An-Naml 27:57

An-Naml · from ayah 57

27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَاَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ؗ— قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۟فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَ اَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی)

— Fateh Muhammad Jalandhari

So We saved him and his family, except for his wife; We destined her to be of those who remained behind.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:57

آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی)

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس ہم نے اسے اور اس کے اہل کو بجز اس کی بیوی کے سب کو بچالیا، اس کا اندازه تو باقی ره جانے والوں میں ہم لگا ہی چکے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہوا یہ کہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا، سوائے ان کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے یہ طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو ہم نے ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ہم نے لوط ؑ کو اور ان کے گھر والوں کو نجات بخشی سوائے ان کی بیوی کے کہ ہم نے اسے (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے مقرر کر لیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بچالیا مگر اس کی بیوی۔ ہم نے اسے پیچھے رہنے والوں میں طے کردیا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا۔ بجز اس کی بیوی کے جس کے لئے پیچھے رہ جانا ہم نے مقدر کردیا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے اس کو اور اس کے لوگوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے، اس کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں شمار کر رکھا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار اس قوم پر عذاب نازل ہوا اور ہم نے بچا لیا لوط کو بھی اور ان کے تمام متعلقین کو بھی سوائے ان کی بیوی کے کہ اس لیے ہم نے مقدر کردیا تھا اس کے کفر و انکار کی بناء پر کہ اس کو بھی رہنا ہے ان لوگوں کے ساتھ جن کو پیچھے رہنا تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

بجز لوط کی بیوی کے انہیں ہم نے رہ جانے والوں میں تجویز کرلیا تھا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو ہم نے نجات دی اس ؑ کو اور اس ؑ کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی مگر ان کی بیوی کے لیے ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Eventually We saved (Lot) and his family, except his wife. We had decreed that she should be among those who would remain behind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to remain among those who stayed behind.

— Muhammad Taqi Usmani

So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to remain among those who stayed behind.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to be of those who remained behind.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We saved him and his household save his wife; We destined her to be of those who stayed behind.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So We saved him and his family, except for his wife; We destined her to be of those who remained behind.

— Saheeh International

We saved (Lot) and his family except his wife who was destined to remain behind.

— Muhammad Sarwar

But We delivered him and his followers except his wife; We ordained her to be of those who remained behind.

— Muhammad Habib Shakir

Then We delivered him and his household save his wife: We destined hers to be of the lingerers.

— Abdul Majid Daryabadi

But We saved him and his family, except his wife; her We destined to be of those who lagged behind.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–58

ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة النمل 70 یعنی پہلے ہی حضرت لوط کو ہدایت کردی گئی تھی کہ وہ اس عورت کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہی تباہ ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–58

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو (پیغمبر کر کے ان کی قوم کے پاس) بھیجا تھا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو (کیا اس کی برائی نہیں سمجھتے، آگے اس بےحیائی کا بیان ہے یعنی) کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی) بلکہ (اس معاملے میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط ؑ کے لوگوں کو (یعنی ان پر ایمان لانے والوں کو مع ان کے) تم اپنی بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو (جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو) ہم نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–58

فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین (57) لفظ اھل بھی جیسا کہ ہم اس کے محل میں وضاحت کرچکے ہیں، اہل و عیال اور اتباع و صحابہ سب کے لئے آتا ہے اور یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذمہ داری بقدر انعام ہے قدرنھا من الغبرین سے صرف یہی بات نہیں واضح ہوتی کہ حضرت لوط کی بیوی اس نجات سے محروم رہی بلکہ یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اس پتھرائو کا نشانہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص قوم کے ساتھ ہی رہیں تو دوسروں کے مقابل میں خدا کے غضب کی وہ زیادہ مستحق تھی۔ اللہ تعالیٰ جن کو تعلیم و ہدایت کے جتنے ہی زیادہ مواقع میسر فرماتا ہے، اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتے تو ان کو سزا بھی اسی کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

