Explained with ayahs 54–58
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز)
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة النمل 69
جہالت کا لفظ یہاں حماقت اور سفاہت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اردو زبان میں بھی ہم گالی گلوچ اور بیہودہ حرکات کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اتر آیا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے وّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان 63) لیکن اگر اس لفظ کو بےعلمی ہی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی ان حرکات کے برے انجام کو نہیں جانتے، تم یہ تو جانتے ہو کہ یہ ایک لذت نفس ہے جو تم حاصل کر رہے ہو، مگر تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس انتہائی مجرمانہ اور گھناؤنی لذت چشی کا کیسا سخت خمیازہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لوط ؑ کو (پیغمبر کر کے ان کی قوم کے پاس) بھیجا تھا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو (کیا اس کی برائی نہیں سمجھتے، آگے اس بےحیائی کا بیان ہے یعنی) کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی) بلکہ (اس معاملے میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط ؑ کے لوگوں کو (یعنی ان پر ایمان لانے والوں کو مع ان کے) تم اپنی بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو (جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو) ہم نے…
Read the full tafseer →فماکان جواب قومہ الا ان قالوآ اخرجوآ ال لوط من تریتکو انھم اناس یتطھرون (56)
حضرت لوط کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش
اس کھلی ہوئی بےحیائی کے حق میں کوئی دلیل تو وہ گھڑ نہیں سکتے تھے لیکن اس کو چھوڑنے کے لئے بھی وہ تیار نہیں تھے اس وجہ سے واحد چارہ کار ان کے پاس یہی رہ گیا کہ کسی نہ کسی طرح حضرت لوط کی سرزنش سے پیچھا چھڑائیں قوم کے سرغنوں نے اپنے آدمیوں کو ورغلایا کہ لوط اور ان کے ساتھیوں کو اس بستی سے نکال دو۔ انھم اناس یتطھرون (یہ لوگ بڑے پا رسا بنتے ہیں) اس فقرے میں جو زہر ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے حضرت لوط اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اپنی قوم کے جذبات بھڑکانے کے لئے انہوں نے یہ…
Read the full tafseer →56-1بطور طنز اور استہزاء کے کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
28: حضرت لوط ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، نیز پچھلی سورت سورة شعراء 160 تا 175 میں بھی گذرا ہے اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف 80 میں کرایا ہے۔
Read the full tafseer →فما کان ……یتطھرون (65)
انہوں نے بطور مزاح حضرت لوط اور مومنین کو ” پاکباز “ کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل گندہ ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ الٹا ان پاکبازوں کو گندے لوگ سمجھتے ہیں اور ان کو یہ بات بری لگتی ہو کہ مسلمان اپنے آپ کو پاک سمجھتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی فطرت کے اندر اس قدر انحراف پیدا ہوگیا تھا کہ اس فعل کو گندگی نہ سمجھ رہے تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس فعل کو چھوڑنا وہ اپنے لئے گندہ فعل سمجھ رہے ہوں۔
بہرحال ان لوگوں نے فیصلہ کرلیا اور پختہ ارداہ کرلیا کہ حضرت لوط کو ملک بدر کردیں لیکن اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ اللہ نے ان کو دنیا بدر کردیا۔
Read the full tafseer →9 یعنی اپنے کو بڑا پاک و صاف بنانا چاہتے ہیں۔ پھر ہم ناپاکوں میں ان کا کیا کام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
55 بجائے اس کے کہ وہ حصرت لوط (علیہ السلام) کی نصیحت پر کچھ اپنی اصلاح کرتے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبین کو از راہ تمسخر پاکبازی کا طعنہ دین۔ پھر انھیں اپنے شہر سے نکال دینے کی دھمکی بھی دینے لگے کہ تم جیسے پاکباز ہم گندے لوگوں میں کیونکر رہ سکتے ہیں۔ لہذا تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
67۔ (اور یہ اس لیے کہ یہ بدنصیب اس پر ذرا ملتفت نہیں ہوئے تھے) (آیت) ” امراۃ لوط “۔ اور عذاب قوم لوط وغیرہ پر حاشیے پہلے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →فما کان جواب قومہ الا ان قالو اخرجو ال لوط من قریتکم انہم اناس یتطھرون .
