An-Naml 27:43

An-Naml · from ayah 43

27:43

وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ— اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ ۟وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی، سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that which she was worshipping other than Allah had averted her [from submission to Him]. Indeed, she was from a disbelieving people."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:43

اُس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی، سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وه اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی، یقیناً وه کافر لوگوں میں سے تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اب تک) اس کو (ایمان لانے سے) اس بات نے روک رکھا تھا کہ وہ اللہ کے بجائے دوسروں کی عبادت کرتی تھی، اور ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے روکا اس چیز نے جسے وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، بیشک وہ کافر لوگوں میں سے تھی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس (ملکہ) کو اس (معبودِ باطل) نے (پہلے قبولِ حق سے) روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی۔ بیشک وہ کافروں کی قوم میں سے تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسے اس چیز نے روکے رکھا جس کی عبادت وہ اللہ کے سوا کرتی تھی، بلا شبہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ملکہ کو (ایمان لانے سے) ان چیزوں نے روک رکھا تھا جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کو روک رکھا تھا ان چیزوں نے جن کو اللہ کے ماسوا وہ پوجتی رہی تھی۔ وہ ایک کافر قوم میں سے تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر اس قدر عقل مند عورت ہونے کے باوجود اس کو روک رکھا تھا راہ حق و صواب سے اس کے ان خود ساختہ معبودوں نے جن کی وہ پوجا پاٹ کرتی تھی اللہ کے سوا، کہ تھی تو وہ بہرحال ایک کافر قوم ہی میں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کو غیر اللہ کی عبادت نے روک رکھا تھا اور وہ کافر قوم کی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور سلیمان ؑ نے اسے روک دیا (اس سے) جس کو وہ پوجتی تھی اللہ کے سوا وہ ایک کافر قوم میں سے تھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ جو اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش کرتی تھی ‘ سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا اس سے پہلے تو وہ کافروں میں سے تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

What prevented her (from accepting the True Faith) was her worshipping deities other than Allah, for she belonged to an unbelieving people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And she was prevented (from submitting before this) by that which she used to worship instead of Allah. Indeed she was from a disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani

And she was prevented (from submitting before this) by that which she used to worship instead of Allah. Indeed she was from a disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Saddaha that which she used to worship besides Allah has prevented her (from Islam), for she was of a disbelieving people.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (all) that she was wont to worship instead of Allah hindered her, for she came of disbelieving folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that which she was worshipping other than Allah had averted her [from submission to Him]. Indeed, she was from a disbelieving people."

— Saheeh International

Her idols prevented her from believing in God and she was an infidel.

— Muhammad Sarwar

And what she worshipped besides Allah prevented her, surely she was of an unbelieving people.

— Muhammad Habib Shakir

And that which she was wont to worship instead of Allah hindered her; verily she was of an infidel people.

— Abdul Majid Daryabadi

And he diverted her from the worship of others besides Allah: for she was (sprung) of a people that had no faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 54 یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے، یعنی اس میں ضد اور ہٹ دھرمی نہ تھی، وہ اس وقت تک صرف اس لیے کافر تھی کہ کافر قوم میں پیدا ہوئی تھی، ہوش سنبھالنے کے بعد اس کو جس چیز کے آگے سجدہ ریز ہونے کی عادت پڑی ہوئی تھی، بس وہی اس کے راستے میں ایک رکاوٹ بن گئی تھی، حضرت سلیمان سے سابقہ پیش آنے پر جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اس رکاوٹ کے ہٹ جانے میں ذرا سی دیر بھی نہ لگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

