An-Naml 27:58

An-Naml · from ayah 58

27:58

وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا ۚ— فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ۟۠وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا‌ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ

اور ہم نے ان پر مینھہ برسایا سو (جو) مینھہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا، برا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We rained upon them a rain [of stones], and evil was the rain of those who were warned.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:58

اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات، بہت ہی بری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کیے جا چکے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان پر مینھہ برسایا سو (جو) مینھہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا، برا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان پر ایک (خاص قسم) کی بارش برسادی، پس ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر بری بارش ہوئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان پر ایک زبردست بارش برسائی، چنانچہ بہت بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی جنہیں پہلے سے خبردار کردیا گیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرا ئے ہوؤں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان پر خوب (پتھروں کی) بارش برسائی، سو (ان) ڈرائے گئے لوگوں پر (پتھروں کی) بارش نہایت ہی بری تھی۔،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان پر بارش برسائی، زبردست بارش، سو بری بارش تھی ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی۔ کیسی بری تھی یہ بارش جو ان لوگوں پر ہوئی جنہیں (عذاب الٰہی سے) ڈرایا گیا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان پر برسایا ایک ہولناک برسانا، پس کیا ہی برش بارش ہوئی ان لوگوں پر جن کو آگاہ کیا جا چکا تھا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور برسادی ہم نے ان پر ایک بڑی ہولناک بارش، سو بڑی ہی بری بارش تھی ان لوگوں کی جن کو خبردار کیا جا چکا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان کے اوپر ایک نئی طرح کامینہ برسا دیا سو جو لوگ ڈرائے جاچکے تھے سو ان کے لئے مینہ کیسا برا ہوا !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے اوپر ہم نے ایک بارش برسائی تو بہت ہی بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسائی گئی جن کو خبردار کردیا گیا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ان پر مینہ برسایا سو جو مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو خبردار کردیا گیا تھا ‘ برا برسا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We rained down upon them a rain. It was an evil rain for those who had already been warned.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We rained on them a rain. So evil was the rain of those who were warned.

— Muhammad Taqi Usmani

And We rained on them a rain. So evil was the rain of those who were warned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We rained down on them a rain. So, evil was the rain of those who were warned.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We rained a rain upon them. Dreadful is the rain of those who have been warned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We rained upon them a rain [of stones], and evil was the rain of those who were warned.

— Saheeh International

We sent to them a terrible rainstorm. How horrible was the rain for the people who had already received warning.

— Muhammad Sarwar

And We rained on them a rain, and evil was the rain of those who had been warned.

— Muhammad Habib Shakir

And We rained upon them a rain; ill was the rain upon the warned.

— Abdul Majid Daryabadi

And We rained down on them a shower (of brimstone): and evil was the shower on those who were admonished (but heeded not)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–58

ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة النمل 70 یعنی پہلے ہی حضرت لوط کو ہدایت کردی گئی تھی کہ وہ اس عورت کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہی تباہ ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–58

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو (پیغمبر کر کے ان کی قوم کے پاس) بھیجا تھا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو (کیا اس کی برائی نہیں سمجھتے، آگے اس بےحیائی کا بیان ہے یعنی) کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی) بلکہ (اس معاملے میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط ؑ کے لوگوں کو (یعنی ان پر ایمان لانے والوں کو مع ان کے) تم اپنی بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو (جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو) ہم نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–58

فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین (57) لفظ اھل بھی جیسا کہ ہم اس کے محل میں وضاحت کرچکے ہیں، اہل و عیال اور اتباع و صحابہ سب کے لئے آتا ہے اور یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذمہ داری بقدر انعام ہے قدرنھا من الغبرین سے صرف یہی بات نہیں واضح ہوتی کہ حضرت لوط کی بیوی اس نجات سے محروم رہی بلکہ یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اس پتھرائو کا نشانہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص قوم کے ساتھ ہی رہیں تو دوسروں کے مقابل میں خدا کے غضب کی وہ زیادہ مستحق تھی۔ اللہ تعالیٰ جن کو تعلیم و ہدایت کے جتنے ہی زیادہ مواقع میسر فرماتا ہے، اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتے تو ان کو سزا بھی اسی کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

