Explained with ayahs 38–40
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا
جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ…
Read the full tafseer →سورة النمل 47
اس شخص کے بارے میں قطعی طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کون تھا اور اس کے اپس وہ کس خاص قسم کا علم تھا اور اس کتاب سے کونسی کتاب مراد ہے جس کا علم اس کے پاس تھا، ان امور کی کوئی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں، مفسرین میں سے بعض کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ کوئی انسان تھا پھر اس انسان کی شخصیت کے تعیین میں بھی ان کے درمیان اختلاف ہے، کوئی آصف بن برخیاہ (Asaf B Barchiah) کا نام لیتا ہے جو یہودی ربیوں کی روایات کے مطابق رئیس الرجال (Princeof Men) تھے، کوئی کہتا ہے کہ وہ حضرت خضر تھے، کوئی کسی اور کا نام لیتا ہے اور امام رازی کو اصرار ہے کہ وہ خود حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ ، یعنی کہا اس شخص نے جس کے پاس علم تھا کتاب میں سے یہ کون شخص تھا ؟ اس کے متعلق ایک احتمال تو وہ ہی جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ خود حضرت سلیمان ؑ مراد ہیں کیونکہ کتاب اللہ کا سب سے زیادہ علم انہیں کو حاصل تھا۔ اس صورت میں یہ سارا معاملہ بطور معجزہ کے ہوا اور یہی مقصود تھا کہ بلقیس کو پیغمبرانہ اعجاز کا مشاہدہ ہوجائے اور کوئی اشکال اس معاملے میں نہ رہے۔ مگر اکثر ائمہ تفسیر فتادہ وغیرہ سے ابن جریر نے نقل کیا ہے اور قرطبی نے اسی کو جمہور کا قول قرار دیا ہے کہ یہ کوئی شخص حضرت سلیمان ؑ کے اصحاب میں سے تھا۔ ابن اسحاق نے اس کا نام آصف بن برخیا…
Read the full tafseer →قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقراً عندہ قال ھذا من فضل ربی لیبلونی اشکر امرا کفر ومن شکرفا فما یشکر نصہ ومن کفرفان ربی غنی کریماً (40)
ایک عالم کتاب کا کارنامہ
جب ایک جن نے پیشکش کی تو دربار کے ایک عالم کتاب کی غیرت جوش میں آگئی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ کیا بات ہوئی یہ دربار کی برخاست ہونے تک تخت کے لانے کا وعدہ کرتا ہے میں آپ کی پلک جھپکتے اس کو حاضر کئے دیتا ہوں اتنے میں حضرت سلیمان نے دیکھا کہ تخت ان کے سامنے موجود ہے۔
علم کتاب سے مراد ظاہر ہے کہ خدا کی کتاب و شریعت یعنی تو رات کا علم ہے۔ اس عالم کتاب کو معلوم ہوتا ہے کہ اس علم میں بھی درخور حاصل…
Read the full tafseer →40-1یہ کون شخص تھا جس نے یہ کہا ؟ یہ کتاب کون سی تھی ؟ اور یہ علم کیا تھا، جس کے زور پر یہ دعویٰ کیا گیا ؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، ان تینوں کی پوری حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہاں قرآن کریم کے الفاظ سے جو معلوم ہوتا ہے وہ اتنا ہی ہے کہ وہ کوئی انسان ہی تھا، جس کے پاس کتاب الٰہی کا علم تھا، اللہ تعالیٰ نے کرامات اور اعجاز کے طور پر اسے یہ قدرت دے دی کہ پلک جھپکتے میں وہ تخت لے آیا۔ کرامت اور معجزہ نام ہی ایسے کاموں کا ہے جو ظاہری اسباب اور امور عادیہ کے یکسر خلاف ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہی ظہور پذیر پاتے ہیں۔ اس لئے نہ شخصی قوت قابل تعجب ہے اور نہ اس علم کا سراغ…
Read the full tafseer →14: قرآن کریم نے اس شخص کا تعین نہیں فرمایا، صرف اتنا کہا ہے کہ اس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ بظاہر اس کتاب سے مراد تورات ہے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ حضرت سلیمان ؑ کے وزیر آصف بن برخیا تھے اور ان کو اسم اعظم کا علم حاصل تھا جس کی بنا پر انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس کی برکت سے پلک جھپکنے کی دیر میں تخت وہاں لے آئیں گے۔ دوسری طرف امام رازی وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد خود حضرت سلیمان ؑ ہیں۔ کیونکہ کتاب کا جتنا علم ان کو حاصل تھا، اتنا کسی اور کو نہیں تھا، اور شروع میں تو آپ نے اہل دربار اور خاص طور پر جنات کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ کون ہے جو اس ملکہ کا تخت اس کے آنے سے پہلے…
