قدرت کاملہ کا ثبوت
فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں فنا کرکے دوبارہ پیدا کرے گا۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے ؟ آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورة طارق میں فرمایا پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ الرَّحِيْمُ…
Read the full tafseer →سورة النمل 80
یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
خلاصہ تفسیر
ربط آیاتاوپر نبوت کے بعد توحید کا ذکر ہوچکا، آگے معاد یعنی قیامت اور آخرت کا ذکر ہے جس کی طرف دلائل توحید میں اس قول سے اجمالی اشارہ بھی ہوا ہے (ثُمَّ يُعِيْدُهٗ) اور چونکہ کفار اس کی تکذیب کی ایک وجہ یہ بھی قرار دیتے تھے کہ قیامت کا معین وقت پوچھنے پر بھی نہیں بتلایا جاتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ یعنی وہ عدم تعیین کو عدم وقوع کی دلیل بناتے تھے اس لئے اس مضمون کو اس بات سے شروع کیا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے فرمایا قُلْ لَّا يَعْلَمُ الخ (جس میں ان کے شبہ کا جواب بھی ہوگیا) قیامت کی تعیین کا علم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ پھر ان کے شک و انکار…
Read the full tafseer →ایک بدیہی حقیقت کا بدیہی نتیجہ
یہاں بھی سوال کا ایک حصہ محذوف ہے جو قرینہ سے واضح ہوتا ہے۔ یعنی تمہارے یہ اصنام واوثان لائق عبادت ہیں یا وہ ذات جس نے اس خلق کا آغاز کیا اور ہر چیز کو وجود میں لاتی ہے ؟ اس کے ساتھ ثسند یعیدہ ملا کر ابدار خلق کے ایک بدیہی نتیجہ کو ظاہر فرمایا دیا کہ جب وہی ہر چیز کا آغاز فرماتا ہے تو وہ اس کا اعادہ بھی کرسکتا ہے اور وہ ایسا لازماً کرے گا بھی۔ اگر وہ نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے یہ سارا کارخانہ بالکل عبث بنایا ہے۔ دوسرے مقامات میں یہ بات دلائل کی تفصیل کے ساتھ بیان ہونی ہے۔ یہاں یہ ایک بدیہی حقیقت کے ایک بدیہی نتیجہ کے طور پر بیان کردی گی ہے کہ جب اس…
Read the full tafseer →64-1یعنی قیامت والے دن تمہیں دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا۔
64-2یعنی آسمان سے بارش نازل فرما کر، زمین سے اس کے چھپے خزانے (غلہ جات اور میوے) پیدا فرماتا ہے اور یوں آسمان و زمین کی برکتوں کو کھول دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
32: للہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بہت سی باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ غیب کی خبریں حضور سرور دو عالم ﷺ کو عطا فرمائی گئی تھیں، لیکن مکمل علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے اس لئے اس کے سوا کسی کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔
Read the full tafseer →امن یبدوا الخلق ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (64)
اس کائنات و مخلوقات کا آغاز ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ نہ تخلیق کائنات کے مسئلے کو اللہ وحدہ کے وجود کو تسلیم کیے بغیر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کائنات کا وجود ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ اللہ موجود ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے اس کائنات کے وجود کے مسئلے کو وجود باری تعلیم کرنے کے بغیر حل کرنے کی سعی کی ہے ، درآں حالیکہ اس کائنات کے وجود ہی میں ایک معمم ارادہ اور ایک قصد اور ایک منصوبہ نظر آتا ہے تو ایسے لوگ مسئلہ کائنات کے حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت اس لیے ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کے تمام آثار کے…
Read the full tafseer →13 ابتداء پیدا کرنا تو سب کو مسلم ہے کہ اللہ کا کام ہے۔ موت کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کو بھی اس سے سمجھ لو۔ منکرین " بعث بعد الموت " بھی اتنا سمجھتے تھے کہ اگر بالفرض دوبارہ پیدا کیے گئے تو یہ کام اسی کا ہوگا جس نے اول پیدا کیا تھا۔
14 کون ہے جو آسمانی اور زمینی اسباب کے ذریعہ سے اپنی حکمت کے موافق تم کو روزی پہنچاتا ہے۔
15 یعنی اگر اتنے صاف نشانات اور واضح دلائل سننے کے بعد بھی تم خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی قباحت کو تسلیم نہیں کرتے تو جو کوئی دلیل تم اپنے دعوے باطل کے ثبوت میں رکھتے ہو پیش کرو۔ ابھی تمہارا جھوٹ سچ کھل جائے گا۔ مگر وہاں دلیل وبرہان کہاں محض اندھی تقلید ہے۔ (وَمَنْ يَّدْعُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو بادلوں کے آگے آگے باران رحمت کی نوید بن کر چلتے ہیں ‘ کیا انہیں چلانے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں تم لوگوں کو درست راستے سجھانے میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا بھی کوئی حصہ ہے ؟
