ من قبل ھذا اس سے قبل۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر : اسطورۃ کی جمع ۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطورہ کہلاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–82

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 82 : تراب (مٹی) مخرجون (نکالے گئے ۔ نکلنے والے) ‘ وعدنا (ہم سے وعدہ کیا گیا) ‘ اساطیر (کہانیاں۔ قصے) سیروا (تم چلو پھرو) لاتحزن (رنجیدہ نہ ہو) ضیق (تنگ ہونا۔ دل تنگ ہونا) ‘ ردف (قریب۔ پیچھے) ماتکن (جو چھپائی گئی ہے۔ جو چھپی ہے) ‘ یقص (وہ بیان کرتا ہے) ‘ یقضی (وہ فیصلہ کرتا ہے) لاتسمع (تو نہیں سنا سکتا) ‘ وقع (پورا ہوا۔ واقع ہوا) ‘ دابۃ ( جان دار۔ جانور) یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 67 تا 82 : کفار و مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے یعنی ہمارے وجود کے ذرے بھی بکھر جائیں گے اور خاص طور پر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے ایک طویل عرصہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–71

علم غیب کی تعریف 1: قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی علوم غیب سے آگاہ نہیں اسی نے کائنات کو پیدا کیا اور وہی کائنات کے اسرار سے آشنا ہے ۔ بہت کم لوگ غیب اصلیت سے واقف ہیں ۔ اکثر غیب کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے جاننے کو غیب کہتے ہیں ، جس کا پیشتر سے علم نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ ان معنوں کے ا اعتبار سے ہر شخص عالم الغیب ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے ۔ جس کا پیشتر سے اس کو علم نہیں ہوتا ۔ اور اس طرح اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہ ایجادات و اعتراضات کیا ہیں ۔ کیا یہ پیشتر سے انسانوں کو معلوم تھیں ؟ اور اگر معلوم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(68) یہ دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ تو پہلے ہی سے ہمارے اور ہمارے باپ دادوں سے ہوتا رہا ہے مگر یہ کچھ نہیں محض اگلے لوگوں کے بےسروپا اور بےسند باتیں ہیں جو نقل ہوتی چلی آئی ہیں یعنی ہمارے بڑوں سے نبی کریم ﷺ سے پہلے اور انبیاء کے بھی ایسے ہی وعدے ہوتے چلے آئے ہیں اور اب یہ پیغمبر ﷺ بھی ہم سے وعدے کر رہا ہے یہ باتیں محض بےسند ہیں جو اوپر سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ان میں واقعیت بالکل نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–69

ف 1۔ یعنی جیسے اندھے کو طریق نظر نہیں آتا، اس لئے مقصود تک پہنچنا مستبعد ہے، اسی طرح تصدیق بالآخرت کا جو طریق ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ غایت عناد سے اس میں تدبر و تامل نہیں کرتے، اس لئے وہ دلائل ان کو نظر نہیں آتے، جس سے مطلوب تک پہنچ جانے کی امید ہوتی، پس یہ شک سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کر کے رفع شک کرلیتا ہے اور یہ نظر بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وعدہ صرف ہم میں نہیں ہمارے آباؤاجداد کو بھی دیا گیا تھا پھر کیا وہ پورا ہوگیا ؟ 68۔ یہ ان لابجھکڑوں کی سب سے بڑی اور وزنی دلیل کہ یہ وعدہ جو آج ہم کو دیا جارہا ہے صرف ہم کو نہیں ہمارے باپ دادوں کو بھی دیا جاتا رہا ہے پھر کیا ان کے ساتھ یہ کیا گیا وعدہ پورا ہوگیا کہ اب ہم سے یہ کیا جا رہا ہے نہ ان کو کہی گئی بات کی کوئی حقیقت تھی اور نہ ہی ہمارے ساتھ اس طرح کی کی گئی باتوں کی کوئی حقیقت ہے اس لئے ہم اس پر کیوں یقین کریں اور کیسے یقین کریں ؟ کوئی بات ہو تو آدمی اس پر یقین کرے جس بات کا کوئی سرپیر بھی نہیں اس پر یقین کیا خاک کریں گے ؟ ہاں ! یہ صرف اور صرف کہانیاں ہیں جو پہلوں سے بھی کہی گئیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–75

بَلِ ادَّارَ‌كَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾ Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66. There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–68

85 After warning the people about their basic errors with regard to Divinity, it is being said that the reason why these people are involved in these errors is not that they have reached this conclusion after serious thought and deliberation that there exist other beings also who are Allah's associates in His Divinity, but the actual reason is that they have never considered this matter seriously. As they are unaware of the Hereafter, or are in doubt about it, or are blind to it, their heedlessness of the Hereafter has developed in them an utterly irresponsible attitude. They are not at all…

Read the full tafseer →