57-1یعنی پہلے ہی اس کی بابت یہ اندازہ یعنی تقدیر الٰہی میں تھا وہ انہی پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی جو عذاب سے دو چار ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–58

28: حضرت لوط ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، نیز پچھلی سورت سورة شعراء 160 تا 175 میں بھی گذرا ہے اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف 80 میں کرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–58

فانجینہ ……المئنذرین (85) یہاں اس بارش کی تفصیلات نہیں دی گئیں جس طرح دوسری سورتوں میں دی گئی ہیں۔ لہٰذا ہم بھی سیاق کلام کے مطابق بس اس آیت کو اسی طرح مجمل چھوڑتے ہیں لیکن اس قوم کو پانی سے ہلاک کیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ نامہ حیات کو غلط جگہ گراتے تھے جو فعل خلاف فطرت تھا۔ اس سے کوئی انسانی فعل مطلوب نہ تھا ، اس لئے اللہ نے بھی ان کو پانی کے ذریعے ہلاک کیا حالانکہ پانی سے اللہ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا ہے۔ یہ ان کے ساتھ ایک لطیف مذاق بھی تھا۔ واللہ اعلم ! یہ میری رائے ہے ورنہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی سنت کس طرح اور کیوں کام کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی انھیں تباہ کر کے انھیں بچالیا۔ 11 یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو ان بدمعاشوں کی اعانت کرتی تھی وہ بھی ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ڈھیر ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 54–57

آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–57

55 بجائے اس کے کہ وہ حصرت لوط (علیہ السلام) کی نصیحت پر کچھ اپنی اصلاح کرتے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبین کو از راہ تمسخر پاکبازی کا طعنہ دین۔ پھر انھیں اپنے شہر سے نکال دینے کی دھمکی بھی دینے لگے کہ تم جیسے پاکباز ہم گندے لوگوں میں کیونکر رہ سکتے ہیں۔ لہذا تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–58

67۔ (اور یہ اس لیے کہ یہ بدنصیب اس پر ذرا ملتفت نہیں ہوئے تھے) (آیت) ” امراۃ لوط “۔ اور عذاب قوم لوط وغیرہ پر حاشیے پہلے گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–59

آیت نمبر 45 تا 59 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین . سو ہم نے لوط کو اور اس کے لوگوں کو بچا لیا بجز اسکی بیوی کے کہ (اسکے ایمان نہ لانے کی وجہ سے) ہم نے اسکو ان ہی لوگوں میں تجویز کر رکھا تھا جو (عذاب میں) رہ جانے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(57) چناچہ ہم نے حضرت لوط ؑ اور ان کی دونوں صاحبزادیوں کو اس عذاب سے بچا لیا سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ ہم نے اس کو ان ہی لوگوں میں تجویز کر رکھا تھا جو عذاب میں رہ گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 57–58

فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ۔۔ : اس کی تفصیل سورة ہود (81 تا 83) میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سورت میں موسیٰ ؑ کے بعد تین انبیاء سلیمان، صالح اور لوط ؑ کے حالات کا ذکر ہوا ہے اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ ﷺ کے حالات میں مشابہت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کو پیغام بھیجا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہوجاؤ تو بہتر، ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی تم تاب نہ لا سکو گے۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مشرکین مکہ پر ایسا ہی لشکر لائے تھے۔ صالح ؑ کو ان کی قوم نے بلوے کی صورت میں شب خون مار کر قتل کرنا چاہا، لیکن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قانجینہ و اھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین عاصم نے اسے پڑھا قدرنا یعنی تخفیف کے ساتھ پڑھا معنی ایک ہی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قدرت الشق قدر اوقدرا او قدرتہ

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–58

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَنْجَيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَاَهْلَهٗٓ [ اور ان کے لوگوں کو ] اِلَّا [ سوائے ] امْرَاَتَهٗ ۡ [ ان (علیہ السلام) کی عورت کے ] قَدَّرْنٰهَا [ ہم نے طے کیا اس عورت کو ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 54–58

