Explained with ayahs 65–66
اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرادیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ 34) 31۔ لقمان :34) اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
سورة النمل 85
الوہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور وفکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبرہان سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں، بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں، یا اس کی طرف سے شک میں ہیں، یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکر عقبی سے بےنیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پیدا کردیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–75
بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ ۣ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا ڹ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ ، لفظ ادّٰرَكَ میں قرائتیں بھی مختلف ہیں اور اس کے معنی میں بھی کئی قول ہیں۔ اہل علم اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ادّٰرَكَ کے معنے بعض مفسرین نے تکامل کے کئے ہیں اور فی الاخرہ کو ادّٰرَكَ سے متعلق کر کے معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ آخرت میں ان کا علم اس معاملہ میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ اس وقت ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی مگر اس وقت علم ہونا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ دنیا میں وہ آخرت کی تکذیب کرتے رہے تھے اور بعض مفسرین نے لفظ ادّٰرَكَ کے…
Read the full tafseer →ادرک دراصل تدارک ہے جو باقاعدہ ادغام ادرک ہوگیا ہے جس طرح تثاقل سے اثاقل بن گیا ہے۔ تدارک لقوم کے معنی ہوں گے قوم کے اگلے پچھلے سب ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے۔ قرآن مجید میں ہے حتی اذا دراکوا فیھما جمیعاً (یہاں تک کہ جب وہ سب اس میں اکٹھے ہو لیں گے) یہیں سے اس کے اندر اختلاط اور گڈ مڈ ہونے کا مفہوم بھی پیدا ہوگیا ہے۔ اس لئے کہ جب مختلف چیزیں کٹھی ہوجاتی ہیں تو وہ آپس میں گڈمڈ ہوجاتی ہیں۔
آخرت کے باب میں مشرکین عرب کی ذہنی الجھن
یہ بات ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ مشرکین عرب کا موقف آخرت کے باب میں صریح انکار کا نہیں تھا بلکہ وہ ایک قسم کی ذہن الجھن میں مبتلا تھے۔ اس کو ماننا چاہتے نہیں تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
1 یعنی ان کا علم آخرت کے وقوع کا وقت جاننے سے عاجز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–72
33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
قل لا یعلم من فی السموت ۔۔۔۔۔۔ ایان یبعثون (65) بل ادرک علمھم ۔۔۔۔۔ بل ھم منھا عمون (66) (27: 65- 66) “۔
ابتدائے تخلیق سے انسان کو اس خفیہ غیب کا سامنا ہے۔ انسانی علم ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا ۔ غیب کے آگے جو پردے لٹک رہے ہیں ان سے وہ آگے نہیں جھانک سکتا۔ یہ مغیبات میں سے صرف اسی قدر علم حاصل کرسکتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے اور انسان کے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اللہ نے اسے مستقبل کے علوم غیبیہ سے محروم رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس میں انسان کے لیے کوئی خیر دیکھتا تو وہ ضرور اسے عالم غیب کے بارے میں پورا علم عطا کردیتا۔
اللہ نے انسان کو اس قدر قوت اور استعداد دی ہے جس نے ذریعے وہ…
Read the full tafseer →3 یعنی عقل دوڑا کر تھک گئے، آخرت کی حقیقت نہ پائی۔ کبھی شک کرتے ہیں کبھی منکر ہوتے ہیں (موضح) اور بعض مفسرین نے یوں تقریر کی ہے کہ آخرت کے ادراک تک ان کے علم کی رسائی نہ ہوئی اور عدم علم کی وجہ سے صرف خالی الذہن رہے بلکہ اس کے متعلق شک و تردد میں پڑگئے، اور نہ صرف شک و تردد بلکہ ان دلائل و شواہد سے بالکل آنکھیں بند کرلیں جن میں غور وتأمل کرتے تو شک رفع ہوسکتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”
یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔
بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”
اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
73 یعنی کوئی انسان خواہ کتنے ہی عقل کے گھوڑے دوڑائے یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ نہ ہی روز آخرت کی حقیقت معلوم کرسکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی الٰہی پر ایمان لے آئے۔ اس صورت میں اسے آخرت اور اس کے احوال کے متعلق تو یقین حاصل ہوجاتا ہے۔ مگر قیامت کے وقت کا علم پھر بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر کی دعوت نے انھیں اس شک میں مبتلا ضرور کردیا ہے اور وہ روز آخرت سے انکار کے باوجود یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ممکن ہے کہ پیغمبر سچ ہی کہہ رہا ہو۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے اسی بات کو ترجیح دی کہ اس معاملہ غورو فکر کرنا چھوڑ دیا جائے اور ان دلائل و شواہد سے…
Read the full tafseer →75۔ منکرین آخرت کے کئی طبقہ ہیں۔ قرآن نے ان کی نفسیات کی الگ الگ پوری تشریح کردی، ایک طبقہ تو وہ ہے جس کا ظاہری، سطحی، مادی وحسی علم آخرت کے باب میں جواب دے جاتا ہے اور وہ طبقہ اپنے عدم علم پر قانع ومطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ لوگ (آیت) ” بل ادرک علمھم فی الاخرۃ “۔ کے مصداق ہیں۔ دوسرا طبقہ عدم علم سے آگے قدم بڑھا کر اس عقیدہ پر جرح وقدح شروع کرتا ہے اور اس باب میں تشکیک وار تیاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ گروہ (آیت) ” بل ھم فی شک منھا “ کے تحت میں آیا۔ تیسرا طبقہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی آنکھیں دلائل و شواہد کی طرف سے بند کرلیتا ہے اور اس کے بر سرراہ آنے کی طرف سے قطعی مایوس ہوجاتی ہے۔ ایسوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیت نمبر 60 تا 66
ترجمہ : بھلا بتاؤ تو ؟ وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی بہایا، پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ بارونق باغ اگائے، اَنْبَتْنَا میں غیبت سے تکلم کی طرف التفات ہے، حدائق حدیقہ کی جمع ہے اس باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار بنادی گئی ہو، تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغوں کے درختوں کو اگا سکو، تمہارے اس پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے (یہ سن کر بتاؤ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اس کام پر مدد کرنے کے لئے یعنی اس کے ساتھ کوئی الٰہ نہیں ہے ءَاِلٰہٌ میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان…
Read the full tafseer →بل ادرک علمھم فی الاخرۃ . بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم (بالوقوع) ہی نیست ہوگیا۔
اِدَّارَکَ اصل میں تَدَارَکَ تھا اور تَدَارَکَ کا معنی ہے تکامل یعنی آخرت کے معاملہ میں ان کا علم تعلیم انبیاء (جتنا ہونا تھا) پورا ہوگیا (اس سے زیادہ ممکن نہیں) یا یہ مطلب ہے کہ آخرت میں جب قیامت کے معائنہ کرلیں گے اس وقت ان کا علم مکمل ہوجائے گا (یہاں تو تعیین وقت کا علم ممکن نہیں) ۔
تَدَارَکَ الفَاکِھۃ پھل بالکل پک گیا۔ عرب کا محاورہ ہے یعنی پکنے کی انتہائی مدت کو پہنچ گیا۔
مؤمنوں کا دنیا میں وقوع قیامت کا علم تو حاصل ہو ہی چکا اور کافروں کے لئے بھی بایں معنی حصول علم قیامت ہوگیا کہ وقت قیامت کا قطعی دلائل…
Read the full tafseer →(66) بلکہ آخرت کے بارے میں تو ان کا علم کالعدم ہوگیا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی بلکہ یہ لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک میں ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں کہ ان کو ہدایت کا راستہ نظر ہی نہیں آتا۔
