An-Naml 27:59

An-Naml · from ayah 59

27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ؕ— ءٰٓاللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَ ۟قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيۡنَ اصۡطَفٰىؕ ءٰۤللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؕ

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (اس کا شریک) ٹھہراتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "Praise be to Allah, and peace upon His servants whom He has chosen. Is Allah better or what they associate with Him?"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 19 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:59

(اے نبیؐ) کہو، حمد اللہ کے لیے اور سلام اس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا (اِن سے پوچھو) اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (اس کا شریک) ٹھہراتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وه جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) کہو : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم کہو سب خوبیاں اللہ کو اور سلام اس کے چنے ہوئے بندے پر کیا اللہ بہتر یا ان کے ساختہ شریک

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کے منتخب (برگزیدہ) بندوں پر سلامتی ہو، کیا اللہ ہی بہتر ہے یا وہ (معبودانِ باطلہ) جنہیں یہ لوگ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔ کیا اللہ بہتر ہے، یا وہ جنھیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : سب طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اس نے برگزیدہ کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ اس کا شریک بنا رہے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ شکر کا سزا اور اللہ ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی و رحمت ہے جن کو اس نے برگزیدہ کیا کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے چن لیا اپنی نبوت و رسالت کے لیے، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبودان باطلہ جنہیں یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے منتخب کیا آیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ (اس کا) شریک کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ؑ کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے ُ چن لیا ہے کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ شریک بناتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا ‘ بھلا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say, (O Muhammad): "All praise be to Allah, and peace be on those of His servants whom He has chosen." (Ask them): "Who is better: Allah or the false gods that they associate with Him as His partners?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Praise belongs to Allah, and peace be on those of His servants whom He has chosen. Is Allah better or that which they associate (with Him as His partners)?

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Praise belongs to Allah, and peace be on those of His servants whom He has chosen. Is Allah better or that which they associate (with Him as His partners)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Praise and thanks be to Allah, and peace be on His servants whom He has chosen! Is Allah better, or what they ascribe as partners"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad): Praise be to Allah, and peace be on His slaves whom He hath chosen! Is Allah best, or (all) that ye ascribe as partners (unto Him)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "Praise be to Allah, and peace upon His servants whom He has chosen. Is Allah better or what they associate with Him?"

— Saheeh International

(Muhammad), say, "It is only God who deserves all praise. Peace be upon His chosen servants. Which is better God or the idols?

— Muhammad Sarwar

Say: Praise be to Allah and peace on His servants whom He has chosen: is Allah better, or what they associate (with Him)?

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: All praise unto Allah, and peace upon His bondmen whom He hath Chosen! Is Allah best, or that which they associate?

