Explained with ayahs 41–44
بلقیس کا تخت آنے کے بعد
اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے…
Read the full tafseer →سورة النمل 55
یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں، پہلی چیز حضرت سلیمان کا وہ خط تھا جو عام بادشاہوں کے طریقے سے ہٹ کر اللہ رحمان و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا، دوسری چیز اس کے بیش قیمت ہدیوں کو رد کرنا تھا جس سے ملکہ کو اندازہ ہوا کہ یہ بادشاہ کسی اور طرز کا ہے، تیسری چیز ملکہ کی سفارت کا بیان تھا جس سے اس کو حضرت سلیمان کی متقیانہ زندگی، ان کی حکمت اور ان کی دعوت حق کا علم ہوا، اسی چیز نے اسے آمادہ کیا کہ خود چل کر ان سے ملاقات کرے، اور اسی کی طرف اس نے اپنے اس قول میں اشارہ کیا کہ " ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہوچکے تھے "۔ چوتھی چیز اس عظیم الشان تخت کا آناً فاناً…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
کیا بلقیس حضرت سلیمان ؑ کے نکاح میں آگئی تھیں
آیات مذکورہ میں بلقیس کا واقعہ اسی پر ختم ہوگیا کہ وہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوگئی۔ اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ؟ قرآن کریم نے اس سے سکوت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص نے جب عبداللہ ابن عیینہ سے پوچھا کہ کیا حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کے ساتھ نکاح کرلیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا معاملہ اس پر ختم ہوگیا اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ مطلب یہ تھا کہ قرآن نے یہیں تک اس کا حال بیان کیا ہے اس کے بعد کا حال بتلانا قرآن نے چھوڑ دیا تو ہمیں بھی اس کی تفتیش میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ مگر ابن عساکر نے…
Read the full tafseer →قیل لھا ادخلی الصرح فلما راتہ حسبتہ لجۃ وکشفت عن ساقیھا قال انہ صرح ممردمن قواریر قالت رب انی ظلمت نفسی و اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین (44)
حضرت سلیمان کے شینہ فل کے اندر ملکہ ہما کی حیرانی
اس کے بعد حضرت سلیمان کے خدام کی طرف سے ملکہ سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ محل کے اندر تشریف لے چلیں۔ ملکہ محل کے اندر داخل ہوئیں تو ان کی نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے فرش پر قدم رکھا تو انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی گہرے پانی کے حوض میں اتر رہی ہیں اور جس طرح ایک پانی میں اترنے والا اپنے پائنچے چڑھا لیتا ہے بالکل بےساختہ، غیر ارادی طور پر، انہوں نے بھی اپنے پائنچے چڑھا لیے۔ اس وقت حضرت سلیمان ؑ نے…
Read the full tafseer →44-1یہ محل شیشے کا بنا ہوا تھا، جس کا صحن اور فرش بھی شیشے کا تھا۔ حضرت سلیمان ؑ نے اپنی نبوت کے اعجازی مظاہرے دکھانے کے بعد مناسب سمجھا کہ اسے اپنی دنیاوی شان و شوکت کی بھی ایک جھلک دکھلا دی جائے جس میں اللہ نے انھیں تاریخ انسانیت میں ممتاز کیا تھا۔ چناچہ اس محل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا، جب وہ داخل ہونے لگی تو اس نے اپنے پانچے چڑھا لئے۔ شیشے کا فرش اسے پانی معلوم ہوا جس سے اپنے کپڑوں کو بچانے کے لئے اس نے کپڑے سمیٹ لئے۔
44-2یعنی جب اس پر فرش کی حقیقت واضح ہوئی تو اپنی کوتاہی اور غلطی کا بھی احساس ہوگیا اور اعتراف قصور کرتے ہوئے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا صاف چکنے گھڑے ہوئے پتھروں کو ممرد…
Read the full tafseer →19: حضرت سلیمان ؑ نے دنیا پرستوں پر رعب ڈالنے کے لئے ایک شیش محل بنوایا تھا جس کے صحن میں ایک پانی کا حوض تھا، اور اس پر بھی مہین اور شفاف شیشے کی چھت اس طرح ڈال دی تھی کہ غور سے دیکھے بغیر شیشہ نظر نہیں آتا تھا اور سرسری نظر سے دیکھیں تو وہ کھلا ہوا حوض معلوم ہوتا تھا، محل میں داخل ہونے کے لئے اسی حوض کے اوپر سے گزرنا پڑتا تھا، چنانچہ جب بلقیس محل میں داخل ہونے کے لئے چلی تو سامنے وہ حوض نظر آیا جس کا پانی گہرا نہیں تھا، اس لئے اس نے حوض سے گزرنے کے لئے اپنے پائینچے چڑھالئے، اس پر حضرت سلیمان ؑ نے اسے بتایا کہ پائینچے چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس حوض کے اوپر شیشہ چڑھا ہوا ہے اور اس پر سے…