58-1ان پر عذاب آیا، اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے کہ ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور کھنگرو کی بارش ہوئی۔ 58-2یعنی جنہیں پیغمبروں کے ذریعے سے ڈرایا گیا اور ان پر حجت قائم کردی گئی لیکن وہ تکذیب وانکار سے باز نہیں آئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–58

28: حضرت لوط ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، نیز پچھلی سورت سورة شعراء 160 تا 175 میں بھی گذرا ہے اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف 80 میں کرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–58

فانجینہ ……المئنذرین (85) یہاں اس بارش کی تفصیلات نہیں دی گئیں جس طرح دوسری سورتوں میں دی گئی ہیں۔ لہٰذا ہم بھی سیاق کلام کے مطابق بس اس آیت کو اسی طرح مجمل چھوڑتے ہیں لیکن اس قوم کو پانی سے ہلاک کیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ نامہ حیات کو غلط جگہ گراتے تھے جو فعل خلاف فطرت تھا۔ اس سے کوئی انسانی فعل مطلوب نہ تھا ، اس لئے اللہ نے بھی ان کو پانی کے ذریعے ہلاک کیا حالانکہ پانی سے اللہ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا ہے۔ یہ ان کے ساتھ ایک لطیف مذاق بھی تھا۔ واللہ اعلم ! یہ میری رائے ہے ورنہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی سنت کس طرح اور کیوں کام کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی آسمان سے پتھر برسائے اور شہر کا تختہ الٹ دیا۔ حضرت شاہ صاحب مذکورہ بالا تین قصوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے قصہ میں فرمایا " ہم لائیں گے لشکر جس کا سامنا نہ کرسکیں گے، وہ ہی بات ہوئی رسول میں اور مکہ والوں میں۔ اور حضرت صالح پر نو شخص متفق ہوئے کہ رات کو جا پڑیں۔ اللہ نے ان کو بچایا اور ان کو غارت کیا۔ مکہ کے لوگ بھی یہ ہی چاہ چکے، لیکن نہ بن پڑا، جس رات حضرت ﷺ نے ہجرت کی، کتنے کافر حضرت ﷺ کا گھر گھیرے بیٹھے تھے کہ صبح کو اندھیرے میں نکلیں تو سب مل کر مار لیں (کسی ایک کو خون بہا نہ دینا پڑے) حضرت ﷺ صاف بچ کر نکل گئے۔ ان کو نہ سوجھا۔ اور قوم لوط نے چاہا کہ پیغمبر کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًاج فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ” یہاں پر اس سورت کا انباء الرسل کا حصہ بھی اختتام پذیر ہوا۔ اب اس کے بعد کچھ حصہ التذکیر بآلاء اللہ پر مشتمل ہے اور یہ اس سورت کا بالکل منفرد انداز ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 لوط (علیہ السلام) کا قصہ اور اس قوم پر عذاب کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے مثلاً سورة اعراف کی آیت نمبر 83، 84، سورة توبہ کی آیت نمبر 70، سورة ہود کی آیت نمبر 83، سورة حجر کی آیت نمبر 73۔ وہاں سے حواشی ملاحظہ کر لئے جائیں۔ اس سورة میں تین انبیاء حضرت سلیمان، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے حالات کا ژکر ہوا ہے۔ اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ ﷺ کے حالات میں کوئی نہ کوئی مشابہت کا پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً حصرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کو یہ چیلنج کیا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہوجاؤ تو بہتر ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلہ کی تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–58

67۔ (اور یہ اس لیے کہ یہ بدنصیب اس پر ذرا ملتفت نہیں ہوئے تھے) (آیت) ” امراۃ لوط “۔ اور عذاب قوم لوط وغیرہ پر حاشیے پہلے گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–59