— Abdul Majid Daryabadi

Say: Praise be to Allah, and Peace on his servants whom He has chosen (for his Message). (Who) is better?- Allah or the false gods they associate (with Him)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ کہیں کہ ساری تعریفوں کے لائق فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو اپنی بیشمار نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں۔ اس کی صفتیں عالی ہیں اس کے نام بلند اور پاک ہیں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برگذیدہ بندوں پر سلام بھیجیں جیسے انبیاء اور رسول۔ حمدوصلوٰۃ کا ساتھ ہی ذکر آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ01800ۚ) 37۔ الصافات :180) ، میں بھی ہے۔ ان کے تابعداروں کے بچالینے اور مخالفین کے غارت کردینے کی نعمت بیان فرما کر اپنی تعریفیں کرنے والے اور اپنے نیک بندوں پر سلام بھیجنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد بطور سوال کے مشرکوں کے اس فعل پر انکار کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 71 یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے اور یہ فقرہ اس کی تمہید ہے، اس تمہید سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تقریر کا آغاز کس طرح کرنا چاہیے۔ اسی بنا پر صحیح اسلامی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے اپنی تقریریں اللہ کی حمد اور اس کے نیک بندوں پر سلام سے شروع کرتے رہے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اس سے کلام کی ابتدا کی ابتدا کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ سورة النمل 72 بظاہر یہ سوال بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بہتر ہے یا یہ معبودان باطل حقیقت کے اعتبار سے تو معبودان باطل میں سرے سے کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل اس قصے کے متعلق قرآن میں متعدد جگہ خصوصاً سورة اعراف میں ضروری مضامین بیان ہوچکے ہیں وہاں دیکھ لئے جاویں۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ، انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے کچھ حالات اور ان پر عذاب آنے کے واقعات کا ذکر کرنے کے بعد یہ جملہ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ آپ کی امت کو دنیا کے عذاب عام سے مامون کردیا گیا ہے اور انبیاء سابقین اور اللہ کے برگزیدہ بندوں پر سلام بھیجئے۔ جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے اور بعض نے اس کا مخاطب بھی حضرت لوط ؑ کو قرار دیا ہے۔ اس آیت میں الَّذِيْنَ اصْطَفٰى کے الفاظ سے ظاہر یہ ہے کہ انبیاء (علیہم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون ……آیات 93-59 خاتمہ سورة آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں اوپر بیان کئے ہوئے واقعات کے نتائج سامنے رکھ دیئے گئے ہیں خاص طور پر قرآن کی دعوت توحید پورے زور کے ساتھ اس کے آفاقی و انفسی دلائل کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ نیز منکرین کے اصل سبب انکار سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ان کی ساری سخن سازیوں کے پس پردہ یہ چیز ہے کہ یہ آخرت کے بارے میں متردد ہیں حالانکہ وہ ایک حقیقت ہے۔ آفاق وانفس کے دلائل پکار پکار کر اس کی شہادت دے رہے ہیں۔ یہی بات، یاد ہوگا، تمہیں کی آیات میں بھی فرمائی گی ہے۔ اس طرح خاتمہ سورة کا مضمون تمہید کے ساتھ مربوط ہو گار ہے۔ مطالب کے بیچ بیچ میں بھی اور سورة کے آخر میں خاص…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59-1جن کو اللہ نے رسالت اور بندوں کی رہنمائی کے لئے چنا تاکہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ 59-2یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ ہی کی عبادت بہتر ہے کیونکہ جب خالق رازق اور مالک یہی ہے تو عبادت کا مستحق کوئی دوسرا کیوں کر ہوسکتا ہے جو نہ کسی چیز کا خالق ہے نہ رازق اور مالک خیر اگرچہ تفضیل کا صیغہ ہے لیکن یہاں تفضیل کے معنی میں نہیں ہے مطلق بہتر کے معنی میں ہے اس لیے کہ معبودان باطلہ میں تو سرے سے کوئی خیر ہے ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