سو (اس تقریر کا) ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا بجز اسکے کہ انہوں نے (آپس میں) کہا : لوط کا ساتھ دینے والوں کو (بھی) اپنی بستی سے نکال باہر کر دو ‘ یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔
یَتَطَھَّرُوْنَ یعنی ہمارے افعال سے یا گندگیوں سے پاک صاف بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →(56) ان کی قوم کو سوائے اس کے اور کوئی جواب نہ بن پڑا کہ تم لوط ؑ اور ان کی دونوں صاحبزادیوں یعنی زعوراء اور ریثاء کو اس بستی سدوم سے نکال دو ، کیوں کہ یہ لوگ مردوں سے شہوت رانی کے بارے میں بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ۔۔ : لوط ؑ کی بہترین نصیحت کا جواب ان کے پاس جہالت کے سوا کچھ نہ تھا اور انھوں نے ثابت کردیا کہ لوط ؑ جو انھیں ”قَومٌ تَجْھَلُوْن“ کہہ رہے تھے، درست ہی کہہ رہے تھے۔ چناچہ انھوں نے اتنی سنجیدہ بات کا جواب استہزا اور تمسخر کے ساتھ دیا، جو جاہلوں کا کام ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے فرمایا تھا : اَعُوْذُ باللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) [ البقرۃ : 67 ] ”میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں کہ میں جاہلوں سے ہوجاؤں۔“ مزید دیکھیے سورة اعراف (82)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ولوطاً اذقال لقومہ ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا یا لوط (علیہ السلام) کو یاد کرو۔ اذ قال لقومۃ قوم سے مراد اہل سدوم ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا اتاتون الفاحشۃ فاحشہ سے مراد ایسا فعل ہے جو قبیح او شنیع ہو۔ وانتم تبصرون جب کہ تم دیکھتے ہو کہ یے بےحیائی ہے۔ یہ تمہارا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جب کہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے۔ وہ سرکشی اور تمرد کی وجہ سے پردہ پوشی بھی نہ کرتے تھے۔ ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء اس کی قباحت اور شناعت کی زیادتی کی وجہ سے اس کو دوبارہ ذکر کیا۔ بل انتم قوم تجھلون حرمت کے امریاعقوبت کے امر سے ناواقف ہو۔ خلیل اور سیبویہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ [ تو نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ ان کی قوم کا جواب ] اِلَّا اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَخْرِجُوْٓا [ تم لوگ نکالو ] اٰلَ لُوْطٍ [ لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کو ] مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ [ اپنی بستی سے ] اِنَّهُمْ [ بیشک یہ لوگ ] اُنَاسٌ [ ایک ایسا گروہ ہیں جو ] يَّتَطَهَّرُوْنَ [ پاک رہنا چاہتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بےحیائی کے کاموں میں مشغول ہونا نصیحت قبول نہ کرنا، اور بالآخر ہلاک ہونا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا سوال و جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے، تفصیل سے یہ واقعہ سورة اعراف سورة حجر اور سورة شعراء میں گزر چکا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ برے کام کرتے تھے یعنی مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ایمان کی بھی دعوت دی اور یہ بھی سمجھایا کہ اس کام کو چھوڑو تمہارا دل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے، یہ جاہلوں کا کام ہے تم پر جہالت سوار ہے کہ تم اسے برا کام جانتے ہوئے بھی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
قصہء پنجم حضرت لوط (علیہ السلام) با قوم اور
قال اللہ تعالیٰ ۔ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فساء مطر المنذرین۔
(ربط) حضرت صالح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی قوم بھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئی اور ناگہانی عذاب ان پر نازل ہوا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ جب باز نہ آئے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بےحیائی کے کام کرتے ہو حالانکہ تم اس بےحیائی کے کام کے وقت ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
