بیان کیا جارہا ہے کہ کل کائنات کار چلانے والا، سب کا پیدا کرنے والا، سب کو روزیاں دینے والا، سب کی حفاظتیں کرنے والا، تمام جہان کی تدبیر کرنے والا، صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ان بلند آسمانوں کو چمکتے ستاروں کو اسی نے پیدا کیا ہے اس بھاری بوجھل زمین کو ان بلند چوٹیوں والے پہاڑوں کو ان پھیلے ہوئے میدانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کھیتیاں، باغات، پھل، پھول، دریا، سمندر، حیوانات، جنات، انسان، خشکی اور تری کے عام جاندار اسی ایک کے بنائے ہوئے ہیں۔ آسمانوں سے پانی اتارنے والا وہی ہے۔ اسے اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ اسی نے بنایا، باغات کھیت سب وہی اگاتا ہے۔ جو خوش منظر ہونے کے علاوہ بہت مفید ہیں۔ خوش…
Read the full tafseer →سورة النمل 73
مشرکوں میں سے کوئی بھی اس سوال کا یہ جواب نہ دے سکتا تھا کہ یہ کام اللہ کے سوا کسی اور کے ہیں، یا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ان میں شریک ہے، قرآن مجید دوسرے مقامات پر کفار مکہ اور مشرکین عرب کے متعلق کہتا ہے وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ، " اور اگر ان سے پوچھو کہ خود انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے " (الزخرف، آیت 87) وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ، " اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا اور مردہ پڑی ہوئی زمین کو جلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
خلاصہ تفسیر
(پچھلی آیت کے آخر میں فرمایا تھا اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی کیا اللہ بہتر ہے یا وہ بت وغیرہ جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، یہ مشرکین کی بےوقوفی بلکہ کج فہمی پر نکیر تھی، آگے توحید کے دلائل کا بیان ہے، اے لوگو یہ بتلاؤ کہ) وہ ذات (بہتر ہے) جس نے آسمان اور زمین کو بنایا، اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ ہم نے رونق دار باغ اگائے (ورنہ) تم سے تو ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں) کے درختوں کو اگا سکو (یہ سن کر اب بتلاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ (شریک عبادت ہونے کے لائق) کوئی اور معبود ہے (مگر مشرکین پھر بھی نہیں مانتے) بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ (دوسروں کو)…
Read the full tafseer →اس آیت اور اس کے بعد کی آیات کے صحیح زور کو سمجھنے لئے عزبیت کے اس اسلوب کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی طرف ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اشارہ کرتے آئے ہیں کہ اس قسم کے سوالیہ جملوں میں مقصود استفہام اور سوال و جواب نہیں ہوتا بلکہ افحام، تامام حجب اور زجر و تنبیہ ہوتا ہے۔ متکلم پورے زور بیان کے ساتھ سوالیہ انداز میں حقائق کو پیش کرتا جاتا ہے اور مخاطب کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کئے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے۔ گویا اس کی تردید میں کچھ کہنے کے لئے گنجائش کسی کے لئے سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس زور بیان کے تقاضے سے اس قسم کے جملوں میں بعض اجزائے کلام حذف کردیئے جاتے ہیں جن کو مخاطب خود سمجھ لیتا ہے یا اس کو سمجھ…
Read the full tafseer →60-1یہاں سے پچھلے جملے کی تشریح اور اس کے دلائل دئیے جا رہے ہیں کہ وہی اللہ پیدائش، رزق اور تدبیر وغیرہ میں متفرد ہے۔ کوئی اسکا شریک نہیں ہے۔ فرمایا آسمانوں کو اتنی بلندی اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا، ان میں درخشاں کواکب، روشن ستارے اور گردش کرنے والے افلاک بنانے والا اسی طرح زمین اور آسمان سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے بارونق باغات اگانے والا کون ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو زمین سے درخت ہی اگا کر دکھا دے ؟ ان سب کے جواب میں مشرکین بھی کہتے اور اعتراف کرتے تھے کہ یہ سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر ہے۔ (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ…