خلاصہ تفسیر (سلیمان ؑ نے یہ سب سامان کر رکھا تھا، پھر بلقیس پہنچی) سو جب بلقیس آئی تو اس سے (تخت دکھا کر) کہا گیا (خواہ سلیمان ؑ نے خود کہا ہو یا کسی سے کہلوایا ہو) کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ ہاں ہے تو ویسا ہی (بلقیس سے اس طور پر اس لئے سوال کیا کہ ہیئت تو بدل دی گئی تھی اپنی اصل کے اعتبار سے تو وہی تخت تھا اور صورت وہ نہ تھی۔ اس لئے یوں نہیں کہا کہ کیا یہی تمہارا تخت ہے بلکہ یہ کہا کہ ایسا ہی تمہارا تخت ہے اور بلقیس اس کو پہچان گئی اور اس کے بدل دینے کو بھی سمجھ گئی اس لئے جواب بھی مطابق سوال کے دیا) اور (یہ بھی کہا کہ) ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی (آپ کی نبوت کی)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وصدھا ماکانت تعبد من دون اللہ ط انھا انت من قوم کفرین (43) حملوں کی برأت یہ قرآن نے توجیہ بیان کی ہے اس بات کی کہ حضرت سلیمان کے علم و حکمت سے اس قدر متاثر اور قلبی طور پر ان کی مطیع و منقاد ہونے کے باوجود آخر ملکہ اتنے عرصے تک ایک غلط دین پر کیوں جمی رہ گئیں ؟ فرمایا کہ اس کا سبب ان کے وہ اصنام تھے جن کو وہ پوجتی رہی تھیں اور ان کی وہ کافر قوم جس کی وہ ایک فرد تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ روایات اور قومی روابط کی زنجیریں ہر شخص آسانی سے نہیں توڑ سکتا۔ کتنے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر حق واضح ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ماحول کے بندھنوں میں ایسے بندھے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان سے رہائی حاصل کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43-1یعنی اسے اللہ کی عبادت سے جس چیز نے روک رکھا تھا وہ غیر اللہ کی عبادت تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا تعلق ایک کافر قوم سے تھا، اس لئے توحید کی حقیقت سے بیخبر رہی، یعنی اللہ نے یا اللہ کے حکم سے سلیمان ؑ نے اسے غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا ؛ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

18: بلقیس نے چونکہ سمجھ کی بات کی تھی کہ ہمیں پہلے ہی آپ کی سچائی کا علم ہوچکا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی تعریف فرمائی کہ وہ ایک سمجھ دار عورت تھی، اور اب تک وہ جو ایمان نہیں لائی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ساری قوم کافر تھی، اور انسان جب ایسے ماحول میں ہو تو بےسوچے سمجھے ماحول کے مطابق کام کرتا رہتا ہے، لیکن جب اسے توجہ دلائی گئی تو اس نے حق بات کے ماننے میں دیر نہیں لگائی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وصدما ……قوم کفرین (34) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو مرعوب کرنے کیل ئے ایک دوسری غیر متوقع امتحان گاہ بھی اس کے لئے تیار تھی۔ یہ امتحان اس قدر اچانک ہے کہ یہاں بھی بیان قصہ کے وقت بھی اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پہلے تخت کے سلسلے میں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بتا دیا کہ یہ تخت یوں معجزانہ انداز میں لایا گیا ہے۔ یہاں قرآن کریم کی طرز ادا بھی نہایت ہی بلبغانہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی حق تعالیٰ نے یا سلیمان (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کے حکم سے ملکہ بلقیس کو آفتاب وغیرہ کی پرستش سے روک دیا۔ جس میں وہ بمعیت اپنی قوم کے مبتلا تھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے تک جو اعلانیہ اسلام کا اظہار نہیں کیا اس کا سبب یہ ہے کہ جھوٹے معبودوں کے خیال اور قوم کفار کی تقلید و صحبت نے اس کو ایسا کرنے سے روک رکھا تھا۔ نبی کی صحبت میں پہنچ کر وہ روک جاتی رہی۔ ورنہ سلیمان (علیہ السلام) کی صداقت کا اجمالی علم اس کو پہلے ہی ہوچکا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ” چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔ وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ” یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سمجھایا جائے۔ جیسا کہ ترجمہ میں بیان ہوا ہے اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ چونکہ اسے ماحول کافرانہ اور مشرکانہ ملا تھا۔ لہذا وہ بھی قوم کی دیکھا دیکھی سورج کی پرستش کرنے لگی تھی۔ ورنہ اگر وہ کچھ بھی عقل سے کام لیتی تو ایسے شرک میں مبتلا نہ ہوتی۔ اور دوسرا مطلب ہے کہ اس جملہ کو حصرت سلیمان (علیہ السلام) کا فعل تسلیم کیا جائے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کو ان تمام چیزوں کی پرستش سے روک دیا جن کی وہ اپنے زمانہ کفر میں پرستش کیا کرتی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسی عاقل وصاحب فہم خاتون جو چند روز تک ایمان نہیں لائی، سو اسے بت پرستی، خدا پرستی سے روکے رہی تھی، غیر اللہ کی عبادت کی عادت روکے رہی تھی، اور عادت اس لیے پڑی تھی، کہ آنکھ کھول کر اس نے اردگرد کفر ہی کفر دیکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–44