Read the full tafseer →بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ :”ادّٰرَكَ“ اصل میں ”تَدَارَکَ“ ہے، جو باب تفاعل سے ماضی کا صیغہ ہے۔ اس کا مادہ ”درک“ ہے، اسی سے ”ادّٰرَكَ“ بنا ہے، کسی چیز کو پالینا۔ ”تَدَارَکَ“ کا معنی ہے کسی چیز کو پکڑنے کے لیے لگا تار دوڑنا، بھاگ کر پیچھے سے پکڑنے کی کوشش کرنا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ آخرت کو جاننے کے لیے ان کا علم لگاتار دوڑتا ہی رہا، مگر اسے حاصل نہ کرسکا، آخر تھک ہار کر رہ گیا۔ ”غَابَ“ گم ہوگیا، ”اِنْتَھٰی“ ختم ہوگیا۔ ”ادّٰرَكَ“ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں، ان میں سے سب سے صحیح یہی قول ہے، کیونکہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابو طلحہ کے واسطے سے ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ بعض سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب کو مخلوق سے مخفی رکھا کوئی اس پر مطلع (1) نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت کریمہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے برپا ہونے کے بارے میں سوال کیا۔ من محل رفع میں ہے معنی ہے کہہ دیجیے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا۔ کیونکہ لفظ اللہ اسم جلالت من کا بدل ہے، یہ زجاج اور فراء کا قول ہے۔ الا کے مابعد کو رفع دیا کیونکہ اس سے ماقبل کلام منفی ہے جس طرح اس کا قول ہے ماذھب احد الابوک معنی ایک ہی ہے۔ زجاج نے کہا : جس نے اس کو نصب دی ہے اس نے استثناء کے طور پر نصب دی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–75
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ یعنی جب علم نے نفع نہیں دیا۔
2۔ ابو عبدی نے اپنے فضائل میں و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آت پڑھی ” بل ادارک علمہم فی الاخرۃ) یعنی ان کے علم نے نفع نہیں دیا ابو عبید (رح) نے فرمایا کہ انہوں نے اس کو استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل ادرک علمہم فی الاٰخرۃ “ سے مراد یہ کہ ان کا علم غائب ہوگیا۔
4۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح)…
Read the full tafseer →بَلِ [ بلکہ ] ادّٰرَكَ [ (اگلوں سے) جاملا ] عِلْمُهُمْ [ ان کا علم ] فِي الْاٰخِرَةِ ۣ [ (انکار) آخرت کے بارے میں ] بَلْ هُمْ [ بلکہ وہ لوگ ] فِيْ شَكٍّ [ شک میں ہیں ] مِّنْهَا ڹ [ اس کے بارے میں ] بَلْ هُمْ [ بلکہ وہ لوگ ] مِّنْهَا [ اس سے ] عَمُوْنَ [ اندھے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آخر میں فرمایا (قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ ) (آپ فرما دیجیے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جتنی بھی مخلوق ہے ان میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا صرف اللہ ہی غیب کو جانتا ہے)
اس میں منکرین قیامت کی تردید ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ بتا دیجیے قیامت کب آئے گی، یہ بات کہنے سے ان لوگوں کا مقصود و قوع قیامت کی نفی کرنا تھا، ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے ان میں سے کوئی غیب کو نہیں جانتا غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس نے مجھے معین کر کے وقوع قیامت کا وقت نہیں بتایا لہٰذا میں اپنے پاس سے نہیں بتاسکتا لیکن مجھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
نوع پنجم متعلق بہ مبداء ومعاد وحشر ونشر اجساد
قال اللہ تعالیٰ امن یبدؤا الخلق ثم یعیدہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ بل ہم منھا عمون۔
بھلا بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے کہ جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے جو تمہیں بھی مسلم ہے پھر وہی اپنی قدرت سے موت کے بعد قیامت کے دن ان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پس خدا وہ ہے کہ جو وجود اور عدم کا مالک ہو اور جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ بلا دلیل کفر کرتے ہیں کیونکہ جب پہلی مرتبہ کی پیدائش تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے تو دوبارہ پیدائش کو کیوں محال اور ناممکن بتلاتے ہو اور اس خدا کی شان یہ ہے کہ وہ تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے۔ آسمان سے بقدر معلوم پانی نازل…
