An-Naml 27:42

An-Naml · from ayah 42

27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ ؕ— قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ ۚ— وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِیْنَ ۟فَلَمَّا جَآءَتۡ قِيۡلَ اَهٰكَذَا عَرۡشُكِ‌ؕ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ‌ۚ وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا وَ كُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ

جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So when she arrived, it was said [to her], "Is your throne like this?" She said, "[It is] as though it was it." [Solomon said], "And we were given knowledge before her, and we have been Muslims [in submission to Allah].

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:42

ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی "یہ تو گویا وہی ہے ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جھکا دیا تھا (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جب وه آگئی تو اس سے کہا (دریافت کیا) گیا کہ ایسا ہی تیرا (بھی) تخت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے، ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

غرض جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا : کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ کہنے لگی : ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل وہی ہے۔ ہمیں تو اس سے پہلے ہی (آپ کی سچائی کا) علم عطا ہوگیا تھا، اور ہم سر جھکا چکے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، بولی گویا یہ وہی ہے اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی اور ہم فرمانبردار ہوئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب وہ (ملکہ) آئی تو اس سے کہا گیا: کیا تمہارا تخت اسی طرح کا ہے، وہ کہنے لگی: گویا یہ وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی (نبوتِ سلیمان کے حق ہونے کا) علم ہو چکا تھا اور ہم مسلمان ہو چکے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہم اس سے پہلے علم دیے گئے تھے اور ہم فرماں بردار تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ملکہ (مطیع ہو کر) آگئی تو سلیمان نے اس سے پوچھا : کیا تمہارا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ وہ کہنے لگی : یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے۔ اور ہمیں اس سے پہلے ہی حقیقت حال معلوم ہوگئی تھی اور ہم فرمانبردار ہوگئے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب وہ آئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا، گویا کہ وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے علم حاصل ہوچکا تھا اور ہم فرمانبرداروں میں تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ ایسا ہی کیا گیا پھر جب وہ پہنچ گئی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو گویا وہی ہے اور یہ معجزہ دکھانے کی بھی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ ہمیں تو اس سے پہلے ہی اس سب کا علم ہوگیا تھا اور ہم نے سر اطاعت و تسلیم جھکا دیا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

خیر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ بولی کہ ہاں یہ تو گویا وہی ہے۔ اور ہم کو حکم (ایمانی) اس کے پیشتر ہی (حاصل) ہوچکا ہے اور ہم مطیع ہوچکے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب وہ آئی تو (اس سے) کہا گیا کہ کیا اسی طرح کا ہے آپ کا تخت ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکا ہے اور ہم اسلام لا چکے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا ”کیا آپ کا تحت بھی اسی طرح کا ہے“ ؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہوبہو وہی ہے اور ہم کو پہلے ہی سلیمان کی عظمت اور شان کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When the Queen arrived, she was asked: "Is your throne like this one?" She said: "It seems as if it is the same. We had already come to know this and we had submitted ourselves."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So when she came, it was said (to her), :Is your throne like this? She said, :It seems to be the same. We have been made to recognize the truth even before this, and we have already submitted.

— Muhammad Taqi Usmani

So when she came, it was said (to her), :Is your throne like this? She said, :It seems to be the same. We have been made to recognize the truth even before this, and we have already submitted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So when she came, it was said, "Is your throne like this" She said: "As though it were the very same." And he said, "Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah (as Muslims)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So, when she came, it was said (unto her): Is thy throne like this? She said: (It is) as though it were the very one. And (Solomon said): We were given the knowledge before her and we had surrendered (to Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So when she arrived, it was said [to her], "Is your throne like this?" She said, "[It is] as though it was it." [Solomon said], "And we were given knowledge before her, and we have been Muslims [in submission to Allah].

— Saheeh International

When she came she was asked, "Is your throne like this?" She replied, "It seems that this is it. We had received the knowledge before this and were submissive (to Solomon's power)".

— Muhammad Sarwar

So when she came, it was said: Is your throne like this? She said: It is as it were the same, and we were given the knowledge before it, and we were submissive.

