سختیوں اور مصیبتوں کے وقت پکارے جانے کے قابل اسی کی ذات ہے۔ بےکس بےبس لوگوں کا سہارا وہی ہے گرے پڑے بھولے بھٹکے مصیبت زدہ اسی کو پکارتے ہیں۔ اسی کی طرف لو لگاتے ہیں جیسے فرمایا کہ تمہیں جب سمندر کے طوفان زندگی سے مایوس کردیتے ہیں تو تم اسی کو پکارتے ہو اسکی طرف گریہ وزاری کرتے ہو اور سب کو بھول جاتے ہو۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ ہر ایک بےقرار وہاں پناہ لے سکتا ہے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت اس کے سوا کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ! آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو اس وقت تیرے کام آتا ہے جب تو کسی…
Read the full tafseer →سورة النمل 76
مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے چناچہ قرآن مجید جگہ جگہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم خدا ہی سے فریاد کرتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، الانعام، حواشی 29۔ 41، جلد دوم یونس آیات 21۔ 22۔ حاشیہ 31۔ النحل حاشیہ 46، بنی اسرائیل حاشیہ 84، اور یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے، حتی کہ روس کے منکرین خدا جنہوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے، ان پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
معارف و مسائل
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ ، المضطر اضطرار سے مشتق ہے کسی ضرورت سے مجبور و بےقرار ہونے کو اضطرار کہا جاتا ہے اور وہ جبھی ہوتا ہے جب اس کا کوئی یارو مددگار اور سہارا نہ ہو۔ اس لئے مضطر وہ شخص ہے جو سب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہو کر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو فریاد رس سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو۔ مضطر کی یہ تفسیر سدی، ذوالنون مصری، سہل بن عبداللہ وغیرہ سے منقول ہے (قرطبی) رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے لئے ان الفاظ سے دعا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اللھم رحمتک ارجوا فلا تکلنی الی نفسی طرفة عین واصلح لی شانی کلہ لا الہ الا انت (ترجمہ) یا اللہ میں تیری…
Read the full tafseer →امن یجیب المضطراذا دعاہ ویکشف السوآء وریجعلکم خلفآء الارض ط والہ مع اللہ ط قلیلاً ماتذکرون (62)
قبولیت وہ کے باب میں بعض حقائق
اس سے پہلے بھی اسی طرح کا سوال محذوف ہے جس کی مثالیں اوپر گزر چکی ہیں، یعنی بتائو تمہارے یہ دیوی دیوتا بہتر ہیں جو نہ سنتے نہ دیکھتے، نہ ضرور پہنچا سکتے، نہ نفع نہ کسی کی فریاد رسی پر قادر نہ کسی کی مدد پر یا وہ ذات جو مضطر کی فریاد رسی اور اس کے دکھ درد کا ازالہ کرتی ہے ! یعنی جس کی بھی فریاد دی ہوتی ہے بہرحال اسی کی طرف سے ہوتی ہے، کسی اور کی طرف سے نہیں ہوتی۔ یہاں یہ امر یاد کھیے کہ یہی مضمون قرآن کے دوسرے مقامات میں مشیت الٰہی کی قید کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جس کے…
Read the full tafseer →62-1یعنی وہی اللہ ہے جسے سختی کے وقت پکارا جاتا اور مصیبتوں کے وقت جس سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں اس کی طرف رجوع کرتا اور برائی کو وہی دور کرتا ہے۔ مزید ملاحظہ ہو سورة الا سراء۔67سورة النمل۔5362-2یعنی ایک امت کے بعد دوسری، ایک قوم کے بعد دوسری قوم اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا کرنا ہے۔ ورنہ اگر وہ سب کو ایک ہی وقت میں وجود بخش دیتا تو زمین تنگ ہونے کا شکوہ کرتی معیشت میں بھی دشواریاں پیدا ہوتیں اور سب کو ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے میں ہی مصروف و سرگرداں رہتے۔ یعنی یکے بعد دیگرے انسانوں کو پیدا کرنا اور ایک کو دوسرے کا جانشین بنانا، یہ بھی اس کی کمال مہربانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
