An-Naml 27:54

An-Naml · from ayah 54

27:54

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ۟وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡـفَاحِشَةَ وَاَنۡـتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] Lot, when he said to his people, "Do you commit immorality while you are seeing?

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:54

اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور لوط کا (ذکر کر) جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہاکہ کیا باوجود دیکھنے بھالنے کے پھر بھی تم بدکاری کر رہے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے بھی بےحیائی کا یہ کام کرتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بے حیائی پر آتے ہو اور تم سوجھ رہے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور لوط ؑ کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو حالانکہ تم دیکھتے (بھی) ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بےحیائی کو آتے ہو، جب کہ تم دیکھتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور لوط (کا واقعہ یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم سمجھ رکھنے کے باوجود بدکاری کے کام کرتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے لوط کو بھی رسول بنا کر بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور لوط کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا سو یاد کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم لوگ دیدہ دانستہ اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور لوط (کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا تھا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم والوں سے کہا کہ ارے کیا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو درآنحالیکہ سمجھ رکھتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوط ؑ کو بھی (ہم نے بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم فحش کام کرتے ہو اور تم دیکھتے بھی ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ”تم بےحیائی کے کام کیوں کرتے ہو ؟ اور حالانکہ تم دیکھتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We also sent Lot, and recall when he told his people: "Do you commit shameless acts with your eyes open?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (We sent) LuT when he said to his people, :Do you commit the shameful act while you can see (its shamefulness)?

— Muhammad Taqi Usmani

And (We sent) LuT when he said to his people, :Do you commit the shameful act while you can see (its shamefulness)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) Lut! When he said to his people: "Do you commit immoral sins while you see"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Lot! when he said unto his folk: Will ye commit abomination knowingly?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] Lot, when he said to his people, "Do you commit immorality while you are seeing?

— Saheeh International

Lot asked his people, "Do you understandably commit indecency?

— Muhammad Sarwar

And (We sent) Lut, when he said to his people: What! do you commit indecency while you see?

— Muhammad Habib Shakir

And Lut! what time he said unto his people: commit ye indecency while ye see?

— Abdul Majid Daryabadi

(We also sent) Lut (as a messenger): behold, He said to his people, "Do ye do what is shameful though ye see (its iniquity)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–58

ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 67 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 80 تا 84، ہود 74 تا 83، الحجر 57 77، الانبیاء 71 تا 75، الشعراء 16 تا 174، العنکبوت 28 تا 75، الصافات 133 تا 138، القمر 33 تا 39 سورة النمل 68 اس ارشاد کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، اور غالبا وہ سب ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ تم اس فعل کے فحش اور کار بد ہونے سے ناواقف نہیں ہو، بلکہ جانتے بوجھتے اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اس بات سے بھی ناواقف نہیں ہو کہ مرد کی خواہش نفس کے لیے مرد نہیں پیدا کیا گیا بلکہ عورت پیدا کی گئی ہے، اور مرد و عورت کا فرق بھی ایسا نہیں ہے کہ تمہاری آنکھوں کو نظر نہ آتا ہو، مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–58

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو (پیغمبر کر کے ان کی قوم کے پاس) بھیجا تھا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ سمجھدار ہو (کیا اس کی برائی نہیں سمجھتے، آگے اس بےحیائی کا بیان ہے یعنی) کیا تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی) بلکہ (اس معاملے میں) تم (محض) جہالت کر رہے ہو (اس تقریر کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط ؑ کے لوگوں کو (یعنی ان پر ایمان لانے والوں کو مع ان کے) تم اپنی بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں سو (جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی تو) ہم نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولوطا ذقال یقومہ اقالون الفاحشۃ وانتم تبصرون (54) حضرت لوط اور قوم لوط کا بیان یہ اوپر والے واقعہ پر معطوف ہے اس وجہ سے یہاں فعل محذوف ہے۔ یعنی ارسلنا لوطاً الفاحشہ کھلی ہونی بےحیائی و بےشرمی کو کہتے ہیں جس کے بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف و نزاع کی گنجائش نہ ہو۔ اس کی وضاحت آ گے آرہی ہے۔ وانتم تبصرون یعنی کوئی برائی مخفی قسم کی ہو تو اس میں مبتلا ہوجانا تو چنداں تعجب کی بات نہیں ہے لیکن ایک کھلی ہوئی بےحیائی میں، آنکھیں رکھتے ہوئے مبتلا ہوجانا بدبختی اور اندھے پن کی آخری حد ہے۔ اگر ایک شخص اندھا ہو اور اس کے پائوں غلاظت پر پڑجائیں تو اس کے لئے عذر ہے لیکن تمہارے لئے کیا عذر ہے جب کہ تم دونوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54-1یعنی لوط ؑ کا قصہ یاد کرو، جب لوط ؑ نے کہا یہ قوم عموریہ اور سدوم بستیوں میں رہائش پذیر تھی۔ 54-2یعنی یہ جاننے کے باوجود کہ یہ بےحیائی کا کام ہے۔ یہ بصارت قلب ہے۔ اور اگر بصارت ظاہری یعنی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہو تو معنی ہونگے کہ نظروں کے سامنے یہ کام کرتے ہو، یعنی تمہاری سرکشی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ چھپنے کا تکلف بھی نہیں کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–58

