Explained with ayahs 41–44
بلقیس کا تخت آنے کے بعد
اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے…
Read the full tafseer →سورة النمل 50
بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ ملکہ کیسے بیت المقدس پہنچی اور کسی طرح اس کا استقبال ہوا، اسے چھوڑ کر اب اس وقت کا حال بیان کیا جارہا ہے جب وہ حضرت سلیمان کی ملاقات کے لیے ان کے محل میں پہنچ گئی۔
سورة النمل 51
ذو معنی فقرہ ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پاکر یہ سمجھ جاتی ہے یا نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے، اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے۔
اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان اس تخت پر قبضہ کرنے کی نیت رکھتے تھے، یہاں وہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ ، یعنی کہا اس شخص نے جس کے پاس علم تھا کتاب میں سے یہ کون شخص تھا ؟ اس کے متعلق ایک احتمال تو وہ ہی جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ خود حضرت سلیمان ؑ مراد ہیں کیونکہ کتاب اللہ کا سب سے زیادہ علم انہیں کو حاصل تھا۔ اس صورت میں یہ سارا معاملہ بطور معجزہ کے ہوا اور یہی مقصود تھا کہ بلقیس کو پیغمبرانہ اعجاز کا مشاہدہ ہوجائے اور کوئی اشکال اس معاملے میں نہ رہے۔ مگر اکثر ائمہ تفسیر فتادہ وغیرہ سے ابن جریر نے نقل کیا ہے اور قرطبی نے اسی کو جمہور کا قول قرار دیا ہے کہ یہ کوئی شخص حضرت سلیمان ؑ کے اصحاب میں سے تھا۔ ابن اسحاق نے اس کا نام آصف بن برخیا…
Read the full tafseer →قال نکرہ لھا عرشھا نظرا تھتدی ام تکون من الذین لایھتدون (41)
حضرت سلیمان کا ایک تفنن
حضرت سلیمان کے پیش نظر تخت کے منگوا لینے سے مقصود مجرد اس کا منگوا لینا تو تھا نہیں بلکہ وہ اس طرح مکہ اور اس کے اعیان کے سامنے اس علم حق کی سطوت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو بخشا تھا۔ انہوں نے چاہا کہ جب ملکہ آئیں تو وہ اس تخت کو دکھا کر ان سے پوچھیں کہ جس تخت پر آپ فروکش ہوتی ہیں وہ اسی طرح کا ہے یا اس سے کچھ مختلف ہے ! یہ ایک قسم کا تفنن تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے آدمیوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ تخت کی ہئیت میں فی الجملہ تبدیل کردی جائے تاکہ ملکہ صاحبہ کے لئے ان کا اپنا تخت ایک پہیلی بن…
Read the full tafseer →41-1یعنی اس کے رنگ روپ یا واضح و شکل شباہت میں تبدیلی کردو۔
41-2یعنی وہ اس بات سے آگاہ ہوتی ہے کہ یہ تخت اسی کا ہے یا اس کو سمجھ نہیں پاتی ؟ دوسرا مطلب ہے کہ وہ راہ ہدایت پاتی ہے یا نہیں ؟ یعنی اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی اس پر راہ ہدایت واضح ہوتی ہے یا نہیں ؟
Read the full tafseer →15: یعنی اس کی شکل میں کوئی ایسی تبدیلی کر دو جس کی وجہ سے اسے پہچاننے میں کچھ دقت ہو، اور اس کی سمجھ کو آزمادیا جاسکے۔
Read the full tafseer →قال نکروالھا ……لایھتدون (14)
یعنی اس تخت کی امتیازی خصوصیات کو ختم کر دو تاکہ دیکھا جائے کہ وہ اس تحت کو اپنی فراست اور ذہانت سے پہنچانتی ہے یا نہیں۔ یا اس معمولی تبدیلی سے اس کے لئے اس کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
شاید یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے اس کی ذہانت اور فراست کا امتحان تھا۔ تخت کے بارے میں اس اچانک اور ناقابل توقع صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد اب حضرت سلیمان اور ملکہ کی ملاقات ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →1 یعنی تخت کا رنگ روپ تبدیل کردو۔ اور اس کی وضع و ہیئت بدل ڈالو، جسے دیکھ کر بلقیس باآسانی نہ سمجھ سکے۔ اس سے بلقیس کی عقل و فہم کو آزمانا تھا کہ ہدایت پانے کی استعداد اس میں کہاں تک موجود ہے۔
Read the full tafseer →آیت 41 قَالَ نَکِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا ”