Read the full tafseer →قال ……الیک طرفک
آپ کو معلوم ہے کہ سلیمان علیہ اسللام نے اس کے تحت کو اس کی جانب سے اطاعت قبول کرنے سے قبل کس غرض کے لئے منگوایا ؟ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کام اس لئے کیا کہ وہ ملکہ سبا کو دکھائیں کہ کائنات کی معجزانہ قوتیں ان کی تائید کر رہی ہیں تاکہ ملکہ سبا ان سے متاثر ہوجائے اور ظاہری اختیار کے ساتھ ساتھ اس کے ایمان لانے کی راہ بھی ہموار ہوجائے۔
جنوں میں سے ایک دیوہیکل جن نے یہ پیشکش کی کہ وہ یہ تخت اس وقت تک حاضر کر دے گا جب تک یہ اجلاس جاری ہے۔ جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتظامی اور عدالتی فصلہ کرنے کے لئے صبح سے ظہر تک بیٹھتے تھے۔ حضرت…
Read the full tafseer →7 راحج یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص حضرت سلیمان کا صحابی اور وزیر آصف بن برخیا ہے جو کتب سماویہ کا عالم اور اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر سے واقف تھا، اس نے عرض کیا کہ میں چشم زدن میں تخت کو حاضر کرسکتا ہوں۔ آپ کسی طرف دیکھئے، قبل اس کے آپ ادھر سے نگاہ ہٹائیں تخت آپ کے سامنے رکھا ہوگا۔
8 یعنی یہ ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا اللہ کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے، جن سے ایسی کرامات ظاہر ہونے لگیں۔ اور چونکہ ولی کی خصوصاً صحابی کی کرامت اس کے نبی کا معجزہ اور اس کے اتباع کا ثمرہ ہوتا ہے اس لیے حضرت سلیمان پر بھی اس کی شکر گزاری عائد ہوئی۔ (تنبیہ) معلوم ہوا کہ اعجاز و کرامت فی الحقیقت…
Read the full tafseer →آیت 40 قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ ط ”
یعنی میں آپ علیہ السلام کے پلک جھپکنے سے پہلے اس کو حاضر کیے دیتا ہوں۔ یہ جس شخص کا ذکر ہے اس کے بارے میں مفسرین کہتے ہیں کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر آصف بن برخیاہ تھے ‘ اور یہ کہ ان کے پاس کتب سماویہ اور اللہ تعالیٰ کے ناموں سے متعلق ایک خاص علم تھا جس کی تاثیر سے انہوں نے اس کام کو ممکن کر دکھایا۔ ہمارے پاس اس موضوع پر نہ تو کوئی مرفوع حدیث ہے اور نہ ہی ان اسمائے الہٰیہ میں ایسی کوئی تاثیر ثابت ہوتی ہے جو ہمیں حضور ﷺ کی طرف سے بتائے گئے ہیں۔ لہٰذا ہمارا ایمان ہے…
Read the full tafseer →34 ابھی اس دیو ہیکل کی بات ختم نہ ہونے پائی تھی کہ دربار میں ایک اور شخص بول اٹھا کہ میں اس تخت کو کم سے کم وقت میں آپ کے پاس لاسکتا ہوں۔ آپ اگر آسمان کی طرف نگاہ دوڑائیں پھر نگاہ نیچے لوٹائیں تو صرف اتنی مدت میں وہ تخت آپ کے قدموں میں پڑا ہوگا۔
وہ شخص کون تھا ؟ جن یا انسان ؟ وہ کتاب کونسی تھی ؟ ام الکتاب یعنی لوح محفوظ تھی یا قرآن تھا یا کوئی اور کتاب تھی ؟ وہ علم تقدیر الٰہی کا علم تھا یا کسی اور قسم کا علم تھا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔ اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ باتیں سمجھنا انسان کی محدود عقل سے ماوراء ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ شخص آپ کا وزیر…
