Explained with ayahs 48–53
اونٹنی کو مار ڈالا
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو…
Read the full tafseer →سورة النمل 63
یعنی حضرت صالح ؑ کے قبیلے کے سردار سے جس کو قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق ان کے خون کے دعوے کا حق پہنچتا تھا، یہ وہی پوزیشن تھی جو نبی ﷺ کے زمانے میں آپ کے چچا ابوطالب کو حاصل تھی، کفار قریش بھی اسی اندیشے سے ہاتھ روکتے تھے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کو قتل کردیں گے تو بنی ہاشم کے سردار ابو طالب اپنے قبیلے کی طرف سے خون کا دعوی لے کر اٹھیں گے۔
سورة النمل 64
یہ بعینہ اسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبی ﷺ کے خلاف سوچتے رہتے تھے اور بالاخر یہی سازش انہوں نے ہجرت کے موقع پر حضور کو قتل کرنے کے لیے کی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ ملکر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ، مطلب یہ تھا کہ ہم سب مل کر رات کے اندھیرے میں ان پر اور ان کے متعلقین پر چھاپہ ماریں، سب کو ہلاک کردیں، پھر ان کے خون کا دعویدار وارث تحقیق و تفتیش کے لئے کھڑا ہوگا تو ہم یہ کہہ دیں گے کہ ہم نے تو فلاں آدمی کو نہ مارا، نہ مارتے کسی کو دیکھا۔ اور ہم اپنے اس قول میں اس لئے سچے ہوں گے کہ رات کے اندھیرے میں یہ تعیین کہ کس نے کس کو مارا ہمیں معلوم نہیں ہوگی۔
اس میں ایک بات یہ قابل نظر ہے کہ یہ کفار اور ان میں سے بھی چیدہ بدمعاش جو فساد میں مصروف تھے یہ سارے کام شرک کفر اور قتل و…
Read the full tafseer →قالوا تفاسموا باللہ لبیتنہ واھلہ ثم لنقولن بولیہ ما شھدنا مھلک اھلہ وانا الصدقون (49)
حضرت صالح کے خلاف ان کی قوم کے دارانسدوہ کی سازش
تقاسموا باللہ میرے نزدیک یہاں بدل کے محل میں ہے۔ یعنی مذکورہ بالا مفسدین کے تمام خاندانوں نے اللہ کی قسم کے ساتھ آپس میں یہ عہد کیا کہ ہم پوشیدہ طور پر صالح اور ان کے آل و اتباع کو ختم کردیں گے، پھر ان کے خون کا اگر کوئی مدعی ان کے وارثوں میں سے کھڑا ہوا تو ہم ان سے یہ کہہ دیں گے کہ ان کے آدمی کے قتل میں ہمارا ہاتھ نہیں ہے اور ان کو پوری طرح اطمینان دلا دیں گے کہ ہم بالکل سچے ہیں۔ پوشیدہ طور پر قتل کی یہ سکیم، عہد و پیمان کے ساتھ، اس لئے بنائی گئی کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →49-1یعنی صالح ؑ کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کردیں گے، یہ قسمیں انہوں نے اس وقت کھائیں، جب اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح ؑ نے کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عذاب کے آنے سے قبل ہی ہم صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کا صفایا کردیں۔
49-2یعنی ہم قتل کے وقت وہاں موجود نہ تھے ہمیں اس بات کا علم ہے کہ کون انھیں قتل کر گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
26: قرآن کریم نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ ان لوگوں کی سازش کس طرح ناکام ہوئی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ جب یہ لوگ برا ارادہ کر کے چلے تو ایک چٹان ان پر آ گری، اور یہ سب ہلاک ہوگئے، اور بعد میں پوری قوم پر عذاب آگیا۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ جب وہ مسلح ہو کر حضرت صالح ؑ کے گھر پہنچے تو فرشتوں نے ان کا محاصرہ کرلیا، اور انہی کے ہاتھوں وہ مارے گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ابھی وہ اپنی سازش پر عمل نہیں کر پائے تھے کہ پوری قوم پر عذاب آگیا، اور اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وکان فی المدینۃ ……لصدقون (94)
یہ نو افراد ایسے تھے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی تھی ، یہ ہر وقت فساد اور سرکشی پر آمادہ رہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کی دعوت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انہوں نے ایک دور سے کے ساتھ رات کو ایک خفیہ معاہدہ کیا اور اس عہد پر اللہ کے نام سے قسم بھی اٹھائی کہ اس پر عمل کریں گے ، حضرت صالح کو قتل کردیں گے۔ حالانکہ حضرت صالح تو ان کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتے تھے۔