آیت نمبر 45 تا 59 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وامطرنا علیھم مطرا فساء مطر المنذرین . اور ہم نے ان لوگوں پر ایک نئی قسم کا مینہ برسایا (یعنی کنکروں کی بارش کی) پس ان لوگوں پر جن کو (عذاب سے پہلے ہی) ڈرایا گیا تھا برا مینہ برسا (اس طرح وہ سرزمین بدکار کافروں کی آلائش سے پاک کردی گئی) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) چناچہ ہم نے ان سب پر خواہ مسافر ہوں یا مقیم پتھروں کا مینہ برسا دیا سو ان لوگوں کا کیا برا حال تھا جن کو حضرت لوط ؑ نے عذاب الہی سے ڈرایا تھا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 57–58

فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ۔۔ : اس کی تفصیل سورة ہود (81 تا 83) میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سورت میں موسیٰ ؑ کے بعد تین انبیاء سلیمان، صالح اور لوط ؑ کے حالات کا ذکر ہوا ہے اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ ﷺ کے حالات میں مشابہت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کو پیغام بھیجا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہوجاؤ تو بہتر، ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی تم تاب نہ لا سکو گے۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مشرکین مکہ پر ایسا ہی لشکر لائے تھے۔ صالح ؑ کو ان کی قوم نے بلوے کی صورت میں شب خون مار کر قتل کرنا چاہا، لیکن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وامطرنا علیھم مطراً فسآء مطر المنذرین یہ انذر سے مشتق ہے اس نے انذار کو قبول نہ کیا۔ اس کی وضاحت سورة اعراف اور سورة ہود میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–58

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَمْطَرْنَا [ اور ہم نے برسایا ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں پر ] مَّطَرًا ۚ [ ایک برسنے والی چیز ] فَسَاۗءَ [ تو بری تھی ] مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ [ خبردار کئے ہوؤں کی برسنے والی چیز ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 54–58

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بےحیائی کے کاموں میں مشغول ہونا نصیحت قبول نہ کرنا، اور بالآخر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا سوال و جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے، تفصیل سے یہ واقعہ سورة اعراف سورة حجر اور سورة شعراء میں گزر چکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ برے کام کرتے تھے یعنی مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ایمان کی بھی دعوت دی اور یہ بھی سمجھایا کہ اس کام کو چھوڑو تمہارا دل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے، یہ جاہلوں کا کام ہے تم پر جہالت سوار ہے کہ تم اسے برا کام جانتے ہوئے بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

قصہء پنجم حضرت لوط (علیہ السلام) با قوم اور قال اللہ تعالیٰ ۔ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فساء مطر المنذرین۔ (ربط) حضرت صالح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی قوم بھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئی اور ناگہانی عذاب ان پر نازل ہوا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ جب باز نہ آئے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بےحیائی کے کام کرتے ہو حالانکہ تم اس بےحیائی کے کام کے وقت ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–58

49:۔ یہ اس فاحشہ یعنی فعل قبیح کا بیان ہے۔ فما کان جواب قومہ الخ، اس ناصحانہ تبلیغ کے جواب میں قوم نے کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو کیونکہ وہ بڑے پاک بنتے ہیں اور ہمارے افعال سے نفرت کرتے ہیں۔ فانجینہ واھلہ الخ، آخر اس سرکش اور معاند قوم پر اللہ تعالیٰ نے خوفناک عذاب نازل کر کے اسے ہلاک کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی چونکہ کافرہ تھی اس لیے وہ بھی کافروں کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ فامطرنا علیہم مطرًا الخ، قوم لوط کی بستی کو تہ وبالا کر کے اس پر پتھروں کی بارش کی گئی جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا فلما جاء امرنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–58

