Explained with ayahs 45–47
صالح ؑ کی ضدی قوم
حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں…
Read the full tafseer →سورة النمل 60
ان کے اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ تحریک ہمارے لیے سخت منحوس ثابت ہوئی ہے، جب سے تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے دین آبائی کے خلاف یہ بغاوت شروع کی ہے ہم پر آئے دن کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے، کیونکہ ہمارے معبود ہم سے ناراض ہوگئے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے یہ قول اکثر ان مشرک قوموں کے اقوال سے مشابہ ہے جو اپنے انبیاء کو منحوس قرار دیتی تھیں۔ چناچہ سورة یسین میں ایک قوم کا ذکر آتا ہے کہ اس نے اپنے انبیاء سے کہا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ، " ہم نے تم کو منحوس پایا ہے " (آیت 18) یہی بات فرعون کی قوم حضرت موسیٰ کے متعلق کہتی تھی فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (قوم) ثمود کے پاس ان کے (برادری کے) بھائی صالح کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا (یہ پیغام دے کر) کہ تم (شرک کو چھوڑ کر) اللہ کی عبادت کرو (چاہئے تو یہ تھا کہ سب ایمان لے آتے مگر خلاف توقع) اچانک ان میں دو فریق ہوگئے جو دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے (یعنی ایک فرقہ تو ایمان لایا اور ایک نہ لایا اور ان میں جو جھگڑا اور کلام ہوا بعض اس میں کا سورة اعراف میں مذکورہ ہے قال الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا، اور بعض اس میں کا آگے مذکور ہے قالوا اطَّيَّرْنَا بِكَ الخ اور جب ان لوگوں نے کفر پر اصرار کیا تو صالح ؑ نے موافق عادت انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →قالوا ظیرنابک وبمن معک قال طئرکم عند اللہ بل انتم قوم نفتون (47)
ہم اس سنت الٰہی کی وضاحت اعراف 94 کے تحت کرچکے ہیں کہ رسولوں کی بعثت کے زمانے میں ایسی آزمائشوں کا ظہور خاص طور پر ہوا ہے جس سے قوم کے اندر انابت و خشیت پیدا ہوتا کہ لوگوں کے دل رسول کی دعوت کی طرف مائل ہوں اور وہ متنبہ ہوں کہ اگر انہوں نے رسول کی بات نہ مانی تو ان پر وہ فیصلہ کن عذاب آجائے گا جس کی رسول خبر دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام دعوت حق کے لئے فضا کو ساز گار بنانے کے لئے فرمایا لیکن لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے یا تو اپنے لیڈروں کے اس مغالطے سے اپنی کو تسلی دے لی کہ اس طرح کے نرم و سخت دن تو قوموں پر آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47-1عرب جب کسی کام کا یا سفر کا ارادہ کرتے تو پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں جانب اڑتا تو اسے نیک شگون سمجھتے اور وہ کام کر گزرتے یا سفر پر روانہ ہوجاتے اور اگر بائیں جانب اڑتا تو بد شگونی سمجھتے اور اس کام یا سفر سے رک جاتے (فتح القدیر) اسلام میں یہ بدشگونی اور نیک شگونی جائز نہیں ہے البتہ فال نکالنا جائز ہے
47-2یعنی اہل ایمان نحوست کا باعث نہیں ہیں جیسا کہ تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا اصل سبب اللہ ہی کے پاس ہے کیونکہ قضا و تقدیر اسی کے اختیار میں ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو نحوست پہنچی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا سبب تمہارا کفر ہے۔ فتح القدیر
47-3یا گمراہی میں ڈھیل دے کر تمہیں آزمایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →23: یعنی آپ کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد ہماری قوم دو حصوں میں بٹ گئی ہے، اور ہم اسے آپ کی نحوست سمجھتے ہیں۔ نیز بعض روایات میں ہے کہ ان پر قحط بھی آپڑا تھا، اس کو بھی انہوں نے حضرت صالح ؑ کی نحوست قرار دیا۔
24: یعنی نحوست تو تمہارے اعمال کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے اور اس لیے آئی ہے کہ تمہیں آزمایا جائے کہ ان مصائب کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے ہو یا اپنی بد اعمالیوں پر قائم رہتے ہو۔