32: للہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بہت سی باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ غیب کی خبریں حضور سرور دو عالم ﷺ کو عطا فرمائی گئی تھیں، لیکن مکمل علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے اس لئے اس کے سوا کسی کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔
Read the full tafseer →امن یجیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلیلا ما تذکرون (62)
اب ان کے وجدان کو چھوا جاتا ہے۔ ان کے نفس کے اندر موجود خلجانات کو چھڑا جاتا ہے اور ان کی زندگی کے عملی حالات اور اہم واقعات کے دوران ان کے نفس کی کیفیات ان کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔ سمندر کے سفر میں جو لوگ نہایت ہی مشکل حالات میں گھر جاتے ہیں اور جہاں ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں اور بظاہر مدد کو پہنچنے والا کوئی نہیں رہتا۔ صرف اللہ کی مدد کی امید ہوتی ہے اور تمام سہارے ختم ہوجاتے ہیں۔ انسان ہر طرف نظر دوڑاتا ہے اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ زمین کی کوئی قوت ان کی مدد کو نہیں پہنچ رہی ہوتی۔ انسان اپنے خیال میں جن قوتوں کے سہارے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ۔ وہ…
Read the full tafseer →7 یعنی جب اللہ چاہے اور مناسب جانے تو بےکس اور بیقرار کی فریاد سن کر سختی کو دور کردیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَاۗءَ ) 6 ۔ الانعام :41) گویا اسی نے دعا کو بھی اسباب عادیہ میں سے ایک سبب بنایا ہے۔ جس پر مسبب کا ترتب بمشیت الٰہی استجماع شروط اور ارتفاع موانع کے بعد ہوتا ہے اور علامہ طیبی وغیرہ نے کہا کہ آیت میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ سخت مصائب و شدائد کے وقت تو تم بھی مضطر ہو کر اسی کو پکارتے ہو اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتے ہو، پھر فطرت اور ضمیر کی اس شہادت کو امن و اطمینان کے وقت کیوں یاد نہیں رکھتے۔
8 یعنی ایک قوم یا نسل کو اٹھا لیتا اور اس کی…
Read the full tafseer →وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ط
کہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس کی جانشین بنتی ہے اور یہ سلسلہ غیر منقطع طریقے سے اللہ تعالیٰ قائم رکھے ہوئے ہے۔
Read the full tafseer →65 یہ سوال اس لئے کیا گیا کہ مشر کیا مکہ کو خوب معلوم تھا کہ جب کسی کی جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت کے معبود کسی کام نہیں آسکتے۔ لہذا وہ ایسے آڑے وقتوں میں صرف اکیلے اللہ کو مدد اور نجات کے لئے پکارتے تھے۔ ) تشریح کے لئے دیکھئے سورة انعام کی آیت نمبر 41 کا حاشیہ ( اور ان سے سوال یہ کیا جارہا ہے کہ جب تمہیں اپنے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اس وقت نجات کے لئے اللہ ہی کو پکارتے ہو پھر وہ تمہاری اس مصیبت کو دور بھی کردیتا ہے اس وقت نہ کوئی پتھر کا بت اس کو رفع کرسکتا ہے نہ کوئی دوسرا معبود۔ تو پھر اللہ کی عبادت میں تم انھیں اس کا شریک یا ہمسر کیوں بناتے ہو ؟
66 اس جملہ دو مطلب ہیں۔ ایک یہ…
