کائنات کے مظاہر اللہ تعالیٰ کی صداقت٭٭
زمین کو اللہ تعالیٰ نے ٹھہری ہوئی اور ساکن بنایا تاکہ دنیا آرام سے اپنی زندگی بسر کرسکے اور اس پھیلے ہوئے فرش پر راحت پاسکے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (اللہ الذی جعل لکم الأرض قرارا الخ) ، اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہری ہوئی ساکن بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔ اس نے زمین پر پانی کے دریا بہادئیے جو ادھر ادھربہتے رہتے ہیں اور ملک ملک پہنچ کر زمین کو سیراب کرتے ہیں تاکہ زمین سے کھیت باغ وغیرہ اگیں۔ اس نے زمین کی مضبوطی کے لئے اس پر پہاڑوں کی میخیں گاڑھ دیں تاکہ وہ تمہیں متزلزل نہ کرسکے ٹھہری رہے۔ اسکی قدرت دیکھو کہ ایک کھاری سمندر ہے اور دوسرا میٹھا…
Read the full tafseer →سورة النمل 74
زمین کا اپنی بےحد و حساب مختلف النوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔ اس کرہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہ ہوسکتی تھیں، یہ کرہ فضائے بسیط میں معلق ہے، کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے، مگر اس کے باوجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے، اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا جس کے خطرناک نتائک کا ہم کبھی زلزلہ آجانے سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ تھی، یہ کرہ باقاعدگی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
خلاصہ تفسیر
(پچھلی آیت کے آخر میں فرمایا تھا اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی کیا اللہ بہتر ہے یا وہ بت وغیرہ جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، یہ مشرکین کی بےوقوفی بلکہ کج فہمی پر نکیر تھی، آگے توحید کے دلائل کا بیان ہے، اے لوگو یہ بتلاؤ کہ) وہ ذات (بہتر ہے) جس نے آسمان اور زمین کو بنایا، اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ ہم نے رونق دار باغ اگائے (ورنہ) تم سے تو ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو (یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ (شریک عبادت ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین پھر بھی نہیں مانتے) بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ (دوسروں کو)…
Read the full tafseer →امن جعل الارض قراراوجعل خدلھا انھراً وجعل لھارواسی وجعل بین البحرین حاجزاً الہ مع اللہ ط بل اکثرھم لایعلمون یہاں بھی سوال کا پہلا جزو محذوف ہے یعنی بتائو تمہارے یہ فرضی دیوی دیوتا مستحق عبادت ہیں یا وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ؟ قرار کے معنی سکون وقرار کی جگہ کے ہیں۔ زمین کو دوسرے مقامات میں گہوارہ اور بستر سے بھی تعبیر فرمایا ہے۔ وہی مضمون یہاں لفظ قرار سے ادا کیا گیا ہے۔
وجعل خللھا انھراً یعنی جس طرح اس نے تمہاری پرورش کے لئے آسمان سے پانی اتارا اسی طرح اس زمین میں بھی دریا اور چشمے جاری کردیے۔
وجعل لھا رواسی اور اس زمین کو اپنے محور و مستقر پر لٹکائے رکھنے کے لئے اس نے اس…
Read the full tafseer →61-1یعنی ساکن اور ثابت، نہ ہلتی ہے، نہ ڈولتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین پر رہنا ممکن ہی نہ ہوتا زمین پر بڑے بڑے پہاڑ بنانے کا مقصد بھی زمین کو حرکت کرنے سے اور ڈولنے سے روکنا ہی ہے۔
61-2اس کی تشریح کے لئے دیکھیں (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان :53) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →31: جہاں دو دریا یا دو سمندر ملتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا ہے کہ دونوں کے پانی آپس میں ملتے نہیں ہیں، بلکہ دور تک دونوں دریا ساتھ ساتھ بہنے کے باوجود الگ الگ نظر آتے ہیں، گویا ان کے درمیان ایک آڑ کھڑی کردی گئی ہے۔