Read the full tafseer →قالوا اطیرنا بک وبمن معک ط
تطسیر کے معنی بدشگونی کے ہیں۔ یہ لفظ اقوام جاہلہ کی وہم پرستیوں اور خرافات سے نکلا ہے۔ وہ اوبام جن سے کوئی شخص صرف سیدھے اور صاف ایمان کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ ایام جاہلیت میں اگر کوئی کسی کام کے لئے نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نیک شگون یا بدشگون معلوم کرنے کے لئے کسی پرندے سے فال گیری کرتا ہے۔ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا۔ اگر یہ پرندہ اس کے دائیں جانب سے بائیں جانب جاتا تو یہ خوش ہوتا اور وہ کام کر گزرتا۔ اور اگر یہ پرندہ بائیں جانب سے دائیں جانب کی طرف جاتا تو یہ شخص بدشگوفی کرتے ہوئے یہ سمجھتا کہ یہ معاملہ خطرناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی پرندے کو لیا معلوم ہے…
Read the full tafseer →10 یعنی جب سے تیرا منحوس قدم آیا ہے اور یہ باتیں شروع کی ہیں ہم پر قحط وغیرہ کی سختیاں پڑتی جاتی ہیں اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے۔
11 یعنی یہ سختیاں یا برائیاں میری وجہ سے نہیں۔ تمہاری بدقسمتی سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری شرارتوں اور بد اعمالیوں کے سبب سے مقدر کی ہیں۔
12 یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں سمجھتے ہو یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47 قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط ”
ہمیں خدشہ ہے کہ آپ لوگوں کی نحوست کی وجہ سے ہم کسی آفت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →47 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب سے تم نے اپنی نبوت کا ڈھونگ رچایا ہے۔ اس وقت سے ہم پر کوئی نہ کوئی افتاد پڑی ہی رہتی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم سب ایک ہی قوم تھے۔ تم نے آکر ہم میں پھوٹ ڈال دی۔ اور ہماری زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ یہ سب تمہاری ہی نحوست ہے اور یہی اعتراض کفار مکہ کو رسول اللہ ﷺ پر تھا۔
48 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تم پر جو وقتاً فوقتاً کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو یہ تمہاری تنبیہ کے لئے آتی ہے اور تمہیں سنبھلنے کے لئے کچھ مزید مہلت دی جاتی ہے اور دوسرا یہ کہ قوم کے جو دو فریق بن چکے ہیں تو اسی بات میں تمہاری آزماوش ہو رہی ہے تم حق کا ساتھ دیتے ہو یا…
Read the full tafseer →58۔ (کہ جب سے تم نے یہ نیا مذہب کھڑا کیا ہے قوم میں انتشار پیدا ہوگیا ہے)
59۔ (اپنے اسی کفر کی بدولت) (آیت) ” طیرکم “۔ نحوست یعنی اسباب نحوست۔ حضرت نے فرمایا کہ تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو خوب معلوم ہیں اور موجودہ مسائل انہی اعمال کفریہ کا ثمرہ ہیں۔ سوا بھی کیا ہوا ہے، ابھی تو تمہیں اس کفر کی بدولت عذاب میں مبتلا ہونا ہے۔ طائرکم اے السبب الذی منہ یجیء خیرکم وشرکم عند اللہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →قالو اطیرنا بک وبمن معک . کہنے لگے : ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔
یعنی تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ہم منحوس سمجھتے ہیں۔ تم لوگ منحوس ہو کہ جب سے تم نے یہ نیا مذہب نکالا ہے ہمارے اندر پھوٹ پڑگئی ہے۔ ہم پر پیہم مصائب کا نزول ہونے لگا ‘ ہم بارش سے محروم ہو کر قحط میں مبتلا ہوگئے۔ یہ سارے دکھ اور تکلیفیں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے ہیں۔
قال طئرکم عند اللّٰہ . صالح نے کہا : تمہاری نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے۔
طائر نحوست۔ مراد نحوست کا سبب جس کی وجہ سے خرابیاں آئیں۔ بس اللہ کا حکم ہے یا تمہاری بداعمالیاں ہیں جو اللہ کے پاس لکھی ہوئی ہیں۔ قضاء خداوندی…