29: مختلف پیغمبروں کے واقعات بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید کے دلائل بیان فرما رہے ہیں جو تمام پیغمبروں کا مشترک اور متفقہ عقیدہ تھا۔ کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت خداوندی کی نشانیون کی طرف توجہ دلا کر فرمایا جارہا ہے کہ جو ذات اس کائنات کی تخلیق کر کے اس کا محیر العقول انتظام کر رہی ہے، کیا اسے اپنی خدائی کا نظام چلانے میں کسی اور مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے ؟ یہ توحید کے بارے میں ایک انتہائی بلیغ خطبہ ہے جس کے زور بیان کو کسی ترجمے میں منتقل کرنا ممکن نہیں، تاہم مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ یہ خطبہ آنحضرت صلی اللہ کے ذریعے ہی لوگوں تک پہنچنا تھا، اس لیے اس کے شروع میں آپ کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 175 ایک نظر میں یہ سبق سورة نمل کا خاتمہ ہے۔ درمیان میں حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے قصص سے مختصر کڑیاں لائی گئیں۔ یہ خاتمہ سورت کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسی طرح سورت کے مضمون اور موضوع کے ساتھ بھی مربوط ہے۔ اس سورت میں قصص انبیاء میں سے جو کڑیاں لائی گئی ہیں وہ بھی سورت کے آغاذ ، اختتام اور موضوع و مضمون کے ساتھ مربوط ہیں۔ ہر قصہ اس مقصد کو ثابت کرتا ہے جو اس سورت کے پیش نظر ہے۔ یہ سبق اللہ کی حمد کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور ان بندگان خدا پر سلامتی بھیجی جاتی ہے جو برگزیدہ ہیں۔ ان میں وہ انبیاء ورسل شامل ہیں جن کے قصے اس سورت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 قصص سے فارغ ہو کر آگے " اللّٰہُ خَیْرًا مَّا یُشْرِکُونَ " سے توحید کا بیان فرمانا ہے۔ یہ الفاظ بطور خطبہ کے تعلیم فرمائے جو بیان شروع کرنے سے قبل ہونا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھلا دی۔ " (موضح) اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جو کمالات و احسانات اوپر بضمن قصص مذکور ہوئے ہیں ان پر پیغمبر کو حکم ہوا کہ اللہ کی حمد و ثنا کریں اور شکر بجا لائیں اور اس کے مقبول بندوں پر جن میں سے بعضوں کا اوپر نام لیا گیا ہے۔ سلام بھیجیں۔ 14 یہاں سے توحید کا وعظ شروع کیا گیا ہے یعنی قصص مذکورہ بالا سن کر اور دلائل تکوینہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ط ” یعنی تمام انبیاء ورسل علیہ السلام اللہ کے چنے ہوئے لوگ تھے ‘ جیسا کہ سورة آل عمران میں بھی فرمایا گیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ءٰٓ اللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ” ذرا سوچو کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ان معبودوں کی کیا حیثیت ہے ؟ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو کہ تمام اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔ تو پھر ان بےاختیار معبودوں کو تم کس حیثیت سے پوجتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 ویسے تو ہر حال میں اللہ کی تعریف بین کرنا چاہئے اور اس کا شکر بجا لانا چاہئے۔ لیکن اہل عرب اس جملہ کا استعمال عموماً اس وقت کرتے ہیں۔ جب فریق مخالف یا مخاطب پر دلائل کے ساتھ اتمام محبت کردی جائے۔ اور اس کے پاس ان دلائل کا کوئی معسول جواب نہ ہو یا اسے کوئی معقول جواب میسر نہ آئے۔ یہاں بھی تین انبیاء کا ذکر کرنے اور منکرین حق کا ایک ہی جیسا انجام بتلانے کے بعد یہ جملہ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ 58 برگزیدہ لوگوں سے مراد انبیاء علیہم السلیم ہیں جن کے ساتھ ان کے ان متبعین کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ جن کی اللؤہ تعالیٰ نے مدد فرمائی، انھیں کافروں کے مظالم سے نجات دلائی اور ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ آگے ایک مستقل خطبہ توحید پر آرہا ہے، یہ ایک آیت اس کے مقدمہ یا تمہید کے طور پر ہے۔ (آیت) ” قل الحمد للہ “۔ خیال رہے کہ حمد الہی زبان پر لانے کا یہ حکم عین ہلاکت کفار کے موقع پر مل رہا ہے۔ جیسا کہ صاحب روح المعانی نے توجہ دلائی ہے۔ اور مرشد تھانوی (رح) نے اس سے مزید استنباط یہ کیا ہے کہ معاندین کی ہلاکت پر مسرور ہونا جب کہ اس کا باعث دنیا نہ ہو، اخلاق فاضلہ کے ذرا بھی منافی نہیں۔ بحمد اللہ جمعہ 11 شوال 1366 ؁ھ بمطابق 29، اگست 1947 ء ؁ کو قبل نماز جمعہ اس انیسویں پارہ کی نظر ثانی سے فراغت ہوئی۔ اور نظر ثالث سے آج سہ شنبہ 17 جمادی الاولی 1369 ؁ھ 7 مارچ 1950 ء ؁ کو قبل نماز ظہر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–59