— Muhammad Habib Shakir

Then when she arrived, it was said: is thy throne like unto? She said: it is as though it were it; and we have been vouchsafed the knowledge before this, and we have been Muslims.

— Abdul Majid Daryabadi

So when she arrived, she was asked, "Is this thy throne?" She said, "It was just like this; and knowledge was bestowed on us in advance of this, and we have submitted to Allah (in Islam)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 52 اس سے ان لوگوں کے خیالات کی بھی تردید ہوجاتی ہے جنہوں نے صورت واقعہ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ گویا حضرت سلیمان اپنی مہمان ملکہ کے لیے ایک تخت بنوانا چاہتے تھے، اس غرض کے لیے انہوں نے ٹینڈر طلب کیے، ایک ہٹے کٹے کاریگر نے کچھ زیادہ مدت میں تخت بنا دینے کی پیش کش کی، مگر ایک دوسرے ماہر استاد نے کہا میں ترت پھرت بنائے دیتا ہوں، اس سارے نقشے کا تارو پود اس بات سے بکھر جاتا ہے کہ حضرت سلیمان نے خود ملکہ ہی کا تخت لانے کے لیے فرمایا تھا (اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا) اور اس کی آمد پر اپنے ملازموں کو اسی کا تخت انجام طریقے سے اس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا (نَكِّرُوْا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

