An-Naml 27:65

An-Naml · from ayah 65

27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ ؕ— وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ۟قُلْ لَّا يَعۡلَمُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَيۡبَ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "None in the heavens and earth knows the unseen except Allah, and they do not perceive when they will be resurrected."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 5 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:65

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا، اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اللہ اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھا ےٴ جائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرمادیجئے کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں (اَز خود) غیب کا علم نہیں رکھتے سوائے اللہ کے (وہ عالم بالذّات ہے) اور نہ ہی وہ یہ خبر رکھتے ہیں کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) کب اٹھائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، اللہ کے سوا کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے اور انہیں پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اپنی شرکیات میں کہو کوئی بھی غیب نہیں جانتا آسمانوں اور زمین میں سوائے ایک اللہ کے اور انھیں تو اس کی بھی خبر نہیں کہ یہ خود کب اٹھائے جائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں جتنی (مخلوق) موجود ہے کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا بجز اللہ کے اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کب (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں سوائے اللہ کے اور انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ آسمانوں اور زمین میں غیب (چھپی چیزوں) کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: "None in the heavens or on the earth has knowledge of the Unseen save Allah. They do not know when they will be raised to life."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :No one in the heavens and the earth has the knowledge of the Unseen except Allah. And they do not know when they will be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :No one in the heavens and the earth has the knowledge of the Unseen except Allah. And they do not know when they will be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "None in the heavens and the earth knows the Unseen except Allah, nor can they perceive when they shall be resurrected."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad): None in the heavens and the earth knoweth the Unseen save Allah; and they know not when they will be raised (again).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "None in the heavens and earth knows the unseen except Allah, and they do not perceive when they will be resurrected."

— Saheeh International

(Muhammad) say, "No one in the heavens or the earth knows the unseen except God, and no one knows when they will be resurrected.

— Muhammad Sarwar

Say: No one in the heavens and the earth knows the unseen but Allah; and they do not know when they shall be raised.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: none in the heavens and the earth knoweth the Unseen save Allah; nor can they perceive when they will be raised.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: None in the heavens or on earth, except Allah, knows what is hidden: nor can they perceive when they shall be raised up (for Judgment).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–66

اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرادیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59؀) 6۔ الانعام :59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ 34؀) 31۔ لقمان :34) اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے وہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 83 اوپر تخلیق، تدبیر اور رزاقی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے الہ واحد (یعنی اکیلے خدا اور اکیلے مستحق عبادت) ہونے پر استدلال کی گیا تھا۔ اب خدائی کی ایک اور اہم صفت، یعنی علم کے لحاظ سے بتایا جارہا ہے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ لاشریک ہے، آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے، سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے۔ سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جس سے اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔ غیب کے معنی مخفی، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–65

خلاصہ تفسیر ربط آیاتاوپر نبوت کے بعد توحید کا ذکر ہوچکا، آگے معاد یعنی قیامت اور آخرت کا ذکر ہے جس کی طرف دلائل توحید میں اس قول سے اجمالی اشارہ بھی ہوا ہے (ثُمَّ يُعِيْدُهٗ) اور چونکہ کفار اس کی تکذیب کی ایک وجہ یہ بھی قرار دیتے تھے کہ قیامت کا معین وقت پوچھنے پر بھی نہیں بتلایا جاتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ یعنی وہ عدم تعیین کو عدم وقوع کی دلیل بناتے تھے اس لئے اس مضمون کو اس بات سے شروع کیا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے فرمایا قُلْ لَّا يَعْلَمُ الخ (جس میں ان کے شبہ کا جواب بھی ہوگیا) قیامت کی تعیین کا علم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ پھر ان کے شک و انکار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ توحید و شرک کی اس بحث کی آخری بات ہے کہ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ آسمانوں اور زمین کے اندر غیب کا علم کسی اور کو بھی ہے اس وجہ سے وہ لائق عبادت ہے تو اس کی یہ غلط فہمی بھی دور کردو کہ عیب کا علم خدا کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی نہیں ہے۔ جب آسمان والوں میں سے بھی کسی کو غیب کا پتہ نہیں تو زمین والوں کا کیا سوال ! فرمایا کہ غیب کا علم تو درکنار ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائیج ائیں گے ؟ یعنی جب انہیں اپنے اٹھائے جانے کی بھی خبر نہیں تو ان کو شفاعت کے بھروسہ پر ان کو معبود مان کر ان کی پرستش کرنے کے کیا معنی ! یہ مضمون سورة نحل کی آیات 21-20 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65-1یعنی جس طرح مذکورہ معاملات میں اللہ تعالیٰ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح غیب کے علم میں بھی وہ متفرد ہے۔ اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ نبیوں اور رسولوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ وحی اور الہام کے ذریعے سے انھیں بتلا دیتا ہے اور جو علم کسی کے بتلانے سے حاصل ہو، اس کے عالم کو عالم الغیب نہیں کہا جاتا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی ﷺ آئندہ کل پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اس لئے کہ وہ تو فرما رہا ہے کہ آسمان و زمین میں غیب کا علم صرف اللہ کو ہے ' (صحیح بخاری) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–65