Read the full tafseer →71۔ اوپر کی آیتوں میں حق تعالیٰ کی صفات خالقیت، ناظمیت و ربوبیت پر توجہ دلائی جاچکی۔ اس آیت میں اس کی صفات فریاد رسی اور تصرف تکوینی یاد دلائی گئی ہیں۔ اور پہلی آیتوں میں خطاب خاص اگر عام مشرکوں سے تھا تو اس میں مخاطبت خصوصی مسیح پرستوں، مریم پرستوں اور ہر قسم کے روح پر ستوں اور پیر پرستوں سے ہے۔ (آیت) ” یجیب “۔ اور (آیت) ” یکشف “ سے یہ مطلب نہیں کہ اللہ ہمیشہ بندہ کے حسب مرضی فرماد قبول ہی کرلیتا ہے اور ہمیشہ مصیبت کو دور ہی کردیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کبھی بھی فریاد سنی جاتی اور دعاقبول ہوتی ہے تو یہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کسی اور کی طرف سے نہیں ہوتی۔ (آیت) ” ما تذکرون “۔ مازائد قلت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…
Read the full tafseer →امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوٓ . یا کون ہے ایسا کہ جب کوئی بےقرار اس کو پکارتا ہے
تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کردیتا ہے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں۔ اِضْطِرَار (باب افتعال) ضر سے بنا ہے۔ مُضْطَرٌّ یعنی وہ شخص جو ایسے دکھ میں مبتلا ہوگیا ہو جس سے مجبور ہو کر بےقراری کے ساتھ وہ اللہ کی طرف رخ کرتا اور اس سے پناہ کا خواستگار ہوتا ہے۔ اَلْمُضْطَرَّ میں الف لام جنسی ہے ‘ استغراق کے لئے نہیں ہے اس لئے ہر دعا کرنے والے کی ہر دعا قبول کرنا ضروری نہیں۔
ویجعلم خلفاء الارض . اور تم کو زمین کے وارث بناتا ہے۔ یعنی اسلاف کے جانشین اخلاف ہوتے ہیں۔
زمین کے وارث بنانے کا مطلب ہے…
Read the full tafseer →(62) یا وہ ذات جو بےقرار آدمی کی سنتا ہے جب وہ اپنی تکلیف دور کرانے کے لیے اس کو پکارتا ہے اور وہ اس کی مصیبت دور کردیتا ہے اور ایک قوم کی ہلاکت کے بعد پھر تمہیں کو زمین میں جانشین بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود یہ کام کرسکتا ہے ؟ مگر تم لوگ اس سے نصیحت نہیں حاصل کرتے۔
Read the full tafseer →اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ۔۔ : اس سے پہلے آفاق میں پائی جانے والی چیزوں کا ذکر تھا، جنھیں مشرکین بھی مانتے تھے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اب خود انسان کی ذات میں پائی جانے والی چند چیزوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ کیا تمہارے معبود بہتر ہیں یا وہ ذات پاک کہ جب تمام سہارے جواب دے جاتے ہیں اور تمہاری مجبوری اور بےچارگی آخری حد کو پہنچتی ہے تو تم بےاختیار اسے پکارتے ہو اور وہ تمہاری فریاد سنتا اور اسے قبول کرتا ہے ؟ ظاہر ہے اس کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ یقیناً وہی بہتر ہے۔ مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
مسئلہ نمبر :۔ امن یحیب المضطر اذا دعاہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد سخت ضرورت والا ہے۔ سدی نے کہا : جس کے پاس کوئی حیلہ اور قوت نہیں۔ ذوالنون مصری نے کہا : جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا سے تعلقات ختم کردیئے ہوں۔ ابو جعفر اور ابو عثمان نیشا پوری نے کہا : اس سے مرادمفلس ہے۔ سہیل بن عبداللہ نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس کے پاس طاعت سے کوئی وسیلہ نہ ہو جن کو وہ پیش کرے ایک آدمی مالک بن دینار کے پاس آیا اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے دعا کرنے میں مضطر ہو فرمایا : تو پھر اس سے سوال کر کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ہر تکلیف کو دور کرنا اللہ کی قدرت میں ہے
1۔ احمد وابوداوئد والطبرانی نے بلجیم کے ایک آدمی سے تو روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں آپ نے فرمایا میں ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو پس تو اس سے دعا کر تو وہ تجھ سے مصیب کو دو کردے گا اور اگر تو بےآب وگیاہ جگہ میں راستہ بھول جائے تو اسے پکار تو وہ تجھ کو جواب دے گا۔ اگر تجھ کو قحط سالی پہنچ جائے پھر تو اس سے دعا کرے تو وہ تیرے لیے بارش کو نازل کردے گا۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ویکشف السوء “ سے رماد ہے تکلیف کو ہٹا دے گا۔
