An-Naml 27:55

An-Naml · from ayah 55

27:55

اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ؕ— بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ ۟اَئِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ‌ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر (لذت حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you indeed approach men with desire instead of women? Rather, you are a people behaving ignorantly."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:55

کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر (لذت حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ کیا بات ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو حق یہ ہے کہ تم بڑی ہی نادانی کر رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا یہ کوئی یقین کرنے کی بات ہے کہ تم اپنی جنسی خواہش کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم بڑی جہالت کے کام کرنے والے لوگ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم مردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم جاہل لوگ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا بیشک تم واقعی عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس آتے ہو، بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ جہالت برتتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم تو جہالت کے کام کرتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو ! بلکہ تم بڑے ہی جاہل ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے آتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔

— مولانا اسحاق مدنی

ارے ! تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر ! مگر ہاں تم لوگ ہی ہو جاہلیت میں (مبتلا)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم مردوں کا رخ کرتے ہو شہوت رانی کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر ! بلکہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you lustfully approach men instead of women? Nay, you engage in acts of sheer ignorance."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that you really come to men lustfully instead of women? No, you are a people committing acts of ignorance.

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that you really come to men lustfully instead of women? No, you are a people committing acts of ignorance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Do you practice your lusts on men instead of women Nay, but you are a people who behave senselessly."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Must ye needs lust after men instead of women? Nay, but ye are folk who act senselessly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you indeed approach men with desire instead of women? Rather, you are a people behaving ignorantly."

— Saheeh International

Do you have carnal relations with men rather than women? You are ignorant people".

— Muhammad Sarwar

What! do you indeed approach men lustfully rather than women? Nay, you are a people who act ignorantly.

— Muhammad Habib Shakir

Would ye go in lustfully unto men instead of women? Aye! ye are a people addicted to ignorant ways.

— Abdul Majid Daryabadi

Would ye really approach men in your lusts rather than women? Nay, ye are a people (grossly) ignorant!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–58

ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة النمل 69 جہالت کا لفظ یہاں حماقت اور سفاہت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اردو زبان میں بھی ہم گالی گلوچ اور بیہودہ حرکات کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اتر آیا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے وّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان 63) لیکن اگر اس لفظ کو بےعلمی ہی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی ان حرکات کے برے انجام کو نہیں جانتے، تم یہ تو جانتے ہو کہ یہ ایک لذت نفس ہے جو تم حاصل کر رہے ہو، مگر تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس انتہائی مجرمانہ اور گھناؤنی لذت چشی کا کیسا سخت خمیازہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–58

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو (پیغمبر کر کے ان کی قوم کے پاس) بھیجا تھا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو (کیا اس کی برائی نہیں سمجھتے، آگے اس بےحیائی کا بیان ہے یعنی) کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی) بلکہ (اس معاملے میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط ؑ کے لوگوں کو (یعنی ان پر ایمان لانے والوں کو مع ان کے) تم اپنی بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو (جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو) ہم نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اننکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون الغسآء ط بل انتم قوم تجھلون (55) استفہام یہاں اظہار تعجب و حیرت و کراہت کے لئے ہے۔ من دون النسآء کی قیدان کے اندھے پن کو واضح کر رہی ہے کہ قضائے شہوت کے لئے ایک فطری اور جائز چیز کے موجود ہوتے تمہارا یہ انحراف تمہاری فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ لفظ جھل جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، جذبات و خواہشات نفس سے اس طرح مغلوب ہوجانے کے لئے آتا ہے کہ آدمی عقل و ہوش بالکل ہی کھو بیٹھے بل انتم قوم تجھلون یعنی تمہاری عقلیں بالکل ہی مائوف و مغلوب ہوگئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55-1یہ تکرار توبیخ کے لئے ہے کہ یہ بےحیائی وہی لواطت ہے جو تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے غیر فطری شہوت رانی کے طور پر کرتے ہو۔ 55-2یا اس کی حرمت سے یا اس معصیت کی سزا سے تم بیخبر ہو۔ ورنہ شاید یہ کام نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–58

28: حضرت لوط ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، نیز پچھلی سورت سورة شعراء 160 تا 175 میں بھی گذرا ہے اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف 80 میں کرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 54–55