Read the full tafseer →امن جعل الارض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بل اکثرھم لایعلمون (61)
اس کائنات کی پہلی حقیقت اور اس کے بارے میں پہلا سوال جو انسانی ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی۔ پھر جب ہم کرہ ارض پر ہیں ، تو اس زمین کا اپنی موجودہ ہیئت پر وجود میں آنا ہمارے لیے ایک اہم سوال ہے۔ پھر یہ کہ اس زمین کو زندگی کا مستقر اور سکون کی جگہ بنایا گیا ہے۔ زمین کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر زندگی وجود پا سکتی ہےٗ یہاں اسے سکون ملتا ہے اور نشوونما کے اسباب ملتے ہیں۔ اگر اس زمین کی موجودہ شکل یہ نہ ہوتی اور شمس و قمر کے مقابلے میں اس کے موجودہ فاصلے نہ ہوتے یا اس کا حجم وہ نہ ہوتا جو ہے یا اس کے عناصر…
Read the full tafseer →3 یعنی آدمی اور جانوروں کی قیام گاہ ہے۔ آرام سے اس پر زندگی بسر کرتے اور اس کے محاصل سے منتفع ہوتے ہیں۔
4 یعنی پہاڑ رکھ دیے تاکہ ٹھہری رہے کپکپائے نہیں۔
5 اس کی تحقیق قریب ہی سورة " فرقان " میں گزر چکی۔ آیت (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا) 25 ۔ الفرقان :53) کا فائدہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
6 یعنی کوئی اور با اختیار ہستی ہے جس سے یہ کام بن پڑیں اور اس بناء پر وہ معبود بننے کے لائق ہو۔ جب نہیں تو معلوم ہوا کہ یہ مشرکین محض جہالت اور ناسمجھی سے شرک و مخلوق پرستی کے غار عمیق میں گرتے چلے جا رہے…
Read the full tafseer →ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”
کیا کوئی ایسی دوسری ہستی تمہاری نظر میں ہے جو ان کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک ہو ؟
بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ”
تاویل خاص کے اعتبار سے ان آیات کے مخاطبینِ اوّلین مشرکین مکہّ تھے اور ان کے پاس ان پے در پے سوالات کا ایک ہی جواب تھا ‘ اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ! اس حوالے سے ان کے خیالات ‘ نظریات اور عقائد کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے شرک کی صورت اور نوعیت کیا تھی ؟ چناچہ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو معبود بھی مانتے تھے اور اس کو اس کائنات کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ کچھ شخصیات…
Read the full tafseer →62 اس ایک جملہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں ہیں۔ یہ بات تو ہزار ہا ہزار سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارا یہ عظیم الجثہ کرہ زمین گول ہے اور فضائے بسیط میں معلق ہے۔ زمین کا اکثر حصہ سمندر ہے۔ اور زمین کے گول ہونے کے باوجو ود پانی اس سے گر نہیں جاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کرہ سماوی کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے۔ جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخود کسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں ماسوائے گیسوں اور ابخرات آبی کے کہ ان کا کرہ ہی زمین سے اوپر ہے۔ اگر کوئی گیس جو عام ہوا سے ہلکی ہوگی زمین سے بھی نکلے گا تو از خود…
Read the full tafseer →70۔ چناچہ اتنی موٹی سی بات کو نہ کلدانیہ والے سمجھے نہ مصر والے، نہ ہندوستان والے نہ ایران والے۔ نہ یونان والے نہ رومہ والے سب نے اپنے ” کمال تہذیب “ و ” عروج تمدن “ کے زمانہ میں پرستش دوسروں کی کی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” البحرین “۔ ملاحظہ ہو سورة الفرقان آیت (آیت) ” ھو الذی مرج البحرین “۔ الخ کا حاشیہ۔ (آیت) ” لھا “ یعنی زمین کی خاطر۔ زمینی مصلحتوں کے لحاظ سے۔ اے لصلاح امرھا (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…