آیت نمبر 45 تا 59 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل الحمد للّٰہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی . (اے محمد ﷺ ! ) آپ (بیان توحید کے لئے بطور غلبہ کے) کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے۔ مذکورہ بالا تمام انبیاء اور ان کی امتوں کے احوال جب اللہ نے بیان کر دئیے جن سے اللہ کی قدرت قاہرہ اور عظمت ظاہرہ ثابت ہو رہی ہے اور انبیاء کو جن معجزات و اعزازات سے نوازا تھا ان کا بھی اظہار ہوگیا تو آخر میں اخص طور پر اپنے رسول کو خطاب کر کے اللہ کی ستائش کرنے کا حکم دیا کہ اس سے سابق امتوں میں سے کافروں کو غارت کردیا اور انبیاء کو نعمتوں سے سرفراز کیا اور رسول اللہ ﷺ کو ان کے احوال پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(59) اے محمد ﷺ آپ ان منکرین کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کیجیے اور اس کا شکر کیجیے اور اس کے بندوں پر جن کو اس نے نبوت کے ذریعے منتخب فرمایا ہے یا یہ کہ ان بندوں پر جن کو اس نے اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایا ہے اور وہ امت محمدیہ ﷺ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : اس آیت کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ؑ کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کے اور انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو نجات دینے کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ کے اس احسان پر ”الحمد للہ“ کہو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے منکروں کی جڑ کاٹ دی اور اپنے بندوں کو بچا لیا، جیسا کہ فرمایا : (فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۭوَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الأنعام : 45 ] ”تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔“ وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى : اس کا عطف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قل الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی فراء نے کہا : اہل معانی نے کہا : حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا گیا ان کی ہلاکت پر الحمد للہ کہو۔ اس بات میں علماء کی ایک جماعت نے فراء کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا، یہ ہمارے نبی ﷺ کو خطاب ہے، یعنی سابقہ کافرامتوں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو۔ نحاس نے کہا : یہ سب سے بہتر قول ہے۔ کیونکہ قرآن نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا اس میں جو کچھ ہے سب نبی کریم ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے سوائے اس کے جسم میں معنی غیر کے لئے ہی صحیح ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عنی ہے اے محمد ! ﷺ کہو : الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی یہاں عباد سے مراد آپ کی امت ہے۔ کلبی نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وسلم علی عبادہ الذین اصطفی “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کے لیے چن لیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وسلم علی عبادہ الذین اصطفی “ یہ آیت محمد ﷺ کے اصحاب کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب انہوں نے اس آیت ” اٰللہ خیر اما یشرکون “ کی تلاوت کی تو فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے، زیادہ عزت والا اور معزز ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلِ [ آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ [ تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہے ] وَسَلٰمٌ [ اور سلامتی ہے ] عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ [ اس کے ان بندوں پر جن کو ] اصْطَفٰى ۭ [ اس نے چن لیا ] اٰۗللّٰهُ [ کیا اللہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] اَمَّا [ یا وہ (بہتر ہیں) جن کو ] يُشْرِكُوْنَ [ یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 59–64

اللہ تعالیٰ کی صفات عظیمہ، مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات، مشرکین کو توحید کی دعوت، شرک کی تردید یہ چند آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر جن بندوں کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا اپنی رضا مندی کے کاموں کے لیے اور اپنے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے چن لیا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ ان پر سلام ہو، پھر سوال فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ اللہ کی ذات اقدس بہتر ہے یا وہ چیزیں بہتر ہیں جنہیں مشرکین اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں، ان چیزوں کو کچھ بھی قدرت نہیں اور اللہ کی بڑی قدرت ہے اس کی قدرت کے مظاہرے نظروں کے سامنے ہیں مشرکین بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

قصہء پنجم حضرت لوط (علیہ السلام) با قوم اور قال اللہ تعالیٰ ۔ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فساء مطر المنذرین۔ (ربط) حضرت صالح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی قوم بھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئی اور ناگہانی عذاب ان پر نازل ہوا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ جب باز نہ آئے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بےحیائی کے کام کرتے ہو حالانکہ تم اس بےحیائی کے کام کے وقت ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50:۔ یہ تیسرے اور چوتھے قصے کا ثمرہ ہے۔ ان دونوں قصوں سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کو مصائب و عقوبات سے بچانا اور وہی معاندین کو ہلاک کرتا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس وہی برکات دہندہ ہے کوئی پیغمبر یا ولی برکات دہندہ نہیں۔ وسلام علی عبادہ الخ، اللہ کے برگزیدہ بندے صفات کا رسازی کے مالک نہیں ہیں بلکہ انہیں مصائب و بلیات سے جو سلامتی اور امان نصیب ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ خیر اما یشرکون اپنے برگزیدہ بندون کو بچانے اور کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد الزام اور اتمام حجت کے طور پر فرمایا کیا اللہ بہتر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 59–61

