Explained with ayahs 48–53
اونٹنی کو مار ڈالا
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو…
Read the full tafseer →سورة النمل 62
یعنی 9 سرداران قبائل جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھ ایک بڑا جتھا رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
تِسْعَةُ رَهْطٍ لفظ رَهْطٍ ، جماعت کے معنے میں آتا ہے، یہاں نو اشخاص میں سے ہر شخص کو رھط کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے مال و دولت اور جاہ و حشم کے سبب قوم کے بڑے مانے جاتے تھے اور ہر ایک کے ساتھ الگ الگ جماعتیں تھیں اس لئے ان نو آدمیوں کو نو جماعتیں فرمایا۔ یہ لوگ قوم صالح ؑ کی بستی یعنی حجر کے بڑے مانے جاتے تھے۔ حجر ملک شام میں معروف مقام ہے۔
Read the full tafseer →وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض ولایصلحون (48)
رھط کا مفہوم
رھط کے معنی قبیلہ اور خاندان کے ہیں۔ سورة ہود میں حضرت شعیب کی سرگزشت میں یہ لفظ گزر چکا ہے وانا لنرک فینا ضعیقاً ولولا رھطل لرجمنک (19) اور ہم تو تم کو اپنے اندر ایک کمزور آدمی خیال کرتے ہیں اور تمہارے خاندان کا خیال نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے) استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسی شکل میں جمع اور واحد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے جن لوگوں نے اس کا ترجمہ شخص کیا ہے ہمارے نزدیک انہوں نے غلط ترجمہ کیا ہے۔
مفسدین کی قوت و حمیت
اب یہ مفسدین کی قوت و جمعتہ کو واضح فرمایا ہے کہ شہر میں نو خاندان تھے جو سب کے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47-1عرب جب کسی کام کا یا سفر کا ارادہ کرتے تو پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب اڑتا تو اسے نیک شگون سمجھتے اور وہ کام کر گزرتے یا سفر پر روانہ ہوجاتے اور اگر بائیں جانب اڑتا تو بد شگونی سمجھتے اور اس کام یا سفر سے رک جاتے (فتح القدیر) اسلام میں یہ بدشگونی اور نیک شگونی جائز نہیں ہے البتہ فال نکالنا جائز ہے
47-2یعنی اہل ایمان نحوست کا باعث نہیں ہیں جیسا کہ تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا اصل سبب اللہ ہی کے پاس ہے کیونکہ قضا و تقدیر اسی کے اختیار میں ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو نحوست پہنچی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا سبب تمہارا کفر ہے۔ فتح القدیر
47-3یا گمراہی میں ڈھیل دے کر تمہیں آزمایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →25: یہ حضرت صالح ؑ کی قوم کے نو سردار تھے، جن میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک جتھہ تھا۔ اور بالآخر یہی لوگ تھے جنہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا جو معجزے کے طور پر پیدا ہوئی تھی۔ جب حضرت صالح ؑ نے ان کو عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ وہ رات کے وقت ان پر خفیہ طور پر حملہ کریں گے، اور ان کو اور ان کے گھر والوں کو ہلاک کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وکان فی المدینۃ ……لصدقون (94)
یہ نو افراد ایسے تھے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی تھی ، یہ ہر وقت فساد اور سرکشی پر آمادہ رہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کی دعوت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انہوں نے ایک دور سے کے ساتھ رات کو ایک خفیہ معاہدہ کیا اور اس عہد پر اللہ کے نام سے قسم بھی اٹھائی کہ اس پر عمل کریں گے ، حضرت صالح کو قتل کردیں گے۔ حالانکہ حضرت صالح تو ان کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتے تھے۔
یہاں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سازش پر بھی اللہ ہی کو گواہ ٹھہرایا۔
