Explained with ayahs 45–47
صالح ؑ کی ضدی قوم
حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں…
Read the full tafseer →سورة النمل 57
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 73 تا 79۔ ہود 61 تا 68۔ الشعراء 141 تا 159۔ القمر 23 تا 32۔ الشمس، آیات 11 تا 15
سورة النمل 58
یعنی جونہی کہ حضرت صالح کی دعوت کا آغاز ہوا، ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ ایمان لانے والوں کا، دوسرا گروہ انکار کرنے والوں کا، اور اس تفرقہ کے ساتھ ہی ان کے درمیان کش مکش شروع ہوگئی، جیسا کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (قوم) ثمود کے پاس ان کے (برادری کے) بھائی صالح کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا (یہ پیغام دے کر) کہ تم (شرک کو چھوڑ کر) اللہ کی عبادت کرو (چاہئے تو یہ تھا کہ سب ایمان لے آتے مگر خلاف توقع) اچانک ان میں دو فریق ہوگئے جو دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے (یعنی ایک فرقہ تو ایمان لایا اور ایک نہ لایا اور ان میں جو جھگڑا اور کلام ہوا بعض اس میں کا سورة اعراف میں مذکورہ ہے قال الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا، اور بعض اس میں کا آگے مذکور ہے قالوا اطَّيَّرْنَا بِكَ الخ اور جب ان لوگوں نے کفر پر اصرار کیا تو صالح ؑ نے موافق عادت انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →آگے مضمون … آیات 58-45
اوپر فرعون کے تمرد، حضرت سلیمان کی شکر گزاری اور ملکہ سبا کی سلامت روی کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں اور یہ دکھایا گیا ہے کہ علود استکبار کا انجام کیا ہوتا ہے اور شکر گزاری و فروتنی کا صلہ کیا ملتا ہے۔ اب خاص عرب کی اقوام بائدہ میں سے دو قوموں … قوم ثمود و قوم لوط … کے افساد اور ان کے اجام کا حالہ دیا تاکہ قریش یہ نہ سمجھیں کہ یہ دور کے ملکوں … مصر، فلسطین اور یمن … کے واقعات ہیں۔ بلکہ خود اپنے ملک کے اندر کی ان قوموں کے انجام سے سبق لیں جن کے علود استکبار کے نتائج کی داستان سنانے کے لئے ان کے عالی شان تعمیرات کے کھنڈر آج بھی ان کے سامنے موجود ہیں۔ آیات کی تلاوت…
Read the full tafseer →45-1ان سے مراد کافر اور مومن ہیں، جھگڑنے کا مطلب ہر فریق کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ حق پر ہے۔
Read the full tafseer →21: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف : 72 اور سورة ہود : 61 تا 68 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 371 تشریح آیات
54……تا……35
قرآن کریم میں حضرت صالح اور قوم ثمود کا قصہ بالعموم حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص کے ساتھ آتا ہے۔ ان قصص کے ساتھ حضرت ابراہیم کا قصہ کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ اس سورة میں بھی بنی اسرائیل کے قصص آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان کے قصے گزر گئے ہیں۔
ہیاں بھی حضرت ہود اور حضرت شعیب کا قصہ مختصراً آیا ہے جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ نہیں آیا۔
حضرت صالح کے قصے میں ناقہ والی کڑی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے 9 مفسدین کا ذکر ہے جو حضرت صالح کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ حضرت صالح کو ان کی مکاریوں کا علم نہ…
Read the full tafseer →8 یعنی ایک ایمان والے اور ایک منکر، جیسے مکہ کے لوگ پیغمبر کے آنے سے جھگڑنے لگے۔ قوم " ثمود " کے جھگڑنے کی قدرے تفصیل سورة " اعراف " کی ان آیات میں گزر چکی۔ (قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ ) 7 ۔ الاعراف :75)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”
یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔
قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”
حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز…
Read the full tafseer →45 اور یہ معاملہ صرف صالح (علیہ السلام) سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر نبی کی دعوت پر یہی کچھ ہوتا ہے کہ کچھ انصاف پسند، معاشرتی ناہمواریوں سے بیزار اور مظلوم قسم کے انسان نبی کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اور چودھری قسم کے کھاتے پیتے اور اثرو رسوخ رکھنے والے لوگ نبی کے دشمن بن جاتے ہین۔ پھر وہ ان کی آپس میں ٹھن جاتی ہے اور حق و باطل کے معرکہ کا آغاز ہوجاتا ہے یہی صورت حال قوم ثمود میں بھی رونما ہوگئی تھی۔