Read the full tafseer →قیل لھا ادخلی ……رب العلمین (34)
یہ غیر متوقع محتان یوں تھا کہ حضرت سلیمان نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا تھا۔ یہ شیش محل تھا۔ اس کے فرش کے نیچے سے پانی گزارا گیا تھا اور فرش شیشے کا بھی اب فرش یوں نظر آ رہا تھا کہ گویا پانی کی لہر ہے۔ جب ملکہ کو کہا گیا کہ آپ اس محل میں داخل ہوں تو اس نے سمجھا کہ اسے پانی سے چل کر گزرنا ہے۔ اس پر اس نے شلوار کے پائنچے اٹھا دیئے۔ اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بتایا۔
قال انہ صرح ممرد من قواریر (82 : 33) ” انہوں نے کہا کہ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ “ یہاں ملکہ حیران رہ گئی کہ حضرت سلیمان کے پاس تو حیران کن عجائبات ہیں اور یقینا یہ…
Read the full tafseer →5 یعنی پانی میں گھسنے کے لیے پائنچے چڑھا لیے جیسے عام قاعدہ ہے کہ پانی کی گہرائی پوری طرح پر معلوم نہ ہو تو گھسنے والا شروع میں پائنچے چڑھا لیتا ہے۔
6 حضرت سلیمان (علیہ السلام) دیوان خانہ میں بیٹھے تھے۔ اس میں پتھروں کی جگہ شیشے کا فرش تھا۔ صاف شیشہ دور سے نظر آتا کہ پانی لہرا رہا ہے۔ اور ممکن ہے شیشہ کے نیچے واقعی پانی ہو، یعنی حوض کو شیشہ سے پاٹ دیا ہو۔ اس نے پانی میں گھسنے کے لیے پنڈلیاں کھولیں۔ سلیمان نے پکارا کہ یہ شیشے کا فرش ہے پانی نہیں۔ اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی عقل کا کمال معلوم ہوا۔ سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہ ہی صحیح ہوگا۔ اور یہ بھی پتہ لگ گیا کہ جس سازو سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”
یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔
قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”
حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز…
Read the full tafseer →42 یہ بلقیس کی عقل کا دوسرا امتحان تھا۔ حصرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے محل کا صحن کچھ انداز سے بنوایا تھا جس کے اوپر شیشہ جڑا ہوا تھا۔ لیکن جب کوئی شخص محل میں داخل ہوتا تو اس کا زاویہ نگاہ ایسا ہوتا تھا کہ اسے وہ صحن ایک گہرا پانی کا حوض معلوم ہوتا تھا۔ جس میں پانی لہریں مار رہا ہو۔ اور اس کی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے کسی دور سے دیکھنے والے کو ریت کا تودہ یا سراب ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی نظر آتا ہے۔ آپ نے بلقیس سے فرمایا کہ چلو اب محل میں چلیں۔ بلقیس نے جب صحن کا یہ نظارا دیکھا۔ تو اسے پانی کا گہرا حوض سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے اپنے پائنچے اٹھا لئے۔ تب سلیمان (علیہ السلام) نے اسے بتلایا کہ…
Read the full tafseer →51۔” اس کو دیکھا “ ، یعنی محل کے صحن کو دیکھا، عبارت میں مضاف مقدر ہے۔ یہ صحن شفاف شیشہ سے بنا ہوا تھا، دیکھنے میں پانی کی طرح جھلجھلا رہا تھا۔
52۔ (جیسا کہ عموما دامن اٹھانے اور پانچے سمیٹتے وقت ہوجاتا ہے) یہ پائنچہ اٹھانے اور دامن سمیٹنے کا ذکر تالمود اور روایات یہود میں بتصریح مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی، بغرض نکاح عورت پر نظر کرنے کی اجازت کی احادیث میں تو صراحت ہے ہی، فقہاء نے استنباط قرآن کے اس مقام سے بھی کیا ہے۔
53۔ (اور اس کا صحن تک شفاف شیشوں سے پٹا ہوا ہے۔ دامن اٹھانے کی ضرورت نہیں) قصر سلیمانی کے تجمل وتزئین کا نقشہ، جو زیفس قدیم یہودی مؤرخ کے حوالہ سے، انگریزی تفسیر میں درج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
آیت نمبر 40 تا 44