خلاصہ تفسیر (سلیمان ؑ نے یہ سب سامان کر رکھا تھا، پھر بلقیس پہنچی) سو جب بلقیس آئی تو اس سے (تخت دکھا کر) کہا گیا (خواہ سلیمان ؑ نے خود کہا ہو یا کسی سے کہلوایا ہو) کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ کہنے لگی کہ ہاں ہے تو ویسا ہی (بلقیس سے اس طور پر اس لئے سوال کیا کہ ہیئت تو بدل دی گئی تھی اپنی اصل کے اعتبار سے تو وہی تخت تھا اور صورت وہ نہ تھی۔ اس لئے یوں نہیں کہا کہ کیا یہی تمہارا تخت ہے بلکہ یہ کہا کہ ایسا ہی تمہارا تخت ہے اور بلقیس اس کو پہچان گئی اور اس کے بدل دینے کو بھی سمجھ گئی اس لئے جواب بھی مطابق سوال کے دیا) اور (یہ بھی کہا کہ) ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پہلے ہی (آپ کی نبوت کی)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ہو ج واوتینا العلم من قبلھا وکنا ملمین (42) ملکہ سبا حضرت سلیمان کے دربار میں ملکہ نے تحائف کے ساتھ جو وفد حضرت سلیمان کی خدمت میں بھیجا تھا اس کی ناکام واپسی کے بعد ملکہ نے حضرت سلیمان سے براہ راست ملاقات کا ارادہ فرمایا۔ تو رات سے معلوم ہوتا ہے اور قرآن سے بھی، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، اس کی تائید ہوتی ہے کہ ملکہ حضرت سلیمان کی حکمت سے بہت متاثر تھیں۔ اس صورتحال کے پیدا ہوجانے کے بعد انہوں نے چاہا کہ وہ براہ راست حضرت سلیمان سے گفتگو کر کے ان کے علم و حکمت سے بھی مستفید ہوں اور اپنے سیاسی مسئلہ کا بھی کوئی حل تلاش کریں چناچہ وہ اپنے بہت سے وزراء و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42-1ردو بدل سے چونکہ اس کی وضع شکل میں کچھ تبدیلی آگئی تھی، اس لئے اس نے صاف الفاظ میں اس کے اپنے ہونے کا اقرار بھی نہیں کیا اور ردو بدل کے باوجود انسان پھر بھی اپنی چیز کو پہچان لیتا ہے، اس لئے اپنے ہونے کی نفی بھی نہیں کی۔ اور یہ کہا ' گویا یہ وہی ہے ' اس میں اقرار ہے نہ نفی۔ بلکہ نہایت محتاط جواب ہے۔ 42-2یعنی یہاں آنے سے قبل ہی ہم سمجھ گئے تھے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور آپ کے مطیع و منقاد ہوگئے تھے۔ لیکن امام ابن کثیر و شوکانی وغیرہ نے اسے حضرت سلیمان ؑ کا قول قرار دیا ہے کہ ہمیں پہلے ہی یہ علم دے دیا گیا تھا کہ ملکہ سبا تابع فرمان ہو کر حاضر خدمت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: بلقیس سمجھ گئی کہ اس تخت کی شکل میں کچھ رد وبدل کیا گیا ہے اس لئے اس نے ایک طرف تو یقین ظاہر کرنے کے بجائے یہ کہا کہ ایسا لگتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی ظاہر کردیا کہ وہ اپنے تخت کو پہچان گئی ہے۔ 17: یعنی مجھے آپ کی سچائی کا یقین کرنے کے لئے یہ معجزہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ آپ کے ایلچیوں کے ذریعے آپ کے جو حالات مجھے معلوم ہوئے تھے ان کی وجہ سے مجھے پہلے ہی آپ کی سچائی کا علم حاصل ہوگیا تھا اور ہم نے آپ کی تابع داری میں سرجھکانے کا ارادہ کرلیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ھو یہ اس لئے ایک انوکھی اور غیر متوقع بات تھی۔ اس کی مملکت کہاں اور تخت کہاں اور وہ دیکھ رہی ہے۔ آخر محفوظ مقامات کے اندر زیر حراست تخت یہاں کس طرح آگیا ۔ جنوب یمن اور بیت المقدس کا فاصلہ یہ کیسے آگیا اور کون اسے لایا ہے۔ لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے باوجود تخت تو اسی کا ہے لیکن وہ غیر متوقع ہونے ، حالاتی شہادت خلاف ہونے کی وجہ سے اور زیادہ تر علامات اصلی باقی رہنے کی وجہ سے وہ یوں کہتی ہے کہ ” گویا یہ وہی ہے۔ “ اس نے نہایت فراست اور عقلمندی سے یہ جواب دیا۔ جس میں نہ اس تخت کا اقرار ہے اور نہ انکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیر متوقع حالات میں بھی دھوکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 نہ کہا کہ ہاں وہ ہی ہے اور نہ بالکل نفی کی، جو حقیقت تھی ٹھیک ٹھیک ظاہر کردی تخت وہ ہی ہے مگر کچھ اوصاف میں فرق آگیا۔ اور فرق چونکہ متعدبہ نہیں اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ گویا وہ ہی ہے۔ 3 یعنی اس معجزہ کی حاجت نہ تھی، ہم کو پہلے ہی یقین ہوچکا تھا کہ سلیمان محض بادشاہ نہیں۔ اللہ کے مقرب بندہ ہیں اور اسی لیے ہم نے فرمانبرداری اور تسلیم وانقیاد کا راستہ اختیار کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ” چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔ وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ” یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 بلقیس جب حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچی تو اسے تخت دکھا کر پہلا سوال ہی یہ کیا گیا کہ کیا تمہارے پاس بھی ایسا تخت ہے ؟ وہ بڑی عقلمند عورت تھی اس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ تخت اسی کا ہے۔ البتہ اس میں کچھ تبدیلیاں کر لیگئی ہیں۔ لہذا اس نے جواب بی سوال کے مطابق دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بالکل ویسا ہی لگتا ہے اگر اس سے یہ سوال کیا جاتا کہ کیا یہ تیرا تخت ہے۔ تب وہ یہ جواب دیتی کہ ہاں یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس امتحان سے حصرت سلیمان نے اس کے عقلمند ہونے کا اندازہ کرلیا۔ اس سوال کے بعد جو بات سلیمان (علیہ السلام) اسے سمجھانا چاہتے تھے اس کا اس نے خود ہی اظہار کردیا اور کہنے لگی۔ یہ عرش کے یہاں لانے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ ملکہ نے جواب بڑی فہم و دانش سے دیا۔ نہ سرے سے انکارہی کردیا، اور کہہ دیا کہ نہیں وہ نہیں ہے۔ اور نہ جھٹ اقرار کرلیا کہ ہاں یہ تو وہی ہے۔ بلکہ جواب بین بین دیا۔ کہ ہاں یہ ہے تو اسی کی مثل، اسی جیسا، گویا اس کے اصل مادہ اور موجود بدلی ہوئی ہیئت، دونوں کی رعایتیں ملحوظ رکھ لیں۔ توریت میں بھی دربار سلیمانی میں ملکہ بلقیس کی حاضری کا ذکر ہے۔ (1۔ سلاطین 10: 1۔ 13) مگر قرآن مجید سے ایک بالکل مختلف صورت میں۔ 49۔ ملکہ کہتی ہے کہ ہم لوگ اس معجزہ کے صدور سے پہلے ہی ایمان لاچکے ہیں، اور دل سے آپ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔ (آیت) ” العلم “ علم یہاں علم توحید ونبوت کے معنی میں ہے۔ العلم باللہ وبصحۃ نبوۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 40–44