آیت نمبر 40 تا 44 ترجمہ : سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں جس کے پاس نازل کردہ کتاب کا علم تھا وہ بولا اور وہ آصف بن برخیا تھا وہ مقام صد یقیت پر فائز تھا، وہ اللہ کے اسم اعظم سے واقف تھا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا جب کہ آپ اپنی نظر سے کسی شئ کو دیکھیں (آسف بن برخیا) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا آپ آسمان کی طرف دیکھیں چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نظر کو پھرایا تو تخت کو اپنے سامنے رکھا ہوا پایا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وصدھا ما کانت تعبدو من دون اللّٰہ انھا کانت من قوم کفرین . اور سلیمان نے اس کو ان معبودوں کی عبادت سے منع کردیا جن کو اللہ کے سوا وہ پوجتی تھی۔ بلاشبہ کافر قوم میں سے تھی۔ یعنی سورج کی پوجا سے سلیمان ( علیہ السلام) نے اس کو منع کردیا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ صَدَّ کا فاعِل ماَ کَانَتْ تَعْبُدُ ہے یعنی اللہ کے سوا جن معبودوں کو پوجتی تھی ‘ انہوں نے اس کو توحید سے روک دیا تھا ‘ عقل کی کمزوری یا خرابی نے اس کو توحید سے نہیں روکا تھا اس لئے جن کا یہ کہنا غلط تھا کہ اس کی سمجھ میں فتور ہے۔ جملہ اَنَّھَا کَانْتْ مستانفہ ہے یعنی بلقیس ایسی قوم میں سے ہے جو آفتاب کی پجاری تھی۔ اسی آفتاب پرست قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(43) اور ہم تو اسی وقت سے فرمانبردار ہوگئے تھے یا یہ کہ حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس تبدیلی کی سمجھ اور بلقیس کے آنے سے پہلے انکے تخت لانے کی قوت عطا فرمائی اور حضرت سلیمان ؑ نے ان کو یا اللہ تعالیٰ نے سورج کی پوجا سے بلقیس کو روک دیا کیوں کہ وہ پہلے مجوس قوم میں سے تھیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ۔۔ : یعنی اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود اسے ایمان لانے سے روکا تو آفتاب نے جسے وہ اللہ کے سوا معبود بنا بیٹھی تھی اور اسے چھوڑنے پر تیار نہ تھی اور اس کے سورج پرستی پر جمے رہنے کی وجہ بھی اس کی ہٹ دھرمی نہ تھی، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ کافر قوم سے تھی اور اپنی قوم کے رسم و رواج کو ترک کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔ یہ ترجمہ ”مَا“ موصولہ کی صورت میں ہے۔ ”مَا“ مصدریہ کی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : ”اور اسے (ایمان لانے سے) روکا تو اس عبادت نے جو وہ اللہ کے سوا معبودوں کی کرتی تھی۔“ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے : ”سلیمان ؑ نے اسے ان چیزوں سے روک دیا جن کی وہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–43