49:۔ یہ اس فاحشہ یعنی فعل قبیح کا بیان ہے۔ فما کان جواب قومہ الخ، اس ناصحانہ تبلیغ کے جواب میں قوم نے کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو کیونکہ وہ بڑے پاک بنتے ہیں اور ہمارے افعال سے نفرت کرتے ہیں۔ فانجینہ واھلہ الخ، آخر اس سرکش اور معاند قوم پر اللہ تعالیٰ نے خوفناک عذاب نازل کر کے اسے ہلاک کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی چونکہ کافرہ تھی اس لیے وہ بھی کافروں کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ فامطرنا علیہم مطرًا الخ، قوم لوط کی بستی کو تہ وبالا کر کے اس پر پتھروں کی بارش کی گئی جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا فلما جاء امرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر کیا کہ ان کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر اونٹنی کی حیرت انگیز نشانی ظاہر فرمائی مگر قوم نے اس کا انکار کیا اور صالح (علیہ السلام) کو ختم کردینے کا منصوبہ بنایا ۔ اللہ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا ، وہ صالح (علیہ السلام) کو تو قتل نہ کرسکے البتہ خود ہی اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے یہ واقعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے کے مشرکین کی نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کیا ۔ اب اسی طرح لوط (علیہ السلام) اور انکی قوم کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ لوگ بھی ان کے وعظ و نصیحت کو برداشت نہیں…
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ 0ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَہَّرُوْنَ 56
جوب
والجواب يقال في مقابلة السؤال،
والسؤال علی ضربین :
طلب مقال، وجوابه المقال .
وطلب نوال، وجوابه النّوال .
فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ،
وعلی الثاني قوله : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، أي : أعطیتما ما سألتما .
( ج و ب ) الجوب
جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے
اور سوال دو قسم پر ہے
( 1) گفتگو کا طلب کرنا اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے (2) طلب عطا یعنی خیرات طلب کرنا اس کا جواب یہ ہے کہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ ج اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّـتَطَھَّرُوْنَ ۔ (النمل : 56)
(پس نہیں تھا ان کی قوم کا جواب، مگر یہ کہ انھوں نے کہا کہ آل لوط کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ )
دلائل سے پسپائی
حضرت لوط (علیہ السلام) کی تنقید کا جواب تو ان کی قوم کے پاس بالکل نہ تھا۔ البتہ یہ حوصلہ بھی ان کے پاس نہ تھا کہ وہ اپنی برائیوں اور بےحیائیوں پر طعنہ زنی برداشت کرسکیں۔ اس لیے انھوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی تنقید سے بچنے کے لیے لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ لوط اور اس کے ساتھی اور گھر والے عجیب لوگ ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ نہ معلوم انہوں نے کتنی مدّت تک قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے ان سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں نیست ونابود کردیا گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو۔ مسافروں پر ڈاکہ…
Read the full tafseer →56: فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلاَّ اَنْ قَالُوْا اَخْرِجُوْا ٰالَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ (پس قوم کا جواب یہی تھا کہ کہنے لگے۔ آل لوط کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو بیشک یہ لوگ پاک بنتے ہیں) ۔ آل لوط سے یہاں لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار مراد ہیں۔
نحو : کان کی خبر جواب ہے اور ان قالوا اس کا اسم ہے۔ یتطہرون۔ وہ گندگیوں سے بڑے بچتے ہیں۔ وہ اس گندے عمل کو اوپر اقرار دیتے ہیں اور ہمیں ان کے انکار و تنقید سے بغض اور چڑ ہے۔
ایک قول یہ ہے :
یہ استہزائی کلام ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ انک لانت الحلیم الرشید۔ ] ہود۔ 87[
Read the full tafseer →56۔ فماکان جواب قومہ، ،، ، مردوں کے پاس آنے سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
(آیت) 54
ہمارے بندے اور رسول لوط کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا : (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم بےحیائی کرتے ہو ؟ “ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے (وانتم تبصرون) ” اور تم دیکھتے ہو “ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا پھر اللہ تبارے و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء) ” کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے…