Read the full tafseer →45۔ (آیت) ” قال ..... الکتب “۔ یہ کہنے والا کون تھا ؟ اس باب میں اقوال مختلف ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ یہ کہنے والے جبرئیل (علیہ السلام) یا اور کوئی فرشتہ تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ وزیر سلطنت حضرت آصف تھے اور یہ قول ابن عباس ؓ کی جانب منسوب ہے اور جمہور نے بھی یہی اختیار کیا ہے۔ قالہ الجمھور (بحر) وھو الاصح وعلیہ الجمھور (مدارک) قال اکثر المفسرین ھو اصف بن برخیا (معالم) وھو المشھور من قول ابن عباس ؓ (کبیر) تیسرا قول ہے کہ وہ خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی تھے (کبیر) امام رازی (رح) نے قرائن قوی قائم کرکے ترجیح اسی آخری قول کو دی ہے لیکن مفسر ابن حیان نے اس قول کی تضعیف کی ہے، ومن اغرب الاقوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
آیت نمبر 40 تا 44
ترجمہ : سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں جس کے پاس نازل کردہ کتاب کا علم تھا وہ بولا اور وہ آصف بن برخیا تھا وہ مقام صد یقیت پر فائز تھا، وہ اللہ کے اسم اعظم سے واقف تھا وہ اسم اعظم کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں میں اس تخت کو آپ کے پاس آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا جب کہ آپ اپنی نظر سے کسی شئ کو دیکھیں (آسف بن برخیا) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا آپ آسمان کی طرف دیکھیں چناچہ (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا پھر نظر کو پھرایا تو تخت کو اپنے سامنے رکھا ہوا پایا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →قال الذی عندہ علم من الکتب . کہا : اس نے جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا۔ ابن ابی حاتم نے ابن لبیعہ
کا قول نقل کیا ہے کہ وہ خضر تھے۔ بعض نے کہا : جبرئیل ( علیہ السلام) (بصورت انسانی۔ مترجم) تھے۔ کسی نے کہا : کوئی اور فرشتہ تھا۔ اکثر مفسرین نے صراحت کی ہے کہ وہ آصف بن برخیا تھے جو صدیقیت کے مرتبہ پر فائز تھے۔ اللہ کا اسم اعظم ان کو معلوم تھا ‘ جب اسم اعظم لے کر اللہ سے دعا کرتے تھے تو اللہ ان کی دعا قبول فرما لیتا تھا اور ان کا سوال پور اکر دیتا تھا۔ جریر اور مقاتل نے بوساطت ضحاک حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے کہ آصف نے نماز کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) سے کہا : جہاں تک آپ کی…
Read the full tafseer →(40) اس کے بعد آصف بن برخیانامی ایک شخص نے جو اسم اعظم یعنی ”یاحی یا قیوم“ جانتا تھا عرض کیا کہ میں اس کو آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے یعنی جیسا کہ آپ کو کوئی چیز فاصلہ سے نظر آئی، اس چیز کے آپ تک پہنچنے سے پہلے آپ کے سامنے لا کر حاضر کرتا ہوں۔
غرض کہ جب حضرت سلیمان ؑ نے اس تخت کو اپنے تخت کے پاس رکھا ہوا دیکھا تو خوش ہو کر آصف سے فرمانے لگے کہ یہ میرا پروردگار کا فضل ہے تاکہ وہ میری آزمائش کرے کہ میں اس کی نعمتوں کا شکر کرتا ہوں یا خدا نخواستہ ناشکری کرتا ہوں۔
اور جو اس کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع اور ثواب حاصل کرنے کے لیے شکر کرتا ہے اور اسی طرح جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب اس کے…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ۔۔ : ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ سلیمان ؑ نے فرمایا : ”میں اس سے جلدی چاہتا ہوں۔“ اس پر وہ شخص جس کے پاس کتاب کا ایک علم تھا، کہنے لگا : ”میں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے لاتا ہوں کہ آپ کی آنکھ جھپکے۔“ سلیمان ؑ نے دیکھا تو وہ تخت ان کے پاس پڑا ہوا تھا۔ اس پر تکبر اور غرور کے بجائے انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
3 آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا یہ شخص کون تھا، اس کے پاس کس کتاب کا علم تھا اور وہ علم کیا تھا ؟ اس کی تصریح قرآن یا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ لہٰذا ہم صرف اتنی بات ماننے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