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بےحیائی کے کاموں میں مشغول ہونا نصیحت قبول نہ کرنا، اور بالآخر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا سوال و جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے، تفصیل سے یہ واقعہ سورة اعراف سورة حجر اور سورة شعراء میں گزر چکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ برے کام کرتے تھے یعنی مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ایمان کی بھی دعوت دی اور یہ بھی سمجھایا کہ اس کام کو چھوڑو تمہارا دل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے، یہ جاہلوں کا کام ہے تم پر جہالت سوار ہے کہ تم اسے برا کام جانتے ہوئے بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

قصہء پنجم حضرت لوط (علیہ السلام) با قوم اور قال اللہ تعالیٰ ۔ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فساء مطر المنذرین۔ (ربط) حضرت صالح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی قوم بھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئی اور ناگہانی عذاب ان پر نازل ہوا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ جب باز نہ آئے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بےحیائی کے کام کرتے ہو حالانکہ تم اس بےحیائی کے کام کے وقت ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–58

49:۔ یہ اس فاحشہ یعنی فعل قبیح کا بیان ہے۔ فما کان جواب قومہ الخ، اس ناصحانہ تبلیغ کے جواب میں قوم نے کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو کیونکہ وہ بڑے پاک بنتے ہیں اور ہمارے افعال سے نفرت کرتے ہیں۔ فانجینہ واھلہ الخ، آخر اس سرکش اور معاند قوم پر اللہ تعالیٰ نے خوفناک عذاب نازل کر کے اسے ہلاک کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی چونکہ کافرہ تھی اس لیے وہ بھی کافروں کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ فامطرنا علیہم مطرًا الخ، قوم لوط کی بستی کو تہ وبالا کر کے اس پر پتھروں کی بارش کی گئی جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا فلما جاء امرنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–58

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر کیا کہ ان کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر اونٹنی کی حیرت انگیز نشانی ظاہر فرمائی مگر قوم نے اس کا انکار کیا اور صالح (علیہ السلام) کو ختم کردینے کا منصوبہ بنایا ۔ اللہ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا ، وہ صالح (علیہ السلام) کو تو قتل نہ کرسکے البتہ خود ہی اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے یہ واقعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے کے مشرکین کی نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کیا ۔ اب اسی طرح لوط (علیہ السلام) اور انکی قوم کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ لوگ بھی ان کے وعظ و نصیحت کو برداشت نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَنْجَيْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اِلَّا امْرَاَتَہٗ۝ 0ۡقَدَّرْنٰہَا مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۝ 57 أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–58

ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَنْجَیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اِلاَّ امْرَاَتَہٗ ز قَدَّرْنٰـھَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (النمل : 57) (سو ہم نے اسے اور اس کے لوگوں کو نجات دے دی، بجز اس کی بیوی کے، ہم نے فیصلہ کردیا اس کے متعلق کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ ) فیصلہ کن چیز ایمان اور کفر ہے قومِ لوط کا بگاڑ جب یہاں تک پہنچا کہ پیغمبر اور اس کے متعلقین بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئے اور اس کو اپنی بستی سے نکالنے کی تدبیریں ہونے لگیں، تب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کی تفصیلات قرآن کریم نے بعض دیگر مواقع پر ذکر کی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–58

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ نہ معلوم انہوں نے کتنی مدّت تک قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے ان سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں نیست ونابود کردیا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو۔ مسافروں پر ڈاکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

57: فَاَنْجَیْنٰہُ (ہم نے ان کو نجات دی) ۔ قوم پر واقع ہونے والے عذاب سے بچا لیا۔ وَاَہْلَہٗ اِلاَّ امْرَاَتَۃٗ قَدَّرْنٰہَا مِنَ الْغٰبِریْنَ (اور اس کے اہل کو مگر ان کی بیوی ہم نے تجویز کر رکھا تھا اس کے لئے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے) ۔ قراءت : حماد و ابوبکر کے علاوہ باقی نے قدرنا تشدید سے پڑھا ہے۔ ای قدرنا کونھا۔ ہم نے مقدر کیا اس کا ہونا۔ الغابرین۔ عذاب میں باقی رہنے والے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