ولوطا……قوم تجھلون (55) پہلے فقرے میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم جس بگاڑ میں مبتلا ہو یہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ، تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمام زندہ مخلوقات کی فطرت کیا ہے۔ تم تو اچھی طرح دیکھتے ہو کہ حیات انسانی و حیوانی کے اندر قانون فطرت کیا ہے۔ تمام زندہ مخلوق میں سے صرف تم ایسے ہو کہ خلاف فطرت روش میں مبتلا ہو اور دوسرے فقرے میں اس بات کی وضاحت کردی کہ تمہار ایہ فعل انسانیت کے خلاف ہے کہ تم اپنی جنس ضرورت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے پوری کرتے ہو۔ محض یہ بیان کہ وہ ایسا کرتے تھے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ فعل غیر فطری اور عجیب ہے اور پوری حیوانی نباتاتی بلکہ کائنتای فطرت کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی تم سمجھتے نہیں کہ اس بےحیائی کا انجام کیا ہونے والا ہے، پرلے درجہ کے جاہل اور احمق ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 54–57

آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

54 یعنی تم اس لواطت کے انجام سے آگاہ نہیں اس کا انجام یہ ہوگا کہ چند ہی سالوں بعد تمہاری نسل ختم ہوجائے گی نیز تمہاری عورتوں میں فحاشی پھیل جائے گی۔ یا تم اس فعل کے اس انجام سے بیخبر ہو کہ اس کے نتیجہ میں اللہ کا عذاب تم پر نازل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ دین فطرت کی طرح دین جاہلیت کا بھی ایک مستقل نظام ہے، زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی، جاہلی عقائد، جاہلی عبادات جاہلی اخلاق، جاہلی معاملات وغیرہا۔ اسی جاہلی اخلاق ومعاشرت کا ایک مظہر غیر طبعی بہیمانہ شہوت رانیاں بھی ہیں۔ جن سے ہر سلیم الفطرت انسان ہی کو نہیں، حیوانات تک کو گھن آتی ہے۔ آج جاہلیت فرنگ میں پھر یہی بدکاریاں نئے نئے خوشنما ناموں کے ساتھ دنیا کے سامنے لوٹ کر آرہی ہیں۔ (آیت) ” اتاتون “ اور ” ائنکم “۔ دونوں میں ہمزہ استفہام کمال استعجاب کے لیے ہے۔ ترجمہ میں ” ارے “ دونوں جگہ اسی مفہوم کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–59

آیت نمبر 45 تا 59 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ائنکم لتاتون الرجان شھوۃ من دون النساء بل انتم قوم تجھلون . کیا تم شہوت کے ساتھ مردوں پر چڑھتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی وجہ کوئی نہیں) بلکہ (اس معاملہ میں تم بالکل جاہل لوگ ہو) محض جہالت کرتے ہو۔ یہ قوم لوط کی بدکاری کا بیان ہے کہ شہوت رانی کے لئے مردوں پر آتے ہیں عورتوں کو چھوڑ کر حالانکہ عورتیں اس کام کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ جماع کا اصل مقصد ہے طلب نسل ‘ محض تقاضاء شہوت پورا کرنا مقصود نہیں ہے (کہ جہاں چاہا بےمحل اس عمل کرلیا) ۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ یعنی یہ حرکت اس شخص کی طرح کرتے ہو جو اس کی برائی سے ناواقف ہو یا سبک سر بیوقوف ہو ‘ جو اچھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو تم حکم الہی کے بارے میں جہالت کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً۔۔ : ہمزہ استفہام کے بعد ”إِنَّ“ اور لام کے ساتھ تاکید کا مطلب تعجب کا اظہار ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے کہ تم وہ کام کرتے ہو جو کسی صحیح الفطرت آدمی کے خیال میں بھی نہیں آتا۔ 3 پچھلی آیت میں صرف فاحشہ کا ذکر کیا تھا، اب مذمت کی مزید تاکید کے لیے ان کے فعل بد کی تصریح فرمائی کہ تم پاک دامنی اور اولاد کے حصول کے لیے بیویوں کے پاس جانے کے بجائے محض شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ شہوت پوری کرنے کے لیے عورتیں کافی نہیں بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو علم کے بجائے جہل کے اسیر ہو اور اس فعل بد کے انجام سے جاہل ہو کہ دنیا اور آخرت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 54–56

ولوطاً اذقال لقومہ ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا یا لوط (علیہ السلام) کو یاد کرو۔ اذ قال لقومۃ قوم سے مراد اہل سدوم ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا اتاتون الفاحشۃ فاحشہ سے مراد ایسا فعل ہے جو قبیح او شنیع ہو۔ وانتم تبصرون جب کہ تم دیکھتے ہو کہ یے بےحیائی ہے۔ یہ تمہارا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جب کہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے۔ وہ سرکشی اور تمرد کی وجہ سے پردہ پوشی بھی نہ کرتے تھے۔ ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء اس کی قباحت اور شناعت کی زیادتی کی وجہ سے اس کو دوبارہ ذکر کیا۔ بل انتم قوم تجھلون حرمت کے امریاعقوبت کے امر سے ناواقف ہو۔ خلیل اور سیبویہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–58