Read the full tafseer →55۔ (شرک وکفر چھوڑ کر) قوم ثمود وحضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔
56۔ (دین کے باب میں) یعنی بجائے اس کے کہ سب کے سب دعوت توحید پر متفق ہوجاتے، صرف ایک فریق ایمان لایا۔ باقی لوگ ان سے جھگڑنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
آیت نمبر 45 تا 59
ترجمہ : اور یقیناً ہم نے ثمود کے پاس ان کی برادری کے بھائی صالح کو بھیجا یہ کہ تم سب اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اچانک (خلاف توقع) ان میں دو فریق ہوگئے دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے ایک فریق مومنوں کا تھا، ان کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجنے کے وقت سے اور دوسرا فریق کافروں کا تھا، آپ نے جھٹلانے والوں سے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کرتے ہو ؟ یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی (جلدی کیوں کرتے ہو ؟ ) اس اعتبار سے کہ تم نے کہا جو تم ہمارے پاس لائے ہو اگر وہ حق ہے تو ہمارے اوپر عذاب لے آؤ، تم کس لئے اللہ سے شرک سے معافی نہیں…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحا ان اعبدوا اللّٰہ . کوئی شک نہیں کہ ہم نے ثمود کے
پاس ان کے بھائی صالح کو (یہ حکم دے کر) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو۔
فاذاھم فریقین یختصمون . سو اچانک ان کے دو فریق ہوگئے جو (دین کے معاملہ میں) باہم
جھگڑنے لگے۔ یعنی ایک فریق کافروں کا دوسرا فریق مؤمنوں کا ہوگیا۔ سورة اعراف میں انہی دو فریقوں کے متعلق فرمایا ہے۔ قَالَ الَّذِیْن اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتَضْعِفُوْا سے اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ تک۔
Read the full tafseer →(45) اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے نبی حضرت صالح ؑ کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تم کفر وشرک سے توبہ کرو اور توحید خداوندی کا اقرار کرلو تو ان میں مومن و کافر کے دو گروہ ہوگئے جو دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ۔۔ : اس کا عطف ”وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا“ پر ہے اور یہ موسیٰ اور داؤد و سلیمان کے قصوں کے بعد تیسرا قصہ ہے۔ اس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے سورة اعراف (73 تا 79) ، ہود (61 تا 68) ، شعراء (141 تا 159) ، قمر (23 تا 32) اور شمس (11 تا 15) ملکہ سبا اور اس کی قوم عزت و سلطنت کے باوجود سلیمان ؑ کی دعوت پر اسلام لے آئی۔ اب صالح ؑ کی قوم کا ذکر ہوتا ہے جو صالح ؑ کی بعثت پر دو گرہوں میں بٹ گئی۔ ایک مومن و مسلم جو عموماً ”مستضعفین“ (کمزور) تھے، دوسرا کافر و منکر جو ”مستکبرین“ (متکبر لوگ) تھے۔ دو گروہ بنتے ہی ان کے درمیان سخت جھگڑا شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صلحاً ان اعبدوا للہ اس کا معنی گزر چکا ہے فاذا ھم فریقین یختصمون مجاہد نے کہا : یعنی مومن اور کافر۔ کیا خصوصیت وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا اتعلمون ان صلحاً مرسل من ریۃ قالوا انا بمآء ارسل بہ مئومنون۔ قال الذین استکبروآ ان بالذی امنتم بہ کفرون۔ (الاعراف) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا جھگڑا یہ تھا کہ ہر فرقہ نے کہا : ہم حق پر ہیں تم حق پر نہیں۔
