ستاروں کے فوائد
آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کرلے۔ جیسے فرمایا ہے کہ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کرلیتے ہیں بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔
Read the full tafseer →سورة النمل 78
یعنی جس نے ستاروں کے ذریعہ سے ایسا انتظام کردیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کرسکتے ہو، یہ بھی اللہ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کردیے جن سے وہ اپنی سمت سفر اور منزل مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے۔ وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ (آیت 16)
سورة النمل 79
رحمت سے مراد بارش جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
معارف و مسائل
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ ، المضطر اضطرار سے مشتق ہے کسی ضرورت سے مجبور و بےقرار ہونے کو اضطرار کہا جاتا ہے اور وہ جبھی ہوتا ہے جب اس کا کوئی یارو مددگار اور سہارا نہ ہو۔ اس لئے مضطر وہ شخص ہے جو سب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہو کر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو فریاد رس سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو۔ مضطر کی یہ تفسیر سدی، ذوالنون مصری، سہل بن عبداللہ وغیرہ سے منقول ہے (قرطبی) رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے لئے ان الفاظ سے دعا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اللھم رحمتک ارجوا فلا تکلنی الی نفسی طرفة عین واصلح لی شانی کلہ لا الہ الا انت (ترجمہ) یا اللہ میں تیری…
Read the full tafseer →زمین اور آسمان دونوں میں ایک ہی خدا کی خدائی ہے
اس سے پہلے بھی اسی طرح کا سوال محذوف ہے جس کی مثالیں اوپر گزر چکی ہیں۔ یحنی خشکی و تری کی تاریکیوں میں جو رستہ دکھاتا ہے اور ابر رحمت سے پہلے جو موسمی ہوائوں کو چلا ات ہے وہ لائق عبادت اور سزا وار شکر ہے یا تمہارے یہ ناارہ معبود جو کسی مصرف کے نہیں ہیں ؟ بروبحر میں رستہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا ہے اس کی وضاحت قرآن میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ یہی مضمون دوسرے مقام میں وعلمت وبالنجرھم یھتدون (لنحل) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ یعنی خدا نے زمین میں بھی نشانات گاڑ دیے ہیں اور آسمان میں بھی ستاروں کے قمقمے لگادیے ہیں جو خشکی و تری دونوں کی…
Read the full tafseer →63-1یعنی آسمانوں پر ستاروں کو درخشانی عطا کرنے والا کون ہے ؟ جن سے تم تاریکیوں میں راہ پاتے ہو، پہاڑوں اور وادیوں کا پیدا کرنے والا کون ہے جو ایک دوسرے کے لئے سرحدوں کا کام بھی دیتے ہیں اور راستوں کی نشان دہی کا بھی۔
63-2یعنی بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں، جو بارش کی خوشخبری ہی نہیں ہوتیں، بلکہ ان سے خشک سالی کے مارے ہوئے لوگوں میں خوشی کی لہر بھی دوڑ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
32: للہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بہت سی باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ غیب کی خبریں حضور سرور دو عالم ﷺ کو عطا فرمائی گئی تھیں، لیکن مکمل علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے اس لئے اس کے سوا کسی کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔
Read the full tafseer →امن یھدیکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلی اللہ عما یشرکون (63)
سب لوگ بحری سفر کرتے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جو قرآن مجید کے مخاطب اول تھے۔ یہ لوگ بحرو بر کے راستوں میں سفر کرتے ہیں اور انہوں نے بحروبر کی تاریکیوں میں اپنے تجربات اور علم کے مطابق سفر کیے اور کرتے ہیں۔ ان سفروں میں وہ صحیح راستے معلوم کرلیتے ہیں ، وہ کون ہے جو ان سفروں میں انسان کو سیدھے راستے بتاتا ہے ؟ کس نے انسانوں کو یہ عقل و خرد عطا کیا جس کے ذریعے وہ ان راستوں کا ادراک کرتے ہیں۔ ستاروں کے علوم کس نے دئیے ، پھر آلات دریافت کرنے کی قوت کس نے دی۔ اور تجربات و نشانات کس نے بتائے ؟ وہ کون ذات ہے جس نے انسانی فطرت اور فطرت کائنات کے اندر…
Read the full tafseer →10 یعنی خشکی اور دریا کی اندھیریوں میں ستاروں کے ذریعہ سے تمہاری راہنمائی کرتا ہے۔ خواہ بلاواسطہ یا بالواسطہ قطب نما وغیرہ آلات کے۔
11 یعنی باران رحمت سے پہلے ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی آمد آمد کی خوشخبری سناتی ہیں۔