28: حضرت لوط ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، نیز پچھلی سورت سورة شعراء 160 تا 175 میں بھی گذرا ہے اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف 80 میں کرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 54–55

ولوطا……قوم تجھلون (55) پہلے فقرے میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم جس بگاڑ میں مبتلا ہو یہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ، تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمام زندہ مخلوقات کی فطرت کیا ہے۔ تم تو اچھی طرح دیکھتے ہو کہ حیات انسانی و حیوانی کے اندر قانون فطرت کیا ہے۔ تمام زندہ مخلوق میں سے صرف تم ایسے ہو کہ خلاف فطرت روش میں مبتلا ہو اور دوسرے فقرے میں اس بات کی وضاحت کردی کہ تمہار ایہ فعل انسانیت کے خلاف ہے کہ تم اپنی جنس ضرورت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے پوری کرتے ہو۔ محض یہ بیان کہ وہ ایسا کرتے تھے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ فعل غیر فطری اور عجیب ہے اور پوری حیوانی نباتاتی بلکہ کائنتای فطرت کے خلاف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 54–57

آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 یہاں لفظ تبصرون استعمال ہوا ہے جو دیکھنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور سمجھنے کے معنوں میں بھی۔ اس لحاظ سے ان دو آیات کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم خود بھی یہ سمجھتے ہو کہ یہ گندا اور بےحیائی کا کام ہے۔ اور خلاف فطرت ہے۔ حقیر سے حقیر جانور بھی ایسا کام نہیں کرتے تم اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود ایسا کام کرتے ہو۔ دوسرا یہ کہ تم خوب سمجھتے ہو کہ اس کام کے لئے اللہ نے بیویاں پیدا کی ہیں۔ لیکن تم ان سے بےتعلق ہو کر مرعوں سے ہی یہ کام کرتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم اس قدر بےحیا ہوچکے ہو کہ ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے یہ کام کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

65۔ یعنی یہ تو بہت موٹی اور معمولی سمجھ بوجھ کی بات ہے۔ اس حرکت کے بیہودہ ہونے میں کسی قسم کا خفاء یا غموض نہیں۔ (آیت) ” ولوطا “۔ میں عامل مقدر ہے۔ یعنی وارسلنا لوطا قصۂ لوط وقوم لوط پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–59

آیت نمبر 45 تا 59 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وطوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون . اور ہم نے لوط کو بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ تم سمجھدار ہو۔ وَلُوْطًا اس کا عطف وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰی ثَمُوْدَ پر ہے یعنی ہم نے لوط کو بھیجا یا اذکُرْ محذوف ہے یعنی لوط کا واقعہ یاد کرو۔ اَلْفَاحِشَۃَ انتہائی برا کام ‘ اَتَاْتُوْنَ میں استفہام انکاری اور زجری ہے۔ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ حالانکہ تم اس کی خرابی کو جانتے ہو۔ جو کسی کام کی برائی سے واقف ہو اور پھر اس کام کو کرے تو اس کا یہ عمل انتہائی قبیح ہوگا۔ (مطلب یہ کہ دیدہ دانستہ تم انتہائی بےحیائی کا کام کرتے ہو) یا یہ مطلب ہے کہ بےحیائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) اور ہم نے لوط ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا جس وقت انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم جان بوجھ کر بےحیائی کا کام کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ۔۔ : لوط ؑ کے قصے کے لیے دیکھیے سورة اعراف (80 تا 84) ، ہود (77 تا 83) ، حجر (61 تا 77) ، انبیاء (71 تا 75) ، شعراء (160 تا 175) ، عنکبوت (28 تا 35) ، صافات (133 تا 138) اور قمر (33 تا 39)۔ صالح ؑ کے واقعہ کے بعد، جو قرابت رکھنے والوں کی طرف مبعوث تھے اور جن کی قوم مومن و کافر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی، اس پیغمبر کا ذکر کیا جو اپنی قوم میں اجنبی تھا اور جس پر اہل سدوم میں سے ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا، یہ پیغمبر لوط ؑ تھے۔ ”اَلْفَاحِشَةُ“ وہ کام جو برائی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ ”تبصرون“ یہ بصیرت سے بھی ہوسکتا ہے اور بصارت سے بھی۔ بصیرت سے ہو تو مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 54–56