قالیقوم لم تستعجلون بالسیئۃ قبل الحسنۃ مجاہد نے کہا : سیئۃ سے مراد عذاب اور حسنۃ سے مراد رحمت ہے۔ معنی ہے تم اس ایمان میں کیوں تاخیر کرتے ہو جو تمہاری طرف ثواب کھینچ کر لاتا ہی اور کفر کو پہلے لاتے ہو جو عذاب کو لازم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فاذا ہم فریقن یختصمون “ میں فریقان سے مراد مومن اور کافر ہے مومن کہتے کہ صالح (علیہ السلام) بھیجے ہوئے ہیں اپنے رب کی طرف سے اور کافر کہتے کہ وہ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ” لم تستعجلون بالسیءۃ “ (یعنی تم کیوں جلدی کرتے ہوئے) عذاب کی آیت ” قبل الحسنہ “ یعنی رحمہ سے پہلے آیت ” قالو الطیرنا بک “ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے بدفالی کی آیت ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رہط “ یعنی شہر میں صالح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد تھے آیت ” تقاسموا باللہ “ انہوں نے باہم یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس کو ہلاک کردیں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] اِلٰى ثَمُوْدَ [ ثمود کی طرف ] اَخَاهُمْ [ ان کے بھائی ] صٰلِحًا [ صالح (علیہ السلام) کو ] اَنِ [ کہ ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] فَاِذَا [ تو جب ہی ] هُمْ [ وہ لوگ ] فَرِيْقٰنِ [ دو فرقے تھے ] يَخْتَصِمُوْنَ [ جھگڑے ہوئے ]
نوٹ۔ 1: ثمود یوں کے شہر میں ان کے نوسردار تھے۔ انہی کے مشورے سے اونٹنی کو مار ڈالا گیا تھا۔ جب انھوں نے اونٹنی کو قتل کیا اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ کے قتل پر آمادہ ہوگئے اور شبخوں مارنے کی سازش کی لیکن اس عمل کرنے سے پہلے عذاب آگیا اور سارے ہلاک ہوگئے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کا مبعوث ہونا، قوم کی بدسلوکی کرنا پھر ہلاک ہونا
ان آیات میں قوم ثمود کی کٹ حجتی اور بربادی کا ذکر ہے ان کی طرف صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے یہ لوگ بھی مشرک تھے، حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو ہر طرح سمجھایا لیکن ان میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے جو دنیاوی اعتبار سے ضعیف سمجھے جاتے تھے۔ جو لوگ اہل دنیا تھے وہ کفر پر اڑے رہے اسی کو فرمایا (فَاِِذَا ھُمْ فَرِیْقَانِ یَخْتَصِمُوْنَ ) (کہ وہ دو جماعتیں ہوگئیں جو آپس میں جھگڑتے تھے) اس کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے، جو لوگ دنیاوی اعتبار سے بڑے تھے انہوں نے اہل ایمان سے کہا جو ضعیف تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قصہء چہارم حضرت صالح (علیہ السلام) با قوم او
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاہم صلحا۔۔۔ الی۔۔۔ وانجینا الذین امنوا وکانوا یتقون۔
(ربط) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ملکہء بلقیس باوجود ایک عورت تھی مگر اس کو ایک چھوٹے جانور یعنی ہد ہد سے ہدایت ہوگئی اور قوم ثمود کو باجود مرد ہونے کے ناقہ جیسے بڑے حیوان سے ہدایت نہ ہوئی کہ چند مفسدوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شبخون مارا اور سب کے سب ہلاک ہوگئے اس قصہ کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے اب آئندہ آیات میں لوگوں کی عبرت اور نصیحت کے لئے صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →39:۔ یہ تیسرا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اعبدو اللہ حاجات میں غائبانہ صرف اللہ کو پکارو اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں۔ اعبدوا اللہ ای وحدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا (خازن ج 5 ص 126) ، قوم نے نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے ماننے والوں کو بچا لیا اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کردیا۔ مومنوں کو بچانا اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کردیا۔ مومنوں کو بچانا اور منکروں کو ہلاک کرنا اللہ کے اختیار میں تھا حضرت صالح (علیہ السلام) کو اس کا اختیار نہ تھا اس طرح اس واقعہ میں ہدایت بھی ہے اور بشارت بھی۔
40:۔ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ،…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللہَ فَاِذَا ہُمْ فَرِيْقٰنِ يَخْتَصِمُوْنَ 45
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ھُمْ فَرِیْـقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ (النمل : 45)
(اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو وہ دو فریق بن کر آپس میں جھگڑنے لگے۔ )
انسان کے بنائو اور بگاڑ کے دو سبب