آیت قال نکروالھا عرشھا اس کی ہئیت بدل دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا اوپر والا حصہ نیچے کردو اور نیچے والا حصہ اوپر کر دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کمی بیشی کے ساتھ اس کو تبدیل کر دو ۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : آپ نے اس کی ہئیت بدلنے کا حکم دیا کیونکہ شیاطین نے آپ سے عرض کی تھی : اس کی عقل میں خربای ہے، تو آپ نے اسے آزمانے کا ارادہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جنوں کو خوفہوا تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے شادی کریں گے تو اس کے بطن سے حضرت سلیمان کا بیٹا پیدا ہوگا۔ تو وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آل کے لئے ہمیشہ مخسر رہیں گے۔ انہوں نیحضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کی : وہ عقل کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–44

ارکان سلطنت سے مشورہ 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَصَدَّهَا [ اور روک رکھا تھا اس (ملکہ) کو ] مَا [ ان چیزوں نے جن کی ] كَانَتْ تَّعْبُدُ [ وہ عبادت کیا کرتی تھی ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] اِنَّهَا [ بیشک وہ ] كَانَتْ [ تھی ] مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ [ ایک کافر قوم میں سے ] (آیت۔ 43) اس آیت کے دو طرح ترجمے کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ما کانت تعبد میں ما کو صد کا فاعل مانا گیا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ جن چیزوں کی وہ پوجا کرتی تھی انھوں نے اس کو ایمان لانے سے روک دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے اپنے فارسی ترجمہ میں اور شیخ الہند (رح) نے اپنے اردو ترجمہ میں صد کی ضمیر فاعلی ھو کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مانا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَصَدَّھَا مَا کَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) اول یہ سمجھیں کہ صد فعل ہے اور ھا ضمیر مفعول مقدم ہے اور (ما کانت تعبد) صلہ موصول مل کر فعل کا فاعل ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ جو غیر اللہ کی عبادت کرتی تھی اس کے اس عمل نے اسے اللہ کی عبادت کرنے سے روک دیا تھا اور بعض حضرات نے اس کا دوسرا مطلب یہ بتایا ہے اور وہ یہ کہ (ما کانت تعبد) صلہ موصول مل کر مفعول ہے اور فاعل ضمیر ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس عورت کو اس کے عمل یعنی عبادت لغیر اللہ سے روک دیا۔ اس صورت میں عن حرف جار مقدر ہوگا۔ یعنی وَصَدَّھَا مَا کَانَتْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

37:۔ ماکانت تعبد الخ جملہ صدھا کا فاعل ہے یعنی قدیم دستور کے مطابق ستاروں کی پرستش نے اس کو توحید سے روک رکھا تھا۔ اس کی پیدائش اور نشو و نما چونکہ مشرکین میں ہوئی تھی اس لیے اس ماحول نے اس کو اب تک اسلام کی آغوش میں آنے سے روکے رکھا۔ صدھا عن التقدم الی الاسلام عبادۃ الشمس و نشؤھا بین اظھر الکفرۃ (مدارک ج 3 ص 163) ۔ یا صد کا فاعل حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں۔ ماکانت سے پہلے حرف جار مقدر ہے یعنی انہوں نے اس کو سورج پرستی سے روک دیا۔ وصدھا اللہ او سلیمان عما کانت تعبد بتقدیر حرف الجار (کبیر ج 6 ص 568) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات گزشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے شرف اور آپ کی غیر معمولی قوت کا ذکر تھا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی تھی ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے پاس ملکہ سبا کا تخت کون لائے گا ۔ ایک سر کش جن نے کہا کہ میں آپ کی مجلس برخاست ہونے سے قبل تخت کو لاسکتا ہوں ۔ مگر سلیمان (علیہ السلام) اس سے بھی جلدی کے خواہش مند تھے۔ چناچہ ایک عالم کتاب شخص نے کہا کہ میں وہ تخت آنکھ جھپکنے سے پہلے لاسکتا ہوں ، چناچہ ایسا ہی ہوا ملکہ کا تخت ملک سبا سے فوراً یروشلم پہنچ گیا ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے وہ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ہم اس کا شکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَصَدَّہَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝ 0ۭ اِنَّہَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ۝ 43 صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