ولوطاً اذقال لقومہ ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا یا لوط (علیہ السلام) کو یاد کرو۔ اذ قال لقومۃ قوم سے مراد اہل سدوم ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا اتاتون الفاحشۃ فاحشہ سے مراد ایسا فعل ہے جو قبیح او شنیع ہو۔ وانتم تبصرون جب کہ تم دیکھتے ہو کہ یے بےحیائی ہے۔ یہ تمہارا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جب کہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے۔ وہ سرکشی اور تمرد کی وجہ سے پردہ پوشی بھی نہ کرتے تھے۔ ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء اس کی قباحت اور شناعت کی زیادتی کی وجہ سے اس کو دوبارہ ذکر کیا۔ بل انتم قوم تجھلون حرمت کے امریاعقوبت کے امر سے ناواقف ہو۔ خلیل اور سیبویہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–58

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلُوْطًا [ اور (ہم بھیج چکے) لوط (علیہ السلام) کو ] اِذْ قَالَ [ جب انھوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖٓ [ اپنی قوم سے ] اَتَاْتُوْنَ [ کیا تم لوگ کرتے ہو ] الْفَاحِشَةَ [ بےحیائی ] وَ [ اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] تُبْصِرُوْنَ [ دیکھتے ہو ] نوٹ۔ 1: حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ پر قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط (علیہ السلام) اور ان کے لوگ اس فعل سے بیزار ہیں اور وہ نہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی ، تو ہمیشہ کی اس کلکل کو ختم کیوں نہیں کردیتے۔ لوط (علیہ السلام) کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا۔ اس پر جم گئے اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 54–58

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بےحیائی کے کاموں میں مشغول ہونا نصیحت قبول نہ کرنا، اور بالآخر ہلاک ہونا ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا سوال و جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے، تفصیل سے یہ واقعہ سورة اعراف سورة حجر اور سورة شعراء میں گزر چکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ برے کام کرتے تھے یعنی مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ایمان کی بھی دعوت دی اور یہ بھی سمجھایا کہ اس کام کو چھوڑو تمہارا دل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے، یہ جاہلوں کا کام ہے تم پر جہالت سوار ہے کہ تم اسے برا کام جانتے ہوئے بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

قصہء پنجم حضرت لوط (علیہ السلام) با قوم اور قال اللہ تعالیٰ ۔ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ فساء مطر المنذرین۔ (ربط) حضرت صالح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی قوم بھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئی اور ناگہانی عذاب ان پر نازل ہوا جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا۔ جب باز نہ آئے تو ہلاک کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ لوگوں کے سامنے لوط (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بےحیائی کے کام کرتے ہو حالانکہ تم اس بےحیائی کے کام کے وقت ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

48:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو افعال قبیحہ سے منع کیا مگر وم نے ان کی اطاعت نہ کی اور سرکشی پر ڈٹے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون، بصر سے بصر قلب مراد ہے یعنی علم، مطلب یہ ہے کہ تم اس بےحیائی کے فعل کا ارتکاب کرتے ہو حالانکہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہ سراسر بےحیائی ہے۔ من بصر القلب ای اتفعلونھا کذلک (روح ج 19 ص 216) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–58