3۔ ابن ابی شیبہ نے سحیم بن نوف…
Read the full tafseer →اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جو ] يُّجِيْبُ [ (دعا) قبول کرتا ہے ] الْمُضْطَرَّ [ مجبور کئے ہوئے کی ] اِذَا [ جب بھی ] دَعَاهُ [ وہ پکارے اس کو ] وَيَكْشِفُ [ اور وہ دور کرتا ہے ] السُّوْۗءَ [ برائی کو ] وَيَجْعَلُكُمْ [ اور بناتا ہے تم لوگوں کو ] خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ ۭ [ زمین کا (یعنی میں) خلیفہ ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ ] قَلِيْلًا مَّا [ بہت ہی تھوڑی ] تَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو ]
نوٹ۔ 1: مضطر وہ شخص ہے جو سب دنیا کے سہاروں سے مایوس ہوکر خالص اللہ تعالیٰ ہی کو فریاد رس سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مضطر کی دعا قبول کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید
یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی…
Read the full tafseer →نوع سوم متعلق بہ احتیاج انسان سوئے خداوند جہاں
بھلا بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے کہ جو مصیبت زدہ مضطر کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے بیماری اور تنگی کے دور کرنے پر سوائے خدا کے کوئی قادر نہیں۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور بر وبحر کے عجائب قدرت سے استدلال کیا اب اس آیت میں انسان کی ذاتی حاجت سے اپنی الوہیت پر استدلال کرتے ہیں کہ مصیبت اور بیقراری کی حالت میں انسان کا خدا کو پکارنا یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی معرفت انسان کی طبیعت میں راسخ ہے۔ مصیبت میں صرف خدا ہی کو پکارتا ہے کسی بت کو نہیں پکارتا اور ” مضطر “ اس…
Read the full tafseer →54:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ دلیل مقصودی ہے۔ یعنی جو بےچین اور پریشان مخلوق کی پکاریں سنتا اور قبول کرتا ہے اور مصائب و بلیات سے بچاتا ہے، جو سب کا خالق اور سب کو ان کی ضرورتیں مہیا کرتا ہے وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے اور اس کے سوا کوئی حاجت روا اور کارساز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے نشانات قدرت کے طور پر پہلے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات بیان ہوئے ، پھر قوم صالح اور قوم لوط کی نا فرمانیوں کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے اپنی توحید اور قدرت تامہ کا ذکر کیا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پچھلے واقعات سے لوگوں کو عبرت اور نصیحت مطلوب ہے تا کہ لوگ کفر ، شرک اور معاصی سے باز آجائیں اور خدا تعالیٰ کے غضب سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں ۔ اب اس رکوع میں اللہ کی توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جا رہے ہیں جن میں غور کرنے سے وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے اور انسان کفر و شرک سے بچ سکتا ہے۔
گزشتہ درس میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول ،…
Read the full tafseer →اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ 0ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ 0ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ 6 2ۭ
جوب
والجواب يقال في مقابلة السؤال،
والسؤال علی ضربین :
طلب مقال، وجوابه المقال .
وطلب نوال، وجوابه النّوال .
فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ،
وعلی الثاني قوله : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، أي : أعطیتما ما سألتما .