ربط آیات نصیحت اور عبرت کے لیے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کی ہلاکت و تباہی کا ذکر کیا ۔ پھر درمیان میں حضرت سلیمان اور سبا والوں کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد قوم ثمود کی تباہی کا تذکرہ ہو اور پھر قوم لوط کی ہلاکت کا بیان ہوا ، یہ تمام قومیں کفر ، شرک اور نافرمانی کی بدولت تباہ و برباد ہوئیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے بعض عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ شرک کا رد کیا ہے۔ اللہ کی حمد و ثناء یہ ایک مسلمہ اصول یہ کہ جب بھی کوئی اہم بات کرنا مطلب ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی جاتی ہے اور پھر اس کے مکرم بندوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد اصل بات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِہِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى ۝ 0ۭ اٰۗللہُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ 59ۭ حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

حضرت انبیاء (علیہم السلام) کے قصے بیان فرما کر اور مخالفوں پر ہلاکت کا آنا ظاہر کرکے آنحضرت ﷺ کی طرف خطاب کرتا ہے کہ قل الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی کہہ دو کہ سب تعریف اللہ کو ہے کہ جس نے اپنے پاک باز بندوں کو بچالیا اور سرکشوں کو ہلاک کیا اور ان تمام برگزیدوں پر سلام و صلوٰۃ کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں مخالفوں کے کیسے کیسے جورو جفا اٹھائے ؟ یہ کلام گویا قصص سابقہ کا خاتمہ ہے، پر کس خوبی کا خاتمہ کہ جس کا بیان نہیں اور نیز یہ کلام آیندہ باتوں کے لیے تمہید بھی ہے کہ اللہ کی تعریف اور برگزیدوں پر سلام کرکے کوئی نصیحت یا عمدہ کام شروع کرنا چاہیے۔ دلائل توحید : اس کے بعد مشرکین کو اپنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلِ الْحَمْدُالِلّٰہِ وَسَلٰـمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰے ط آٰ للّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (النمل : 59) (اے پیغمبر) کہہ دیجیے ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے برگزیدہ کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ شریک بنا رہے ہیں۔ ) خطبے کا آغاز اور آغاز گفتگو کی تعلیم یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے اور یہ آیت کریمہ آنے والے خطبے کی تمہید ہے۔ اس میں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تقریر اور اپنی گفتگو کا آغاز کس طرح کرنا چاہیے۔ اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی گئی ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ان بندوں پر سلام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی اقوام کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد سورة کا اختتام ان الفاظ پر کیا جا رہا ہے کہ تمام تعریفات ” اللہ “ کے لیے ہیں اور اولولعزم انبیاء پر ان کے رب کی طرف سے سلام ہو۔ اس موقعہ پر رب ذوالجلال نے اپنی تعریف کے الفاظ اس لیے استعمال فرمائے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی ایسی طاقت تھی اور نہ ہے جو متکبر اور باغی اقوام کے وجود سے زمین کو پاک کرسکے۔ اقوام کی انتہا درجے کی مخالفت کے باوجود انبیاء نے اپنے کام کا حق ادا کیا جس پر اللہ کی رحمت کے حق دار قرار پائے لہٰذا ہمیشہ ہمیش کے لیے ان پر ” اللہ “ کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورۃ کے آخر میں قوم صالح اور قوم لوط کی تباہی کا ذکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

59: قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (آپ کہہ دیں الحمد للہ اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو جو چنے ہوئے ہیں) ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنی حمد و ستائش کا اولاً حکم فرمایا۔ پھر چنے ہوئے بندوں پر سلام کا حکم دیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی توحید و وحدانیت پر بعد میں آنے والی دلالت کے لئے بطور تمہید حکم فرمایا۔ اس میں ہر اچھا عمل کرتے ہوئے ان دونوں سے تبرک حاصل کرنا چاہیے۔ اور دونوں کے وجود مرتبہ سے خوب پختگی حاصل کرے۔ نمبر 2۔ یہ لوط (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا کہ وہ اپنی قوم کی ہلاکت پر یہ دعا کیا کریں۔ کہ اے اللہ کفار کی ہلاکت اور پسندیدہ بندوں کے محفوظ رہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