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر کیا کہ ان کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر اونٹنی کی حیرت انگیز نشانی ظاہر فرمائی مگر قوم نے اس کا انکار کیا اور صالح (علیہ السلام) کو ختم کردینے کا منصوبہ بنایا ۔ اللہ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا ، وہ صالح (علیہ السلام) کو تو قتل نہ کرسکے البتہ خود ہی اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے یہ واقعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے کے مشرکین کی نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کیا ۔ اب اسی طرح لوط (علیہ السلام) اور انکی قوم کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ لوگ بھی ان کے وعظ و نصیحت کو برداشت نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمْطَرْنَا عَلَيْہِمْ مَّطَرًا۝ 0ۚ فَسَاۗءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ۝ 58ۧ مطر المَطَر : الماء المنسکب، ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. أي : مَمْطُورٌ ، يقال : مَطَرَتْنَا السماءُ وأَمْطَرَتْنَا، وما مطرت منه بخیر، وقیل : إنّ «مطر» يقال في الخیر، و «أمطر» في العذاب، قال تعالی: وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173] ( م ط ر ) المطر کے معنی بارش کے ہیں اور جس دن بارش بر سی ہوا سے ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. کہتے ہیں واد مطیر باراں رسیدہ وادی کے معنی بارش بر سنا کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مطر اچھی اور خوشگوار بارش کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–58

ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ج فَسَـآئَ مَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ ۔ (النمل : 58) (اور ہم نے ان پر برسایا ایک ہولناک برسانا، پس کیا ہی بری بارش تھی ان لوگوں پر جنھیں ڈرایا گیا تھا۔ ) قومِ لوط کا انجام اس سے پہلے اس عذاب کی تفصیل گزر چکی ہے جس عذاب سے قوم لوط کو تباہ کیا گیا۔ اور پھر جس طرح ان پر پتھر برسائے گئے اور ان کی بستیاں بھی تباہ کردی گئیں ان کو ایک ایسا عبرت کا نشان بنادیا گیا جو بعد کی دنیا کے لیے دہلا دینے والا انجام تھا۔ اور اس کا سبب صرف یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے انھیں بار بار انذار کیا، لیکن انھوں نے اس پر کان دھرنا بھی گوارا نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–58

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ نہ معلوم انہوں نے کتنی مدّت تک قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے ان سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں نیست ونابود کردیا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو۔ مسافروں پر ڈاکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

58: وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًا (اور ہم نے ان پر بارش کی بارش کرنا) ۔ پتھروں کی بارش جن پر اس کا نام لکھا تھا فَسَآئَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ (ڈرائے ہوئوں کی بارش بہت بری تھی) ۔ منذرین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے انذار کو قبول نہ کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–59

45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–58

(آیت) 54 ہمارے بندے اور رسول لوط کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا : (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم بےحیائی کرتے ہو ؟ “ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے (وانتم تبصرون) ” اور تم دیکھتے ہو “ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا پھر اللہ تبارے و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء) ” کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 58–59

62 سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو تعریفیں سب کی سب اللہ ہی کے لیے اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر "۔ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ " کہو سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں اور سلام ہو اس کے چنے ہوئے بندوں پر "۔ یعنی ماقبل کے قصوں کے ذیل میں جن نعمتوں اور اہم بنیادی حقائق کا ذکر ہوا ان پر " الحمد للہ " کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اور آگے جو مسئلہ توحید اور اس کے دلائل کا ذکر شروع ہو رہا ہے اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرو۔ سو یہ اس سے پہلے حمد وسلام پر مشتمل خطبہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے تاکہ یہ تعلیم و درس ہو کہ ہر قول و فعل کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–59

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–59

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف : ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–59