تقاسموا ……اھلہ (82 : 93)
” خدا کی قسم کھا کر عہد کر لوگو ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے…
Read the full tafseer →13 یہ نو شخص شاید نو جماعتوں کے سردار ہوں گے جن کا کام ملک میں فساد پھیلانے اور خرابی ڈالنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اصلاح و درستی کی طرف ان کا قدم کبھی نہ اٹھتا تھا۔ مکہ میں بھی کافروں کے نو سردار تھے جو ہمہ وقت اسلام کی بیخ کنی اور پیغمبر کی دشمنی میں ساعی رہتے تھے۔ بعض مفسرین نے ان کے نام لکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47 قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط ”
ہمیں خدشہ ہے کہ آپ لوگوں کی نحوست کی وجہ سے ہم کسی آفت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →49 رھط بمعنی ایک ہی خاندان کے لوگوں کی مختصر سی جماعت جن کی تعداد دس سے کم ہو اور ان میں کوئی عورت نہ ہو۔ نیز اس کے جماعت کے سردار یا سرغنہ کو بھی رھط کہتے ہیں۔ ) مفردات ( اور یہ لفظ عموماً بڑے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور رھط کی۔۔ کسی عدد کی طرف ہو تو اس سے اشخاص مراد لئے جاتے ہیں۔ ) منجد ( اسی لئے ہم نے رھط کا ترجمہ سرغنہ کیا ہے یعنی کسی اوباش اور بدکردار چھوٹی سی جماعت کا لیڈر۔
قوم ثمود کی معروف بستی کا نام ھجر ہے۔ اور اسے ام القریٰ بھی کہتے ہیں یہ مکہ سے شام جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے اسی شہر میں ایسے نو سرغنے تھے یا بدمعاش ٹائپ چوہدری تھے اور ان سب میں سر کردہ قدار تھا یعنی سب سے بڑا…
Read the full tafseer →60۔ یعنی وہ سرتاسر مفسد ہی مفسد تھے۔ صالحیت کی صلاحیت بھی گویا ان میں نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط . اور (ثمود کے) شہر (یعنی حجر) میں نو آدمیوں کی ایک ٹولی تھی۔ رہط تین یا سات سے دس تک کی جماعت جیسے نفر تین سے نو تک کی جماعت کو کہتے ہیں۔
یفسدون فی الارض ولا یصلحون . جو اس سرزمین میں فساد برپا کرتے اور اصلاح (حالات ذرا) نہیں کرتے تھے۔ یعنی ان کا کام خالص تباہی مچانا اور تخریب کرنا تھا جس میں اصلاح و درستگی کا شائبہ بھی نہ تھا۔ یہ لوگ قوم صالح ( علیہ السلام) کے سرداروں کے لڑکے تھے ‘ سب نے اونٹنی کا قتل کرنے پر اتفاق رائے کرلیا تھا ‘ یہ سب سے بڑے غنڈے اور سنگدل تھے ‘ ان سب میں قذار بن سالف شقی ترین شخص تھا۔
Read the full tafseer →(48) اور اس بستی کے رؤساء کے بیٹوں میں نو آدمی نہایت فاسق تھے یعنی قدار بن سالف، مصد بن سالف، مصد بن رہو، اور اس کے ساتھی جو بہت گناہ کیا کرتے تھے اور بالکل اصلاح کا حکم نہیں دیا کرتے تھے اور نہ خود ہی اس پر عمل پیرا ہوا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ۔۔ : قوم ثمود کے شہر کا معروف نام ”حجر“ ہے۔ سورة حجر کا نام اسی شہر کے نام پر ہے۔ یہ مکہ سے شام جاتے ہوئے راستے پر پڑتا ہے۔ اس شہر میں نو (9) بدمعاش تھے، جو ملک میں فساد کرتے تھے اور یہ نہیں کہ تھوڑی بہت خرابی کرتے ہوں اور کچھ اچھے کام بھی کرتے ہوں، بلکہ فرمایا کہ وہ کوئی اچھا کام کرتے ہی نہیں تھے۔ جن میں سب سے نمایاں وہ ملعون تھا جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں، دوسرے آٹھ اس کے ساتھی تھے۔ اس ملعون کا تذکرہ سورة شمس میں ہے۔ ان کے نام بعض روایات میں آتے ہیں، مگر ان میں سے کوئی روایت بھی ثابت نہیں۔ بعض لوگ اس قصے کی وجہ سے نو (9) کے عدد کو منحوس سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وکان فی المدینۃ حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں جو مجرم ہے۔ تسعۃ رھط ان کے اشرف ا کی اولاد میں سے نو آدمی، ضحاک نے کہا، یہ نو افراد اہل مدینہ کے عظماء تھے۔ وہ زمین میں فساد برپا کرتے اور فساد کا حکم دیتے۔ وہ عظیم چٹان کے پاس بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان کو ان پر لاٹ دیا۔ عطا بن ابی رباح نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے وہ دنانیر اور دراہم قرض کے طور پر دیتے یہ زمین میں فساد کی ایک صورت ہے، سعید بن مسیب نے یہ کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا فساد یہ تھا وہ لوگوں کی شرمگاہوں کی تاڑ میں رہتے اور خود پر ستر عورت کا اہتمام نہ کرتے۔ اس کے علاوہ کا بھی قول کیا گیا ہے آیت سے جو لازم آتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →وَكَانَ [ اور تھا ] فِي الْمَدِيْنَةِ [ اس شہر میں ] تِسْعَةُ رَهْطٍ [ نوافراد کا ایک ایسا جتھا جو ] يُّفْسِدُوْنَ [ نظم بگاڑتے تھے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَا يُصْلِحُوْنَ [ اور اصلاح نہیں کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ اب تمہیں عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور داعی تبلیغ کرنے اور اظہار حق میں یہ سوچ کر کوتاہی نہ کرے کہ میری بات سے قوم میں انتشار اور خلفشار ہوجائے گا جب حق بات کہی جائے گی تو منکرین اور معاندین بہرحال مخالفت کریں گے ان کی وجہ سے جو انتشار ہو اس کا خیال کیے بغیر حق کی دعوت دی جائے اور کھل کر حق بیان کیا جائے۔
جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا تھا ان کے علاوہ باقی قوم کافر اور منکر ہی تھی ان کافروں میں نو شخص ایسے تھے جو بڑے فسادی تھے ان کا کام یہی تھا کہ زمین میں فساد کریں نام کو بھی اصلاح نہیں کرتے تھے، ان لوگوں نے آپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قصہء چہارم حضرت صالح (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاہم صلحا۔۔۔ الی۔۔۔ وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون۔
(ربط) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ملکہء بلقیس باوجود ایک عورت تھی مگر اس کو ایک چھوٹے جانور یعنی ہد ہد سے ہدایت ہوگئی اور قوم ثمود کو باجود مرد ہونے کے ناقہ جیسے بڑے حیوان سے ہدایت نہ ہوئی کہ چند مفسدوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شبخون مارا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے اس قصہ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اب آئندہ آیات میں لوگوں کی عبرت اور نصیحت کے لئے صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
44:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں نو آدمی رہتے تھے جو بڑے فسادی اور غنڈے تھے انہوں نے سارے علاقے میں شر و فساد بپا کر رکھا تھا وہ کوئی تعمیری یا نیک کام نہیں کرتے تھے یہ ان کی عادت مستمرہ تھی۔ قالوا تقاسموا الخ، ان غنڈوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین پر جو مسئلہ توحید مان چکے تھے شب خون مارنے کا پروگرام بنایا اور آپس میں خدا کے نام کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ رات کو حملہ کر کے صالح اور اس کے متبعین کو قتل کردیں اور جب ہم سے پوچھ گچھ ہو تو صاف کہہ دیں کہ ہم تو اس کے قتل کے موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ تقاسموا جمہور مفسرین کے نزدیک فعل امر کا صیغہ ہے اور قالوا کا مقولہ ہے اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ،…
Read the full tafseer →وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48
مدن
المَدينة فَعِيلَةٌ عند قوم، وجمعها مُدُن، وقد مَدَنْتُ مَدِينةً ، ون اس يجعلون المیم زائدة، قال تعالی: وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] قال : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلى حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِها [ القصص/ 15] .