قال عفریت من الجن جمہور کی قرأت یہی ہے۔ ابورجاء اور عیسیٰ ثقفی نے اسے عفریۃ پڑھا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے مروی ہے حدیث میں ہے ” اللہ تعالیٰ عفریہ نفریہ کو نپاسند کرتا ہے۔ “ (1) نفریہ کا لفظ عفریتہ کی اتباع میں آتا ہے۔ قتادہ نے کہا : بڑی مصیبت کو کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : شدید کو عفریہ کہتے ہیں جب اس کے ساتھ خبث ہو۔ دھاء عفرو عفریۃ و عفریت وعفاریۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عفریت کا معنی رئیس ہے۔ ایک فرقہ نے قرأت کی قال عفر عین کے نیچے کسرہ ہے، ابن عطیہ نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ نحاس نے کہا، جس نے عفریۃ کہا اس کی جمع عفار ہے جس نے کہا، عفریت، اس کی جمع میں تین صورتیں ہیں۔ اگر چاہے تو کہے : عفاریت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
ارکان سلطنت سے مشورہ
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” قالت یا ایہا الملؤا افتونی فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اپنی مملکت کے سرداروں کو جمع کیا اور اس معاملہ میں ان سے مشورہ کیا ان کی رائے اور اس کی رائے اس بات پر جمع ہوگئی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے جنگ کریں گے وہ (لشکر کو لے کر) چلی جب وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کے قریب پہنچے تو کہنے لگی میں ان کی طرف تحفہ بھیجوں گی اگر اس نے اس کو قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہے اور میں اس سے لڑوں گی اور اگر اس نے اس کو رد کردیا تو میں اس کے تابع ہوجاؤں گی کیونکہ وہ نبی ہے۔ جب اس کے قاصد سلیمان کے قریب پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْ [ کہا اس نے ] عِنْدَهٗ [ جس کے پاس ] عِلْمٌ [ ایک علم تھا ] مِّنَ الْكِتٰبِ [ کتاب میں سے ] اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ [ میں لاتا ہوں آپ (علیہ السلام) کے پاس اس کو ] قَبْلَ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] يَّرْتَدَّ [ لوٹے ] اِلَيْكَ [ آپ (علیہ السلام) کی طرف ] طَرْفُكَ ۭ [ آپ (علیہ السلام) کی پلک ] فَلَمَّا [ تو جب ] رَاٰهُ [ انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا اس کو ] مُسْتَقِرًّا [ ٹھہرا (یعنی رکھا) ہوا ] عِنْدَهٗ [ اپنے پاس ] قَالَ [ نو انھوں نے کہا ] ھٰذَا [ یہ ] مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ [ میرے رب کے فضل میں سے ہے ] ڷ لِيَبْلُوَنِيْٓ [ تاکہ وہ آزمائے مجھ کو ] ءَ [ آیا ] اَشْكُرُ [ میں شکر کرتا ہوں ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ سبا کا تخت منگوانا، پھر اس سے دریافت کرنا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ پھر اس کا مسلمان ہوجانا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے قاصدوں کو ہدایا سمیت واپس کردیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں یہ ڈالا کہ وہ لوگ فرماں بردار ہو کر آئیں گے ہمارے لشکروں سے لڑنے کا ارادہ نہ کریں گے، بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ ملکہ سبا اپنے مصاحبین کے ساتھ روانہ ہوچکی تھی بلکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پایہ تخت کے قریب پہنچ چکی تھی حتیٰ کہ اس کا غبار بھی نظر آگیا تھا لہٰذا انہوں نے عرش کو حاضر کرنے کا حکم فرمایا اور یہ مناسب جانا کہ اپنی قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →35:۔ بہر صورت جب چشم زدن میں بلقیس کا تخت ان کے سامنے موجد ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے اور اتنے قلیل وقت میں اتنی بعید مسافت سے تخت کے آجانے کو اللہ کا فضل و احسان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تخت کو لانے والا بظاہر خواہ کوئی تھا مگر حقیقت میں معجزانہ طور پر اس کی موجودگی محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے تصرف سے تھی۔ لیبلونی الخ، اللہ تعالیٰ نے ان انعامات سے مجھے اس لیے نوازا ہے تاکہ میری آزمائش فرمائے کہ میں اس کا شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے کیونکہ دنیا و آخرت میں اس کا نفع اسے ہی ملتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے وہ نقصان بھی اپنا ہی کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ربط آیات
ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے موصولہ خط کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ ہمیں اس خط کا کس طریقے سے جواب دینا چاہیے ۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ سیل یس بہترین فوج ہے۔ رسد و کمک کی بھی کمی نہیں یعنی ہم خط بھیجنے والوں سے ٹکر لینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ مگر فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے ، جو تو چاہے گی ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد ملکہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ درس عالم بتا لی ہے کہ جب بھی کوئی بادشاہ کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے اور اس کے باعث لوگوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے لوندا جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ۔…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ 0ۭ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ 0ۣۖ لِيَبْلُوَنِيْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ 0ۭ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِہٖ 0ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ 40
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–40
انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْـکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَـبْـلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُـکَ ط فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ قف صلے لِیَبْلُوَنِیْٓ ئَ اَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ ط وَمَنْ شَکَرَفَاِنَّمَا یَشْکُرُلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ کَفَرَفَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ کَرِیْمٌ۔ (النمل : 40)
(جس کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں، پس جب اس نے وہ تحت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں، اور جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فہم القرآن
ربط کلام : دیوہیکل جن کے اظہار خیال کے بعد ایک صاحب علم کا ردِّ عمل اور اس کی پیشکش۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قریبی لوگوں میں ایک شخص اٹھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا کہ میں آپ کے آنکھ جھپکنے سے پہلے آپ کے سامنے ملکہ کا تخت پیش کرتا ہوں۔ یہ کہتے ہی اس نے ملکہ کا تخت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حضور پیش کردیا۔ تخت دیکھتے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عاجزانہ اور متشکرانہ انداز میں کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا نہ شکری کرتا ہوں جو شکر ادا کرتا ہے اس کے شکر کا اسے ہی فائدہ پہنچتا ہے جو ناشکری کرتا ہے بلاشبہ میرے رب کو اس کی ناشکری…