Read the full tafseer →60 حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف سے بیہودہ اور متکبرانہ جواب : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت لوط کو اپنی قوم کی طرف سے یہ جواب ملا کہ نکال باہر کرو لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے کہ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں "۔ تو ایسے پاک بازوں کو ہمارے معاشرے میں رہنے کا کیا حق ؟ سو اس طرح انہوں نے گویا اپنی ہلاکت کے وثیقہ پر خود دستخط کردیئے۔ کیونکہ ٹوکرے میں جب کوئی ایک آدھ دانہ بھی صحیح نہیں رہتا تو ظاہر ہے کہ ایسے میں اس پورے ٹوکرے کو فوراً اٹھا کر اور دور لے جا کر گندگی کے کسی ڈھیر میں یا آگ کے کسی الاؤ میں پھینک دیا جاتا ہے تاکہ تعفن نہ پھیلنے پائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قوم لوط نے اپنے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی
تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
3 ۔ یعنی بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ اگر ایسے ہی پاک باز ہیں تو ہم گنہگاروں کی بستی میں کیوں رہیں نکالو انہیں باہر۔ یہ بات انہوں نے استہزا کے طور پر کہی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:56) الا الخ استثناء مفرغ (وہ استثناء جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو۔ جیسے ماجاءنی الا زید زید کے سوا کوئی میرے پاس نہیں آیا۔
ان والوا اخرجوا ال لوط ۔۔ الخ اسم کان اور جواب قومہ۔ کان کی خبر۔ اور اس کی قوم کا جواب بجز اس کے نہ تھا کہ انہوں نے کہا آل لوط کو اپنی بستی سے نکال دو ۔
ال لوط سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کے تابعین۔ من اتبع دینہ جنہوں نے ان کے دین کا اتباع کیا تھا۔
یتطھرون ۔ مضارع جمع مذکر غائب تطھر (تفعل مصدر۔ پاک صاف بنتے ہیں (باب تفعل کے خواص میں سے تکلف یعنی ماخذ میں تصنع ظاہر کرنا ہے) یعنی یہ بڑے پاک صاف بنے پھرتے ہیں (جو وہ ہیں نہیں) یا یہ انہوں نے طنزا اور استہزاء کہا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 :
اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 :
اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔
اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
الرجال ۔ جمع رجل بمعنے مرد ۔ تنفر پیدا کرنے کے لئے کہا ہے مقصود اس سے لونڈے ہیں ۔
Read the full tafseer →(56) اس پر اس کی قوم کیپ اس سوائے اس کے اور کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین کو اپنی بستی سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ بہت ستھرے اور پاکیزہ بننا چاہتے ہیں یعنی ان کو پاک باز بننے کا بہت شوق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ف 5۔ یعنی کیا اس کی قباحت نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے ‘ ان کا یہاں کیا کام ہے ؟ :
56۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی بستی کے لوگوں کو جب اس معروف بےحیائی اور اس قبیل کی دوسری بیماریوں سے منع کیا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کا حل کیا ہونا چاہئے تو اس میں جو زیادہ سمجھدار تھے انہوں نے یہی فیصلہ دیا کہ لوط اور اس کے لوگوں کو اس بستی سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ بڑے پاکباز بنے بیٹھے ہیں گویا ان کے نزدیک ان کے کام ایسے نہیں تھے جن پر کسی کو تنقید کرنے اور ان کو برا بھلا کہنے کا کوئی حق ہو ۔ یہ فیصلہ تو اس دور کا ہے جس دور کو جہالت کا دور کہا جاتا ہے لیکن آج اس علمی دور میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49.
The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
69 The word jahalat here has been used in the sense of folly and stupidity. But even if it is taken in the sense of ignorance and lack of knowledge, it will mean: "You do not know the evil consequences of your acts. You only know that you are deriving sensual pleasure, but you do not know what severe punishment awaits you for this criminal and heinous pleasure-seeking. The scourge of Allah is ready to strike you but you are engaged in a senseless, filthy game with impunity. "
Read the full tafseer →