Read the full tafseer →30: واضح رہے کہ کفار مکہ یہ بات مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، مگر ساتھ ہی وہ کہتے تھے کہ اس نے کائنات کے انتظام کے بہت سے شعبے دوسرے خداؤں کو سونپ دئیے ہیں، اس لیے ان کی عبادت کرنی چاہیے۔
Read the full tafseer →امن خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم یعدلون۔ آیت نمبر 60
” زمین و آسمان ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ہمارے اردگرد قائم ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ جن الہوں کو وہ پکارتا ہے ان میں سے کسی نے ان کو پیدا کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ تو اصنام و اوثان اور مائک و شیاطین اور شجر و حجر کے پوجنے والے تھے یا پھر شمس و قمر کے پجاری تھے۔ لہٰذا یہ بات بدیہی ہے کہ ان چیزوں نے اس کائنات کو پیدا نہیں کیا ، بلکہ مشرکین میں ایسے بیوقوف بھی نہ تھے جو یہ دعویٰ کرتے ہوں کہ یہ کائنات خود اپنے وجود کی وجہ سے قائم ہے۔ بذات خود خالق و مخلوق ہے۔ اس قسم کے کم عقل صرف ہمارے ترقی یافتہ دور ہی میں…
Read the full tafseer →1 سرے سے درختوں کا اگانا تمہارے اختیار میں نہیں۔ چہ جائیکہ اس کا پھل پھول لانا اور بارآور کرنا۔
2 یعنی تمام دنیا جانتی ہے اور خود یہ مشرکین بھی مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا، بارش برسانا، درخت اگانا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کا کام نہیں۔ چناچہ دوسری جگہ قرآن میں ان کا اقرار و اعتراف مذکور ہے پھر یہاں پہنچ کر راستہ سے کیوں کترا جاتے ہیں۔ جب اللہ کے سوا کوئی ہستی نہیں جو خلق و تدبیر کرسکے یا کسی چیز کا مستقل اختیار رکھے تو اس کی الوہیت و معبودیت میں وہ کس طرح شریک ہوجائے گی۔ " عبادت انتہائی تذلل کا نام ہے سو وہ اس کی ہونی چاہیے جو انتہائی درجہ میں کامل اور با اختیار ہو۔ کسی ناقص یا عاجز…
Read the full tafseer →مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا ط ”r
ّ متجسسانہ سوالات searching questions کا یہ انداز بہت مؤثر ہے۔ علامہ اقبالؔ ؔ نے اپنے ان اشعار میں یہی مضمون بالکل اسی انداز میں پیش کیا ہے :
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار
خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟
کہ اللہ ہی ہواؤں کو چلاتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ موسموں کو سازگار بناتا ہے ‘ اناج اگاتا ہے ‘ غرض تمام امور اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کاملہ کے بیان کا یہی انداز سورة الواقعہ میں بھی ملتا ہے۔
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط…
Read the full tafseer →60 اس آیت اور اس سے آگے تین چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدت کاملہ اور رحمت اور ربوبیت عامہ اور توحید پر چند ایسے دلائل کے انبار لگا دیا ہے جن میں سے اکثر دلائل کے مشرکین مکہ بھی معترف تھے۔ مثلاً سب سے پہلی دلیل تو یہی ہے کہ آسمانوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور زمین کا بھی۔ آسمان سے مینہ برستا ہے جسے زمین جذب کرتی ہے۔ تو اس کی قوت روئیدگی اپنا کام کرنا شروع کردیتی ہے۔ اس سے فصلیں، غلے، پھل دار درخت، پھول اور مویشیوں کے گھاس اور چارہ اگتا ہے۔ اس طرح روئے زمین پر جتنی بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق بس رہی ہے سب کی غذا کا سامان فراہم ہوجاتا ہے۔ کروڑوں اور اربوں کی تعداد میں صرف انسان ہیں جو صرف…
Read the full tafseer →69۔ (چنانچہ اس معاملہ میں بھی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ بیٹھے) آیت ماقبل سے لے کر کئی آیتوں تک مسلسل مضمون توحید کا چلا گیا ہے۔ اور شرک کی تمام صورتوں کی تردید ہوتی گئی ہے۔ (آیت) ” ء الہ مع اللہ “۔ آسمان، زمین سب کا پیدا کرنے والا، پانی برسانے والا، نباتات اگانے والا، وہ ایک اور یکتا خدا ہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی میگھ دیوتا یا بارش کا خدا ہے، نہ ہوا، زراعت وغیرہ کے لئے کوئی دیوی دیوتا اور نہ زمین و آسمان کی خالقیت میں کوئی شریک۔ (آیت) ” ماکان ...... شجرھا “۔ انسان خوب غور کرکے دیکھ لے، کاشتکاری ہو یا باغبانی۔ اس عظیم الشان نظام کے کسی جزء پر بھی اسے قدرت حاصل ہے ؟ کیا زمین میں صلاحیت قبول رکھنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…