کہ ملکہ کو آزمانے کے لیے تخت کی ظاہری ہیئت میں تھوڑی بہت تبدیلی کر دو۔
Read the full tafseer →39 یہاں نکروا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نکر میں جو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (1) اجنبیت اور (2) ناگواری، اور تنکیر کی ضد تعریف ہے۔ تعریف کے معنی کسی کو پہچان لینا اور تنکیر کے معنی کسی کو نہ پہچاننا اور اجنبیت محسوس کرنا۔ گویا نکرو کا معنی اس تحت میں ایسی تبدیلی لانا ہے جس سے وہ پوری طرح پہچانا نہ جاسکے اور اس سے حضرت سلیمان بلقیس کی عقل کا امتحان لینا چاہتے تھے کہ اس کی عقل کہاں تک کام کرتی ہے پھر اس سے وہ یہ نتیجہ بھی اخذ کرنا چاہتے تھے کہ آیا وہ اتنی عقلمند ہے کہ شرک اور توحید میں تمیز کرسکے ؟ چناچہ آپ کے کاریگروں نے اس کے تخت میں اتنی تبدیلی کی ایک جگہ کے جواہر وہاں سے اکھار کر کسی…
Read the full tafseer →47۔ (تاکہ اس سے خود ملکہ کے عاقل وذہین ہونے نہ ہونے کا فیصلہ ہوجائے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
آیت نمبر 40 تا 44
ترجمہ : سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں جس کے پاس نازل کردہ کتاب کا علم تھا وہ بولا اور وہ آصف بن برخیا تھا وہ مقام صد یقیت پر فائز تھا، وہ اللہ کے اسم اعظم سے واقف تھا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا جب کہ آپ اپنی نظر سے کسی شئ کو دیکھیں (آسف بن برخیا) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا آپ آسمان کی طرف دیکھیں چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نظر کو پھرایا تو تخت کو اپنے سامنے رکھا ہوا پایا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →قال نکروالھا عرشھا ننظر اتھتدی ام تکون من الذین لا تھتدون . سلیمان نے (بلقیس
کی سمجھ کو جانچنے کے لئے) حکم دیا : اس کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو ۔ ہم دیکھیں گے اس کو صحیح پتہ لگتا ہے یا اس کا شمار انہی لوگوں میں ہے جو (ایسی باتوں کا) پتہ نہیں لگا سکتے۔ نَکِّرُوْا یعنی تخت کو ایسا کر دو کہ وہ پہچان نہ سکے۔ (اس کو اپنا نہیں کوئی غیر تخت محوس ہو۔ مترجم) روایت میں آیا ہے کہ حسب الحکم تخت کے نچلے حصہ کو بالائی اور بالائی حصہ کو نچلا کردیا گیا اور سرخ جواہر کی جگہ سبز جواہر جڑ دئیے گئے اور سبز کی جگہ سرخ۔
اَتَھْتَدِیْ کیا وہ اپنے تخت کو شناخت کرنے کی راہ پالے گی (کسی طریقہ سے شناخت کرسکے گی)…
Read the full tafseer →(41) پھر حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ بلقیس کے تخت کی شکل بدل دو یعنی اس میں کچھ کمی بیشی کر دو تاکہ ہم دیکھیں کہ ان کو اس کا پتا چلتا ہے یا نہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا : سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس کے تخت میں ایسی تبدیلی کر دو کہ اس کی پہچان نہ ہو سکے۔
نَنْظُرْ اَتَهْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ۔۔ : تاکہ اس کی عقل و دانش اور فہم و فراست کا امتحان کریں کہ وہ یہ بات جان لیتی ہے کہ یہ تخت اسی کا ہے، یا اسے سمجھ نہیں پاتی، اور اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر (ایمان باللہ کی) راہ پر آتی ہے، یا پھر بھی انھی لوگوں میں شامل رہتی ہے جو یہ راہ نہیں پاتے۔ ”اَتَهْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ“ میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت
قال نکروالھا عرشھا اس کی ہئیت بدل دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا اوپر والا حصہ نیچے کردو اور نیچے والا حصہ اوپر کر دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کمی بیشی کے ساتھ اس کو تبدیل کر دو ۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : آپ نے اس کی ہئیت بدلنے کا حکم دیا کیونکہ شیاطین نے آپ سے عرض کی تھی : اس کی عقل میں خربای ہے، تو آپ نے اسے آزمانے کا ارادہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جنوں کو خوفہوا تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے شادی کریں گے تو اس کے بطن سے حضرت سلیمان کا بیٹا پیدا ہوگا۔ تو وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آل کے لئے ہمیشہ مخسر رہیں گے۔ انہوں نیحضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کی : وہ عقل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
ارکان سلطنت سے مشورہ
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قَالَ [ (سلیمان (علیہ السلام) نے ) کہا ] نَكِّرُوْا [ تم لوگ بھیس بدل دو ] لَهَا [ اس (ملکہ) کے لئے ] عَرْشَهَا [ اس کے تخت کا ] نَنْظُرْ [ تو ہم دیکھیں گے ] اَ [ آیا ] تَهْتَدِيْٓ [ وہ سمجھتی ہے ] اَمْ [ یا ] تَكُوْنُ [ وہ ہوتی ہے ] مِنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں سے جو ] لَا يَهْتَدُوْنَ [ سمجھ نہیں پاتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ سبا کا تخت منگوانا، پھر اس سے دریافت کرنا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ پھر اس کا مسلمان ہوجانا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے قاصدوں کو ہدایا سمیت واپس کردیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ لوگ فرماں بردار ہو کر آئیں گے ہمارے لشکروں سے لڑنے کا ارادہ نہ کریں گے، بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ ملکہ سبا اپنے مصاحبین کے ساتھ روانہ ہوچکی تھی بلکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پایہ تخت کے قریب پہنچ چکی تھی حتیٰ کہ اس کا غبار بھی نظر آگیا تھا لہٰذا انہوں نے عرش کو حاضر کرنے کا حکم فرمایا اور یہ مناسب جانا کہ اپنی قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
36:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس تخت میں کچھ جزوی تبدیلیاں کر کے اس کی شکل بدل دو تاکہ بلقیس کی عقل و فراست کا امتحان کریں آیا وہ اسے پہچان لیتی ہے یا نہیں۔ فلما جاءت الخ، جب بلقیس پہنچ گئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ سوال میں یہ نہیں کہا گیا، اھکذا عرشک، کیا یہ تمہارا تخت ہے ؟ تاکہ یہ سوال اور پیچیدہ ہوجائے۔ قالت کانہ ھو، بلقیس نے نہایت دانشمندانہ جواب دیا کہ بالکل ویسا ہی ہے۔ یہ نہیں کہا کہ بالکل وہی ہے یا وہ نہیں ہے کیونکہ دونوں جواب سوال کے مطابق نہیں تھے۔ واوتینا العلم الخ، یہ بلقیس کا کلام ہے، من قبلھا کی ضمیر سے احضار عرش کا معجزہ مراد ہے۔ یعنی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات
گزشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے شرف اور آپ کی غیر معمولی قوت کا ذکر تھا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی تھی ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے پاس ملکہ سبا کا تخت کون لائے گا ۔ ایک سر کش جن نے کہا کہ میں آپ کی مجلس برخاست ہونے سے قبل تخت کو لاسکتا ہوں ۔ مگر سلیمان (علیہ السلام) اس سے بھی جلدی کے خواہش مند تھے۔ چناچہ ایک عالم کتاب شخص نے کہا کہ میں وہ تخت آنکھ جھپکنے سے پہلے لاسکتا ہوں ، چناچہ ایسا ہی ہوا ملکہ کا تخت ملک سبا سے فوراً یروشلم پہنچ گیا ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے وہ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ہم اس کا شکر…
Read the full tafseer →قَالَ نَكِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا نَنْظُرْ اَتَہْتَدِيْٓ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَہْتَدُوْنَ 41
تَنْكِيرُ
الشَّيْءِ من حيثُ المعنی جعْلُه بحیث لا يُعْرَفُ. قال تعالی: نَكِّرُوا لَها عَرْشَها
[ النمل/ 41] وتعریفُه جعْلُه بحیث يُعْرَفُ.