آیت نمبر 40 تا 44 ترجمہ : سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں جس کے پاس نازل کردہ کتاب کا علم تھا وہ بولا اور وہ آصف بن برخیا تھا وہ مقام صد یقیت پر فائز تھا، وہ اللہ کے اسم اعظم سے واقف تھا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا جب کہ آپ اپنی نظر سے کسی شئ کو دیکھیں (آسف بن برخیا) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا آپ آسمان کی طرف دیکھیں چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نظر کو پھرایا تو تخت کو اپنے سامنے رکھا ہوا پایا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما جآءت قیل اھکذا اعرشک قالب کانہ ہو . پھر جب وہ آگئی تو اس سے کہا گیا : آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ ملکہ نے کہا : ایسا معلوم ہوتا ہے بعینہ یہ وہی ہے۔ اَھٰکَذَا شک۔ یہ اشتباہی لفظ بلقیس کی عقل کی آزمائش کے لئے کیا گیا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ بلقیس نے اپنا تخت پہچان تو لیا تھا لیکن اشتباہی الفاظ میں اس نے جواب اس لئے دیا کہ اس سے مشتبہ الفاظ میں ہی سوال کیا گیا تھا۔ بعض نے کہا : واقعی وہ پوری یقینی شناکت نہیں کر پائی تھی اس لئے نہ کھل کر اقرار کیا نہ انکار۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اس طرز کلام سے اس کی دانشمندی کو پہچان گئے۔ پھر اس سے کہا گیا : واقعی یہ تخت آپ ہی کا ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ سات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) چناچہ جب بلقیس آئیں تو حضرت سلیمان ؑ نے ان کو تخت دکھا کر فرمایا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے وہ کہنے لگیں ہاں ہے تو ایسا ہی اور ہمیں تو اس واقعہ سے پہلے ہی آپ کی نبوت کی تحقیق ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّا جَاۗءَتْ قِيْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ۔۔ : جب ملکہ سبا آئی تو سلیمان ؑ نے اس سے پوچھا : ”کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟“ سلیمان ؑ کے سوال میں ان کی کمال ذہانت ظاہر ہو رہی ہے، انھوں نے یہ نہیں فرمایا کہ کیا یہ تمہارا تخت ہے ؟ کیونکہ اس میں جواب کا بھی اشارہ ہوجاتا اور وہ کہہ دیتی کہ ہاں ! یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس کے بجائے سلیمان ؑ نے موجودہ تخت کو الگ تخت ظاہر کیا اور پوچھا : ”کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟“ ملکہ کے جواب سے اس کی عقل مندی معلوم ہوتی ہے، اگر وہ کہتی کہ ہاں میرا تخت ایسا ہی ہے تو ثابت ہوجاتا کہ اس نے اپنا تخت نہیں پہچانا اور اگر کہتی کہ یہ وہی ہے تو شناخت بدلنے کی وجہ سے اسے ایسا کہنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–43

آیت قال نکروالھا عرشھا اس کی ہئیت بدل دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا اوپر والا حصہ نیچے کردو اور نیچے والا حصہ اوپر کر دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کمی بیشی کے ساتھ اس کو تبدیل کر دو ۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : آپ نے اس کی ہئیت بدلنے کا حکم دیا کیونکہ شیاطین نے آپ سے عرض کی تھی : اس کی عقل میں خربای ہے، تو آپ نے اسے آزمانے کا ارادہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جنوں کو خوفہوا تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے شادی کریں گے تو اس کے بطن سے حضرت سلیمان کا بیٹا پیدا ہوگا۔ تو وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آل کے لئے ہمیشہ مخسر رہیں گے۔ انہوں نیحضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کی : وہ عقل کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–44