Read the full tafseer →69 آغاز خلق اور اعادہ خلق کا مسئلہ بھی اپنے اندر اللہ کی ہزارہا قدرتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور انسان جتنا اس معاملہ میں غور کرتا ہے اس کی حیرانگی میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں سب سے پہلا سوال یہ پیش آتا ہے کہ روح کیا چیز ہے جس پر زندگی کا مدار ہے۔ اور یہ سوال آج بھی ایسا پیچیدہ اور لاینمحل ہے جیسا کہ حضرت آدم کے وقت تھا۔ انسان نے یہ تو دریافت کرلیا کہ مثلاً انسان فلاں فلاں عناصر کا مرکب ہے اور انسان کے جسم میں ان عناصر کی مقدار اتنی اور اتنی ہوتی ہے۔ مگر انہی عناصر کو اسی مقدار کے مطابق ترکیب دے کر ایک زندہ انسان بن کھڑا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور یہ مسئلہ غالباً تاقیامت…
Read the full tafseer →73۔ یعنی حق تعالیٰ کی صفات خالقیت، حاکمیت ورزاقیت تو ظاہر ہی ہیں تم اگر ان کا انتساب کسی اور کی جانب بھی کرتے ہو تو اپنے دعوئے شرک پر کوئی دلیل بھی تو پیش کرو اگر کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…
Read the full tafseer →امن یبدوا الخلق ثم یعیدہ . یا وہ بہتر ہے جو مخلوق کو دنیا میں پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی (قیامت کے دن)
دوبارہ پیدا کرے گا۔ (پہلی تخلیق تو مسلمہ تھی لیکن) قیامت کے دن دوبارہ پیدا ہونے کے کفار منکر تھے ‘ پر عقلاً اعادۂ تخلیق ناممکن نہیں اور نقلی دلائل سے وجوب اعادہ ثابت ہے۔ نقلی دلائل کے واجب الیقین ہونے پر معجزات کی تائید کافی ہے اس لئے دوبارہ تخلیق بھی ناقابل شک ہے اور یہ یقینی ہے کہ اللہ ہی دوبارہ پیدا کرے گا۔
ومن یرزقکم من السمائی والارضء الہ مع اللہ قل ہاتوا برھانکم ان کنتم صدقین
اور کون آسمان و زمین سے تم کو روزی دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ آپ کہہ دیجئے : اگر تم سچے…
Read the full tafseer →(64) اور بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو نطفہ سے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا اور جو کہ آسمان سے تمہارے لیے پانی برساتا اور زمین سے نباتات اگاتا ہے کیا اللہ جل شانہ کے علاوہ اور کسی کی جرأت ہے کہ ایسا کرسکے (اور اگر اب بھی نہ مانیں) تو آپ فرما دیجیے کہ اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ اللہ کے علاوہ اور بھی معبود اور مشکل کشا ہیں۔
Read the full tafseer →اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ : یہ سادہ سی بات، جسے ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے، اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الٰہ اور وحدت الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے، انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے ؟ ! اس وقت تک مسلّم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا…
Read the full tafseer →امن یبدوا الخلق ثم یعیدہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ وہی خالق و رازق ہے۔ پس ان پر اعادہ کو لازم کیا۔ جب وہ ابتدا پر قادر ہے تو بدیہی بات ہے کہ وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے دوبارہ اٹھانا اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ ء الہ مع اللہ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الہ بھی ہے جو پیدا کرت ا ہے، رزی دیتا ہے، پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور دوبارہ اٹھائے گا۔ قل ھاتوا یرھانکم کوئی دلیل لائو کہ واقعی میرا کوئی شریک ہے یا کوئی ایسی دلیل لائو جو اس کو ثابت کرے کہ ان اشیاء میں سے کسی شے کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے بھی پیدا کیا ہے۔ ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ہر تکلیف کو دور کرنا اللہ کی قدرت میں ہے
1۔ احمد وابوداوئد والطبرانی نے بلجیم کے ایک آدمی سے تو روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں آپ نے فرمایا میں ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو پس تو اس سے دعا کر تو وہ تجھ سے مصیب کو دو کردے گا اور اگر تو بےآب وگیاہ جگہ میں راستہ بھول جائے تو اسے پکار تو وہ تجھ کو جواب دے گا۔ اگر تجھ کو قحط سالی پہنچ جائے پھر تو اس سے دعا کرے تو وہ تیرے لیے بارش کو نازل کردے گا۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویکشف السوء “ سے رماد ہے تکلیف کو ہٹا دے گا۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے سحیم بن نوف…