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَىِٕنَّكُمْ [ کیا بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [ آتے ہو ] الرِّجَالَ [ مردوں کے پاس ] شَهْوَةً [ شہوت کے لئے ] مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ [ عورتوں کے علاوہ ] بَلْ اَنْتُمْ [ بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہو جو ] تَجْـهَلُوْنَ [ غلط سوچ رکھتی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 54–58

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بےحیائی کے کاموں میں مشغول ہونا نصیحت قبول نہ کرنا، اور بالآخر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا سوال و جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے، تفصیل سے یہ واقعہ سورة اعراف سورة حجر اور سورة شعراء میں گزر چکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ برے کام کرتے تھے یعنی مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ایمان کی بھی دعوت دی اور یہ بھی سمجھایا کہ اس کام کو چھوڑو تمہارا دل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے، یہ جاہلوں کا کام ہے تم پر جہالت سوار ہے کہ تم اسے برا کام جانتے ہوئے بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

قصہء پنجم حضرت لوط (علیہ السلام) با قوم اور قال اللہ تعالیٰ ۔ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فساء مطر المنذرین۔ (ربط) حضرت صالح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی قوم بھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئی اور ناگہانی عذاب ان پر نازل ہوا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ جب باز نہ آئے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بےحیائی کے کام کرتے ہو حالانکہ تم اس بےحیائی کے کام کے وقت ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–58

49:۔ یہ اس فاحشہ یعنی فعل قبیح کا بیان ہے۔ فما کان جواب قومہ الخ، اس ناصحانہ تبلیغ کے جواب میں قوم نے کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو کیونکہ وہ بڑے پاک بنتے ہیں اور ہمارے افعال سے نفرت کرتے ہیں۔ فانجینہ واھلہ الخ، آخر اس سرکش اور معاند قوم پر اللہ تعالیٰ نے خوفناک عذاب نازل کر کے اسے ہلاک کردیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی چونکہ کافرہ تھی اس لیے وہ بھی کافروں کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ فامطرنا علیہم مطرًا الخ، قوم لوط کی بستی کو تہ وبالا کر کے اس پر پتھروں کی بارش کی گئی جیسا کہ سورة ہود رکوع 7 میں فرمایا فلما جاء امرنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–58

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر کیا کہ ان کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر اونٹنی کی حیرت انگیز نشانی ظاہر فرمائی مگر قوم نے اس کا انکار کیا اور صالح (علیہ السلام) کو ختم کردینے کا منصوبہ بنایا ۔ اللہ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا ، وہ صالح (علیہ السلام) کو تو قتل نہ کرسکے البتہ خود ہی اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے یہ واقعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے کے مشرکین کی نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کیا ۔ اب اسی طرح لوط (علیہ السلام) اور انکی قوم کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ لوگ بھی ان کے وعظ و نصیحت کو برداشت نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ۝ 0ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْـہَلُوْنَ۝ 55 رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ شها أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى ما تریده، وذلک في الدّنيا ضربان : صادقة، وکاذبة، فالصّادقة : ما يختلّ البدن من دونه كشهوة الطّعام عند الجوع، والکاذبة : ما لا يختلّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–58

ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَئِنَّـکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَـآئِ ط بَلْ اَنْـتُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ ۔ (النمل : 55) (کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو بلکہ تم بڑے ہی جاہل ہو۔ ) خلافِ فطرت کام پر اظہارِتعجب و حیرت اظہارِ تعجب و کراہت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ قضائے شہوت کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پیدا کیا ہے، لیکن تمہاری فطرت شاید اس حد تک مسخ ہوگئی ہے کہ تم ان کے پاس جانے کی بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ اور مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ پوری کی پوری قوم اس کھلی بےحیائی میں اس طرح شریک ہے کہ ہر شخص اس بری حرکت پر فخر کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–58

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ نہ معلوم انہوں نے کتنی مدّت تک قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے ان سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں نیست ونابود کردیا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو۔ مسافروں پر ڈاکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55: اَئِنَّکُمْ (کیا تم ہی) ۔ قراءت : شامی ٗ کوفی نے دو ہمزہ سے پڑھا۔ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ (کیا تم مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو) ۔ شہوۃ ای لشہوۃ۔ شہوت پوری کرنے کے لئے۔ مِنْ دُوْنِ النِّسائِ (عورتوں کو چھوڑ کر) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کے لئے بنایا ہے۔ مرد کو مرد کے لئے نہیں بنایا۔ اور نہ مؤنث کو مؤنث کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ٹکراتی ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُوْنَ (بلکہ تم جاہل لوگ ہو) ۔ نمبر 1۔ جاہلوں جیسے کام کرتے ہو اس لئے کہ اس کا بےحیائی ہونا تمہیں بخوبی معلوم ہے۔ نمبر 2۔ جہل سے مراد حماقت اور وہ مخول جس پر وہ قائم تھے۔ اس جملہ میں خطاب و غائب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 54–55