Read the full tafseer →امن جعل الارض قرارا وجعل خللھا انھرا وجعل لھا رواسی وجعل بین البحرین حاجزاء الہ مع اللہ بل اکثرھم لا یعلمون . یا وہ ذات جس نے زمین کو مخلوق کی قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان
دریائے بنائے اور اس (کو ٹھہرنے) کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان ایک حد فاصل بنا دی۔ کیا اللہ کی موجودگی میں کوئی اور معبود ہے ؟ (مگر مشرکین نہیں مانتے) بلکہ ان میں سے اکثر سمجھتے بھی نہیں۔
جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا یعنی زمین کے کچھ حصہ کو پانی سے ابھار کر رہنے اور ٹھہرنے کے قابل بنا دیا۔
وَجَعَلَ خِلٰلَھَآ انھرا یعنی زمین کے درمیان دریا جاری کئے۔
وَجَعَلَ لَھَا رَوَاسِیَ اور زمین کے لئے پہاڑوں کو (میخوں کی…
Read the full tafseer →(61) اور یہ بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور زمین کے ٹھہرانے کے لیے میخوں کی طرح مضبوط پہاڑ بنائے اور شیریں اور تلخ دو دریاؤں کے درمیان ایک حد بنائی جس کی بنا پر ایک دوسرے کا پانی ایک دوسرے سے نہیں ملتا اب بتاؤ کہ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور معبود کی یہ کارگزاریاں ہیں بلکہ ان میں اکثر تو اس چیز کی تصدیق ہی نہیں کرتے اچھا اور سن کر بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں۔
Read the full tafseer →اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا : یا کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔ مفسر عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”اس ایک جملے میں اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں۔ یہ بات تو ہزاروں سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارا یہ عظیم الجثہ کرۂ زمین گول ہے اور فضا میں معلق ہے۔ زمین کا اکثر حصہ سمندر ہے اور زمین کے گول ہونے کے باوجود پانی اس سے گر نہیں جاتا۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر آسمانی کرہ کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے، جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخود کسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں، ماسوائے گیسوں اور آبی بخارات کے کہ…
Read the full tafseer →امن جعل الارض قراراً قرار، مستقر کے معنی میں ہے وجعل خلھآ انھرا، خلال کا معنی وسط ہے جس طرح ارشاد باری تعالیٰ : فجرنا خللہما نھراً ۔ (الہکف) وجعل لھار واسی اور اس سے مراد پہاڑ ہیں جو زمین کو روکے رکھتے ہیں اور حرمت سے منع کرتے ہیں۔ وجعل بین البحرین حاجزاً اس کی قدرت سے مانع تاکہ میٹھا، نمکین سے نہ مل جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حاجز کا عنی سلطان ہے، یعنی اپنی قدرت سے سلطان بنا دیا نہ یہ دوسرے کو تبدیل کرتا ہے نہ دوسرا پہلے کو تبدیل کرتا ہے۔ حجز کا معنی روکنا ہے الہ مع اللہ جب یہ ثابت ہے کہ اس پر کوئی غیر قادر نہیں تو وہ ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نفع و نقصان نہیں دیتے ؟ بل اکثرھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
1۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” حدائق “ کے بارے میں بتائیے ( کہ اس سے کیا مراد ہے) فرمایا اس سے مراد ہیں باغات پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
بلاد سقا ہا اللہ اما سہولہا فقصنب ودر مغدق وحدائق
ترجمہ : یہ ایسے شہر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سیراب کیا اس کے میدانی علاقوں میں سبزیاں دودھ اور باغات ہیں۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حدائق سے مراد ہے بہت عمدہ کھجور کے درخت آیت ” ذات بہجۃ “ تروتازہ۔