Read the full tafseer →اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو ] يَّبْدَؤُا [ ابتدا کرتا ہے ] الْخَلْقَ [ پیدا کرنے کی ثُمَّ [ پھر ] يُعِيْدُهٗ [ وہ دوبارہ (پیدا) کرے گا اس کو ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّرْزُقُكُمْ [ رزق دیتا ہے تم کو ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین سے ] ءَاِلٰهٌ [ کیا کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ ] قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] هَاتُوْا [ تم لوگ دو ] بُرْهَانَكُمْ [ اپنی روشن دلیل ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید
یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
نوع پنجم متعلق بہ مبداء ومعاد وحشر ونشر اجساد
قال اللہ تعالیٰ امن یبدؤا الخلق ثم یعیدہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ بل ہم منھا عمون۔
بھلا بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے کہ جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے جو تمہیں بھی مسلم ہے پھر وہی اپنی قدرت سے موت کے بعد قیامت کے دن ان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پس خدا وہ ہے کہ جو وجود اور عدم کا مالک ہو اور جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ بلا دلیل کفر کرتے ہیں کیونکہ جب پہلی مرتبہ کی پیدائش تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے تو دوبارہ پیدائش کو کیوں محال اور ناممکن بتلاتے ہو اور اس خدا کی شان یہ ہے کہ وہ تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے۔ آسمان سے بقدر معلوم پانی نازل…
Read the full tafseer →56:۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے۔ جس نے سب کو پیدا فرمایا، جو سب کو دوبارہ پیدا کرے گا اور جو زمین و آسمان سے مخلوق کی روزی کا انتظام کرتا ہے کیا اس کے سوا کوئی اور کارساز ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ قل ھاتوا برھانکم، یہ مذکورہ پانچوں دلیلوں سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے تو اپنے دعوے پر دلائل واضحہ بیان کردئیے ہیں اگر اب بھی تم نہیں مانتے ہو تو اپنے شرک پر کوئی دلیل پیش کرو۔ پہلی دلیل کے آخر میں فرمایا۔ بل ھم قوم یعدلون، یہ لوگ توحید سے اعراض کرتے ہیں۔ دوسری دلیل کے بعد اس سے ترقی کر کے فرمایا بل اکثرھم لا یعلمون بلکہ ان کی اکثریت تو بالکل جاہل ہے توحید کو جانتی ہی نہیں۔ تیسری دلیل کے بعد اس سے ترقی کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے نشانات قدرت کے طور پر پہلے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات بیان ہوئے ، پھر قوم صالح اور قوم لوط کی نا فرمانیوں کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے اپنی توحید اور قدرت تامہ کا ذکر کیا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پچھلے واقعات سے لوگوں کو عبرت اور نصیحت مطلوب ہے تا کہ لوگ کفر ، شرک اور معاصی سے باز آجائیں اور خدا تعالیٰ کے غضب سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں ۔ اب اس رکوع میں اللہ کی توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جا رہے ہیں جن میں غور کرنے سے وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے اور انسان کفر و شرک سے بچ سکتا ہے۔
گزشتہ درس میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول ،…
Read the full tafseer →اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ 0ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ 0ۭ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 64
بدأ
يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7]
( ب د ء ) بدء ات
بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
1 ؎ بارش۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَمَنْ یَّرْزُقُـکُمْ مِّنَ السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِ ط ئَ اِلٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (النمل : 46)
(بھلا کون ہے جو خلق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرے گا، اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، کہہ دیجیے کہ تم اپنی دلیل لائو اگر تم سچے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ کی صفت ابتداء خلق اور اعادہ خلق کی وضاحت
یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تو حد کے دلائل جاری ہیں۔ مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنا اور پھر اسے اپنی طرف لوٹانا، لوگوں کو زمین و آسمان سے رزق مہیا کرنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی اور شریک اور سہیم نہیں ہے۔