تنکیر الشئی کے معنی کسی چیز بےپہچان کردینے کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ نَكِّرُوا لَها عَرْشَها[ النمل/ 41] اس کے تخت کی صورت بد ل دو ۔ اور اس کے بالمقابل تعریف کے معنی کسی چیز کو معروف بنانے کے ہیں
اهْتِدَاءُ
يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ترکیب : : ننظر بالجزم علی الجواب و بالرفع علی الاستیناف و صدھا۔ الفاعل اما الضمیر الراجع الی اللہ تعالیٰ او الی سلیمان ای و صدھا ما کانت الخ عباد تھا۔ الشمس عن التقدم الی الاسلام انہا بالکسر علی الاستیناف و بابفتح علی البدل من مایکون ما علی ھذا مصدریۃ الصرح القصر و قیل عرصۃ الدار۔
قال نکروا لہا الخ یہاں سے پھر اصل قصہ شروع ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تحت میں کچھ ایسا تغیر و تبدل کردو کہ اس کی پہلی صورت بدل جاوے تاکہ میں جب بلقیس آوے اس کی عقل کا امتحان کروں کہ۔
تفسیر : : دُنیاوی چیزوں کی پہچان میں جب یہ حال ہو تو خدا کی ذات وصفات کے پہچاننے میں تم نے کتنی غلطی نہ…
Read the full tafseer →قَالَ نَـکِّرُوْا لَھَا عَرْشَھَا نَنْظُرْ اَتَھْتَدِیْٓ اَمْ تَـکُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (النمل : 41)
(حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی شکل بدل دو ، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو راہ راست نہیں پاتے۔ )
تخت ذریعہ ہدایت
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس تخت کو ہدایت کا ذریعہ بنایا، اس لیے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ اس تخت کی شکل اس طرح بدل ڈالو کہ وہ ملکہ کے لیے اجنبی سا ہو کر رہ جائے۔ جب تک غور سے نہ دیکھا جائے پہچاننا مشکل ہو کہ یہ ملکہ ہی کا تخت ہے۔ مقصود اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کیا وہ صرف اپنے مشاہدے پر اکتفا کرتی ہے یا حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فہم القرآن
ربط کلام : دیوہیکل جن کے اظہار خیال کے بعد ایک صاحب علم کا ردِّ عمل اور اس کی پیشکش۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قریبی لوگوں میں ایک شخص اٹھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا کہ میں آپ کے آنکھ جھپکنے سے پہلے آپ کے سامنے ملکہ کا تخت پیش کرتا ہوں۔ یہ کہتے ہی اس نے ملکہ کا تخت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حضور پیش کردیا۔ تخت دیکھتے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عاجزانہ اور متشکرانہ انداز میں کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا نہ شکری کرتا ہوں جو شکر ادا کرتا ہے اس کے شکر کا اسے ہی فائدہ پہنچتا ہے جو ناشکری کرتا ہے بلاشبہ میرے رب کو اس کی ناشکری…
Read the full tafseer →41: قَالَ نَکِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا (آپ نے فرمایا اس کا تخت تبدیل کردو) ۔ یعنی اس کے مقدم کو موخر اور اعلیٰ کو اسفل کردو۔ نَنْظُرْ (ہم دیکھیں) ۔
نحو : جزم کی صورت میں یہ جواب ہے۔ اَتَہْتَدِیْ (کیا اس کو صحیح پتہ چلتا ہے) ۔ اپنے تخت کی پہچان کرنے میں موقعہ سوال پر درست جواب دینے میں۔ اَمْ تَکُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَہْتَدُوْنَ (یا اس کا شمار انہی لوگوں میں ہے جو ایسی باتوں کا پتہ نہیں لگا سکتے) ۔