ترجمہ : سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں جس کے پاس نازل کردہ کتاب کا علم تھا وہ بولا اور وہ آصف بن برخیا تھا وہ مقام صد یقیت پر فائز تھا، وہ اللہ کے اسم اعظم سے واقف تھا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا جب کہ آپ اپنی نظر سے کسی شئ کو دیکھیں (آسف بن برخیا) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا آپ آسمان کی طرف دیکھیں چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نظر کو پھرایا تو تخت کو اپنے سامنے رکھا ہوا پایا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →قیل لھا ادخلی الصرح . اس سے کہا گیا : صحن میں داخل ہوجاؤ۔
فلما راتہ حسبتہ لجۃ . (وہ دروازہ کے اندر آگئی اور آ کر) جب صحن کو دیکھا تو اس کو پانی کا کنڈ (یا
تالاب یا حوض) سمجھی۔
وکشفت عن ساتیھا . اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا تاکہ میں داخل ہوجاؤں۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن
المنذر ‘ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے نقل کردہ ایک طویل بیان میں کہا ہے کہ بلقیس کے آنے سے پہلے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ایک قصر بنوایا جس کا صحن سفید آبگینہ کا رکھا اور اس کے نیچے پانی چھوڑ دیا ‘ پانی کے نیچے آبی جانور بھی چھوڑ دئیے اور اپنے تخت کو اس صحن کے شہ نشین پر بچھوایا اور تخت پر تشریف فرما…
Read the full tafseer →(44) اس کے بعد بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو تو جب بلقیس نے اس کا صحن دیکھا تو پانی سے بھرا ہوا سمجھا اور اندر داخل ہونے کے لیے دامن اٹھائے۔
اس وقت حضرت سلیمان ؑ نے ان سے فرمایا یہ تو ایک محل ہے جو شیشوں سے بنایا گیا ہے اور یہ حوض بھی شیشہ سے پٹا ہوا ہے لہذا گھبرانے اور دامن اٹھانے کی ضرورت نہیں اندر چلی آؤ اس وقت بلقیس کے دل میں حضرت سلیمان ؑ کی دینی و دنیوی عظمت کمال کو پہنچ گئی اور کہہ اٹھیں کہ اے میرے پروردگار میں نے سورج کی پوجا کر کے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور اب میں حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھ پر رب العالمین پر ایمان لے آئی۔
Read the full tafseer →قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ۔۔ :”قَوَارِیْرَ“ ”قَارُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، شیشے۔ ”لُجَّةً“ بہت زیادہ اور گہرا پانی۔ ”مُّمَرَّدٌ“ ”ملائم، چکنا بنایا ہوا۔“ ”صَرْحٌ“ کا معنی محل بھی ہے اور صحن بھی۔ یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز سلیمان ؑ کا خط اور اس کا عجیب و غریب طریقے سے پہنچنا تھا، جس میں اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری چیز سلیمان ؑ کا اس کے بیش قیمت ہدیوں کو واپس کردینا اور لشکر کشی کی دھمکی تھی۔ تیسری چیز تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے سے اس کے تخت کا اس کے آنے سے پہلے پہنچ جانا تھا۔ ابتدائی ملاقات اور گفتگو کے بعد اسے سلیمان ؑ کے محل میں…
Read the full tafseer →قیللھا ادخلی الصرح سیبویہ کے نزدیک اس کی تقدیر کلام میں ہے ادخلی الی الصرح، الی حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو براہ راست مفعول بہ میں عامل بنایا گیا۔ ابو العباس اس نقطہ نظر میں اس کو غلط قرار دیتا ہے کہا : کیونکہ دخل مدخول پر دلالت کرتا ہے اس محل کا صحن شیشے کا تھا جس کے نیچے پانی تھا جس میں کشتیاں تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہکام اس لئے کیا تاکہ ملکہ بلقیس کو یہ دکھائے کہ آپ کا ملک اس کے ملک سے بڑھ کر ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ شیشے کا تھا اس کے پیچھے پانی تھا حسبتہ لجۃ لجۃ کا معنی پانی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرح کا معنی محل ہے۔ ابو عبیدہ سے مرویہ ہے جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
ارکان سلطنت سے مشورہ