ترکیب : : ننظر بالجزم علی الجواب و بالرفع علی الاستیناف و صدھا۔ الفاعل اما الضمیر الراجع الی اللہ تعالیٰ او الی سلیمان ای و صدھا ما کانت الخ عباد تھا۔ الشمس عن التقدم الی الاسلام انہا بالکسر علی الاستیناف و بابفتح علی البدل من مایکون ما علی ھذا مصدریۃ الصرح القصر و قیل عرصۃ الدار۔ قال نکروا لہا الخ یہاں سے پھر اصل قصہ شروع ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تحت میں کچھ ایسا تغیر و تبدل کردو کہ اس کی پہلی صورت بدل جاوے تاکہ میں جب بلقیس آوے اس کی عقل کا امتحان کروں کہ۔ تفسیر : : دُنیاوی چیزوں کی پہچان میں جب یہ حال ہو تو خدا کی ذات وصفات کے پہچاننے میں تم نے کتنی غلطی نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَصَدَّھَا مَا کَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اِنَّھَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔ (النمل : 43) (اور اسے روک رکھا تھا ایمان لانے سے ان چیزوں نے جن کو اللہ کے ماسوا وہ پوجتی رہی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم میں سے تھی۔ ) ایک سوال کا جواب گزشتہ آیت کی وضاحت سے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر ملکہ اور اس کے عمائدین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم و حکمت سے اس قدر متأثر اور قلبی طور پر ان کے مطیع اور منقاد تھے تو پھر وہ مسلمان کیوں نہ ہوئے اور اب تک ایک غلط دین پر قائم کیوں رہے ؟ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ دو چیزیں اس کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی تھیں جو ہر صالح تبدیلی کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–43

فہم القرآن ربط کلام : تخت کے بارے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ کو سوال اور اس کا جواب۔ جونہی ملکہ اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ شاہانہ انداز میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے تخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار فرمایا۔ ” کیا آپ کا تخت اس طرح کا ہے ؟ “ اس نے کہا جی ہاں ! کیوں نہیں یہ وہی ہے ہمیں تو آپ کے بارے میں سب کچھ پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے۔ اس لیے ہم تابعدار ہو کر آئے ہیں۔ تخت کی پہچان اور ملکہ کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی ہی دانا عورت تھی۔ جس نے سفارتی نمائندوں کے ذریعے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کردار اور اقتدار کو سمجھ لیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اسے کس چیز نے روکا : 43: وَصَدَّہَا مَا کَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو ان معبودوں کی عبادت سے روک دیا جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتی تھی) ۔ یہ سلیمان (علیہ السلام) کے کلام سے متصل ہے۔ یعنی سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو روک دیا اس علم کی بنیاد پر جو ہم نے ان کو سکھایا تھا۔ یا اسلام کی طرف پیش قدمی کرنے نے اس کو سورج کی پوجا اور کفار کے مابین نشونما سے روک دیا۔ پھر کفار کے درمیان اس کا پرورش پانا واضح فرمایا۔ اِنَّہَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔ یا یہ ابتدائی کلام ہے۔ ای قال اللّٰہ تعالیٰ و صدہا قبل ذلک عما دخلت فیہ ضلالہا عن سواء السبیل۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