Read the full tafseer →امن خلق السموت والارض . یا وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا۔
ا م متصلہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : کیا تمہارے معبود بہتر ہیں جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا یا وہ اللہ بہتر ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ا م منقطہ ہے اور بمعنی بل کے ہے اور ہمزہ سابق استفہام سے اعراض کے لئے ہے کیونکہ یہ بات بالکل کھلی ہوئی ہے کہ اللہ ہی ہر خیر کا مبدہ ہے اور دوسرے معبودوں میں کہیں خیر کا پتہ بھی نہیں ہے۔ پھر استفہام کی صورت میں دونوں میں برابری کرنا اور سوال میں موازنہ کرنا کسی طرح زیبا نہیں اس لئے سابق استفہام سے اعراض کیا ‘ اس صورت میں یہ استفہام تقریری…
Read the full tafseer →(60) آپ ان کفار مکہ سے فرمائیے کہ اچھا بتاؤ کیا ان بتوں کی جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو پرستش بہتر ہے یا اس ذات کی عبادت وفرمانبرداری بہتر ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس پانی سے پھل دار باغ اگائے، جن کی باڑ کھجور کے درختوں اور دوسرے درختوں سے ہو رہی ہے تمہاری قدرت سے تو یہ چیز باہر ہے کہ تم ان باغوں کے درخت اگا سکو اب سوچ کر ذرا بتاؤ تو سہی کہ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور معبود نے یہ چیزیں اگائی ہیں ؟ بلکہ ایسے بدتمیز ہیں کہ بتوں کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : ”حَدَاۗىِٕقَ“ ”حَدِیْقَۃٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں وہ باغ ہے جس کے گرد دیوار ہو، پھر ہر باغ کو ”حَدِیْقَۃٌ“ کہا جانے لگا۔ ”اَمَّنْ“ کے ”أَمْ“ سے پہلے ہمزہ استفہام والا ایک جملہ مقدر ہے، جو عبارت کے تسلسل سے سمجھ میں آرہا ہے : ”أَيْ أَشُرَکَاءُ ھُمْ خَیْرٌ أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ“ ”یعنی کیا ان کے شریک بہتر ہیں یا وہ اللہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ؟“ یہاں اللہ تعالیٰ نے پانچ آیات میں اپنی وہ صفات ذکر فرمائیں جو مشرکین مکہ بھی مانتے تھے کہ وہ اللہ کے سوا کسی میں نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ ہر آیت میں چند صفات بیان کر کے فرماتے…
Read the full tafseer →امن خلق السموت والارض ابو حاتم نے کہا، تقدیر کلام یہ ہے آلھتکم خیرام من خلق السموات والارض یہ بحث پہلے گزر چکی ہے معنی ہے جو ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ عبادت بہتر ہے یا اس ذات کی عبادت بہتر ہے جس نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا ؟ تو یہ پہلیم عنی کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اس میں ان کے لئے تو بیخ کا معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ان کے معبودوں کے عجز پر تنبیہ ہے۔
فانبتنا بہ حدآئق ذات بھجۃ حدیقہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کے اردگرد دیوار ہو۔ بھجۃ سے مراد خوبصورت منظر ہے۔ فراء نے کہا : حدیقہ سے مراد وہ باغ ہے دیوار جس کی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
1۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” حدائق “ کے بارے میں بتائیے ( کہ اس سے کیا مراد ہے) فرمایا اس سے مراد ہیں باغات پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
بلاد سقا ہا اللہ اما سہولہا فقصنب ودر مغدق وحدائق
ترجمہ : یہ ایسے شہر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سیراب کیا اس کے میدانی علاقوں میں سبزیاں دودھ اور باغات ہیں۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حدائق سے مراد ہے بہت عمدہ کھجور کے درخت آیت ” ذات بہجۃ “ تروتازہ۔