Read the full tafseer →کرامت آصف خیار :
40: قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ (کہا اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا) ۔ نمبر 1۔ وہ فرشتہ جو تقدیر کی کتاب لئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عفریت کی اس بات پر انا اتیک بہٖ قبل ان تقوم الایۃ۔ اس فرشتہ کو بھیجا۔ نمبر 2۔ جبرئیل (علیہ السلام) اور کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ نمبر 3۔ خضر علیہ السلام۔ نمبر 4۔ آصف بن برخیا ؓ جو سلیمان (علیہ السلام) کے کاتب وحی تھے اور سب سے صحیح ترین قول یہی ہے اور جمہور کا یہی قول ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتے تھے۔ جس سے جب دعا کی جائے تو فوراً قبول ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے یاحی یا قیوم یا ذالجلال والاکرام۔ یا اِلہَنا والہ کل شیٔ…
Read the full tafseer →علم من الکتاب کی مختلف تفسیریں۔
تفسیر۔
40۔ قال الذی عندہ علم من الکتاب، ، اس کی تفسیر میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد جبرائیل ہیں بعض نے کہا کہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جس کو اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے موید کیا تھا، اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد آصف بن برخیا ہیں جو صدیقت کے مرتبہ پر فائز تھے اللہ کا اسم اعظم ان کو معلوم تھا، جب اسم اعظم لے کر دعا کرتے تھے تو اللہ ان کی دعا قبول فرمالیتا اور ان کا سوال پورا کردیتا تھا، جویر اور مقاتل نے ضحاک کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے کہ آصف بن برخیا نے نماز کے بعد حضرت سلیمان سے کہاجہاں تک آپ کی نظر پہنچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
43 ملکہ نے کہا یہ تو گویا وہی ہے : سو نہ تو اس نے یہ کہا کہ یہ بالکل وہی ہے اور نہ یہ کہ یہ وہ نہیں۔ بلکہ کہا " گویا کہ یہ وہی ہے " اور امر واقع بھی ایسے ہی تھا۔ سو اس سے اس کی زیرکی اور عقل مندی کا پتہ چلتا ہے کہ ذاتی طور پر وہ واقعی بڑی ذہین فطین عورت تھی۔ مگر کفر و شرک کے ماحول اور اس کی نحوست کی بنا پر اس کی مت مار دی گئی تھی اور وہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہوگئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت سلیمن کے اس معجزے کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں اور پھر صاف اور صریح لفظوں میں اعتراف اور اقرار کیا کہ ہمیں سلیمان کی عظمت شان آپ کے مرتبہ و مقام اور آپ کے کارناموں کا علم اس سے پہلے ہی ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 32 تا 44 ۔ اسرار و معارف :
مشورہ کی اہمیت : ملکہ بلقیس نے اپنے امراء کو جمع کرکے خط سنانے کے بعد رائے دریافت کی اور کہا کہ تمہیں علم ہے امور سلطنت ہمیشہ تمہارے مشورے سے طے کیے جاتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ قبل اسلام بھی بعض حکمران مشورہ کی اہمیت سے واقف تھے اسلام نے مشورہ کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کہ خود نبی اکرم ﷺ خدام سے مشورہ فرماتے تھے۔
امراء دربار نے جواب دیا کہ اگر بات مقابلہ کرنے کی ہے تو ہماری جنگی طاقت کسی سے کم نہیں اور ہم مانے ہوئے جنگجو بھی ہیں اور اگر مصلحت اس کے خلاف ہے تو بھی فیصلہ اور حکم تو آپ ہی صادر فرمائیں گی جو مناسب ہو ارشاد فرمائیں اس نے کہا کہ ابھی جنگ…