3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] الْاَرْضَ [ زمین کو ] قَرَارًا [ ٹھہرائی ہوئی ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنائیں ] خِلٰلَهَآ [ اس کی دراڑوں سے ] اَنْهٰرًا [ نہریں ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنائے ] لَهَا [ اس (زمین ) کے لئے ] رَوَاسِيَ [ کچھ پہاڑ ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ [ دو سمندروں کے درمیان ] حَاجِزًا ۭ [ ایک رکاوٹ ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کو یہ الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ[ اللہ کے ساتھ ] بَلْ [ بلکہ ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے
ح ج ز
(ن۔ ض) حجزا منع کرنا۔ روک دینا۔
حاجز اسم الفاعل کے وزن پر صفت۔ روکنے والا۔ رکاوٹ۔ آڑ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید
یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی…
Read the full tafseer →نوع دوم متعلق بہ کائنات زمین
امن جعل الارض قرارا وجعل خللھا انھارا۔۔۔۔ الی۔۔۔ بل اکثرہم لا یعلمون۔
بھلا بتلاؤ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے جس نے زمین کو آدمیوں اور چوپایوں کے لئے قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس نے زمین کو ٹھہرانے کے لئے پہاڑ بنائے یعنی اس نے اپنی قدرت سے زمین کو جائے قرار بنایا کہ جو اپنی جگہ ٹھہری ہوئی ہے اور جمع ہوئی ہے کہ نہ جھکتی ہے اور نہ ہلتی ہے اگر وہ ہلتی اور کانپتی رہتی تو کوئی ذی حیات اس پر زندگی نہ بسر کرسکتا اور نہ اس کی عیش خوشگوار ہوتی۔ اللہ نے اس کو اپنے فضل اور رحمت سے ایسا جما ہوا فرش بنا دیا کہ ہلتا نہیں۔
اور اس نے دو دریاؤں کے…
Read the full tafseer →53:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ جس نے زمین کو پرسکون بنایا، اس میں دریا اور ندیاں بہا دیں، اس کے اضطراب کو دور کرنے کے لیے اس پر پہاڑ رکھ دئیے اور دو مختلف الذائقہ سمندروں میں پردہ حائل کردیا۔ کیا وہ بہتر ہے یا تمہارے عاجز و بےبس معبود۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ اور کارساز ہے جو یہ مذکورہ کام کرسکے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
ربط آیات
نصیحت اور عبرت کے لیے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کی ہلاکت و تباہی کا ذکر کیا ۔ پھر درمیان میں حضرت سلیمان اور سبا والوں کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد قوم ثمود کی تباہی کا تذکرہ ہو اور پھر قوم لوط کی ہلاکت کا بیان ہوا ، یہ تمام قومیں کفر ، شرک اور نافرمانی کی بدولت تباہ و برباد ہوئیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے بعض عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ شرک کا رد کیا ہے۔
اللہ کی حمد و ثناء
یہ ایک مسلمہ اصول یہ کہ جب بھی کوئی اہم بات کرنا مطلب ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی جاتی ہے اور پھر اس کے مکرم بندوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد اصل بات…
Read the full tafseer →اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَہَآ اَنْہٰرًا وَّجَعَلَ لَہَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا 0ۭ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللہِ 0ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 61ۭ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
پھر اس کے بعد یہ چند دلائل اللہ کے بہتر اور قادر مطلق وحدہ لاشریک لہ ہونے پر بیان فرماتا ہے۔ (1) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا پھر اوپر سے پانی برساکر اس سے عمدہ عمدہ اور کار آمد باغ اور درخت اگانا یعنی اس نے تمہارے لیے آسمان و زمین کا گھر بنایا اور اس میں تمہارے لیے روزی بھی پیدا کی۔ (2) زمین کو ٹھہرنے کے لیے بنایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں بنائیں۔ جو انسان کی راحت کے سامان ہیں، دو دریائوں میں پردہ رکھا۔ (3) بےقراری کے وقت انسان کی فریاد رسی وہی کرتا ہے نہ کہ اور۔ تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے ایک کے بعد دوسرا وارث ومالک ہوتا آتا ہے یعنی اس کا احسان تم پر پشت در پشت ہے۔ (4) تم کو جنگل اور…