3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →اَمَّنْ [ یا وہ (بہتر ہے) جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] وَاَنْزَلَ [ اور جس نے اتارا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً ۚ [ کچھ پانی ] فَاَنْۢبَتْنَا [ پھر ہم نے اگائے ] بِهٖ [ اس (پانی) سے ] حَدَاۗىِٕقَ [ باغات ] ذَاتَ بَهْجَةٍ ۚ [ شادابی والے ] مَا كَانَ [ نہیں ہے (ممکن)] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] اَنْ [ کہ ] تُنْۢبِتُوْا [ تم لوگ اگاؤ] شَجَـرَهَا ۭ [ ان (باغات) کے درخت ] ءَ [ کیا ] اِلٰهٌ [ کوئی الٰہ ہے ] مَّعَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے ساتھ ] بَلْ هُمْ [ بلکہ یہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] يَّعْدِلُوْنَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید
یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی…
Read the full tafseer →ذکر انواع و اقسام دلائل توحید مع توبیخ وتہدید
قال اللہ تعالیٰ امن خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ بل ہم منھا عمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کے انجام بد کا ذکر فرمایا جو خدا کی قدرت اور اس کے قہر کی نشانی تھی اب پھر مشرکین کی توبیخ وتہدید کے لئے اپنے آثار قدرت اور دلائل الوہیت ووحدانیت ذکر کرتے ہیں کہ شاید یہ نصیب شرک سے باز آجائیں ان کو چاہئے کہ خدا کے قہر کی نشانیوں میں بھی غور کریں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں بھی غور کریں جو سب کی سب اس کی توحید اور اس کے عظمت و جلال پر دلالت کرتی ہیں اور سمجھیں اور جانیں کہ خدا کے سواسب عاجز اور ذلیل میں لہٰذا شرک سے توبہ کریں اور یقین…
Read the full tafseer →51:۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی چاروں دلیلوں میں ام منقطعہ ہے بمعنی بل اور اس سے ایک دلیل ہے دوسری دلیل کی طرف انتقال مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اچھا اس کے علاوہ یہ بتاؤ تمہارے معبود اپنے پجاریوں کے حق میں اچھے ہیں یا اللہ تعالیٰ اپنے عابدین کے حق میں اچھا ہے۔ تم جن پیغمبروں اور ولیوں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ تم سے ضرر دور کرسکتے ہیں اس لیے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر ہے۔ والمعنی اللہ خیر لمن عبدہ ام الاصنام لمن عبدھا فان اللہ خیر لمن عبدہ وامن بہ لا غنائہ من الھلاک والاصنام لم تغن عن عابد یھا شیئا عند نزول العذاب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
ربط آیات
نصیحت اور عبرت کے لیے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کی ہلاکت و تباہی کا ذکر کیا ۔ پھر درمیان میں حضرت سلیمان اور سبا والوں کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد قوم ثمود کی تباہی کا تذکرہ ہو اور پھر قوم لوط کی ہلاکت کا بیان ہوا ، یہ تمام قومیں کفر ، شرک اور نافرمانی کی بدولت تباہ و برباد ہوئیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے بعض عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ شرک کا رد کیا ہے۔
اللہ کی حمد و ثناء
یہ ایک مسلمہ اصول یہ کہ جب بھی کوئی اہم بات کرنا مطلب ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی جاتی ہے اور پھر اس کے مکرم بندوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد اصل بات…
Read the full tafseer →اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً 0ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِہٖ حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَہْجَۃٍ 0ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَہَا 0ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ 0ۭ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ 60ۭ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