یہاں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سازش پر بھی اللہ ہی کو گواہ ٹھہرایا۔
تقاسموا ……اھلہ (82 : 93)
” خدا کی قسم کھا کر عہد کر لوگو ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے…
Read the full tafseer →1 یعنی آپس میں معاہدے اور حلف ہوئے کہ سب مل کر رات کو حضرت صالح کے گھر پر ٹوٹ پڑو اور کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔ پھر جب کوئی ان کے خون کا دعویٰ کرنے والا ہو تو کہہ دینا ہمیں خبر نہیں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ اس کے گھر کی تباہی ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھی۔ گویا ہم خود تو ایسی حرکت کیا کرتے اس وقت موقع پر موجود بھی نہ تھے۔ اس طرح کی متفقہ سازش اور دروغ گوئی سے ہم میں ایک بھی ملزم نہ ٹھہر سکے گا جس سے ان کے حمایتی خون بہا وصول کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49 قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ”
ان سب سرداروں نے مل کر حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی۔ ان میں سے کوئی اکیلا یہ اقدام کر کے حضرت صالح علیہ السلام کے قبیلے کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا ‘ اس لیے انہوں نے حلف اٹھوا کر سب کو اس پر آمادہ کیا۔ سب کو اس طرح اس مہم میں شامل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان میں سے کوئی شخص راز فاش نہ کرسکے۔ قبائلی روایات و قوانین کے تحت پورا قبیلہ بحیثیت مجموعی اپنے تمام افراد کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے کسی فرد کو کوئی گزند پہنچنے کی صورت میں پورا قبیلہ یک جان ہو کر اس کے بدلے کا اہتمام کرتا…
Read the full tafseer →50 جب ان لوگوں نے ملی بھگت سے قدار کو آگے لگا کر ناقہ ن اللہ کو زخمی کردیا۔ تو حضرت صالح نے ان لوگوں کو تین دن بعد عذاب آنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ اس الٹی میٹم کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ عذاب تو آتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے ہی ہم کیوں نہ صالح اور اس کے گھر والوں کا قصہ بھی تمام کردیں۔ چناچہ نو بدمعاشوں نے حصرت صالح (علیہ السلام) کو بھی ٹھکانے لگا دینے کی ویسی کی سکیم بناوی، جیسی قریش مکہ نے ہجرت سے پیشتر رسول اللہ ﷺ کا قصہ پاک کردینے کے لئے بنائی تھی۔ البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ قریش نے یہ سمجھا کہ اس طرح بلوا کی صورت میں قتل کرنے پر ہم سے دیت کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ ہم آپس میں بانٹ…
Read the full tafseer →61۔ (جو خون کا دعوی کرے گا) یہ ولی یا قریب ترین وارث، تو مومن ہی ہوگا، اور یا پھر محض غیرت قرابت سے طالب قصاص ہوگا، المراد بہ طالب ثارۃ من ذی قرابتہ اذا قتل (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →قالو تقاسموا باللّٰہ لنبیتنہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ماشھدنا مھلک اھلہ وانا لصدقون
انہوں نے کہا : سب مل کر آپس میں قسمیں کھاؤ کہ ہم رات کے وقت حملہ کر کے صالح ( علیہ السلام) اور اس کے متعلقین کو قتل کردیں گے ‘ پھر ان کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان کے متعلقین کے مارے جانے میں (یا مارنے جانے کے مقام پر) موجود بھی نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔
قَالُوْا یعنی ایک نے دوسرے سے کہا تَقَاسَمُوْا (بصیغہ امر) باہم قسمیں کھالو۔ اس وقت یہ لفظ قالُوْا کا مقولہ (یعنی مفعول) ہوگا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ماضی کا صیغہ ہوگا۔ اس وقت ترجمہ یوں ہوگا کہ انہوں نے کہا : اللہ کی قسمیں کھا لیں۔ لَنُبَیِّتَنَّہٗ ہم صالح کو…