Read the full tafseer →10 ۔ یعنی اس سے پیشتر کہ آپ آسمان کی طرف نگاہ اٹھائیں اور پھر پلٹ کر نیچی کر لیں… یہ شخص کون تھا اور اس کے پاس اللہ کی، کس کتاب کا علم تھا ؟ اس کی تصریح قرآن یا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے (لہٰذا ہم صرف اتنی بات ماننے کے مکلف ہیں جتنی قرآن میں بیان کی گئی ہے۔ یعنی وہ ایک شخص تھا جس کے پاس (اللہ کی) کتاب کا علم تھا۔ یوں اکثر مفسرین (رح) کا قول یہ ہے کہ وہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا ایک وزیر آصف بن برخیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظمکا علم تھا جس کے ذریعے اگر اس سے دعا کی جائے تو وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ اس صورت میں یہ آصف کی کرامت ہوگی اور حضرت سلیمان کا…
Read the full tafseer →(27:40) ان یرتد : ان مصدریہ ہے۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ارتداد (افتعال) مصدر۔ لوٹے ۔ یا لوٹ کر آئے۔
طرفک : مضاف مضاف الیہ۔ تیری نظر۔ تیری نگاہ۔ طرف العین۔ آنکھ کی پلک۔ طوف پلک جھپکنا۔
مستقرا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ استقرار (استفعال) مصدر۔ ای ساکنا عندہ قارا علی حالۃ التی علیہا۔ اپنی پہلی حالت میں اپنے سامنے رکھا پایا۔ لفظی معنی قرار پکڑنے والا۔ ٹھہرنے والا۔
لیبلونی۔ لام تعلیل کا ہے یبلوا مضارع منصوب بوجہ ان مقدرہ ۔ صیغہ واحد مذکر غائب ن وقایہ۔ ی متکلم۔ تاکہ وہ میری آزمائش کرے۔ بلاء یبلو بلاء (نصر) آزمائش کرنا۔
غنی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بےنیاز۔ غیرمحتاج۔ کوئی شکر اس کا اس کی نعمتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
لغات القرآن : آیت نمبر 38 تا 44 :
ایکم (تم میں سے کون ؟ ) ‘ مسلمین (فرماں برداری اختیار کرنے والے) عفریت (قوت و طاقت والا) ان یرتد (یہ کہ وہ پلٹے) طرف (پلک۔ آنکھ کا گوشہ) ‘ مستقر (رکھا ہوا) ‘ نکروا (شکل بد ل دو ۔ تبدیلی کردو) اھکذا (کیا ایسا ہی ہے ؟ ) کانہ ھو (جیسے اسی جیسا ہو) صد (اس نے روکا) ‘ الصرح (محل) لجۃ (گہرا پانی ) ‘ ساق (پنڈلی (ساقین) ممرد (جڑا ہوا) قواریر (شیشے۔ آیئنے) اسلمت (میں نے فرماں برداری اختیار کرلی) ۔
تشریح : آیت نمبر 38 تا 44 :
جب ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سبا کی ملکہ بلقیس کو پہنچایا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتنی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر، بلقیس سورج پرست کا مسلمان ہونا اور اسکے تخت کا ذکر۔
(ف 1) آپ کے وزیر آصف بن برخیا تھے ، جب حضرت سلیمان نے تخت کی بابت کہا تو انہوں نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتا ہوں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں حضرت سلیمان نے فرمایا کہ تم ہی لے آؤ اس کے بعد وہ سجدہ میں جاکریہ کہنے لگا ، یاحی ، یاقیوم، اور بعض کہتے ہیں، یا ذوالجلال والاکرام، کہا تو فورا وہ تخت اپنی جگہ سے زمین میں غائب ہوگیا ایک پلک کے جھپکتے ہی زمین سے حضرت سلیمان کے تخت کے برابر زمین سے برآمد ہوگیا۔ پھر جب اس تخت کو حضرت سلیمان نے اپنے پاس دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ میرے پروردگار کے فضل…
Read the full tafseer →[11] یہ شخص کون تھا اور وہ کون سی کتاب تھی جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ان امور کی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں۔
Read the full tafseer →بلقیس کا تخت اور علم الحرکت
1 حضرت سلیمان کو ابتدا میں تو غصہ آیا ۔ کہ آخر کیوں بلقیس نے مجھ کو ایک معمولی قسم کا بادشاہ سمجھا مگر ایک تدبیر ذہن میں آئی ۔ کہ لاؤ یہ دیکھیں کہ وہ کہاں تک معاملہ فہم ہے اس کا بہترین طریق یہ سمجھا گیا ۔ کہ بلقیس کو اپنے پاس بلائیں ۔ چناچہ پہلے تو انہوں نے اس کا تخت حکومت مٹانے کی ٹھانی اور وہ بھی اس طرح کہ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ اعجاز دیکھ کر اللہ کی قدرتوں سے آگاہ ہوجائے اور اسلام قبول کرلے ۔ پھر آپ نے درباریوں سے کہا مخاطب ہوکر پوچھا کون شخص ہے جو بہت جلد ملکہ سبا کے تخت کو مجھ تک پہنچا سکتا ہے ۔ بہت بڑے پُرفن چلاک اور قوی جن نے کہا کہ حضور میں پہنچا سکتا…