32: للہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بہت سی باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ غیب کی خبریں حضور سرور دو عالم ﷺ کو عطا فرمائی گئی تھیں، لیکن مکمل علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے اس لئے اس کے سوا کسی کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 65–66

قل لا یعلم من فی السموت ۔۔۔۔۔۔ ایان یبعثون (65) بل ادرک علمھم ۔۔۔۔۔ بل ھم منھا عمون (66) (27: 65- 66) “۔ ابتدائے تخلیق سے انسان کو اس خفیہ غیب کا سامنا ہے۔ انسانی علم ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا ۔ غیب کے آگے جو پردے لٹک رہے ہیں ان سے وہ آگے نہیں جھانک سکتا۔ یہ مغیبات میں سے صرف اسی قدر علم حاصل کرسکتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے اور انسان کے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اللہ نے اسے مستقبل کے علوم غیبیہ سے محروم رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس میں انسان کے لیے کوئی خیر دیکھتا تو وہ ضرور اسے عالم غیب کے بارے میں پورا علم عطا کردیتا۔ اللہ نے انسان کو اس قدر قوت اور استعداد دی ہے جس نے ذریعے وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 اس آیت میں مضمون سابق کی تکمیل اور مضمون لاحق کی تمہید ہے۔ شروع پارہ سے یہاں تک حق تعالیٰ کی قدرت تامہ اور ربوبیت کاملہ کا بیان تھا۔ یعنی جب وہ ان صفات و شؤن میں متفرد ہے تو الوہیت و معبودیت میں بھی متفرد ہونا چاہیے۔ آیت حاضرہ میں اس کی الوہیت پر دوسری حیثیت سے استدلال کیا جا رہا ہے۔ یعنی معبود وہ ہوگا جو قدرت تامہ کے ساتھ علم کامل و محیط بھی رکھتا ہو۔ اور یہ وہ صفت ہے جو زمین و آسمان میں کسی مخلوق کو حاصل نہیں، اسی رب العزت کے ساتھ مخصوص ہے۔ پس اس اعتبار سے بھی معبود بننے کی مستحق اکیلی اس کی ذات ہوئی۔ (تنبیہ) کل مغیبات کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں، نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ” یعنی وہ لوگ جو فوت ہوچکے ہیں ‘ چاہے وہ اولیاء اللہ ہوں یا کوئی اور ‘ اس دنیا سے جانے کے بعد وہ عالم برزخ میں ہیں اور وہاں انہیں کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 غیب سے مراد ایک تو ایسی چیزیں ہیں جو کسی خاص انسان کے علم یا مشاہدہ میں نہ آئی ہوں۔ پھر جب وہ اس کے علم میں آجائیں گی تو اس کے لئے غیب نہ رہیں گی۔ مثلاً سڑک پر ایک بس اور کار کا حادثہ ہوگیا جس میں چار آدمی مرگئے۔ پھر جب اسے اس کا علم ہوجائے گا یا وہ خود مشاہدہ کرلے گا تو یہ واقعہ اس کے لئے غیب نہ رہا۔ ایسی خبریں ماضی کی بھی ہوسکتی ہیں۔ حال کی بھی جو کسی کو معلوم ہوتی ہیں اور کسی کے لئے غیب کا درجہ رکھتی ہیں۔ البتہ مستقبل کی خبریں سب کے لئے غیب ہوتی ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ جتنے علوم انسان دریافت کرچکا ہے یا جس حد تک دریافت کرچکا ہے۔ وہ سب انسان کے لئے علم الشہادۃ ہیں اور جن علوم تک انسان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74۔ (چنانچہ یہ وقت قیامت کا تعین بھی انہیں مسائل غیب میں سے ہے) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کو تو بےبتائے سب کچھ معلوم ہے اور کسی دوسرے کو بےبتائے کچھ بھی معلوم نہیں۔ عقیدۂ آخرت اہم ترین عقائد میں سے ہے اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–66