پھر اس کے بعد یہ چند دلائل اللہ کے بہتر اور قادر مطلق وحدہ لاشریک لہ ہونے پر بیان فرماتا ہے۔ (1) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا پھر اوپر سے پانی برساکر اس سے عمدہ عمدہ اور کار آمد باغ اور درخت اگانا یعنی اس نے تمہارے لیے آسمان و زمین کا گھر بنایا اور اس میں تمہارے لیے روزی بھی پیدا کی۔ (2) زمین کو ٹھہرنے کے لیے بنایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں بنائیں۔ جو انسان کی راحت کے سامان ہیں، دو دریائوں میں پردہ رکھا۔ (3) بےقراری کے وقت انسان کی فریاد رسی وہی کرتا ہے نہ کہ اور۔ تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے ایک کے بعد دوسرا وارث ومالک ہوتا آتا ہے یعنی اس کا احسان تم پر پشت در پشت ہے۔ (4) تم کو جنگل اور…
Read the full tafseer →اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَـکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَـآئً ج فَاَنْبَـتْـنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَھْجَۃٍ ج مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَھَا ط ئَ اِلٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط بَلْ ھُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ ۔ (النمل : 60)
(بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس پانی سے خوش منظر باغات اگائے، تمہاری طاقت نہ تھی کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو راہ راست سے انحراف اختیار کرنے والے ہیں۔ )
استفہام کا مفہوم
اس آیت اور اس کے بعد کی آیات کے زور کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں سے کیے گئے سوال کا تفصیلی جواب۔
انیسویں پارے کا اختتام اس سوال پر ہوا کہ اے لوگو ! بتلاؤ کہ انسان کے لیے ہر حال میں ” اللہ “ بہتر ہے یا اس کے سوا دوسرے ؟ اب اس کا تفصیلی جواب دیا جاتا ہے۔
بتاؤ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا، کون آسمان سے بارش برساتا ہے اور کون اس کے ساتھ سبز و شاداب اور لہلہاتے ہوئے باغ پیدا کرتا ہے جن کے اگانے کی تم قدرت نہیں رکھتے۔ کیا ” اللہ “ کے ساتھ کوئی اور بھی یہ کام کرنے والا ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں یا وہ کرسکتا ہو۔ ہر دور کے مشرک اس حقیقت کو مانتے اور مانتے رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی نے زمین و آسمان پیدا کیے ہیں نہ کوئی بارش…
Read the full tafseer →60: اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے وہ خیرات و منافع ذکر فرمائے جو کہ اس کی رحمت و فضل کے آثار ہیں۔ چناچہ فرمایا : امن خلق السموت والارض۔ (کیا وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا) ۔
فرق : امّا یشرکون کے ام اور امن خلق السموت کے ام میں یہ ہے۔ اما یشرکون کا ام متصلہ ہے۔ اس لئے معنی یہ ہے۔ ان میں کون زیادہ بہتر ہے۔ اور یہ ام منقطعہ ہے جو کہ بل کے معنی میں ہے۔ اور ہمزہ سابقہ استفہام سے اعراض کے لئے ہے۔ کیونکہ یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر خیر کا مبدأ ہے۔ دوسرے معبودوں میں خیر کا نشان بھی نہیں۔ پھر استفہام کی صورت میں دونوں میں برابری کرنا…
Read the full tafseer →تفسیر۔ 60۔
امن خلق السماوات والارض، ، اس کا معنی یہ ہے کہ کیا تمہارے معبود بہتر ہیں یا وہ بہتر ہے جو آسمان اور زمین کو پیدا کرنیو الا ہے۔ وانزل لکم من السماء مائ، اور اس نے آسمان سے پانی نازل کیا، فانبتنا بہ حدائق۔ اس سے مراد باغیچے ہیں۔ فراء کا قول ہے کہ حدیقہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کی چار دیواری بھی ہو۔ اگر اس کی دیوار نہ ہو تو اس کو حدیقہ نہیں کہاجاتا۔ ذات بھجہ، یعنی اچھا منظر، بھجہ کہتے ہیں خوبصورت جسم کو دیکھنے سے شگفتگی طبع پیدا ہوتی ہے۔
” ماکان لکم ان تنبتواشجرھا، ، یعنی کوئی درخت ان کے درختوں سے پیدا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اس پر قادر نہیں۔
” ء الہ مع اللہ، ، استفہام انکاری ہے یعنی کا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…