ارکان سلطنت سے مشورہ 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَتْ [ وہ آئی ] قِيْلَ [ تو کہا گیا ] اَ [ کیا ] هٰكَذَا [ ایسا ہی ہے ] عَرْشُكِ ۭ [ تیرا تخت ] قَالَتْ [ اس (ملکہ) نے کہا ] كَاَنَّهٗ [ جیسے کہ یہ ] هُوَ ۚ [ وہ ہی ہے ] وَاُوْتِيْنَا [ اور ہم کو دیا گیا ] الْعِلْمَ [ علم ] مِنْ قَبْلِهَا [ اس (معجزہ) سے پہلے ] وَكُنَّا [ اور ہم ہوچکے ] مُسْلِمِيْنَ [ فرمانبردار ] (آیت۔ 42) من قبلہا میں ھا کی ضمیر کا مرجع محذوف ہے جو واقعۃ یا معجزۃ ہوسکتا ہے۔ اور اس سے مراد یہ معجزہ ہے کہ ملکہ اپنا تخت اپنے محل میں چھوڑ کر آئی تھی اور جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی تو اس کا تخت وہاں رکھا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ ملکہ کا قول ہے اس نے اپنا تخت دیکھ کر کہا کہ میرے عرش کا آجانا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شوکت کی ایک نشانی ہے۔ اس نشانی کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی ہم نے جان لیا تھا کہ وہ بڑی سلطنت اور دبدبہ والے ہیں اور ہم پہلے ہی سے ان کے فرمانبر دار بن گئے تھے، اور بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ فرمانبر دار ہو کر آنے والے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبر دار ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ اس وصف میں شریک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

36:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس تخت میں کچھ جزوی تبدیلیاں کر کے اس کی شکل بدل دو تاکہ بلقیس کی عقل و فراست کا امتحان کریں آیا وہ اسے پہچان لیتی ہے یا نہیں۔ فلما جاءت الخ، جب بلقیس پہنچ گئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ سوال میں یہ نہیں کہا گیا، اھکذا عرشک، کیا یہ تمہارا تخت ہے ؟ تاکہ یہ سوال اور پیچیدہ ہوجائے۔ قالت کانہ ھو، بلقیس نے نہایت دانشمندانہ جواب دیا کہ بالکل ویسا ہی ہے۔ یہ نہیں کہا کہ بالکل وہی ہے یا وہ نہیں ہے کیونکہ دونوں جواب سوال کے مطابق نہیں تھے۔ واوتینا العلم الخ، یہ بلقیس کا کلام ہے، من قبلھا کی ضمیر سے احضار عرش کا معجزہ مراد ہے۔ یعنی اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات گزشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے شرف اور آپ کی غیر معمولی قوت کا ذکر تھا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی تھی ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے پاس ملکہ سبا کا تخت کون لائے گا ۔ ایک سر کش جن نے کہا کہ میں آپ کی مجلس برخاست ہونے سے قبل تخت کو لاسکتا ہوں ۔ مگر سلیمان (علیہ السلام) اس سے بھی جلدی کے خواہش مند تھے۔ چناچہ ایک عالم کتاب شخص نے کہا کہ میں وہ تخت آنکھ جھپکنے سے پہلے لاسکتا ہوں ، چناچہ ایسا ہی ہوا ملکہ کا تخت ملک سبا سے فوراً یروشلم پہنچ گیا ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے وہ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ہم اس کا شکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا جَاۗءَتْ قِيْلَ اَہٰكَذَا عَرْشُكِ۝ 0ۭ قَالَتْ كَاَنَّہٗ ہُوَ۝ 0ۚ وَاُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَكُنَّا مُسْلِـمِيْنَ۝ 42 عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