سورۃ البقرۃ آیت 117 میں ارشاد ہے کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے زمینوں، آسمانوں کو بغیر کسی نقشے اور پہلے سے موجود میٹریل کے پیدا فرمایا۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف ” کُن “ فرماتا ہے اور وہ چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة الانعام آیت 101 میں یہ الفاظ استعمال فرمائے کہ اللہ ہی ذات واحد ہے جس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ نہ اس کی بیوی ہے اور نہ…
Read the full tafseer →64: اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ (یا وہ (بہتر ہے) جس نے مخلوق کی ابتداء کی) ۔ وہ مخلوق کو نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہے۔ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (پھر وہی اعادہ کرے گا) ۔ یہاں ثم یعیدہ کہا گیا حالانکہ وہ تو اعادہ کے سرے سے انکاری تھے۔ جواب یہ ہے کہ اعادئہ خلق ناممکن نہیں نقلی دلائل سے اعادہ کا واجب ہونا ثابت ہے۔ نقلی دلائل کے واجب الیقین ہونے پر معجزات کی تائید کافی ہے۔ پس عذر کے لئے گنجائش ذرہ بھر بھی نہیں۔ وَمَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ (آسمان سے کون تمہیں روزی دیتا ہے) رزق آسمان سے بارش مراد ہے۔ وَالْاَرْضِ (اور زمین سے) ۔ ای من الارض یعنی زمین سے نباتات۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہُ قُلْ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
64۔ امن یبدوا الخلق ثم یعیدہ، موت کے بعد دوبارہ اٹھایاجائے گا، ومن یرزقکم من السماء والارض، آسمان سے بارش برسانے میں اور زمین میں سے نباتات اگانے میں، ء الہ مع اللہ قل ھاتوا برھانکم، یہ بات تمہارے قول پر دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان کنتم صادقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…
Read the full tafseer →آیت 64
وہ کون ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے، جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتا ہے اور ان مخلوقات کی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر قیامت کے روز مخلوق کا اعادہ کرے گا ؟ وہ کون ہے جو تمہیں بارش اور نباتات کے ذریعے سے آسمان اور زمین سے رزق مہیا کرتا ہے ؟ (ء الہ مع اللہ) کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور ہستی ہے جو یہ سب کچھ کرنے کی قدرت رکھتی ہو ؟ (قل ھالوا برھانکم) یعنی اپنے دعوے پر کوئی حجت اور دلیل لاؤ (ان کنتم صدقین) ” اگر تم سچے ہو “ ورنہ تمہارا یہ قول کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کیش ریک ہیں، مجرد دعویٰ ہے۔ اس کی توثیق و تصدیق کسی دلیل کے ساتھ کرو ورنہ اس حقیقت کا اعتراف کرلو کہ تمہارا موقف باطل ہے اور تمہارے…
Read the full tafseer →72 اِبدائِ خلق اور اعادئہ خلق کے بارے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " بھلا کون ہے وہ جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا "۔ تو جو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرتا ہے اور کریگا۔ سو قیامت کے روز بھی وہ سب کو دوبارہ زندہ فرمائے گا اور اس سے پہلے اس دنیا میں اور آج بھی۔ اِحیاء و اماتت کا یہ سلسلہ مختلف شکلوں میں برابر جاری وساری ہے جو اس کی قدرت و عنایت اور رحمت بےنہایت کا ایک عظیم الشان اور کھلا مظہر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور اس بارے غور و فکر سے کام لو کہ کون ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے ؟ کیا تمہارے ان خودساختہ فرضی اور من گھڑت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔
بھلا…
Read the full tafseer →9 ۔ آسمان سے مینہ برساتا ہے اور زمین سے غلے اور پھل اگاتا ہے۔ 10 ۔ یعنی اس چیز کی دلیل لائو کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی معبود ہے اگر دلیل نہیں لاسکتے۔ اور ظاہر ہے کہ اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں مگر عبادت اور بندگی اس کے علاوہ کسی اور کی جائے۔
Read the full tafseer →(27:64) یبدؤا : یدء یبدء ویبدؤ۔ بدء (باب فتح) سے مجارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ابتدائی تخلیق کرتا ہے یعنی عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ نیست سے ہست کرتا ہے۔ اسی سے ابتداء ہے شروع کرنا۔ اور بادی الرای (11:27) رائے فطری یعنی وہ رائے جو ابتداء سے قائم کرلی جائے۔ اور جگہ ارشاد ہے۔ کما بدأکم تعودون (7:29) اس نے جس طرح ابتدا میں تم کو پیدا کیا تھا اس طرح تم پھر پیدا ہوجاؤ گے۔