انسان کے بنائو اور بگاڑ کی دو بنیادیں ہیں۔ شکرگزاری و فروتنی اور تمردو استکبار۔ گزشتہ آیات میں شکرگزاری و فروتنی کے مصداق کے طور پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سرگزشت سنائی گئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت و ریاست، دولت و رفاہیت اور جاہ و جلال جنھیں بگاڑ کے اسباب سمجھا جاتا ہے یہ بھی انسان کا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر۔
جونہی حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا تو ان کی قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ توحید خالص کا انکار کرنے والے لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں سے جھگڑنے لگے۔
جوں ہی صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ایک گروہ ایمان لانے والوں کا اور دوسرا گروہ انکار کرنے والوں کا تھا۔ دونوں گروہوں کے درمیان زبردست کش مکش شروع ہوگئی جس طرح قرآن مجید نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے :
(قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →قوم ثمود کا ذکر :
45 : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا (تحقیق ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا) ۔ اخاہم۔ نسبی بھائی۔
نحو : صالحًا یہ اخاہم سے بدل ہے۔ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) ۔
قراءت : اَنِ کی نون کو وصل میں کسرہ سے عاصم ٗ حمزہ ٗ بصری قراء نے پڑھا اور دیگر قراء نے نون کو ضمہ سے باء کی اتباع میں پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے تم اللہ کو وحدہ لاشریک مانو۔ فَاِذَا یہ مفاجات کیلئے ہے۔ ہُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ (اچانک دو فریق جھگڑنے لگے) ۔ ہم مبتدأ فریقان خبر ہے۔ یختصمون یہ صفت ہے اور یہی اذا میں عامل ہے۔ مطلب یہ ہے۔ کہ اچانک قوم صالح کے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
45۔ ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحا، ان عبداللہ، ، اکیلے اسی کی عبادت کرو، فاذاھم فریقان، اس سے مراد کافر ومومن ہیں۔ یختصمون، دین میں وہ جھگڑا کرتے ہیں مقاتل کا بیان ہے کہ انکے جھگڑے سے مراد وہ ہے جو سو رہ اعراف میں گزرچکا ہے۔ قال الملاء الذین استکبروا، ،، ، تا، ، ان کنت من المرسلین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
آیت 45 سے 53
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں۔ (فاذاھم فریقین یختصمون) ” پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔ “ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔ (قال یقوم لم تستعجلون بالسئیۃ قبل الحسنہۃ) ” انہوں (صالح (علیہ السلام) نے کہا، اے میری قوم ! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو ؟ اور نیکی سے بڑھ…
Read the full tafseer →47 پیغمبر اپنی قوم کے بھائی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا پیغمبر بناکر "۔ پہلے داؤد و سلیمنٰ کا ذکر تھا جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ اب یہ حضرت صالح کا ذکر فرمایا جاتا ہے جن کا تعلق عربوں سے تھا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ انبیائے کرام خواہ عرب ہوں یا غیر عرب ان سب کی دعوت بہرحال ایک ہی رہی ہے۔ اور وہ ہے اللہ پاک کی وحدانیت کو اپنانا اور کفر و شرک سے بچنا کہ ان سب حضرات نے ہمیشہ یہی پیغام دیا۔ اور بھائی سے مراد ہے قومی اور نسبی بھائی۔ اور انبیائے کرام کی شان ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ اپنی قوموں کے قومی اور نسلی ونسبی اعتبار سے بھائی ہی رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ
تشریح : قوم ثمود اور سیدنا صالح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیلاً گزر چکا ہے سورة الاعراف ‘ ھود ‘ الشعراء۔ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو عام طور پر پہلے دو گروہ ضرور بنتے ہیں۔ ایک جو ایمان لے آتے ہیں اور دوسرا جو کفار ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت کرتا ہے۔