ترکیب : : ننظر بالجزم علی الجواب و بالرفع علی الاستیناف و صدھا۔ الفاعل اما الضمیر الراجع الی اللہ تعالیٰ او الی سلیمان ای و صدھا ما کانت الخ عباد تھا۔ الشمس عن التقدم الی الاسلام انہا بالکسر علی الاستیناف و بابفتح علی البدل من مایکون ما علی ھذا مصدریۃ الصرح القصر و قیل عرصۃ الدار۔ قال نکروا لہا الخ یہاں سے پھر اصل قصہ شروع ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تحت میں کچھ ایسا تغیر و تبدل کردو کہ اس کی پہلی صورت بدل جاوے تاکہ میں جب بلقیس آوے اس کی عقل کا امتحان کروں کہ۔ تفسیر : : دُنیاوی چیزوں کی پہچان میں جب یہ حال ہو تو خدا کی ذات وصفات کے پہچاننے میں تم نے کتنی غلطی نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا جَـآئَ تْ قِیْلَ اَھٰـکَذَا عَرْشُکِ ط قَالَتْ کَاَنَّـہٗ ھُوَ ج وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنُ ۔ (النمل : 42) (ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے، ہم کو اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکا تھا اور ہم نے سراطاعت جھکا دیا تھا۔ ) ملکہ سبا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں ملکہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں پہنچ گئی تو اس سے پوچھا گیا کہ یہ تخت جو تمہارے سامنے پڑا ہے، کیا یہ تمہارا ہی ہے ؟ تو اس نے دیکھ کر کہا کہ یہ تو بالکل ویسا ہی معلوم ہوتا ہے اور پھر وہ جان گئی کہ یہ واقعی میرا تخت ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–43

فہم القرآن ربط کلام : تخت کے بارے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ کو سوال اور اس کا جواب۔ جونہی ملکہ اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ شاہانہ انداز میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے تخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار فرمایا۔ ” کیا آپ کا تخت اس طرح کا ہے ؟ “ اس نے کہا جی ہاں ! کیوں نہیں یہ وہی ہے ہمیں تو آپ کے بارے میں سب کچھ پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے۔ اس لیے ہم تابعدار ہو کر آئے ہیں۔ تخت کی پہچان اور ملکہ کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی ہی دانا عورت تھی۔ جس نے سفارتی نمائندوں کے ذریعے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کردار اور اقتدار کو سمجھ لیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42: فَلَمَّا جَآئَ تْ (پس جب بلقیس آئی) ۔ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِ (اس کو کہا گیا۔ تیرا تخت اسی طرح کا ہے) ۔ نحو : ہا حرف تنبیہ ہے اور کاف تثنیہ کے لئے ذا اسم اشارہ ہے۔ عجیب سوال و جواب : آپ نے أہکذا عرشک فرمایا۔ اہذا عرشک۔ امثل ہذا عرشک نہیں فرمایا۔ تاکہ تلقین نہ بنے۔ قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ (اس نے کہا۔ گویا یہ وہی ہے) اس نے بہترین جواب دیا اور اس نے ھو ہو یا لیس بہٖ نہیں کہا۔ یہی اس کی عقل مندی کی علامت تھی۔ کہ ایسی بات کہی جس میں دونوں باتوں کا احتمال تھا۔ یا جب انہوں نے اہکذا عرشک کہہ کر اس پر معاملے کو مشتبہ کیا تو اس نے بھی اپنے قول کَانَّہ ہُوَ سے ان پر بات کو مشتبہ کردیا۔ باوجودیکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42۔ فلما جاء ت قیل، ، اس کو کہا گیا کہ ، اھکذاعرشک قالت کانہ ھو، ، مقاتل کا بیان ہے کہ بلقیس نے اپناتخت پہچان لیا تھا لیکن اشتبا ہی الفاظ میں اسنے جواب اس لیے دیا کہ اس سے مشتبہ الفاظ ہی میں سوال کیا گیا تھا، عکرمہ کا قول ہے کہ وہ حکیم خاتون تھیں انہوں نے نعم اس لیے کہا کہ ان کی تکذیب نہ کی جاتی اور لا اس خوف سے نہیں کہا کہ اس سے بھی تکذیب کا اندیشہ تھا اس نے کہاگویا کہ یہ وہی ہے حضرت سلیمان نے اس کی عقل پہچان لیا کہ اس نے نہ تو انکار کیا اور نہ ہی اقرار کیا۔ بعض نے کہا اس کو اشتباہ اس وجہ سے ہوا کہ اس نے اپناعرش پیچھے ایسے گھر میں رکھا تھا، جو سات دروازوں کے اندرمقفل تھا اور اس کی چابیاں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–43