54۔ ولوطا اذ قال لقومہ ، ،، قبیح فعل، وانتم تبصرون، تم جانتے ہو کہ یہ فاحشہ ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کو برہنہ حال میں دیکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–59

45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–58

(آیت) 54 ہمارے بندے اور رسول لوط کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا : (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم بےحیائی کرتے ہو ؟ “ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے (وانتم تبصرون) ” اور تم دیکھتے ہو “ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا پھر اللہ تبارے و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء) ” کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–55

59 حضرت لوط کا اپنی قوم سے درد بھرا خطاب : سو اس سے حضرت لوـط کے درد بھرے خطاب کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ اس دیکھیے اور دور حاضر کے ایک جمہوری ملک کا ایک حیا باختہ کردار بھی ملاحظہ کیجیے۔ سو حضرت لوط نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " تم لوگ آنکھوں دیکھتے ہوئے ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ؟ "۔ جس کو شریف انسان کیلئے زبان پر لانا بھی مشکل ہے ؟۔ اور کیا تم لوگ ایک ایسا شرمناک اور بےہودہ کام کرتے ہو جو ایک جانور بھی نہیں کرتا اور جو تمہارے لئے دنیا و آخرت اور ایمان و غیرت سب کی تباہی کا باعث ہے۔ مگر یہاں پر ذرا رک کر اس فعل شنیع کی شناعت و قباحت کو بھی دیکھئے اور اس سے متعلق دور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–59

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–59

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف : ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 51–55

2 ۔ جو اس قسم کی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس سے گدھے اور کتے بھی شرماتے ہیں ” تجھلون “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم اس بات سے باخبر ہو کر اس بری روش کی تمہیں کیا سزا مل سکتی ہے ؟۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:55) ائنکم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر بیشک تم۔ شھوۃ : ای للشھوۃ۔ شہوت رانی کے لئے ۔ یعنی کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو یا مردوں کے پاس شہوت رانی کے لئے جاتے ہو۔ بل انتم قوم تجھلون ۔ میں حرف بل حرف اضراب ہے پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کے لئے۔ یعنی تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم تو ہو ہی پرلے درجے کے جاہل بیوقوف قوم ! تجھلون مضارع جمع مذکر حاضر جھل سے باب سمع۔ تم جہالت کتے ہو تم نادانی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–59

لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 : اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 : اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–59

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–57

الرجال ۔ جمع رجل بمعنے مرد ۔ تنفر پیدا کرنے کے لئے کہا ہے مقصود اس سے لونڈے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(55) آگے اس کا بیان ہے کیا تم شہوت رانی کی خاطر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر دوڑتے اور مائل ہوتے ہو بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ بےسمجھ اور بڑے ہی جاہل ہو یعنی اس طرح مادہ منویہ کو ضائع کرنا بڑی جہالت اور ناسمجھی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس جہالت کا مظاہرہ کرکے تم من حیث القوم سارے ہی جاہل ہو رہے ہو : 55۔ قوم لوط کی اس غیر فطری حرکت کو جہالت کا باعث قرار دیا ہے کیا واقعی وہ جہالت کے باعث ایسا کرتے تھے اس کے جواب سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کہ واضح ہوجائے کہ جہالت کیا چیز ہے ؟ کسی کام کا بغیر اس کے مآل کو سمجھتے ہوئے کرنا جہالت ہے خواہ وہ کام کرنے والا کون ہو گویا اس جگہ یہ لفظ حماقت اور سفاہت کے لئے استعمال ہوا ہے ہم اردو زبان میں بھی ان معنوں میں اسی لفظ کا استعمال کرتے ہیں مثلا جب کوئی شخص گالی گلوچ پر اتر آتا ہے اور اس طرح کی بیہودہ حرکات کا مرتکب ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اتر آیا ہے ، ظاہر ہے کہ جو شخص اس طرح کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–58

لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49. The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–56

69 The word jahalat here has been used in the sense of folly and stupidity. But even if it is taken in the sense of ignorance and lack of knowledge, it will mean: "You do not know the evil consequences of your acts. You only know that you are deriving sensual pleasure, but you do not know what severe punishment awaits you for this criminal and heinous pleasure-seeking. The scourge of Allah is ready to strike you but you are engaged in a senseless, filthy game with impunity. "

Read the full tafseer →