12 یعنی کہاں وہ قادر مطلق اور حکیم برحق اور کہاں عاجز و ناقص مخلوق، جسے اس کی خدائی کا شریک بتلایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو بادلوں کے آگے آگے باران رحمت کی نوید بن کر چلتے ہیں ‘ کیا انہیں چلانے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں تم لوگوں کو درست راستے سجھانے میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا بھی کوئی حصہ ہے ؟
Read the full tafseer →67 رات کی تاریکیوں میں راہ معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے چاند اور ستارے بنا دیئے۔ جن کی گردش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے ضا اطے مقرر فرما دیئے ہیں کہ وہ سیارے ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ اور اس قدرتی نظام کو انسان کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ ان سے یہ بھی معلوم کرسکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور یہ بھی اس وقت وہ کون سی سمت میں سفر کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسے ان سیاروں کی روشنی سے راستے نظر بھی آنے لگتے ہیں۔ اور آج کل جو قطب نما کا آلہ ایماد ہوا تو یہ بھی سیاروں ہی کا مرہون منت ہے۔ اگر یہ ستارے اللہ تعالیٰ پیدا نہ کرتا، یا ان کے نظام گردش میں باقاعدگی نہ ہوتی یا یہ بےنور ہوتے تو انسان…
Read the full tafseer →72۔ آیت میں ربوبیت تکوینی ہی کے بعض اور پہلوؤں کو نمایاں کرکے توحید پر استدلال کیا گیا ہے۔ (آیت) ” رحمتہ۔ رحمۃ “۔ یہاں بارش کے معنی میں ہے۔ یعنی المطر (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…
Read the full tafseer →اَمَّنْ یَّھْدِیْکُمْ یعنی جب تم رات کو سفر کرتے ہو تو خشکی اور سمندر میں ہونے والی تاریکیوں میں ستاروں اور زمین کے نشانہائے راہ کے ذریعہ کون تم کو راہ دکھاتا اور سوجھاتا ہے۔
رَحْمَۃ میں رحمت سے مراد بارش ہے۔ تَعَالَی اللہ یعنی وہ اللہ جو قادر و خالق ہے ‘ ان کافروں کے شرک سے پاک و برتر ہے۔ یہ جو عاجز مخلوق کو عبادت میں اس کا شریک قرار دیتے ہیں ‘ اللہ اس سے بالا ہے۔
Read the full tafseer →(63) اور پھر یہ بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو تمہیں حالت سفر میں خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں رستہ دکھاتا ہے اور جو ہواؤں کو بارش سے پہلے بھیجتا ہے جو بارش کی امید دلا کر دلوں کو خوش کردیتی ہیں کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی ایسا کرسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی شرکیہ باتوں سے برتر ومنزہ ہے۔
Read the full tafseer →اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ : یعنی یا وہ بہتر ہے جس نے ستاروں کے ذریعے سے ایسا انتظام کردیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کرسکتے ہو۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کردیے ہیں جن سے وہ اپنی سمت، سفر اور منزل مقصود کی طرف راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے، فرمایا : (وَعَلٰمٰتٍ ۭ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
مسئلہ نمبر :۔ امن یحیب المضطر اذا دعاہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد سخت ضرورت والا ہے۔ سدی نے کہا : جس کے پاس کوئی حیلہ اور قوت نہیں۔ ذوالنون مصری نے کہا : جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا سے تعلقات ختم کردیئے ہوں۔ ابو جعفر اور ابو عثمان نیشا پوری نے کہا : اس سے مرادمفلس ہے۔ سہیل بن عبداللہ نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس کے پاس طاعت سے کوئی وسیلہ نہ ہو جن کو وہ پیش کرے ایک آدمی مالک بن دینار کے پاس آیا اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے دعا کرنے میں مضطر ہو فرمایا : تو پھر اس سے سوال کر کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ہر تکلیف کو دور کرنا اللہ کی قدرت میں ہے
1۔ احمد وابوداوئد والطبرانی نے بلجیم کے ایک آدمی سے تو روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں آپ نے فرمایا میں ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو پس تو اس سے دعا کر تو وہ تجھ سے مصیب کو دو کردے گا اور اگر تو بےآب وگیاہ جگہ میں راستہ بھول جائے تو اسے پکار تو وہ تجھ کو جواب دے گا۔ اگر تجھ کو قحط سالی پہنچ جائے پھر تو اس سے دعا کرے تو وہ تیرے لیے بارش کو نازل کردے گا۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویکشف السوء “ سے رماد ہے تکلیف کو ہٹا دے گا۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے سحیم بن نوف…