(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–42

43 ملکہ نے کہا یہ تو گویا وہی ہے : سو نہ تو اس نے یہ کہا کہ یہ بالکل وہی ہے اور نہ یہ کہ یہ وہ نہیں۔ بلکہ کہا " گویا کہ یہ وہی ہے " اور امر واقع بھی ایسے ہی تھا۔ سو اس سے اس کی زیرکی اور عقل مندی کا پتہ چلتا ہے کہ ذاتی طور پر وہ واقعی بڑی ذہین فطین عورت تھی۔ مگر کفر و شرک کے ماحول اور اس کی نحوست کی بنا پر اس کی مت مار دی گئی تھی اور وہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہوگئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت سلیمن کے اس معجزے کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں اور پھر صاف اور صریح لفظوں میں اعتراف اور اقرار کیا کہ ہمیں سلیمان کی عظمت شان آپ کے مرتبہ و مقام اور آپ کے کارناموں کا علم اس سے پہلے ہی ہوگیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف : مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔ امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ نہ صاف طور پر اثبات میں جواب دیا اور نہ نفی میں بلکہ توقف کیا جو اس کی کمال دانشمندی کی دلیل ہے۔ (کبیر) عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ وہ بڑی دانا تھی اس نے اپنا تخت پہچان لیا لیکن چونکہ اس سے یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے اس لئے اس نے جواب دیا کہ یہ تو گویا وہی ہے۔ اگر اس سے یہ پوچھا جاتا کہ کیا یہی تیرا تخت ہے تو وہ صاف طور ہاں میں جواب دیتی۔ (شوکانی) 3 ۔ کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں۔ اب یہ ایک اور نشانی دیکھنے میں آئی کہ اتنا بڑا تخت اتنے دور دراز ملک سے یوں منگوا لیا گیا۔ (کبیر) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور اس کے مصاحبین کا کلام ہو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:42) اھکذا۔ ہمزہ استفہامیہ ھا حرف تنبیہ ک حرف تشبیہ ذا اسم اشارہ قریب مذکر کیا ایسا ہی ہے ؟ کیا اس کی طرح کا ہی ہے ؟ عرشک۔ تمہارا تخت۔ کانہ۔ کان حرف مشابہ بفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب کان کا اسم گریا کہ وہ۔ کانہ ھو گویا وہی ہے یعنی اسی کی طرح کا ہے۔ اوتینا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ہم کو دیا گیا۔ ہم کو ملا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ العلم : ای العلم بکمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وصحۃ نبوتک۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور آپ کی نبوت کا علم (ہم کو پہلے ہی پہنچ چکا تھا) ۔ وکنا مسلمین اور ہم مسلمان ہوچکے ہیں ایمان لا چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–44

لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 : ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 : جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–43

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر، بلقیس سورج پرست کا مسلمان ہونا اور اسکے تخت کا ذکر۔ (ف 1) آپ کے وزیر آصف بن برخیا تھے ، جب حضرت سلیمان نے تخت کی بابت کہا تو انہوں نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتا ہوں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں حضرت سلیمان نے فرمایا کہ تم ہی لے آؤ اس کے بعد وہ سجدہ میں جاکریہ کہنے لگا ، یاحی ، یاقیوم، اور بعض کہتے ہیں، یا ذوالجلال والاکرام، کہا تو فورا وہ تخت اپنی جگہ سے زمین میں غائب ہوگیا ایک پلک کے جھپکتے ہی زمین سے حضرت سلیمان کے تخت کے برابر زمین سے برآمد ہوگیا۔ پھر جب اس تخت کو حضرت سلیمان نے اپنے پاس دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ میرے پروردگار کے فضل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی اس معجزے کی حاجت نہ تھی۔ ہم کو پہلے ہی یقین ہوچکا تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) محض بادشاہ نہیں اللہ کے مقرب بندے بھی ہیں اس لئے ہم نے اطاعت کا راستہ اختیار کیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–43