57۔ فانجیناہ واھلہ الامراتہ قدرناھا، ہم نے ان پر فیصلہ مقدر کردیا، من الغابرین، وہ عذاب سے پانے والوں میں سے باقی رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–59

45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–58

(آیت) 54 ہمارے بندے اور رسول لوط کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا : (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم بےحیائی کرتے ہو ؟ “ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے (وانتم تبصرون) ” اور تم دیکھتے ہو “ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا پھر اللہ تبارے و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء) ” کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

61 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا لوط کو اور انکے متعلقین کو سوائے ان کی بیوی کے "۔ کہ وہ بھی دوسرے کافروں کی طرح اپنے کفر کے انجام کو پہنچ کر رہی۔ اور حضرت لوط جیسے عظیم الشان پیغمبر کے رشتہ زوجیت میں منسلک ہونا اس کے کچھ کام نہ آسکا کہ وہ ایمان کی دولت سے محروم اور شرک کی غلاظتوں سے آلودہ تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے نہ کہ نبی کے ہاتھ میں۔ اور دوسرے یہ کہ اگر اپنا ایمان و عمل صحیح نہ ہو تو کوئی بڑے سے بڑا رشتہ وتعلق بھی کام نہیں آسکتا۔ اور تیسرے یہ کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–59

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–59

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف : ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–57

3 ۔ یعنی بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ اگر ایسے ہی پاک باز ہیں تو ہم گنہگاروں کی بستی میں کیوں رہیں نکالو انہیں باہر۔ یہ بات انہوں نے استہزا کے طور پر کہی۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:57) قدرنھا۔ ماضی جمع متکلم ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع امراتہ ہے) قدر یقدر تقدیر (تفعیل) مصدر۔ قدرنا ہم نے مقدر کردیا تھا۔ ازل سے حکم دیدیا تھا۔ اس کی تقدیر کردی تھی۔ الغبرین۔ اسم فاعل جمع مذکر (قیاسی) الغبر واحد۔ پیچھے رہ جانے والے۔ نیز ملاحظہ ہو (26:171)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–59

لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 : اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 : اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–59

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–57

الرجال ۔ جمع رجل بمعنے مرد ۔ تنفر پیدا کرنے کے لئے کہا ہے مقصود اس سے لونڈے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(57) پھر ہم نے اس لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے متعلقین کو سوائے اس کی بیوی کے بچالیا اس کی بیوی کے لئے ہم نے انہی لوگوں میں رہ جانا مقدر کر رکھا تھا جو رہ جانے والے تھے یعنی ہم نے حضر ت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو بچالیا مگر اس کی بیوی کو ایمان نہ لانے کی وجہ سے عذاب میں رہ جانے والوں میں رہ جانا تجویز کردیا اور اس کے لئے یہی مقدر کردیا کہ وہ رہ جانے والوں کے ہمراہ رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کے اہل کو بچالیا اور باقی سب لوگوں پر عذاب مسلط کردیا : 57۔ حضرت لوط (علیہ السلام) پر سچے دل سے ایمان لانے والوں کو بچالیا گیا اور باقی سب کو تباہ وبرباد کردیا گیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ابتداء شب میں ملائکہ کے کہنے پر حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے ماننے والوں کو ساتھ لے کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے بھی آپ کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آئی ، آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا اور پتھروں کا مینہ برسانا شروع کردیا اور اس زور سے بارش ہوئی کہ ان سب کو بھسم کرگئی اور ابھی بارش کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–58

لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49. The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

70 That is, "The Prophet Lot had already been instructed not to take the woman along because she had to be destroyed along with her people."

Read the full tafseer →