Read the full tafseer →(40) ایک شخص جس کے پاس کتاب الٰہی کا علم تھا کہا کہ میں اس تخت کو آپ کی خدمت میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے یعنی چشم زون میں حاضر کئے دیتا ہوں پھر جب سلیمان (علیہ السلام) نے اس تخت کو اپنے روبرو رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ بھی میرے پروردگار کا ایک فضل ہے تاکہ وہ مجھ کو آزمائے اور میں اس کا شکر بجا لاتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو شخص شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کو اور بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو شخص ناسپاسی اور کفران نعمت کی روش اختیار کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا اور کریم ہے۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تخت اپنے روبرو رکھا ہوا دیکھ کر فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آیا ہے خواہ اس کا آنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ف 2۔ اقرب یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں۔
3۔ چناچہ آپ نے حق تعالیٰ سے دعا کی اور تخت فورا سامنے آموجود ہوا۔
Read the full tafseer →عفریت کی جگہ ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا جس نے مزید جلد تخت پیش کرنے کا کہا :
40۔ اس نے جب اپنی بات مکمل کرلی تو اس کی جگہ ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا لیکن یہ آدمی وہ تھا جس کے پاس اس ملک اور اس ملکہ کے اس تخت کا مکمل علم موجود تھا کہ سراغ رسانی اور پیغام رسانی کی خدمت وہ انجام دے چکا تھا اور ظاہر ہے کہ اس محکمہ کے پاس دوسرے ممالک اور دوسرے ممالک کے سارے حالات کی تحریرات محفوظ ہوتی ہیں اور وہاں کے حالات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور کھڑا ہوا اور اس نے کہا جناب والا ! اب جب دو بار آپکی نظر اس معاملہ کی طرف لوٹے گی تو اس سے پہلے پہلے انشاء اللہ یہ تخت آپ کے موجود پائیں گے ، اور اب تو آپ کو اس معاملہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ (Said the one who had the knowledge of the book - 27:40). The question is as to who was this person? One possibility is that he was Sulaiman (علیہ السلام) himself, because his knowledge of the book of Allah was most extensive. In that case this incident happened as a miracle. The objective was also that Bilqis should have an experience of the prophetic miracle, so that no doubt was left in her mind. But Ibn Jarir has reported from many commentators of the Qur'an, like Qatadah, that he was a person from the companions of Sayyidna Sulaiman (علیہ…
Read the full tafseer →47 Nothing is known with certainty as to who this person was, what special knowledge he had and what Book is referred to here, whose knowledge he had. No explanation of these things has been given either in the Qur'an or in any authentic Hadith. Some of the commentators say that it was an angel; others say that it was a tnan. Then they differ as to the identity of the man. Someone mentions the name of Asaf bin Barchiah, who, according to the rabbinical traditions, was the Prince of Men. Someone says that he was Khidr; someone mentions some other name; and Imam Razi insists that it was the…
Read the full tafseer →