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قِيْلَ [ کہا گیا ] لَهَا [ اس سے ] ادْخُلِي [ تو داخل ہو ] الصَّرْحَ ۚ [ محل میں ] فَلَمَّا [ تو جب ] رَاَتْهُ [ اس نے دیکھا اس (کے صحن) کو ] حَسِبَتْهُ [ تو اس نے گمان کیا اس کو ] لُجَّةً [ پانی کا ایک ذخیرہ ] وَّكَشَفَتْ [ اور اس نے کھولا ] عَنْ سَاقَيْهَا ۭ[ اپنی دونوں پنڈلیوں کو ] قَالَ [ (سلیمان (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنَّهٗ [ بیشک یہ ] صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ [ چکنا کیا ہوا محل ہے ] مِّنْ قَوَارِيْرَ ڛ[ شیشوں سے ] قَالَتْ [ اس نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْ [ بیشک میں نے ] ظَلَمْتُ [ ظلم کیا ] نَفْسِيْ [ اپنے آپ پر ] وَاَسْلَمْتُ [ اور میں نے فرمانبرداری قبول کی ] مَعَ سُلَيْمٰنَ […
Read the full tafseer →(قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ ) (اس سے کہا گیا تو محل میں داخل ہوجا) (فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً ) (سو جب اس محل کو دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ گہرا پانی ہے) (وَّکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا) (اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں تاکہ صحن میں پانی سے گزرتے ہوئے کپڑے تر نہ ہوجائیں) ۔
(قَالَ اِِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَاریْرَ ) (سلیمان نے کہا کہ یہ تو محل ہے جسے شیشوں سے جو ڑکر بنایا گیا ہے)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اعجاز نبوت کے ساتھ ملکہ سبا کو ظاہری سلطنت اور شوکت بھی دکھا دی جائے۔ تاکہ وہ عورت دنیا کے اعتبار سے بھی اپنی بادشاہت اور سلطنت کو حضرت سلیمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →38:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے سامنے اپنی عظمت شان اور برتری ظاہر کرنے کے لیے ایک محل بنوایا جس کا فرش شیشے کی موٹی چادر سے بنوایا گیا اس کے نیچے پانی کا حوض تھا جس میں مچھلیاں اور دیگر پانی کے جانور چھوڑ دئیے۔ اسی محل میں تخت بچھوایا اور بلقیس کو اس میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ بلقیس جب اس میں داخل ہونے لگی تو اس نے سمجھا کہ اس میں پانی ہے اس لیے پنڈلیوں سے کپڑا سمیٹ لیا۔ قال انہ صرح الخ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا یہ پانی نہیں بلکہ صاف و شفاف فرش ہے اور شیشے سے تیار کیا گیا ہے۔ قالت رب انی ظلمت نفسی الخ، بلقیس نے جب یہ دیکھا تو فورًا بول اٹھی میرے پروردگار ! میں شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات
گزشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے شرف اور آپ کی غیر معمولی قوت کا ذکر تھا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی تھی ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے پاس ملکہ سبا کا تخت کون لائے گا ۔ ایک سر کش جن نے کہا کہ میں آپ کی مجلس برخاست ہونے سے قبل تخت کو لاسکتا ہوں ۔ مگر سلیمان (علیہ السلام) اس سے بھی جلدی کے خواہش مند تھے۔ چناچہ ایک عالم کتاب شخص نے کہا کہ میں وہ تخت آنکھ جھپکنے سے پہلے لاسکتا ہوں ، چناچہ ایسا ہی ہوا ملکہ کا تخت ملک سبا سے فوراً یروشلم پہنچ گیا ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے وہ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ہم اس کا شکر…
Read the full tafseer →قِيْلَ لَہَا ادْخُلِي الصَّرْحَ 0ۚ فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّـۃً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْہَا 0ۭ قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْرَ 0ۥۭ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 44ۧ
صرح
الصَّرْحُ : بيت عال مزوّق سمّي بذلک اعتبارا بکونه صَرْحاً عن الشّوب أي : خالصا . قال اللہ تعالی: صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، يلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ [ النمل/ 44] ، ولبن صَرِيحٌ بيّن الصَّرَاحَةِ ، والصَّرُوحَةِ ، وصَرِيحُ الحقّ : خلص عن محضه، وصَرَّحَ فلان بما في نفسه، وقیل : عاد تعریضک تَصْرِيحًا، وجاء…