Read the full tafseer →(49) انھوں نے آپس میں یہ گفتگو کی کہ سب مل کر اس چیز پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاؤ کہ ہم رات کے وقت حضرت صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کریں گے اور نعوذ باللہ ان سب کو مار ڈالیں گے پھر ان کے وارثوں اور رشتہ داروں سے کہہ دیں گے ہم حضرت صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں کے مارے جانے کے وقت موجود نہ تھے اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں اور پھر ہماری کوئی بھی تردید نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ۔۔ : ”لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ“ ”بَیَّتَ یُبَیِّتُ تَبْیِیْتًا“ شب خون مارنا، رات کو اچانک حملہ کرنا۔ جب ان لوگوں نے باہمی مشورے سے اونٹنی کو ہلاک کردیا اور صالح ؑ نے انھیں تین دن بعد عذاب آنے سے خبردار کردیا تو اس کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ عذاب تو آتا ہے یا نہیں، اس سے پہلے کیوں نہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں کا قصہ تمام کردیں۔ چناچہ ان نو بدمعاشوں نے صالح ؑ کے قتل کا ویسا ہی منصوبہ بنایا جیسا قریش مکہ نے ہجرت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا بنایا تھا۔ البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ قریش نے سوچا تھا کہ بدلے کی صورت میں قتل کرنے پر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وکان فی المدینۃ حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں جو مجرم ہے۔ تسعۃ رھط ان کے اشرف ا کی اولاد میں سے نو آدمی، ضحاک نے کہا، یہ نو افراد اہل مدینہ کے عظماء تھے۔ وہ زمین میں فساد برپا کرتے اور فساد کا حکم دیتے۔ وہ عظیم چٹان کے پاس بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان کو ان پر لاٹ دیا۔ عطا بن ابی رباح نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے وہ دنانیر اور دراہم قرض کے طور پر دیتے یہ زمین میں فساد کی ایک صورت ہے، سعید بن مسیب نے یہ کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا فساد یہ تھا وہ لوگوں کی شرمگاہوں کی تاڑ میں رہتے اور خود پر ستر عورت کا اہتمام نہ کرتے۔ اس کے علاوہ کا بھی قول کیا گیا ہے آیت سے جو لازم آتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] تَقَاسَمُوْا [ تم لوگ ایک دوسرے سے قسم لو ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی کہ ] لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ [ ہم لازما شبخوں ماریں گے اس (صالح (علیہ السلام) ) پر وَاَهْلَهٗ [ اور اس کے لوگوں پر ] ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ [ پھر ہم لازما کہیں گے ] لِوَلِيِّهٖ [ اس کے ولی سے ] مَا شَهِدْنَا [ ہم موجود نہیں تھے ] مَهْلِكَ اَهْلِهٖ [ اس کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے وقت ] وَاِنَّا [ اور بیشک ہم ][ لَصٰدِقُوْنَ [ یقینا سچ کہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ اب تمہیں عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور داعی تبلیغ کرنے اور اظہار حق میں یہ سوچ کر کوتاہی نہ کرے کہ میری بات سے قوم میں انتشار اور خلفشار ہوجائے گا جب حق بات کہی جائے گی تو منکرین اور معاندین بہرحال مخالفت کریں گے ان کی وجہ سے جو انتشار ہو اس کا خیال کیے بغیر حق کی دعوت دی جائے اور کھل کر حق بیان کیا جائے۔
جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا تھا ان کے علاوہ باقی قوم کافر اور منکر ہی تھی ان کافروں میں نو شخص ایسے تھے جو بڑے فسادی تھے ان کا کام یہی تھا کہ زمین میں فساد کریں نام کو بھی اصلاح نہیں کرتے تھے، ان لوگوں نے آپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قصہء چہارم حضرت صالح (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاہم صلحا۔۔۔ الی۔۔۔ وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون۔
(ربط) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ملکہء بلقیس باوجود ایک عورت تھی مگر اس کو ایک چھوٹے جانور یعنی ہد ہد سے ہدایت ہوگئی اور قوم ثمود کو باجود مرد ہونے کے ناقہ جیسے بڑے حیوان سے ہدایت نہ ہوئی کہ چند مفسدوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شبخون مارا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے اس قصہ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اب آئندہ آیات میں لوگوں کی عبرت اور نصیحت کے لئے صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
44:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں نو آدمی رہتے تھے جو بڑے فسادی اور غنڈے تھے انہوں نے سارے علاقے میں شر و فساد بپا کر رکھا تھا وہ کوئی تعمیری یا نیک کام نہیں کرتے تھے یہ ان کی عادت مستمرہ تھی۔ قالوا تقاسموا الخ، ان غنڈوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین پر جو مسئلہ توحید مان چکے تھے شب خون مارنے کا پروگرام بنایا اور آپس میں خدا کے نام کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ رات کو حملہ کر کے صالح اور اس کے متبعین کو قتل کردیں اور جب ہم سے پوچھ گچھ ہو تو صاف کہہ دیں کہ ہم تو اس کے قتل کے موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ تقاسموا جمہور مفسرین کے نزدیک فعل امر کا صیغہ ہے اور قالوا کا مقولہ ہے اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ،…
Read the full tafseer →قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللہِ لَـنُبَيِّتَـنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ثُمَّ لَـنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّہٖ مَا شَہِدْنَا مَہْلِكَ اَہْلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ 49
قْسَمَ ( حلف)
حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَـنُـبَـیِّتَـنَّـہٗ وَاَھْلَـہٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَاشَھِدْنَا مَھْلِکَ اَھْلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (النمل : 49)
(انھوں نے کہا اللہ کی قسم کھا کر عہد کرلو کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔ )
حضرت صالح (علیہ السلام) کے خلاف مخالفین کا منصوبہ
یہ بات قرین قیاس ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی اصلاحی کوششوں کو روکنے کے لیے مخالفین کے باہم اجلاس ہوتے ہوں کیونکہ وہ پریشان تھے کہ ہماری تمام تر اذیت رسانیوں کے باوجود حضرت صالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے نمائندوں کا حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مذموم منصوبہ۔
صالح (علیہ السلام) کی قوم کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحجر کے نام سے موسوم ہے جو مدینہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے جسے مدائن صالح کہتے ہیں یہی ثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا۔ وسیع رقبے میں ان کی عمارتوں کے گھنڈرات پائے جاتے ہیں۔ جن کو قوم ثمود نے پہاڑتراش تراش کر بنایا تھا ان گھنڈرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں اس کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے نوبڑے سردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49: قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ (انہوں نے کہا سب منکر آپس میں قسمیں اٹھائو) ۔ : نمبر 1۔ یہ تقاسموا خبر ہے جو محل حال میں واقع ہے۔ اور قد مضمر ہے۔ ای قالوا متقاسمین باللّٰہ۔ نمبر 2۔ یہ امر ہے۔ یعنی انہوں نے ایک دوسرے کو قسم کا کہا اور حکم دیا۔ تقاسموا کا معنی تحالفوا۔ باہمی حلف ہے۔ لَنُبَیِّتَنَّہٗ (ہم اس پر شب خون ماریں گے) ۔ راتوں رات اس کو ضرور قتل کردیں گے۔ وَاَہْلَہٗ (اور اس کے اہل کو) ۔ اولاد و پیروکاروں کو ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ (پھر ہم اس کے اولیاء کو کہیں گے) ۔ خون کے وارث۔ قراءت : حمزہ و علی کی قراءت میں لتبیتنہ تائے اولیٰ اور تائے ثانیہ کے ضمہ سے۔ لتقولُن تاء اور…