59۔ قل الحمدللہ، یہ خطاب نبی کریم کو ہے اس سے سابقہ امتوں میں سے کافروں کو غارت کردیا اور انبیاء کو نعمتوں سے نوازا ہے۔ ” وسلام علی عبادہ الذین الصطفی، ، مقاتل نے بیان کیا کہ اس سے مراد انبیاء مرسلین ہیں کو ین کہ انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا وسلام علی المرسلین، امام مالک نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد صحابہ کرام ہیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد امت محمدیہ ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام مومین ہیں سابقین ، لاحقین، مراد ہیں۔ ء اللہ خیرامایشرکون، ، اہل بصرہ اور عاصم نے یشرکون ، پڑھا ہے دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں خطاب اہل مکہ کو ہے۔ کفار کی ہلاکت کے بعد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–59

45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت 59) یعنی کہہ دیجیے (الحمد للہ) ” حمد و ستائش اللہ ہی کے لئے ہے “ جو اپنے کمال اوصاف، اپنے جمال عطا و بخشش، اہل تکذیب کو سزا دینے اور ظالموں کو عذاب دینے میں عدل و حکمت کی بنا پر کامل حمد و ستائش اور مدح وثناء کا مستحق ہے نیز اس کے بندوں انبیاء ومرسلین پر سلام بھیجے جن کو اس نے تمام جہانوں میں سے منتخب فرمایا جو رب کائنات کے چنے ہوئے اور محبوب بندے تھے اور یہ اس لئے ہے تاکہ ان کا ذکر اور ان کی تعظیم اور زیادہ ہو نیز اس لئے بھی کہ وہ شر اور گندگی سیپ اک ہیں، اپنے رب کے بارے میں جو کہتے ہیں وہ نقائص و عیوب سے محفوظ ہے۔ (اللہ خیر امایشرکون) ’ دبھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 58–59

62 سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو تعریفیں سب کی سب اللہ ہی کے لیے اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر "۔ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ " کہو سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں اور سلام ہو اس کے چنے ہوئے بندوں پر "۔ یعنی ماقبل کے قصوں کے ذیل میں جن نعمتوں اور اہم بنیادی حقائق کا ذکر ہوا ان پر " الحمد للہ " کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اور آگے جو مسئلہ توحید اور اس کے دلائل کا ذکر شروع ہو رہا ہے اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرو۔ سو یہ اس سے پہلے حمد وسلام پر مشتمل خطبہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے تاکہ یہ تعلیم و درس ہو کہ ہر قول و فعل کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–59

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–59

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف : ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–59

4 ۔ ان میں تمام انبیا اور ان پر ایمان لانے والے شامل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی صحبت کے لئے چن لیا۔ (روح) یہاں انبیا کے واقعات ختم ہوئے اب اس کے بعد توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اس مناسبت پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اللہ کی تعریف اور پیغمبر ﷺ پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھا دی۔ (موضح) چناچہ یہی آداب کلام علماء خطاب اور واعظین میں تو ارث سے چلے آتے ہیں کہ خطبہ کو حمد و صلوٰۃ سے شروع کرتے ہیں۔ 5 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بت بھی بہت اچھے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ سے کم۔ بتوں میں تو اچھائی کی پرچھائیں تک نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:59) اصطفی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ اصطفی یصطفی اصطفاء (افتعال) مصدر۔ صفو مادہ۔ مصطفیٰ اسم مفعول ۔ برگزیدہ ۔ چنا ہوا۔ پسند کیا ہوا۔ الصفاء کے معنی کسی چیز کا ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور صاف ہونا۔ اور الاصطفاء کے معنی صاف اور خالص چیز کا لے لینا کے ہیں جیسے الاختیار کے معنی بہتر (خیر) چیز لے لینا اور الاجتباء کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینے کے ہیں۔ آللہ۔ اصل میں اللہ تھا۔ ہمزہ استفہام کو الف سے بدل کر مد کو لایا گیا ہے۔ خیر۔ اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اسم تفضیل سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ صفت دونوں میں پائی جاتی ہے لیکن ایک میں زیادہ دوسرے میں کم۔ جیسے زید اعلم من…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–59

لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 : اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 : اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–59

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: افسوس ہے ۔ کہ آج کل بھی تقریباً یہی حالت رونما ہیں ۔ لوگوں میں یہ مرض سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ اور نوجوان اس شنیع افعال سے قطعاً شرم اور ندامت محسوس نہیں کرتے ۔ اور اب ان کے روز مرہ میں یہ چیز داخل ہوگئی ہے ۔ کہ وہ پاکباز نوجوانوں پر آوازے کستے ہیں ۔ اور مختلف مذاق کو روشن خیال سمجھتے ہیں ۔ یہ کس قدر شرم کا مقام ہے ۔ کہ جو بیماری قوموں کی ہلاکت وتباہی کا باعث ہے ۔ آج ہم اس بیماری پر فخر کر رہے ہیں ۔ ہماری مجلسوں میں ، کالجوں اور مدرسوں میں ۔ تربیت گاہوں اور مذہبی اداروں میں ہر وقت اس مدح کے چرچے رہتے ہیں ۔ گویا فضا بالکل شہوانی ہوچکی ہے ۔ اور وقت آگیا ہے ۔ کہ بدکاروں کی نسل دنیا سے مٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(59) اب تک رسالت پر گفتگو تھی اب توحید باری کے دلائل مذکور ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر یوں کہئے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزوار اور اللہ تعالیٰ ہی کو لائق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ان بندوں پر سلامتی نازل ہوتی رہے جس کو اس نے منتخب فرمایا اور برگزیدہ کیا بھلا کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ مشرک اس کا شریک ٹھہراتے ہیں سلامتی نازل ہو برگزیدہ بندوں پر یعنی انبیاء اولیاء صلحاء اور اتقیاء پر حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھادی 12 مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر کو خطبہ تعلیم کیا کہ ہماری طرف سے توحید کا ذکر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہہ دیجئے حمد اللہ کیلئے ہے اور سلام اللہ کے نیک بندوں کے لئے : 59۔ زیر نظر آیت سے خطاب براہ راست نبی اعظم وآخر ﷺ کو کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ بھی اس بات کا اعلان کردیں کہ سب اچھی تعریفوں کے لائق صرف اور صرف ذات اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور ہمیشہ سے سلامتی اللہ کے ان نیک بندوں ہی کے حصہ آتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ کیا ہے اور اپنے لئے خاص کرلیا ، مخالفین سے پوچھو کہ تم بھی اپنے موقف کا اظہار کرو کہ کیا ایک ہی اللہ حاجت روا اور مشکل کشا کافی ہے یا جن جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو وہ بہتر ہیں اس سوال کی نوعیت کو سمجھ لو اور پھر آگے بڑھتے ہیں ۔ سوال کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–61

Commentary This incident has been related at many places in the Qur'an, especially in Surah Al-A` raf, where its necessary details have been discussed and may be consulted if required. قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ (Say,"Praise belongs to Allah - 27:59). After describing some events of the prophets and earlier people, and the episodes of torments they faced, this sentence is addressed to the Holy Prophet ﷺ ، that he should express his gratitude to Allah Ta’ ala, for his followers have been exempted from the punishment in this world. He is further asked to say salam to the earlier prophets and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

71 From here starts the second discourse, and this is its introductory sentence. This introduction teaches how the Muslims should begin a speech. That is why the truly Islamic-minded people have always been starting their speeches and discourses with the praise of Allah and salutation on His righteous servants. But now this is looked upon as characteristic of bigotry, and the present-day Muslim speakers have no idea of starting their speech with these words, or feel shy of doing so. 72 Superficially the question whether Allah is better or the false deities appears to be odd. As a matter of…

Read the full tafseer →