43۔ وصدھا ماکانت تعبد من دون اللہ، حضرت سلیمان نے ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کردیا جن کو وہ اللہ کے سواپوجتی تھی، حضرت سلیمان نے اس کو سورج کی پوجا کرنے سے روک دیا، اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ اس صورت میں مامحل رفع میں واقع ہے۔ بعض نے کہا کہ عقل کی کمزوری یا خرابی نے اس کو توحید سے نہیں روکا تھا۔ اسی لیے جن کا یہ کہنا غلط تھا کہ اس کی سمجھ میں فتور ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت سلیمان نے اس کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے روک دیا اس کے اور اس کی عبادت کے درمیان حائل ہوگئے۔ انھا کانت من قوم کافرین، ،، یہ جملہ مستانفہ ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان کو خبر دی کہ یہ اس کی قوم میں سے ہے جو سورج کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–43

(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

44 ماحول کے اثرات کا نتیجہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تھی تو کافر قوم ہی میں سے یعنی خود ذاتی طور پر تو وہ اگرچہ بڑی زیرک اور سمجھدار عورت تھی لیکن اس نے جب سے آنکھ کھولی وہ یہی بت پرستی اور مظاہر پرستی دیکھتی رہی۔ تو اس قدر سمجھ دار ہونے کے باوجود ماحول اور گرد و پیش کا یہ اثر اس پر چھا گیا اور اصل حقیقت اس سے گم ہوگئی۔ سو اس سے ماحول کے انسانی بناؤ و بگاڑ میں اثر اندازی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ۔ صحبت صالح ترا صالح کند ۔ صحبت طالح ترا طالح تراکند ۔ کہ " اچھی صحبت تم کو اچھا اور صالح انسان بنا دے گی اور بری صحبت تم کو بگاڑ کر رکھ دی گے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف : مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔ امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی اس کے اب تک کافر رہنے کی وجہ اس کی ضد اور ہٹ دھرمی نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ وہ ایک کافر قوم میں پیدا ہوئی تھی اس لئے اس کے طور طریقوں پر چلتی رہی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:43) وصدھا ما کانت تعبد من دون اللہ۔ بمعنی مصدر کے ہے۔ یعنی اس کے غیر اللہ کے عبادت کرنے سے اسے اسلام سے روک رکھا تھا۔ انھا کانت من قوم کفرین۔ یہ وجہ (سبب) ہے اس کی غیر اللہ کی پرستش کی۔ کیونکہ وہ کافر قوم میں سے تھی اس لئے جب سے اس نے آنکھ کھولی اپنے گرد کفر ہی کفر دیکھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–44

لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 : ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 : جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–43

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر، بلقیس سورج پرست کا مسلمان ہونا اور اسکے تخت کا ذکر۔ (ف 1) آپ کے وزیر آصف بن برخیا تھے ، جب حضرت سلیمان نے تخت کی بابت کہا تو انہوں نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتا ہوں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں حضرت سلیمان نے فرمایا کہ تم ہی لے آؤ اس کے بعد وہ سجدہ میں جاکریہ کہنے لگا ، یاحی ، یاقیوم، اور بعض کہتے ہیں، یا ذوالجلال والاکرام، کہا تو فورا وہ تخت اپنی جگہ سے زمین میں غائب ہوگیا ایک پلک کے جھپکتے ہی زمین سے حضرت سلیمان کے تخت کے برابر زمین سے برآمد ہوگیا۔ پھر جب اس تخت کو حضرت سلیمان نے اپنے پاس دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ میرے پروردگار کے فضل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–44

[14] یعنی اب تک اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ تھی کہ غیر اللہ کی عبادت کی عادت نے اسے روک رکھا تھا اور عادت اس لئے پڑی تھی کہ آنکھ کھول کر اس نے اردگرد کفر ہی کفر دیکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–43