Read the full tafseer →رب انی ظلمت نفسی الخ کہ اے رب ! اس وقت تک میں بڑی خطا وار تھی اب سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لائی۔ سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ سے یہ مراد کہ سلیمان کی ہدایت اور رہنمائی سے یا یہ کہ جس طرح سلیمان ( علیہ السلام) لائے ہیں، اس طرح میں بھی ‘ کیونکہ رب العالمین کے پہچاننے میں پہلے سے قاصر تھی۔
قصہ تمام ہوا، اب قرآن میں اس بات کا کچھ ذکر نہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ اس نے شادی کی اور وہیں رہ گئی یا پھر یمن میں چلی گئی۔ نہ یہ کہ اس وقت تک اس کی شادی ہوچکی تھی کہ نہیں اور پھر شادی یمن میں کس کے ساتھ ہوئی ؟ ان باتوں کا ثبوت تواریخ سے ہوگا، ہم کو ان سے کچھ سروکار…
Read the full tafseer →قِیْلَ لَھَا ادْخُلِی الصَّرْحَ ج فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْھَا ط قَالَ اِنَّـہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌمِّنْ قَوَارِیْرَ ط 5 قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (النمل : 44)
(ملکہ سبا سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ، پس جب اس نے اسے دیکھا تو اس کو گہرا پانی گمان کیا اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں، حضرت سلیمان نے کہا یہ تو شیشوں سے بنا ہوا محل ہے، ملکہ پکار اٹھی، اے میرے رب ! میں اپنی جان پر ظلم کرتی رہی ہوں، اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے حوالہ کیا۔ )
محل میں ملکہ کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ملکہ بلقیس کو حقیقت کا مزید ادراک کرانے کے لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ایک اور حکیمانہ کوشش۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس کے تحائف مسترد کیے اور اسے ان الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر تم نے تابعداری اختیار نہ کی تو ہم تمہیں رسوا کر ڈالیں گے لیکن جونہی ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انھوں نے اسے مسلمان کرنے کے لیے جبر کی بجائے حکمت کا انداز اختیار فرمایا۔ پہلے اس کے تخت میں تبدیلیاں کروائیں، پھر ملکہ سے اس تخت کے بارے میں استفسار فرمایا۔ ملکہ نے بغیر کسی دقّت کے اپنا تخت پہچان…
Read the full tafseer →44۔ قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ (اس کو کہا گیا تو محل میں داخل ہو) ۔ الصرح۔ محل نمبر 2۔ گھر کا صحن۔ فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً (جب اس کو دیکھا تو اس کو موجیں مارنے والا پانی گمان کیا) ۔ لُجۃ۔ (بڑا پانی) ۔ وَّکَشَفَتْ عَنْ سَا قَیْہَا (اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا) ۔ قراءت : مکی نے سأقیہا ہمزہ سے پڑھا ہے۔
روایت تفسیریہ میں ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی آمد سے قبل حکم دیا کہ اس کے راستے پر سفید شیشے کا محل بنایا جائے اور اس کے نیچے پانی جاری کردیا اور اس پانی میں مچھلیاں چھوڑ دیں اور اس کے درمیان میں اپنا تخت بچھا کر بیٹھ گئے اور پرندے اور جنات و انس آپ کے ساتھ رک…
Read the full tafseer →44۔ قیل لھا ادخلی الصرح، حضرت سلیمان نے سوچا کہ اس کی پنڈلیوں اور قدموں کا ان پر انکشاف آجائے کیونکہ شیطان نے اس کو اس پر اطلاعی کہ اس کے پاؤں گدھے کے پاؤں کی طرح ہیں اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں شیطان کو حکم دیا کہ وہ ایک قصر بنائے۔
بعض نے کہا اس کو ایک گھر بنانے کا حکم دیا۔ بعض نے کہا جس کا صحن سفید آبگینہ کا رکھا اور اس کے نیچے پانی چھوڑ دیا، پانی کے نیچے آبی جانور بھی چھوڑ دیے اور اپنے تخت کو صحن کے جانب بچھوایا اور تخت پر تشریف فرماہوگئے۔ جب بلقیس آئی اور اس نے صحن کو دیکھا تورکا ہواپانی خیال کیا اور پنڈلیوں سے کپڑاہٹادیا تاکہ پانی میں گھس کر سلیمان کے پاس پہنچے سلیمان نے اس کی پنڈلیوں دیکھی…