آیت نمبر 60 تا 66 ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ . آپ کہہ دیجئے : جو بھی اہل علم آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘ کوئی بھی بجز اللہ کے غیب کو نہیں جانتا۔ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰات یعنی فرشتے والْاَرْضِ یعنی جن و انس ‘ جن میں تمام انبیاء بھی شامل ہیں۔ اَلْغَیْبَ غیب سے مراد وہ چیز ہے جو حواس (ظاہری و باطنی) کی رسائی سے باہر ہو یعنی حسی نہ ہو اور نہ اس کے ثبوت پر کوئی عقلی دلیل قائم ہو (یعنی نظری ہونا قابل استدلال ‘ غیر مکن الفکر۔ مترجم) اِلاَّ اللہ یعنی صرف اللہ ہی ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو ملائکہ اور جن و انس کے لئے ناممکن الحصول ہیں۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بعض غیب کی باتیں اپنے بندوں کو بتادے ‘ اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) آپ فرما دیجیے کہ فرشتے ہوں یا انسان سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی بھی غییب کی بات نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی اور ان کفار پر عذاب کس وقت نازل ہوگا اور ان مخلوقات کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ قبروں سے کس وقت دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : ”الْغَيْبَ“ ”غَابَ یَغِیْبُ“ کا مصدر ہے، اکثر غائب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مراد وہ چیزیں ہیں جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو سکیں اور نہ عقل ان کا ادراک کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبود کی عبادت، اس سے فریاد کرنے اور اسے مشکل کشا یا حاجت روا سمجھنے کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ اسے عالم الغیب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ورنہ اگر عقیدہ یہ ہو کہ میرے تمام احوال سے میرے مالک کے سوا کوئی واقف ہی نہیں، تو وہ کسی غیر کو کیوں پکارے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کوئی آسمان میں ہے یا زمین میں، اللہ کے سوا غیب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–66

قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ بعض سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب کو مخلوق سے مخفی رکھا کوئی اس پر مطلع (1) نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت کریمہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے برپا ہونے کے بارے میں سوال کیا۔ من محل رفع میں ہے معنی ہے کہہ دیجیے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا۔ کیونکہ لفظ اللہ اسم جلالت من کا بدل ہے، یہ زجاج اور فراء کا قول ہے۔ الا کے مابعد کو رفع دیا کیونکہ اس سے ماقبل کلام منفی ہے جس طرح اس کا قول ہے ماذھب احد الابوک معنی ایک ہی ہے۔ زجاج نے کہا : جس نے اس کو نصب دی ہے اس نے استثناء کے طور پر نصب دی ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الطیالسی و سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات مسروق (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا عائشہ نے فرمایا تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان میں سے ایک بھی کی تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ بولا میں نے کہا وہ کیا ہے ؟ عائشہ نے فرمایا جس نے یہ گمان کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا مسروق نے کہا میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا میں نے کہا اے مومنین کی ماں مجھے مہلت دیجیے اور جلدی نہ کیجیے۔ ایسی بات…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ ] آپ ﷺ کہیے ] لَّا يَعْلَمُ [ نہیں جانتا ] مَنْ [ جو (بھی)] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں میں ہے ] الْغَيْبَ [ غیب کو ] اِلَّا اللّٰهُ ۭ [ سوائے اللہ کے ] وَمَا يَشْعُرُوْنَ [ اور وہ لوگ شعور نہیں رکھتے ] اَيَّانَ [ کب ] يُبْعَثُوْنَ [ وہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے نوٹ۔ 1: آیت۔ 65 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ سوائے خدا کے کوئی انسان ، جن یا فرشتہ غیب داں نہیں ہے۔ بی بی عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ جو کہے کہ رسول اللہ ﷺ کل کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں ہے۔ (ابن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–66