Read the full tafseer →اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو ] يَّهْدِيْكُمْ [ راہ سجھاتا ہے تم کو ] فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ سمندر اور خشکی کے اندھیروں میں ] وَمَنْ يُّرْسِلُ [ اور جو بھیجتا ہے ] الرِّيٰحَ [ ہواؤں کو ] بُشْرًۢا [ خوشخبریاں ہوتے ہوئے ] بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت سے پہلے ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے ساتھ ] تَعٰلَى اللّٰهُ [ بلند ہوا اللہ ] عَمَّا [ اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شرک کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید
یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی…
Read the full tafseer →نوع چہارم متعلق بہ حاجات مخصوصہ در اوقات مخصوصہ
قال اللہ تعالیٰ امن یھدیکم فی ظلمت البر والبحر۔۔۔ الی۔۔۔ تعلی اللہ عما یشرکون۔
بھلا بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو تم کو بیانوں میں اور دریاؤں کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے یعنی اس نے تمہاری رہنمائی کے لئے ستارے پیدا کئے تاکہ اندھیروں میں ان کے ذریعہ راستہ معلوم کرسکو کما قال تعالیٰ وھو الذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر۔ اور ان ستاروں کا پیدا کرنے والا سوائے خدا کے کون ہے یہ تو ظاہری ستارے ہیں اور معنوی ستارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ہیں جن کے متعلق حدیث میں آیا ہے۔ اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم میرے تمام صحابہ نجوم…
Read the full tafseer →55:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے۔ جب تم جنگلوں اور سمندروں میں راستہ بھول جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ ہی تمہاری راہنمائی فرماتا ہے۔ اس نے زمین و آسمان میں ایسی علامتیں مقرر فرما دی ہیں جن سے تم اپنی منزل مقصود کی صحیح سمت معلوم کرسکتے ہو۔ باران تحمت سے پہلے بارش کی خوشخبری لانے والی ہوائیں بھی وہی چلاتا ہے۔ کیا یہ صفتیں اللہ کے سوا کسی اور میں موجود ہیں اور کیا اللہ کے سوا کوئی اور کارساز ہے ؟ جب اللہ کے سوا یہ صفتیں کسی اور میں موجد نہیں ہیں تو پھر کارساز بھی اور کوئی نہیں۔ کیا اس میں اب بھی کوئی شک ہے۔ بلا شبہہ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں سے پاک ہے جن کو مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے نشانات قدرت کے طور پر پہلے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات بیان ہوئے ، پھر قوم صالح اور قوم لوط کی نا فرمانیوں کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے اپنی توحید اور قدرت تامہ کا ذکر کیا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پچھلے واقعات سے لوگوں کو عبرت اور نصیحت مطلوب ہے تا کہ لوگ کفر ، شرک اور معاصی سے باز آجائیں اور خدا تعالیٰ کے غضب سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں ۔ اب اس رکوع میں اللہ کی توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جا رہے ہیں جن میں غور کرنے سے وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے اور انسان کفر و شرک سے بچ سکتا ہے۔
گزشتہ درس میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول ،…
Read the full tafseer →اَمَّنْ يَّہْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِہٖ 0ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ 0ۭ تَعٰلَى اللہُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 63ۭ
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
1 ؎ بارش۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اَمَّنْ یَّھْدِیْکُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّوَالْبَحْرِ وَمَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرً ما بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ط ئَ اِلٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (النمل : 63)
(بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور وہ کون ہے جو ہَوائوں کو اپنے بارانِ رحمت سے پہلے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، بہت بالا اور برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ )
اس میں دو سوالات کیے گئے ہیں، پہلا سوال خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ہدایت دینے یعنی راستہ دکھانے کا ہے۔ اور دوسرا سوال موسمی ہَوائوں کو اپنے ابر رحمت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ حق ہونے پر بحر و بر اور ہواؤں کے حوالے سے دلائل۔
اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت کے تین دلائل دیے ہیں جن میں سے دو کے ساتھ ہر شخص کا واسطہ پڑتا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جسے تھوڑے بہت سفر کے ساتھ واسطہ نہیں پڑتا۔ یہی صورت بارش کی ہے جس سے پہلے ہر ملک اور علاقہ میں ہوائیں چلتی ہیں۔ خاص طور پر شدید گرمی کے موسم میں جب لوگ بارش کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی دعاؤں کو مستجاب کرتے ہوئے بادل نمودار کرتا ہے۔ بادلوں سے پہلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے ہیں جس سے طبیعت بہلتی اور جسم و جان کو راحت ملتی ہے۔ ظاہر ہے…
Read the full tafseer →63: اَمَّنْ یَّہْدِیْکُمْ (یا وہ ذات جو تمہاری راہنمائی کرتا ہے) ۔ ستاروں کے ساتھ راہنمائی۔ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (سمندر اور خشکی کے اندھیروں میں) ۔ رات کو اور دن کے وقت زمین میں علامات کے ذریعہ۔ وَمَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ (اور جو ہوائیں بھیجتا ہے) ۔
قراءت : مکی ‘ علی ٗ حمزہ نے الریح پڑھا ہے۔
بُشْرًا (خوشخبری کے طور پر) ۔ یہ بشارت سے ہے۔ یہ سورة اعراف 57 آیت میں گزرا ہے۔ بَیْنَ یَدَی رَحْمَتِہٖ (بارش سے پہلے) ۔ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے) اللہ تعالیٰ ان شریکوں سے بلند تو ہیں جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →63۔ امن یھدیکم فی ظلمات البر والبحر، ، جب تم سمندر کا سفر کرو۔ ومن یرسل الریاح بشرا بین یدیہ رحمتہ، بارش مراد ہے۔ ء الہ مع اللہ تعالیٰ عمایشرکون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…
Read the full tafseer →(آیت 63
وہ کون ہے جو تمہیں اس وقت راہ دکھاتا ہے جب تم بحروبر کی تاریکیوں میں سفر کررہے ہوتے ہو جہاں تمہارے پاس کوئی راہنمائی کرنے والا ہوتا ہے نہ کوئی علامت دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی ایسا وسیلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے تم سے نجات حاصل کرسکو۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی تمہارے کام آتی ہے، وہ تمہارے لئے راستے کو آسان کرتا ہے وہ تمہیں اسباب مہیا کرتا ہے جن کے ذریعے سے تم صحیح راستہ پالیتے ہو۔ (ومن یرسل الریح بشرابین یدی رحمۃ) ” اور کون ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ “ یعنی بارش ہونے سے پہلے۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کو بھیجتا ہے وہ بادل اٹھاتی ہیں، ان کو اکٹھا کرتی ہیں پھر ان…
Read the full tafseer →70 خشکی اور تری میں راستہ دکھانے کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " بھلا وہ کون ہے جو تمہیں راہ دکھاتا ہے خشکی اور تری کے اندھیروں میں ؟ "۔ دریاؤں، نہروں، پہاڑوں اور دروں وغیرہ کے طرح طرح کے نشانات کے علاوہ آسمانی ستاروں اور سورج و چاند کے ذریعے۔ اور جب اس نے تمہارے لئے ان دنیاوی راستوں کی راہنمائی کا اس قدر انتظام و اہتمام فرمایا ہے تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری ابدی سعادتوں کے لئے راہنمائی کا کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ نیز انہی راستوں سے تم لوگ اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ تک رسائی حاصل کرسکتے ہو کہ جس نے اس قدر پر حکمت طریقے سے ہمارے لیے قسما قسم کے ان راستوں کا انتظام فرمایا وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔
بھلا…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی کون ہے جس نے ستاروں اور دوسری ارضی و سماوی نشانیوں سے ایسے انتظامات کردیئے ہیں۔ کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ معلوم کرلیتے ہو۔ اسی کو سورة نحل میں یوں فرمایا : وعرضات و بالنجمھم بھتدون۔ اور نشان اور ستاروں کے ذریعہ وہ راستہ پاتے ہیں۔ (آیت :26)
Read the full tafseer →(27:63) بشرا بروزن فعل بشیرۃ کی جمع ہے خوشخبری دینے والیاں۔ ملاحظہ ہو 65:48 ۔
بین۔ درمیان بیچ۔ بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے۔ جیسے بین البلدین۔ دو شہروں کے درمیان ۔ یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ مثلا بین الرجلین۔ دو شخصوں کے درمیان۔ بین القوم قوم کے درمیان۔ اور اس جگہ وحدت کے معنی ہوں وہاں بین کی اضافت ہو تو تکرار ضروری ہے جیسے ومن بیننا وبینک حجاب (41:5) اور درمیان ہمارے اور درمیان تیرے پردہ ہے۔ اور جب بین کی اضافت ایدی (ہاتھوں) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں جیسے ثم لاتینھم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں آؤں گا ان کے سامنے سے۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 :
امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 :
جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
خدا کی وحدانیت کی دلیلیں۔