Read the full tafseer →آیت 60
اللہ تعالیٰ نے ان تمام تفاصیل کا ذکر کیا ہے جن سے صاف واضح ہوجاتا ہے کہ وہی الٰہ معبود ہے، صرف اسی کی دباعت حق اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت باطل ہے۔ چناچہ فرمایا :
(امن خلق السموت والارض) یعنی، بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں کو اور ان کے اندر سورج، چاند، ستاروں اور فرشتوں کو، نیز زمین کو اور اس کے اندر پہاڑوں، سمندروں، دریاؤں اور درختوں وغیرہ کو پیدا کیا ؟
(وانزل لکم) ” اور نازل کیا تمہارے لئے “ یعنی تمہاری خاطر (من السماء ماء فانکبتنا بہ حدائق) ” آسمان سے پانی، پھر ہم ہی نے اس سے باغات لگائے “ (ذات بھجۃ) ” رونق والے۔ “ یعنی وہ درختوں کی کثرت، ان کے تنوع اور اچھے پھلوں کی وجہ سے خوبصورت…
Read the full tafseer →64 تم لوگ تو اس کا کوئی درخت بھی نہیں اگا سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے بس میں تو یہ بھی نہیں تھا کہ تم ان کے کسی درخت کو ہی اگا سکو۔ تو پھر سوچو کہ ان طرح طرح کے خوشنما باغوں کو کس نے اگایا اور اس طرح وجود بخشا۔ اور جب تمہارے بس میں ایک درخت کو اگانا بھی نہیں تو پھر ان میں پھل پھول لگانا تو دور کی بات ہے۔ تم سے تو یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ تم ایسے کسی درخت کو ہی اگا سکو۔ اور تمہارے خود ساختہ معبود تو تم سے بھی گئے گزرے ہیں۔ پھر کس قدر ظلم و ناانصافی اور کتنی بڑی نمک حرامی و ناشکری ہے کہ تم اس خالق حقیقی اور واہب مطلق سے منہ موڑو۔ اور اس کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کا شریک ماننے لگو جس نے محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔
بھلا…
Read the full tafseer →1 ۔ اب یہاں سے اثبات توحید کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے بعض صفات وشوئوں کا بیان ہو رہا ہے جن کو مشرکین بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ مثلاً آسمان زمین اور اسباب رزق کا پیدا کرنا۔ (نیز دیکھئے : ذخرف 9، عنکبوت :63) 2 ۔ یعنی توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی ٹیڑھی راہ پر پڑجاتے ہیں۔ یا ترجمہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(27:60) امن۔ مرکب ہے ام اور من موصولہ سے اور اس میں تقدیر کلام یوں ہےء الاصنام خیر ام الذی خلق السموت والارض کیا بت (جن کی یہ پوجا کرتے ہیں) بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔
ماء : ای المطر۔ بارش۔
فانبتنا بہ۔تعقیب کی ہے۔ انبتنا ماضی جمع متکلم انبات (افعال) مصدر۔ ہم نے اگایا۔ ب سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے۔ پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے اگائے۔
حدائق : حدیقۃ کی جمع ہے بمعنی باغ جس کی چار دیواری ہو۔
ذات بھجۃ مضاف مضاف الیہ۔ ذات والی صاحب ۔ ذو کا مؤنث ہے۔ ذو ہمیشہ مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے اور اسم ظاہر ہی کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں۔
نجھۃ رونق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 :
امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 :
جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
خدا کی وحدانیت کی دلیلیں۔
(ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کا کام ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اس لیے کہ ان کا بنانا کچھ ایسا کام نہیں ہے کہ جو یہ حضرت انسان ایک ادنی چیز بناتے ہیں تو وہ محنت اور مشقت کرتے ہیں کہ اس کا ذکر محتاج بیان نہیں بس صاف اس سے معلوم ہوگیا کہ قابل عبادت کے وہی ذات ہے جس نے ایسے بڑے بڑے جسم بنا کے اپنی قدرت دکھائی اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے اس سے کیسے کیسے عمدہ باغ سرسبز تروتازہ اگائے تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ، کیا تم میں یہ طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
معبود حقیقی کون ہے ؟