Read the full tafseer →اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰـلَھَـآ اَنْھٰرًا وَّجَعَلَ لَھَا رَوَاسِیَ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیِنْ حَاجِزًا ط ئَ اِلٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (النمل : 61)
(بھلا کس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے درمیان دریا رواں کردیئے اور اس زمین کے لیے اس نے پہاڑوں کے لنگر بنا دیئے اور دو سمندروں کے درمیان اس نے پردہ ڈال دیا، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے بلکہ ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
زمین کے جائے قرار ہونے کی وضاحت اور اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتیں
قرار کا معنی ہے مستقر یعنی ٹھہرنے کی جگہ۔ یعنی ایسی جگہ جہاں آدمی خوشی اور آرام سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
لوگو ! بتاؤ کہ کس نے زمین میں ٹھہراؤ پیدا کیا، اس میں دریا اور نہریں چلائیں، کس نے بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ بنائے اور کس نے دو سمندروں کے درمیان ایک پردہ بنایا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بنانے والا ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے یہ کام نہیں کیے۔ دلائل جاننے کے باوجود لوگوں کی اکثریت توحید کے علم سے نابلد ہے۔ سوالات کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین عظیم قدرتوں کا ذکر کیا ہے۔
قرار کے لفظ پر آپ جتنا غور کریں گے اتنے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شان ربوبیت کے کرشمے آپ کو یہاں نظر آئیں گے۔ انسانی زندگی کی بقا اور…
Read the full tafseer →61: اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ (یا وہ ذات جس نے زمین کو بنایا) ۔ اس کا ما بعد ام من خلق سے بدل ہے۔ اور اس کا حکم وہی ہے کہ ام منقطعہ اور استفہام تقریری ہے۔ قَرَارًا (قرار گاہ) ۔ زمین کو بچھایا اور اس کو قرار کے لئے درست کردیا۔ وَجَعَلَ خِلٰلَہَا (اور اس کے درمیان بنائے) ۔ خلالہاظرف ہے۔ یعنی اس کے وسط میں۔ اَنْہٰرًا (نہریں) ۔ نحو : یہ اول مفعول ہے اور دوسرا خلالہا ہے۔ اور بین البحرین بھی اسی کی مثل ہے۔ وَجَعَلَ لَہَا (اور اس کے لئے بنائے) ۔ ہا کا مرجع الارض ہے۔ رَوَاسِیَ (پہاڑ) جو کہ حرکت سے اس کو روکنے والے تھے۔ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ (اور بنائے دو سمندروں کے درمیان) ۔ بحرین سے میٹھا اور…
Read the full tafseer →61۔ امن جعل الارض قرارا، اس کے اہل ٹھہرنے کے قابل نہیں بنایا۔ وجعل خلالھا، اس کے درمیان دریاجاری کیے۔ انھارا، وجعل لھارواسی، اور زمین کے لیے پہاڑوں کو میخیں بنادیا۔ وجعل بین البحرین، میٹھے اور نمکین دریا کو، حاجزا، ایک آڑ تاکہ ایک دوسرے میں مل نہ جائیں۔ ء الہ مع اللہ بل اکثرھم لایعلمون، اپنے رب کی توحید اور اس کی بادشاہت کو نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…
Read the full tafseer →(آیت 61
یعنی کیا یہ بت اور اضام جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، جو رزق دینے پر قادر ہیں نہ کوئی نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں، وہ بہتر ہیں یا اللہ تعالیٰ ؟ جس نے (جعل الارض قرارا) ” زمین کو قرار گاہ بنایا “ جہاں بندے گھر اور ٹھکانا بناتے ہیں، کھیتی باڑی کرتے ہیں، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور ادھر ادھر آتے جاتے ہیں۔ (وجعل خللھا انھرا) یعنی اس نے زمین کے اندر دریا جاری کئے جن سے اس کے بندے اپنی کھیتیوں اور باغات میں فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے خود پانی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں۔