شہر میں 9 شخص کا ذکر آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک قبیلہ کے 9 سردار تھے جو اپنی جماعتوں کے ساتھ ہر وقت مخالفت میں تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سیدنا صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ تین دن بعد تم پر عذاب آئے گا تو ان سرداروں کے بیٹوں نے آپ کو قتل کردینے کی سکیم بنائی جو اللہ کی حکمت سے ناکام ہوگئی۔ اور پھر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–59
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 45 تا 59 ۔ اسرار و معارف :
ورنہ قوم ثمود میں دیکھیے جب ان ہی کا قومی بھائی صالح (علیہ السلام) ہم نے مبعوث فرمایا اور یہی دعوت کہ اللہ ہی کی عبادت کرو انہیں پہنچی تو وہ دو حصوں میں بٹ گئے کچھ لوگ ایمان لانے کے حق میں تھے اور کچھ نہ لانے پر مصر تھے جو ایمان نہ لا رہے تھے بلکہ یہ کہنے لگے کہ جو بھی عذاب آتا ہے آئے ہم ایمان نہ لائیں گے اور آگے بیان ہے کہ اس طرف بڑے بڑے سردار تھے تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا یہ کیا دانشمندی ہے کہ توبہ کا موقع نصیب ہے اور تم اللہ کی رحمت کو پا سکتے ہو مگر تم اس سے پہلے عذاب کا مطالبہ لیے بیٹھے ہو تو وہ کہنے لگے کہ یہ ساری بدبختی اور…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی جونہی انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز کیا ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی اور ان دو گروہوں میں سخت تصادم شروع ہوگیا۔ ایک گروہ ایمان لانے والوں کا دوسرا انکار کرنے والوں کا۔ دیکھئے سورة اعراف رکوع 10)
Read the full tafseer →(27:45) ولقد ارسلنا۔ واؤ عطف کی ہے لقد ارسلنا کا عطف۔ ولقد اتینا داؤد و سلیمان علما پر ہے۔ پارہ کے دوسرے رکوع سے آیت (15) سے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے وارث حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا تھا۔ جو رکوع 3 آیت نمبر 44 کے اختتام پر مکمل ہوا۔ اور چوتھے رکوع کا آغاز ولقد ارسلنا سے ہوا۔ اور یہاں ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کے بھیجے جانے کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ پہلے قصہ کے بعد یہ دوسرے قصہ کا واؤ عطف سے ربط کیا گیا ہے۔
لقد ارسلنا میں لام جواب قسم کے لئے واقع ہوا ہے اور قسم شان حکم کے لحاظ سے ہے اور یہاں محذوف ہے ای وباللہ لقد ارسلنا۔ صلحا اخاھم سے بدل ہے۔
ان اعبدوا اللہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 53 :
فریقن (دو جماعتیں) یختصمون ( وہ آپس میں جھگڑتے ہیں) لم تستعجلون ( تم کیوں جلدی مچاتے ہو ؟ ) اطیرنا ( ہم نے برا شگون لیا) رھط ( لوگ ۔ اشخاص) تقاسموا (تم آپس میں قسم کھائو) ۔ (نبی تن (ہم رات کو حملہ کریں گے) ماشھدنا ( ہم موجود نہ تھے) ‘ مکر (فریب۔ دھوکہ) ‘ خاویۃ (گرپڑنے والے) ‘ انجینا (ہم نے نجات دی) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 53 :
بد عمل قوموں کی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سامنے حق و صداقت اور فکر آخرت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر عمل نہ کرنے سے ان پر اللہ کے عذاب کی مختلف شکلیں سامنے آتی ہیں تو وہ اپے برے اعمال پر غور کرنے کے بجائے انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے لیے تنبیہ ہے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے کہ جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھرگئی اگر قریش نبی وقت کی مخالفت کریں گے تو ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا اور یہاں صالح (علیہ السلام) کے قصے اور ان آیتوں میں خاص کر قریش کو تنبیہ مقصود تھی اس لیے حضرت صالح کے قصے سے یہاں کلام کا سلسلہ شروع فرمایا ہے کہ ہم نے قوم ثمود کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا، یہ حکم دے کر اللہ کی عبادت کرو پھر وہ دوفریق ہوگئے۔ ایک اہل توحید کا۔ دوسراوہی گمراہوں کا۔ اور دین کے بارے میں باہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[15] قوم ثمود کے جھگڑنے کی قدرے تفصیل سورة اعراف آیت 73 صفحہ 350 میں گزر چکی ہے۔ ٹھیک یہی صورت حال نبی ﷺ کی بعثت پر مکہ میں ہوئی کہ قوم دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ اس لئے یہ قصہ ان حالات پر چسپاں ہو رہا تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کا شیش محل !