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کا کام ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اس لیے کہ ان کا بنانا کچھ ایسا کام نہیں ہے کہ جو یہ حضرت انسان ایک ادنی چیز بناتے ہیں تو وہ محنت اور مشقت کرتے ہیں کہ اس کا ذکر محتاج بیان نہیں بس صاف اس سے معلوم ہوگیا کہ قابل عبادت کے وہی ذات ہے جس نے ایسے بڑے بڑے جسم بنا کے اپنی قدرت دکھائی اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے اس سے کیسے کیسے عمدہ باغ سرسبز تروتازہ اگائے تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ، کیا تم میں یہ طاقت…
Read the full tafseer →[21] یعنی بارش۔
Read the full tafseer →ف 1: چناچہ ارشاد ہے ۔ بتاؤ کہ الوہیت اور خدائی کے لئے وہ ذات زیادہ موزوں ہے ۔ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا جس نے آسمان کی بلندیوں سے تمہارے لئے پانی نازل کیا ۔ اور نہایت عمدہ عمدہ باغ پیدا کئے ۔ جن کو تم سر سبز و شاداب نہیں کرسکتے تھے ۔ یا وہ خود اصنام خیالی جو تم نے بنا رکھے ہیں کہو وہ عقیدت اور نیازمندی کے لئے سزاوار ولائق ہے ۔ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا ۔ اس میں نہریں رواں کیں اور اس کے استقرار کے لئے پہاڑ پیدا کئے ! اور دو دریاؤں میں بکمال حقیقت ایک قسم کی آڑ بنادی تاکہ آپس میں مختلط نہ ہونے پائیں ۔ ان میں ایک میٹھا ہے اور دوسرا کھاری یا تمہارے معبودان باطل ۔ قرآن پوچھتا ہے کہ…
Read the full tafseer →(63) بھلا کون ہے جو جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی اور رہبری کرتا ہے اور کون ہے جو اپنی رحمت اور بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا اور چلاتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بلندو بالاتر ہے یعنی جنگل کی اندھیریوں اور سمندر کی تاریکیوں میں کون سیدھا راستہ بتاتا ہے اور تاروں کے ذریعے کون تمہاری رہنمائی کرتا ہے اور اپنی رحمت یعنی بارش جو سراسر رحمت ہے اس بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں کون چلاتا ہے جس سے باران رحمت کی امید بلکہ یقین ہوجاتا ہے کیا ان باتوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی قابل عبادت ہے جو اس کی مدد کرتا اور ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 3۔ یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے۔
Read the full tafseer →خشکی اور ترکی کی تاریکیوں میں راستہ بتانے والا کون ہے ؟ :
63۔ دو باتوں کے متعلق ہی اس آیت میں سوال کیا گیا ہے فرمایا وہ کون ہے جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تم کو راستہ بتاتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری دے کر بھیجتا ہے ؟ راستہ بنانے کا مقصود ومطلب یہ ہے کہ اس نے ستاروں کا نظام اس طرح قائم کردیا ہے کہ رات کے وقت بھی وہ ستارے اپنے وجود سے لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں اور ان کو رخ بتاتے ہیں کہ تم کدھر جا رہے ہو ؟ اور تم کو کدھر جانا چاہئے ؟ گویا ستاروں کا نظام اتنا واضح اور پختہ ہے کہ ان کو دیکھ کر اپنی سمت اور رخ معلوم کیا جا سکتاے اللہ تعالیٰ نے بحری اور بری سفروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
Commentary
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ
(Or the One who responds to a helpless when he prays to Him and removes distress - 27:62)
Word الْمُضْطَرَّ (Mudtar) is derived from اِضطِرَار (Idtirar), which means to be helpless and restless under some necessity, and that happens when someone does not have any support and friends. Hence, مُضْطَرَّMudtar is that person who has lost all hopes from everyone and has turned to Allah as the sole redresser of his woes. This explanation of Mudtar is adopted by Suddi, Dhun-nun Al-Misri, Sahl ibn ` Abdullah etc. (Qurtubi).…
Read the full tafseer →78 That is, "He has made such arrangements by means of the stars that you can find your way even in the darkness of the night." This is also because of the wise planning of Allah that He has created such means by which man can determine his direction and the way to his destination in his journeys by sea and land. In the day time he is guided by different land-marks and the direction of sunrise and sun-set, and in the dark nights by the stars. In Surah An-Nahl this has been counted among the bounties of AIlah: "He has placed land-marks to direct people, and by the stars, too, they are guided…
Read the full tafseer →