ف 2: اس واقعہ سے بعض کو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی دور سے اس قدر تخت کے آجانے میں کیونکر عقلی امکانات ہیں ! وہ اس قصے کو حقیقت پر مبنی نہیں سمجھتے اور افسانہ قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ بالکل ناممکن ہے اس سلسلے میں دو باتوں کا سمجھ لینا ضروری ہے ۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت زیادہ وسیع ہے ۔ جب آفتاب ایسے بڑے کرے کو چند گھنٹوں میں اربوں میل گھمادیتا ہے تو اس کے لئے یہ کچھ مشکل نہیں کہ وہ سلیمان کے خدام کو میں سے کسی شخص کو اتنی طاقت دے کہ بہت جلد تخت کو لا حاضر کرے ۔ دوسری بات حرکت کی تجدید کا مسئلہ ہے اور تخت علم الحرکت کے ماہرین کا خیال ہے کہ کہ اس کو جھوٹ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ چناچہ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) اور اس کو اب تک ایمان لانے سے اس چیز نے روک رکھا جس کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت اور پوجا کیا کرتی تھی کیونکہ وہ کافروں کی قوم میں سے تھی یعنی ایمان لانے سے اس کو اس کی شمس پرستی نے روک رکھا تھا چونکہ وہ کافر قوم کی ایک فرد تھی اس لئے بچپنے سے شمس پرستی کی عادی تھی لیکن جب اس پر تنبیہ ہوئی تو عقل عادت پر غالب آئی اور شرک سے باز آگئی یہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو شمس پرستی سے روک دیا جس میں وہ اپنی قوم کے ساتھ مبتلا تھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو منع فرما دیا اور جس کو عادتاً کرتی تھی اس کو ترک کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–44

ف 1۔ اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) نے یہ چاہا کہ علاوہ اعجاز و شان نبوت دکھلانے کے اس کو ظاہری شان سلطنت بھی دکھا دی جاوے تاکہ اپنے کو دنیا کے اعتبار سے بھی عظیم نہ سمجھے، اس لئے ایک شیش محل بنوا کر اس کے صحن میں حوض بنوایا اور اس میں پانی اور مچھلیاں بھر کر اس کو شیشہ سے پاٹ دیا، اور شیشہ ایسا صاف تھا کہ بادی النظر میں نظر نہ آتا تھا، اور وہ حوض ایسے موقع پر تھا کہ اس محل میں جانے والے کو لامحالہ اس پر سے عبور کرنا پڑے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ملکہ سبا کی عقل و دانش میں کوئی کمی نہیں تھی اس کو قومی کفر نے روک رکھا تھا : 43۔ قرآن کریم ہم کو بتانا چاہتا ہے کہ ایسی عاقل وصاحب فہم خاتون جو چند روز تک ایمان نہیں لائی تو اس کا اصل باعث اس کا قومی کفر تھا کہ جو کچھ اس نے اپنے خاندان اور اپنی قوم کو کرتے دیکھا وہ بھی کرتی رہی چونکہ قوم اور خاندان کے لوگ غیر اللہ کی عبادت میں مصروف تھے اس نے ہوش سنبھالا تو جو انکو کرتے دیکھا وہ بھی کرتی رہی یہی وجہ ہے کہ جب اس کو صحیح راہ دکھائی دی تو اس نے کوئی بحث نہیں کی کسی طرح کا کوئی جھگڑا کھڑا نہیں کیا اپنے آباؤ اجداد کے رسم رواج کے خلاف ہونے کا شور نہیں مچایابل کہ بغیر کسی حیل وحجت کے اسلام کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–43

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ (Said the one who had the knowledge of the book - 27:40). The question is as to who was this person? One possibility is that he was Sulaiman (علیہ السلام) himself, because his knowledge of the book of Allah was most extensive. In that case this incident happened as a miracle. The objective was also that Bilqis should have an experience of the prophetic miracle, so that no doubt was left in her mind. But Ibn Jarir has reported from many commentators of the Qur'an, like Qatadah, that he was a person from the companions of Sayyidna Sulaiman (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

54 This sentence has been added by AIIah to clarity the queen's position, saying that she was not obdurate and stubborn. She had been an unbeliever till then mainly hecause she canto of an unbelieving people. As she had become accustomed to bowing down before a false deity since her childhood, it had become a hindrance for her to the right way. As soon as she came in contact with !he Prophet Solomon, she discerned the right way and the hindrance was removed Forthwith.

Read the full tafseer →