Read the full tafseer →58:۔ ادارک، بمعنی فنی واضمحل یعنی قیامت قائم ہونے کا وقت جاننا تو درکنار آخرت کے بارے میں انہیں کچھ بھی علم نہیں۔ یہاں سے کلام کا رخ اہل مکہ کی طرف ہے۔ وقد فسرھا الحسن باضمحل علمھم فی الاخرۃ وتدارک (مدارک ج 3 س 168، بحر ج 7 ص 93) ۔ یا اس کے معنی استحکام و تکامل کے ہیں اور یہ بطور استہزاء و تہکم کہا گیا ہے جیسا کہ جاہل کو بطور استہزاء کہا جائے وہ بہت بڑا عالم ہے۔ ان وصفہم باستحکام العلم تہکم کما تقول لا جہل الناس ما اعلمک علی سبیل الھزء (کبیر ج 6 ص 577) ۔ بل ھم فی شک منھا، یہ ماقبل سے ترقی ہے یعنی ان کو تو قیامت قائم ہونے میں شک ہے۔ بل ھم منھا عمون یہ اس سے بھی ترقی ہے۔ یعنی شک بھی نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے مسئلہ توحید سمجھانے اور شرک کی تردید میں کئی عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں ۔ ان دلائل میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول باغات اور شجاء کی پیداوار زمین کا قرار گاہ ٹھہرانا اور اس میں نہریں جاری کرنا ، زمین میں بوجھل پہاڑ گاڑھ دینا ۔ دو پانیوں کے درمیان آڑ قائم کردینا تا کہ آپس میں خلط ملط نہ ہونے پائیں ۔ وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا کہ مجبور و بیکس کی فریاد ہی کرنے والا اللہ کے سوا کون ہے ؟ اسی نے تم کو پہلے لوگوں کا نائب بنایا خشکی اور تری میں وہی راہ دکھاتا ہے ، باران رحمت سے پہلے وہی خوش خبری لانے والی ہوائوں کو چلاتا…
Read the full tafseer →بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ 0ۣ بَلْ ہُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْہَا 0ۣۡ بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ 66ۧ
درك
الدَّرْكُ کالدّرج، لکن الدّرج يقال اعتبارا بالصّعود، والدّرک اعتبارا بالحدور، ولهذا قيل :
درجات الجنّة، ودَرَكَات النار، ولتصوّر الحدور في النار سمّيت هاوية، وقال تعالی: إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] ، والدّرك «3» أقصی قعر البحر .
ويقال للحبل الذي يوصل به حبل آخر ليدرک الماء دَرَكٌ ، ولما يلحق الإنسان من تبعة دَرَكٌ «1» کالدّرک في البیع «2» . قال تعالی: لا تخافُ دَرَكاً وَلا تَخْشى [ طه/ 77] ، أي :
تبعة . وأَدْرَكَ : بلغ أقصی الشیء،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
1 ؎ بارش۔ 12 منہ
Read the full tafseer →بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ قف بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْھَا قف ز بَلْ ھُمْ مِّنْھَا عَمُوْنَ ۔ (النمل : 66)
(بلکہ گم ہوگیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ )
اِدّٰرَکَ کی تحقیق
اِدّٰرَکَ … اصل تَدٰرَکَہے۔ تا کو دال میں ادغام کیا اور ہمزہ کو بڑھا دیا تاکہ ساکن سے ابتداء نہ ہو۔ جس طرح تَثَاقَلَسے اِثَّاقَلَ بن گیا۔ امام فخرالدین رازی اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا معنی انتہا کو پہنچنا، فنا ہوجانا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے اور توڑنے کے قابل ہوجاتا ہے تو عرب کہتے ہیں ادرکت الثمرۃ ” پھل نے اپنی پختگی کی نہایت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے دلائل کا تسلسل۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز کا خالق اور رازق ہے بلکہ وہ اپنی مخلوق کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے
یہ حقیقت سچائی کی انتہا کو پہنچ چکی اور اس کے خلاف کوئی عقلی اور نقلی دلیل موجود نہیں ہے جس بناء پر ہر دور کا مشرک یہ حقائق تسلیم کرتا رہا اور کرتا رہے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، آسمان سے بارش اتارنے والا، بارش سے نباتات اگانے والا، زمین کو ٹھہرانے اور جمانے والا، زمین میں نہریں جاری کرنے والا، زمین پر مضبوط پہاڑ ٹھہرانے والا، دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کرنے والا، معذور اور مجبور کی دعا میں قبول…