Read the full tafseer →49۔ قالواتقاسموا بااللہ، وہ قسمیں کھانے لگے۔ ایک نے دوسرے سے کہا، اے قوم والو، اللہ کی قسم اٹھاؤ، تقاسموا، مجزوم ہے امر ہونے کی وجہ سے اور بعض نے کہا یہ نصب کی جگہ پر واقع ہے۔ یعنی تم قسم اٹھاؤ اور پختہ قسمیں اٹھاؤ، اس کی تقدیر عبارت یوں ہوگی، قالوامتقاسمین باللہ، ہم صالح کو رات کے وقت ضرور قتل کردیں گے۔ اھلہ، اس کے آدمیوں کو یعنی جو لوگ ان پر ایمان لائے ان کو بھی قتل کردیں گے۔ لنبتینہ، ثم لنقولن، ، بعض حضرات نے تاء کے ساتھ لام کے ضمہ کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ لولیہ، انتقام کا وارث، ولی دم، ماشھدنا ، اس وقت موجود نہیں تھے۔ مھلک اھلہ، ان کو بھی ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
آیت 45 سے 53
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
54 حضرت صالح پر شب خون مارنے کا پروگرام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بدبختوں نے باہم قسمیں کھاکر حضرت صالح پر شبخون مارنے کا پروگرام بنایا "۔ یہ ترجمہ صیغہ ماضی کا ہے۔ یعنی جبکہ { تقاسموا } کو فعل ماضی قرار دیا جائے۔ اور دوسرا احتمال اور قوی احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ { تقاسموا } امر کا صیغہ ہو۔ تب معنیٰ ہوں گے کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم قسمیں کھاؤ کہ ہم یہ شبخون ماریں گے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا تھا۔ تو حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اب تین دن کے اندر تم لوگوں پر ایک انتہائی ہولناک عذاب آ کر رہے گا۔ اس پر انہوں نے باہم یہ منصوبہ بنایا کہ ہم اس سے پہلے صالح ہی کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ
تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔
شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
1 ۔ یعنی ان کے دائو (خفیہ تدبیر) کا جواب دیا اور وہ اس طرح کہ عذاب بھیج کر انہیں اور ان کی قوم کو تباہ کر ڈالا، قبل اس کے کہ وہ اپنے دائوں (شبخون) کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی قدم اٹھاتے۔ عبد الرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ جب ان لوگوں نے اونٹنی کو زخمی کردیا تو حضرت صالح ( علیہ السلام) نے انہیں نوٹس دیتے ہوئے فرمایا :” تم تین دن تک اپنے گھروں میں مزے کرلو۔ یہ جھوٹا نہ ہونے والا وعدہ ہے۔ (ہود : 65) اس پر یہ لوگ کہنے لگے کہ صالح (علیہ السلام) سمجھتا ہے کہ وہ تین دن تک ہمارا صفایا کر دے گا لیکن ہم تین دن سے پہلے ہی اس کا اور اس کے گھر والوں کا صفایا کر ڈالیں گے۔ پہاڑ کی ایک گھاٹی کے پاس حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(27:49) قالوا۔ یعنی ان نو اشخاص نے کہا۔
تقاسموا : تقاسم یتقاسم تقاسم (تفاعل) سے امر کا صیغہ ۔ جمع مذکر حاضر ہے تم آپس کیں قسمیں کھاؤ۔ تم باہم قسم کھاؤ۔
لنبیتنہ۔ میں لام تاکید کے لئے ہے نبی تن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے) بیت یبیت تبییت تفعیل رات میں کوئی کام کرنا۔ العدو دشمن پر شبخون مارنا۔ دشمن پر رات میں حملہ کرنا۔ لنبیتنہ کہ ہم ضرور صالح اور اہلہ اس کے اہل خانہ پر سب خون مار کر (ہلاک کردیں گے) ۔
لولیہ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت صالح ہیں۔ اس کے وارث کو۔
ماشھدنا۔ ہم نے نہیں دیکھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 :
فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 :
بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
حضرت صالح اور لوط (علیہما السلام) اور ان کی قوموں کا قصہ۔
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تمہارے اعمال کو نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پے درپے مال وجاہ دیتا ہے اور سختی اور آسانی سے آزماتا ہے اس شہر میں نوشخص کفر کے سرغنہ تھے جو رات دن آمادہ فسادرہتے تھے اور حضرت صالح کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اب تک تو معمولی آزار دے چکے تھے یہ اپنے کفر اور گناہ کی وجہ سے اس زمین میں تباہی کرتے تھے اور اپنے کام میں اصلاح نہیں کرتے تھے جب ان ناعاقبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[18] یہ اسی طرح کی سازش تھی جو سرداران قریش نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے ہجرت کے موقع پر کی تھی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 1: ان آیات میں حضرت صالح اور قبیلہ ثمود کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ ہم نے صالح کو ان لوگوں میں پیغمبر بنا کر بھیجا ۔ اور انہوں نے ان کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور حق کی جانب بلایا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں دو فریق پیدا ہوگئے ۔ ایک ماننے والوں کا اور دوسرا نہ ماننے والوں کا ۔ ماننے والے کم تھے اور منکرین زیادہ منکرین نے حضرت صالح ، اور مومنین کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک بدبختی کا اظہار کیا ۔ کہ عذاب کا مطالبہ کرنے لگے اور ہم تم کو اور تمہاری جماعت کو اپنے لئے منحوس خیال کرتے ہیں پھر ان میں سے نو آدمی اس پر آمادہ ہوئے ۔ حضرت صالح کو معران کی جماعت کے شہید کردیا جائے ۔ اور…
Read the full tafseer →(49) ان فسادیوں نے آپس میں کہا کہ سب اس پر اللہ کی قسم کھائو کہ ہم صالح (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین پر شب خون ماریں گے پھر ہم اس کی طرف سے دعویٰ کرنیوالے ولی اور وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو ان لوگوں کے مارنے جانے کے وقت موجود ہی نہ تھے اور یقینا ہم بالکل ہی سچے اور راست گو ہیں۔
یعنی اس بات پر قسم کھا کر متفق ہو کہ ایک رات کو شب خون مار کر ان سب مسلمانوں اور صالح (علیہ السلام) کا صفایا کردو پھر اگر تحقیق کا معاملہ آئے اور ان لوگوں کا کوئی ولی کھڑا ہو اور پنچایت میں مقدمہ آئے تو خون کا دعویٰ کرنے والے وارث سے ہم کہہ دیں کہ مارنا تو کیسا ہم تو وہاں موجود بھی نہ تھے اور تاکیداً کہیں گے کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 3۔ یعنی تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو معلوم ہیں، یہ شرور ان ہی اعمال پر مرتب ہیں۔
Read the full tafseer →صالح (علیہ السلام) کے 9 سرداروں نے اتحاد کیا کہ صالح (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگا دیا جائے :
49۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے آپس میں سرجوڑے اور مشورہ کیا کہ اگر صالح کو کسی ایک قبیلہ کی طرف سے کوئی گزند پہنچی تو صالح (علیہ السلام) کا قبیلہ اس قبیلہ کا دشمن ہوجائے گا آپس میں جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ہے اگر صالح کو اسی طرح چھوڑ دیا جائے تو اس کا نتیجہ بھی پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا ۔ آج بھی بڑے بڑے شہروں ‘ گاؤں اور دیہات میں جو و ڈیرے ہوتے ہیں وہ اپنی مخالفتوں کے باوجود اپنے ذاتی معاملات میں مل بیٹھتے ہیں اور آپس میں اندر ہی اندر ایسے معاہدے کرلیتے ہیں جن معاہدوں کے باعث وہ اپنے ذاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–58
لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
We shall attack him (Salih علیہ السلام) and his family at night, then will say to his heir, We did not witness the destruction of his family and we are really truthful - 27:49.
The plan was that all of them together should attack him and his companions in the darkness of night, and kill them all. And when the claimant of the blood would make the claim, they would say that they did not kill him, and also they did not know who had killed him. In saying so they would have uttered the…
Read the full tafseer →63 "The guardian": the chief of the Prophet Salih's tribe, who, according to the ancient tribal tradition and custom, could make a claim to blood vengeance. The same was the position in Makkah of the Holy Prophet's uncle, Abu Talib. The Quraish were hesitant that if they attacked and killed the Holy Prophet, Abu Talib, the chief of Bani Hashim, would come out with a claim to blood vengeance on behalf of his clan .
64 This precisely was the kind of plot which the Makkan chiefs of the clans were devising against the Holy Prophet, and they devised the same ultimately on the occasion of migration…
Read the full tafseer →