Read the full tafseer →41۔ قال نکروالھا عرشھا، اس کے عرش کو تبدیل کردو تاکہ اس کو دیکھتے ہی وہ اس کو پہچان نہ لے۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس میں کمی اور زیادتی کرلو۔ روایت میں ایا ہے کہ اس کے نچلے والے حصے کو اوپر اوپر والے حصے کو نیچے کردو اور سرخ جواہر وموتیوں کی سبز موتیوں کے ساتھ اور سبز موتیوں کو سرخ موتیوں کے ساتھ بدل دو ۔ ننظر اتھتدی، عرش کو دیکھ کر اس کو پہچان لے گی، ام تکون من، یا وہ جاہلین میں سے ہوں گی، الذین لایھتدون، ،۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے تخت کی تبدیلی کیوں کی۔
حضرت سلیمان نے ایسا کیوں اس کے بارے میں وہب بن منبہ اور کعب وغیرہ کا بیان ہے کہ شیطان کو یہ اندیشہ تھا کہ حضرت سلیمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
43 ملکہ نے کہا یہ تو گویا وہی ہے : سو نہ تو اس نے یہ کہا کہ یہ بالکل وہی ہے اور نہ یہ کہ یہ وہ نہیں۔ بلکہ کہا " گویا کہ یہ وہی ہے " اور امر واقع بھی ایسے ہی تھا۔ سو اس سے اس کی زیرکی اور عقل مندی کا پتہ چلتا ہے کہ ذاتی طور پر وہ واقعی بڑی ذہین فطین عورت تھی۔ مگر کفر و شرک کے ماحول اور اس کی نحوست کی بنا پر اس کی مت مار دی گئی تھی اور وہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہوگئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت سلیمن کے اس معجزے کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں اور پھر صاف اور صریح لفظوں میں اعتراف اور اقرار کیا کہ ہمیں سلیمان کی عظمت شان آپ کے مرتبہ و مقام اور آپ کے کارناموں کا علم اس سے پہلے ہی ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف :
مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔
امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…
Read the full tafseer →1 ۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” آیا وہ (ایمان باللہ کی) راہ پاتی ہے یا ان لوگوں میں شامل ہوتی ہے جو (یہ) راہ نہیں پاتے “ ؟
Read the full tafseer →(27:41) نکروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر نکر ینکر تنکیر (تفعیل) تنکیر الشیء کے معنی کسی چیز کو بئے پہچان کردینے کے ہیں۔ یعنی اس کی حالت کو ایسا بدل دو کہ (ملکہ سبا) پہچان نہ سکے۔
ننظر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع متکلم ۔ ہم دیکھیں۔ نظر ینظر (نصر) نظر سے۔
اتھتدی۔ میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تھتدی مضارع معروف واحد مؤنث غائب۔ اھتدی یھتدی اھتداء (افتعال) راہ (ہدایت) پانا۔ وہ راہ پاتی ہے یعنی سمجھ جاتی ہے۔
ای الی معرفۃ العرش کیا تخت کو پہچاننے کی راہ پاتی ہے او الی الایمان باللہ وبرسولہ یا (اس حیرت انگیز معجزہ کو دیکھ کر کہ اس کا تخت جو وہ سینکڑوں میل پیچھے محفوظ چھوڑ آئی ہے اور اب وہ سامنے پڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 :
ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔
تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 :
جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر، بلقیس سورج پرست کا مسلمان ہونا اور اسکے تخت کا ذکر۔
(ف 1) آپ کے وزیر آصف بن برخیا تھے ، جب حضرت سلیمان نے تخت کی بابت کہا تو انہوں نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتا ہوں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں حضرت سلیمان نے فرمایا کہ تم ہی لے آؤ اس کے بعد وہ سجدہ میں جاکریہ کہنے لگا ، یاحی ، یاقیوم، اور بعض کہتے ہیں، یا ذوالجلال والاکرام، کہا تو فورا وہ تخت اپنی جگہ سے زمین میں غائب ہوگیا ایک پلک کے جھپکتے ہی زمین سے حضرت سلیمان کے تخت کے برابر زمین سے برآمد ہوگیا۔ پھر جب اس تخت کو حضرت سلیمان نے اپنے پاس دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ میرے پروردگار کے فضل…