Read the full tafseer →66: بَلِ ادّٰرَکَ (بلکہ پورا ہوگیا) ۔ قراءت : أدرک مکی ٗ بصری ٗ یزید و مفضل نے پڑھا ہے۔ اس کا معنی پورا ہوا اور مکمل ہوا لیا ہے اس صورت میں ادرکت الفاکہۃ سے لیا گیا ہے یعنی پک کر تیار ہوگیا۔ اعشیٰ نے بل ادرک بروزن افتعل پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے بل ادارک پڑھا جس کا معنی استحکم اور اس کی اصل تدارک ہے۔ تاء کو دال میں ادغام کیا گیا اور الف وصل کو بڑھا دیا تاکہ پڑھ سکیں۔ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ (ان کا علم آخرت کے متعلق) ۔ آخرت اور اس کے متعلقہ چیزوں کے متعلق۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے وقوع پر مستحکم و مضبوط دلائل قائم ہوچکے اور ان کے سامنے آچکے اور ان کی پہچان بھی ان کو میسر آچکی ہے مگر ان کا حال یہ…
Read the full tafseer →66۔ بل ادرک علمھم، ابوجعفر ابن کثیر اور ابوعمرو نے ، ادرک بروز افعل، پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے بلغ بالحق، جیسا کہ کہاجاتا ہے ، ادر کہ علمی، جب اس سے ملاقات کی اور اس کو پہنچے۔ اس سے مراد وہ دنیا میں جو جہالت چھوڑ کر آئے اور اس کا علم ان سے ساقط ہوجائے۔ اس کا علم ان کو معلوم نہیں۔ ) تو آخر ت میں ان کو معلوم ہوجائے گا، مجاہد کا قول ہے کہ ان کے علم کا ادراک ہوجائے گا، فی الاخرہ، اور اپنی آنکھوں سے معائنہ کرنے کے بعد پہچان لیں گے۔ جب اس وقت ان کا علم ان کو نفع نہیں دے گا، مقاتل کا بیان ہے کہ بلکہ وہ قیامت کے دن آنکھوں سے دیکھ کر معائنہ کرلیں گے اور اس وقت دنیا میں کیے ہوئے اعمال پرشکوہ بھی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
(آیت 65
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) (الانعام : 6 / 95) ” اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) (لقمان : 31 / 43) ” قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں…
Read the full tafseer →76{ اِدَّارَکَ علمہم } کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی نیست ہوگیا ان کا علم آخرت کے بارے میں۔ اور یہ { ادارک } کا ایک معنیٰ ہے ۔ " اَیْ فنی واضمحل علمہم فی الاخرۃ " ۔ (ابن کثیر، مدارک، کبیر، جواہر، معارف وغیرہ) ۔ یعنی یہ لوگ چونکہ آخرت کے بارے میں لاپرواہ اور بےفکر ہیں اس لیے یہ اس کیلئے سوچنے اور غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ اور یہ بطن و فرج کی شہوات میں ایسے مشغول و منہمک ہیں کہ محض حیوان بن کر رہ گئے ہیں۔ اور بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کے سوا اور کسی بات کیلئے یہ سوچنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے آخرت کے بارے میں ان کا علم مٹ گیا۔ { ادارک } اصل میں " تدارک " ہے۔ جیسے " اثاقل " اصل میں "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–81
اتو حیدربو بیت کے دلائل اور حقیقی اِلٰہ کی پہچان
تشریح : یہ تو بالکل صاف ظاہر ہے کہ اللہ جو بہترین خالق ہے ‘ قادر مطلق ہے ‘ جس نے آسمان اور زمین بنائے مینہ برسایا ‘ پھل پھول اور فصلیں اگائیں ‘ زمین کو رہنے کے لیے ٹھکانا بنایا ‘ نہریں بنائیں ‘ پہاڑ اور دریا بنائے ‘ ایسے دریا کہ جن کے درمیان ایک پردہ ہے کہ دونوں دریائوں کا پانی باوجود اس کے کہ ساتھ چلتا ہے مگر آپس میں ملتا نہیں۔ یعنی کھاری پانی علیحدہ رہتا ہے اور میٹھا علیحدہ رہتا ہے۔ یہ سائنس کا کرشمہ ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح بحروبر میں راستے دکھانے کا بندوبست اور ہوائوں کا انتظام۔ سورج زمین سے تین لاکھ تینتیس گنا بڑا ہے۔ اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