Read the full tafseer →44۔ جب ابلیس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں اپنے آنے کا یہ پیغام کہلا بھیجا تو بلقیس کے آنے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی قدرت اور اپنا معجزہ دکھلانے کو دو کام کئے ایک تو بلقیس کا تخت جس کو وہ سات قفلوں میں بند کر کے اور کنجیاں اپنے ساتھ لے کر آئی تھی منگوالیا اور اس کے جواہرات کو جگہ بدل کر جڑوا دیا دوسرے پانی کے اوپر یہ شیشہ کا محل بنوایا اور اس محل کے بیچوں بیچ میں اپنا تخت بچھوایا بعض تفسیروں میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی دعا سے یہ تخت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا تھا اصل میں یہ قول عبداللہ ؓ بن لہیعہ قاضی مصر کا ہے اور اس عبد اللہ کو ابن معین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →45 حضرت سلیمن کے شیش محل کے اندر ملکہ سبا کی حیرانی : سو اس نے محل کے صحن کو پانی کا حوض سمجھ کر اپنے پائینچے اٹھا لیے۔ تاکہ اس کے پائینچے پانی میں بھیگ نہ جائیں۔ تو اسے بتایا گیا کہ یہ پانی نہیں بلکہ چمکتے شیشے کا ایک محل ہے۔ روایات میں ہے کہ جب حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس کا محل دیکھا تو جنوں کو حکم دے کر فوری طور پر شیشے کا ایک عظیم الشان محل بنوا دیا۔ اور اس کے صحن میں جس سے گزر کر محل کے اندر حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کے پاس جانا پڑتا تھا ایک عظیم الشان اور سفید قسم کا شیشہ لگوا دیا جو نظر نہیں آتا تھا اور اس کے نیچے پانی کا انتظام کردیا جس میں مچھلیاں بھی چھوڑ دی گئی تھیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف :
مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔
امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…
Read the full tafseer →5 ۔ جیسے پانی کی گہرائی معلوم نہ ہو تو اس میں گھسنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ 6 ۔ حضرت سلیمان نے اس سے یہ بات اس لئے فرمائی کہ اسے پتہ چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا یہاں اس سے بڑھ کر سامان موجود ہے۔ اور ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انہیں خدا سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی (یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی عقل کا کمال معلوم ہوا) سمجھی کہ ان میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں سو ہی صحیح ہے۔ “ (موضح) اسی چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو…
Read the full tafseer →(27:44) ادخلی۔ امر واحد مؤنث حاضر، تو (عورت) داخل ہو۔ دخول مصدر۔ (باب نصر)
الصرح۔ محل ۔ قصر۔ ہر وہ عمارت عالیشان کہ جس میں نقش و نگار ہوں صرح کہلاتی ہے۔ یہاں بمعنی صحن الدرا ہے۔ محل کے صحن میں داخل ہو۔
رأتہ۔ رأت صحن الدار۔
حسبتہ۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب (صحب کے لئے ہے) اس نے اس کو گمان کیا۔ اس نے اسے خیال کیا۔ حسبان (حسب و سمع) گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ حسب یحسب (نصر) حسب و حساب وحسبان وحسبان گننا۔ شمار کرنا۔ وحسب یحسب (کرم) حسب وحسابۃ شریف الاصل ہونا ۔
لجۃ۔ اسم مفرد۔ دریا میں بڑا پانی۔ دریا کا وسطی حصہ جہاں پانی بہت ہوتا ہے یہاں آیت میں پانی کا حوض مراد ہے۔ لج و لجاج ولجاجۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 :
ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔
تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 :
جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…
Read the full tafseer →(ف 1) حضرت سلیمان نے فرمایا، یہ حوض پانی کاشیشوں سے پٹا ہوا ہے کپڑا اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں اس کی بےعقلی ثابت ہوجانے سے اس کو سخت ندامت ہوئی اور سمجھ گئی کہ مجھ کو خاک بھی عقل نہیں حضرت سلیمان کے روبروصاف کہہ دیا کہ اے میرے پروردگار بیشک میں نے اس نفس پر ظلم کیا تھا اور میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکررب العالمین پر ایمان لائی اور مسلمان ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[14] یعنی اب تک اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ تھی کہ غیر اللہ کی عبادت کی عادت نے اسے روک رکھا تھا اور عادت اس لئے پڑی تھی کہ آنکھ کھول کر اس نے اردگرد کفر ہی کفر دیکھا تھا۔