( م دن ) المدینۃ ۔ بعض کے نزدیک یہ فعیلۃ کے وزن پر ہے اس کی جمع مدن آتی ہے ۔ اور مدنت مدینۃ کے معنی شہر آیا ہونے کے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک اس میں میم زیادہ ہے ( یعنی دین سے مشتق ہے ) قرآن پاک میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَھْطٍ یُّـفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ یُصْلِحُوْنَ ۔
(النمل : 48)
(اور شہر میں نو خاندان تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔ )
رَھْطٍ کا مفہوم
رَھْطٍ … تین سے لے کر دس تک یا سات سے لے کر دس تک کے گروہ کو کہتے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شہر میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تھی اس میں نو جتھے یا نو گینگ تھے جو منظم شکل میں شہر میں فساد پھیلاتے تھے اور کسی بھی اصلاحی کوشش کو بارآور نہیں ہونے دیتے تھے۔ لیکن قرآن کریم نے سورة ہود میں اس لفظ کو خاندان کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ قوم شعیب نے حضرت شعیب (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے نمائندوں کا حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مذموم منصوبہ۔
صالح (علیہ السلام) کی قوم کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحجر کے نام سے موسوم ہے جو مدینہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے جسے مدائن صالح کہتے ہیں یہی ثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا۔ وسیع رقبے میں ان کی عمارتوں کے گھنڈرات پائے جاتے ہیں۔ جن کو قوم ثمود نے پہاڑتراش تراش کر بنایا تھا ان گھنڈرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں اس کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے نوبڑے سردار…
Read the full tafseer →ثمود کے مفسد :
48: وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ (اور شہر میں) ۔ شہر سے ثمود کا شہر مراد ہے۔ جس کا نام الحجر تھا۔ تِسْعَۃُ رَہْطٍ (نو اشخاص تھے) نحو : یہ جمع ہے جس کا واحد نہیں۔ اسی لئے یہ تسعۃ کی تمیز کے طور پر استعمال ہوگیا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا گیا۔ تسعۃ انفس۔ کیونکہ تین سے دس تک کی تمیز جمع مجرور آتی ہے۔
قول ابن درید (رح) :
ان کا سربراہ قدار بن سالف تھا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے میں دوڑ دھوپ کی تھی۔ یہ سب بڑے لوگوں کی اولاد تھے۔
یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ (وہ زمین میں فساد مچاتے درستی نہ کرتے تھے) ۔ یعنی ان کا کام خالص بگاڑ پھیلانا تھا جس میں اصلاح کا…
Read the full tafseer →48۔ وکان فی المدینہ، شہر سے مراد قوم ثمود کی بستی حجر ہے۔ تسعۃ رھط، اس کے شہر میں نوآدمیوں کی ایک جماعت تھی۔ یفسدون فی الارض ولایصلحون، وہ اونٹنی کے پونجی کاٹنے میں متفق ہوگئے تھے۔ یہ حضرت صالح کی قوم کے گمراہ کردہ لوگ تھے۔ ان میں سب سے بڑاغندہ اور سرکردہ قذار بن سالف تھا جو شقی ترین اور بدبخت تھا۔ اس نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹی تھیں اور یہ ٹولی برائی کے کاموں میں ہمیشہ مشغول رہتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
آیت 45 سے 53
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
54 حضرت صالح پر شب خون مارنے کا پروگرام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بدبختوں نے باہم قسمیں کھاکر حضرت صالح پر شبخون مارنے کا پروگرام بنایا "۔ یہ ترجمہ صیغہ ماضی کا ہے۔ یعنی جبکہ { تقاسموا } کو فعل ماضی قرار دیا جائے۔ اور دوسرا احتمال اور قوی احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ { تقاسموا } امر کا صیغہ ہو۔ تب معنیٰ ہوں گے کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم قسمیں کھاؤ کہ ہم یہ شبخون ماریں گے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا تھا۔ تو حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اب تین دن کے اندر تم لوگوں پر ایک انتہائی ہولناک عذاب آ کر رہے گا۔ اس پر انہوں نے باہم یہ منصوبہ بنایا کہ ہم اس سے پہلے صالح ہی کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ
تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔
شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →12 ۔ اصل میں لفظ ” رھط “ کے معنی جتھہ کے ہیں۔ مراد ایسے نو سردار ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھ گویا ایک جتھا رکھتا ہے۔ یہ سب ” قدار “ ملعون (جس نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا) کے ساھی تھے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:48) رھط۔ نفر۔ شخص۔ قبیلہ۔ برادری۔ بھائی بند۔ دس آدمیوں سے کم جماعت کو رھط کہتے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کا اطلاق چالیس آدمیوں تک کی جماعت پر ہوتا ہے۔ تسعۃ رھط۔ نو آدمی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولو لا رھطک لرجمنک (11:91) اگر تیری برادی کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تجھے سنگسار کردیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 :
فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 :
بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
حضرت صالح اور لوط (علیہما السلام) اور ان کی قوموں کا قصہ۔
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تمہارے اعمال کو نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پے درپے مال وجاہ دیتا ہے اور سختی اور آسانی سے آزماتا ہے اس شہر میں نوشخص کفر کے سرغنہ تھے جو رات دن آمادہ فسادرہتے تھے اور حضرت صالح کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اب تک تو معمولی آزار دے چکے تھے یہ اپنے کفر اور گناہ کی وجہ سے اس زمین میں تباہی کرتے تھے اور اپنے کام میں اصلاح نہیں کرتے تھے جب ان ناعاقبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
[16] یعنی تمہاری یہ نحوست کیا کم ہے کہ تمہاری وجہ سے قوم میں پھوٹ پڑگئی ہے اور آئے دن ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے۔
[17] یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں حقیقت حال سمجھتے ہو یا نہیں۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ رھط ۔ لوگ ، شخص ۔ جمع اور واحد دونوں پر بولا جاتا ہے ۔
Read the full tafseer →(48) اور اس بستی میں نو 9 آدمی تھے جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور سنوارو اصلاح نہ کرتے تھے یعنی نو آدمی بہت ہی شریر تھے ان کا کام سوائے فساد کے اور کچھ تھا ہی نہیں حجر جو بستی کا نام تھا اس میں بھی فساد برپا کرتے رہتے تھے اور بستی سے باہر بھی فساد کیا کرتے تھے اصلاح اور سنوارو سے ان کو کوئی تعلق نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 3۔ یعنی تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو معلوم ہیں، یہ شرور ان ہی اعمال پر مرتب ہیں۔
Read the full tafseer →صالح (علیہ السلام) کی قوم کے 9 سردار تھے جو دراصل قوم میں سارے فساد کی اصل جڑ تھے :
48۔ صالح (علیہ السلام) جیسا کہ پیچھے گزر چکا قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر مبعوث کئے گئے تھے اور قوم ثمود اس وقت 9 خاندانوں میں تقسیم ہوچکی تھی جس طرح قوم بنی اسرائیل کے بڑے بڑے قبائل بارہ تھے اس طرح قوم ثمود کے 9 گروہ تھے اور ہر گروہ دوسرے کو شکست دینے میں درپے تھا اور شکست کیا بھی یہی کی ایک خاندان نے دوسرے میں کوئی برائی کی تو انہوں نے اس کے بدلے چار نہیں تو دو ضرور کیں اور یہی طریقہ اس قدر پھیل گیا کہ اس کے سمٹنے کی کوئی شکل نظر نہ آئی تھی آج ایک قوم نے ایک جگہ ایک خانقاہ پر میلا لگوایا تو کل دوسرے خاندان نے…
Read the full tafseer →تِسْعَةُ رَهْطٍ (nine persons - 27:48). The word رَهْطٍ (Raht) is used for a group. Here each of the nine persons is called Raht presumably because they were regarded superior among their clan for having wealth and dignity. Each one of them had his own separate group of people, hence they are called nine groups. They were known as the chiefs of Hijr, which was a city of the people of Salih (علیہ السلام) . Hijr was a well-known city of Syria.
Read the full tafseer →62 That is, nine chiefs of the tribes each of whom had a band of followers with him.
Read the full tafseer →