Read the full tafseer →(47) وہ لوگ بولے ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ جو مومن ہیں انہیں منحوس سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پر سختی ہو رہی ہے حضرت صالح ؑ نے فرمایا تمہاری سختی اور خوش حالی کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے بلکہ تم سختی اور خوشحالی کے ذریعے آزمائے جاؤ گے اور یہ کہ تم کفر کی بدولت عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ۔۔ :”اطَّيَّرْنَا“ اصل میں ”تَطَیَّرْنَا“ ہے، (ہم نے بدشگونی لی) تاء کو ساکن کرکے طاء میں ادغام کیا اور پہلا حرف ساکن ہوجانے کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصلی کا اضافہ کردیا۔ ادغام کی وجہ سے بدشگونی کے معنی میں شدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ صالح ؑ کو جھٹلانے والوں نے کہا کہ ہم نے تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ساتھ بدشگونی پکڑی ہے اور تمہیں منحوس ہی پایا ہے کہ آئے دن ہم پر آفات و مصائب کا ہجوم رہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کا باعث تم اور تمہارے ساتھی ہیں۔ آل فرعون پر جب مختلف عذاب آئے تو انھوں نے بھی یہی بات کہی تھی : (فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صلحاً ان اعبدوا للہ اس کا معنی گزر چکا ہے فاذا ھم فریقین یختصمون مجاہد نے کہا : یعنی مومن اور کافر۔ کیا خصوصیت وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا اتعلمون ان صلحاً مرسل من ریۃ قالوا انا بمآء ارسل بہ مئومنون۔ قال الذین استکبروآ ان بالذی امنتم بہ کفرون۔ (الاعراف) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا جھگڑا یہ تھا کہ ہر فرقہ نے کہا : ہم حق پر ہیں تم حق پر نہیں۔
قالیقوم لم تستعجلون بالسیئۃ قبل الحسنۃ مجاہد نے کہا : سیئۃ سے مراد عذاب اور حسنۃ سے مراد رحمت ہے۔ معنی ہے تم اس ایمان میں کیوں تاخیر کرتے ہو جو تمہاری طرف ثواب کھینچ کر لاتا ہی اور کفر کو پہلے لاتے ہو جو عذاب کو لازم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →قَالُوا [ ان لوگوں نے کہا ] اطَّيَّرْنَا [ ہم منحوس سمجھتے ہیں ] بِكَ [ آپ (علیہ السلام) کو ] وَبِمَنْ [ اور ان کو جو ] مَّعَكَ ۭ [ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہیں ] قَالَ [ (صالح (علیہ السلام) نے ) کہا ] طٰۗىِٕرُكُمْ [ تم لوگوں کی نحوست ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ہے ] بَلْ اَنْتُمْ [ بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہو جن کو ] تُفْتَنُوْنَ [ آزمایا جاتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ اب تمہیں عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے) اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور داعی تبلیغ کرنے اور اظہار حق میں یہ سوچ کر کوتاہی نہ کرے کہ میری بات سے قوم میں انتشار اور خلفشار ہوجائے گا جب حق بات کہی جائے گی تو منکرین اور معاندین بہرحال مخالفت کریں گے ان کی وجہ سے جو انتشار ہو اس کا خیال کیے بغیر حق کی دعوت دی جائے اور کھل کر حق بیان کیا جائے۔
جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا تھا ان کے علاوہ باقی قوم کافر اور منکر ہی تھی ان کافروں میں نو شخص ایسے تھے جو بڑے فسادی تھے ان کا کام یہی تھا کہ زمین میں فساد کریں نام کو بھی اصلاح نہیں کرتے تھے، ان لوگوں نے آپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قصہء چہارم حضرت صالح (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاہم صلحا۔۔۔ الی۔۔۔ وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون۔