Read the full tafseer →حل لغات : ۔ لجۃ ۔ میلان دریا میں عمیق ترین جگہ ، قواریر قارورۃ کی جمع بمعنی شیشہ الصرح ۔ محل ۔
Read the full tafseer →(44) بلقیس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے محل کے صحن کو دیکھا تو اس کو لہریں پڑتا ہوا گہرا پانی سمجھا اور اس نے پانی کو عبور کرنے کے لئے اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک محل ہے جس کے فرش میں شیشے لگے ہوئے اور جڑے ہوئے ہیں اس پر بلقیس کہنے لگی اے میرے پروردگار میں اپنی جان پر ظلم کرتی رہی اور میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکر اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لائی جو تمام جہانوں کا پالن ہار اور پرورش کرنے والا ہے یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کے ٹھہرنے کو ایک محل بنوایا جس میں شیشے لگائے گئے یہاں تک کہ صح ن میں بھی شیشے جڑوائے اور صحن میں جو بڑا حوض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 1۔ اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) نے یہ چاہا کہ علاوہ اعجاز و شان نبوت دکھلانے کے اس کو ظاہری شان سلطنت بھی دکھا دی جاوے تاکہ اپنے کو دنیا کے اعتبار سے بھی عظیم نہ سمجھے، اس لئے ایک شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں حوض بنوایا اور اس میں پانی اور مچھلیاں بھر کر اس کو شیشہ سے پاٹ دیا، اور شیشہ ایسا صاف تھا کہ بادی النظر میں نظر نہ آتا تھا، اور وہ حوض ایسے موقع پر تھا کہ اس محل میں جانے والے کو لامحالہ اس پر سے عبور کرنا پڑے۔
Read the full tafseer →ملکہ سبا کو اس عارضی جگہ سے رہائش گاہ کی طرف منتقل کرنے کا ذکر :
44۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کو عارضی طور پر اس تخت پر ٹھہرایا تھا جو اس کی خاطر بنوایا گیا اور ازیں بعد اسکو وہاں سے مستقل رہائش گاہ کی طرف منتقل کرنے کا حکم دیا ، ظاہر ہے کہ اگر تحت کے لئے وہ کچھ کیا گیا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا تو مستقل رہائش گاہ کے لئے کہاں کوئی کمی رہنے دی گئی ہوگی بلاشبہ اس کو ایک اعلی قسم کی آرام گاہ بنایا گیا تھا جس کی چمک دمک گویا آبگینہ کی چمک دمک تھی قصر اپنی رفعت شان اور عجیب و غریب صنعت کاری کے لحاظ سے بےنظیر تھا اور اس میں داخل ہونے کے لئے سامنے سے جو صحن پڑتا تھا اس کو بھی صاف شفاف…
Read the full tafseer →Commentary
Did Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) marry Bilqis?
The story of Bilqis has ended in the above verses on the statement that she converted to Islam after coming to Sayyidna Sulaiman ۔ (علیہ السلام) What happened after that? The Qur'an is silent on this. It is for this reason that when someone asked ` Abdullah ibn ` Uyaynah whether Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had married Bilqis, he answered that her case has finished on this أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (I submit, along with Sulaiman (علیہ السلام) ، to Allah, the Lord of the worlds - 44). The idea…
Read the full tafseer →55 This was the last thing that opened the queen's eyes. The tirst thing was Solomon's letter that had been begun with the name of the AII-Compassionate, the AII-Merciful AIlah, a way different front the common custom prevalent among the kings. The second was his rejection of her gifts, which made the queen understand that he was a different kind of king. The third was the report made by the queen's envoys froth which she came to know about Solomon's pious life, his wisdom and his message of the Truth. This very dung had induced her to travel to Jerusalem herself to personally meet the…
Read the full tafseer →