ف 2: اس واقعہ سے بعض کو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی دور سے اس قدر تخت کے آجانے میں کیونکر عقلی امکانات ہیں ! وہ اس قصے کو حقیقت پر مبنی نہیں سمجھتے اور افسانہ قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ بالکل ناممکن ہے اس سلسلے میں دو باتوں کا سمجھ لینا ضروری ہے ۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت زیادہ وسیع ہے ۔ جب آفتاب ایسے بڑے کرے کو چند گھنٹوں میں اربوں میل گھمادیتا ہے تو اس کے لئے یہ کچھ مشکل نہیں کہ وہ سلیمان کے خدام کو میں سے کسی شخص کو اتنی طاقت دے کہ بہت جلد تخت کو لا حاضر کرے ۔ دوسری بات حرکت کی تجدید کا مسئلہ ہے اور تخت علم الحرکت کے ماہرین کا خیال ہے کہ کہ اس کو جھوٹ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ چناچہ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) پھر جب بلقیس حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے اس نے جواب دیا گویا ہوبہو وہی ہے کہنے لگی ہاں ہے تو ایسا ہی اور ہم لوگوں کو تو اس واقعہ سے پہلے معلوم اور تحقیق ہوچکا ہے اور ہم حکم بردار ہوچکے ہیں یعنی آپ کا حال پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے کہ آپ صرف بادشاہ ہی نہیں ہیں بلکہ آپ کے پاس حکومت و نبوت دونوں چیزیں ہیں اس معجزے کی چنداں ضرورت نہ تھی ہم تو آپ کے کمالات کے پہلے ہی معترف اور آپ کے مطیع و منقاد ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) یعنی اس معجزے کی حاجت نہ تھی 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

ف 2۔ اقرب یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں۔ 3۔ چناچہ آپ نے حق تعالیٰ سے دعا کی اور تخت فورا سامنے آموجود ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ملکہ اپنے مقررہ وقت پر پہنچی اور اس کو وہ تخت پیش کردیا گیا اور تخت کی بات شروع ہوگئی : 42۔ ملکہ سبا اپنے پروگرام کے مطابق مقررہ تاریخ کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچ گئی اور آپ نے بھی آنے والوں کا خوب استقبال کیا اور استقبال کرنے ہی میں ان پر ساری بات واضح کردی کہ جس شان و شوکت کے وہ مالک ہیں اس سے کہیں بہت زیادہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) عظمت وبڑائی کے مالک ہیں اگرچہ وہ اس عظمت پر کوئی ناز ونخرہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان چیزوں کا اظہار کرنا وہ پسند کرتے ہیں ۔ استقبال کے بعد جب ان کے بٹھانے اور ٹھہرانے کا وقت آیا تو ملک سبا کو اس طرف لے جایا گیا جس طرف اس کے ٹھہرنے کا انتظام کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–43

قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ (Said the one who had the knowledge of the book - 27:40). The question is as to who was this person? One possibility is that he was Sulaiman (علیہ السلام) himself, because his knowledge of the book of Allah was most extensive. In that case this incident happened as a miracle. The objective was also that Bilqis should have an experience of the prophetic miracle, so that no doubt was left in her mind. But Ibn Jarir has reported from many commentators of the Qur'an, like Qatadah, that he was a person from the companions of Sayyidna Sulaiman (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52 This also refutes the speculations of those people who depict the event in :t manner as though the Prophet Solomon wanted to have u throne made for the queen and for this purpose he invited tenders and a strong, robust artisan offered to make hint a throne in the matter of a few hours, but ,n expert craftsman submitted that he could make and produce it in no time. This w hole guess-work is destroyed by the tact that Solomon himself ordered the throne to be fetched before him (v. 381,, and when it had been fetched, ordered his servants to set it before the queen casually Iv. 41), and then…

Read the full tafseer →