آخر میں فرمایا (قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ ) (آپ فرما دیجیے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جتنی بھی مخلوق ہے ان میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا صرف اللہ ہی غیب کو جانتا ہے) اس میں منکرین قیامت کی تردید ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ بتا دیجیے قیامت کب آئے گی، یہ بات کہنے سے ان لوگوں کا مقصود و قوع قیامت کی نفی کرنا تھا، ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے ان میں سے کوئی غیب کو نہیں جانتا غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس نے مجھے معین کر کے وقوع قیامت کا وقت نہیں بتایا لہٰذا میں اپنے پاس سے نہیں بتاسکتا لیکن مجھے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–66

نوع پنجم متعلق بہ مبداء ومعاد وحشر ونشر اجساد قال اللہ تعالیٰ امن یبدؤا الخلق ثم یعیدہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ بل ہم منھا عمون۔ بھلا بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے کہ جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے جو تمہیں بھی مسلم ہے پھر وہی اپنی قدرت سے موت کے بعد قیامت کے دن ان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پس خدا وہ ہے کہ جو وجود اور عدم کا مالک ہو اور جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ بلا دلیل کفر کرتے ہیں کیونکہ جب پہلی مرتبہ کی پیدائش تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے تو دوبارہ پیدائش کو کیوں محال اور ناممکن بتلاتے ہو اور اس خدا کی شان یہ ہے کہ وہ تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے۔ آسمان سے بقدر معلوم پانی نازل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57:۔ یہ پہلے دونوں قصوں کا ثمرہ ہے اور لف و نشر غیر مرتب کے طور پر پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ من فی السموات، فرشتے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ارواح انبیاء علیہم السلام، والارض یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا نہ آسمان والے نہ زمین والے بلکہ ان کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ حشر و نشر کب ہوگا۔ جب اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اس کے سوا برکات دہندہ بھی کوئی نہیں۔ یعنی ان من فی السموت وھم الملائکۃ و من فی الارض وھم بنو ادم لا یعلمون متی یبعثون واللہ تعالیٰ تفرد بعلم ذلک (خازن ج 5 ص 128) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–66

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے مسئلہ توحید سمجھانے اور شرک کی تردید میں کئی عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں ۔ ان دلائل میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول باغات اور شجاء کی پیداوار زمین کا قرار گاہ ٹھہرانا اور اس میں نہریں جاری کرنا ، زمین میں بوجھل پہاڑ گاڑھ دینا ۔ دو پانیوں کے درمیان آڑ قائم کردینا تا کہ آپس میں خلط ملط نہ ہونے پائیں ۔ وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا کہ مجبور و بیکس کی فریاد ہی کرنے والا اللہ کے سوا کون ہے ؟ اسی نے تم کو پہلے لوگوں کا نائب بنایا خشکی اور تری میں وہی راہ دکھاتا ہے ، باران رحمت سے پہلے وہی خوش خبری لانے والی ہوائوں کو چلاتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللہُ۝ 0ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۝ 65 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ لاَّیَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّ اللّٰہُ ط وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (النمل : 65) (کہہ دیجیے، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ) علمِ غیب کی حقیقت گزشتہ آیات میں قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور الوہیت پر دلائل دیتے ہوئے اس کی چند صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ وہی ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کی خالق ہے، جس نے آسمان سے پانی اتارا، جس نے زمین کو قوت روئیدگی بخشی اور جس نے خوش منظر اور خوش ذائقہ باغات پیدا کیے۔ جس نے اپنی بیشمار مخلوقات کے لیے زمین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : توحید کے دلائل کا تسلسل۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز کا خالق اور رازق ہے بلکہ وہ اپنی مخلوق کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے یہ حقیقت سچائی کی انتہا کو پہنچ چکی اور اس کے خلاف کوئی عقلی اور نقلی دلیل موجود نہیں ہے جس بناء پر ہر دور کا مشرک یہ حقائق تسلیم کرتا رہا اور کرتا رہے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، آسمان سے بارش اتارنے والا، بارش سے نباتات اگانے والا، زمین کو ٹھہرانے اور جمانے والا، زمین میں نہریں جاری کرنے والا، زمین پر مضبوط پہاڑ ٹھہرانے والا، دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کرنے والا، معذور اور مجبور کی دعا میں قبول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