انہیں اللہ پر ایمان لانے میں عذر ہے تو ان سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے کہ بت تو خود مخلوق ہیں اور اکثر کو تم خود گھڑتے ہو لہذا یہ ان کی صفت تو نہیں ہو سکتی پھر اس کی تخلیق میں کمال حکمت سے تسلسل رکھا ہے کہ آسمان سے بارشوں کو برساتا ہے سورج کی گرمی بادل کا بننا اور برسنا ہواؤں کا اسے چلانا پھر اسی ایک پانی سے زمین کے سینے سے رنگارنگ باغات اور پھول پھل اگائے ورنہ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ ایک پودا بھی پیدا کرسکے۔ بھلا کیا جو اس ساری تخلیق میں اللہ کا ہرگز حصے دار نہیں وہ عبادت میں اس کا شریک ہوسکتا ہے ؟ کبھی نہیں مگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔
بھلا…
Read the full tafseer →1 ۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ہار کر عاجز آگیا، چناچہ کبھی وہ اس میں شک کرتے ہیں اور کبھی اندھے یعنی قطعی منکر ہوتے ہیں۔ شاہ عبد القادر (رح) نے اپنے ترجمہ اور حاشیہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (دیکھئے موضح) شاہ ولی اللہ نے یوں ترجمہ کیا ہے : بلکہ پے در پے متوجہ شد علم ایشاں درباب آخرت یعنی تاآنکہ منقطع گشت۔ (فتح الرحمن) امام رازی (رح) فرماتے ہیں : اس کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم تو کمال اور انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ یعنی آخرت کے ثبوت پر ان کے سامنے اتنے دلائل موجود ہیں کہ ان سے کامل درجہ کا یقین حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ لوگ پھر بھی شک و شبہ…
Read the full tafseer →(27:66) بل۔ حرد اضراب ہے۔
ادراک : تدرک سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اصل میں تدرک تھا۔ تا کا دال میں ادغام کیا پھر ابتداء بالسکون کی دشواری کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصل لائے۔ ادراک ہوگیا۔ تدرک کے معنی ہیں (لوگوں کا) باہم آملتا۔ (غلطی کی بہتری سے) اصلاح کرنا۔ گزری ہوئی بات کی) تلافی کرنا۔
امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ :۔ کہ اس کا معنی انتہاء کو پہنچا۔ فنا ہوجانا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے اور توڑ لینے کے قابل ہوجاتا ہے تو عرب کہتے ہیں ادرکت الثمرۃ پھل نے اپنی پختگی کی نہایت کو پالیا ہے۔ اس کے بعد اسے توڑ لیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی شاخ پر لٹکتا ہوا نظر نہیں آتا۔
نیز جب کوئی قوم یکے بعد دیگرے لقمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
لغات القرآن : آیت نمبر 60 تا 66 :
امن (کون ہے وہ ؟ ) انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ حدائق (حدیقۃ) باغات ‘ ذات بھجۃ (رونق والے) ‘ ان تنبتوا (یہ کہ تم اگائو) ‘ یعدلون (وہ برابر کرتے ہیں) ‘ قرار (ٹھہرنے کی جگہ) ‘ خلل (درمیان) ‘ رواسی (بوجھ۔ پہاڑ) ‘ حاجز (آڑ ۔ رکاوٹ) ‘ یجیب (وہ قبول کرتا ہے) ‘ المضطر (بےقرار۔ بےچین) ‘ یکشف (وہ کھولتا ہے) ‘ ھاتوا (آئو۔ (لے آئو) ‘ برھان (دلیل) ‘ ایان (کب) ادرک (تھک گیا) عمون ( وہ اندھے بن رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 66 :
جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات اور قدرت میں دوسروں کو شریک کرتے اور ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے سامنے کائنات کی بیشمار نشانیوں کو رکھ کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–75
قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
[22] یعنی انسان ' حیوانات اور نباتات کی تخلیق بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر نوع کی تخلیق کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نوع سے پیہم اس نوع کو پیدا کرتا جا رہا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گندم کے دانے سے جو کا دانہ پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ انسان اور حیوانات کا بھی ہے۔
[32] اوپر کی آیات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطلال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا رد بھی ہے۔ مثلاً بارش کا باقاعدگی سے برسنا اور اس میں یہ اثر رکھ دینا کہ وہ نباتات اگائے، درختوں، پودوں اور سبزیوں کو آفتاب کی گرمی کا ایک خاص درجے میں پہنچنا، کھاد، سورج پانی وغیرہ میں پیداواری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