4 ۔ ان میں تمام انبیا اور ان پر ایمان لانے والے شامل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی صحبت کے لئے چن لیا۔ (روح) یہاں انبیا کے واقعات ختم ہوئے اب اس کے بعد توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اس مناسبت پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اللہ کی تعریف اور پیغمبر ﷺ پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھا دی۔ (موضح) چناچہ یہی آداب کلام علماء خطاب اور واعظین میں تو ارث سے چلے آتے ہیں کہ خطبہ کو حمد و صلوٰۃ سے شروع کرتے ہیں۔ 5 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بت بھی بہت اچھے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ سے کم۔ بتوں میں تو اچھائی کی پرچھائیں تک نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:58) فسائ : ساء یسوء (نصر) سوء مصدر۔ برا ہے (افعال ذم میں سے ہے) ماضی واحد مذکر غائب۔ المنذرین ۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ ڈرائے گئے۔ وہ لوگ جن کو سرکشی اور نافرمانی کی سزا سے ڈرایا گیا۔ انذر ینذر انذار (افعال) ڈرانا۔ نذر (بصورت اسم مصدر) خوف ۔ نذیر صفت مشبہ۔ ڈرانے والا منذر اسم فاعل۔ ڈرانے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–59

لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 : اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 : اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–59

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: حضرت لوط قوم سدوم کی طرف آئے اور دنیا کی بدترین قوم تھی ۔ سب سے پہلے انہیں لوگوں کے خلاف وضع فطری فعل ایجاد کیا ۔ اس میں اس درجہ فلواختیار کیا ۔ کیہ بدعملی ان میں عام ہوگئی ۔ حضرت لوط نے کہا ۔ کہ یہ بہت بےحیائی کا کام ہے تمہیں اپنی حرکات پر شرمانا چاہیے ۔ اور اپنی اس جہالت کا احساس ہونا چاہئے ۔ کہ مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہو تو انہوں نے بہت ناگواری کے ساتھ ان نصیحتوں کو سنا ۔ اور کہا ۔ کہ لوط اور اس کے ماننے والوں کو بستی سے نکال دو ۔ یہ لوگ بڑی پاکبازی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور اس لائق نہیں ہیں کہ ہمارے ساتھ رہیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اصرار گناہ اور انتہائی بداخلاقی کے باعث اللہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) اور ہم نے ان پر ایک عجیب قسم کا اور نئی طرح کا مینہ برسایا جو مینہ ان پر برسا جو ڈرائے جاچکے تھے وہ کیا برا مینہ تھا یعنی ان پر پتھرائو ہوا اور کھنگروں کا مینہ برسا ان لوگوں کو پہلے سے ڈرایا جاچکا تھا لیکن باز نہ آئے بالآخر بستیاں الٹ دی گئیں اور کھنگر برسائے گئے جیسا کہ سورة حجر میں گذرچکا ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے میں ہم لادیں گے لشکر جن سامنا نہ کرسکیں گے وہی بات ہوئی رسول میں اور مکہ والوں میں اور حضر ت صالح (علیہ السلام) پر نو شخص متفق ہوئے کہ رات کو پڑیں اللہ نے ان کو بچایا اور ان کو کھپایا ۔ مکہ کے لوگ بھی یہی چاہ چکے تھے لیکن نہ بنا جس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ وہ پتھروں کا مینہ تھا۔ 2۔ شروع سورت سے یہاں تک رسالت کی بحث تھی، آگے توحید کی بحث ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس طرح ان لوگوں پر جو بارش برسی وہ بہت بری بارش تھی : 58۔ زیر نظر آیت کا مطلب ی ہے کہ وہی چیز جو انسانی زندگی کا باعث ہوتی ہے وہی قوم لوط کی ہلاکت کا باعث ہوگئی اور ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کو ڈرایا گیا تھا لیکن انہوں نے ڈرنے کی بجائے اکڑنا شروع کردیا اور اس قدر اترائے کے حدود سے باہر ہی ہوتے چلے گئے ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہر بات کو انہوں نے مذاق میں جانا اور انجام کار وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے اور مختصر بات صرف یہ ہے کہ ابھی وقت ہے کہ تم سمجھ جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو قوم لوط کے ساتھ ہوا کیونکہ ہماری کسی قوم کے ساتھ دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ ہی اب ہے پہلے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–58

لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49. The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

70 That is, "The Prophet Lot had already been instructed not to take the woman along because she had to be destroyed along with her people."

Read the full tafseer →