(ربط) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ملکہء بلقیس باوجود ایک عورت تھی مگر اس کو ایک چھوٹے جانور یعنی ہد ہد سے ہدایت ہوگئی اور قوم ثمود کو باجود مرد ہونے کے ناقہ جیسے بڑے حیوان سے ہدایت نہ ہوئی کہ چند مفسدوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شبخون مارا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے اس قصہ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اب آئندہ آیات میں لوگوں کی عبرت اور نصیحت کے لئے صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →42:۔ جب قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا اور ان میں اختلاف تو پہلے ہی پیدا ہوچکا تھا۔ اب وہ حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے ہم تمہاری بات کس طرح مان لیں تم اور تیرے پیروکار عیاذا باللہ کیسے نامبارک ہو کہ جب سے تم نے یہ نیا دین (صرف ایک اللہ کی عبادت و پکار) ایجاد کیا ہے تب سے ہم قحط کا شکار ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ تشاء منابک لانھم قحطوا عند مبعثہ لتکذیبھم فنسبوہ الی مجیئہ (مدارک) ۔
43:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا یہ خیر و شر اور نفع و نقصان تو اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے ہے۔ شر کو ہماری طرف منسوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ،…
Read the full tafseer →قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ 0ۭ قَالَ طٰۗىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللہِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ 47
طير ( فال)
، وتَطيَّرَ فلانٌ ، واطَّيَّرَ أصله التّفاؤل بالطَّيْرِ ثمّ يستعمل في كلّ ما يتفاء ل به ويتشاءم، قالُوا : إِنَّا تَطَيَّرْنا بِكُمْ [يس/ 18] ، ولذلک قيل : «لا طَيْرَ إلا طَيْرُكَ «1» » ، وقال تعالی: إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا[ الأعراف/ 131] ، أي : يتشاء موا به، أَلا إِنَّما طائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ
[ الأعراف/ 131] ، أي : شؤمهم : ما قد أعدّ اللہ لهم بسوء أعمالهم . وعلی ذلک قوله : قالُوا اطَّيَّرْنا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ قالَ طائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط قَالَ طٰٓیِٔرُکُمْ عِنْدَاللّٰہِ بَلْ اَنْـتُمْ قَوْمٌ تُفْتَـنُوْنَ ۔ (النمل : 47)
(انھوں نے کہا ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے، حضرت صالح نے جواب دیا تمہارا نصیبہ اللہ کے پاس ہے بلکہ تم آزمائے جارہے ہو۔ )
اِطَّیَّرْنَاکی تحقیق
اِطَّیَّرْنَا … طیر سے ہے، طیر چڑیوں اور پرندوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ توہم پرستوں میں چڑیوں اور پرندوں کے اڑنے سے فال لینے کا عام رواج رہا ہے۔ اس وجہ سے تطیرکا لفظ فال لینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ پھر اس کا غالب استعمال فالِ بد کے معنی میں ہوگیا۔ اسی مادے سے طائر کا لفظ بھی ہے جو اس چیز کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے خلاف پر اوپیگنڈا۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے خلاف زور و شور کے ساتھ پر اوپیگنڈہ کیا کہ جب سے صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے یہ کام شروع کیا ہے قوم کا اتحاد ختم ہوا اور گھر گھر اختلاف پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ملک کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ ہمارا دن رات کا سکون لٹ گیا ہے شعیب اور اسکے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے یہ ہوا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ یہ نحوست ہماری وجہ سے نہیں بلکہ تمہاری وجہ سے ہے۔ تمہیں اپنے فکر و عمل پر غور کرتے ہوئے یہ بات سوچنی چاہیے کہ تم بہت بڑی…