(وجعل لھا رواسی) ” اور رکھ دئیے اس کے اندر بوجھ۔ “ یعنی زمین کے اندر پہاڑ جمادئیے جو…
Read the full tafseer →65 بھلا وہ کون ہے جس نے جائے قرار بنادیا اس زمین کو : اپنی بےپایاں قدرت و عنایت سے تاکہ تم لوگ سکون و اطمینان کے ساتھ اس میں رہ بس سکو۔ اس کو ڈولنے سے بچایا۔ اور تمہاری ضرورت کے ہر سامان سے اس کو آراستہ و پیراستہ فرما دیا۔ محض اپنی رحمت و عنایت اور فضل و کرم سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس خدائے ذوالجلال کی معرفت کیلئے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لیے تم لوگ اپنی پیش پا افتادہ اسی زمین کے بارے میں غور کرلو جس پر تم لوگ رہتے بستے اور چلتے پھرتے ہو۔ سو ذرا سوچو کہ اس کو تمہارے لیے اس طرح جائے قرار و سکون کس نے بنایا ؟ کیا تمہارے ان خودساختہ اور من گھڑت معبودوں، دیویوں اور دیوتاؤں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔
بھلا…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی اس میں گردش، پانی، ہوا، آگ، سردی، گرمی، غرض ہر چیز کا متوازن نظام قائم کر کے اسے اس قابل بنایا کہ اس پر آدمی اور جانور آرام سے زندہ رہتے اور اس کی پیداوار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی معنی زمین کے ” وحو “ اور ” تسویہ “ کے ہیں۔ (کبیر) 4 ۔ تاکہ ڈگمگائے نہیں اور سکون سے ایک مقرر راستہ پر حرکت کرتی رہے۔ (دیکھئے سورة نمل :5، الانبیا 8، لقمان :30) 5 ۔ کہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط نہیں ہوسکتے۔ (دیکھئے فرقان :53)
Read the full tafseer →(27:61) امن۔ آیت 59 سے جو توحید کا مضمون شروع ہوا تھا وہ آیت 64 تک چلا گیا ہے اور اس ذات وحدہ لاشریک کی قدرت کے مختلف کرشمے بیان کر کرے منکرین توحید کو چیلنج کیا گیا ہے کہ بھلا بتاؤ قدرت کی ان صناعیوں میں کوئی دوسرا بھی شریک ہوسکتا ہے۔ پھر آیات 65 ، 66 میں ان کی اس شدید گمراہی کی وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ یہاں پھر منکرین توحید سے تنبیہا سوال ہوتا ہے کہ وہ بت (جن کی تم پوجا کرتے ہو) بہتر ہیں یا وہ ذات احد (جس کی صفات آگے گنائی گئی ہیں)
قرارا۔ اسم مصدر (ٹھہراؤ) یا مصدر (ٹھہرنا) یہاں ٹھہرنے کی جگہ مراد ہے بمعنی مستقرا۔ منصوب بوجہ فعل کے مفعول کے ہے یا بوجہ حال ہونے کے۔
خللھا مضاف مضاف الیہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 :
امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 :
جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
خدا کی وحدانیت کی دلیلیں۔
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کا کام ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اس لیے کہ ان کا بنانا کچھ ایسا کام نہیں ہے کہ جو یہ حضرت انسان ایک ادنی چیز بناتے ہیں تو وہ محنت اور مشقت کرتے ہیں کہ اس کا ذکر محتاج بیان نہیں بس صاف اس سے معلوم ہوگیا کہ قابل عبادت کے وہی ذات ہے جس نے ایسے بڑے بڑے جسم بنا کے اپنی قدرت دکھائی اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے اس سے کیسے کیسے عمدہ باغ سرسبز تروتازہ اگائے تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ، کیا تم میں یہ طاقت…
Read the full tafseer →[19] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فرقان حاشیہ 33 صفحہ 859۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
معبود حقیقی کون ہے ؟
1: یہاں سے بیسواں پارہ شروع ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں ۔ کہ یہاں سے کسی نئے مضمون کا آغاز ہو ۔ کیونکہ پاروں کی تقسیم مضامین کے اعتبار سے نہیں ہے ۔