علم غیب کی تعریف
1: قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی علوم غیب سے آگاہ نہیں اسی نے کائنات کو پیدا کیا اور وہی کائنات کے اسرار سے آشنا ہے ۔ بہت کم لوگ غیب اصلیت سے واقف ہیں ۔ اکثر غیب کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کے جاننے کو غیب کہتے ہیں ، جس کا پیشتر سے علم نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ ان معنوں کے ا اعتبار سے ہر شخص عالم الغیب ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے ۔ جس کا پیشتر سے اس کو علم نہیں ہوتا ۔ اور اس طرح اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہ ایجادات و اعتراضات کیا ہیں ۔ کیا یہ پیشتر سے انسانوں کو معلوم تھیں ؟ اور اگر معلوم نہیں…
Read the full tafseer →(66) کوئی نہیں اصل بات یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں ان کا علم و فکر تھک کرہ یا بلکہ وہ آخرت کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں یعنی قیامت کے وقت کے تعین کا تو ایک بہانہ ہے حالانکہ عدم علم عدم وقوع کو مستلزم نہیں اگر نبی کریم ﷺ کو اس وقت کا نہیں بتایا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کا وقوع بھی نہیں ہوگا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کا علم اور ان کا فکر اس بارے میں ہار گیا اور نیست و نابود ہوگیا اور ان کو اس کے وقوع کا یقین ہی نہیں بلکہ یہ آخرت کے بارے میں کوئی رائے نہیں قائم کرسکتے اور شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں جس طرح وہ اندھا جو بتانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ف 1۔ یعنی جیسے اندھے کو طریق نظر نہیں آتا، اس لئے مقصود تک پہنچنا مستبعد ہے، اسی طرح تصدیق بالآخرت کا جو طریق ہے یعنی دلائل صحیحہ یہ لوگ غایت عناد سے اس میں تدبر و تامل نہیں کرتے، اس لئے وہ دلائل ان کو نظر نہیں آتے، جس سے مطلوب تک پہنچ جانے کی امید ہوتی، پس یہ شک سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ شک والا بعض اوقات دلائل میں نظر کر کے رفع شک کرلیتا ہے اور یہ نظر بھی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →آخرت کے علم کے متعلق تو وہ ہمیشہ ہی شک میں ہیں گویا وہ بالکل اندھے ہیں :
66۔ (درک) اور (درج) دونوں ایک ہی خیال کا اظہار کرتے ہیں فرق یہ ہے کہ درک نیچے سے نیچے چلے جانے پر استعمال ہوتا ہے اور درج اوپر سے اوپر جانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ، فرمایا گیا ہے کہ ” آخرت کے پانے سے ان کا علم پیچھے رہ گیا “ علم کی انتہا کو پہنچ کر رہ جانے سے مراد کیا ہے ؟ یہی کہ وہ جاہل رہ گئے اور ان کے علم کی رسائی وہاں تک نہ پہنچ سکتی (آیت) ” بل ھم فی شک منھا “ یعنی ان کا اپنا علم تو وہاں تک نہ پہنچ سکا لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ علم دیا تو وہ شک میں پڑگئے اور پھر اس شک میں وہ ترقی کرتے کرتے بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–75
بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾
Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66.
There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
85 After warning the people about their basic errors with regard to Divinity, it is being said that the reason why these people are involved in these errors is not that they have reached this conclusion after serious thought and deliberation that there exist other beings also who are Allah's associates in His Divinity, but the actual reason is that they have never considered this matter seriously. As they are unaware of the Hereafter, or are in doubt about it, or are blind to it, their heedlessness of the Hereafter has developed in them an utterly irresponsible attitude. They are not at all…
Read the full tafseer →