65: قُلْ لاَّ یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّ اللّٰہُ (آپ کہہ دیں آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے کوئی غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتا) ۔ نحو : مَنْ یَعْلم کا فاعل ہے۔ الغیب مفعول ہے۔ اللّٰہ یہ مَن سے بدل ہے۔ الغیب۔ ہو مالم یقسم علیہ دلیل اطلع علیہ مخلوق۔ وہ جس کے ثبوت پر کوئی دلیل قائم نہ ہو اور نہ اس کی اطلاع مخلوق کو ہو۔ مطلب یہ ہے۔ لا یعلم احدٌ الغیب الا اللّٰہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند وبالا ہے۔ کہ وہ ان میں سے ہو جو آسمان و زمین میں ہیں۔ لیکن بنی تمیم کی لغت کے مطابق آیا ہے۔ کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65۔ قل لایعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ۔ اس آیت کا نزول مشرکین کے بارے میں ہواجب انہوں نے نبی کریم سے قیامت کے متعلق سوال کیا، ومایشعرون ایان، کب یبعثون ، اٹھایاجائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–69

60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–68

(آیت 65 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) (الانعام : 6 / 95) ” اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) (لقمان : 31 / 43) ” قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

74 غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے "۔ " لا " اور " الا " کے حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان و زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ اس میں فرشتے، انبیاء اور اولیاء وغیرہ سب ہی آگئے۔ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا عالم غیب اور کوئی بھی نہیں۔ پس جس طرح کلمہ طیبہ " لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ " میں " لَا " اور " اِلَّا " کے حصر کی بنا پر اللہ پاک کے سوا کوئی کسی بھی طرح معبود اور خدا نہیں ہوسکتا اسی طرح یہاں کے اس حصر سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی کسی بھی طرح عالم غیب نہیں ہوسکتا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–81

اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–66

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ بھلا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان تھا۔ اب یہاں اس کے علم محیط کا بیان ہے۔ یہ بات کہ کسی کو علم غیب نہیں بجز خدا کے۔ قرآن کی متعدد آیات میں بیان ہوتی ہے۔ سورة انعام :59 میں گزر چکا ہے کہ ” غیب کی کنجیاں “ اللہ ہی کے پاس ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس نے گمان کیا کہ وہ (یعنی نبی ﷺ) کل ہونیوالی بات کو جانتے ہیں اس نے اللہ تعالیٰ پر بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ فرماتا ہے۔ قل لا یعلم من… (ابن کثیر بحوالہ صحیحین)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:65) قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ : ای قل یا محمد ﷺ ۔ لایعلم مضارع منفی واحد مذکر غائب من۔ لایعلم کا فاعل فی السموت والارض فاعل کی صفت الغیب لایعلم کا مفعول۔ الا حرف استثناء منقطع۔ اللہ مستثنیٰ ۔ آسمانوں اور زمین میں جو (بھی مخلوق) ہے کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا۔ سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ یشعرون۔ مضارع جمع مذکر غائب ضمیر جمع کفار و مشرکین کی طرف راجع ہے یعنی کفار و مشرکین نہیں جانتے۔ ان کو علم نہیں۔ شعور مصدر (باب نصر) ۔ ایان : ای اوان ہے اوان کے الف اول کو حذف کر کے واؤ کو یاء کیا گیا۔ پھر یاء کو ای کی یاء میں مدغم کیا گیا۔ ایان ہوگیا۔ کب ، کس وقت۔ یبعثون۔ مضارع مجہول جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–66

لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 : امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 : جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–75

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–74

[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔ [32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–65

توحید یا دہریت 2: یہ آیات توحید کا بقیہ حصہ ہیں اس میں وہی سوال چلا آرہا ہے کہ بتاؤ۔ خالق اور رازق خدا عبادت اور بندگی کا مستحق ہے یا تمہارے مقرر کردہ معبود قل ھاتو برھانکم سے مراد ہے کہ شرک کے جواز کے لئے کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ۔ اور کسی دلیل سے یہ نہیں ثابت کیا جاسکتا ۔ کہ رب الا کو ان کا کوئی شریک بھی ہے ۔ کیونکہ عقل وبصیرت کے لئے صرف دو راہیں ہیں ۔ جن کو اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ ایک توحید کی راہ ۔ یعنی خدا ایک ہے وہ بےمثل ہے اور بےنظیر ذات ہے ۔ اور اس کے تخیل میں کثرت اور تعدد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا نفس تصور ہی شرکت اور کثرت کو مانع ہے ۔ دوسری راہ یہ ہوسکتی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(65) آپ کہہ دیجئے جس قدر مخلوقات آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے غیب کی بات نہیں جانتا اور ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کی بحث تھی اب قیامت کا ذکر فرمایا جو عقائد میں اہم عقیدہ ہے مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جو قیامت کا وقت معین نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو قیامت کے وقت کا علم نہیں دیا گیا تو قیامتہی پر کیا موقوف ہے آسمان و زمین میں جس قدر مغیبات ہیں ان کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں اور مخلوقات کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ مرنے کے بعد کب اٹھائے جائیں گے یا اس آیت کا تعلق بھی توحید کے ساتھ ہے اور مطلب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تو بےبتلائے سب معلوم ہے، اور کسی کو بےبتلائے کچھ بھی معلوم نہیں، مگر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے امور جن کا پہلے سے علم نہیں ہوتا واقع ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوتا کہ عدم علم عدم وقوع کو مستلزم نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بعض علوم کا غیب رکھنا منظور ہے، سو قیامت کی تعین بھی ان ہی امور میں سے ہے، اسی لئے مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا گیا، مگر اس سے عدم وقوع کیسے لازم آگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اعلان کیجئے کہ آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب جاننے والا نہیں ہے : 65۔ گزشتہ آیات میں توحید الہی کے لئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تخلیق ‘ تدبیر اور رزاقی کی صفات سے استدلال کیا گیا تھا اور اب زیر نظر آیت میں توحید الہی کے لئے علم سے استدلال کیا گیا ہے کہ علم کے معاملہ میں بھی اللہ رب العزت کا کوئی شریک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب کا جاننے والا نہیں خواہ وہ کوئی ہو اور کہاں ہو ؟ یعنی آسمان و زمین کے کسی حصہ میں ہو یا کوئی کتنی اہم شخصیت کیوں نہ ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ورسول ‘ کوئی فرشتہ یا جن ‘ اولیائے کرام یا بزرگان دین میں سے کوئی ہی کیوں نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–65

Commentary قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ Say, "No one in the heavens and the earth has the knowledge of Unseen except Allah." - 27:65 The Holy Prophet ﷺ was instructed to tell people that all the creatures that live in the heavens, like angels, and all the creatures that live in this world, like humans and jinns, none of them have any knowledge of the unseen (ghayb) except Allah. In the above-referred verse it has been stated very clearly that it is an exclusive attribute of Allah Ta` ala, and no one else, not even an angel or a prophet, could…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

83 In the preceding verses, arguments have been given to prove that Allah is the One and only Deity when considered from the viewpoint of creation, design and provision of the means of sustenance. Now in this verse it is being told that from the viewpoint of knowledge too, which is an important attribute of Godhead, Allah is Unique and without associate. Whatever creations are therein the heavens and the earth, whether angels or jinns, prophets and saints, or other men and other creatures, they have only limited knowledge. Something is hidden from all of them. The All-Knowing One is only…

Read the full tafseer →