Read the full tafseer →[12] تخت کی صورت بدل دینے سے ملکہ کی عقل و فہم کو آزمانا تھا کہ ہدایت پانے کی استعداد اس میں کہاں تک موجود ہے۔
Read the full tafseer →نکروا حلیہ بگاڑ دو ۔ صورت تبدیل کردو
Read the full tafseer →(41) سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ بلقین کے لئے اس کے تخت میں کچھ تغیر و تبدیلی کردو تاکہ ہم دیکھیں کہ اس کو اس کا پتہ لگتا ہے یا اس کا شمار ان ہی لوگوں میں ہے جن کو پتہ نہیں لگتا اور راہ نہیں ملتی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں روپ بدلنا کہ وہ جڑا ئو تھا اس کا جڑائو اکھیڑ کر اور قرینے سے جڑا اور بلقیس کی عقل آزمائی منظور تھی اور اپنا معجزہ دکھانا 12 یعنی چیز وہی تھی اس کی صورت اور اس کے روپ میں کچھ تبدیلی کرادی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ف 2۔ اقرب یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں۔
3۔ چناچہ آپ نے حق تعالیٰ سے دعا کی اور تخت فورا سامنے آموجود ہوا۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تخت کو نقشہ کے مطابق پایا اور پھر اس میں کچھ ترمیم کا حکم دیا :
41۔ (نکروا) کی اصل ن ک ر ہے اور جمع مذکر حاضر امر معروف اس کے معنی دو طرح ہو سکتے ہیں تم اس کی حالت کو بدل دو تم اس کو ناپسندیدہ کر دو ، اس تخت کو جب آپ نے دیکھا تو بلاشبہ اسی نقشہ کے مطابق پایا جو اس کتاب میں دکھایا گیا تھا لیکن بعض چیزیں چونکہ آپ کو اس میں ایسی نظر آئیں جو اسلامی نقطہ نگاہ سے درست نہ تھیں آپ نے انکو بدل دینے کا حکم دیا اور تاکید کی کہ اس کو اسی طرح بدل دیا جائے کہ اس کا ظاہری حسن بھی پہلے سے دوبالا ہوجائے اور یہ چیزیں جو غیر شرعی ہیں وہ اس میں نظر نہ آئیں کیونکہ ہم کو تخت درکار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ (Said the one who had the knowledge of the book - 27:40). The question is as to who was this person? One possibility is that he was Sulaiman (علیہ السلام) himself, because his knowledge of the book of Allah was most extensive. In that case this incident happened as a miracle. The objective was also that Bilqis should have an experience of the prophetic miracle, so that no doubt was left in her mind. But Ibn Jarir has reported from many commentators of the Qur'an, like Qatadah, that he was a person from the companions of Sayyidna Sulaiman (علیہ…
Read the full tafseer →50 As to how the queen reached Jerusalem and how she was received, has been omitted. The story is resumed from the time when she had arrived at the palace to see Prophet Solomon .
51 This is a meaningful sentence, which means: (1) "Whether she understands or not that it is her own throne which has been fetched in no time from her capital to distant place like Jerusalem;" and also (2) "whether she is guided aright after seeing this wonderful miracle, or persists in her error." This ref utes the wrong idea of the people who say that the Prophet Solomon intended to take possession of the throne.…
Read the full tafseer →