( ج و ب ) الجوب
جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے
اور سوال دو قسم پر ہے
( 1) گفتگو کا طلب کرنا اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے (2) طلب عطا یعنی خیرات طلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
پھر اس کے بعد یہ چند دلائل اللہ کے بہتر اور قادر مطلق وحدہ لاشریک لہ ہونے پر بیان فرماتا ہے۔ (1) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا پھر اوپر سے پانی برساکر اس سے عمدہ عمدہ اور کار آمد باغ اور درخت اگانا یعنی اس نے تمہارے لیے آسمان و زمین کا گھر بنایا اور اس میں تمہارے لیے روزی بھی پیدا کی۔ (2) زمین کو ٹھہرنے کے لیے بنایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں بنائیں۔ جو انسان کی راحت کے سامان ہیں، دو دریائوں میں پردہ رکھا۔ (3) بےقراری کے وقت انسان کی فریاد رسی وہی کرتا ہے نہ کہ اور۔ تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے ایک کے بعد دوسرا وارث ومالک ہوتا آتا ہے یعنی اس کا احسان تم پر پشت در پشت ہے۔ (4) تم کو جنگل اور…
Read the full tafseer →اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْٓئَ وَیَجْعَلُـکُمْ خُلَفَـآئَ الْاَرْضِط ئَ اِلٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ (النمل : 62)
(بھلا کون ہے جو بےقرار کی دعا سنتا ہے جب وہ اسے پکارے، اور اس کے دکھ کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے، تم لوگ کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ کی صفت اجابت ِ مضطر، کشفُ السوء اور زمین میں جانشینی کی وضاحت
اللہ تعالیٰ اپنی توحید پر دلائل قائم کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اسے معبود مانتا ہے جو بےقراری اور اضطراب کی حالت میں پکارنے والے کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ مزید سوال اور جواب۔
ان آیات میں مشرکین کو سوال و جواب کی صورت میں عقیدہ توحید سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مشرک کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی اور کامیابی کے وقت خالق حقیقی کو بھول جاتا ہے لیکن جب ہر طرف سے مایوس اور لاچار ہوجائے تو پھر اپنے رب کو آواز پر آواز دیتا ہے۔ انسان انتہائی مجبوری اور بےانتہا معذوری کے وقت اپنے رب کو پکارتا ہے تو رب کریم اسے ٹھکرانے اور مایوس کرنے کی بجائے اسے اطمینان اور تسلی دیتے ہوئے آواز دیتا ہے :
(قُلْ ےَا عِبَادِیَ الَّذِےْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےَغْفِرُ…
Read the full tafseer →62: اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ (یا کون ہے ایسا کہ جب کوئی بےقرار اس کو پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا کو قبول کرتا ہے) ۔ اضطرار۔ یہ ضرورت سے افتعال کا باب ہے۔ اضطرار ایسی حالت کو کہتے ہیں جو پناہ کی طرف مجبور کر دے۔ کہا جاتا ہے۔ اضطرہ الی کذا۔ فاعل و مفعول دونوں صیغے مضطر ہیں۔ مضطر۔ اس شخص کو کہتے ہیں جس کو مرض یا فقر یا حوادث زمانہ نے پناہ کی طرف اور گڑ گڑانے پر مجبور کردیا ہو۔ یا گناہ گار جب استغفار کرے یا مظلوم جب پکارے یا وہ آدمی جو اپنے ہاتھ اٹھائے اور اپنے پاس سوائے توحید کے کوئی نیکی نہ پائے اور اس کو اس مصیبت سے خطرہ ہو۔ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ (اور وہ مصیبت کو دور کرتا…
Read the full tafseer →62۔ امن یجیب المضطر، ، یعنی وہ شخص جو ای سے دکھ میں مبتلا ہوگیا ہے ، اذ دعاہ ویکشف السوئ، اس سے مراد تنگی اور مصیبت ہے۔ ویجعلکم خلفاء الارض، یعنی اہل علم نے کہا کہ انسانوں کو اللہ نے زمین پر جنات کا جانشین بنایا، اور بعض نے کہا کہ وہ تمہاری اولاد کو تمہارا خلیفہ بنائے گا اور بعض نے کہا کہ اللہ نے جنوں کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ ء الہ مع اللہ ، قلیلاماتذکرون، ابوعمر نے یاء کے ساتھ اور دوسرے حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…
Read the full tafseer →(آیت 62
یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی ہے جو مضطرب و مجبور کی دعاؤں کا جواب دیتی ہو کہ جسے کرب و غم نے بےقرار کر رکھا ہو، جس کے لئے مطلوب کا حصول مشکل ہو اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہے اس سے گلوخلاصی پر مجبور ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا برائی، مصیبت، شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو کون دور کرتا ہے ؟ کون ہے جو تمہین زمین میں خلیفہ بناتا ہے، زمین میں تمہیں تمکن عطا کرتا ہے، تمہیں رزق سے نوازتا ہے اور تمہیں اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کرتا ہے ؟ اور تم گزرے ہوئے لوگوں کے خلیفہ بنتے ہو جس طرح عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں موت سے ہمکنار کرے گا اور تمہارے بعد کچھ اور لوگوں کو لے آئے گا۔ کیا للہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →68 مضطر کی فریاد رسی اسی وحدہ لا شریک کی شان : سو ارشاد فرمایا گیا " بھلا کون ہے وہ جو مجبور و لاچار کی پکار سنتا ہے جبکہ وہ اس کو پکارتا ہے اور وہ اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے ؟ "۔ یعنی جب سب سہارے توڑ کر اور سب رشتے چھوڑ کر کوئی اس اکرم الاکرمین کی بارگہ اقدس میں حاضری دیتا ہے اور اپنی تکلیف پیش کرتا ہے تو وہ اسے اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے اس کو نوازتا ہے اور عجز و انکسار اور بےچارگی و درماندگی جس قدر زیادہ ہوگی اس کی رحمتوں کا نزول اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ اس سے مانگتے وقت رویا کرو۔ اور رونا اگر نہ آئے تو رونے کی شکل ہی بنا لیا کرو۔ نیز بیماروں، عاجزوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔
بھلا…
Read the full tafseer →6 ۔ مشرکین عرب خود اس چیز کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چناچہ دوسری آیات میں بھی ان سے اسی طرح کا خطاب فرمایا گیا ہے۔ (دیکھئے اسرا :63، فعل 53) مگر تعج ہے ہمارے زمانہ کے ان مسلمانوں پر جو توحید کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن مصیبت تک میں اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ ” یا رسول ﷺ اللہ “ ” یا غوث اعظم (رح) “ وغیرہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔
7 ۔ یا تم کو زمین کا خلیفہ ظالم و متصرف) بناتا ہے۔ ایک دوسرے کا جانشین بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو، اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو لے آتا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:62) یجیب۔ مضارع واحد مذکر غائب اجابۃ (افعال) مصدر وہ دعا قبول کرتا ہے۔
المضطر۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصب اضطرار (افتعال) مصدر ضر مادہ اصل میں یہ مضترر تھا۔ تاء افتعال کو طاء سے بدل دیا اور راء کو ادغام کردیا۔ بےبس، بےکس۔ بےقرار ۔ مجبور۔
دعاہ : دعا یدعوا (نصر) دعاء سے ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع المضطر ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے (جب ) وہ (مجبور) اس (اللہ تعالیٰ ) کو پکارتا ہے۔
یکشف، مضارع واحد مذکر غائب کشف یکشف کشف (باب ضرب سے) وہ دور کردیتا ہے۔ کشفت الثوب عن الوجہ سے ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پردہ اٹھانے کے ہیں مجازا غم و اندوہ دور کرنے کے لئے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 :
امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 :
جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
خدا کی وحدانیت کی دلیلیں۔
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کا کام ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اس لیے کہ ان کا بنانا کچھ ایسا کام نہیں ہے کہ جو یہ حضرت انسان ایک ادنی چیز بناتے ہیں تو وہ محنت اور مشقت کرتے ہیں کہ اس کا ذکر محتاج بیان نہیں بس صاف اس سے معلوم ہوگیا کہ قابل عبادت کے وہی ذات ہے جس نے ایسے بڑے بڑے جسم بنا کے اپنی قدرت دکھائی اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے اس سے کیسے کیسے عمدہ باغ سرسبز تروتازہ اگائے تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ، کیا تم میں یہ طاقت…
Read the full tafseer →[20] یعنی ایک قوم یا نسل کو اٹھا لیتا ہے اور اس کی جگہ دوسری کو آباد کرتا ہے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ تم کو زمین میں مالکانہ تصرف اور حکومت کے اختیارات عطا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