Read the full tafseer →47: قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ (ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں) ۔ کیونکہ ان کی بعثت کے وقت تکذیب کی وجہ سے ان پر قحط مسلط کردیا گیا تھا۔ کفار نے آپ کی آمد کی طرف اس کی نسبت کی اور اطَّیَّرْنَا اصل میں تطیرنا ہے۔ اور اس طرح بھی پڑھا گیا ہے۔ تاء کو طاء میں ادغام کر کے سکون طاء کو پڑھنے کے لئے الف کا اضافہ کردیا۔ وَبِمَنْ مَّعَکَ (اور ان سے جو تیرے ساتھ ہیں) ۔ ایمان لانے والے۔ قَالَ طٰٓپرُکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ (کہا تمہاری نحوست اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے) ۔ یعنی وہ سبب جس سے تمہارے لئے خیر و شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ وہ اسی نے بنایا اور اسی کی ہی تقسیم ہے۔ نمبر 2۔ تمہارا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں…
Read the full tafseer →47۔ قالوالطیرنا ، ، اگر اس سے بدشگونی حاصل کی۔ طیرنااصل میں تطیرنا تھا، بک وبمن معک، یہ اس وجہ سے کہ ان کے کلمہ متفرق ہونے کی وجہ سے۔ بعض نے کہا کہ جب اس کو سختی یا عذاب آجاتا ، بارش رک جاتی اور قحط آنے سے تو کہتے کہ یہ تکلف و سختی ان کی شئوم سے اور ان کی قوم کی شئوم سے آئی ہے۔ قال طائرکم عنداللہ، جو تمہیں خیر و شر پہنچایا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اس کے حکم سے پہنچا ہے جس نے تمہاری تقدیر میں خیر وشر لکھ دیا ہے نہ کہ ان ساتھیوں کی نحوست سے پہنچا ہے۔ اس کو طائر س اس وجہ سے کہا گیا کہ اللہ کا فیصلہ سرعت جلدی سے پہنچنے والا ہے۔ چونکہ قضاء قطعی سے زیادہ تیز کوئی چیز نہیں۔ اسی سرعت نزول کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
آیت 45 سے 53
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ…
Read the full tafseer →50 برے آدمی کی نحوست خود اس کے ساتھ ۔ والعیاذ باللہ -: سو حضرت صالح نے ان سے کہا کہ تمہاری نحوست تو خود تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ حضرت صالح کی تکذیب کی وجہ سے وہ لوگ قحط سالی کا شکار ہوگئے تھے۔ تو اس بنا پر ان لوگوں نے حضرت صالح سے کہا کہ ہم تو تمہاری وجہ سے نحوست کا شکار ہو گیے۔ سو نحوست سے ان کی یا تو یہی مراد تھی یا اس سے مراد ان لوگوں کی یہ تھی کہ تمہاری وجہ سے ہم لوگ دو حصوں میں بٹ گئے اور باہم سر پھٹول ہو رہا ہے۔ اور اس طرح ان بدبختوں نے اپنی بدبختی کو پہچاننے اور اس پر توجہ دینے کی بجائے الٹا حضرت صالح جیسی پاکیزہ اور مقدس ہستی کو نحوست کا باعث قرار دے دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ
تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔
شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →10 ۔ یعنی ہم پر جو قحط آنے شروع ہوگئے ہیں تو یہ سب تمہاری نحوست ہے۔ (شوکانی)
11 ۔ یعنی تمہیں جو نحوست پہنچی وہ اللہ کی طرف سے تمہارے اپنے کفر کی بدولت پہنچی۔ وہ تم پر مصیبتیں بھیج کر تمہیں خواب غفلت سے جھنجھوڑتا ہے تاکہ کفر و شرک کی راہ چھوڑ کر اس کی سیدھی راہ اختیار کرو۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:47) اطیرنا ماضی جمع متکلم۔ تطیر تفعل مصدر۔ اصل میں تطیرنا تھا تا کو طاء میں مدغم کیا اور شروع میں ہمزہ وصل لایا گیا۔ اطیر تطیر کے اصل معنی پرندوں سے بدفالی لینے کے ہیں پھر اس کا استعمال ہر بدفالی کے لیے ہونے لگا۔ اطیرنا بک ہم تجھ سے برا شگون لیتے ہیں۔ ہم تجھ کو منحوس سمجھتے ہیں۔
طائرکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری قال بد۔ تمہارا شگون بد، تمہاری بری قسمت۔ تمہاری نحوست۔ تمہاری نامبارکی۔ اصل میں طائر کے معنی اڑنے والے کے ہیں مگر عرب میں جاہلیت کے زمانے میں پرندوں سے فال لیتے تھے پرندوں کو اڑاتے اگر وہ بائیں طرف کو اڑ جاتے تو برا شگون لیتے اور جس کام کے لئے شگون لیا گیا تھا اس کو نہ کرتے تھے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 :
فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 :
بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
حضرت صالح اور لوط (علیہما السلام) اور ان کی قوموں کا قصہ۔
(ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تمہارے اعمال کو نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پے درپے مال وجاہ دیتا ہے اور سختی اور آسانی سے آزماتا ہے اس شہر میں نوشخص کفر کے سرغنہ تھے جو رات دن آمادہ فسادرہتے تھے اور حضرت صالح کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اب تک تو معمولی آزار دے چکے تھے یہ اپنے کفر اور گناہ کی وجہ سے اس زمین میں تباہی کرتے تھے اور اپنے کام میں اصلاح نہیں کرتے تھے جب ان ناعاقبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
[16] یعنی تمہاری یہ نحوست کیا کم ہے کہ تمہاری وجہ سے قوم میں پھوٹ پڑگئی ہے اور آئے دن ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے۔
[17] یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں حقیقت حال سمجھتے ہو یا نہیں۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ طیرنا بک الطیر کے معنی تشاؤم اور بدفالی کے ہیں ۔
Read the full tafseer →(47) وہ کہنے لگے ہم نے تو تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو منحوس قدم پایا صالح (علیہ السلام) نے کہا تمہاری نحوست کا آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور جانچے گئے ہو یعنی الزام دیا حضرت صالح (علیہ السلام) کو نااتفاقی پھیلانے کا یعنی تو نے یہ نئی بات چلا کر ہم میں تفریق پیدا کردی یا قحط ہوا تھا اس کو کہا کہ تیری اور تیرے ساتھیوں کی یہ نحوست ہے حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس تمہاری نحوست کا سبب تو اللہ کے علم میں ہے اور وہ تمہارے اعمال میں جن کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ تم کو جانچا جاتا ہے اور تم لوگ جانچے جاتے ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 3۔ یعنی تمہارے اعمال کفریہ اللہ کو معلوم ہیں، یہ شرور ان ہی اعمال پر مرتب ہیں۔
Read the full tafseer →قوم نے صالح اور آپ کی دعوت کو نحس قرار دیا کہ جب سے تم آئے ہو قوم میں امن نہیں :
47۔ جس قوم میں اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر اور رسول کو مبعوث کیا ‘ کیوں کیا ؟ محض اس لئے کہ وہ قوم برائیوں میں غرق ہو رہی تھی کہ اللہ کا نبی ورسول ان کی بھلائی کی دعوت دے کر برائیوں میں غرق ہونے سے بچائے لیکن قوم نے اکثر ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا اور بجائے اس کے کہ رسول کی دعوت کو قبول کرکے کفر وشرک اور دوسری برائیوں کی دلدل سے نکلے ہمیشہ اپنے رسول کی مخالفت کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی ، پھر سنت الہی کے تحت اس قوم کو آزمایا گیا تاکہ قوم کے اندر انابت و خشیت پیدا ہو اور وہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
Commentary
لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ (why do you seek evil to come sooner before good? - 27:46). Sayyidna Salih (علیہ السلام) is referring here to the demand of the infidels that he should bring the divine torment to them in this world, so that they may know his truthfulness. Therefore, "evil" in this sentence stands for torment, while "good" refers to their repentance and invoking divine mercy. It, therefore means, "Why are you asking me to bring the divine punishment before you repent?"
Read the full tafseer →60 One meaning of what they said is: "Your movement has proved to be an evil omen for us. Since you and your companions have revolted against the ancestral religion, one or the other calamity is befalling us almost daily, because our deities have become angry with us. In this sense, this saying is similar to the sayings of most of those polytheistic nations who regarded their Prophets as ominous. In Surah Ya Sin, for instance, a nation has been mentioned, which said to its Prophet "We regard you as an evil omen for ourselves." (v. 18) The same thing was said by the Pharaoh's people about the…
Read the full tafseer →