یعیدہ مضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر۔ وہ دوبارہ پیدا کر دے گا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب خلق کی طرف راجع ہے۔ یرزقکم من السمائ : ای المطر اور (من) الارض : ای النبات ۔
قل۔ خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔
ھاتوا۔ ھات اسم فعل۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 :
امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 :
جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–75
قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔
[32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
توحید یا دہریت
2: یہ آیات توحید کا بقیہ حصہ ہیں اس میں وہی سوال چلا آرہا ہے کہ بتاؤ۔ خالق اور رازق خدا عبادت اور بندگی کا مستحق ہے یا تمہارے مقرر کردہ معبود قل ھاتو برھانکم سے مراد ہے کہ شرک کے جواز کے لئے کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ۔ اور کسی دلیل سے یہ نہیں ثابت کیا جاسکتا ۔ کہ رب الا کو ان کا کوئی شریک بھی ہے ۔ کیونکہ عقل وبصیرت کے لئے صرف دو راہیں ہیں ۔ جن کو اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ ایک توحید کی راہ ۔ یعنی خدا ایک ہے وہ بےمثل ہے اور بےنظیر ذات ہے ۔ اور اس کے تخیل میں کثرت اور تعدد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا نفس تصور ہی شرکت اور کثرت کو مانع ہے ۔ دوسری راہ یہ ہوسکتی ہے کہ…
Read the full tafseer →(64) بھلا کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے آپ ان سے فرمائیے ا چھا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی برہان اور دلیل پیش کرو یعنی پہلی بار اس کا پیدا کرنا تو سب کو تسلیم ہے اور دوبارہ پیدا کرنے پر براہین اور دلائل قطعیہ پر قائم ہیں آسمان سے پانی برسا کر زمین سے ہر قسم کے رزق کا سامان پیدا کرتا ہے اللہ کے ساتھی اور مددگار بھی نہیں بناتے پھر ان اصنام کو استحقاق عبادت پر تمہارے پاس جو دلیل ہو وہ پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں صادق اور سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 3۔ یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے۔
Read the full tafseer →اچھا بتاؤ کیا پیدائش اول یا دوم یا رزق دینے والا کوئی اللہ کے سوا ہے ؟
64۔ اس آیت میں استفسار کیا جا رہا ہے کہ وہ کون ہے جس نے خلق کی ابتدا کی اور پھر اس کا اعادہ کرتا رہتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق عطا کرتا ہے ؟ سائنس ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ابھی تک اس ابتدائی تخلیق کا راز بدستور تشنہ ہے اور پھر تخلیق کے لئے جو ضابطہ مقرر کردیا گیا اس ضابطہ الہی کے آگئی ‘ یہ جرثومے جن کی پہچان میں تم نے بیسیوں سال خرچ کئے کیا ان میں زندگی موجود نہیں اگر ہے تو وہ کہاں سے آئی کیا یہ جرثومے ڈیڈ بھی ہوتے ہیں یا نہیں اگر ہوتے ہیں تو ان کو ڈیڈ کس نے کردیا ہے ؟ پھر تم فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
Commentary
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ
Say, "No one in the heavens and the earth has the knowledge of Unseen except Allah." - 27:65
The Holy Prophet ﷺ was instructed to tell people that all the creatures that live in the heavens, like angels, and all the creatures that live in this world, like humans and jinns, none of them have any knowledge of the unseen (ghayb) except Allah. In the above-referred verse it has been stated very clearly that it is an exclusive attribute of Allah Ta` ala, and no one else, not even an angel or a prophet, could…
Read the full tafseer →80 The simple fact hat has been expressed in this one sentence is so vast in meaning and detail that as one considers it more and more deeply one goes on getting new and ever new proofs of Allah's existence and His unity. to the first place, take the question of the creation itself. Man by his knowledge has not been able to discover what is life, how and whereform it comes. So far the admitted scientific fact is that the mere arrangement of inanimate matter by itself cannot bring about life. Though the atheists assume, unscientifically, that life comes into existence automatically when aII…
Read the full tafseer →