1: یہاں سے بیسواں پارہ شروع ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں ۔ کہ یہاں سے کسی نئے مضمون کا آغاز ہو ۔ کیونکہ پاروں کی تقسیم مضامین کے اعتبار سے نہیں ہے ۔
اس سے قبل کی آیت میں سوال کیا گیا تھا ۔ ء اللہ خیر امایشرکون ۔ یعنی ان گذشتہ واقعات کو دیکھو اقوام و باطل کی تاریخ کو پڑھو اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو ۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عذاب سے بچایا ۔ اور کیونکر مخالفین کو عبرتناک سزائیں دیں ۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کرو کہ عزیز و غالب خدا بہتر ہے یا وہ جو تمہارے لئے بےجان بت ہیں ۔ اور جن میں نفع وضرر کی کوئی استعداد موجود نہیں ۔
ان آیات میں قرآن نے نہایت بلیغ اور دلنشین…
Read the full tafseer →(60) بھلا کس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا اور کس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے ہم نے خوش منظر اور پر رونق باغ اگائے یہ کام تمہارے بس کا نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درخت اگا سکو کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کوئی نہیں بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ کج روی اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں یعنی زمین و آسمان کا بنانا پھر آسمان سے پانی نازل کرنا پر رونق اور پھول پھل سے لدے ہوئے باغ اگانا حالانکہ تم میں تو اتنی بھی طاقت اور سکت نہیں کہ ایک درخت بھی اگا سکو چہ جائے کہ پھول یا پھل کی رونق اور بہار پر کوئی تمہارا بس اور قابو ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 3۔ یعنی ظاہر اور مسلم ہے کہ اللہ ہی بہتر ہے۔
Read the full tafseer →سوال اور انداز سوال اور (الہ) کے مفہوم کی مکمل وضاحت :
60۔ (الہ) کے مفہوم کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر کرائی جا چکی ہے اس جگہ ان سارے مقامات کی وضاحت پیش کرنے کی بجائے آپ کی سہولت کے لئے صرف چند مقامات کی نشانی کرنا مناسب خیال سمجھا گیا ہے لہذا محولہ حوالہ جات عروۃ الوثقی میں اصل مقامات سے نکال کر وضاحت دیکھ لیں ۔ عروۃ الوثقی جلداول سورة البقرہ 2 : کی آیت 163 ‘ عروۃ الوثقی جلد دوم سورة آل عمران 3 : 18 ‘ سورة النساء 4 : 87 ‘ 171 ‘ عروۃ الوثقی جلد سوم سورة المائدہ 5 : 73 ‘ سورة الانعام 6 : 13 ‘ 19 ‘ عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة التوبہ 9 : 129 ‘ سورة الرعد 13 : 15 عروۃ الوثقی جلد پنچم سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
Commentary
This incident has been related at many places in the Qur'an, especially in Surah Al-A` raf, where its necessary details have been discussed and may be consulted if required.
قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ (Say,"Praise belongs to Allah - 27:59). After describing some events of the prophets and earlier people, and the episodes of torments they faced, this sentence is addressed to the Holy Prophet ﷺ ، that he should express his gratitude to Allah Ta’ ala, for his followers have been exempted from the punishment in this world. He is further asked to say salam to the earlier prophets and…
Read the full tafseer →73 No one from among the mushriks could answer that someone other than AIlah had done these works, or someone else was Allah's associate in doing these. The Qur'an at other places says with respect to the pagans of Makkah and the Arab mushrikin: "If you ask them, 'Who has created the heavens and the earth?' they will surely say: 'The All-Mighty, the All-Knowing One has created them'." (Az-Zukhruf: 9) "And if you ask them, Who has created them? they will surely say, 'AIIah'." (Az-Zukhruf: 87), "If you ask them, 'Who sent down rain water from the sky and thereby raised the dead earth back to…
Read the full tafseer →