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر کیا کہ ان کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر اونٹنی کی حیرت انگیز نشانی ظاہر فرمائی مگر قوم نے اس کا انکار کیا اور صالح (علیہ السلام) کو ختم کردینے کا منصوبہ بنایا ۔ اللہ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا ، وہ صالح (علیہ السلام) کو تو قتل نہ کرسکے البتہ خود ہی اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے یہ واقعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے کے مشرکین کی نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کیا ۔ اب اسی طرح لوط (علیہ السلام) اور انکی قوم کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ لوگ بھی ان کے وعظ و نصیحت کو برداشت نہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۝ 54 لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت دل میں جاگزیں اور پیوست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–58

ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلُوطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْـتُمْ تُبْصِرُوْنَ ۔ (النمل : 54) (اور لوط کو ہم نے بھیجا جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا، کیا تم بدکاری کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہوتے ہو۔ ) یہ اوپر والے واقعہ پر معطوف ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اَرْسَلْنَا محذوف ہے۔ الْفَاحِشَہَ کھلی ہوئی بےحیائی اور بےشرمی کو کہتے ہیں جس کے بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی قوم کا بیان آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو جس قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا، یوں تو باقی قوموں کی طرح وہ بھی عقیدے کی تمام خرابیوں میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–58

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ نہ معلوم انہوں نے کتنی مدّت تک قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے ان سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں نیست ونابود کردیا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو۔ مسافروں پر ڈاکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مجالس میں بےحیائی : 54: وَلُوْطًا اِذْ قَالَ (اور لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ کرو جب انہوں نے کہا) ۔ لوطًا۔ اذ کر کی وجہ سے منصوب ہے اور اذ یہ لوطًا سے بدل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اذ کر وقت قول لوط۔ (لوط کے قول کے وقت کو یاد کرو۔ ) لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ (اپنی قوم سے کیا تم بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو) ۔ لواطت فاحشہ مراد ہے۔ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (حالانکہ تم سمجھدار ہو) ۔ تم جانتے ہو کہ وہ بےحیائی ہے تو کیوں اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ تبصرون سے نمبر 1۔ بصر قلب مراد ہے۔ نمبر 2۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے۔ کیونکہ مجالس میں اعلانیہ اس کا ارتکاب کرتے ایک دوسرے سے چھپانے کے لئے پردہ نہ کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 54–55

54۔ ولوطا اذ قال لقومہ ، ،، قبیح فعل، وانتم تبصرون، تم جانتے ہو کہ یہ فاحشہ ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کو برہنہ حال میں دیکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–59

45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–58

(آیت) 54 ہمارے بندے اور رسول لوط کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے فرمایا : (اتاتون الفاحشۃ) ” کیا تم بےحیائی کرتے ہو ؟ “ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے (وانتم تبصرون) ” اور تم دیکھتے ہو “ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا پھر اللہ تبارے و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء) ” کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–55

59 حضرت لوط کا اپنی قوم سے درد بھرا خطاب : سو اس سے حضرت لوـط کے درد بھرے خطاب کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ اس دیکھیے اور دور حاضر کے ایک جمہوری ملک کا ایک حیا باختہ کردار بھی ملاحظہ کیجیے۔ سو حضرت لوط نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " تم لوگ آنکھوں دیکھتے ہوئے ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ؟ "۔ جس کو شریف انسان کیلئے زبان پر لانا بھی مشکل ہے ؟۔ اور کیا تم لوگ ایک ایسا شرمناک اور بےہودہ کام کرتے ہو جو ایک جانور بھی نہیں کرتا اور جو تمہارے لئے دنیا و آخرت اور ایمان و غیرت سب کی تباہی کا باعث ہے۔ مگر یہاں پر ذرا رک کر اس فعل شنیع کی شناعت و قباحت کو بھی دیکھئے اور اس سے متعلق دور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–59

سیدنا لوط (علیہ السلام) کا وعظ، قوم کا جرم اور عذاب الٰہی تشریح : پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے اب سیدنا لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ بھی تفصیلاً ذکر ہوچکا ہے مختصراً یہ ہے کہ یہ قوم غیر فطری انتہائی برے فعل میں مشغول ہوچکی تھی اور کسی صورت اس برے کام کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا تو الٹا ان کو ہی شہر سے نکال دینے کا کہنے لگے۔ آخر کار قوم لوط پر پتھروں کی ایسی شدید بارش ہوئی کہ وہ بدکردار قوم نیست و نابود ہوگئی اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن گئی۔ پھر سیدنا محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے رب العزت فرماتا ہے کہ کہہ دو کہ ” سب تعریف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–59