اس سے قبل کی آیت میں سوال کیا گیا تھا ۔ ء اللہ خیر امایشرکون ۔ یعنی ان گذشتہ واقعات کو دیکھو اقوام و باطل کی تاریخ کو پڑھو اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو ۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عذاب سے بچایا ۔ اور کیونکر مخالفین کو عبرتناک سزائیں دیں ۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کرو کہ عزیز و غالب خدا بہتر ہے یا وہ جو تمہارے لئے بےجان بت ہیں ۔ اور جن میں نفع وضرر کی کوئی استعداد موجود نہیں ۔
ان آیات میں قرآن نے نہایت بلیغ اور دلنشین…
Read the full tafseer →(61) بھلا کس نے زمین کو بسنے والوں کے لئے قرار گاہ بنایا اور زمین کو ٹھہرنے کے لائق بنایا اور زمین کے درمیان ندیاں بنائیں اور اس زمین کے ٹھہرانے کے لئے بھاری بھاری پہاڑ بنائے اور دو دریائوں کے مابین ایک آڑ بنائی کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ہرگز نہیں بلکہ ان میں کے بہت سے تو اتنی موٹی بات سمجھتے بھی نہیں یعنی زمین کو ایسا بنایا کہ اس میں انسان اور حیوانات آباد ہوسکیں پھر اس زمین کے درمیان ندیاں بنائیں جس کے پانی کو پیا جاسکے اور کھیتی کے کام میں بھی آسکے اور زمین کے ٹھیرائو اور جمائو کے لئے جگہ جگہ زمین میں بھاری پہاڑ بنائے اور دودریائوں کے درمیان روک اور حاجب بنایا کہ دو دریا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 3۔ یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے۔
Read the full tafseer →بےقرار کی دعائیں کون سنتا ہے اور تم کو زمین میں خلیفہ کس نے بنادیا ؟ :
61۔ ذرا تقابل کرکے تو دیکھو کہ وہ لوگ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہے اور وہ بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا ہے اور اس کے درمیان دریا بنائے اور زمین میں بڑے بڑے بھاری پہاڑ گاڑ دیئے اور دو دریاؤں کے درمیان ایک خاص حد فاصل بنا دی کٹنی موٹی اور عام فہم بات ہے لیکن اس کو سمجھنے کی کیوں کوشش نہ کی گئی تعجب ہے کہ اس کو نہ کلدانیہ والے سمجھے ‘ نہ مصر والے ‘ نہ ایران والے اور نہ ہندوستان والے ‘ نہ روم والے اور نہ یونان والے سب نے اپنے کمال اور عروج و تمدن کے زمانہ میں پرستش کی تو دوسروں کی کی اور اب تک لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
Commentary
This incident has been related at many places in the Qur'an, especially in Surah Al-A` raf, where its necessary details have been discussed and may be consulted if required.
قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ (Say,"Praise belongs to Allah - 27:59). After describing some events of the prophets and earlier people, and the episodes of torments they faced, this sentence is addressed to the Holy Prophet ﷺ ، that he should express his gratitude to Allah Ta’ ala, for his followers have been exempted from the punishment in this world. He is further asked to say salam to the earlier prophets and…
Read the full tafseer →74 It is not a simple thing for the earth to be a place of rest for the countless kinds of different creations living on it. If man looks into the wise harmony and coordination with which this sphere of the earth has been established, he is simply amazed and starts feeling that these harmonies and concordances and relations could not be brought about without the grand design of an All-Wise, AllKnowing and All-Powerful God. This sphere of the earth is floating in space and is not resting on anything, yet there is no commotion and no vibration in its movement. Had there been any vibration in…
Read the full tafseer →