معبود حقیقی کون ہے ؟
1: یہاں سے بیسواں پارہ شروع ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں ۔ کہ یہاں سے کسی نئے مضمون کا آغاز ہو ۔ کیونکہ پاروں کی تقسیم مضامین کے اعتبار سے نہیں ہے ۔
اس سے قبل کی آیت میں سوال کیا گیا تھا ۔ ء اللہ خیر امایشرکون ۔ یعنی ان گذشتہ واقعات کو دیکھو اقوام و باطل کی تاریخ کو پڑھو اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو ۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عذاب سے بچایا ۔ اور کیونکر مخالفین کو عبرتناک سزائیں دیں ۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کرو کہ عزیز و غالب خدا بہتر ہے یا وہ جو تمہارے لئے بےجان بت ہیں ۔ اور جن میں نفع وضرر کی کوئی استعداد موجود نہیں ۔
ان آیات میں قرآن نے نہایت بلیغ اور دلنشین…
Read the full tafseer →(62) بھلا کون ہے جو بیقرار کی پکار کو پہنچتا ہے اور تکلیف و مصیبت کو دور کردیتا ہے جب بیقرار اس کو پکارتا ہے اور کون ہے جو تم کو زمین میں اگلوں کو نائب بناتا ہے اور تم کو زمین میں صاحب تصرف اور تصرف کا حقدار بناتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے اور یاد رکھتے ہو یعنی پہلوں کو لے جاتا ہے اور پیچھے آنیوالوں کو ان کے حقوق منتقل ہوجاتے ہیں اور پہلوں کے جانے کے بعد پچھلے تمام تصرفات کے حقدار ہوجاتے ہیں اسی طر ح مضطر و بیقرار جب اس کو پکارتا ہے تو اس کی پکار کو کون پہنچتا ہے اور کون اس کی مصیبت پریشانی اور تکلیف کو کھولتا اور دور کرتا ہے کیا کوئی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 3۔ یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے۔
Read the full tafseer →مضطر کی دعائیں سننے والا کون ہے اور کون ہے جو اس کے دکھ کو کھول دینے والا ہے ؟ :
62۔ مضطر کی بےقراری سے کون واقف نہیں اور کون ہے جو کبھی بےقرار نہ ہوا ؟ بلاشبہ کبھی ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ انسان زندگی پر مرنے کو ترجیح دینے لگتا ہے اور اگر اس کے اختیار میں ہو تو وہ فورا مر کر اپنی بےقراری کو ختم کرلے لیکن وہ لوٹ پوٹ ہو کر رہ جاتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی اس بےقراری کو دور کر دے اور مصیبت سے اس کو نکال دے ایسی حالت میں جب وہ ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے تو پھر انجام کار وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے فریاد کرتا ہے اور یقین جانتا ہے کہ اب اس کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ خالص اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
Commentary
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ
(Or the One who responds to a helpless when he prays to Him and removes distress - 27:62)
Word الْمُضْطَرَّ (Mudtar) is derived from اِضطِرَار (Idtirar), which means to be helpless and restless under some necessity, and that happens when someone does not have any support and friends. Hence, مُضْطَرَّMudtar is that person who has lost all hopes from everyone and has turned to Allah as the sole redresser of his woes. This explanation of Mudtar is adopted by Suddi, Dhun-nun Al-Misri, Sahl ibn ` Abdullah etc. (Qurtubi).…
Read the full tafseer →76 The Arab polytheists themselves knew and acknowledged that Allah alone could avert a disaster. Therefore, the Qur'an reminds them again and again that they implore Allah alone for help when they are confronted by a calamity. But when the calamity is removed, they start invoking others besides Allah. (For details, see E.N.'s. 29 to 41 of Al-An`am, Yunus: 21-22, E.N. 46 of An-Nahl, and E.N. 84 of Bani Isra'il). And this is not only true of the Arab polytheists but of all polytheists; so much so that even the Russian atheists who are regularly campaigning against God-Worship, had to invoke…
Read the full tafseer →