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف : ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 51–55

2 ۔ جو اس قسم کی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس سے گدھے اور کتے بھی شرماتے ہیں ” تجھلون “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم اس بات سے باخبر ہو کر اس بری روش کی تمہیں کیا سزا مل سکتی ہے ؟۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:54) ولوطا۔ میں واؤ عطف کا ہے اس کے بعد ارسلنا محذوف ہے۔ ای وارسلنا لوطا۔ جملہ ارسلنا لوطا کا عطف ارسلنا ۔۔ صلحا (آیت 45) پر ہے۔ یا لوطا اذکر (فعل محذوف) کا مفعول ہے ای واذکر لوطا۔ اذ قال میں اذ ظرف زمان ہے۔ جب۔ اتاتون الفاحشۃ۔ الف استفہامیہ ہے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتیان (جرب) مصدر۔ تاتون اصل میں تاتیون تھا ی کا ضمہ ماقبل کو دیا اجتماع ساکنین سے یا ساقط ہوگئی تاتون ہوگیا۔ انی انا اور اتی کرنا۔ جیسے والتی یاتین الفاحشۃ (4:15) اور جو عورتیں بےحیائی کا کام کریں۔ یہاں اتاتون الفاحشۃ کا معنی کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو ؟ وانتم تبصرون : تاتون سے جملہ حالیہ ہے کہا تم یہ بےحیائی کا کام…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–59

لغات القرآن : آیت نمبر 54 تا 59 : اناس (انس) (لوگ۔ انسان) یتطھرون (پاک باز بنتے ہیں) ‘ قدرنا (ہم نے ٹھہرادیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ امطرنا ( ہم نے برسایا) ‘ سلام (سلامتی) اصطفی (چن لیا۔ منتخب کرلیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 54 تا 59 : اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس کا دستور یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا تو اس کو اسی دنیا میں مختلف شکلوں میں سزادی جاتی ہے اور آخرت کا نقصان تو واضح ہے لیکن اگر ساری قوم ایک گناہ پر راضی ہوجائے اور گاہ کو گناہ نہ سمجھا جائے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے بڑی اچھی بات کہی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–59

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–60

[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–54

سدومیت کے خلاف جہاد کی ضرورت 1: اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات یا قانون عذاب انہی لوگوں پر ہی ہوتا ہے جو اس پیغام سے روگردان ہیں ۔ اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں ۔ حل لغات :۔ خاویۃ ۔ خوی البیت سے ہے ۔ معنے مکان کے گر جانے کے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر نا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیدہ و دانستہ اور جانتے بوجھتے بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دیکھتے ہو کیسا برا کام ہے 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ تم نے کیوں بےلذت گناہ شروع کردیئے ہیں ؟ : 54۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے مفصل حالات سورة الاعراف کی آیات 80 تا 84 ‘ سورة ہود کی آیات 74 تا 83 ‘ سورة الحجر کی آیت 57 تا 77 ‘ سورة الانبیاء آیات 71 تا 75 ‘ سورة الشعراء کی آیات 160 تا 174 میں وضاحت سے گز چکے ہیں وہیں سے ملاحظہ کرلیں ۔ زیر نظر آیت سے اس سورت میں بھی ان ہی کی دعوت کا ذکرشروع ہو رہا ہے ، اور حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ تم عجیب لوگ ہو کہ ایسے بدلذت گناہ کرتے ہو جس کا نتیجہ نہ کبھی فاعل کے لئے اچھا نکلا ہے اور نہ ہی مفعول کے لئے اور تم جانتے ہو کہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–58

لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49. The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

67 For comparison, See Al-A`raf: 80-84; Hud, 74-83, Al-Hijr: 57-77, Al-Anbiya': 71-75, Ash-Shu`ara': 160-174, Al-`Ankabut: 28-75, As-Saffat: 133138, Al-Qamar: 33-39. 68 This can have several meanings and probably all are implied: (1) `That you are not unaware of this act's being wicked, but you commit it knowing it to be so"; (2) "You are also not unaware that the man has not been created for the man's sex satisfaction but the woman, and the distinction between them (man and woman) is not such as you cannot perceive, yet with open eyes you commit this abominable act." (3) "You indulge in this…

Read the full tafseer →