1: یہ دوسرا واقعہ ہے جس سے بلقیس کو حضرت سلیمان کی عظمت اور دانائی کا حال معلوم ہوا ۔ اور جس کی وجہ سے وہ اس درجہ متاثر ہوئی کہ فوراً اسلام کا اعلان کردیا واقعہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک عالیشان شیش محل تعمیر کرایا تھا ۔ اور اس کا صحن خصوصیت سے بلور کا بنوایا جس کے نیچے پانی رواں تھا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ سارے صحن میں پانی بہہ رہا ہے
بلقیس جب محل میں داخل ہونے لگی تو اس نے اپنے پائنچے اٹھائے جب یہ معلوم ہوا کہ پانی نہیں بلور ہے ۔ اور اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا
بات یہ تھی کہ حضرت سلیمان اصل میں یہ بتانا چاہتے تھے ۔ کہ آفتاب پرستی محض عقیدہ کا دھوکا اور فریب ہے…
Read the full tafseer →(45) اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو یہ پیام دیکر بھیجا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو یہ پیغام بنتے ہی وہ لوگ دو فریق ہوکر آپس میں جھگڑنے لگے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک ایمان والے اور ایک منکر جیسے مکہ کے لوگ پیغمبر کے آنے سے جھگڑنے لگے 12 خلاصہ یہ کہ دونوں فریق ہوگئے ایک سرداروں اور سرمایہ داروں کا دوسرا غرباء اور ضعفاء کا جیسا کہ سورة اعراف میں گزرچکا ہے اور یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی صحیح خبر پیش کی جائے تو کچھ مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے یہی جھگڑے کی صورت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 2۔ یعنی ایک فرقہ تو ایمان لے آیا اور ایک نہ لایا، اور ان میں جو جھگڑا اور کلام ہوا بعض اس میں کا سورة اعراف میں مذکور ہے اور بعض اس سے آگے مذکور ہے۔
Read the full tafseer →قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) آئے کہ اللہ کی عبادت کرو اور آپس میں مت جھگڑو :
45۔ قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) کو بھیجا گیا ۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو توحید کا درس دیا لیکن قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کی ایکنہ سنی اور انجام کار اس کے دو فریق ہوگئے اور آپس میں جھگڑنے لگے حالانکہ صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والا فریق بہت ہی تھوڑا تھا ۔ صالح (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے متعلق سورة الاعراف کی آیت 73 تا 92 ‘ سورة ہود کی آیت 61 تا 68 ‘ سورة الشعراء 141 تا 159 میں بیان کیا چکا ہے اس لئے وہاں سے دیکھ لیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
Commentary
لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ (why do you seek evil to come sooner before good? - 27:46). Sayyidna Salih (علیہ السلام) is referring here to the demand of the infidels that he should bring the divine torment to them in this world, so that they may know his truthfulness. Therefore, "evil" in this sentence stands for torment, while "good" refers to their repentance and invoking divine mercy. It, therefore means, "Why are you asking me to bring the divine punishment before you repent?"
Read the full tafseer →57 For comparison. see Al-A'raf: 73-79, Hud: 61-68, Ash-Shu'ara': 141159, AI-Qamar: 23-32, Ash-Shams: 11-15.
58 That is, as soon as the Prophet Salih embarked on his mission, his people were divined into two groups, the believers and the disbelievers, and a conflict started between them as stated elsewhere in the Qur'an: "The chiefs of his tribe, who .were full of pride, said to those who had believed from among the oppressed people, 'Do you know it for certain that Salih is a Messenger from his Lord?' They replied, `Indeed, we believe in the message with which he has been sent.' But those…
Read the full tafseer →